Project Description

FUSSILAT

 شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  حٰم
۲  (یہ کتاب خدائے) رحمٰن ورحیم (کی طرف) سے اُتری ہے
۳  کتاب جس کی آیتیں واضح (المعانی) ہیں (یعنی) قرآن عربی ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں
۴  جو بشارت بھی سناتا ہے اور خوف بھی دلاتا ہے لیکن ان میں سے اکثروں نے منہ پھیر لیا اور وہ سنتے ہی نہیں
۵  اور کہتے ہیں کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ (یعنی بہراپن) ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے تو تم (اپنا) کام کرو ہم (اپنا) کام کرتے ہیں
۶  کہہ دو کہ میں بھی آدمی ہوں جیسے تم۔ (ہاں) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود خدائے واحد ہے تو سیدھے اسی کی طرف (متوجہ) رہو اور اسی سے مغفرت مانگو اور مشرکوں پر افسوس ہے
۷  جو زکوٰة نہیں دیتے اور آخرت کے بھی قائل نہیں
۸  جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے (ایسا) ثواب ہے جو ختم ہی نہ ہو
۹  کہو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا۔ اور (بتوں کو) اس کا مدمقابل بناتے ہو۔ وہی تو سارے جہان کا مالک ہے
۱۰  اور اسی نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت رکھی اور اس میں سب سامان معیشت مقرر کیا (سب) چار دن میں۔ (اور تمام) طلبگاروں کے لئے یکساں
۱۱  پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں
۱۲  پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس (کے کام) کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے مزین کیا اور (شیطانوں سے) محفوظ رکھا۔ یہ زبردست (اور) خبردار کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں
۱۳  پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ میں تم کو ایسے چنگھاڑ (کے عذاب) سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر چنگھاڑ (کا عذاب آیا تھا)
۱۴  جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو۔ کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اُتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے
۱۵  جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔ اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے
۱۶  تو ہم نے بھی ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی ہوا چلائی تاکہ ان کو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں۔ اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور (اس روز) ان کو مدد بھی نہ ملے گی
۱۷  اور جو ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا رستہ دکھا دیا تھا مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا دھند رہنا پسند کیا تو ان کے اعمال کی سزا میں کڑک نے ان کو آپکڑا۔ اور وہ ذلت کا عذاب تھا
۱۸  اور جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہے ان کو ہم نے بچا لیا
۱۹  اور جس دن خدا کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کرلیئے جائیں گے
۲۰  یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں اور چمڑے (یعنی دوسرے اعضا) ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے
۲۱  اور وہ اپنے چمڑوں (یعنی اعضا) سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں شہادت دی؟ وہ کہیں گے کہ جس خدا نے سب چیزوں کو نطق بخشا اسی نے ہم کو بھی گویائی دی اور اسی نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے
۲۲  اور تم اس (بات کے خوف) سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور چمڑے تمہارے خلاف شہادت دیں گے بلکہ تم یہ خیال کرتے تھے کہ خدا کو تمہارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں
۲۳  اور اسی خیال نے جو تم اپنے پروردگار کے بارے میں رکھتے تھے تم کو ہلاک کردیا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے
۲۴  اب اگر یہ صبر کریں گے تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور اگر توبہ کریں گے تو ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی
۲۵  اور ہم نے (شیطانوں کو) ان کا ہم نشین مقرر کردیا تھا تو انہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے اعمال ان کو عمدہ کر دکھائے تھے اور جنات اور انسانوں کی جماعتیں جو ان سے پہلے گذر چکیں ان پر بھی خدا (کے عذاب) کا وعدہ پورا ہوگیا۔ بےشک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں
۲۶  اور کافر کہنے لگے کہ اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور (جب پڑھنے لگیں تو) شور مچا دیا کرو تاکہ تم غالب رہو
۲۷  سو ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کے مزے چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی جو وہ کرتے تھے سزا دیں گے
۲۸  یہ خدا کے دشمنوں کا بدلہ ہے (یعنی) دوزخ۔ ان کے لئے اسی میں ہمیشہ کا گھر ہے۔ یہ اس کی سزا ہے کہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے
۲۹  اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا کہ ہم ان کو اپنے پاؤں کے تلے (روند) ڈالیں تاکہ وہ نہایت ذلیل ہوں
۳۰  جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اُتریں گے (اور کہیں گے) کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ
۳۱  ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی (تمہارے رفیق ہیں) ۔ اور وہاں جس (نعمت) کو تمہارا جی چاہے گا تم کو (ملے گی) اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لئے (موجود ہوگی)
۳۲  (یہ) بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے
۳۳  اور اس شخص سے بات کا اچھا کون ہوسکتا ہے جو خدا کی طرف بلائے اور عمل نیک کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں
۳۴  اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔ تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے
۳۵  اور یہ بات ان ہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو برداشت کرنے والے ہیں۔ اور ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں
