Project Description

AR RAHMAN

شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  (خدا جو) نہایت مہربان
۲  اسی نے قرآن کی تعلیم فرمائی
۳  اسی نے انسان کو پیدا کیا
۴  اسی نے اس کو بولنا سکھایا
۵  سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں
۶  اور بوٹیاں اور درخت سجدہ کر رہے ہیں
۷  اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کی
۸  کہ ترازو (سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو
۹  اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو۔ اور تول کم مت کرو
۱۰  اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی
۱۱  اس میں میوے اور کھجور کے درخت ہیں جن کے خوشوں پر غلاف ہوتے ہیں
۱۲  اور اناج جس کے ساتھ بھس ہوتا ہے اور خوشبودار پھول
۱۳  تو (اے گروہ جن وانس) تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۱۴  اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا
۱۵  اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا
۱۶  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۱۷  وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک (ہے)
۱۸  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۱۹  اسی نے دو دریا رواں کئے جو آپس میں ملتے ہیں
۲۰  دونوں میں ایک آڑ ہے کہ (اس سے) تجاوز نہیں کرسکتے
۲۱  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۲۲  دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں
۲۳  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۲۴  اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں
۲۵  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۲۶  جو (مخلوق) زمین پر ہے سب کو فنا ہونا ہے
۲۷  اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکات) جو صاحب جلال وعظمت ہے باقی رہے گی
۲۸  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۲۹  آسمان اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب اسی سے مانگتے ہیں۔ وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے
۳۰  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۳۱  اے دونوں جماعتو! ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں
۳۲  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۳۳  اے گروہِ جن وانس اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ۔ اور زور کے سوا تم نکل سکنے ہی کے نہیں
۳۴  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۳۵  تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو پھر تم مقابلہ نہ کرسکو گے
۳۶  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۳۷  پھر جب آسمان پھٹ کر تیل کی تلچھٹ کی طرح گلابی ہوجائے گا (تو) وہ کیسا ہولناک دن ہوگا
۳۸  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۳۹  اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی اور نہ کسی جن سے
۴۰  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۴۱  گنہگار اپنے چہرے ہی سے پہچان لئے جائیں گے تو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ لئے جائیں گے
۴۲  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۴۳  یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے
۴۴  وہ دوزخ اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان گھومتے پھریں گے
۴۵  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۴۶  اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اس کے لئے دو باغ ہیں
۴۷  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۴۸  ان دونوں میں بہت سی شاخیں (یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں)
۴۹  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۵۰  ان میں دو چشمے بہہ رہے ہیں
۵۱  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۵۲  ان میں سب میوے دو دو قسم کے ہیں
۵۳  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۵۴  (اہل جنت) ایسے بچھونوں پر جن کے استرا طلس کے ہیں تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ اور دونوں باغوں کے میوے قریب (جھک رہے) ہیں
۵۵  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۵۶  ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں جن کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے
۵۷  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۵۸  گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں
۵۹  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۶۰  نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے
۶۱  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۶۲  اور ان باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہیں
۶۳  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۶۴  دونوں خوب گہرے سبز
۶۵  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۶۶  ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں
۶۷  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۶۸  ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں
۶۹  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۷۰  ان میں نیک سیرت (اور) خوبصورت عورتیں ہیں
۷۱  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۷۲  (وہ) حوریں (ہیں جو) خیموں میں مستور (ہیں)
۷۳  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۷۴  ان کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے
۷۵  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۷۶  سبز قالینوں اور نفیس مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے
۷۷  تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
۷۸  (اے محمدﷺ) تمہارا پروردگار جو صاحب جلال وعظمت ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  الرَّحْمَٰنُ
٢  عَلَّمَ الْقُرْآنَ
٣  خَلَقَ الْإِنْسَانَ
٤  عَلَّمَهُ الْبَيَانَ
٥  الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ
٦  وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ
٧  وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ
٨  أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ
٩  وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ
١٠  وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ
١١  فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ
١٢  وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ
١٣  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
١٤  خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ
١٥  وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ
١٦  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
١٧  رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ
١٨  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
١٩  مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ
٢٠  بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَا يَبْغِيَانِ
٢١  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٢٢  يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ
٢٣  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٢٤  وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ
٢٥  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٢٦  كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ
٢٧  وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
٢٨  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٢٩  يَسْأَلُهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ
٣٠  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٣١  سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ
٣٢  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٣٣  يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانْفُذُوا ۚ لَا تَنْفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ
٣٤  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٣٥  يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرَانِ
٣٦  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٣٧  فَإِذَا انْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ
٣٨  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٣٩  فَيَوْمَئِذٍ لَا يُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إِنْسٌ وَلَا جَانٌّ
٤٠  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٤١  يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ
٤٢  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٤٣  هَٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ
٤٤  يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ
٤٥  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٤٦  وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ
٤٧  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٤٨  ذَوَاتَا أَفْنَانٍ
٤٩  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٥٠  فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ
٥١  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٥٢  فِيهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ
٥٣  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٥٤  مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ۚ وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ
٥٥  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٥٦  فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ
٥٧  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٥٨  كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ
٥٩  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٦٠  هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
٦١  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٦٢  وَمِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِ
٦٣  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٦٤  مُدْهَامَّتَانِ
٦٥  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٦٦  فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ
٦٧  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٦٨  فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ
٦٩  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٧٠  فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ
٧١  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٧٢  حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ
٧٣  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٧٤  لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ
٧٥  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٧٦  مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ
٧٧  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
٧٨  تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  The Most Merciful
2  Taught the Qur’an,
3  Created man,
4  [And] taught him eloquence.
5  The sun and the moon [move] by precise calculation,
6  And the stars and trees prostrate.
7  And the heaven He raised and imposed the balance
8  That you not transgress within the balance.
9  And establish weight in justice and do not make deficient the balance.
10  And the earth He laid [out] for the creatures.
11  Therein is fruit and palm trees having sheaths [of dates] 12  And grain having husks and scented plants.
13  So which of the favors of your Lord would you deny?
14  He created man from clay like [that of] pottery.
15  And He created the jinn from a smokeless flame of fire.
16  So which of the favors of your Lord would you deny?
17  [He is] Lord of the two sunrises and Lord of the two sunsets.
18  So which of the favors of your Lord would you deny?
19  He released the two seas, meeting [side by side];
20  Between them is a barrier [so] neither of them transgresses.
21  So which of the favors of your Lord would you deny?
22  From both of them emerge pearl and coral.
23  So which of the favors of your Lord would you deny?
24  And to Him belong the ships [with sails] elevated in the sea like mountains.
25  So which of the favors of your Lord would you deny?
26  Everyone upon the earth will perish,
27  And there will remain the Face of your Lord, Owner of Majesty and Honor.
28  So which of the favors of your Lord would you deny?
29  Whoever is within the heavens and earth asks Him; every day He is bringing about a matter.
30  So which of the favors of your Lord would you deny?
31  We will attend to you, O prominent beings.
32  So which of the favors of your Lord would you deny?
33  O company of jinn and mankind, if you are able to pass beyond the regions of the heavens and the earth, then pass. You will not pass except by authority [from Allah].
34  So which of the favors of your Lord would you deny?
35  There will be sent upon you a flame of fire and smoke, and you will not defend yourselves.
36  So which of the favors of your Lord would you deny?
37  And when the heaven is split open and becomes rose-colored like oil –
38  So which of the favors of your Lord would you deny? –
39  Then on that Day none will be asked about his sin among men or jinn.
40  So which of the favors of your Lord would you deny?
41  The criminals will be known by their marks, and they will be seized by the forelocks and the feet.
42  So which of the favors of your Lord would you deny?
43  This is Hell, which the criminals deny.
44  They will go around between it and scalding water, heated [to the utmost degree].
45  So which of the favors of your Lord would you deny?
46  But for he who has feared the position of his Lord are two gardens –
47  So which of the favors of your Lord would you deny? –
48  Having [spreading] branches.
49  So which of the favors of your Lord would you deny?
50  In both of them are two springs, flowing.
51  So which of the favors of your Lord would you deny?
52  In both of them are of every fruit, two kinds.
53  So which of the favors of your Lord would you deny?
54  [They are] reclining on beds whose linings are of silk brocade, and the fruit of the two gardens is hanging low.
