Project Description

AL ANKABUT

 شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  الم
۲  کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیئے جائیں گے اور اُن کی آزمائش نہیں کی جائے گی
۳  اور جو لوگ اُن سے پہلے ہو چکے ہیں ہم نے اُن کو بھی آزمایا تھا (اور ان کو بھی آزمائیں گے) سو خدا اُن کو ضرور معلوم کریں گے جو (اپنے ایمان میں) سچے ہیں اور اُن کو بھی جو جھوٹے ہیں
۴  کیا وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ یہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے۔ جو خیال یہ کرتے ہیں برا ہے
۵  جو شخص خدا کی ملاقات کی اُمید رکھتا ہو خدا کا (مقرر کیا ہوا) وقت ضرور آنے والا ہے۔ اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے
۶  اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے محنت کرتا ہے۔ اور خدا تو سارے جہان سے بےپروا ہے
۷  اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم ان کے گناہوں کو اُن سے دور کردیں گے اور ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے
۸  اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ (اے مخاطب) اگر تیرے ماں باپ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جس کی حقیقت کی تجھے واقفیت نہیں۔ تو ان کا کہنا نہ مانیو۔ تم (سب) کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ پھر جو کچھ تم کرتے تھے میں تم کو جتا دوں گا
۹  اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم نیک لوگوں میں داخل کریں گے
۱۰  اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے جب اُن کو خدا (کے رستے) میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو لوگوں کی ایذا کو (یوں) سمجھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب۔ اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ تھے۔ کیا جو اہل عالم کے سینوں میں ہے خدا اس سے واقف نہیں؟
۱۱  اور خدا اُن کو ضرور معلوم کرے گا جو (سچے) مومن ہیں اور منافقوں کو بھی معلوم کرکے رہے گا
۱۲  اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو ہم تمہارے گناہ اُٹھالیں گے۔ حالانکہ وہ اُن کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اُٹھانے والے نہیں۔ کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں
۱۳  اور یہ اپنے بوجھ بھی اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی۔ اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن اُن کی اُن سے ضرور پرسش ہوگی
۱۴  اور ہم نے نوحؑ کو اُن کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہے پھر اُن کو طوفان (کے عذاب) نے آپکڑا۔ اور وہ ظالم تھے
۱۵  پھر ہم نے نوحؑ کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور کشتی کو اہل عالم کے لئے نشانی بنا دیا
۱۶  اور ابراہیمؑ کو (یاد کرو) جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے
۱۷  تو تم خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے اور طوفان باندھتے ہو تو جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی کے ہاں سے رزق طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے
۱۸  اور اگر تم (میری) تکذیب کرو تو تم سے پہلے بھی اُمتیں (اپنے پیغمبروں کی) تکذیب کرچکی ہیں۔ اور پیغمبر کے ذمے کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں
۱۹  کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر (کس طرح) اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے۔ یہ خدا کو آسان ہے
۲۰  کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کیا ہے پھر خدا ہی پچھلی پیدائش پیدا کرے گا۔ بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
۲۱  وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے۔ اور اُسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے
۲۲  اور تم (اُس کو) نہ زمین میں عاجز کرسکتے ہو نہ آسمان میں اور نہ خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار
۲۳  اور جن لوگوں نے خدا کی آیتوں سے اور اس کے ملنے سے انکار کیا وہ میری رحمت سے نااُمید ہوگئے ہیں اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا
۲۴  تو اُن کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اُسے مار ڈالو یا جلا دو۔ مگر خدا نے اُن کو آگ (کی سوزش) سے بچالیا۔ جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اُن کے لئے اس میں نشانیاں ہیں
۲۵  اور ابراہیم نے کہا کہ تم جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو تو دنیا کی زندگی میں باہم دوستی کے لئے (مگر) پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے (کی دوستی) سے انکار کر دو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا
۲۶  پس اُن پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ بیشک وہ غالب حکمت والا ہے
۲۷  اور ہم نے اُن کو اسحٰق اور یعقوب بخشے اور اُن کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر) کر دی اور ان کو دنیا میں بھی اُن کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے
۲۸  اور لوط (کو یاد کرو) جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (عجب) بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو۔ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا
۲۹  تم کیوں (لذت کے ارادے سے) لونڈوں کی طرف مائل ہوتے اور (مسافروں کی) رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو۔ تو اُن کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ
۳۰  لوط نے کہا کہ اے میرے پروردگار ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں مجھے نصرت عنایت فرما
۳۱  اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشی کی خبر لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کر دینے والے ہیں کہ یہاں کے رہنے والے نافرمان ہیں
۳۲  ابراہیم نے کہا کہ اس میں تو لوط بھی ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ جو لوگ یہاں (رہتے) ہیں ہمیں سب معلوم ہیں۔ ہم اُن کو اور اُن کے گھر والوں کو بچالیں گے بجز اُن کی بیوی کے وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی
۳۳  اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ اُن (کی وجہ) سے ناخوش اور تنگ دل ہوئے۔ فرشتوں نے کہا کچھ خوف نہ کیجئے۔ اور نہ رنج کیجئے ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچالیں گے مگر آپ کی بیوی کہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی
۳۴  ہم اس بستی کے رہنے والوں پر اس سبب سے کہ یہ بدکرداری کرتے رہے ہیں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں
۳۵  اور ہم نے سمجھنے والے لوگوں کے لئے اس بستی سے ایک کھلی نشانی چھوڑ دی
۳۶  اور مدین کی طرف اُن کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اُنہوں نے کہا (اے قوم) خدا کی عبادت کرو اور پچھلے دن کے آنے کی اُمید رکھو اور ملک میں فساد نہ مچاؤ
۳۷  مگر اُنہوں نے اُن کو جھوٹا سمجھا سو اُن کو زلزلے (کے عذاب) نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
۳۸  اور عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کر دیا) چنانچہ اُن کے (ویران گھر) تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں اور شیطان نے اُن کے اعمال ان کو آراستہ کر دکھائے اور ان کو (سیدھے) رستے سے روک دیا۔ حالانکہ وہ دیکھنے والے (لوگ) تھے
۳۹  اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ہلاک کر دیا) اور اُن کے پاس موسٰی کھلی نشانی لےکر آئے تو وہ ملک میں مغرور ہوگئے اور ہمارے قابو سے نکل جانے والے نہ تھے
۴۰  تو ہم نے سب کو اُن کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ سو ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینھہ برسایا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کر دیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
۴۱  جن لوگوں نے خدا کے سوا (اوروں کو) کارساز بنا رکھا ہے اُن کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک (طرح کا) گھر بناتی ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں سے کمزور مکڑی کا گھر ہے کاش یہ (اس بات کو) جانتے
۴۲  یہ جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں (خواہ) وہ کچھ ہی ہو خدا اُسے جانتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے
۴۳  اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے بیان کرتے ہیں اور اُسے تو اہلِ دانش ہی سمجھتے ہیں
۴۴  خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ ایمان والوں کے لئے اس میں نشانی ہے
۴۵  (اے محمدﷺ! یہ) کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو۔ کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ اور خدا کا ذکر بڑا (اچھا کام) ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اُسے جانتا ہے
۴۶  اور اہلِ کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریق سے کہ نہایت اچھا ہو۔ ہاں جو اُن میں سے بےانصافی کریں (اُن کے ساتھ اسی طرح مجادلہ کرو) اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اُتری اور جو (کتابیں) تم پر اُتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں
۴۷  اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف کتاب اُتاری ہے۔ تو جن لوگوں کو ہم نے کتابیں دی تھیں وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اور بعض ان (مشرک) لوگوں میں سے بھی اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اور ہماری آیتوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو کافر (ازلی) ہیں
۴۸  اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اُسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہلِ باطل ضرور شک کرتے
۴۹  بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں۔ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے اُن کے سینوں میں (محفوظ) اور ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں
۵۰  اور (کافر) کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں کہہ دو کہ نشانیاں تو خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور میں تو کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں
۵۱  کیا اُن لوگوں کے لئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو اُن کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ کچھ شک نہیں کہ مومن لوگوں کے لیے اس میں رحمت اور نصیحت ہے
۵۲  کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے جو چیز آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب کو جانتا ہے۔ اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا سے انکار کیا وہی نقصان اُٹھانے والے ہیں
۵۳  اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں۔ اگر ایک وقت مقرر نہ (ہو چکا) ہوتا تو اُن پر عذاب آبھی گیا ہوتا۔ اور وہ (کسی وقت میں) اُن پر ضرور ناگہاں آکر رہے گا اور اُن کو معلوم بھی نہ ہوگا
۵۴  یہ تم سے عذاب کے لئے جلدی کررہے ہیں۔ اور دوزخ تو کافروں کو گھیر لینے والی ہے
۵۵  جس دن عذاب اُن کو اُن کے اُوپر سے اور نیچے سے ڈھانک لے گا اور (خدا) فرمائے گا کہ جو کام تم کیا کرتے تھے (اب) اُن کا مزہ چکھو
۵۶  اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو میری زمین فراخ ہے تو میری ہی عبادت کرو
۵۷  ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے
۵۸  اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن کو ہم بہشت کے اُونچے اُونچے محلوں میں جگہ دیں گے۔ جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ (نیک) عمل کرنے والوں کا (یہ) خوب بدلہ ہے
۵۹  جو صبر کرتے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں
۶۰  اور بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اُٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے
۶۱  اور اگر اُن سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا۔ اور سورج اور چاند کو کس نے (تمہارے) زیر فرمان کیا تو کہہ دیں گے خدا نے۔ تو پھر یہ کہاں اُلٹے جا رہے ہیں
۶۲  خدا ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے
۶۳  اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی کس نے نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد (کس نے) زندہ کیا تو کہہ دیں گے کہ خدا نے۔ کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے۔ لیکن ان میں اکثر نہیں سمجھتے
۶۴  اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشہ ہے اور (ہمیشہ کی) زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش یہ (لوگ) سمجھتے
۶۵  پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے (اور) خالص اُسی کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ شرک کرنے لگے جاتے ہیں
۶۶  تاکہ جو ہم نے اُن کو بخشا ہے اُس کی ناشکری کریں اور فائدہ اٹھائیں (سو خیر) عنقریب اُن کو معلوم ہوجائے گا
۶۷  کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد ونواح سے اُچک لئے جاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں
۶۸  اور اس سے ظالم کون جو خدا پر جھوٹ بہتان باندھے یا جب حق بات اُس کے پاس آئے تو اس کی تکذیب کرے۔ کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہے؟
۶۹  اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی ہم اُن کو ضرور اپنے رستے دکھا دیں گے۔ اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  الم
٢  أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
٣  وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ
٤  أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَنْ يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
٥  مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لَآتٍ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
٦  وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ
٧  وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَحْسَنَ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ
٨  وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا ۖ وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۚ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
٩  وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي الصَّالِحِينَ
١٠  وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ فَإِذَا أُوذِيَ فِي اللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللَّهِ وَلَئِنْ جَاءَ نَصْرٌ مِنْ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ ۚ أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ الْعَالَمِينَ
١١  وَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنَافِقِينَ
١٢  وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا اتَّبِعُوا سَبِيلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطَايَاكُمْ وَمَا هُمْ بِحَامِلِينَ مِنْ خَطَايَاهُمْ مِنْ شَيْءٍ ۖ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
١٣  وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ ۖ وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ
١٤  وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ وَهُمْ ظَالِمُونَ
١٥  فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ وَجَعَلْنَاهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ
١٦  وَإِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ ۖ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
١٧  إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا وَتَخْلُقُونَ إِفْكًا ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ ۖ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
١٨  وَإِنْ تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ۖ وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
١٩  أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
٢٠  قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ۚ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
٢١  يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ
٢٢  وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ۖ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
٢٣  وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَلِقَائِهِ أُولَٰئِكَ يَئِسُوا مِنْ رَحْمَتِي وَأُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
٢٤  فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ فَأَنْجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