۳۶  اور اگر تمہیں شیطان کی جانب سے کوئی وسوسہ پیدا ہو تو خدا کی پناہ مانگ لیا کرو۔ بےشک وہ سنتا جانتا ہے
۳۷  اور رات اور دن اور سورج اور چاند اس کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تم لوگ نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو۔ بلکہ خدا ہی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم کو اس کی عبادت منظور ہے
۳۸  اگر یہ لوگ سرکشی کریں تو (خدا کو بھی ان کی پروا نہیں) جو (فرشتے) تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (کبھی) تھکتے ہی نہیں
۳۹  اور (اے بندے یہ) اسی کی قدرت کے نمونے ہیں کہ تو زمین کو دبی ہوئی (یعنی خشک) دیکھتا ہے۔ جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور پھولنے لگتی ہے تو جس نے زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ بےشک وہ ہر چیز پر قادر ہے
۴۰  جو لوگ ہماری آیتوں میں کج راہی کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ بھلا جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن وامان سے آئے۔ (تو خیر) جو چاہو سو کرلو۔ جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے
۴۱  جن لوگوں نے نصیحت کو نہ مانا جب وہ ان کے پاس آئی۔ اور یہ تو ایک عالی رتبہ کتاب ہے
۴۲  اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (اور) دانا (اور) خوبیوں والے (خدا) کی اُتاری ہوئی ہے
۴۳  تم سے وہی باتیں کہیں جاتی ہیں جو تم سے پہلے اور پیغمبروں سے کہی گئی تھیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بخش دینے والا بھی اور عذاب الیم دینے والا بھی ہے
۴۴  اور اگر ہم اس قرآن کو غیر زبان عرب میں (نازل) کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں (ہماری زبان میں) کیوں کھول کر بیان نہیں کی گئیں۔ کیا (خوب کہ قرآن تو) عجمی اور (مخاطب) عربی۔ کہہ دو کہ جو ایمان لاتے ہیں ان کے لئے (یہ) ہدایت اور شفا ہے۔ اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی (یعنی بہراپن) ہے اور یہ ان کے حق میں (موجب) نابینائی ہے۔ گرانی کے سبب ان کو (گویا) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے
۴۵  اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں
۴۶  جو نیک کام کرے گا تو اپنے لئے۔ اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا۔ اور تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں
۴۷  قیامت کے علم کا حوالہ اسی کی طرف دیا جاتا ہے (یعنی قیامت کا علم اسی کو ہے) اور نہ تو پھل گا بھوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ اور جس دن وہ ان کو پکارے گا (اور کہے گا) کہ میرے شریک کہاں ہیں تو وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو (ان کی) خبر ہی نہیں
۴۸  اور جن کو پہلے وہ (خدا کے سوا) پکارا کرتے تھے (سب) ان سے غائب ہوجائیں گے اور وہ یقین کرلیں گے کہ ان کے لئے مخلصی نہیں
۴۹  انسان بھلائی کی دعائیں کرتا کرتا تو تھکتا نہیں اور اگر تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہوجاتا اور آس توڑ بیٹھتا ہے
۵۰  اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اس کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہو۔ اور اگر (قیامت سچ مچ بھی ہو اور) میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو میرے لئے اس کے ہاں بھی خوشحالی ہے۔ پس کافر جو عمل کیا کرتے وہ ہم ان کو ضرور جتائیں گے اور ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے
۵۱  اور جب ہم انسان پر کرم کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے اور پہلو پھیر کر چل دیتا ہے۔ اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے
۵۲  کہو کہ بھلا دیکھو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو (حق کی) پرلے درجے کی مخالفت میں ہو
۵۳  ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ (قرآن) حق ہے۔ کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار ہر چیز سے خبردار ہے
۵۴  دیکھو یہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے سے شک میں ہیں۔ سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  حم
٢  تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
٣  كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
٤  بَشِيرًا وَنَذِيرًا فَأَعْرَضَ أَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ
٥  وَقَالُوا قُلُوبُنَا فِي أَكِنَّةٍ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ وَفِي آذَانِنَا وَقْرٌ وَمِنْ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ إِنَّنَا عَامِلُونَ
٦  قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ ۗ وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ
٧  الَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ
٨  إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
٩  قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ
١٠  وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ
١١  ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ
١٢  فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَىٰ فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا ۚ وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
١٣  فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ
١٤  إِذْ جَاءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ ۖ قَالُوا لَوْ شَاءَ رَبُّنَا لَأَنْزَلَ مَلَائِكَةً فَإِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُمْ بِهِ كَافِرُونَ
١٥  فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ
١٦  فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي أَيَّامٍ نَحِسَاتٍ لِنُذِيقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَخْزَىٰ ۖ وَهُمْ لَا يُنْصَرُونَ
