Project Description

SABA

 شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے (جو سب چیزوں کا مالک ہے یعنی) وہ کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے۔ اور وہ حکمت والا خبردار ہے
۲  جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اُترتا ہے اور جو اس پر چڑھتا ہے سب اس کو معلوم ہے۔ اور وہ مہربان (اور) بخشنے والا ہے
۳  اور کافر کہتے ہیں کہ (قیامت کی) گھڑی ہم پر نہیں آئے گی۔ کہہ دو کیوں نہیں (آئے گی) میرے پروردگار کی قسم وہ تم پر ضرور آکر رہے گی (وہ پروردگار) غیب کا جاننے والا (ہے) ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں (نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور کوئی چیز ذرے سے چھوٹی یا بڑی ایسی نہیں مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے
۴  اس لئے کہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو بدلہ دے۔ یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے
۵  اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں کوشش کی کہ ہمیں ہرا دیں گے۔ ان کے لئے سخت درد دینے والے عذاب کی سزا ہے
۶  اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو (قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ حق ہے۔ اور (خدائے) غالب اور سزاوار تعریف کا رستہ بتاتا ہے
۷  اور کافر کہتے ہیں کہ بھلا ہم تمہیں ایسا آدمی بتائیں جو تمہیں خبر دیتا ہے کہ جب تم (مر کر) بالکل پارہ پارہ ہو جاؤ گے تو نئے سرے سے پیدا ہوگے
۸  یا تو اس نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے۔ یا اسے جنون ہے۔ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ آفت اور پرلے درجے کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں
۹  کیا انہوں نے اس کو نہیں دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے یعنی آسمان اور زمین۔ اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔ اس میں ہر بندے کے لئے جو رجوع کرنے والا ہے ایک نشانی ہے
۱۰  اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے برتری بخشی تھی۔ اے پہاڑو ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو (ان کا مسخر کردیا) اور ان کے لئے ہم نے لوہے کو نرم کردیا
۱۱  کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کو اندازے سے جوڑو اور نیک عمل کرو۔ جو عمل تم کرتے ہو میں ان کو دیکھنے والا ہوں
۱۲  اور ہوا کو (ہم نے) سلیمان کا تابع کردیا تھا اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی راہ ہوتی اور شام کی منزل بھی مہینے بھر کی ہوتی۔ اور ان کے لئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا اور جِنّوں میں سے ایسے تھے جو ان کے پروردگار کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے۔ اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا اس کو ہم (جہنم کی) آگ کا مزہ چکھائیں گے
۱۳  وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد (میرا) شکر کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں
۱۴  پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا۔ جب عصا گر پڑا تب جنوں کو معلوم ہوا (اور کہنے لگے) کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے
۱۵  (اہل) سبا کے لئے ان کے مقام بودوباش میں ایک نشانی تھی (یعنی) دو باغ (ایک) داہنی طرف اور (ایک) بائیں طرف۔ اپنے پروردگار کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر کرو۔ (یہاں تمہارے رہنے کو یہ) پاکیزہ شہر ہے اور (وہاں بخشنے کو) خدائے غفار
۱۶  تو انہوں نے (شکرگزاری سے) منہ پھیر لیا پس ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا اور انہیں ان کے باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیئے جن کے میوے بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں
۱۷  یہ ہم نے ان کی ناشکری کی ان کو سزا دی۔ اور ہم سزا ناشکرے ہی کو دیا کرتے ہیں
۱۸  اور ہم نے ان کے اور (شام کی) ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی (ایک دوسرے کے متصل) دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد ورفت کا اندازہ مقرر کردیا تھا کہ رات دن بےخوف وخطر چلتے رہو
۱۹  تو انہوں نے دعا کی کہ اے پروردگار ہماری مسافتوں میں بُعد (اور طول پیدا) کردے اور (اس سے) انہوں نے اپنے حق میں ظلم کیا تو ہم نے (انہیں نابود کرکے) ان کے افسانے بنادیئے اور انہیں بالکل منتشر کردیا۔ اس میں ہر صابر وشاکر کے لئے نشانیاں ہیں
۲۰  اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا کہ مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے
۲۱  اور اس کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر (ہمارا) مقصود یہ تھا کہ جو لوگ آخرت میں شک رکھتے ہیں ان سے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان رکھتے تھے متمیز کردیں۔ اور تمہارا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے
۲۲  کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) خیال کرتے ہو ان کو بلاؤ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ان میں ان کی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی خدا کا مددگار ہے
۲۳  اور خدا کے ہاں (کسی کے لئے) سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لئے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے اضطراب دور کردیا جائے گا تو کہیں گے تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے۔ (فرشتے) کہیں گے کہ حق (فرمایا ہے) اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے
۲۴  پوچھو کہ تم کو آسمانوں اور زمین سے کون رزق دیتا ہے؟ کہو کہ خدا اور ہم یا تم (یا تو) سیدھے رستے پر ہیں یا صریح گمراہی میں
۲۵  کہہ دو کہ نہ ہمارے گناہوں کی تم سے پرسش ہوگی اور نہ تمہارے اعمال کی ہم سے پرسش ہوگی
۲۶  کہہ دو کہ ہمارا پروردگار ہم کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے گا۔ اور وہ خوب فیصلہ کرنے والا اور صاحب علم ہے
۲۷  کہو کہ مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے شریک (خدا) بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے۔ کوئی نہیں بلکہ وہی (اکیلا) خدا غالب (اور) حکمت والا ہے
۲۸  اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
۲۹  اور کہتے ہیں اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ (قیامت کا) وعدہ کب وقوع میں آئے گا
۳۰  کہہ دو کہ تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے نہ ایک گھڑی پیچھے رہوگے اور نہ آگے بڑھو گے