٢٥  وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا مَوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ نَاصِرِينَ
٢٦  فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي ۖ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
٢٧  وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
٢٨  وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ
٢٩  أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُونَ السَّبِيلَ وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ ۖ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
٣٠  قَالَ رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ
٣١  وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ ۖ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا ظَالِمِينَ
٣٢  قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا ۚ قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَنْ فِيهَا ۖ لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ
٣٣  وَلَمَّا أَنْ جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالُوا لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ ۖ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلَّا امْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ
٣٤  إِنَّا مُنْزِلُونَ عَلَىٰ أَهْلِ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
٣٥  وَلَقَدْ تَرَكْنَا مِنْهَا آيَةً بَيِّنَةً لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
٣٦  وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَارْجُوا الْيَوْمَ الْآخِرَ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
٣٧  فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
٣٨  وَعَادًا وَثَمُودَ وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَسَاكِنِهِمْ ۖ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِينَ
٣٩  وَقَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامَانَ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مُوسَىٰ بِالْبَيِّنَاتِ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ وَمَا كَانُوا سَابِقِينَ
٤٠  فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنْبِهِ ۖ فَمِنْهُمْ مَنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ وَمِنْهُمْ مَنْ خَسَفْنَا بِهِ الْأَرْضَ وَمِنْهُمْ مَنْ أَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
٤١  مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَيْتًا ۖ وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنْكَبُوتِ ۖ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
٤٢  إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
٤٣  وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۖ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ
٤٤  خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ
٤٥  اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ
٤٦  وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ ۖ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَٰهُنَا وَإِلَٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
٤٧  وَكَذَٰلِكَ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ ۚ فَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَمِنْ هَٰؤُلَاءِ مَنْ يُؤْمِنُ بِهِ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الْكَافِرُونَ
٤٨  وَمَا كُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ ۖ إِذًا لَارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ
٤٩  بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الظَّالِمُونَ
٥٠  وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَاتٌ مِنْ رَبِّهِ ۖ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِنْدَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ
٥١  أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
٥٢  قُلْ كَفَىٰ بِاللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا ۖ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَالَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوا بِاللَّهِ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
٥٣  وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُسَمًّى لَجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
٥٤  يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ
٥٥  يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
٥٦  يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ
٥٧  كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
٥٨  وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ نِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ
٥٩  الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
٦٠  وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
٦١  وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ
٦٢  اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
٦٣  وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۚ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ
٦٤  وَمَا هَٰذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ ۚ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
٦٥  فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ
٦٦  لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُوا ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
٦٧  أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ
٦٨  وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ ۚ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَ
٦٩  وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  Alif, Lam, Meem
2  Do the people think that they will be left to say, “We believe” and they will not be tried?
3  But We have certainly tried those before them, and Allah will surely make evident those who are truthful, and He will surely make evident the liars.
4  Or do those who do evil deeds think they can outrun Us? Evil is what they judge.
5  Whoever should hope for the meeting with Allah – indeed, the term decreed by Allah is coming. And He is the Hearing, the Knowing.
6  And whoever strives only strives for [the benefit of] himself. Indeed, Allah is free from need of the worlds.
7  And those who believe and do righteous deeds – We will surely remove from them their misdeeds and will surely reward them according to the best of what they used to do.
8  And We have enjoined upon man goodness to parents. But if they endeavor to make you associate with Me that of which you have no knowledge, do not obey them. To Me is your return, and I will inform you about what you used to do.
9  And those who believe and do righteous deeds – We will surely admit them among the righteous [into Paradise].
10  And of the people are some who say, “We believe in Allah,” but when one [of them] is harmed for [the cause of] Allah, they consider the trial of the people as [if it were] the punishment of Allah. But if victory comes from your Lord, they say, “Indeed, We were with you.” Is not Allah most knowing of what is within the breasts of all creatures?
11  And Allah will surely make evident those who believe, and He will surely make evident the hypocrites.
12  And those who disbelieve say to those who believe, “Follow our way, and we will carry your sins.” But they will not carry anything of their sins. Indeed, they are liars.
13  But they will surely carry their [own] burdens and [other] burdens along with their burdens, and they will surely be questioned on the Day of Resurrection about what they used to invent.