١٧  وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَىٰ عَلَى الْهُدَىٰ فَأَخَذَتْهُمْ صَاعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُونِ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
١٨  وَنَجَّيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ
١٩  وَيَوْمَ يُحْشَرُ أَعْدَاءُ اللَّهِ إِلَى النَّارِ فَهُمْ يُوزَعُونَ
٢٠  حَتَّىٰ إِذَا مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
٢١  وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَيْنَا ۖ قَالُوا أَنْطَقَنَا اللَّهُ الَّذِي أَنْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
٢٢  وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَٰكِنْ ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللَّهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِمَّا تَعْمَلُونَ
٢٣  وَذَٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ
٢٤  فَإِنْ يَصْبِرُوا فَالنَّارُ مَثْوًى لَهُمْ ۖ وَإِنْ يَسْتَعْتِبُوا فَمَا هُمْ مِنَ الْمُعْتَبِينَ
٢٥  وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاءَ فَزَيَّنُوا لَهُمْ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِينَ
٢٦  وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِهَٰذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ
٢٧  فَلَنُذِيقَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا عَذَابًا شَدِيدًا وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَسْوَأَ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ
٢٨  ذَٰلِكَ جَزَاءُ أَعْدَاءِ اللَّهِ النَّارُ ۖ لَهُمْ فِيهَا دَارُ الْخُلْدِ ۖ جَزَاءً بِمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ
٢٩  وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا رَبَّنَا أَرِنَا اللَّذَيْنِ أَضَلَّانَا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ أَقْدَامِنَا لِيَكُونَا مِنَ الْأَسْفَلِينَ
٣٠  إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ
٣١  نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ
٣٢  نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِيمٍ
٣٣  وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ
٣٤  وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ
٣٥  وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ
٣٦  وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
٣٧  وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ
٣٨  فَإِنِ اسْتَكْبَرُوا فَالَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ يُسَبِّحُونَ لَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُمْ لَا يَسْأَمُونَ ۩
٣٩  وَمِنْ آيَاتِهِ أَنَّكَ تَرَى الْأَرْضَ خَاشِعَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ ۚ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ ۚ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
٤٠  إِنَّ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي آيَاتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا ۗ أَفَمَنْ يُلْقَىٰ فِي النَّارِ خَيْرٌ أَمْ مَنْ يَأْتِي آمِنًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ۖ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
٤١  إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَاءَهُمْ ۖ وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ
٤٢  لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ
٤٣  مَا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ
٤٤  وَلَوْ جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا أَعْجَمِيًّا لَقَالُوا لَوْلَا فُصِّلَتْ آيَاتُهُ ۖ أَأَعْجَمِيٌّ وَعَرَبِيٌّ ۗ قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ ۖ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى ۚ أُولَٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ
٤٥  وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ ۗ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ
٤٦  مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ۗ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ
٤٧  إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرَاتٍ مِنْ أَكْمَامِهَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنْثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ ۚ وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ أَيْنَ شُرَكَائِي قَالُوا آذَنَّاكَ مَا مِنَّا مِنْ شَهِيدٍ
٤٨  وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَدْعُونَ مِنْ قَبْلُ ۖ وَظَنُّوا مَا لَهُمْ مِنْ مَحِيصٍ
٤٩  لَا يَسْأَمُ الْإِنْسَانُ مِنْ دُعَاءِ الْخَيْرِ وَإِنْ مَسَّهُ الشَّرُّ فَيَئُوسٌ قَنُوطٌ
٥٠  وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ رَحْمَةً مِنَّا مِنْ بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ هَٰذَا لِي وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِنْ رُجِعْتُ إِلَىٰ رَبِّي إِنَّ لِي عِنْدَهُ لَلْحُسْنَىٰ ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِمَا عَمِلُوا وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ
٥١  وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَأَىٰ بِجَانِبِهِ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَاءٍ عَرِيضٍ
٥٢  قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهِ مَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ
٥٣  سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ۗ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
٥٤  أَلَا إِنَّهُمْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَاءِ رَبِّهِمْ ۗ أَلَا إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  Ha, Meem.