55  So which of the favors of your Lord would you deny?
56  In them are women limiting [their] glances, untouched before them by man or jinni –
57  So which of the favors of your Lord would you deny? –
58  As if they were rubies and coral.
59  So which of the favors of your Lord would you deny?
60  Is the reward for good [anything] but good?
61  So which of the favors of your Lord would you deny?
62  And below them both [in excellence] are two [other] gardens –
63  So which of the favors of your Lord would you deny? –
64  Dark green [in color].
65  So which of the favors of your Lord would you deny?
66  In both of them are two springs, spouting.
67  So which of the favors of your Lord would you deny?
68  In both of them are fruit and palm trees and pomegranates.
69  So which of the favors of your Lord would you deny?
70  In them are good and beautiful women –
71  So which of the favors of your Lord would you deny? –
72  Fair ones reserved in pavilions –
73  So which of the favors of your Lord would you deny? –
74  Untouched before them by man or jinni –
75  So which of the favors of your Lord would you deny? –
76  Reclining on green cushions and beautiful fine carpets.
77  So which of the favors of your Lord would you deny?
78  Blessed is the name of your Lord, Owner of Majesty and Honor.

 奉至仁至慈的真主之名

1  至仁主,
2  曾教授《古兰经》,
3  他创造了人,
4  并教人修辞。
5  日月是依定数而运行的。
6  草木是顺从他的意旨的。
7  他曾将天升起。他曾规定公平,
8  以免你们用秤不公。
9  你们应当秉公地谨守衡度,你们不要使所称之物分量不足。
10  他为众生而将大地放下。
11  大地上有水果,和有花篦的海枣,
12  与有秆的五谷和香草。
13  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
14  他曾用陶器般的干土创造人,
15  他用火焰创造精灵。
16  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
17  他是两个东方的主,也是两个西方的主。
18  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
19  他曾任两海相交而会合,
20  两海之间,有一个堤坊,两海互不侵犯。
21  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
22  他从两海中取出大珍珠和小珍珠。
23  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
24  在海中桅帆高举,状如山峦的船舶,只是他的。
25  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
26  凡在大地上的,都要毁灭;
27  惟有你的主的本体,具有尊严与大德,将永恒存在。
28  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
29  凡在天地间的都仰求他;他时时都有事物。
30  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
31  精灵和人类啊!我将专心应付你们。
32  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
33  精灵和人类的群众啊!如果你们能通过天地的境界,你们就通过吧!你们必须凭据一种权柄,才能通过。
34  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
35  火焰和火烟将被降于你们,而你们不能自卫。
36  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
37  当天破离的时候,天将变成玫瑰色,好象红皮一样。
38  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
39  在那日,任何人和精灵都不因罪过而受审问。
40  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
41  犯罪者将因他们的形迹而被认识,他们的额发将被系在脚掌上。
42  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
43  这是犯罪者所否认的火狱。
44  他们将往来于火狱和沸水之间。
45  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
46  凡怕站在主的御前受审问者,都得享受两座乐园。
47  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
48  那两座乐园,是有各种果树的。
49  你们究竟否认你们的主哪一件恩典呢?
50  在那两座乐园里,有两洞流行的泉源。
51  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
52  在那两座乐园里,每种水果,都有两样。
53  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
54  他们靠在用锦缎做里子的坐褥上,那两座乐园的水果,都是手所能及的。
55  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
56  在那些乐园中,有不视非礼的妻子,在他们的妻子之前,任何人和任何精灵都未与她们交接过。
57  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
58  她们好象红宝石和小珍珠一样。
59  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
60  行善者,只受善报。
61  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
62  次于那两座乐园的,还有两座乐园。
63  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
64  那两座乐园都是苍翠的。
65  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
66  在那两座乐园里,有两洞涌出的泉源。
67  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
68  在那两座乐园里,有水果,有海枣,有石榴。
69  你们否认你们的主的哪一件恩典呢?