14  And We certainly sent Noah to his people, and he remained among them a thousand years minus fifty years, and the flood seized them while they were wrongdoers.
15  But We saved him and the companions of the ship, and We made it a sign for the worlds.
16  And [We sent] Abraham, when he said to his people, “Worship Allah and fear Him. That is best for you, if you should know.
17  You only worship, besides Allah, idols, and you produce a falsehood. Indeed, those you worship besides Allah do not possess for you [the power of] provision. So seek from Allah provision and worship Him and be grateful to Him. To Him you will be returned.”
18  And if you [people] deny [the message] – already nations before you have denied. And there is not upon the Messenger except [the duty of] clear notification.
19  Have they not considered how Allah begins creation and then repeats it? Indeed that, for Allah, is easy.
20  Say, [O Muhammad], “Travel through the land and observe how He began creation. Then Allah will produce the final creation. Indeed Allah, over all things, is competent.”
21  He punishes whom He wills and has mercy upon whom He wills, and to Him you will be returned.
22  And you will not cause failure [to Allah] upon the earth or in the heaven. And you have not other than Allah any protector or any helper.
23  And the ones who disbelieve in the signs of Allah and the meeting with Him – those have despaired of My mercy, and they will have a painful punishment.
24  And the answer of Abraham’s people was not but that they said, “Kill him or burn him,” but Allah saved him from the fire. Indeed in that are signs for a people who believe.
25  And [Abraham] said, “You have only taken, other than Allah, idols as [a bond of] affection among you in worldly life. Then on the Day of Resurrection you will deny one another and curse one another, and your refuge will be the Fire, and you will not have any helpers.”
26  And Lot believed him. [Abraham] said, “Indeed, I will emigrate to [the service of] my Lord. Indeed, He is the Exalted in Might, the Wise.”
27  And We gave to Him Isaac and Jacob and placed in his descendants prophethood and scripture. And We gave him his reward in this world, and indeed, he is in the Hereafter among the righteous.
28  And [mention] Lot, when he said to his people, “Indeed, you commit such immorality as no one has preceded you with from among the worlds.
29  Indeed, you approach men and obstruct the road and commit in your meetings [every] evil.” And the answer of his people was not but they said, “Bring us the punishment of Allah, if you should be of the truthful.”
30  He said, “My Lord, support me against the corrupting people.”
31  And when Our messengers came to Abraham with the good tidings, they said, “Indeed, we will destroy the people of that Lot’s city. Indeed, its people have been wrongdoers.”
32  [Abraham] said, “Indeed, within it is Lot.” They said, “We are more knowing of who is within it. We will surely save him and his family, except his wife. She is to be of those who remain behind.”
33  And when Our messengers came to Lot, he was distressed for them and felt for them great discomfort. They said, “Fear not, nor grieve. Indeed, we will save you and your family, except your wife; she is to be of those who remain behind.
34  Indeed, we will bring down on the people of this city punishment from the sky because they have been defiantly disobedient.”
35  And We have certainly left of it a sign as clear evidence for a people who use reason.
36  And to Madyan [We sent] their brother Shu’ayb, and he said, “O my people, worship Allah and expect the Last Day and do not commit abuse on the earth, spreading corruption.”
37  But they denied him, so the earthquake seized them, and they became within their home [corpses] fallen prone.
38  And [We destroyed] ‘Aad and Thamud, and it has become clear to you from their [ruined] dwellings. And Satan had made pleasing to them their deeds and averted them from the path, and they were endowed with perception.
39  And [We destroyed] Qarun and Pharaoh and Haman. And Moses had already come to them with clear evidences, and they were arrogant in the land, but they were not outrunners [of Our punishment].
40  So each We seized for his sin; and among them were those upon whom We sent a storm of stones, and among them were those who were seized by the blast [from the sky], and among them were those whom We caused the earth to swallow, and among them were those whom We drowned. And Allah would not have wronged them, but it was they who were wronging themselves.
41  The example of those who take allies other than Allah is like that of the spider who takes a home. And indeed, the weakest of homes is the home of the spider, if they only knew.
42  Indeed, Allah knows whatever thing they call upon other than Him. And He is the Exalted in Might, the Wise.
43  And these examples We present to the people, but none will understand them except those of knowledge.
44  Allah created the heavens and the earth in truth. Indeed in that is a sign for the believers.
45  Recite, [O Muhammad], what has been revealed to you of the Book and establish prayer. Indeed, prayer prohibits immorality and wrongdoing, and the remembrance of Allah is greater. And Allah knows that which you do.
46  And do not argue with the People of the Scripture except in a way that is best, except for those who commit injustice among them, and say, “We believe in that which has been revealed to us and revealed to you. And our God and your God is one; and we are Muslims [in submission] to Him.”
47  And thus We have sent down to you the Qur’an. And those to whom We [previously] gave the Scripture believe in it. And among these [people of Makkah] are those who believe in it. And none reject Our verses except the disbelievers.
48  And you did not recite before it any scripture, nor did you inscribe one with your right hand. Otherwise the falsifiers would have had [cause for] doubt.
49  Rather, the Qur’an is distinct verses [preserved] within the breasts of those who have been given knowledge. And none reject Our verses except the wrongdoers.
50  But they say, “Why are not signs sent down to him from his Lord?” Say, “The signs are only with Allah, and I am only a clear warner.”
51  And is it not sufficient for them that We revealed to you the Book which is recited to them? Indeed in that is a mercy and reminder for a people who believe.
52  Say, “Sufficient is Allah between me and you as Witness. He knows what is in the heavens and earth. And they who have believed in falsehood and disbelieved in Allah – it is those who are the losers.”