۳۱  اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان (کتابوں) کو جو ان سے پہلے کی ہیں اور کاش (ان) ظالموں کو تم اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے سے ردوکد کر رہے ہوں گے۔ جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے
۳۲  بڑے لوگ کمزوروں سے کہیں گے کہ بھلا ہم نے تم کو ہدایت سے جب وہ تمہارے پاس آچکی تھی روکا تھا؟ (نہیں) بلکہ تم ہی گنہگار تھے
۳۳  اور کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے (نہیں) بلکہ (تمہاری) رات دن کی چالوں نے (ہمیں روک رکھا تھا) جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم خدا سے کفر کریں اور اس کا شریک بنائیں۔ اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔ اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ بس جو عمل وہ کرتے تھے ان ہی کا ان کو بدلہ ملے گا
۳۴  اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوش حال لوگوں نے کہا کہ جو چیز تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کے قائل نہیں
۳۵  اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ ہم بہت سا مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم کو عذاب نہیں ہوگا
۳۶  کہہ دو کہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
۳۷  اور تمہارا مال اور اولاد ایسی چیز نہیں کہ تم کو ہمارا مقرب بنا دیں۔ ہاں (ہمارا مقرب وہ ہے) جو ایمان لایا اور عمل نیک کرتا رہا۔ ایسے ہی لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب دگنا بدلہ ملے گا اور وہ خاطر جمع سے بالاخانوں میں بیٹھے ہوں گے
۳۸  جو لوگ ہماری آیتوں میں کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ہرا دیں وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے
۳۹  کہہ دو کہ میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے اور تم جو چیز خرچ کرو گے وہ اس کا (تمہیں) عوض دے گا۔ اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے
۴۰  اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تم کو پوجا کرتے تھے
۴۱  وہ کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے۔ نہ یہ۔ بلکہ یہ جِنّات کو پوجا کرتے تھے۔ اور اکثر انہی کو مانتے تھے
۴۲  تو آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ دوزخ کے عذاب کا جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے مزہ چکھو
۴۳  اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک (ایسا) شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض جھوٹ ہے (جو اپنی طرف سے) بنا لیا گیا ہے۔ اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے
۴۴  اور ہم نے نہ تو ان (مشرکوں) کو کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا بھیجا مگر انہوں نے تکذیب کی
۴۵  اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے تو انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ سو میرا عذاب کیسا ہوا
۴۶  کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو۔ تمہارے رفیق کو سودا نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں
۴۷  کہہ دو کہ میں نے تم سے کچھ صلہ مانگا ہو تو وہ تم ہی کو (مبارک رہے) ۔ میرا صلہ خدا ہی کے ذمے ہے۔ اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے
۴۸  کہہ دو کہ میرا پروردگار اوپر سے حق اُتارتا ہے (اور وہ) غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے
۴۹  کہہ دو کہ حق آچکا اور (معبود) باطل نہ تو پہلی بار پیدا کرسکتا ہے اور نہ دوبارہ پیدا کرے گا
۵۰  کہہ دو کہ اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی کا ضرر مجھی کو ہے۔ اور اگر ہدایت پر ہوں تو یہ اس کا طفیل ہے جو میرا پروردگار میری طرف وحی بھیجتا ہے۔ بےشک وہ سننے والا (اور) نزدیک ہے
۵۱  اور کاش تم دیکھو جب یہ گھبرا جائیں گے تو (عذاب سے) بچ نہیں سکیں گے اور نزدیک ہی سے پکڑ لئے جائیں گے
۵۲  اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لے آئے اور (اب) اتنی دور سے ان کا ہاتھ ایمان کے لینے کو کیونکر پہنچ سکتا ہے
۵۳  اور پہلے تو اس سے انکار کرتے رہے اور بن دیکھے دور ہی سے (ظن کے) تیر چلاتے رہے
۵۴  اور ان میں اور ان کی خواہش کی چیزوں میں پردہ حائل کردیا گیا جیسا کہ پہلے ان کے ہم جنسوں سے کیا گیا وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْآخِرَةِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
٢  يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ۚ وَهُوَ الرَّحِيمُ الْغَفُورُ
٣  وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ ۖ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ عَالِمِ الْغَيْبِ ۖ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرُ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
٤  لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ
٥  وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آيَاتِنَا مُعَاجِزِينَ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ
٦  وَيَرَى الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ الَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ هُوَ الْحَقَّ وَيَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ
٧  وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ
٨  أَفْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ ۗ بَلِ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ فِي الْعَذَابِ وَالضَّلَالِ الْبَعِيدِ
٩  أَفَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنْ نَشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِكُلِّ عَبْدٍ مُنِيبٍ
١٠  وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا ۖ يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ
١١  أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ ۖ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
١٢  وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ ۖ وَأَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ ۖ وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ ۖ وَمَنْ يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ
١٣  يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِنْ مَحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَاسِيَاتٍ ۚ اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا ۚ وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ
١٤  فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَىٰ مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ ۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَنْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ
١٥  لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ ۖ جَنَّتَانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمَالٍ ۖ كُلُوا مِنْ رِزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ ۚ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ
١٦  فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنَاهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَيْ أُكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَيْءٍ مِنْ سِدْرٍ قَلِيلٍ
١٧  ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُمْ بِمَا كَفَرُوا ۖ وَهَلْ نُجَازِي إِلَّا الْكَفُورَ
١٨  وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ ۖ سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ
١٩  فَقَالُوا رَبَّنَا بَاعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَّقْنَاهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ
٢٠  وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
٢١  وَمَا كَانَ لَهُ عَلَيْهِمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يُؤْمِنُ بِالْآخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِي شَكٍّ ۗ وَرَبُّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ
٢٢  قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُمْ مِنْ ظَهِيرٍ
٢٣  وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ ۚ حَتَّىٰ إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ۖ قَالُوا الْحَقَّ ۖ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ
٢٤  قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ قُلِ اللَّهُ ۖ وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
٢٥  قُلْ لَا تُسْأَلُونَ عَمَّا أَجْرَمْنَا وَلَا نُسْأَلُ عَمَّا تَعْمَلُونَ
٢٦  قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ
٢٧  قُلْ أَرُونِيَ الَّذِينَ أَلْحَقْتُمْ بِهِ شُرَكَاءَ ۖ كَلَّا ۚ بَلْ هُوَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
٢٨  وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
٢٩  وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
٣٠  قُلْ لَكُمْ مِيعَادُ يَوْمٍ لَا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ
٣١  وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ نُؤْمِنَ بِهَٰذَا الْقُرْآنِ وَلَا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلَا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ
٣٢  قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُمْ ۖ بَلْ كُنْتُمْ مُجْرِمِينَ
٣٣  وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَنْ نَكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَنْدَادًا ۚ وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
٣٤  وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُمْ بِهِ كَافِرُونَ
٣٥  وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
٣٦  قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
٣٧  وَمَا أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفَىٰ إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِي الْغُرُفَاتِ آمِنُونَ
٣٨  وَالَّذِينَ يَسْعَوْنَ فِي آيَاتِنَا مُعَاجِزِينَ أُولَٰئِكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُونَ
٣٩  قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ ۚ وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
٤٠  وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ أَهَٰؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ
٤١  قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُونِهِمْ ۖ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ ۖ أَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُؤْمِنُونَ
٤٢  فَالْيَوْمَ لَا يَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَفْعًا وَلَا ضَرًّا وَنَقُولُ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّتِي كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُونَ
٤٣  وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالُوا مَا هَٰذَا إِلَّا رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ وَقَالُوا مَا هَٰذَا إِلَّا إِفْكٌ مُفْتَرًى ۚ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ
٤٤  وَمَا آتَيْنَاهُمْ مِنْ كُتُبٍ يَدْرُسُونَهَا ۖ وَمَا أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَذِيرٍ
٤٥  وَكَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَمَا بَلَغُوا مِعْشَارَ مَا آتَيْنَاهُمْ فَكَذَّبُوا رُسُلِي ۖ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ
٤٦  قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ ۖ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا ۚ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
٤٧  قُلْ مَا سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
٤٨  قُلْ إِنَّ رَبِّي يَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَّامُ الْغُيُوبِ
٤٩  قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ
٥٠  قُلْ إِنْ ضَلَلْتُ فَإِنَّمَا أَضِلُّ عَلَىٰ نَفْسِي ۖ وَإِنِ اهْتَدَيْتُ فَبِمَا يُوحِي إِلَيَّ رَبِّي ۚ إِنَّهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ
٥١  وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ فَزِعُوا فَلَا فَوْتَ وَأُخِذُوا مِنْ مَكَانٍ قَرِيبٍ
٥٢  وَقَالُوا آمَنَّا بِهِ وَأَنَّىٰ لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ
٥٣  وَقَدْ كَفَرُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ ۖ وَيَقْذِفُونَ بِالْغَيْبِ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ
٥٤  وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِمْ مِنْ قَبْلُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُرِيبٍ

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  [All] praise is [due] to Allah, to whom belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth, and to Him belongs [all] praise in the Hereafter. And He is the Wise, the Acquainted.
