Project Description

AS SAJDAH

 شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  الٓمٓ
۲  اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کتاب کا نازل کیا جانا تمام جہان کے پروردگار کی طرف سے ہے
۳  کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو از خود بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ہدایت کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تاکہ یہ رستے پر چلیں
۴  خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو چیزیں ان دونوں میں ہیں سب کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ اس کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ سفارش کرنے والا۔ کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے؟
۵  وہی آسمان سے زمین تک (کے) ہر کام کا انتظام کرتا ہے۔ پھر وہ ایک روز جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگی۔ اس کی طرف صعود (اور رجوع) کرے گا
۶  یہی تو پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا (اور) غالب اور رحم والا (خدا) ہے
۷  جس نے ہر چیز کو بہت اچھی طرح بنایا (یعنی) اس کو پیدا کیا۔ اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا
۸  پھر اس کی نسل خلاصے سے (یعنی) حقیر پانی سے پیدا کی
۹  پھر اُس کو درست کیا پھر اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو
۱۰  اور کہنے لگے کہ جب ہم زمین میں ملیامیٹ ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے جانے ہی کے قائل نہیں
۱۱  کہہ دو کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری روحیں قبض کر لیتا ہے پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے
۱۲  اور تم (تعجب کرو) جب دیکھو کہ گنہگار اپنے پروردگار کے سامنے سرجھکائے ہوں گے (اور کہیں گے کہ) اے ہمارے پروردگار ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہم کو (دنیا میں) واپس بھیج دے کہ نیک عمل کریں بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں
۱۳  اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے۔ لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھردوں گا
۱۴  سو (اب آگ کے) مزے چکھو اس لئے کہ تم نے اُس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا (آج) ہم بھی تمہیں بھلا دیں گے اور جو کام تم کرتے تھے اُن کی سزا میں ہمیشہ کے عذاب کے مزے چکھتے رہو
۱۵  ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب اُن کو اُن سے نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گرپڑتے اور اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور غرور نہیں کرتے
۱۶  اُن کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُمید سے پکارتے اور جو (مال) ہم نے اُن کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
۱۷  کوئی متنفس نہیں جانتا کہ اُن کے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ یہ ان اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے
۱۸  بھلا جو مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو نافرمان ہو؟ دونوں برابر نہیں ہو سکتے
۱۹  جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن کے (رہنے کے) لئے باغ ہیں یہ مہمانی اُن کاموں کی جزا ہے جو وہ کرتے تھے
۲۰  اور جنہوں نے نافرمانی کی اُن کے رہنے کے لئے دوزخ ہے جب چاہیں گے کہ اس میں سے نکل جائیں تو اس میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ اور اُن سے کہا جائے گا کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو
۲۱  اور ہم اُن کو (قیامت کے) بڑے عذاب کے سوا عذاب دنیا کا بھی مزہ چکھائیں گے۔ شاید (ہماری طرف) لوٹ آئیں
۲۲  اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ اُن سے منہ پھیر لے۔ ہم گنہگاروں سے ضرور بدلہ لینے والے ہیں
۲۳  اور ہم نے موسٰی کو کتاب دی تو تم اُن کے ملنے سے شک میں نہ ہونا اور ہم نے اس (کتاب) کو (یا موسٰی کو) بنی اسرائیل کے لئے (ذریعہ) ہدایت بنایا
۲۴  اور ان میں سے ہم نے پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کیا کرتے تھے۔ جب وہ صبر کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے
۲۵  بلاشبہ تمہارا پروردگار ان میں جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا
۲۶  کیا اُن کو اس (امر) سے ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے اُن سے پہلے بہت سی اُمتوں کو جن کے مقامات سکونت میں یہ چلتے پھرتے ہیں ہلاک کر دیا۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں۔ تو یہ سنتے کیوں نہیں
۲۷  کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم بنجر زمین کی طرف پانی رواں کرتے ہیں پھر اس سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی (کھاتے ہیں) تو یہ دیکھتے کیوں نہیں۔
۲۸  اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا؟
۲۹  کہہ دو کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ اُن کو مہلت دی جائے گی
۳۰  تو اُن سے منہ پھیر لو اور انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  الم
٢  تَنْزِيلُ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ
٣  أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَا أَتَاهُمْ مِنْ نَذِيرٍ مِنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ
٤  اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ مَا لَكُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا شَفِيعٍ ۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ
٥  يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ
٦  ذَٰلِكَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
٧  الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ۖ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ
٨  ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ
٩  ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ ۖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۚ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ
١٠  وَقَالُوا أَإِذَا ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ أَإِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ ۚ بَلْ هُمْ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ كَافِرُونَ
١١  قُلْ يَتَوَفَّاكُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ
١٢  وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ
١٣  وَلَوْ شِئْنَا لَآتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا وَلَٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
١٤  فَذُوقُوا بِمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا إِنَّا نَسِينَاكُمْ ۖ وَذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
١٥  إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّدًا وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ۩
١٦  تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ
١٧  فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
١٨  أَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا ۚ لَا يَسْتَوُونَ
١٩  أَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوَىٰ نُزُلًا بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
٢٠  وَأَمَّا الَّذِينَ فَسَقُوا فَمَأْوَاهُمُ النَّارُ ۖ كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ
٢١  وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
٢٢  وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا ۚ إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنْتَقِمُونَ
٢٣  وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ ۖ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ
٢٤  وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ
٢٥  إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
٢٦  أَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسَاكِنِهِمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ ۖ أَفَلَا يَسْمَعُونَ
٢٧  أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنْفُسُهُمْ ۖ أَفَلَا يُبْصِرُونَ
٢٨  وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْفَتْحُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
٢٩  قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنْفَعُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِيمَانُهُمْ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ
٣٠  فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَانْتَظِرْ إِنَّهُمْ مُنْتَظِرُونَ

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  Alif, Lam, Meem.
2  [This is] the revelation of the Book about which there is no doubt from the Lord of the worlds.
3  Or do they say, “He invented it”? Rather, it is the truth from your Lord, [O Muhammad], that you may warn a people to whom no warner has come before you [so] perhaps they will be guided.
4  It is Allah who created the heavens and the earth and whatever is between them in six days; then He established Himself above the Throne. You have not besides Him any protector or any intercessor; so will you not be reminded?
5  He arranges [each] matter from the heaven to the earth; then it will ascend to Him in a Day, the extent of which is a thousand years of those which you count.
6  That is the Knower of the unseen and the witnessed, the Exalted in Might, the Merciful,
7  Who perfected everything which He created and began the creation of man from clay.
8  Then He made his posterity out of the extract of a liquid disdained.
9  Then He proportioned him and breathed into him from His [created] soul and made for you hearing and vision and hearts; little are you grateful.
10  And they say, “When we are lost within the earth, will we indeed be [recreated] in a new creation?” Rather, they are, in [the matter of] the meeting with their Lord, disbelievers.
11  Say, “The angel of death will take you who has been entrusted with you. Then to your Lord you will be returned.”
12  If you could but see when the criminals are hanging their heads before their Lord, [saying], “Our Lord, we have seen and heard, so return us [to the world]; we will work righteousness. Indeed, we are [now] certain.”
13  And if We had willed, We could have given every soul its guidance, but the word from Me will come into effect [that] “I will surely fill Hell with jinn and people all together.
14  So taste [punishment] because you forgot the meeting of this, your Day; indeed, We have [accordingly] forgotten you. And taste the punishment of eternity for what you used to do.”
15  Only those believe in Our verses who, when they are reminded by them, fall down in prostration and exalt [Allah] with praise of their Lord, and they are not arrogant.
16  They arise from [their] beds; they supplicate their Lord in fear and aspiration, and from what We have provided them, they spend.
17  And no soul knows what has been hidden for them of comfort for eyes as reward for what they used to do.
18  Then is one who was a believer like one who was defiantly disobedient? They are not equal.
19  As for those who believed and did righteous deeds, for them will be the Gardens of Refuge as accommodation for what they used to do.
20  But as for those who defiantly disobeyed, their refuge is the Fire. Every time they wish to emerge from it, they will be returned to it while it is said to them, “Taste the punishment of the Fire which you used to deny.”
21  And we will surely let them taste the nearer punishment short of the greater punishment that perhaps they will repent.
