Project Description

ASH SHU’ARA

 شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  طٰسٓمٓ
۲  یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں
۳  (اے پیغمبرﷺ) شاید تم اس (رنج) سے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اپنے تئیں ہلاک کردو گے
۴  اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اُتار دیں۔ پھر ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں
۵  اور ان کے پاس (خدائے) رحمٰن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں
۶  سو یہ تو جھٹلا چکے اب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوگی جس کی ہنسی اُڑاتے تھے
۷  کیا انہوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اُگائی ہیں
۸  کچھ شک نہیں کہ اس میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں
۹  اور تمہارا پروردگار غالب (اور) مہربان ہے
۱۰  اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا کہ ظالم لوگوں کے پاس جاؤ
۱۱  (یعنی) قوم فرعون کے پاس، کیا یہ ڈرتے نہیں
۱۲  انہوں نے کہا کہ میرے پروردگار میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں
۱۳  اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے تو ہارون کو حکم بھیج کہ میرے ساتھ چلیں
۱۴  اور ان لوگوں کا مجھ پر ایک گناہ (یعنی قبطی کے خون کا دعویٰ) بھی ہے سو مجھے یہ بھی خوف ہے کہ مجھ کو مار ہی ڈالیں
۱۵  فرمایا ہرگز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں
۱۶  تو دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہان کے مالک کے بھیجے ہوئے ہیں
۱۷  (اور اس لئے آئے ہیں) کہ آپ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیں
۱۸  (فرعون نے موسیٰ سے کہا) کیا ہم نے تم کو کہ ابھی بچّے تھے پرورش نہیں کیا اور تم نے برسوں ہمارے ہاں عمر بسر (نہیں) کی
۱۹  اور تم نے وہ کام کیا تھا جو کیا اور تم ناشکرے معلوم ہوتے ہو
۲۰  (موسیٰ نے) کہاں (ہاں) وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں تھا
۲۱  تو جب مجھے تم سے ڈر لگا تو تم میں سے بھاگ گیا۔ پھر خدا نے مجھ کو نبوت وعلم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا
۲۲  اور (کیا) یہی احسان ہے جو آپ مجھ پر رکھتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے
۲۳  فرعون نے کہا کہ تمام جہان مالک کیا
۲۴  کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک۔ بشرطیکہ تم لوگوں کو یقین ہو
۲۵  فرعون نے اپنے اہالی موالی سے کہا کہ کیا تم سنتے نہیں
۲۶  (موسیٰ نے) کہا کہ تمہارا اور تمہارے پہلے باپ دادا کا مالک
۲۷  (فرعون نے) کہا کہ (یہ) پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے باؤلا ہے
۲۸  موسیٰ نے کہا کہ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک، بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو
۲۹  (فرعون نے) کہا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید کردوں گا
۳۰  (موسیٰ نے) کہا خواہ میں آپ کے پاس روشن چیز لاؤں (یعنی معجزہ)
۳۱  فرعون نے کہا اگر سچے ہو تو اسے لاؤ (دکھاؤ)
۳۲  پس انہوں نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت صریح اژدہا بن گئی
۳۳  اور اپنا ہاتھ نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کے لئے سفید (براق نظر آنے لگا)
۳۴  فرعون نے اپنے گرد کے سرداروں سے کہا کہ یہ تو کامل فن جادوگر ہے
۳۵  چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو (کے زور) سے تمہارے ملک سے نکال دے تو تمہاری کیا رائے ہے؟
۳۶  انہوں نے کہا کہ اسے اور اس کے بھائی (کے بارے) میں کچھ توقف کیجیئے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیئے
۳۷  کہ سب ماہر جادوگروں کو (جمع کرکے) آپ کے پاس لے آئیں
۳۸  تو جادوگر ایک مقررہ دن کی میعاد پر جمع ہوگئے
۳۹  اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکھٹے ہو کر جانا چاہیئے
۴۰  تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہوجائیں
۴۱  جب جادوگر آگئے تو فرعون سے کہنے لگے اگر ہم غالب رہے تو ہمیں صلہ بھی عطا ہوگا؟
۴۲  فرعون نے کہا ہاں اور تم مقربوں میں بھی داخل کرلئے جاؤ گے
۴۳  موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو چیز ڈالنی چاہتے ہو، ڈالو
۴۴  تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور کہنے لگے کہ فرعون کے اقبال کی قسم ہم ضرور غالب رہیں گے
۴۵  پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ ان چیزوں کو جو جادوگروں نے بنائی تھیں یکایک نگلنے لگی
۴۶  تب جادوگر سجدے میں گر پڑے
۴۷  (اور) کہنے لگے کہ ہم تمام جہان کے مالک پر ایمان لے آئے
۴۸  جو موسیٰ اور ہارون کا مالک ہے
۴۹  فرعون نے کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے، بےشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو عنقریب تم (اس کا انجام) معلوم کرلو گے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھوا دوں گا
۵۰  انہوں نے کہا کہ کچھ نقصان (کی بات) نہیں ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جانے والے ہیں
۵۱  ہمیں امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہ بخش دے گا۔ اس لئے کہ ہم اول ایمان لانے والوں میں ہیں
۵۲  اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو رات کو لے نکلو کہ (فرعونیوں کی طرف سے) تمہارا تعاقب کیا جائے گا
۵۳  تو فرعون نے شہروں میں نقیب راونہ کئے
۵۴  (اور کہا) کہ یہ لوگ تھوڑی سی جماعت ہے
۵۵  اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں
۵۶  اور ہم سب باسازو سامان ہیں
۵۷  تو ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا
۵۸  اور خزانوں اور نفیس مکانات سے
۵۹  (ان کے ساتھ ہم نے) اس طرح (کیا) اور ان چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو کر دیا
۶۰  تو انہوں نے سورج نکلتے (یعنی صبح کو) ان کا تعاقب کیا
۶۱  جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لئے گئے
۶۲  موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ مجھے رستہ بتائے گا
۶۳  اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو۔ تو دریا پھٹ گیا۔ اور ہر ایک ٹکڑا (یوں) ہوگیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ (ہے)
۶۴  اور دوسروں کو وہاں ہم نے قریب کردیا
۶۵  اور موسیٰ اور ان کے ساتھ والوں کو تو بچا لیا
۶۶  پھر دوسروں کو ڈبو دیا
۶۷  بےشک اس (قصے) میں نشانی ہے۔ لیکن یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں
۶۸  اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے
۶۹  اور ان کو ابراہیم کا حال پڑھ کر سنا دو
۷۰  جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم کس چیز کو پوجتے ہو
۷۱  وہ کہنے لگے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ان کی پوجا پر قائم ہیں
۷۲  ابراہیم نے کہا کہ جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری آواز کو سنتے ہیں؟
۷۳  یا تمہیں کچھ فائدے دے سکتے یا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟
۷۴  انہوں نے کہا (نہیں) بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے
۷۵  ابراہیم نے کہا کیا تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو
۷۶  تم بھی اور تمہارے اگلے باپ دادا بھی
۷۷  وہ میرے دشمن ہیں۔ مگر خدائے رب العالمین (میرا دوست ہے)
۷۸  جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے رستہ دکھاتا ہے
۷۹  اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے
۸۰  اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے
۸۱  اور جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا
۸۲  اور وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے گناہ بخشے گا
۸۳  اے پروردگار مجھے علم ودانش عطا فرما اور نیکوکاروں میں شامل کر
۸۴  اور پچھلے لوگوں میں میرا ذکر نیک (جاری) کر
۸۵  اور مجھے نعمت کی بہشت کے وارثوں میں کر
۸۶  اور میرے باپ کو بخش دے کہ وہ گمراہوں میں سے ہے
۸۷  اور جس دن لوگ اٹھا کھڑے کئے جائیں گے مجھے رسوا نہ کیجیو
۸۸  جس دن نہ مال ہی کچھ فائدہ دے سکا گا اور نہ بیٹے
۸۹  ہاں جو شخص خدا کے پاس پاک دل لے کر آیا (وہ بچ جائے گا)
۹۰  اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی
۹۱  اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لائی جائے گی
۹۲  اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم پوجتے تھے وہ کہاں ہیں؟
۹۳  یعنی جن کو خدا کے سوا (پوجتے تھے) کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں
۹۴  تو وہ اور گمراہ (یعنی بت اور بت پرست) اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے
۹۵  اور شیطان کے لشکر سب کے سب (داخل جہنم ہوں گے)
۹۶  وہ آپس میں جھگڑیں گے اور کہیں گے
۹۷  کہ خدا کی قسم ہم تو صریح گمراہی میں تھے
۹۸  جب کہ تمہیں (خدائے) رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے
۹۹  اور ہم کو ان گنہگاروں ہی نے گمراہ کیا تھا
۱۰۰  تو (آج) نہ کوئی ہمارا سفارش کرنے والا ہے
۱۰۱  اور نہ گرم جوش دوست
۱۰۲  کاش ہمیں (دنیا میں) پھر جانا ہو تم ہم مومنوں میں ہوجائیں
۱۰۳  بےشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں
۱۰۴  اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے
۱۰۵  قوم نوح نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا
۱۰۶  جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں
۱۰۷  میں تو تمہارا امانت دار ہوں
۱۰۸  تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو
۱۰۹  اور اس کام کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو خدائے رب العالمین ہی پر ہے
۱۱۰  تو خدا سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو
۱۱۱  وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو رذیل لوگ ہوتے ہیں
۱۱۲  نوح نے کہا کہ مجھے کیا معلوم کہ وہ کیا کرتے ہیں
۱۱۳  ان کا حساب (اعمال) میرے پروردگار کے ذمے ہے کاش تم سمجھو
۱۱۴  اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں
۱۱۵  میں تو صرف کھول کھول کر نصیحت کرنے والا ہوں
۱۱۶  انہوں نے کہا کہ نوح اگر تم باز نہ آؤ گے تو سنگسار کردیئے جاؤ گے
۱۱۷  نوح نے کہا کہ پروردگار میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا
۱۱۸  سو تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کردے اور مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں ان کو بچا لے
۱۱۹  پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے، ان کو بچا لیا
۱۲۰  پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو ڈبو دیا
۱۲۱  بےشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے
۱۲۲  اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے
۱۲۳  عاد نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا
۱۲۴  جب ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں
۱۲۵  میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں
۱۲۶  تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو
۱۲۷  اور میں اس کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے
۱۲۸  بھلا تم ہر اونچی جگہ پر نشان تعمیر کرتے ہو
۱۲۹  اور محل بناتے ہو شاید تم ہمیشہ رہو گے
۱۳۰  اور جب (کسی کو) پکڑتے ہو تو ظالمانہ پکڑتے ہو
۱۳۱  تو خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
۱۳۲  اور اس سے جس نے تم کو ان چیزوں سے مدد دی جن کو تم جانتے ہو۔ ڈرو
۱۳۳  اس نے تمہیں چارپایوں اور بیٹوں سے مدد دی
۱۳۴  اور باغوں اور چشموں سے
۱۳۵  مجھ کو تمہارے بارے میں بڑے (سخت) دن کے عذاب کا خوف ہے
۱۳۶  وہ کہنے لگے کہ ہمیں خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے
۱۳۷  یہ تو اگلوں ہی کے طریق ہیں
۱۳۸  اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا
۱۳۹  تو انہوں نے ہود کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے
۱۴۰  اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے
۱۴۱  (اور) قوم ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلا دیا
۱۴۲  جب ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں؟
۱۴۳  میں تو تمہارا امانت دار ہوں
۱۴۴  تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو
۱۴۵  اور میں اس کا تم سے بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدا) رب العالمین کے ذمے ہے
۱۴۶  کیا وہ چیزیں (تمہیں یہاں میسر) ہیں ان میں تم بےخوف چھوڑ دیئے جاؤ گے
۱۴۷  (یعنی) باغ اور چشمے
۱۴۸  اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف ونازک ہوتے ہیں
