Project Description

AD DHARIYAT

 شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  بکھیرنے والیوں کی قسم جو اُڑا کر بکھیر دیتی ہیں
۲  پھر (پانی کا) بوجھ اٹھاتی ہیں
۳  پھر آہستہ آہستہ چلتی ہیں
۴  پھر چیزیں تقسیم کرتی ہیں
۵  کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچا ہے
۶  اور انصاف (کا دن) ضرور واقع ہوگا
۷  اور آسمان کی قسم جس میں رسے ہیں
۸  کہ (اے اہل مکہ) تم ایک متناقض بات میں (پڑے ہوئے) ہو
۹  اس سے وہی پھرتا ہے جو (خدا کی طرف سے) پھیرا جائے
۱۰  اٹکل دوڑانے والے ہلاک ہوں
۱۱  جو بےخبری میں بھولے ہوئے ہیں
۱۲  پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب ہوگا؟
۱۳  اُس دن (ہوگا) جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا
۱۴  اب اپنی شرارت کا مزہ چکھو۔ یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے
۱۵  بےشک پرہیزگار بہشتوں اور چشموں میں (عیش کر رہے) ہوں گے
۱۶  اور) جو جو (نعمتیں) ان کا پروردگار انہیں دیتا ہوگا ان کو لے رہے ہوں گے۔ بےشک وہ اس سے پہلے نیکیاں کرتے تھے
۱۷  رات کے تھوڑے سے حصے میں سوتے تھے
۱۸  اور اوقات سحر میں بخشش مانگا کرتے تھے
۱۹  اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا
۲۰  اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
۲۱  اور خود تمہارے نفوس میں تو کیا تم دیکھتے نہیں؟
۲۲  اور تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے
۲۳  تو آسمانوں اور زمین کے مالک کی قسم! یہ (اسی طرح) قابل یقین ہے جس طرح تم بات کرتے ہو
۲۴  بھلا تمہارے پاس ابراہیمؑ کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے؟
۲۵  جب وہ ان کے پاس آئے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا (دیکھا تو) ایسے لوگ کہ نہ جان نہ پہچان
۲۶  تو اپنے گھر جا کر ایک (بھنا ہوا) موٹا بچھڑا لائے
۲۷  (اور کھانے کے لئے) ان کے آگے رکھ دیا۔ کہنے لگے کہ آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟
۲۸  اور دل میں ان سے خوف معلوم کیا۔ (انہوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجیئے۔ اور ان کو ایک دانشمند لڑکے کی بشارت بھی سنائی
۲۹  تو ابراہیمؑ کی بیوی چلاّتی آئی اور اپنا منہ پیٹ کر کہنے لگی کہ (اے ہے ایک تو) بڑھیا اور (دوسرے) بانجھ
۳۰  (انہوں نے) کہا (ہاں) تمہارے پروردگار نے یوں ہی فرمایا ہے۔ وہ بےشک صاحبِ حکمت (اور) خبردار ہے
۳۱  ابراہیمؑ نے کہا کہ فرشتو! تمہارا مدعا کیا ہے؟
۳۲  انہوں نے کہا کہ ہم گنہگار لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں
۳۳  تاکہ ان پر کھنگر برسائیں
۳۴  جن پر حد سے بڑھ جانے والوں کے لئے تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کردیئے گئے ہیں
۳۵  تو وہاں جتنے مومن تھے ان کو ہم نے نکال لیا
۳۶  اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا
۳۷  اور جو لوگ عذاب الیم سے ڈرتے ہیں ان کے لئے وہاں نشانی چھوڑ دی
۳۸  اور موسیٰ (کے حال) میں (بھی نشانی ہے) جب ہم نے ان کو فرعون کی طرف کھلا ہوا معجزہ دے کر بھیجا
۳۹  تو اس نے اپنی جماعت (کے گھمنڈ) پر منہ موڑ لیا اور کہنے لگا یہ تو جادوگر ہے یا دیوانہ
۴۰  تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا اور وہ کام ہی قابل ملامت کرتا تھا
۴۱  اور عاد (کی قوم کے حال) میں بھی (نشانی ہے) جب ہم نے ان پر نامبارک ہوا چلائی
۴۲  وہ جس چیز پر چلتی اس کو ریزہ ریزہ کئے بغیر نہ چھوڑتی
۴۳  اور (قوم) ثمود (کے حال) میں (نشانی ہے) جب ان سے کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو
۴۴  تو انہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی۔ سو ان کو کڑک نے آ پکڑا اور وہ دیکھ رہے تھے
۴۵  پھر وہ نہ تو اُٹھنے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ مقابلہ ہی کرسکتے تھے
۴۶  اور اس سے پہلے (ہم) نوح کی قوم کو (ہلاک کرچکے تھے) بےشک وہ نافرمان لوگ تھے
۴۷  اور آسمانوں کو ہم ہی نے ہاتھوں سے بنایا اور ہم کو سب مقدور ہے
۴۸  اور زمین کو ہم ہی نے بچھایا تو (دیکھو) ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں
۴۹  اور ہر چیز کی ہم نے دو قسمیں بنائیں تاکہ تم نصیحت پکڑو
۵۰  تو تم لوگ خدا کی طرف بھاگ چلو میں اس کی طرف سے تم کو صریح رستہ بتانے والا ہوں
۵۱  اور خدا کے ساتھ کسی اَور کو معبود نہ بناؤ۔ میں اس کی طرف سے تم کو صریح رستہ بتانے والا ہوں
۵۲  اسی طرح ان سے پہلے لوگوں کے پاس جو پیغمبر آتا وہ اس کو جادوگر یا دیوانہ کہتے
۵۳  کیا یہ کہ ایک دوسرے کو اسی بات کی وصیت کرتے آئے ہیں بلکہ یہ شریر لوگ ہیں
۵۴  تو ان سے اعراض کرو۔ تم کو (ہماری) طرف سے ملامت نہ ہوگی
۵۵  اور نصیحت کرتے رہو کہ نصیحت مومنوں کو نفع دیتی ہے
۵۶  اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں
۵۷  میں ان سے طالب رزق نہیں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے (کھانا) کھلائیں
۵۸  خدا ہی تو رزق دینے والا زور آور اور مضبوط ہے
۵۹  کچھ شک نہیں کہ ان ظالموں کے لئے بھی (عذاب کی) نوبت مقرر ہے جس طرح ان کے ساتھیوں کی نوبت تھی تو ان کو مجھ سے (عذاب) جلدی نہیں طلب کرنا چاہیئے