2  He knows what penetrates into the earth and what emerges from it and what descends from the heaven and what ascends therein. And He is the Merciful, the Forgiving.
3  But those who disbelieve say, “The Hour will not come to us.” Say, “Yes, by my Lord, it will surely come to you. [Allah is] the Knower of the unseen.” Not absent from Him is an atom’s weight within the heavens or within the earth or [what is] smaller than that or greater, except that it is in a clear register –
4  That He may reward those who believe and do righteous deeds. Those will have forgiveness and noble provision.
5  But those who strive against Our verses [seeking] to cause failure – for them will be a painful punishment of foul nature.
6  And those who have been given knowledge see that what is revealed to you from your Lord is the truth, and it guides to the path of the Exalted in Might, the Praiseworthy.
7  But those who disbelieve say, “Shall we direct you to a man who will inform you [that] when you have disintegrated in complete disintegration, you will [then] be [recreated] in a new creation?
8  Has he invented about Allah a lie or is there in him madness?” Rather, they who do not believe in the Hereafter will be in the punishment and [are in] extreme error.
9  Then, do they not look at what is before them and what is behind them of the heaven and earth? If We should will, We could cause the earth to swallow them or [could] let fall upon them fragments from the sky. Indeed in that is a sign for every servant turning back [to Allah].
10  And We certainly gave David from Us bounty. [We said], “O mountains, repeat [Our] praises with him, and the birds [as well].” And We made pliable for him iron,
11  [Commanding him], “Make full coats of mail and calculate [precisely] the links, and work [all of you] righteousness. Indeed I, of what you do, am Seeing.”
12  And to Solomon [We subjected] the wind – its morning [journey was that of] a month – and its afternoon [journey was that of] a month, and We made flow for him a spring of [liquid] copper. And among the jinn were those who worked for him by the permission of his Lord. And whoever deviated among them from Our command – We will make him taste of the punishment of the Blaze.
13  They made for him what he willed of elevated chambers, statues, bowls like reservoirs, and stationary kettles. [We said], “Work, O family of David, in gratitude.” And few of My servants are grateful.
14  And when We decreed for Solomon death, nothing indicated to the jinn his death except a creature of the earth eating his staff. But when he fell, it became clear to the jinn that if they had known the unseen, they would not have remained in humiliating punishment.
15  There was for [the tribe of] Saba’ in their dwelling place a sign: two [fields of] gardens on the right and on the left. [They were told], “Eat from the provisions of your Lord and be grateful to Him. A good land [have you], and a forgiving Lord.”
16  But they turned away [refusing], so We sent upon them the flood of the dam, and We replaced their two [fields of] gardens with gardens of bitter fruit, tamarisks and something of sparse lote trees.
17  [By] that We repaid them because they disbelieved. And do We [thus] repay except the ungrateful?
18  And We placed between them and the cities which We had blessed [many] visible cities. And We determined between them the [distances of] journey, [saying], “Travel between them by night or day in safety.”
19  But [insolently] they said, “Our Lord, lengthen the distance between our journeys,” and wronged themselves, so We made them narrations and dispersed them in total dispersion. Indeed in that are signs for everyone patient and grateful.
20  And Iblees had already confirmed through them his assumption, so they followed him, except for a party of believers.
21  And he had over them no authority except [it was decreed] that We might make evident who believes in the Hereafter from who is thereof in doubt. And your Lord, over all things, is Guardian.
22  Say, [O Muhammad], “Invoke those you claim [as deities] besides Allah.” They do not possess an atom’s weight [of ability] in the heavens or on the earth, and they do not have therein any partnership [with Him], nor is there for Him from among them any assistant.
23  And intercession does not benefit with Him except for one whom He permits. [And those wait] until, when terror is removed from their hearts, they will say [to one another], “What has your Lord said?” They will say, “The truth.” And He is the Most High, the Grand.
24  Say, “Who provides for you from the heavens and the earth?” Say, “Allah. And indeed, we or you are either upon guidance or in clear error.”
25  Say, “You will not be asked about what we committed, and we will not be asked about what you do.”
26  Say, “Our Lord will bring us together; then He will judge between us in truth. And He is the Knowing Judge.”
27  Say, “Show me those whom you have attached to Him as partners. No! Rather, He [alone] is Allah, the Exalted in Might, the Wise.”
28  And We have not sent you except comprehensively to mankind as a bringer of good tidings and a warner. But most of the people do not know.
29  And they say, “When is this promise, if you should be truthful?”
30  Say, “For you is the appointment of a Day [when] you will not remain thereafter an hour, nor will you precede [it].”
31  And those who disbelieve say, “We will never believe in this Qur’an nor in that before it.” But if you could see when the wrongdoers are made to stand before their Lord, refuting each other’s words… Those who were oppressed will say to those who were arrogant, “If not for you, we would have been believers.”
32  Those who were arrogant will say to those who were oppressed, “Did we avert you from guidance after it had come to you? Rather, you were criminals.”