۱۴۹  اور تکلف سے پہاڑوں میں تراش خراش کر گھر بناتے ہو
۱۵۰  تو خدا سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو
۱۵۱  اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو
۱۵۲  جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے
۱۵۳  وہ کہنے لگے کہ تم تو جادو زدہ ہو
۱۵۴  تم اور کچھ نہیں ہماری طرح آدمی ہو۔ اگر سچے ہو تو کوئی نشانی پیش کرو
۱۵۵  صالح نے کہا (دیکھو) یہ اونٹنی ہے (ایک دن) اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمہاری باری
۱۵۶  اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا (نہیں تو) تم کو سخت عذاب آ پکڑے گا
۱۵۷  تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے
۱۵۸  سو ان کو عذاب نے آن پکڑا۔ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے
۱۵۹  اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے
۱۶۰  (اور قوم) لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا
۱۶۱  جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے؟
۱۶۲  میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں
۱۶۳  تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو
۱۶۴  اور میں تم سے اس (کام) کا بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے
۱۶۵  کیا تم اہل عالم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو
۱۶۶  اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو
۱۶۷  وہ کہنے لگے کہ لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کردیئے جاؤ گے
۱۶۸  لوط نے کہا کہ میں تمہارے کام کا سخت دشمن ہوں
۱۶۹  اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں (کے وبال) سے نجات دے
۱۷۰  سو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو سب کو نجات دی
۱۷۱  مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی
۱۷۲  پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا
۱۷۳  اور ان پر مینھہ برسایا۔ سو جو مینھہ ان (لوگوں) پر (برسا) جو ڈرائے گئے برا تھا
۱۷۴  بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے
۱۷۵  اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے۔
۱۷۶  اور بن کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا
۱۷۷  جب ان سے شعیب نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں؟
۱۷۸  میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں
۱۷۹  تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو
۱۸۰  اور میں اس کام کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ تو خدائے رب العالمین کے ذمے ہے
۱۸۱  (دیکھو) پیمانہ پورا بھرا کرو اور نقصان نہ کیا کرو
۱۸۲  اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو
۱۸۳  اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور ملک میں فساد نہ کرتے پھرو
۱۸۴  اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور پہلی خلقت کو پیدا کیا
۱۸۵  وہ کہنے لگے کہ تم جادو زدہ ہو
۱۸۶  اور تم اور کچھ نہیں ہم ہی جیسے آدمی ہو۔ اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو
۱۸۷  اور اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر گراؤ
۱۸۸  شعیب نے کہا کہ جو کام تم کرتے ہو میرا پروردگار اس سے خوب واقف ہے
۱۸۹  تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا، پس سائبان کے عذاب نے ان کو آ پکڑا۔ بےشک وہ بڑے (سخت) دن کا عذاب تھا
۱۹۰  اس میں یقیناً نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے
۱۹۱  اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے
۱۹۲  اور یہ قرآن (خدائے) پروردگار عالم کا اُتارا ہوا ہے
۱۹۳  اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اُترا ہے
۱۹۴  (یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو
۱۹۵  اور (القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)
۱۹۶  اور اس کی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں (لکھی ہوئی) ہے
۱۹۷  کیا ان کے لئے یہ سند نہیں ہے کہ علمائے بنی اسرائیل اس (بات) کو جانتے ہیں
۱۹۸  اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اُتارتے
۱۹۹  اور وہ اسے ان (لوگوں کو) پڑھ کر سناتا تو یہ اسے (کبھی) نہ مانتے
۲۰۰  اسی طرح ہم نے انکار کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیا
۲۰۱  وہ جب تک درد دینے والا عذاب نہ دیکھ لیں گے، اس کو نہیں مانیں گے
۲۰۲  وہ ان پر ناگہاں آ واقع ہوگا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی
۲۰۳  اس وقت کہیں گے کیا ہمیں ملہت ملے گی؟
۲۰۴  تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں
۲۰۵  بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہے
۲۰۶  پھر ان پر وہ (عذاب) آ واقع ہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے
۲۰۷  تو جو فائدے یہ اٹھاتے رہے ان کے کس کام آئیں گے
۲۰۸  اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر اس کے لئے نصیحت کرنے والے (پہلے بھیج دیتے) تھے
۲۰۹  نصیحت کردیں اور ہم ظالم نہیں ہیں
۲۱۰  اور اس (قرآن) کو شیطان لے کر نازل نہیں ہوئے
۲۱۱  یہ کام نہ تو ان کو سزاوار ہے اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں
۲۱۲  وہ (آسمانی باتوں) کے سننے (کے مقامات) سے الگ کر دیئے گئے ہیں
۲۱۳  تو خدا کے سوا کسی اور معبود کو مت پکارنا، ورنہ تم کو عذاب دیا جائے گا
۲۱۴  اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈر سنا دو
۲۱۵  اور جو مومن تمہارے پیرو ہوگئے ہیں ان سے متواضع پیش آؤ
۲۱۶  پھر اگر لوگ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بےتعلق ہوں
۲۱۷  اور (خدائے) غالب اور مہربان پر بھروسا رکھو
۲۱۸  جو تم کو جب تم (تہجد) کے وقت اُٹھتے ہو دیکھتا ہے
۲۱۹  اور نمازیوں میں تمہارے پھرنے کو بھی
۲۲۰  بےشک وہ سننے اور جاننے والا ہے
۲۲۱  (اچھا) میں تمیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اُترتے ہیں
۲۲۲  ہر جھوٹے گنہگار پر اُترتے ہیں
۲۲۳  جو سنی ہوئی بات (اس کے کام میں) لا ڈالتے ہیں اور وہ اکثر جھوٹے ہیں
۲۲۴  اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں
۲۲۵  کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں
۲۲۶  اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں
۲۲۷  مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور خدا کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  طسم
٢  تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ
٣  لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ
٤  إِنْ نَشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ
٥  وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنَ الرَّحْمَٰنِ مُحْدَثٍ إِلَّا كَانُوا عَنْهُ مُعْرِضِينَ
٦  فَقَدْ كَذَّبُوا فَسَيَأْتِيهِمْ أَنْبَاءُ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
٧  أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الْأَرْضِ كَمْ أَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ
٨  إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ
٩  وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
١٠  وَإِذْ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَىٰ أَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
١١  قَوْمَ فِرْعَوْنَ ۚ أَلَا يَتَّقُونَ
١٢  قَالَ رَبِّ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُكَذِّبُونِ
١٣  وَيَضِيقُ صَدْرِي وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْسِلْ إِلَىٰ هَارُونَ
١٤  وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْبٌ فَأَخَافُ أَنْ يَقْتُلُونِ
١٥  قَالَ كَلَّا ۖ فَاذْهَبَا بِآيَاتِنَا ۖ إِنَّا مَعَكُمْ مُسْتَمِعُونَ
١٦  فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولَا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ
١٧  أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ
١٨  قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ
١٩  وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِي فَعَلْتَ وَأَنْتَ مِنَ الْكَافِرِينَ
٢٠  قَالَ فَعَلْتُهَا إِذًا وَأَنَا مِنَ الضَّالِّينَ
٢١  فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِي رَبِّي حُكْمًا وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُرْسَلِينَ
٢٢  وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرَائِيلَ
٢٣  قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ
٢٤  قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِنْ كُنْتُمْ مُوقِنِينَ
٢٥  قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ أَلَا تَسْتَمِعُونَ
٢٦  قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ
٢٧  قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ
٢٨  قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ
٢٩  قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ
٣٠  قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَيْءٍ مُبِينٍ
٣١  قَالَ فَأْتِ بِهِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
٣٢  فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ
٣٣  وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِينَ
٣٤  قَالَ لِلْمَلَإِ حَوْلَهُ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ عَلِيمٌ
٣٥  يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَكُمْ مِنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ
٣٦  قَالُوا أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَابْعَثْ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ
٣٧  يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ
٣٨  فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ
٣٩  وَقِيلَ لِلنَّاسِ هَلْ أَنْتُمْ مُجْتَمِعُونَ
٤٠  لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِنْ كَانُوا هُمُ الْغَالِبِينَ
٤١  فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالُوا لِفِرْعَوْنَ أَئِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِينَ
٤٢  قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذًا لَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
٤٣  قَالَ لَهُمْ مُوسَىٰ أَلْقُوا مَا أَنْتُمْ مُلْقُونَ
٤٤  فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ
٤٥  فَأَلْقَىٰ مُوسَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
٤٦  فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ
٤٧  قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ
٤٨  رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ
٤٩  قَالَ آمَنْتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ
٥٠  قَالُوا لَا ضَيْرَ ۖ إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنْقَلِبُونَ
٥١  إِنَّا نَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَايَانَا أَنْ كُنَّا أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ
٥٢  وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي إِنَّكُمْ مُتَّبَعُونَ
٥٣  فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ
٥٤  إِنَّ هَٰؤُلَاءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ
٥٥  وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَائِظُونَ
٥٦  وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَاذِرُونَ
٥٧  فَأَخْرَجْنَاهُمْ مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ
٥٨  وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
٥٩  كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ
٦٠  فَأَتْبَعُوهُمْ مُشْرِقِينَ
٦١  فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ
٦٢  قَالَ كَلَّا ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ
٦٣  فَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنِ اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْبَحْرَ ۖ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ
٦٤  وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الْآخَرِينَ
٦٥  وَأَنْجَيْنَا مُوسَىٰ وَمَنْ مَعَهُ أَجْمَعِينَ
٦٦  ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ
٦٧  إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ
٦٨  وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
٦٩  وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَاهِيمَ
٧٠  إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ
٧١  قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ
٧٢  قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ
٧٣  أَوْ يَنْفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ
٧٤  قَالُوا بَلْ وَجَدْنَا آبَاءَنَا كَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ
٧٥  قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ
٧٦  أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ
٧٧  فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ
٧٨  الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ
٧٩  وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ
٨٠  وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
٨١  وَالَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحْيِينِ
٨٢  وَالَّذِي أَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ
٨٣  رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ
٨٤  وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ
٨٥  وَاجْعَلْنِي مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ
٨٦  وَاغْفِرْ لِأَبِي إِنَّهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّينَ
٨٧  وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ
٨٨  يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ
٨٩  إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
٩٠  وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ
٩١  وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ
٩٢  وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ
٩٣  مِنْ دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنْصُرُونَكُمْ أَوْ يَنْتَصِرُونَ
٩٤  فَكُبْكِبُوا فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ
٩٥  وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ
٩٦  قَالُوا وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ
٩٧  تَاللَّهِ إِنْ كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
٩٨  إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ
٩٩  وَمَا أَضَلَّنَا إِلَّا الْمُجْرِمُونَ
١٠٠  فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِينَ
١٠١  وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ
١٠٢  فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
١٠٣  إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ
١٠٤  وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
١٠٥  كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ
١٠٦  إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ نُوحٌ أَلَا تَتَّقُونَ
١٠٧  إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
١٠٨  فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
١٠٩  وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ
١١٠  فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
١١١  قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ
١١٢  قَالَ وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
١١٣  إِنْ حِسَابُهُمْ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّي ۖ لَوْ تَشْعُرُونَ
١١٤  وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ
١١٥  إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ
١١٦  قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ
١١٧  قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوْمِي كَذَّبُونِ
١١٨  فَافْتَحْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَنَجِّنِي وَمَنْ مَعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
١١٩  فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ
١٢٠  ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ
١٢١  إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ
١٢٢  وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
١٢٣  كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ
١٢٤  إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ
١٢٥  إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
١٢٦  فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
١٢٧  وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ
١٢٨  أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ
١٢٩  وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
١٣٠  وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ
١٣١  فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
١٣٢  وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ
١٣٣  أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ
١٣٤  وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ
١٣٥  إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
١٣٦  قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ
١٣٧  إِنْ هَٰذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ
١٣٨  وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
١٣٩  فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ
١٤٠  وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
١٤١  كَذَّبَتْ ثَمُودُ الْمُرْسَلِينَ
١٤٢  إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ صَالِحٌ أَلَا تَتَّقُونَ
١٤٣  إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
١٤٤  فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
١٤٥  وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ
١٤٦  أَتُتْرَكُونَ فِي مَا هَاهُنَا آمِنِينَ
١٤٧  فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ
١٤٨  وَزُرُوعٍ وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ
١٤٩  وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ
١٥٠  فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
١٥١  وَلَا تُطِيعُوا أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ
١٥٢  الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ
١٥٣  قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
١٥٤  مَا أَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا فَأْتِ بِآيَةٍ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
١٥٥  قَالَ هَٰذِهِ نَاقَةٌ لَهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ
١٥٦  وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ
١٥٧  فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُوا نَادِمِينَ
١٥٨  فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ
١٥٩  وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
١٦٠  كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ الْمُرْسَلِينَ
١٦١  إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ لُوطٌ أَلَا تَتَّقُونَ
١٦٢  إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
١٦٣  فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
١٦٤  وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ
١٦٥  أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ
١٦٦  وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ ۚ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ
١٦٧  قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يَا لُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ
١٦٨  قَالَ إِنِّي لِعَمَلِكُمْ مِنَ الْقَالِينَ
١٦٩  رَبِّ نَجِّنِي وَأَهْلِي مِمَّا يَعْمَلُونَ
١٧٠  فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ
١٧١  إِلَّا عَجُوزًا فِي الْغَابِرِينَ
١٧٢  ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرِينَ
١٧٣  وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَطَرًا ۖ فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِينَ
١٧٤  إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ
١٧٥  وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
١٧٦  كَذَّبَ أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ
١٧٧  إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلَا تَتَّقُونَ
١٧٨  إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
١٧٩  فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
١٨٠  وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ
١٨١  أَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُخْسِرِينَ
١٨٢  وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ
١٨٣  وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
١٨٤  وَاتَّقُوا الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الْأَوَّلِينَ
١٨٥  قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
١٨٦  وَمَا أَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا وَإِنْ نَظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ
١٨٧  فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
١٨٨  قَالَ رَبِّي أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ
١٨٩  فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
١٩٠  إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ
١٩١  وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
١٩٢  وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ
١٩٣  نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ
١٩٤  عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ
١٩٥  بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ
١٩٦  وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ
١٩٧  أَوَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ آيَةً أَنْ يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ
١٩٨  وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَىٰ بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ
١٩٩  فَقَرَأَهُ عَلَيْهِمْ مَا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ
٢٠٠  كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ
٢٠١  لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
٢٠٢  فَيَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
٢٠٣  فَيَقُولُوا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُونَ
٢٠٤  أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ
٢٠٥  أَفَرَأَيْتَ إِنْ مَتَّعْنَاهُمْ سِنِينَ
٢٠٦  ثُمَّ جَاءَهُمْ مَا كَانُوا يُوعَدُونَ
٢٠٧  مَا أَغْنَىٰ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يُمَتَّعُونَ
٢٠٨  وَمَا أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنْذِرُونَ
٢٠٩  ذِكْرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَالِمِينَ
٢١٠  وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ
٢١١  وَمَا يَنْبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ
٢١٢  إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ
٢١٣  فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ
٢١٤  وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ
٢١٥  وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
٢١٦  فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ
٢١٧  وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ
٢١٨  الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
٢١٩  وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ
٢٢٠  إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
٢٢١  هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ
٢٢٢  تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ
٢٢٣  يُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ
٢٢٤  وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
٢٢٥  أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ
٢٢٦  وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ
٢٢٧  إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا ۗ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  Ta, Seen, Meem.