70  在那些乐园里,有许多贤淑佳丽的女子。
71  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
72  他们是白皙的,是蛰居于帐幕中的。
73  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
74  在他们的妻子之前,任何人或精灵,都未曾与她们交接过。
75  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
76  他们靠在翠绿的坐褥和美丽的花毯上。
77  你们究竟否认你们的主的哪一件恩典呢?
78  多福哉,你具尊严和大德的主的名号!

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  El Compasivo
2  ha enseñado el Corán.
3  Ha creado al hombre,
4  le ha enseñado a explicar.
5  El sol y la luna, para cómputo.
6  Las hierbas y los árboles se prosternan.
7  Ha elevado el cielo. Ha establecido la balanza
8  para que no faltéis al peso,
9  sino que deis la pesada equitativa, sin defraudar en el peso.
10  La tierra la ha puesto al servicio de las criaturas.
11  Hay en ella fruta y palmeras de fruto recubierto,
12  grano de vaina, plantas aromáticas.
13  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
14  Creó al hombre de arcilla, como la cerámica;
15  y creó a los genios de fuego puro.
16  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
17  Señor de los dos Orientes y Señor de los dos Occidentes.
18  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
19  Ha dejado fluir las dos grandes masas de agua, que se encuentran.
20  pero las separa una barrera que no rebasan.
21  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
22  De ambas provienen la perla y el coral.
23  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
24  Suyas son las embarcaciones, que sobresalen en el mar como mojones.
25  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
26  Todo aquél que está sobre ella es perecedero.
27  Pero subsiste tu Señor, el Majestuoso y Honorable
28  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
29  Los que están en los cielos y en la tierra Le imploran. Siempre está ocupado en algo.
30  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
31  Nos ocuparemos detenidamente de vosotros, dos cargas.
32  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
33  ¡Compañía de genios y de hombres! ¡Atravesad, si podéis, las regiones celestiales y terrestres! Pero no podréis atravesarlas sin ayuda de una autoridad…
34  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
35  Serán lanzadas contra vosotros llamaradas de fuego sin humo y de bronce fundido, y no podréis defenderos.
36  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
37  Cuando el cielo se hienda y se tiña de rojo coriáceo,
38  -¿cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
39  ese día, ni los hombres ni los genios serán interrogados acerca de su pecado.
40  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
41  Los pecadores serán reconocidos por sus rasgos y se les cogerá por el copete y por los pies.
42  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
43  ¡Ésa es la gehena que los pecadores desmentían!
44  No pararán de ir y venir entre ella y el agua muy caliente.
45  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
46  Para quien, en cambio, haya temido comparecer ante su Señor. habrá dos jardines
47  -¿cuál. pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
48  frondosos,
49  -¿cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
50  con dos fuentes manando.
51  -¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
52  En ellos habrá dos especies de cada fruta.
53  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
54  Estarán reclinados en alfombras forradas de brocado. Tendrán a su alcance la fruta de los dos jardines.
55  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
56  Estarán en ellos las de recatado mirar, no tocadas hasta entonces por hombre ni genio,
57  -¿cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
58  cual jacinto y coral.
59  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
60  La retribución del bien obrar ¿es otra que el mismo bien obrar?
61  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
62  Además de esos dos, habrá otros dos jardines,
63  -¿cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?-
64  verdinegros,
65  -¿cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?-
66  con dos fuentes abundantes.
67  -¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
68  En ambos habrá fruta, palmeras y granados,
69  -¿cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
70  en ellos habrá buenas, bellas,
71  -¿cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
72  huríes, retiradas en los pabellones,
73  -¿cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?-
74  no tocadas hasta entonces por hombre ni genio.
75  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
76  Reclinados en cojines verdes y bellas alfombras.
77  ¿Cuál, pues, de los beneficios de vuestro Señor negaréis?
78  ¡Bendito sea el nombre de tu Señor, el Majestuoso y Honorable!