۶۰  جس دن کا ان کافروں سے وعدہ کیا جاتا ہے اس سے ان کے لئے خرابی ہے

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا
٢  فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا
٣  فَالْجَارِيَاتِ يُسْرًا
٤  فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا
٥  إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٌ
٦  وَإِنَّ الدِّينَ لَوَاقِعٌ
٧  وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ
٨  إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُخْتَلِفٍ
٩  يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ
١٠  قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ
١١  الَّذِينَ هُمْ فِي غَمْرَةٍ سَاهُونَ
١٢  يَسْأَلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ الدِّينِ
١٣  يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ
١٤  ذُوقُوا فِتْنَتَكُمْ هَٰذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ
١٥  إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ
١٦  آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُحْسِنِينَ
١٧  كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ
١٨  وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ
١٩  وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ
٢٠  وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِلْمُوقِنِينَ
٢١  وَفِي أَنْفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ
٢٢  وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ
٢٣  فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنْطِقُونَ
٢٤  هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ الْمُكْرَمِينَ
٢٥  إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ قَوْمٌ مُنْكَرُونَ
٢٦  فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ
٢٧  فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ
٢٨  فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً ۖ قَالُوا لَا تَخَفْ ۖ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ
٢٩  فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ
٣٠  قَالُوا كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ ۖ إِنَّهُ هُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ
٣١  قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ
٣٢  قَالُوا إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمٍ مُجْرِمِينَ
٣٣  لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِنْ طِينٍ
٣٤  مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِينَ
٣٥  فَأَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
٣٦  فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
٣٧  وَتَرَكْنَا فِيهَا آيَةً لِلَّذِينَ يَخَافُونَ الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
٣٨  وَفِي مُوسَىٰ إِذْ أَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ
٣٩  فَتَوَلَّىٰ بِرُكْنِهِ وَقَالَ سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ
٤٠  فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌ
٤١  وَفِي عَادٍ إِذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ
٤٢  مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ
٤٣  وَفِي ثَمُودَ إِذْ قِيلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوا حَتَّىٰ حِينٍ
٤٤  فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ
٤٥  فَمَا اسْتَطَاعُوا مِنْ قِيَامٍ وَمَا كَانُوا مُنْتَصِرِينَ
٤٦  وَقَوْمَ نُوحٍ مِنْ قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ
٤٧  وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ
٤٨  وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ
٤٩  وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
٥٠  فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ ۖ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُبِينٌ
٥١  وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ ۖ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُبِينٌ
٥٢  كَذَٰلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ
٥٣  أَتَوَاصَوْا بِهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ
٥٤  فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ
٥٥  وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ
٥٦  وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
٥٧  مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ
٥٨  إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ
٥٩  فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذَنُوبًا مِثْلَ ذَنُوبِ أَصْحَابِهِمْ فَلَا يَسْتَعْجِلُونِ
٦٠  فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ يَوْمِهِمُ الَّذِي يُوعَدُونَ

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  By those [winds] scattering [dust] dispersing