2  These are the verses of the clear Book.
3  Perhaps, [O Muhammad], you would kill yourself with grief that they will not be believers.
4  If We willed, We could send down to them from the sky a sign for which their necks would remain humbled.
5  And no revelation comes to them anew from the Most Merciful except that they turn away from it.
6  For they have already denied, but there will come to them the news of that which they used to ridicule.
7  Did they not look at the earth – how much We have produced therein from every noble kind?
8  Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.
9  And indeed, your Lord – He is the Exalted in Might, the Merciful.
10  And [mention] when your Lord called Moses, [saying], “Go to the wrongdoing people –
11  The people of Pharaoh. Will they not fear Allah?”
12  He said, “My Lord, indeed I fear that they will deny me
13  And that my breast will tighten and my tongue will not be fluent, so send for Aaron.
14  And they have upon me a [claim due to] sin, so I fear that they will kill me.”
15  [Allah] said, “No. Go both of you with Our signs; indeed, We are with you, listening.
16  Go to Pharaoh and say, ‘We are the messengers of the Lord of the worlds,
17  [Commanded to say], “Send with us the Children of Israel.”‘”
18  [Pharaoh] said, “Did we not raise you among us as a child, and you remained among us for years of your life?
19  And [then] you did your deed which you did, and you were of the ungrateful.”
20  [Moses] said, “I did it, then, while I was of those astray.
21  So I fled from you when I feared you. Then my Lord granted me wisdom and prophethood and appointed me [as one] of the messengers.
22  And is this a favor of which you remind me – that you have enslaved the Children of Israel?”
23  Said Pharaoh, “And what is the Lord of the worlds?”
24  [Moses] said, “The Lord of the heavens and earth and that between them, if you should be convinced.”
25  [Pharaoh] said to those around him, “Do you not hear?”
26  [Moses] said, “Your Lord and the Lord of your first forefathers.”
27  [Pharaoh] said, “Indeed, your ‘messenger’ who has been sent to you is mad.”
28  [Moses] said, “Lord of the east and the west and that between them, if you were to reason.”
29  [Pharaoh] said, “If you take a god other than me, I will surely place you among those imprisoned.”
30  [Moses] said, “Even if I brought you proof manifest?”
31  [Pharaoh] said, “Then bring it, if you should be of the truthful.”
32  So [Moses] threw his staff, and suddenly it was a serpent manifest.
33  And he drew out his hand; thereupon it was white for the observers.
34  [Pharaoh] said to the eminent ones around him, “Indeed, this is a learned magician.
35  He wants to drive you out of your land by his magic, so what do you advise?”
36  They said, “Postpone [the matter of] him and his brother and send among the cities gatherers
37  Who will bring you every learned, skilled magician.”
38  So the magicians were assembled for the appointment of a well-known day.
39  And it was said to the people, “Will you congregate
40  That we might follow the magicians if they are the predominant?”
41  And when the magicians arrived, they said to Pharaoh, “Is there indeed for us a reward if we are the predominant?”
42  He said, “Yes, and indeed, you will then be of those near [to me].”
43  Moses said to them, “Throw whatever you will throw.”
44  So they threw their ropes and their staffs and said, “By the might of Pharaoh, indeed it is we who are predominant.”
45  Then Moses threw his staff, and at once it devoured what they falsified.
46  So the magicians fell down in prostration [to Allah].
47  They said, “We have believed in the Lord of the worlds,
48  The Lord of Moses and Aaron.”
49  [Pharaoh] said, “You believed Moses before I gave you permission. Indeed, he is your leader who has taught you magic, but you are going to know. I will surely cut off your hands and your feet on opposite sides, and I will surely crucify you all.”
50  They said, “No harm. Indeed, to our Lord we will return.
51  Indeed, we aspire that our Lord will forgive us our sins because we were the first of the believers.”
52  And We inspired to Moses, “Travel by night with My servants; indeed, you will be pursued.”
53  Then Pharaoh sent among the cities gatherers
54  [And said], “Indeed, those are but a small band,
55  And indeed, they are enraging us,
56  And indeed, we are a cautious society… ”
57  So We removed them from gardens and springs
58  And treasures and honorable station –
59  Thus. And We caused to inherit it the Children of Israel.
60  So they pursued them at sunrise.
61  And when the two companies saw one another, the companions of Moses said, “Indeed, we are to be overtaken!”
62  [Moses] said, “No! Indeed, with me is my Lord; He will guide me.”
63  Then We inspired to Moses, “Strike with your staff the sea,” and it parted, and each portion was like a great towering mountain.
64  And We advanced thereto the pursuers.
65  And We saved Moses and those with him, all together.
66  Then We drowned the others.
67  Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.
68  And indeed, your Lord – He is the Exalted in Might, the Merciful.
69  And recite to them the news of Abraham,
70  When he said to his father and his people, “What do you worship?”
71  They said, “We worship idols and remain to them devoted.”
72  He said, “Do they hear you when you supplicate?
73  Or do they benefit you, or do they harm?”
74  They said, “But we found our fathers doing thus.”
75  He said, “Then do you see what you have been worshipping,
76  You and your ancient forefathers?
77  Indeed, they are enemies to me, except the Lord of the worlds,
78  Who created me, and He [it is who] guides me.
79  And it is He who feeds me and gives me drink.
80  And when I am ill, it is He who cures me
81  And who will cause me to die and then bring me to life
82  And who I aspire that He will forgive me my sin on the Day of Recompense.”
83  [And he said], “My Lord, grant me authority and join me with the righteous.
84  And grant me a reputation of honor among later generations.
85  And place me among the inheritors of the Garden of Pleasure.
86  And forgive my father. Indeed, he has been of those astray.
87  And do not disgrace me on the Day they are [all] resurrected –
88  The Day when there will not benefit [anyone] wealth or children
89  But only one who comes to Allah with a sound heart.”
90  And Paradise will be brought near [that Day] to the righteous.
91  And Hellfire will be brought forth for the deviators,
92  And it will be said to them, “Where are those you used to worship
93  Other than Allah? Can they help you or help themselves?”
94  So they will be overturned into Hellfire, they and the deviators
95  And the soldiers of Iblees, all together.
96  They will say while they dispute therein,
97  “By Allah, we were indeed in manifest error
98  When we equated you with the Lord of the worlds.
99  And no one misguided us except the criminals.
100  So now we have no intercessors
101  And not a devoted friend.
102  Then if we only had a return [to the world] and could be of the believers… ”
103  Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.
104  And indeed, your Lord – He is the Exalted in Might, the Merciful.
105  The people of Noah denied the messengers
106  When their brother Noah said to them, “Will you not fear Allah?
107  Indeed, I am to you a trustworthy messenger.
108  So fear Allah and obey me.
109  And I do not ask you for it any payment. My payment is only from the Lord of the worlds.
110  So fear Allah and obey me.”
111  They said, “Should we believe you while you are followed by the lowest [class of people]?”
112  He said, “And what is my knowledge of what they used to do?
113  Their account is only upon my Lord, if you [could] perceive.
114  And I am not one to drive away the believers.
115  I am only a clear warner.”
116  They said, “If you do not desist, O Noah, you will surely be of those who are stoned.”
117  He said, “My Lord, indeed my people have denied me.
118  Then judge between me and them with decisive judgement and save me and those with me of the believers.”
119  So We saved him and those with him in the laden ship.
120  Then We drowned thereafter the remaining ones.
121  Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.