33  Those who were oppressed will say to those who were arrogant, “Rather, [it was your] conspiracy of night and day when you were ordering us to disbelieve in Allah and attribute to Him equals.” But they will [all] confide regret when they see the punishment; and We will put shackles on the necks of those who disbelieved. Will they be recompensed except for what they used to do?
34  And We did not send into a city any warner except that its affluent said, “Indeed we, in that with which you were sent, are disbelievers.”
35  And they said, “We are more [than the believers] in wealth and children, and we are not to be punished.”
36  Say, “Indeed, my Lord extends provision for whom He wills and restricts [it], but most of the people do not know.”
37  And it is not your wealth or your children that bring you nearer to Us in position, but it is [by being] one who has believed and done righteousness. For them there will be the double reward for what they did, and they will be in the upper chambers [of Paradise], safe [and secure].
38  And the ones who strive against Our verses to cause [them] failure – those will be brought into the punishment [to remain].
39  Say, “Indeed, my Lord extends provision for whom He wills of His servants and restricts [it] for him. But whatever thing you spend [in His cause] – He will compensate it; and He is the best of providers.”
40  And [mention] the Day when He will gather them all and then say to the angels, “Did these [people] used to worship you?”
41  They will say, “Exalted are You! You, [O Allah], are our benefactor not them. Rather, they used to worship the jinn; most of them were believers in them.”
42  But today you do not hold for one another [the power of] benefit or harm, and We will say to those who wronged, “Taste the punishment of the Fire, which you used to deny.”
43  And when our verses are recited to them as clear evidences, they say, “This is not but a man who wishes to avert you from that which your fathers were worshipping.” And they say, “This is not except a lie invented.” And those who disbelieve say of the truth when it has come to them, “This is not but obvious magic.”
44  And We had not given them any scriptures which they could study, and We had not sent to them before you, [O Muhammad], any warner.
45  And those before them denied, and the people of Makkah have not attained a tenth of what We had given them. But the former peoples denied My messengers, so how [terrible] was My reproach.
46  Say, “I only advise you of one [thing] – that you stand for Allah, [seeking truth] in pairs and individually, and then give thought.” There is not in your companion any madness. He is only a warner to you before a severe punishment.
47  Say, “Whatever payment I might have asked of you – it is yours. My payment is only from Allah, and He is, over all things, Witness.”
48  Say, “Indeed, my Lord projects the truth. Knower of the unseen.”
49  Say, “The truth has come, and falsehood can neither begin [anything] nor repeat [it].”
50  Say, “If I should err, I would only err against myself. But if I am guided, it is by what my Lord reveals to me. Indeed, He is Hearing and near.”
51  And if you could see when they are terrified but there is no escape, and they will be seized from a place nearby.
52  And they will [then] say, “We believe in it!” But how for them will be the taking [of faith] from a place far away?
53  And they had already disbelieved in it before and would assault the unseen from a place far away.
54  And prevention will be placed between them and what they desire, as was done with their kind before. Indeed, they were in disquieting denial.

奉至仁至慈的真主之名

1  . 一切赞颂,全归真主!天地万物,都是他的。后世的赞颂,只归于他。他是至睿的,是彻知的。
2  他知道潜入地下的,从地下发出的,从天上降下的,升到天上的。他是至慈的,是至赦的。
3  不信道的人们说:复活时不会来临我们。你说:不然。指我的主发誓,它必来临你们。我的主是全知幽玄的,天地间微尘重的重物,不能远离他;比那更小的,和更大的,无一件不记录在一本明白的经典中。
4  以便他在复活时报酬信道而行善的人们。这等人,将获赦宥和优厚的给养。
5  竭力反对我的迹象以为已经成功的人,将受痛苦的刑罚。
6  有学识的人们,知道从你的主降示你的经典,确是真理,能指示(世人走上)万能的、可颂的主的大道。
7  不信道的人们说:我们指示你们一个人好吗?他会告诉你们,当你们被粉碎之后,你们必定要被再造。
8  他假借真主的名义而捏造呢?还是他有疯病?不然!不信后世的人们是在刑罚和深深的迷误中。
9  难道他们没有观察在他们上面和下面的天地吗?如果我意欲,我必使他们沦陷在地面下,或使天一块一块地落在他们的头上。对于每一个归依的仆人,此中确有一种迹象。
10  我确已赏赐达五德从我发出的恩惠。群山啊!众鸟啊!你们应当和着他赞颂,我为他使铁柔软,
11  我对他说:你应当制造完善的铠甲,你应当定好铠甲的宽度。你们应当行善,我确是明察你们的行为的。
12  我曾使风供素莱曼的驱使,风在上午走一月的路程,在下午也走一月的路程。我为他使熔铜象泉水样涌出。有些精灵奉主的命令在他的面前工作;谁违背了我的命令,我就使谁尝试烈火的刑罚。
13  他们为他修建他所欲修建的宫殿、雕像、水池般的大盘、固定的大锅。(我说):达五德的家属啊!你们应当感谢。我的仆人中,感谢者是很少的。
14  我决定他死亡的时候,只有持他的手杖的柱虫,指示他们他已经死了。当他倒下的时候,精灵们恍然大悟:假若他们能知幽玄,那末,他们未曾逗留在凌辱的刑罚中。
15  赛伯邑族,在他们的居处,确有一种迹象:两个园圃,分列左右。你们可以吃你们的主的给养,你们要感谢他。一个肥美的地方,一个至赦的主宰。
16  随后,他们悖逆,所以我使水库的急流去淹没他们,我把他们的两个园圃,变成两个只生长苦果、柽柳,和些微的酸枣树的园圃。
17  我因他们的忘恩而以这报酬他们,我只惩罚忘恩的人。
18  我在他们与我所福佑的那些城市之间,建设了许多显著的城市,我均分各站间的距离。你们在其间平安地旅行若干昼夜吧!