2  [This is] a revelation from the Entirely Merciful, the Especially Merciful –
3  A Book whose verses have been detailed, an Arabic Qur’an for a people who know,
4  As a giver of good tidings and a warner; but most of them turn away, so they do not hear.
5  And they say, “Our hearts are within coverings from that to which you invite us, and in our ears is deafness, and between us and you is a partition, so work; indeed, we are working.”
6  Say, O [Muhammad], “I am only a man like you to whom it has been revealed that your god is but one God; so take a straight course to Him and seek His forgiveness.” And woe to those who associate others with Allah –
7  Those who do not give zakah, and in the Hereafter they are disbelievers.
8  Indeed, those who believe and do righteous deeds – for them is a reward uninterrupted.
9  Say, “Do you indeed disbelieve in He who created the earth in two days and attribute to Him equals? That is the Lord of the worlds.”
10  And He placed on the earth firmly set mountains over its surface, and He blessed it and determined therein its [creatures’] sustenance in four days without distinction – for [the information] of those who ask.
11  Then He directed Himself to the heaven while it was smoke and said to it and to the earth, “Come [into being], willingly or by compulsion.” They said, “We have come willingly.”
12  And He completed them as seven heavens within two days and inspired in each heaven its command. And We adorned the nearest heaven with lamps and as protection. That is the determination of the Exalted in Might, the Knowing.
13  But if they turn away, then say, “I have warned you of a thunderbolt like the thunderbolt [that struck] ‘Aad and Thamud.
14  [That occurred] when the messengers had come to them before them and after them, [saying], “Worship not except Allah.” They said, “If our Lord had willed, He would have sent down the angels, so indeed we, in that with which you have been sent, are disbelievers.”
15  As for ‘Aad, they were arrogant upon the earth without right and said, “Who is greater than us in strength?” Did they not consider that Allah who created them was greater than them in strength? But they were rejecting Our signs.
16  So We sent upon them a screaming wind during days of misfortune to make them taste the punishment of disgrace in the worldly life; but the punishment of the Hereafter is more disgracing, and they will not be helped.
17  And as for Thamud, We guided them, but they preferred blindness over guidance, so the thunderbolt of humiliating punishment seized them for what they used to earn.
18  And We saved those who believed and used to fear Allah.
19  And [mention, O Muhammad], the Day when the enemies of Allah will be gathered to the Fire while they are [driven] assembled in rows,
20  Until, when they reach it, their hearing and their eyes and their skins will testify against them of what they used to do.
21  And they will say to their skins, “Why have you testified against us?” They will say, “We were made to speak by Allah, who has made everything speak; and He created you the first time, and to Him you are returned.
22  And you were not covering yourselves, lest your hearing testify against you or your sight or your skins, but you assumed that Allah does not know much of what you do.
23  And that was your assumption which you assumed about your Lord. It has brought you to ruin, and you have become among the losers.”
24  So [even] if they are patient, the Fire is a residence for them; and if they ask to appease [Allah], they will not be of those who are allowed to appease.
25  And We appointed for them companions who made attractive to them what was before them and what was behind them [of sin], and the word has come into effect upon them among nations which had passed on before them of jinn and men. Indeed, they [all] were losers.
26  And those who disbelieve say, “Do not listen to this Qur’an and speak noisily during [the recitation of] it that perhaps you will overcome.”
27  But We will surely cause those who disbelieve to taste a severe punishment, and We will surely recompense them for the worst of what they had been doing.
28  That is the recompense of the enemies of Allah – the Fire. For them therein is the home of eternity as recompense for what they, of Our verses, were rejecting.
29  And those who disbelieved will [then] say, “Our Lord, show us those who misled us of the jinn and men [so] we may put them under our feet that they will be among the lowest.”
30  Indeed, those who have said, “Our Lord is Allah ” and then remained on a right course – the angels will descend upon them, [saying], “Do not fear and do not grieve but receive good tidings of Paradise, which you were promised.
31  We [angels] were your allies in worldly life and [are so] in the Hereafter. And you will have therein whatever your souls desire, and you will have therein whatever you request [or wish] 32  As accommodation from a [Lord who is] Forgiving and Merciful.”
33  And who is better in speech than one who invites to Allah and does righteousness and says, “Indeed, I am of the Muslims.”
34  And not equal are the good deed and the bad. Repel [evil] by that [deed] which is better; and thereupon the one whom between you and him is enmity [will become] as though he was a devoted friend.
35  But none is granted it except those who are patient, and none is granted it except one having a great portion [of good].
36  And if there comes to you from Satan an evil suggestion, then seek refuge in Allah. Indeed, He is the Hearing, the Knowing.
37  And of His signs are the night and day and the sun and moon. Do not prostrate to the sun or to the moon, but prostate to Allah, who created them, if it should be Him that you worship.