2  And those [clouds] carrying a load [of water] 3  And those [ships] sailing with ease
4  And those [angels] apportioning [each] matter,
5  Indeed, what you are promised is true.
6  And indeed, the recompense is to occur.
7  By the heaven containing pathways,
8  Indeed, you are in differing speech.
9  Deluded away from the Qur’an is he who is deluded.
10  Destroyed are the falsifiers
11  Who are within a flood [of confusion] and heedless.
12  They ask, “When is the Day of Recompense?”
13  [It is] the Day they will be tormented over the Fire
14  [And will be told], “Taste your torment. This is that for which you were impatient.”
15  Indeed, the righteous will be among gardens and springs,
16  Accepting what their Lord has given them. Indeed, they were before that doers of good.
17  They used to sleep but little of the night,
18  And in the hours before dawn they would ask forgiveness,
19  And from their properties was [given] the right of the [needy] petitioner and the deprived.
20  And on the earth are signs for the certain [in faith] 21  And in yourselves. Then will you not see?
22  And in the heaven is your provision and whatever you are promised.
23  Then by the Lord of the heaven and earth, indeed, it is truth – just as [sure as] it is that you are speaking.
24  Has there reached you the story of the honored guests of Abraham? –
25  When they entered upon him and said, “[We greet you with] peace.” He answered, “[And upon you] peace, [you are] a people unknown.
26  Then he went to his family and came with a fat [roasted] calf
27  And placed it near them; he said, “Will you not eat?”
28  And he felt from them apprehension. They said, “Fear not,” and gave him good tidings of a learned boy.
29  And his wife approached with a cry [of alarm] and struck her face and said, “[I am] a barren old woman!”
30  They said, “Thus has said your Lord; indeed, He is the Wise, the Knowing.”
31  [Abraham] said, “Then what is your business [here], O messengers?”
32  They said, “Indeed, we have been sent to a people of criminals
33  To send down upon them stones of clay,
34  Marked in the presence of your Lord for the transgressors.”
35  So We brought out whoever was in the cities of the believers.
36  And We found not within them other than a [single] house of Muslims.
37  And We left therein a sign for those who fear the painful punishment.
38  And in Moses [was a sign], when We sent him to Pharaoh with clear authority.
39  But he turned away with his supporters and said,” A magician or a madman.”
40  So We took him and his soldiers and cast them into the sea, and he was blameworthy.
41  And in ‘Aad [was a sign], when We sent against them the barren wind.
42  It left nothing of what it came upon but that it made it like disintegrated ruins.
43  And in Thamud, when it was said to them, “Enjoy yourselves for a time.”
44  But they were insolent toward the command of their Lord, so the thunderbolt seized them while they were looking on.
45  And they were unable to arise, nor could they defend themselves.
46  And [We destroyed] the people of Noah before; indeed, they were a people defiantly disobedient.
47  And the heaven We constructed with strength, and indeed, We are [its] expander.
48  And the earth We have spread out, and excellent is the preparer.
49  And of all things We created two mates; perhaps you will remember.
50  So flee to Allah. Indeed, I am to you from Him a clear warner.
51  And do not make [as equal] with Allah another deity. Indeed, I am to you from Him a clear warner.
52  Similarly, there came not to those before them any messenger except that they said, “A magician or a madman.”
53  Did they suggest it to them? Rather, they [themselves] are a transgressing people.
54  So leave them, [O Muhammad], for you are not to be blamed.
55  And remind, for indeed, the reminder benefits the believers.
56  And I did not create the jinn and mankind except to worship Me.
57  I do not want from them any provision, nor do I want them to feed Me.
58  Indeed, it is Allah who is the [continual] Provider, the firm possessor of strength.
59  And indeed, for those who have wronged is a portion [of punishment] like the portion of their predecessors, so let them not impatiently urge Me.