122  And indeed, your Lord – He is the Exalted in Might, the Merciful.
123  ‘Aad denied the messengers
124  When their brother Hud said to them, “Will you not fear Allah?
125  Indeed, I am to you a trustworthy messenger.
126  So fear Allah and obey me.
127  And I do not ask you for it any payment. My payment is only from the Lord of the worlds.
128  Do you construct on every elevation a sign, amusing yourselves,
129  And take for yourselves palaces and fortresses that you might abide eternally?
130  And when you strike, you strike as tyrants.
131  So fear Allah and obey me.
132  And fear He who provided you with that which you know,
133  Provided you with grazing livestock and children
134  And gardens and springs.
135  Indeed, I fear for you the punishment of a terrible day.”
136  They said, “It is all the same to us whether you advise or are not of the advisors.
137  This is not but the custom of the former peoples,
138  And we are not to be punished.”
139  And they denied him, so We destroyed them. Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.
140  And indeed, your Lord – He is the Exalted in Might, the Merciful.
141  Thamud denied the messengers
142  When their brother Salih said to them, “Will you not fear Allah?
143  Indeed, I am to you a trustworthy messenger.
144  So fear Allah and obey me.
145  And I do not ask you for it any payment. My payment is only from the Lord of the worlds.
146  Will you be left in what is here, secure [from death],
147  Within gardens and springs
148  And fields of crops and palm trees with softened fruit?
149  And you carve out of the mountains, homes, with skill.
150  So fear Allah and obey me.
151  And do not obey the order of the transgressors,
152  Who cause corruption in the land and do not amend.”
153  They said, “You are only of those affected by magic.
154  You are but a man like ourselves, so bring a sign, if you should be of the truthful.”
155  He said, “This is a she-camel. For her is a [time of] drink, and for you is a [time of] drink, [each] on a known day.
156  And do not touch her with harm, lest you be seized by the punishment of a terrible day.”
157  But they hamstrung her and so became regretful.
158  And the punishment seized them. Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.
159  And indeed, your Lord – He is the Exalted in Might, the Merciful.
160  The people of Lot denied the messengers
161  When their brother Lot said to them, “Will you not fear Allah?
162  Indeed, I am to you a trustworthy messenger.
163  So fear Allah and obey me.
164  And I do not ask you for it any payment. My payment is only from the Lord of the worlds.
165  Do you approach males among the worlds
166  And leave what your Lord has created for you as mates? But you are a people transgressing.”
167  They said, “If you do not desist, O Lot, you will surely be of those evicted.”
168  He said, “Indeed, I am, toward your deed, of those who detest [it].
169  My Lord, save me and my family from [the consequence of] what they do.”
170  So We saved him and his family, all,
171  Except an old woman among those who remained behind.
172  Then We destroyed the others.
173  And We rained upon them a rain [of stones], and evil was the rain of those who were warned.
174  Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.
175  And indeed, your Lord – He is the Exalted in Might, the Merciful.
176  The companions of the thicket denied the messengers
177  When Shu’ayb said to them, “Will you not fear Allah?
178  Indeed, I am to you a trustworthy messenger.
179  So fear Allah and obey me.
180  And I do not ask you for it any payment. My payment is only from the Lord of the worlds.
181  Give full measure and do not be of those who cause loss.
182  And weigh with an even balance.
183  And do not deprive people of their due and do not commit abuse on earth, spreading corruption.
184  And fear He who created you and the former creation.”
185  They said, “You are only of those affected by magic.
186  You are but a man like ourselves, and indeed, we think you are among the liars.
187  So cause to fall upon us fragments of the sky, if you should be of the truthful.”
188  He said, “My Lord is most knowing of what you do.”
189  And they denied him, so the punishment of the day of the black cloud seized them. Indeed, it was the punishment of a terrible day.
190  Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.
191  And indeed, your Lord – He is the Exalted in Might, the Merciful.
192  And indeed, the Qur’an is the revelation of the Lord of the worlds.
193  The Trustworthy Spirit has brought it down
194  Upon your heart, [O Muhammad] – that you may be of the warners –
195  In a clear Arabic language.
196  And indeed, it is [mentioned] in the scriptures of former peoples.
197  And has it not been a sign to them that it is recognized by the scholars of the Children of Israel?
198  And even if We had revealed it to one among the foreigners
199  And he had recited it to them [perfectly], they would [still] not have been believers in it.
200  Thus have We inserted disbelief into the hearts of the criminals.
201  They will not believe in it until they see the painful punishment.
202  And it will come to them suddenly while they perceive [it] not.
203  And they will say, “May we be reprieved?”
204  So for Our punishment are they impatient?
205  Then have you considered if We gave them enjoyment for years
206  And then there came to them that which they were promised?
207  They would not be availed by the enjoyment with which they were provided.
208  And We did not destroy any city except that it had warners
209  As a reminder; and never have We been unjust.
210  And the devils have not brought the revelation down.
211  It is not allowable for them, nor would they be able.
212  Indeed they, from [its] hearing, are removed.
213  So do not invoke with Allah another deity and [thus] be among the punished.
214  And warn, [O Muhammad], your closest kindred.
215  And lower your wing to those who follow you of the believers.
216  And if they disobey you, then say, “Indeed, I am disassociated from what you are doing.”
217  And rely upon the Exalted in Might, the Merciful,
218  Who sees you when you arise
219  And your movement among those who prostrate.
220  Indeed, He is the Hearing, the Knowing.
221  Shall I inform you upon whom the devils descend?
222  They descend upon every sinful liar.
223  They pass on what is heard, and most of them are liars.
224  And the poets – [only] the deviators follow them;
225  Do you not see that in every valley they roam
226  And that they say what they do not do? –
227  Except those [poets] who believe and do righteous deeds and remember Allah often and defend [the Muslims] after they were wronged. And those who have wronged are going to know to what [kind of] return they will be returned.

 奉至仁至慈的真主之名

1  塔辛,米目,
2  这些是明白的经典中的节文。
3  因为他们不信道,你或许气得的要死。
4  如果我意欲,我将从天上降示他们一个迹象,他们就为它而俯首贴耳。
5  每逢有新的记念从至仁主降示他们,他们都背弃它。
6  他们确已否认真理,他们所嘲笑的事的结局,将降临他们。
7  难道他们没有观察大地吗?我使各种优良的植物在大地上繁衍。
8  此中确有一种迹象,但他们大半是不信道的。
9  你的主确是万能的,确是至慈的。
10  当日,你的主召唤穆萨(说):你去教化那不义的民众。
11  即法老的民众。他们怎么不敬畏真主呢?
12  他说:我的主啊!我的确怕他们否认我,
13  以至我烦闷口吃,所以求你派遣哈伦(一道去)。
14  他们曾加罪于我,我怕他们杀害我。
15  主说:绝不如此,你俩带着我的迹象去吧!我确是与你们在一起倾听(你们辩论)的。
16  你俩到法老那里去说:’我们确是全世界的主的使者,
17  请你释放色列的后裔,让我俩带他们去。’
18  法老说:难道我们没有在我们的家中把你自幼抚养成人,而且你在我们家中逗留过许多年吗?
19  你曾干了你所干的那件事,你是忘恩的。
20  他说:当日,我不懂事地干了那件事。
21  我就畏惧你们,而逃避你们,随后,我的主把智慧赏赐我,并且派我为使者,
22  你责备我忘恩,你所谓的恩是你曾奴役以色列的后裔。
23  法老说:全世界的主是什么?
24  他说:他是天地万物的主,如果你们是确信者。
25  法老对他左右的人说:你们怎么不倾听呢?
26  他说:(他是)你们的主,也是你们祖先的主。
27  法老说:奉命来教化你们的这位使者,确是一个疯子。
28  他说:(他是)东方和西方,以及介乎东西方之间的主,如果你们能了解。
29  法老说:如果你舍我而敬事别的神灵,我誓必使你变成一个囚犯。
30  他说:要是我昭示你一个明证呢?
31  法老说:如果你是说实话的,你就昭示一个明证吧!
32  他就扔下他的手杖,那条手杖忽然变成一条蟒;
33  他把他的手抽出来,那只手在观众的眼前忽然显得白亮亮的。
34  法老对他左右的贵族们说:这确是一个高明的术士,
35  他想凭他的魔术,把你们逐出国境,你们有什么建议呢?
36  他们说:请你宽限他和他哥哥,并派征募员到各城市去,
37  他们会把所有高明的术士都召到你这里来。
38  一般术士们在指定的日期,依指定的时间被集合起来。
39  有人对民众说:你们集合起来了吗?
40  如果术士们得胜,我们或许顺从他们。
41  术士们到来的时候,他们对法老说:如果我们得胜,我们必受报酬吗?