38  But if they are arrogant – then those who are near your Lord exalt Him by night and by day, and they do not become weary.
39  And of His signs is that you see the earth stilled, but when We send down upon it rain, it quivers and grows. Indeed, He who has given it life is the Giver of Life to the dead. Indeed, He is over all things competent.
40  Indeed, those who inject deviation into Our verses are not concealed from Us. So, is he who is cast into the Fire better or he who comes secure on the Day of Resurrection? Do whatever you will; indeed, He is Seeing of what you do.
41  Indeed, those who disbelieve in the message after it has come to them… And indeed, it is a mighty Book.
42  Falsehood cannot approach it from before it or from behind it; [it is] a revelation from a [Lord who is] Wise and Praiseworthy.
43  Nothing is said to you, [O Muhammad], except what was already said to the messengers before you. Indeed, your Lord is a possessor of forgiveness and a possessor of painful penalty.
44  And if We had made it a non-Arabic Qur’an, they would have said, “Why are its verses not explained in detail [in our language]? Is it a foreign [recitation] and an Arab [messenger]?” Say, “It is, for those who believe, a guidance and cure.” And those who do not believe – in their ears is deafness, and it is upon them blindness. Those are being called from a distant place.
45  And We had already given Moses the Scripture, but it came under disagreement. And if not for a word that preceded from your Lord, it would have been concluded between them. And indeed they are, concerning the Qur’an, in disquieting doubt.
46  Whoever does righteousness – it is for his [own] soul; and whoever does evil [does so] against it. And your Lord is not ever unjust to [His] servants.
47  To him [alone] is attributed knowledge of the Hour. And fruits emerge not from their coverings nor does a female conceive or give birth except with His knowledge. And the Day He will call to them, “Where are My ‘partners’?” they will say, “We announce to You that there is [no longer] among us any witness [to that].”
48  And lost from them will be those they were invoking before, and they will be certain that they have no place of escape.
49  Man is not weary of supplication for good [things], but if evil touches him, he is hopeless and despairing.
50  And if We let him taste mercy from Us after an adversity which has touched him, he will surely say, “This is [due] to me, and I do not think the Hour will occur; and [even] if I should be returned to my Lord, indeed, for me there will be with Him the best.” But We will surely inform those who disbelieved about what they did, and We will surely make them taste a massive punishment.
51  And when We bestow favor upon man, he turns away and distances himself; but when evil touches him, then he is full of extensive supplication.
52  Say, “Have you considered: if the Qur’an is from Allah and you disbelieved in it, who would be more astray than one who is in extreme dissension?”
53  We will show them Our signs in the horizons and within themselves until it becomes clear to them that it is the truth. But is it not sufficient concerning your Lord that He is, over all things, a Witness?
54  Unquestionably, they are in doubt about the meeting with their Lord. Unquestionably He is, of all things, encompassing.

 奉至仁至慈的真主之名

1  哈一,米目。
2  这是从至仁至慈的主降下的启示。
3  这是一部节文详明的天经,是为有知识的民众而降示的阿拉 伯文的《古兰经》,
4  可以做报喜者和警告者;但他们大半退避而不肯听从。
5  他们说:我们的心在蒙蔽中,不能了解你对我们的教导,我们的耳朵有重听;在我们和你之间有一道屏障。你干你的吧,我们必定要干我们的!
6  你说:我跟你们一样,只是一个凡人,我奉到启示:你们所应当崇拜的,只是独一的主宰。所以你们应当遵循正路而趋向他,应当向他求饶。伤哉以物配主者!