22  And who is more unjust than one who is reminded of the verses of his Lord; then he turns away from them? Indeed We, from the criminals, will take retribution.
23  And We certainly gave Moses the Scripture, so do not be in doubt over his meeting. And we made the Torah guidance for the Children of Israel.
24  And We made from among them leaders guiding by Our command when they were patient and [when] they were certain of Our signs.
25  Indeed, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning that over which they used to differ.
26  Has it not become clear to them how many generations We destroyed before them, [as] they walk among their dwellings? Indeed in that are signs; then do they not hear?
27  Have they not seen that We drive the water [in clouds] to barren land and bring forth thereby crops from which their livestock eat and [they] themselves? Then do they not see?
28  And they say, “When will be this conquest, if you should be truthful?”
29  Say, [O Muhammad], “On the Day of Conquest the belief of those who had disbelieved will not benefit them, nor will they be reprieved.”
30  So turn away from them and wait. Indeed, they are waiting.

 奉至仁至慈的真主之名

1  . 艾列弗,俩目,米目。
2  (这)是从全世界的主降示的经典,其中毫无疑义。
3  他们说:他捏造它吗?不然!它是从你的主降示的真理,以便你警告在你之前没有任何警告者来临过的一群民众,以便他们遵循正道。
4  真主曾在六日内创造天地万物,然后,升上宝座,除他外,你们没有任何监护者和说情者。你们怎么不记念呢?
5  他治理自天至地的事物,然后那事物在一日之内上升到他那里,那一日的长度,是你们所计算的一千年。
6  那是全知幽明的、万能的、至慈的主。
7  他精制他所创造的万物,他最初用泥土创造人。
8  然后用贱水的精华创造他的子孙。
9  然后使他健全,并将他的精神吹在他的身体中,又为你们创造耳目心灵。你们很少感谢。
10  他们说:我们消失在地下之后,难道我们必定重新受造吗?不然!他们不信将与他们的主相会。
11  你说:奉命主管你们的生命的死神,将使你们死亡,然后你们将被召归于你们的主。
12  假若你得见犯罪者在他们的主那里垂头丧气地说:我们的主啊!我们已经看见了,听见了,求你让我们转回去,我们将做善事,我们确是确信者。假若你看见这种情状。
13  假若我意欲,必以向导赋予每个人,但从我发出的判词已确定了,我必以精灵和人类一起填满火狱。
14  你们尝试吧!因为你们忘记今日的相会,我确已忘记你们了。你们因为自己的行为而尝试永久的刑罚吧。
15  信仰我的迹象的,只有那等人;别人以我的迹象劝戒他们的时候,他们便俯伏叩头并赞颂他们的那超绝万物的主,他们不敢妄自尊大,(此处叩头!)※
16  他们肋不落床,他们以恐惧和希望的心情祈祷他们的主;他们分舍我所赐予他们的。
17  任何人都不知道已为他们贮藏了什么慰藉,以报酬他们的行为。
18  信道者与悖逆者一样吗?他们是不相等的。
19  至于信道而且行善者,将来得以乐园为归宿,那是为了报酬他们的行为的。
20  . 至于悖逆者,他们的归宿,只是火狱,每当他们要想逃出,都被拦回去。有声音对他们说:你们尝试以前你们所否认的火刑吧!
21  . 在最大的刑罚之前,我必使他们尝试最近的刑罚,以便他们悔悟。
22  有人以主的迹象劝戒他,而他不肯听从,这样的人,谁比他还不义呢?我必然要惩治犯罪的人。
23  我确已把经典赏赐穆萨,所以你们对于接受经典,不要陷于犹豫中,我曾以那部经典为以色列后裔的向导。
24  我曾以他们中的一部分人为表率,当他们忍受艰难,确信我的迹象的时候,奉我的命令去引导众人。
25  复活日,你的主必定判决他们所争论的是非。
26  难道他们还不晓得吗?在他们之前,我曾毁灭了许多世代,他们常常经过那些人的故乡,在那里确有许多迹象。他们怎么不听从呢?
27  他们还不知道吗?我把雨水赶到无草的地方,而借它生出他们的牲畜和他们自己所食的庄稼。难道他们看不见吗?