53  And they urge you to hasten the punishment. And if not for [the decree of] a specified term, punishment would have reached them. But it will surely come to them suddenly while they perceive not.
54  They urge you to hasten the punishment. And indeed, Hell will be encompassing of the disbelievers
55  On the Day the punishment will cover them from above them and from below their feet and it is said, “Taste [the result of] what you used to do.”
56  O My servants who have believed, indeed My earth is spacious, so worship only Me.
57  Every soul will taste death. Then to Us will you be returned.
58  And those who have believed and done righteous deeds – We will surely assign to them of Paradise [elevated] chambers beneath which rivers flow, wherein they abide eternally. Excellent is the reward of the [righteous] workers
59  Who have been patient and upon their Lord rely.
60  And how many a creature carries not its [own] provision. Allah provides for it and for you. And He is the Hearing, the Knowing.
61  If you asked them, “Who created the heavens and earth and subjected the sun and the moon?” they would surely say, “Allah.” Then how are they deluded?
62  Allah extends provision for whom He wills of His servants and restricts for him. Indeed Allah is, of all things, Knowing.
63  And if you asked them, “Who sends down rain from the sky and gives life thereby to the earth after its lifelessness?” they would surely say ” Allah.” Say, “Praise to Allah “; but most of them do not reason.
64  And this worldly life is not but diversion and amusement. And indeed, the home of the Hereafter – that is the [eternal] life, if only they knew.
65  And when they board a ship, they supplicate Allah, sincere to Him in religion. But when He delivers them to the land, at once they associate others with Him
66  So that they will deny what We have granted them, and they will enjoy themselves. But they are going to know.
67  Have they not seen that We made [Makkah] a safe sanctuary, while people are being taken away all around them? Then in falsehood do they believe, and in the favor of Allah they disbelieve?
68  And who is more unjust than one who invents a lie about Allah or denies the truth when it has come to him? Is there not in Hell a [sufficient] residence for the disbelievers?
69  And those who strive for Us – We will surely guide them to Our ways. And indeed, Allah is with the doers of good.

 奉至仁至慈的真主之名

1  . 艾列弗,俩目,米目。
2  众人以为他们得自由地说:我们已信道了而不受考验吗?
3  我确已考验在他们之前的人。真主必定要知道说实话者,必定要知道说谎者。
4  难道做恶的人以为他们能逃出我的法网吗?他们的判定真恶劣!
5  凡希望会见真主者,谁都应当知道真主的期限是必定降临的,真主确是全聪的,确是全知的。
6  凡奋斗者,都只为自己而奋斗,真主确是无求于全世界的。
7  信道而且行善者,我必定勾销他们的罪恶,我必定以他们的行为的最优的报酬赏赐他们。
8  我曾命人孝敬父母;如果他俩勒令你用你所不知道的东西配我,那末,你不要服从他俩。你们要归于我,我要把你们的行为告诉你们。
9  信道行而且行善者,我必定使他们入于善人之列。
10  有些人说:我们已信真主了。当他们为真主而受迫害的时候,他们把众人的迫害当做真主的刑罚。如果援助从你们的主降临,他们必定说:我们确是与你们同在一起的。难道真主不是知道世人的胸襟的吗?
11  真主的确知道信道者,的确知道伪信者。