7  他们不纳天课,不信后世。
8  信道而且行善者必受不断的报酬。
9  你说:你们真不信在两日内创造大地者,而要为他树立许多匹敌吗?那是全世界的主。
10  他在大地上创造许多山岳,他降福于大地,并预定大地上众生的食物,那些事,在整整的四天就完成了。那是用来答复询问者的。
11  然后,他志于造天,那时,天还是蒸气。他对天说:你们俩顺服地,或勉强地来吧!它俩说:我们俩顺服地来了。
12  他在两日内创造了七层天,他以他的命令启示各天的居民,他以众星点缀最低的天,并加以保护。那是万能的、全知的主的预定。
13  如果他们退避,你就说:我警告你们一种刑罚,它象阿德人和赛莫德人所受的刑罚一样。
14  当时,众使者从他们的前后来临他们,说:除真主外,你们不要崇拜任何物。他们说:假若我们的主意欲,他必降下许多天神,我们必定不信你们所奉的使命。
15  至于阿德人,他们不该在地方上妄自尊大,他们说:谁比我们能力更强大呢?难道他们不知道创造他们的真主比他们更强大吗?他们否认了我的许多迹象,
16  我使暴风在若干凶日里伤害他们,使他们在今世生活中尝试凌辱的刑罚,而后世的刑罚,确是更凌辱的,他们将不获援助。
17  至于赛莫德人,则我曾引导他们,但他们舍正道而取迷误,故凌辱的刑罚的霹雳因他们的行为而轰击了他们。
18  我曾拯救了信道而敬畏者。
19  在那日,真主的敌人将被召集到火狱去。他们是受约束的。
20  待他们来到火狱的时候,他们的耳目皮肤将作证他们的行为。
21  他们将对自己的皮肤说:你们为什么作不利于我们的见证呢?它们将说:能使万物说话的真主,已使我们说话了。他初次创造你们,你们只被召归于他。
22  过去,你们没有防备你们的耳目皮肤会作不利于你们的见证,但你们猜想真主不知道你们所作的许多事情。
23  你们对于你们的主所怀的这种猜想已害了你们,故你们变成了亏折者。
24  如果他们能忍受,那末,火狱就是他们的住处;如果他们邀恩、原谅,那末,他们绝不得邀恩。
25  我已为他们预定许多魔伴,而那些魔伴,以他们生前或死后的事情迷惑他们,他们应当受刑罚的判决,而入于以前逝去的精灵和人类的若干民族之中,而预言对他们实现,他们确是亏折者。
26  不信道者说:你们不要听这《古兰经》,你们应当扰乱诵经的声音,或许你们将获得胜利。
27  我必使不信道者尝试严厉的刑罚,我必以最劣的报酬报答他们的罪恶。
28  那就是真主的敌人所受的报酬–火狱,他们在火狱中有永久的住宅,那是因为报酬他们否认我的迹象。
29  不信道者说:我们的主啊!求你昭示我们那些曾使我们迷误的精灵和人类,让我们将他们踏在我们的脚下,以便他们变成最下贱的。
30  凡说过我们的主是真主,然后遵循正道者,众天神将来 临他们,说:你们不要恐惧,不要忧愁,你们应当为你们被 预许的乐园而高兴。
31  在今世和后世,我们都是你们的保护者。你们在乐园里将享受你们所爱好的一切,你们在乐园里将享受你们所要求的一切。
32  那是至仁至慈的主所赐的宴飨。
33  召人信仰真主,力行善功,并且说:我确是穆斯林的人,在言辞方面,有谁比他更优美呢?
34  善恶不是一样的。你应当以最优美的品行去对付恶劣的品行,那末,与你相仇者,忽然间会变得亲如密友。
35  唯坚忍者,获此美德,唯有大福分者,获此美德。
36  如果恶魔怂恿你,你应当求庇于真主。他确是全聪的,确是全知的。
37  昼夜与日月,都是他的迹象。你们不要向日月叩头,你们应当向创造那些迹象的真主叩头,如果你们是崇拜他的话。
38  如果他们自大,那末,在你的主那里的众天神,则是昼夜赞颂他,他们并不厌倦的。(此处叩头!)※
39  你看大地是干枯的,当我降下雨水的时候,它便活动而膨胀起来,这也是他的迹象。能使大地复活者,必能使死人复活,他对于万事,确是全能的。
40  曲解我的迹象者,必不能隐匿起来,不让我看见他们。是在复活日被投入火狱者好呢?还是在复活日安全者好呢?你们要做什么,就随便做什么吧!他确是明察你们的行为的。
41  不信已降临的教诲者,我要惩罚他。那教诲确是坚固的经典。
42  虚伪不能从它的前后进攻它,它是从至睿的,可颂的主降示的。
43  人们对你说的,不过是以往对众使者说过的谰言,你的主,确是有赦宥的,确是有痛惩的。
44  假若我降示一部外国语的《古兰经》,他们必定会说:怎么不解释其中的节文呢?一部外国语的经典和一个阿拉伯的先知吗?你说:它是信道者的向导和药方;不信道者听而不闻,视而不见,因为这些人是从远处被喊叫的。
45  我确已把天经授予穆萨,但众人为那天经而分歧,假若没有一句话从你的主预先发出,他们必受裁判。他们对于它,确是在疑虑之中。
46  行善者自受其益,作恶者自受其害。你的主绝不会亏枉众仆的。
47  关于复活时的认识,只归于他;果实的脱萼,女性的怀孕和分娩,无一不在他的洞鉴中。在那日,他将问他们:你们妄称为我人伙伴的,在哪里呢?他们将说:我们报告你,我们中绝没有一个人能作证这件事。
48  他们生前所祈祷的,将回避他们,他们将确信自己无所逃罪。
49  人祈福不厌,一遭祸患就灰心绝望。
50  他遭遇患难之后,如果我使他尝试从我降下的恩惠,他必定说:这是我用工作换来的。我不信复活时会到来。如果我被召去见我的主,则我在他那里必受至善的报酬。我必将不信道者的行为告诉他们,我必使他们尝试严重的刑罚。
51  当我施恩于人的时候,他忘恩而自大;当他遭遇祸患的时候,他祈祷不绝。
52  你说:你们告诉我吧!如果《古兰经》是从真主那里降示的,而你们不信它,那末,有谁比长远违背真理者更迷误呢?
