Project Description

ALE IMRAN

شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  الم
۲  خدا (جو معبود برحق ہے) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہمیشہ زندہ رہنے والا
۳  اس نے (اے محمدﷺ) تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل نازل کی
۴  (یعنی) لوگوں کی ہدایت کے لیے پہلے (تورات اور انجیل اتاری) اور (پھر قرآن جو حق اور باطل کو) الگ الگ کر دینے والا (ہے) نازل کیا جو لوگ خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا اور خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے
۵  خدا (ایسا خبیر وبصیر ہے کہ) کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں
۶  وہی تو ہے جو (ماں کے پیٹ میں) جیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
۷  وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں (اور) وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ ہیں تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں دست گاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں
۸  اے پروردگار جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ پیدا کر دیجیو اور ہمیں اپنے ہاں سے نعمت عطا فرما تو تو بڑا عطا فرمانے والا ہے
۹  اے پروردگار! تو اس روز جس (کے آنے) میں کچھ بھی شک نہیں سب لوگوں کو (اپنے حضور میں) جمع کرلے گا بے شک خدا خلاف وعدہ نہیں کرتا
۱۰  جو لوگ کافر ہوئے (اس دن) نہ تو ان کا مال ہی خدا (کے عذاب) سے ان کو بچا سکے گا اور نہ ان کی اولاد ہی (کچھ کام آئے گی) اور یہ لوگ آتش (جہنم) کا ایندھن ہوں گے
۱۱  ان کا حال بھی فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا سا ہوگا جنہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تھی تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب (عذاب میں) پکڑ لیا تھا اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
۱۲  (اے پیغمبر) کافروں سے کہدو کہ تم (دنیا میں بھی) عنقریب مغلوب ہو جاؤ گے اور (آخرت میں) جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ بری جگہ ہے
۱۳  تمہارے لیے دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑ گئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی ایک گروہ (مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے جو اہل بصارت ہیں ان کے لیے اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے
۱۴  لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں یعنی عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے بڑے بڑے ڈھیر اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی بڑی زینت دار معلوم ہوتی ہیں (مگر) یہ سب دنیا ہی کی زندگی کے سامان ہیں اور خدا کے پاس بہت اچھا ٹھکانا ہے
۱۵  (اے پیغمبر ان سے) کہو کہ بھلا میں تم کو ایسی چیز بتاؤں جو ان چیزوں سے کہیں اچھی ہو (سنو) جو لوگ پرہیزگار ہیں ان کے لیے خدا کے ہاں باغات (بہشت) ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ عورتیں ہیں اور (سب سے بڑھ کر) خدا کی خوشنودی اور خدا (اپنے نیک) بندوں کو دیکھ رہا ہے
۱۶  جو خدا سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو ہم کو ہمارے گناہ معاف فرما اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ
۱۷  یہ وہ لوگ ہیں جو (مشکلات میں) صبر کرتے اور سچ بولتے اور عبادت میں لگے رہتے اور (راہ خدا میں) خرچ کرتے اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں
۱۸  خدا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے لوگ جو انصاف پر قائم ہیں وہ بھی (گواہی دیتے ہیں کہ) اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
۱۹  دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے اور اہل کتاب نے جو (اس دین سے) اختلاف کیا تو علم ہونے کے بعد آپس کی ضد سے کیا اور جو شخص خدا کی آیتوں کو نہ مانے تو خدا جلد حساب لینے والا (اور سزا دینے والا) ہے
۲۰  اے پیغمبر اگر یہ لوگ تم سے جھگڑنے لگیں تو کہنا کہ میں اور میرے پیرو تو خدا کے فرمانبردار ہو چکے اور اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہو کہ کیا تم بھی (خدا کے فرمانبردار بنتے ہو) اور اسلام لاتے ہو؟ اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بے شک ہدایت پالیں اور اگر (تمہارا کہا) نہ مانیں تو تمہارا کام صرف خدا کا پیغام پہنچا دینا ہے اور خدا (اپنے) بندوں کو دیکھ رہا ہے
۲۱  جو لوگ خدا کی آیتوں کو نہیں مانتے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور جو انصاف (کرنے) کا حکم دیتے ہیں انہیں بھی مار ڈالتے ہیں ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو
۲۲  یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہیں اور ان کا کوئی مددگار نہیں (ہوگا)