12  不信道的人对信道的人说:你们遵守我们的教道吧!让我们担负你们的罪过。其实,他们绝不能担负他们的一点罪过,他们确是说谎的。
13  他们必定担负自己的重担,再加上别的重担,复活日他们对于自己所伪造的谎言必受审问。
14  我确已派努哈去教化他的宗族,他在他们之间,逗留了九百五十年,洪水就袭击了他们,因为他们是不义的。
15  我拯救了他和与他同船的人,我以那为全世界的一个迹象。
16  (我确已派遣)易卜拉欣,当日,他对他的宗族说:你们应当崇拜真主,并当敬畏他,这对于你们是更好的。如果你们知道。
17  除真主外,你们只崇拜偶像,你们只捏造妄言。你们舍真主而崇拜的(偶像),不能主持你们的给养,所以,你们应当到真主那里寻求给养,你们应当崇拜他,你们应当感谢他,你们只被召归他。
18  如果你们否认(我),那末,在你们之前的许多民族,也否认过(他们的使者)。使者的责任只是明白地传达。
19  难道他们没有看见真主怎样创造众生,然后使他们复活吗?这对于真主是容易的。
20  . 你说:你们应当在大地上旅行,因而观察真主怎样创造众生,又怎样再造他们。真主对于万事确是全能的。
21  他惩罚他所意欲者,怜恤他所意欲者,你们只被召归于他。
22  你们无论在地上或天上,都不能逃避天谴,除真主外,你们没有任何监护者,也没有任何援助者。
23  不信真主的迹象及与真主会见的,这等人,对我的恩惠已绝望了,这等人,将受痛苦的刑罚。
24  他的宗族说:你们杀死他,或烧死他吧!这是他们唯一的答复。真主拯救他脱离烈火,对于信道的民众,此中确有许多迹象。
25  他说:你们舍真主而以偶像为神灵,只为今世生活中互相亲爱罢了。但在复活日,你们将互相抵赖,互相诅咒,你们的归宿是火狱,你们绝没有援助者。
26  鲁特就为他而信道。易卜拉欣说:我必定迁移到我的主那里去,他确是万能的,确是至睿的。
27  我赏赐他易斯哈格和叶尔孤白,我以预言和天经赏赐他的后裔,我把他在今世的报酬赏赐他,在后世必在善人之列。
28  (我曾派遣)鲁特,当日,他对他的宗族说:你们的确干丑事,在你们之前,全世界的人没有一个干过这种丑事的。
29  你们务必要将男做女,拦路作恶,当众宣淫吗?他的宗族说:你把真主的刑罚昭示我们吧,如果你是诚实的人。这是他们唯一的答复。
30  他说:我的主啊!求你助我,以对抗伤风败俗的人们。
31  当我的使者带着佳音来访易卜拉欣的时候,他们说:我们必定毁灭这个城市的居民。这个城市的居民,确是不义的。
32  他说:鲁特的确在这个城市里。他们说:我们知道在这个城市里的人,我们必定要拯救他和他的信徒,他的妻子除外,她是和其余的人同受刑罚的。
33  当我的使者来访鲁特的时候,他为他们而忧愁,他无法保护他们。他们说:你不要害怕,不要忧愁,我们必定拯救你和你的信徒,你的妻子除外,她是和其余的人同受刑罚的。
34  我必使天灾从天空降于这个城市的居民,那是由于他们的放荡。
35  我确已为能了解的民众而将这个城市的遗址留着做一个明显的迹象。
36  (我曾派遣)舒阿卜去教化麦德彦人,他就说:我的宗族啊!你们应当崇拜真主,应当畏惧末日,不要在地方上为非做歹,摆弄是非。
37  但他们否认他,地震就袭击了他们。顷刻之间,他们都僵卧在各人的家中。
38  (我曾毁灭)阿德人和赛莫德人,你们从他们居住的地方,确已明白他们被毁灭的情形。恶魔以他们的行为,迷惑他们而阻碍他们遵循正道,他们原来是能思维的。
39  (我曾毁灭)戈伦、法老和哈曼。穆萨曾昭示他们许多明证,但他们在地方上自大,他们未能逃避天谴。
40  每一个人,我都因他的罪过而加以惩罚,他们中有我曾使飞沙走石的暴风去伤害的,有为恐怖所袭击的,有我使他沦陷在地面下的,有被我溺杀的,真主不致亏枉他们,但他们亏枉了自己。
41  有些人,舍真主而别求监护者,他们譬如蜘蛛造屋,最脆弱的房屋,确是蜘蛛的房屋。假若他们认识这个道理,(就不会崇拜偶像了)。
42  真主的确知道他们舍他而祈祷的任何物,他是万能的,是至睿的。
43  这些譬喻,是我为众人而设的,只有学者能了解它。
44  真主本真理而创造天地,对于信道的人,此中确有一种迹象。
45  你应当宣读启示你的经典,你当谨守拜功,拜功的确能防止丑事和罪恶,记念真主确是一件更大的事。真主知道你们的做为。
46  除依最优的方式外,你们不要与信奉天经的人辩论,除非他们中不义的人。你们应当说:我们确信降示我们的经典,和降示你们的经典;我们所崇拜和你们所崇拜的是同一个神明,我们是归顺他的。
47  我这样把经典降示你,蒙我赏赐经典的人,有确信它的。这等人中,也有确信它的,只有不信道的人,否认我的迹象。
48  以前,你不会读书,也不会写字,(假若你会读书写字),那末,反对真理的人必定怀疑。
49  不然,这是我的明显的迹象,它保存在学者的胸中,只有不义的人否认我的迹象。
50  他们说:怎么没有一种迹象从他的主降临他呢?你说:迹象只在真主那里,我只是一个坦率的警告者。
51  我降示你这部经典,可以对他们常常宣读,难道还不能使他们满意吗?在这经典里对于信道的人确有恩惠和记念。
52  你说:真主做我和你之间的见证已经够了。他知道天地间的一切,确信邪神而不信真主者,确是亏折的。
53  他们要求你早日昭示刑罚,假若没有定期,那末刑罚必已降临他们。当他们不知不觉的时候,刑罚必定忽然降临他们。
54  他们要求你早日昭示刑罚。火狱必定是包围不信道者的。
55  在那日,刑罚将从他们的头上和脚下降临他们。他说:你们尝试你们的行为的果报吧!
56  我的信道的仆人们啊!我的大地确是宽大的,你们应当崇拜我。
57  每一个有息气的,都要尝死的滋味,然后,你们将被召归于我。
58  信道而且行善者,我必使他们在乐园中得居在下临诸河的楼上,他们将永居其中。工作者的报酬真好!
59  他们是坚忍的,他们只信托他们的主。
60  许多动物,不能担负自己的给养,真主供给他们和你们,他是全聪的,是全知的。
61  如果你问他们:谁创造了天地,制服了日月?他们必定说:真主。他们是如何荒谬的!
62  真主要使哪个仆人的给养宽裕,就使他宽裕,(要使哪个仆人的给养窘迫,)就使他窘迫,真主确是全知万事的。
63  如果你问他们:谁从云中降下雨水?而借雨水使已死的大地复活呢?他们必定说:真主。你说:一切赞颂全归真主!不然,他们大半是不了解的。
64  这种今世的生活,只是娱乐和游戏;后世的住宅,确是充满生活的。假若他们知道
65  当他们乘船的时候,他们诚恳地祈祷真主,当他使他们平安登陆的时候,他们立刻就以物配主。
66  叫他们孤负我赏赐吧,叫他们享乐吧。他们将来就知道了。
67  难道他们没有知道吗?我曾以他们的城市为安宁的禁地,而他们四周的居民被人劫掠。难道他们确信邪神,而孤负真主的恩惠吗?
68  假借真主的名义而造谣,或否认已降临的真理者,谁比他还不义呢?难道火狱里没有孤恩者的住处吗?