53  我将在四方和在他们自身中,把我的许多迹象昭示他们,直到他们明白《古兰经》确是真理。难道你的主能见证万物还不够吗?
54  真的,他们的确怀疑将来是否要与他们的主会面。真的,他确是周知万物的。

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  hm.
2  Revelación procedente del Compasivo, del Misericordioso.
3  Escritura cuyas aleyas han sido explicadas detalladamente como Corán árabe para gente que sabe.
4  como nuncio de buenas nuevas y como monitor. La mayoría, empero, se desvían y, así, no oyen.
5  Y dicen: «Una envoltura oculta a nuestros corazones aquello a que nos llamas, nuestros oídos padecen sordera, un velo nos separa de ti. ¡Haz, pues, lo que juzgues oportuno, que nosotros haremos también lo que juzguemos oportuno!»
6  Di: «Yo soy sólo un mortal como vosotros, a quien se ha revelado que vuestro Dios es un Dios Uno. ¡Id, pues, derechos a Él y pedidle perdón! ¡Ay de los asociadores,
7  que no dan el azaque y niegan la otra vida!
8  Quienes crean y obren bien, recibirán una recompensa ininterrumpida».
9  Di: «¿No vais a creer en Quien ha creado la tierra en dos días y Le atribuís iguales? ¡Tal es el Señor del universo!»
10  En cuatro días iguales: ha puesto en ella, encima, montañas firmes, la ha bendecido y ha determinado sus alimentos. Para los que inquieren…
11  Luego, se dirigió al cielo, que era humo, y dijo a éste y a la tierra: «¡Venid, queráis o no!» Dijeron: «¡Venimos de buen grado!»
12  «Decretó que fueran siete cielos, en dos días, e inspiró a cada cielo su cometido. Hemos engalanado el cielo más bajo con luminares, como protección. Tal es la decisión del Poderoso, del Omnisciente».
13  Si se desvían, di: «Os prevengo contra un rayo como el de los aditas y los tamudeos».
14  Cuando vinieron a ellos los enviados antes y después. «¡No sirváis sino a Alá!» Dijeron: «Si nuestro Señor hubiera querido, habría enviado de lo alto a ángeles. No creemos en vuestro mensaje».
15  En cuanto a los aditas, sin razón, se condujeron en el país altivamente y dijeron: «¿Hay alguien más fuerte que nosotros?» ¿No veían que Alá, Que les había creado, era más fuerte que ellos? Pero negaron Nuestros signos.
16  Enviamos contra ellos un viento, glacial en días nefastos, para hacerles gustar el castigo de la ignominia en la vida de acá. Pero el castigo de la otra vida es aún más ignominioso y no serán auxiliados.
17  Y en cuanto a los tamudeos, les dirigimos, pero prefirieron la ceguera a la Dirección, y el Rayo del castigo degradante les sorprendió por lo que habían cometido.
18  Y salvamos a los que creían y temían a Alá.
19  El día que los enemigos de Alá sean congregados hacia el Fuego, serán divididos en grupos.
20  Hasta que, llegados a él, sus oídos, sus ojos y su piel atestiguarán contra ellos de sus obras.
21  Dirán a su piel: «¿Por qué has atestiguado contra nosotros?» Y ella dirá: «Alá, Que ha concedido a todos la facultad de hablar, nos la ha concedido a nosotros. Os ha creado una vez primera y a Él seréis devueltos.
22  No podíais esconderos tan bien que no pudieran luego atestiguar contra vosotros vuestros oídos, vuestros ojos y vuestra piel. Creíais que Alá no sabía mucho de lo que hacíais.
23  Lo que vosotros pensabais de vuestro Señor os ha arruinado y ahora sois de los que han perdido».
24  Aunque tengan paciencia, el Fuego será su morada. Y, aunque pidan gracia, no se les concederá.
25  Les hemos asignado compañeros, que han engalanado su estado actual y su estado futuro. Se ha cumplido en ellos la sentencia que también alcanzó a otras comunidades de genios y de mortales que les precedieron. Han perdido.
26  Los infieles dicen: «¡No hagáis caso de este Corán ! ¡Parlotead cuando lo lean. Quizás, así, os salgáis con la vuestra!»