60  And woe to those who have disbelieved from their Day which they are promised.

 奉至仁至慈的真主之名

1  誓以播种者,
2  载重者,
3  飘流者,
4  分配者,
5  警告你们的事确是真实的,
6  报应确是要发生的。
7  以有轨道的诸天盟誓,
8  你们确是各执一说的,
9  原被阻遏者,将被阻遏,而不得到达他。
10  愿常常说谎者被弃绝!
11  他们浸沉在愚昧之中,他们是昏愦的。
12  他们问报应日在什么时候,
13  那是他们在火刑上受刑之日。
14  你们尝试你们的刑罚吧!这就是你们要求早日实现的。
15  敬畏的人们必定在许多乐园中,在许多泉源畔,
16  接受他们的主所赏赐的。他们在生前确是行善的,
17  他们在夜间只稍稍睡一下,
18  他们在黎明时向主求饶,
19  他们的财产中,有乞丐和贫民的权利。
20  在大地上对于笃信的人们,有许多迹象;
21  在你们自身中也有许多迹象,难道你们看不见吗?
22  在天上,有你们的给养,也有应许你们的赏罚。
23  以天地的主盟誓,这确是真实的,犹如你们能说话一样。
24  关于易卜拉欣的受优待的宾客的故事,已来临你了吗?
25  当时,他们进去见他,他们说:祝你平安!他说:祝你们平安!他想这些是生客。
26  于是他悄悄地走到他的家属那里,拿来一头肥嫩的牛犊,
27  他把那牛犊送到客人面前,说:你们怎么不吃呢!
28  他为他们而心怀恐惧。他们说:你不要恐惧。他们以一个有学识的儿童向他报喜。
29  他的女人便喊叫著走来,她打自己的脸,说:我是一个不能生育的老妇人。
30  他们说:你的主是这样说的,他确是至睿的,确是全知的。
31  他说:诸位使者啊!你们有什么差事呢?
32  他们说:我们确已奉派去惩治一群犯罪的民众,
33  我们将因毁灭他们而降下黏土变成的石头,
34  那是从你的主那里为过分者而发出的。
35  我把城里所有的信士都救了出来,
36  我在城里只发现一家归顺者。
37  我曾在城里留下一种迹象,以便畏惧痛苦的刑罚的人们用作鉴戒。
38  在穆萨的故事里也有一种迹象。当时,我曾派遣他带著一件明证去见法老。
39  但法老因有势力故背弃穆萨,他说:这是一个术士,或是一个疯人。
40  所以我惩治他和他的军队,而将他们投入海中,他是受责备的。
41  在阿德人的故事里,也有一种迹象。当时,我曾使无益的暴风去毁灭他们,
42  凡经那暴风吹过的东西,无一不变成破碎的。
43  在赛莫德人的故事里,也有一种迹象。当时,有人对他们说:你们暂时享受吧!
44  他们曾违抗他们主的命令,故疾雷毁灭了他们,同时,他们眼见刑罚降临,
45  他们未能站起,他们也未能自卫。
46  以前,我毁灭了努哈的宗族,他们确是悖逆的民众。
47  天,我曾以权力建造它,我确是大能的;
48  地,我曾铺张它。美哉铺张者!
49  我将每种物造成配偶,以便你们觉悟。
50  你说:你们应当逃归真主,我对于你们确是一个坦率的警告者。
51  你们不要以别的神灵与真主同受崇拜,我对于你们确是一个坦率的警告者。
52  他们以前的各民族也象这样,每有一个使者来临他们,他们就说:他是一个术士,或是一个疯人。
53  难道他们曾以此话互相嘱咐吗?不然,他们都是悖逆的民众。
54  你应当退避他们,你绝不是受责备的。
55  你应当教诲众人,因为教诲对于信士们确是有益的。
56  我创造精灵和人类,只为要他们崇拜我。
57  我不望他们的供给,我也不望他们的奉养。
58  真主确是供给万物的,确是有权力的,确是坚定的。
59  不义的人们,和他们的朋友一样,必得一份刑罚,所以叫他们不要催促我。
60  伤哉不信道的人们!当他们被警告的日子来临的时候。

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  ¡Por los que aventan!
2  ¡Por las que llevan una carga!
3  ¡Por las que se deslizan ligeras!