19  然后,他们说:我们的主啊!求你放长各站之间的距离。他们自欺,所以我以他们为谈助。我使他们流离失所。对于每个多忍多谢的人,此中确有许多迹象。
20  . 易卜劣斯确已发现他对他们的猜测是正确的,因为他们都追随他;只有一伙信士除外。
21  . 他对他们所以有权力者,只为我要辨别谁是信仰后世的,谁是怀疑后世的。你的主,是万物的监护者。
22  你说:你们舍真主而认作神灵的,你们祈祷他们吧:他们不能管理天地间微尘之重的事物,他们丝毫不能参与天地的造化。真主不以他们中的任何一个为助手。
23  除真主所许可者外,在真主那里,说情将无裨益。直到他们心中的恐惧被排除的时候,他们才说:你们的主说了什么?他们说:真理。他确是至尊的,确是至大的。
24  你说:谁从天上和地下供给你们?你说:真主。我们或你们,是在正道上的、或是在显著的迷误中的。
25  你说:对于我们所犯的罪,你们不受审问;对于你们所做的事,我们也不受审问。
26  你说:我们的主,将召集我们,然后,依真理而为我们裁判,他确是最善于裁判的,确是全知的。
27  你说:你们告诉我,你们所称为他的伙伴的。决不能的。不然,他是真主,是万能的,是至睿的。
28  我只派遣你为全人类的报喜者和警告者,但世人大半不知道。
29  他们说:如果你是说实话的,这个警告什么时候实现呢?
30  你说:你们的约期是有时日的,你们不得稍稍迟到,也不得稍稍早到。
31  不信道的人们说:我们决不信这《古兰经》,也不信以前的经典。假若你得见不义的人们被拘留在他们的主那里的时候,他们互相辩驳,被欺负的人们将对骄傲的人们说:假若没有你们,我们必定是信道的。
32  骄傲的人们将对被欺负的人们说:当正道来临你们的时候,我们曾妨碍你们遵循正道吗?不然,你们自愿做犯罪。
33  被欺负的人们将对骄傲的人们说:不然!这是你们昼夜的计谋。当时,你们教我们不信真主,却为他树立许多匹敌。当他们看见刑罚的时候,他们表示悔恨。我要反枷锁放在在信道者的脖子上,他们只受他们的行为的报酬。
34  每逢我派遣警告者到一个城市去,其中豪华的人们总是说:我们的确不信你的使命。
35  他们说:我人财产更富,儿子更多,我人将来绝不针受惩罚。
36  你说:我的主欲使谁的给养宽裕,就使他宽裕;欲使谁的给养窘迫,就使他窘迫。但众人大半不知道。
37  你们的财产、你们的儿子,都不能使你们稍稍地亲近我;但信道而且行善的人们,将因他们的行为而受加倍的报酬,他们将安居于楼上。
38  竭力反对我的迹象的人们,将被拘禁在刑罚中。
39  你说:我的主,的确欲使哪个仆人的给养宽裕,就使他宽裕;欲使哪个仆人的给养窘迫,就使他窘迫。你们所施舍的东西,他将补偿它;他是最优的供给者。
40  在那日,他要将他们统统集合起来,然后对天神们说:这些人崇拜过你们吗?
41  他们说:我们赞颂你超绝万物!你是我们的主,他们不是我们的奴仆。他们却是崇拜精灵的,他们大半信仰精灵。
42  今日,他们不能互利,也不能相害;我将对不义的人们说:你们尝试你们所否认的火刑吧!
43  有人对他们宣读我的明白的迹象时,他们说:这个人只想妨碍你们崇拜你们的祖先所崇拜的偶像。他们又说:这只是捏造的谎言。当真理来临的时候,不信道的人们说:这只是一种明显的魔术。
44  我没有把他们的能诵习的任何经典赏赐他们,在你之前,我没有派遣任何警告者去教化他们。
45  在他们之前逝去的人们曾否认真理,他们没有达到我所赐予前人的十分之一,但前人否认我的使者们,我的谴责是怎样的?
46  你说:我只以一件事劝导你们,你们应当为真主而双双地或单独地站起来,然后思维。你们的同乡,绝无疯病。在严厉的刑罚来临之前,他对你们只是一个警告者。
47  你说:我不向你们索取什么报酬,它全归你们;我的报酬,只归真主负担。他是见证万物的。
48  你说:我的主,以真理射击虚伪,他是全知幽玄的。
49  你说:真理已来临了,虚伪将幻灭,而不复出。
50  你说:如果我误入歧途,则我自受其害;如果我遵循正道,则由于我的主所启示的经典。他确是全聪的,确是临近的。
51  假若你得见当时他们恐怖而无处逃避,在一个不远的地方被逮捕。
52  他们将说:我们已信仰他了。他们怎能从遥远的地方获得信仰呢?