69  为我而奋斗的人,我必定指引他们我的道路,真主确是与善人同在一起的。

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  ‘lm.
2  Piensan los hombres que se les dejará decir: «¡Creemos!», sin ser probados?
3  Ya probamos a sus predecesores. Alá, sí, conoce perfectamente a los sinceros y conoce perfectamente a los que mienten.
4  ¿Piensan quienes obran mal que podrán escapar de Nosotros? ¡Qué mal juzgan!
5  Quien cuente con encontrar a Alá sepa que el plazo fijado por Alá vendrá ciertamente, Él es Quien todo lo oye, Quien todo lo sabe.
6  Quien combate por Alá combate, en realidad, en provecho propio. Alá, ciertamente, puede prescindir de las criaturas.
7  A quienes hayan creído y obrado bien les borraremos, sí, sus malas obras y les retribuiremos, sí, con arreglo a sus mejores obras.
8  Hemos ordenado al hombre que se porte bien con sus padres. Pero si éstos te insisten en que Me asocies algo de lo que no tienes conocimiento, ¡no les obedezcas! Volveréis a Mí y ya os informaré de lo que hacíais.
9  A quienes hayan creído y obrado bien hemos de hacer que entren a formar parte de los justos.
10  Hay algunos que dicen: «¡Creemos en Alá!» Pero, en cuanto sufren algo por Alá, toman la prueba a que los hombres les somenten como castigo de Alá. Si, en cambio, tu Señor les auxilia, seguro que dicen: «¡Estábamos con vosotros!» ¿Es que Alá no sabe bien lo que hay en los pechos de la Humanidad?
11  Alá, sí, conoce perfectamente a los que creen y conoce perfectamente a los hipócritas.
12  Los infieles dicen a los creyentes: «¡Seguid nuestro camino y cargaremos con vuestros pecados!» Pero, si ni con sus propios pecados cargan nada… ¡Mienten, ciertamente!
13  Llevarán, ciertamente, su carga juntamente con la ajena. El día de la Resurrección tendrán que responder de lo que se inventaban.
14  Enviamos Noé a su pueblo y permaneció con él durante mil años menos cincuenta. Luego, el diluvio les sorprendió en su impiedad.
15  Les salvamos, a él y a los de la nave, e hicimos de ella un signo para todo el mundo.
16  Y a Abraham. Cuando dijo a su pueblo: «¡Servid a Alá y temedle! Es mejor para vosotros. Si supierais…»
17  Servís, en lugar de servir a Alá, sólo ídolos, y creáis una mentira. Los que vosotros servís, en lugar de servir a Alá, no pueden procuraros sustento. ¡Buscad, pues, en Alá el sustento! ¡Servidle, dadle gracias! ¡A Él seréis devueltos!
18  Si desmentís, ya otras generaciones, antes de vosotros, desmintieron. Al Enviado sólo le incumbe la transmisión clara.
19  ¿Es que no ven cómo inicia Alá la creación y, luego, la repite? Es cosa fácil para Alá.
20  Di: «¡Id por la tierra y mirad cómo inició la creación! Luego, Alá creará por última vez. Alá es omnipotente».
21  Castiga a quien Él quiere y se apiada de quien Él quiere. A Él seréis devueltos.
22  No podéis escapar en la tierra ni en el cielo. No tenéis, fuera de Alá, amigo ni auxiliar.
23  Quienes no crean en los signos de Alá y en que Le encontrarán, ésos son quienes desesperarán de Mi misericordia, ésos son quienes sufrirán un castigo doloroso.
24  Lo único que respondió su pueblo fue: «¡Matadle o quemadle!» Pero Alá le libró del fuego. Ciertamente hay en ello signos para gente que cree.
25  Dijo: «Habéis tomado ídolos en lugar de tomar a Alá, sólo por el afecto mutuo que os tenéis en la vida de acá. Luego, el día de la Resurrección, renegaréis unos de otros y os maldeciréis mutuamente. Vuestra morada será el Fuego y no tendréis quien os auxilie».
26  Lot creyó en Él y dijo: «Me refugio en mi Señor. Él es el Poderoso, el Sabio».
27  Le regalamos Isaac y Jacob, e instituimos en su descendencia el profetismo y la Escritura. Le recompensamos en la vida de acá, y en la otra es de los justos.
28  Y a Lot. Cuando dijo a su pueblo: «Ciertamente cometéis una deshonestidad que ninguna criatura ha cometido antes.
29  ¿Os llegáis a los hombres, salteáis y cometéis actos reprobables en vuestras reuniones?». Lo único que respondió su pueblo fue: «¡Tráenos el castigo de Alá, si es verdad lo que dices!»
30  Dijo: «¡Señor! ¡Auxíliame contra el pueblo corruptor!»
31  Cuando Nuestros mensajeros vinieron a Abraham con la buena nueva, dijeron: «Vamos a hacer perecer a la población de esta ciudad. Son unos impíos».
32  Dijo: «Pero Lot está en ella». Dijeron: «Sabemos bien quién está en ella. Les salvaremos, ciertamente, a él y a su familia, excepto a su mujer, que será de los que se rezaguen».
33  Habiendo llegado nuestros mensajeros a Lot, éste se afligió por ellos y se sintió impotente para protegerles. Pero ellos dijeron: «¡No temas ni estés triste! Vamos a salvaros, a ti y a tu familia, excepto a tu mujer, que será de los que se rezaguen.