4  ¡Por los que distribuyen una orden!
5  ¡Ciertamente, aquello con que se os amenaza es verdad!
6  Y el Juicio, sí, tendrá lugar.
7  ¡Por el cielo surcado de órbitas!
8  Estáis en desacuerdo.
9  Algunos son desviados de él.
10  ¡Malditos sean los que siempre están conjeturando,
11  que están en un abismo, despreocupados,
12  que preguntan: «¿Cuándo llegará el día del Juicio?»!
13  El día que se les pruebe al fuego:
14  «¡Gustad vuestra prueba! Esto es lo que estabais impacientes por conocer».
15  Los que temen a Alá estarán entre jardines y fuentes,
16  tomando lo que su Señor les dé. Hicieron el bien en el pasado;
17  de noche dormían poco;
18  al rayar el alba, pedían perdón,
19  y parte de sus bienes correspondía de derecho al mendigo y al indigente.
20  En la tierra hay signos para los convencidos,
21  y en vosotros mismos también. ¿Es que no veis?
22  Y en el cielo tenéis vuestro sustento y lo que se os ha prometido.
23  ¡Por el Señor del cielo y de la tierra, que es tanta verdad como que habláis!
24  ¿Te has enterado de la historia de los huéspedes honrados de Abraham?
25  Cuando entraron en su casa. Dijeron: «¡Paz!». Dijo: «¡Paz! Sois gente desconocida».
26  Se fue discretamente a los suyos y trajo un ternero cebado,
27  que les ofreció. Dijo: «¿Es que no coméis?»
28  Y sintió temor de ellos. Dijeron: «¡No temas!» Y le dieron la buena nueva de un muchacho lleno de ciencia.
29  Su mujer, entonces, se puso a gritar. Golpeóse el rostro y dijo: «Pero ¡si soy una vieja estéril!»
30  Dijeron: «Así ha dicho tu Señor. Es Él el Sabio, el Omnisciente».
31  Dijo: «¿Qué es lo que os trae, ¡enviados!?»
32  Dijeron: «Se nos ha enviado a un pueblo pecador
33  para enviar contra ellos piedras de barro cocido,
34  marcadas junto a tu Señor para los inmoderados».
35  Y sacamos a los creyentes que en ella había,
36  pero sólo encontramos en ella una casa de gente sometida a Alá.
37  Y dejamos en ella un signo para los que temen el castigo doloroso.
38  Y en Moisés. Cuando le enviamos a Faraón con una autoridad manifiesta.
39  Pero, seguro de su poder, se volvió y dijo: «¡Es un mago o un poseso!»
40  Entonces les sorprendimos, a él y a sus tropas, y los arrojamos al mar. Había incurrido en censura.
41  Y en los aditas. Cuando enviamos contra ellos el viento desvastador,
42  que pulverizaba todo cuanto encontraba a su paso.
43  Y en los tamudeos. Cuando se les dijo: «¡Gozad aún por algún tiempo!»
44  Pero infringieron la orden de su Señor y les sorprendió el Rayo, viéndolo venir.
45  No pudieron tenerse en pie, ni defenderse.
46  Y al pueblo de Noé. Fue un pueblo perverso.
47  Y el cielo, lo construimos con fuerza. Y, ciertamente, asignamos un vasto espacio.
48  Y la tierra, la extendimos. ¡Qué bien que la preparamos!
49  Todo lo creamos por parejas. Quizás, así, os dejéis amonestar.
50  «¡Refugiaos, pues, en Alá! Soy para vosotros, de Su parte, un monitor que habla claro.
51  ¡No pongáis a otro dios junto con Alá! Soy para vosotros, de Su parte, un monitor que habla claro».
52  Asimismo, no vino a los que fueron antes ningún enviado que no dijeran: «¡Es un mago o un poseso!»
53  ¿Es que se han legado eso unos a otros? ¡No! ¡Son gente rebelde!
54  ¡Apártate de ellos y, así, no incurrirás en censura!
55  ¡Y amonesta, que la amonestación aprovecha a los creyentes!
56  No he creado a los genios y a los hombres sino para que Me sirvan.
57  No quiero de ellos ningún sustento, no quiero que Me alimenten.
58  Alá es el Proveedor de todo, el Fuerte, el Firme.
59  Los impíos correrán la misma suerte que corrieron sus semejantes. ¡Que no Me den, pues, prisa!
60  ¡Ay de los que no creen, por el día con que se les amenaza!