53  他们以前不信仰他,他们从遥远的地方妄谈幽玄,
54  他们将因障碍而不能获得他们所欲望的。犹如他们的同类以前受障碍一样,他们确在烦恼的疑虑中。

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  ¡Alabado sea Alá, a Quien pertenece lo que está en los cielos y en la tierra! ¡Alabado sea también en la otra vida! Él es el Sabio, el Bien Informado.
2  Sabe lo que penetra en la tierra y lo que de ella sale, lo que desciende del cielo y lo que a él asciende. Él es el Misericordioso, el Indulgente.
3  Los infieles dicen: «La Hora no nos llegará». Di: «¡Claro que sí! ¡Por mi Señor, el Conocedor de lo oculto, que ha de llegaros! No se Le pasa desapercibido el peso de un átomo en los cielos ni en la tierra. No hay nada, menor o mayor que eso, que no esté en una Escritura clara,
4  para retribuir a los que creyeron y obraron bien. Esos tales tendrán perdón y generoso sustento.
5  Quienes, en cambio, se hayan esforzado por dejar sin efecto Nuestros signos, tendrán el castigo de un suplicio doloroso».
6  Quienes han recibido la Ciencia ven que lo que tu Señor te ha revelado es la Verdad y dirige a la vía del Poderoso, del Digno de Alabanza.
7  Los infieles dicen: «¿Queréis que os indiquemos un hombre que os anuncie que, cuando estéis completamente descompuestos, de verdad se os creará de nuevo?»
8  ¿Ha inventado una mentira contra Alá o es un poseso? ¡No, no es así! Los que no creen en la otra vida están destinados al castigo y profundamente extraviados.
9  ¿Es que no ven lo que les rodea en los cielos y en la tierra? Si quisiéramos, haríamos que la tierra se los tragara o que cayera sobre ellos parte del cielo. Ciertamente, hay en ello un signo para todo siervo arrepentido.
10  Dimos a David un favor Nuestro: «¡Montañas! ¡Resonad acompañándole, y vosotros también, pájaros!» Por él, hicimos blando el hierro.
11  «¡Fabrica cotas de malla y mide bien la malla!» ¡Obrad bien! Yo veo bien lo que hacéis.
12  A Salomón el viento, que por la mañana hacía el camino de un mes y por la tarde de otro mes. Hicimos manar para él la fuente de bronce fundido. De los genios, algunos trabajaban a su servicio, con permiso de su Señor. Al que hubiera desobedecido Nuestras órdenes, le habríamos hecho gustar el castigo del fuego de la gehena.
13  Le hacían todo lo que él quería: palacios, estatuas, calderos grandes como cisternas, firmes marmitas. ¡Familiares de David, sed agradecidos! Pero pocos de Mis siervos son muy agradecidos.
14  Y cuando decretamos su muerte, no tuvieron más indicio de ella que la carcoma, que se puso a roer su cayado. Y, cuando se desplomó, vieron claramente los genios que, si hubieran conocido lo oculto, no habrían permanecido tanto tiempo en el humillante castigo.
15  Los saba tenían un signo en su territorio: dos jardines, uno a la derecha y otro a la izquierda. «¡Comed del sustento de vuestro Señor y dadle gracias! Tenéis un buen país y un Señor indulgente».
16  Pero se desviaron y enviamos contra ellos la inundación de los diques. Y les cambiamos aquellos dos jardines por otros dos que producían frutos amargos, tamariscos y unos pocos azufaifos.
17  Así les retribuimos por su ingratitud. No castigamos sino al desagradecido.
18  Entre ellos y las ciudades que Nosotros hemos bendecido establecimos otras ciudades, cerca unas de otras, y determinamos el tránsito entre ellas: «¡Id de una a otra, de día o de noche, en seguridad!»
19  Pero dijeron: «¡Señor! ¡Alarga nuestros recorridos!» Y fueron injustos consigo mismos. Los hicimos legendarios y los dispersamos por todas partes. Ciertamente, hay en ello signos para todo aquél que tenga mucha paciencia, mucha gratitud.
20  Iblis confirmó la opinión que se había formado de ellos. Le siguieron todos, menos un grupo de creyentes.
21  No tenía poder sobre ellos. Queríamos sólo distinguir a los que creían en la otra vida de los que dudaban de ella. Tu Señor cuida de todo.
22  Di: «Invocad a los que, en lugar de Alá, pretendéis. No pueden el peso de un átomo en los cielos ni en la tierra, ni tienen allí participación, ni Él encuentra en ellos ayuda.
23  Es inútil interceder por nadie ante Él, excepto por quien Él lo permita. Hasta que, cuando el terror haya desaparecido de sus corazones, digan: ‘¿Qué ha dicho vuestro Señor?’ Dirán: ‘La verdad’ Él es el Altísimo, el Grande».