27  A los infieles les haremos gustar, sí, un severo castigo y les retribuiremos, sí, con arreglo a sus peores obras.
28  ésa es la retribución de los enemigos de Alá: el Fuego, en el que tendrán la Morada de la Eternidad, como retribución de haber negado Nuestros signos.
29  Los infieles dirán: «¡Señor! ¡Muéstranos a los genios y a los mortales que nos han extraviado y los pondremos bajo nuestros pies para que estén en lo más profundo!»
30  A los que hayan dicho: «¡Nuestro Señor es Alá!» y se hayan portado correctamente, descenderán los ángeles: «¡No temáis ni estéis tristes! ¡Regocijaos, más bien, por el Jardín que se os había prometido!
31  Somos vuestros amigos en la vida de acá y en la otra. Tendréis allí todo cuanto vuestras almas deseen, todo cuanto pidáis,
32  como alojamiento venido de Uno Que es indulgente, misericordioso».
33  ¿Quién hay, pues, que hable mejor que quien llama a Alá, obra bien y dice: «Soy de los que se someten a Alá»?
34  No es igual obrar bien y obrar mal. ¡Repele con lo que sea mejor y he aquí que aquél de quien te separe la enemistad se convetirá en amigo ferviente!
35  Esto sólo lo consiguen los pacientes, sólo lo consigue el de suerte extraordinaria.
36  Si el Demonio te incita al mal, busca refugio en Alá. Él es Quien todo lo oye, Quien todo lo sabe.
37  Entre Sus signos figuran la noche el día, el sol y la luna. ¡No os prosternéis ante el sol ni ante la luna! ¡Prosternaos ante Alá, Que los ha creado! Si es a Él a Quien servís…
38  Si se muestran altivos, en cambio, quienes están junto a tu Señor Le glorifican, incansables, noche y día.
39  Ves entre Sus signos que la tierra está seca. Luego, se reanima y reverdece cuando hacemos llover sobre ella. En verdad, Quien la vivifica puede también, vivificar a los muertos. Es omnipotente.
40  Los que niegan Nuestros signos no pueden ocultarse a Nosotros. Qué es mejor: ¿ser arrojado al Fuego o venir en seguridad: el día de la Resurrección? ¡Haced lo que queráis! Él ve bien lo que hacéis.
41  Los que no creen en la Amonestación cuando ésta viene a ellos… Y eso que es una Escritura excelente,
42  completamente inaccesible a lo falso, revelación procedente de uno Que es sabio, digno de alabanza.
43  No se te dice sino lo que ya se dijo a los enviados que te precedieron: que tu Señor está dispuesto a perdonar, pero también a castigar dolorosamente.
44  Si hubiéramos hecho de ella un Corán no árabe, habrían dicho: «¿Por qué no se han explicado detalladamente sus aleyas? ¿No árabe y árabe?» Di: «Es dirección y curación para quienes creen. Quienes, en cambio, no creen son duros de oído y, ante él, padecen ceguera. Es como si se les llamara desde lejos».
45  Ya dimos a Moisés la Escritura. Y discreparon acerca de ella. Y, si no llega a ser por una palabra previa de tu Señor, se habría decidido entre ellos. Dudan seriamente de ella.
46  Quien obra bien, lo hace en su propio provecho. Y quien obra mal, lo hace en detrimento propio. Tu Señor no es injusto con Sus siervos.
47  A Él se le remite el conocimiento de la Hora. Ningún fruto deja su cubierta, ninguna hembra concibe o pare sin que Él lo sepa. Cuando Él les llame: «¿Dónde están Mis asociados?». dirán: «Te aseguramos que ninguno de nosotros los ha visto».
48  Lo que antes invocaban les abandonará. Creerán no tener escape.
49  No se cansa el hombre de pedir el bien, pero, si sufre un mal, se desanima, se desespera.
50  Si le hacemos gustar una misericordia venida de Nosotros, luego de haber sufrido una desgracia, dirá de seguro: «Esto es algo que se me debe. Y no creo que ocurra la Hora. Pero, si se me devolviera a mi Señor, tendría junto a Él lo mejor». Ya informaremos a los infieles, sí, de lo que hacían y les haremos gustar, sí, un duro castigo.
51  Cuando agraciamos al hombre, éste se desvía y se aleja. Pero, si sufre un mal, no para de invocar.
52  Di: «¿Qué os parece? Si procede de Alá y vosotros, luego, no creéis en él, ¿hay alguien que esté más extraviado que quien se opone tan marcadamente?»
53  Les mostraremos Nuestros signos fuera y dentro de sí mismos hasta que vean claramente que es la Verdad. ¿Es que no basta que tu Señor sea testigo de todo?
54  Pues ¿no dudan del encuentro de su Señor? Pues ¿no lo abarca Él todo?