42  他说:是的,在那时,你们必蒙宠幸。
43  穆萨对他们说:你们可以抛下你们所要抛的东西。
44  他们就抛下了他们的绳和杖,他们说:指法老的权力发誓,我们必然得胜。
45  穆萨就扔下他的手杖,那条手杖忽然吞下了他们所幻化的(大蛇)。
46  术士们就拜倒下去。
47  他们说:我们已信仰全世界的主–
48  穆萨和哈伦的主。
49  法老说:我还没有允许你们,你们就信仰他们了吗?他必是你们的头目,他传授你们的魔术,你们不久就知道,我必交互着砍你们的手和脚,我必将你们全体钉在十字架上。
50  他们说:那也没什么,我们将归于我们的主。
51  我们的确渴望我们的主赦宥我们的过失,因为我们是首先归信的。
52  我曾启示穆萨(说):你在夜间率领我的众仆而旅行,你们确是被追赶的。
53  法老派遣征募者到各城市去。
54  他说:这些人确是一小撮人。
55  他们确是激怒了我,
56  我们确是谨慎的团体。
57  我就使他们离开许多园圃和源泉,
58  财宝和高贵的住所。
59  (事情)是象那样的。我使以色列的后裔继承它。
60  敌人在日出时赶上他们。
61  当两军相望的时候,穆萨的同伙们说:我们势必要被敌人追上。
62  他说:决不会的!我的主同我在一起,他将引导我。
63  我启示穆萨说:你应当用你的手杖击海。海就裂开,每一部分,象一座大山。
64  在那里,我让那些人逼近(他们)。
65  我拯救穆萨和他的全体伙伴。
66  然后,淹死了其余的人。
67  此中确有一种迹象,但他们大半不是信道者。
68  你的主确是万能的,确是至慈的。
69  你应当对他们宣读易卜拉欣的故事。
70  当日,他对他的父亲和宗族说:你们崇拜什么?
71  他们说:我们崇拜偶像,我们一直是虔诚的。
72  他说:你们祈祷的时候,他们能听见吗?
73  他们能降福于你们或降祸于你们吗?
74  他们说:不然,我们曾发现我们的祖先是那样做的。
75  他说:你们告诉我吧!你们所崇拜的是什么?
76  你们最古的祖先崇拜的是什么?
77  他们确是我的仇敌,惟全世界的主则不然。
78  他是创造我,然后引导我的。
79  他是供我食,供我饮的。
80  我害病时,是他使我痊愈的。
81  他将使我死,然后使我复活。
82  我希望他在报应日赦宥我的过失。
83  主啊!求你赐我智慧,求你使我进入善人的行列。
84  求你为我在后人中留一个令名。
85  求你使我为极乐园的继承者。
86  求你赦宥我的父亲,他确是迷误的。
87  求你不要凌辱我,在他们被复活之日,
88  即财产和子孙都无裨益之日。
89  惟带着一颗纯洁的心来见真主者,(得其裨益)。
90  乐园将被带到敬畏者的附近。
91  火狱将被陈列在邪恶者的面前。
92  将要向他们说:你们以前舍真主而崇拜的,如今在哪里呢?
93  他们能助你们呢?还是他们能自助呢?
94  将被投入火狱中的,是他们和迷误者,
95  以及易卜劣厮的一些部队。
96  他们在火狱中争辩着说:
97  指真主发誓,以前,我们确实在明显的迷误中。
98  当日,我们使你们与全世界的主同受崇拜。
99  惟有犯罪者使我们迷误。
100  所以我们绝没有说情者,
101  也没有忠实的朋友。
102  但愿我们将返回尘世,我们将要变成信道者。
103  天中确有一个迹象,但他们大半不是信道的。
104  你的主确是万能的,确是至慈的。
105  努哈的宗族曾否认使者。
106  当时,他们的弟兄努哈对他们说:你们怎么不敬畏真主呢?
107  我对于你们确是一个忠实的使者。
108  故你们应当敬畏真主,应当服从我。
109  我不为传达使命而向你们索取任何报酬;我的报酬,只由全世界的主负担。
110  故你们应当敬畏真主,应当服从我。
111  他们说:一些最卑贱的人追随你,我们怎能信仰你呢?
112  他说:我不知道他们做了什么事。
113  我的主负责清算他们,假若你们知道。
114  我绝不能驱逐信士,
115  我只是一个直率的警告者。
116  他们说:努哈啊!如果你不停止(宣传),你就必遭辱骂。
117  你应当信赖万能的至慈的主。
118  求你在我与他们之间进行裁判,求你拯救我和与我同在一起的信士们。
119  而且看见你率众礼拜的种种动作。
120  随后我溺杀了其余的人。
121  此中确有一个迹象,但他们大半不信道。
122  你的主,确是万能的,确是至慈的。
123  阿德人曾否认使者。
124  当时,他们的弟兄呼德曾对他们说:你们怎么不敬畏呢?
125  我对于你们,确是一个忠实的使者。
126  故你们应当敬畏真主,应当服从我。
127  我不为传达命令而向你们索取任何报酬;我的报酬,只由全世界的主负担。
128  你们在高地上建筑一个纪念物,
129  以供游戏。你们设立一些堡垒,好象你们将永居尘世一样。
130  你们惩治(他人)的时候,你们是很残酷的。
131  你们应当敬畏真主之名,应当服从我。
132  你们应当敬畏主,他以你们所知道的赏赐你们,
133  他赏赐你们牲畜和子嗣,
134  园圃和源泉。
135  我的确害怕你们遭受重大日的刑罚。
136  他们说:无论你劝告与否,这对于我们是一样的。
137  这不过是老生常谈罢了。
138  我们决不会受惩罚的。
139  他们否认他,我就毁灭了他们。此中的确有一个迹象,但他们大半不是信道的。
140  你的主确是万能的,确是至慈的。
141  赛莫德人曾否认使者们。
142  当日,他们的弟兄撒立哈曾对他们说:你们怎么不敬畏呢?
143  我对于你们确是一个忠实的使者。
144  故你们应当敬畏真主,应当服从我。
145  我不为传达使命而向你们索取任何报酬;我的报酬,只由全世界的主负担。
146  难道竟让你们安心地在这环境中么?
147  这里有园圃和源泉,
148  有庄稼和具有纤细的肉穗花序的椰枣树,
149  你们精巧地凿山造屋。
150  你们应当敬畏真主,应当服从我。
151  你们不要服从过分者的命令,
152  他们在地方上伤风败俗,而不移风易俗。
153  他们说:你只是一个受蛊惑的人,
154  你只是象我们一样的凡人。你应当昭示一个迹象,如果你是诚实的。
155  他说:这是一只母驼,它应得一部分饮料,你们应得某定日的一部分饮料。
156  你们不可伤害它,否则,将遭受重大日的惩罚。
157  但他们宰了它,随后,他们深觉悔恨。
158  但他们还是受了惩罚。此中确有一个迹象,但他们大半是不信道的。
159  你的主,确是万能的,确是至慈的。
160  鲁特的宗族,曾否认使者。
161  当日,他们的弟兄鲁特曾对他们说:你们怎么不敬畏呢?
162  我对于你们确是一个忠实的使者。
163  故你们应当敬畏真主,应当服从我。
164  我不为传达使命而向你们索取任何报酬;我的报酬,只归全世界的主负担。
165  你们怎么要与众人中的男性交接,
166  而舍弃你们的主所为你们创造的妻子呢?其实,你们是犯罪的民众。
167  他们说:鲁特啊!如果你不停止,你必遭放逐。
168  他说:我的确痛恨你们的行为。
169  我的主啊!求你拯救我和我的家属,使我们脱离他们的行为。
170  我就拯救了他和他的全家。
171  只有一个老妇人除外,她属于留下的人。
172  然后,我毁灭了其余的人。
173  我降雨去伤他们,被警告者所遭的雨灾,真恶劣!
174  在此中确有一个迹象,但他们大半不是信道的。
175  你的主确是万能的,确是至慈的。
176  丛林的居民,曾否认使者。
177  当日,舒阿卜曾对他们说:你们怎么不敬畏呢?
178  我对于你们确是一个忠实的使者。
179  故你们应当敬畏真主,应当服从我。
180  我不为传达使命而向你们索取任何报酬;我的报酬,只归全世界的主负担。
181  你们应当用足量的升斗,不要克扣。
182  你们应当以公平的秤称货物。
183  你们不要克扣他人所应得的财物。你们不要在地方上为非作歹,摆弄是非。
184  你们应当敬畏真主,他创造你们和古老的世代。
185  他们说:你只是一个被蛊惑的人。
186  你只是一个象我们一样的凡人。我们的确认为你是一个说谎的。
187  你使天一块块地落在我们的头上吧,如果你是诚实的。
188  他说:我的主是最知道你们的行为的。
189  他们否认他,他们就遭受阴影之日的刑罚。那确是重大日的刑罚。
190  此中确有一个迹象,但他们大半是不信道的。
191  你的主确是万能的,确是至慈的。
192  这《古兰经》确是全世界的主所启示的。
193  那忠实的精神把它降示在你的心上,
194  以便你警告众人,
195  以明白的阿拉伯语。
196  它确是古经典中被提到过的。
197  以色列后裔中的学者们知道它,这难道还不可以做他们一个迹象吗?
198  假若我把它降示一个非阿拉伯人,
199  而那个人对他们宣读它,那末,他们绝不会信仰它。
200  我这样使犯罪的人常怀否认的意念。
201  他们不信仰它,直到他们看见痛苦的刑罚。
202  那种刑罚将在他们不知不觉的时候,忽然降临他们。
203  他们将说:我们将蒙宽限吗?