28  他们说:这种判决什么时候实现呢?如果你们是说实话的。
29  你说:不信道者,在判决日,虽信无益,并且不获得宽待。
30  你应当避开他们,你应当等待,他们必定是等待的。

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  ‘lm.
2  La revelación de la Escritura, exenta de dudas, procede del Señor del universo.
3  O dicen: «Él la ha inventado». ¡No! es la Verdad venida de tu Señor, para que adviertas a un pueblo al que no ha venido monitor alguno antes de ti. Quizás, así, sean bien dirigidos.
4  Alá es Quien ha creado los cielos, la tierra y lo que entre ellos está en seis días. Luego, se ha instalado en el Trono. Fuera de É, no tenéis amigo ni intercesor. ¿Es que no os dejaréis amonestar?
5  Él dispone en el cielo todo lo de la tierra. Luego, todo ascenderá a Él en un día equivalente en duración a mil años de los vuestros.
6  Tal es el Conocedor de lo oculto y de lo patente, el Poderoso, el Misericordioso,
7  Que ha hecho bien todo cuanto ha creado y ha comenzado la creación del hombre de arcilla
8  -luego, ha establecido su descendencia de una gota de líquido vil-;
9  luego, le ha dado forma armoniosa e infundido en él de Su Espíritu. Os ha dado el oído, la vista y el intelecto. ¡Qué poco agradecidos sois!
10  Dicen: «Cuando nos hayamos perdido en la tierra, ¿es verdad que se nos creará de nuevo?» No, no creen en el encuentro de su Señor.
11  Di: «El ángel de la muerte, encargado de vosotros, os llamara y, luego, seréis devueltos a vuestro Señor».
12  Si pudieras ver a los pecadores, cabizbajos ante su Señor: «¡Señor! ¡Hemos visto y oído! ¡Haznos volver para que hagamos obras buenas! ¡Estamos convencidos!»
13  Si hubiéramos querido, habríamos dirigido a cada uno. Pero se ha realizado Mi sentencia: «¡He de llenar la gehena de genios y de hombres, de todos ellos!»
14  ¡Gustad, pues, por haber olvidado que os llegaría este día! Nosotros también os hemos olvidado. ¡Gustad el castigo eterno por lo que habéis hecho!
15  Sólo creen en Nuestras aleyas quienes, al ser amonestados con ellas, caen al suelo en adoración y glorifican a su Señor, sin mostrarse altivos.
16  Se alzan del lecho para invocar a su Señor con temor y anhelo y dan limosna de lo que les hemos proveído.
17  Nadie sabe la alegría reservada a ellos en retribución a sus obras.
18  ¿Es que el creyente es como el perverso? No son iguales.
19  Quienes crean y obren bien tendrán los jardines de la Morada como alojamiento en premio a sus obras.
20  Pero los que obren con perversidad tendrán el Fuego como morada. Siempre que quieran salir de él, serán devueltos a él y se les dirá:«¡Gustad el castigo del Fuego que desmentíais!»
21  Hemos de darles a gustar del castigo de aquí abajo antes del castigo mayor. Quizás, así, se conviertan.
22  ¿Hay alguien que sea más impío que quien, habiéndosele recordado los signos de su Señor, se desvía luego de ellos? Nos vengaremos de los pecadores.
23  Hemos dado a Moisés la Escritura -no dudes, pues, en encontrarle- e hicimos de ella dirección para los Hijos de Israel.
24  Elegimos de entre ellos a jefes que les dirigieran siguiendo Nuestra orden como premio por haber perseverado y por haber estado convencidos de Nuestros signos.
25  Tu Señor fallará entre ellos el día de la Resurrección sobre aquello en que discrepaban.
26  ¿Es que no les dice nada que hayamos hecho perecer a tantas generaciones precedentes, cuyas viviendas huellan ellos ahora? Ciertamente, hay en ello signos. ¿No oirán, pues?
27  ¿Es que no ven cómo conducimos el agua a la tierra pelada y, gracias a ella, sacamos los cereales de que se alimentan sus rebaños y ellos mismos? ¿No verán, pues?
28  Y dicen: «¿Para cuándo ese fallo, si es verdad lo que decís?»
29  Di: «El día del fallo, la fe ya no aprovechará a los infieles y no les será dado esperar».
30  ¡Apártate, pues, de ellos y espera! ¡Ellos esperan!