34  Vamos a hacer bajar un castigo del cielo sobre la población de esta ciudad, porque han sido unos perversos».
35  E hicimos de ella un signo claro para gente que razona.
36  A los madianitas su hermano Suayb. Dijo: «¡Pueblo! ¡Servid a Alá y contad con el último Día! ¡No obréis mal en la tierra corrompiendo!»
37  Le desmintieron y el Temblor les sorprendió, amaneciendo muertos en sus casas.
38  ¡Y a los aditas y a los tamudeos! Por sus viviendas se os muestra claramente… El Demonio engalanó sus obras y los apartó del Camino, a pesar de su perspicacia.
39  ¡Y a Coré, a Faraón y a Hamán! Moisés vino a ellos con las pruebas claras y ellos se condujeron en el país altivamente. Pero no consiguieron escapar.
40  Sorprendimos a cada uno por su pecado. Contra unos enviamos una tempestad de arena. A otros les sorprendió el Grito. A otros hicimos que la tierra se los tragara. A otros les anegamos. No fue Alá quien fue injusto con ellos, sino que ellos lo fueron consigo mismos.
41  Quienes toman amigos en lugar de tomar a Alá son semejantes a la araña que se ha hecho una casa. Y la casa más frágil es la de la araña. Si supieran…
42  Alá sabe todo lo que invocan en lugar de invocarle a Él. Es el Poderoso, el Sabio.
43  Proponemos estas parábolas a los hombres, pero no las comprenden sino los que saben.
44  Alá ha creado con un fin los cielos y la tierra. Ciertamente, hay en ello un signo para los creyentes.
45  ¡Recita lo que se te ha revelado de la Escritura ! ¡Haz la azalá! La azalá prohíbe la deshonestidad y lo reprobable. Pero el recuerdo de Alá es más importante aún. Alá sabe lo que hacéis.
46  No discutáis sino con buenos modales con la gente de la Escritura, excepto con los que hayan obrado impíamente. Y decid: «Creemos en lo que se nos ha revelado a nosotros y en lo que se os ha revelado a vosotros. Nuestro Dios y vuestro Dios es Uno. Y nos sometemos a él».
47  Y, así, te hemos revelado la Escritura. Aquéllos a quienes revelamos la Escritura creen en ella. Entre éstos hay algunos que creen en ella. Nadie rechaza Nuestros signos sino los infieles.
48  Tú no leías, antes de recibirla, ninguna Escritura, ni copiabas ninguna con tu diestra. Los falsarios, si no, habrían sospechado…
49  Antes bien, es un conjunto de aleyas claras en los pechos de quienes han recibido la Ciencia. No niegan Nuestros signos sino los impíos.
50  Dicen: «¿Por qué no se le han revelado signos procedentes de su Señor?» Di: «Sólo Alá dispone de los signos. Yo soy solamente un monitor que habla claro».
51  ¿Es que no les basta que te hayamos revelado la Escritura que se les recita? Hay en ello una misericordia y una amonestación para gente que cree.
52  Di: «¡Alá basta como testigo entre yo y vosotros! Conoce lo que está en los cielos y en la tierra. Quienes crean en lo falso y no crean en Alá, ésos serán los que pierdan».
53  Y te piden que adelantes el castigo. Si no fuera porque ha sido prefijado, les habría ya alcanzado. Les vendrá, en verdad, de repente, sin presentirlo.
54  Te piden que adelantes el castigo. Sí, la gehena cercará a los infieles.
55  El día que el castigo les cubra de pies a cabeza y diga: «¡Gustad el fruto de vuestras obras!»
56  ¡Siervos creyentes! ¡Mi tierra es vasta! ¡Servidme, pues, a Mí solo!
57  Cada uno gustará la muerte. Luego, seréis devueltos a Nosotros.
58  A quienes hayan creído y hecho el bien hemos de alojarles en el Jardín, eternamente, en cámaras altas, a cuyos pies fluyen arroyos. ¡Qué grata es la recompensa de los que obran bien,
59  que tienen paciencia y confían en su Señor!
60  ¡Cuántas bestias hay que no pueden proveerse del sustento! Alá se encarga de él y del vuestro. Él es Quien todo lo oye, Quien todo lo sabe.
61  Si les preguntas: «¿Quién ha creado los cielos y la tierra y sujetado el sol y la luna?», seguro que dicen: «¡Alá!» ¡Cómo pueden, pues, ser tan desviados!
62  Alá dispensa el sustento a quien Él quiere de Sus siervos: a unos con largueza, a otros con mesura. Alá es omnisciente.
63  Si les preguntas: «¿Quién hace bajar agua del cielo, vivificando con ella la tierra después de muerta?», seguro que dicen: «¡Alá!» Di: «¡Alabado sea Alá!» No, la mayoría no comprenden.
64  Esta vida de acá no es sino distracción y juego, pero la Morada Postrera, ésa sí que es la Vida. Si supieran…
65  Cuando se embarcan, invocan a Alá rindiéndole culto sincero. Pero, en cuanto les salva, llevándoles a tierra firme, al punto Le asocian otros dioses,
66  para terminar negando lo que les hemos dado. ¡Que gocen por breve tiempo! ¡Van a ver…!
67  ¿No ven que hemos hecho un territorio sagrado y seguro, mientras, alrededor de ellos, secuestran a la gente? ¿Creen, pues, en lo falso y no creerán en la gracia de Alá?
68  ¿Hay alguien que sea más impío que quien inventa una mentira contra Alá o que, cuando viene a él la Verdad, la desmiente? ¿No hay en la gehena una morada para los infieles?
69  A quienes hayan combatido por Nosotros ¡hemos de guiarles por Nuestros caminos! ¡Alá está, en verdad, con quienes hacen el bien!