204  难道他们要求我的刑罚早日实现吗?
205  你告诉我吧,如果我让他们享受若干年,
206  然后,他们所被警告的刑罚降临他们,
207  那末,他们以前所享受的,对于他们,究竟有什么好处呢?
208  我不毁灭任何城市,除非那城市里已有过若干警告者,
209  去教诲其中的居民;我不是不义的。
210  恶魔们没有带着它降下。
211  那对于他们既不是适宜的,也不是他们所能的。
212  他们确是被驱逐而不得与闻的。
213  除真主外,你不要祈祷别的神灵,以免你遭受刑罚。
214  你应当警告你的亲戚。
215  你对于跟随你的那些信士,应当加以慈爱。
216  如果你的亲戚违抗你,你应当说:我对于你们的行为确是无干的。
217  如果你的亲戚违抗你,你应当说:我对于你们的行为确是无干的。
218  如果你的亲戚违抗你,你应当说:我对于你们的行为确是无干的。
219  如果你的亲戚违抗你,你应当说:我对于你们的行为确是无干的。
220  他确是全聪的,确是全知的。
221  我告诉你们,恶魔们附在谁的身上,好吗?
222  恶魔们附在每个造谣的罪人身上。
223  他们侧耳而听,他们大半是说谎的。
224  诗人们被迷误者所跟随。
225  你不知道吗?他们在各山谷中彷徨。
226  他们只尚空谈,不重实践。
227  惟信道而行善并多多记念真主,而且在被欺压之后从事自卫的人除外,不义者,将来就知道他们获得什么归宿。

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  tsm.
2  Éstas son las aleyas de la Escritura sabia.
3  Tú, quizá, te consumas de pena porque no creen.
4  Si quisiéramos, haríamos bajar del cielo sobre ellos un signo y doblarían ante él la cerviz.
5  No les llega una nueva amonestación del Compasivo que no se aparten de ella.
6  Han desmentido, pero recibirán noticias de aquello de que se burlaban.
7  ¿No han visto cuánta especie generosa de toda clase hemos hecho crecer en la tierra?
8  Ciertamente, hay en ello un signo, pero la mayoría no creen.
9  En verdad, tu Señor es el Poderoso, el Misericordioso.
10  Y cuando tu Señor llamó a Moisés: «Ve al pueblo impío,
11  al pueblo de Faraón. ¿No van a temerme ?»
12  Dijo: «¡Señor! Temo que me desmientan.
13  Me angustio, se me traba la lengua. ¡Envía por Aarón!
14  Me acusan de un crimen y temo que me maten».
15  Dijo: «¡No! ¡Id los dos con Nuestros signos! Estamos con vosotros, escuchamos.
16  Id a Faraón y decid: ‘¡Nos ha enviado el Señor del universo:
17  ¡Deja marchar con nosotros a los Hijos de Israel!’»
18  Dijo: «¿No te hemos educado, cuando eras niño, entre nosotros? ¿No has vivido durante años de tu vida entre nosotros?
19  Desagradecido, hiciste lo que hiciste»
20  Dijo: «Lo hice cuando estaba extraviado.
21  Tuve miedo de vosotros y me escapé. Mi Señor me ha regalado juicio y ha hecho de mí uno de los enviados.
22  ¿Es ésta una gracia que me echas en cara, tú que has esclavizado a los Hijos de Israel?»
23  Faraón dijo: «Y ¿qué es ‘el Señor del universo’?»
24  Dijo: «Es el Señor de los cielos, de la tierra y de lo que entre ellos está. Si estuvierais convencidos…»
25  Dijo a los circunstantes: «¡Habéis oído?»
26  Dijo. «Es vuestro Señor y Señor de vuestros antepasados…»
27  Dijo: «¡El enviado que se os ha mandado es; ciertamente, un poseso!»
28  Dijo: «…el Señor del Oriente y del Occidente y de lo que entre ellos está. Si razonarais…»
29  Dijo: «¡Si tomas por dios a otro diferente de mí, he de enviarte a la cárcel!»
30  Dijo: «¿Y si te trajera algo claro?»
31  Dijo: «¡Tráelo‚ si es verdad lo que dices!»
32  Moisés tiró su vara y he aquí que ésta se convirtió en una auténtica serpiente.
33  Sacó su mano y he aquí que apareció blanca a los ojos de los presentes.
34  Dijo a los dignatarios que le rodeaban: «Sí, éste es un mago muy entendido,
35  que quiere expulsaros de vuestra tierra con su magia. ¿Qué ordenáis?»
36  Dijeron: «Dales largas, a él y a su hermano, y envía a las ciudades a agentes que convoquen,
37  que te traigan a los magos más entendidos, a todos».
38  Los magos fueron convocados para una determinada hora del día convenido
39  y se dijo a la gente: «¿No queréis asistir?
40  Quizás, así, sigamos a los magos, si son ellos los que ganan»
41  Cuando llegaron los magos dijeron a Faraón: «Si ganamos, recibiremos una recompensa, ¿no?»
42  Dijo: «¡Sí! Y seréis entonces, ciertamente, de mis allegados».
43  Moisés les dijo: «¡Tirad lo que vayáis a tirar!»
44  Y tiraron sus cuerdas y varas, y dijeron: «¡Por el poder de Faraón, que venceremos!»
45  Moisés tiró su vara y he aquí que ésta engulló sus mentiras.
46  Y los magos cayeron prosternados.
47  Dijeron: «¡Creemos en el Señor del universo,
48  el Señor de Moisés y de Aarón!»
49  Dijo: «¡Le habéis creído antes de que yo os autorizara a ello! ¡Es vuestro maestro, que os ha enseñado la magia! ¡Vais a ver! ¡He de haceros amputar las manos y los pies opuestos! ¡Y he de haceros crucificar a todos!»
50  Dijeron: «¡No importa! ¡Nos volvemos a nuestro Señor!
51  Anhelamos que nuestro Señor nos perdone nuestros pecados, ya que hemos sido los primeros en creer».
52  E inspiramos a Moisés: «¡Parte de noche con Mis siervos! ¡Seréis perseguidos!»
53  Faraón envió a las ciudades a agentes que convocaran:
54  «Son una banda insignificante
55  y, ciertamente, nos han irritado.
56  Nosotros, en cambio, somos todo un ejército y estamos bien prevenidos».
57  Les expulsamos de sus jardines y fuentes,
58  de sus tesoros y suntuosas residencias.
59  Así fue, y se lo dimos en herencia a los Hijos de Israel.
60  A la salida del sol, les persiguieron.
61  Cuando los dos grupos se divisaron, dijeron los compañeros de Moisés: «¡Nos ha alcanzado!»
62  Dijo: «¡No! ¡Mi Señor está conmigo, el me dirigirá!»
63  E inspiramos a Moisés: «¡Golpea el mar con tu vara!» El mar, entonces, se partió y cada parte era como una imponente montaña.
64  Hicimos que los otros se acercaran allá,
65  y salvamos a Moisés y a todos los que con él estaban.
66  Luego, anegamos a los otros.
67  Ciertamente, hay en ello un signo, pero la mayoría no creen.
68  ¡Sí, tu Señor es el Poderoso, el Misericordioso!
69  ¡Cuéntales la historia de Abraham!
70  Cuando dijo a su padre y a su pueblo: «¿Qué servís?»
71  Dijeron: «Servimos a ídolos y continuaremos entregándonos a su culto».
72  Dijo: «Y ¿os escuchan cuando les invocáis?
73  ¿Pueden aprovecharos o haceros daño?»
74  Dijeron: «¡No, pero encontramos que nuestros antepasados hacían lo mismo!»
75  Dijo: «¿Y habéis visto lo que servíais,
76  vosotros y vuestros lejanos antepasados?
77  Son mis enemigos, a diferencia del Señor del universo.
78  Que me ha creado y me dirige,
79  me da de comer y de beber,
80  me cura cuando enfermo,
81  me hará morir y, luego, me volverá a la vida,
82  de Quien anhelo el perdón de mis faltas el día del Juicio.
83  ¡Señor! ¡Regálame juicio y reúneme con los justos!
84  ¡Haz que tenga una buena reputación en mi posteridad!
85  ¡Cuéntame entre los herederos del Jardín de la Delicia!
86  ¡Perdona a mi padre, estaba extraviado!
87  No me avergüences el día de la Resurrección,
88  el día que no aprovechen hacienda ni hijos varones,
89  excepto a quien vaya a Alá con corazón sano».
90  El Jardín será acercado a quienes hayan temido a Alá
91  y el fuego de la gehena aparecerá ante los descarriados.
92  Se les dirá: «¿Dónde está lo que servíais
93  en lugar de servir a Alá? ¿Pueden auxiliaros o auxiliarse a sí mismos?»
94  Ellos y los descarriados serán precipitados en él,
95  así como las huestes de Iblis, todas.