24  Di: «¿Quién os procura el sustento de los cielos y de la tierra?» Di: «¡Alá! O nosotros o vosotros, unos siguen la buena dirección y otros están evidentemente extraviados».
25  Di: «Ni vosotros tendréis que responder de nuestros delitos, ni nosotros de lo que hagáis».
26  Di: «Nuestro Señor nos reunirá y fallará entre nosotros según justicia. Él es Quien falla, el Omnisciente».
27  Di: «Mostradme los que Le habéis agregado como asociados. Pero ¡no! El es Alá, el Poderoso, el Sabio».
28  No te hemos enviado sino como nuncio de buenas nuevas y como monitor a todo el género humano. Pero la mayoría de los hombres no saben.
29  Dicen: «¿Cuándo se cumplirá esta amenaza, si es verdad lo que decís?»
30  Di: «Se os ha fijado ya un día que no podréis retrasar ni adelantar una hora».
31  Los infieles dicen: «No creemos en este Corán ni en sus precedentes». Si pudieras ver a los impíos, de pie ante su Señor, recriminándose unos a otros. Los que fueron débiles dirán a los que fueron altivos: «Si no llega a ser por vosotros, habríamos creído».
32  Los que fueron altivos dirán a los que fueron débiles: «¿Somos, acaso, nosotros los que os desviaron de la Dirección cuando se os indicó ésta? ¡No, fuisteis culpables!»
33  Los que fueron débiles dirán a los que fueron altivos: «¡No!, que fueron vuestras maquinaciones de noche y de día, cuando nos instabais a que no creyéramos en Alá y a que Le atribuyéramos iguales…» Y, cuando vean el castigo, disimularán su pena. Pondremos argollas al cuello de los que no hayan creído. ¿Serán retribuidos por otra cosa que por lo que hicieron?
34  No hemos enviado monitor a una ciudad que no dijeran sus ricos: «No creemos en vuestro mensaje».
35  Y que no dijeran: «Nosotros tenemos más hacienda e hijos. No se nos castigará».
36  Di: «Mi Señor dispensa el sustento a quien Él quiere: a unos con largueza, a otros con mesura. Pero la mayoría de los hombres no saben».
37  Ni vuestra hacienda ni vuestros hijos podrán acercaros bien a Nosotros. Sólo quienes crean y obren bien recibirán una retribución doble por sus obras y morarán seguros en las cámaras altas.
38  En cambio, quienes se esfuercen por dejar sin efecto Nuestros signos, serán entregados al castigo.
39  Di: «Mi Señor dispensa el sustento a quien Él quiere de Sus siervos: a unos con largueza, a otros con mesura. No dejará de restituiros ninguna limosna que deis. Él es el Mejor de los proveedores».
40  El día que Él los congregue a todos, dirá a los ángeles: «¿Es a vosotros a quienes servían?»
41  Dirán: «¡Gloria a Ti! Tú eres nuestro Amigo, no ellos. ¡No! Ellos servían a los genios, en los que la mayoría creían».
42  Ese día no podréis ya aprovecharos ni dañaros unos a otros. Y diremos a los impíos: «¡Gustad el castigo del Fuego que desmentíais!»
43  Y cuando se les recitan Nuestras aleyas como pruebas claras, dicen: «éste no es sino un hombre que quiere apartaros de lo que vuestros padres servían». Y dicen: «Esto no es sino una mentira inventada». Y de la Verdad, luego que ha venido ésta a ellos, dicen los infieles: «¡Esto no es sino manifiesta magia!»
44  No les dimos ningunas Escrituras que estudiaran, ni les enviamos a ningún monitor antes de ti.
45  Sus antecesores desmintieron y no han obtenido ni la décima parte de lo que dimos a aquéllos, que desmintieron, no obstante, a Mis enviados. Y ¡cuál no fue Mi reprobación!
46  Di: «Sólo os exhorto a una cosa: a que os pongáis ante Alá, de dos en dos o solos, y meditéis. Vuestro paisano no es un poseso; no es sino un monitor que os previene contra un castigo severo».
47  Di: «El salario que yo pueda pediros ¡quedáoslo! Mi salario no incumbe sino a Alá. Él es testigo de todo».
48  Di: «Mi Señor despide Verdad. Él conoce a fondo las cosas ocultas».
49  Di: «Ha venido la Verdad. Lo falso no crea ni re-crea».
50  Di: «Si me extravío, me extravío, en realidad, en detrimento propio. Si sigo el camino recto, lo debo a lo que mi Señor me revela. Él lo oye todo, está cerca».
51  Si pudieras ver cuando, sobrecogidos de espanto, sin escape posible, sean arrebatados de un lugar próximo.
52  Dirán: «¡Creemos en É!» Pero ¿como podrán alcanzar estando tan lejos,
53  si antes no creyeron en É y, desde lejos, lanzaban injurias contra lo oculto?
54  Se interpondrá una barrera entre ellos y el objeto de su deseo, como ocurrió antes con sus semejantes: estaban en duda grave.