96  Ya en él dirán mientras disputan:
97  «¡Por Alá, que estábamos, sí, evidentemente extraviados
98  cuando os equiparábamos al Señor del universo!
99  Nadie sino los pecadores nos extraviaron
100  y, ahora, no tenemos a nadie que interceda,
101  a ningún amigo ferviente.
102  Si pudiéramos volver para ser creyentes…»
103  Ciertamente, hay en ello un signo, pero la mayoría no creen.
104  Tu Señor es, ciertamente, el Poderoso, el Misericordioso.
105  El pueblo de Noé desmintió a los enviados.
106  Cuando su hermano Noé les dijo: «¿Es que no vais a temer a Alá?
107  Tenéis en mí a un enviado digno de confianza.
108  ¡Temed, pues, a Alá y obedecedme!
109  No os pido por ello ningún salario. Mi salario no incumbe sino al Señor del universo.
110  ¡Temed, pues, a Alá y obedecedme!»
111  Dijeron: «¿Vamos a creerte a ti, siendo así que son los más viles los que te siguen?»
112  Dijo: «¿Y qué sé yo de sus obras?
113  Sólo a mi Señor tienen que dar cuenta. Si os dierais cuenta…
114  ¡No voy yo a rechazar a los creyentes!
115  ¡Yo no soy más que un monitor que habla claro!»
116  Dijeron: «¡Noé! Si no paras, ¡hemos de lapidarte!»
117  Dijo: «¡Señor! Mi pueblo me desmiente.
118  ¡Falla, pues, entre yo y ellos, y sálvame, junto con los creyentes que están conmigo!»
119  Les salvamos, pues, a él y a quienes estaban con él en la nave abarrotada.
120  Luego, después, anegamos al resto.
121  Ciertamente, hay en ello un signo, pero la mayoría no creen.
122  En verdad, tu Señor es el Poderoso. el Misericordioso.
123  Los aditas desmintieron a los enviados.
124  Cuando su hermano Hud les dijo: «¿Es que no vais a temer a Alá?
125  Tenéis en mí a un enviado digno de confianza.
126  ¡Temed, pues, a Alá y obedecedme!
127  No os pido por ello ningún salario. Mi salario no incumbe sino al Señor del universo.
128  ¡Construís en cada colina un monumento para divertiros
129  y hacéis construcciones esperando, quizá, ser inmortales?
130  Cuando usáis de violencia lo hacéis sin piedad.
131  ¡Temed, pues, a Alá y obedecedme!
132  ¡Temed a Quien os ha proveído de lo que sabéis:
133  de rebaños e hijos varones,
134  de jardines y fuentes!
135  ¡Temo por vosotros el castigo de un día terrible!»
136  Dijeron: «¡Nos da lo mismo que nos amonestes o no!
137  No hacemos sino lo que acostumbraban a hacer los antiguos.
138  ¡No se nos castigará!»
139  Le desmintieron y les aniquilamos. Ciertamente, hay en ello un signo, pero la mayoría no creen.
140  En verdad, tu Señor es el Poderoso, el Misericordioso.
141  Los tamudeos desmintieron a los enviados.
142  Cuando su hermano Salih les dijo: «¿Es que no vais a temer a Alá?
143  Tenéis en mí a un enviado digno de confianza.
144  ¡Temed, pues, a Alá y obedecedme!
145  No os pido por ello ningún salario. Mi salario no incumbe sino al Señor del universo.
146  ¿Se os va a dejar en seguridad con lo que aquí abajo tenéis,
147  entre jardines y fuentes,
148  entre campos cultivados y esbeltas palmeras,
149  y continuaréis excavando, hábilmente, casas en las montañas?
150  ¡Temed, pues, a Alá y obedecedme!
151  ¡No obedezcáis las órdenes de los inmoderados,
152  que corrompen en la tierra y no la reforman!»
153  Dijeron: «¡Eres sólo un hechizado!
154  ¡No eres sino un mortal como nosotros! ¡Trae un signo, si es verdad lo que dices!»
155  Dijo: «He aquí una camella. Un día le tocará beber a ella y otro día a vosotros.
156  ¡No le hagáis mal! ¡Si no, os sorprenderá el castigo de un día terrible!»
157  Pero ellos la desjarretaron… y se arrepintieron.
158  Y les sorprendió el Castigo. Ciertamente, hay en ello un signo, pero la mayoría no creen.
159  ¡En verdad, tu Señor es el Poderoso, el Misericordioso!
160  El pueblo de Lot desmintió a los enviados.
161  Cuando su hermano Lot les dijo: «¿Es que no vais a temer a Alá?
162  Tenéis en mí a un enviado digno de confianza.
163  ¡Temed, pues, a Alá y obedecedme!
164  No os pido por ello ningún salario. Mi salario no incumbe sino al Señor del universo.
165  ¿Os llegáis a los varones, de las criaturas,
166  y descuidáis a vuestras esposas, que vuestro Señor ha creado para vosotros? Sí, sois gente que viola la ley».
167  Dijeron: «Si no paras, Lot, serás, ciertamente, expulsado».
168  Dijo: «Detesto vuestra conducta.
169  ¡Señor! ¡Sálvanos, a mí y a mi familia, de lo que hacen!»
170  Y les salvamos, a él y a su familia, a todos,
171  salvo a una vieja entre los que se rezagaron.
172  Luego, aniquilamos a los demás.
173  E hicimos llover sobre ellos una lluvia. ¡Lluvia fatal para los que habían sido advertidos!
174  Ciertamente, hay en ello un signo, pero la mayoría no creen.
175  ¡En verdad tu Señor es el Poderoso, el Misericordioso!
176  Los habitantes de la Espesura desmintieron a los enviados.
177  Cuando Suayb les dijo: «¡Es que no vais a temer a Alá?
178  Tenéis en mí a un enviado digno de confianza.
179  ¡Temed, pues, a Alá y obedecedme!
180  No os pido por ello ningún salario. Mi salario no incumbe sino al Señor del universo.
181  ¡Dad la medida justa, no hagáis trampa!
182  ¡Pesad con una balanza exacta!
183  ¡No dañeis a nadie en sus cosas y no obréis mal en la tierra corrompiendo!
184  ¡Temed a Quien os ha creado, a vosotros y a las generaciones antiguas!»
185  Dijeron: «Eres sólo un hechizado.
186  No eres sino un mortal como nosotros. Creemos que mientes.
187  Si es verdad lo que dices, ¡haz que caiga sobre nosotros parte del cielo!»
188  Dijo: «Mi Señor sabe bien lo que hacéis».
189  Le desmintieron. Y el castigo del día de la Sombra les sorprendió: fue el castigo de un día terrible.
190  Ciertamente, hay en ello un signo, pero la mayoría no creen.
191  ¡En verdad, tu Señor es el Poderoso, el Misericordioso!
192  Es, en verdad, la Revelación del Señor del universo.
193  El Espíritu digno de confianza lo ha bajado
194  a tu corazón, para que seas uno que advierte.
195  En lengua árabe clara,
196  y estaba, ciertamente, en las Escrituras de los antiguos.
197  ¿No es para ellos un signo que los doctores de los Hijos de Israel lo conozcan?
198  Si lo hubiéramos revelado a uno no árabe
199  y éste se lo hubiera recitado, no habrían creído en él.
200  Así se lo hemos insinuado a los pecadores,
201  pero no creerán en él hasta que vean el castigo doloroso,
202  que les vendrá de repente, sin presentirlo.
203  Entonces, dirán: «¿Se nos diferirá?»
204  ¿Quieren, entonces, adelantar Nuestro castigo?
205  Y ¿qué te parece? Si les dejáramos gozar durante años
206  y, luego, se cumpliera en ellos la amenaza,
207  no les serviría de nada el haber disfrutado tanto.
208  No hemos destruido nunca una ciudad sin haberle enviado antes quienes advirtieran,
209  como amonestación. No somos injustos.
210  No son los demonios quienes lo han bajado:
211  ni les estaba bien, ni podían hacerlo.
212  Están, en verdad, lejos de oírlo.
213  No invoques a otros dioses junto con Alá si no, serás castigado.
214  Advierte a los miembros más allegados de tu tribu.
215  Sé benévolo con los creyentes que te siguen.
216  Si te desobedecen, di: «Soy inocente de lo que hacéis».
217  Confía en el Poderoso, el Misericordioso,
218  Que te ve cuando estás de pie
219  y ve las posturas que adoptas entre los que se prosternan.
220  Él es Quien todo lo oye, Quien todo lo sabe.
221  ¿Tengo que informaros de sobre quién descienden los demonios?
222  Descienden sobre todo mentiroso pecador.
223  Aguzan el oído… Y la mayoría mienten.
224  En cuanto a los poetas, les siguen los descarriados.
225  ¿No has visto que van errando por todos los valles
226  y que dicen lo que no hacen?
227  No son así los que creen, obran bien, recuerdan mucho a Alá y se defienden cuando son tratados injustamente. ¡Los impíos verán pronto la suerte que les espera!