۲۳  بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب (خدا یعنی تورات سے) بہرہ دیا گیا اور وہ (اس) کتاب الله کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ (ان کے تنازعات کا) ان میں فیصلہ کر دے تو ایک فریق ان میں سے کج ادائی کے ساتھ منہ پھیر لیتا ہے
۲۴  یہ اس لیے کہ یہ اس بات کے قائل ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی اور جو کچھ یہ دین کے بارے میں بہتان باندھتے رہے ہیں اس نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے
۲۵  تو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ان کو جمع کریں گے (یعنی) اس روز جس (کے آنے) میں کچھ بھی شک نہیں اور ہر نفس اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
۲۶  کہو کہ اے خدا (اے) بادشاہی کے مالک تو جس کو چاہے بادشاہی بخشے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے اور بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے
۲۷  تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا اور تو ہی دن کو رات میں داخل کرتا ہے تو ہی بے جان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے اور توہی جس کو چاہتا ہے بے شمار رزق بخشتا ہے
۲۸  مؤمنوں کو چاہئے کہ مؤمنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس سے خدا کا کچھ (عہد) نہیں ہاں اگر اس طریق سے تم ان (کے شر) سے بچاؤ کی صورت پیدا کرو (تو مضائقہ نہیں) اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف (تم کو) لوٹ کر جانا ہے
۲۹  (اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ کوئی بات تم اپنے دلوں میں مخفی رکھو یا اسے ظاہر کرو خدا اس کو جانتا ہے اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اس کو سب کی خبر ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
۳۰  جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی نیکی کو موجود پالے گا اور ان کی برائی کو بھی (دیکھ لے گا) تو آرزو کرے گا کہ اے کاش اس میں اور اس برائی میں دور کی مسافت ہو جاتی اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے
۳۱  (اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو خدا بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
۳۲  کہہ دو کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر نہ مانیں تو خدا بھی کافروں کو دوست نہیں رکھتا
۳۳  خدا نے آدم اور نوح اور خاندان ابراہیم اور خاندان عمران کو تمام جہان کے لوگوں میں منتخب فرمایا تھا
۳۴  ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے
۳۵  (وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے میں اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھوں گی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما توتو سننے والا (اور) جاننے والا ہے
۳۶  جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو خوب معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار! میرے تو لڑکی ہوئی ہے اور (نذر کے لیے) لڑکا (موزوں تھا کہ وہ) لڑکی کی طرح (ناتواں) نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں
۳۷  تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے
۳۸  اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی (اور) کہا کہ پروردگار مجھے اپنی جناب سے اولاد صالح عطا فرما تو بے شک دعا سننے (اور قبول کرنے) والا ہے
۳۹  وہ ابھی عبادت گاہ میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ (زکریا) خدا تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے فیض یعنی (عیسیٰ) کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے اور (خدا کے) پیغمبر (یعنی) نیکو کاروں میں ہوں گے
۴۰  زکریا نے کہا اے پروردگار میرے ہاں لڑکا کیونکر پیدا ہوگا کہ میں تو بڈھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے خدا نے فرمایا اسی طرح خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے
۴۱  زکریا نے کہا کہ پروردگار (میرے لیے) کوئی نشانی مقرر فرما خدا نے فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین دن اشارے کے سوا بات نہ کر سکو گے تو (ان دنوں میں) اپنے پروردگار کی کثرت سے یاد اور صبح و شام اس کی تسبیح کرنا
۴۲  اور جب فرشتوں نے (مریم سے) کہا کہ مریم! خدا نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور پاک بنایا ہے اور جہان کی عورتوں میں منتخب کیا ہے
۴۳  مریم اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کرنا اور سجدہ کرنا اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنا
۴۴  (اے محمدﷺ) یہ باتیں اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہارے پاس بھیجتے ہیں اور جب وہ لوگ اپنے قلم (بطور قرعہ) ڈال رہے تھے کہ مریم کا متکفل کون بنے تو تم ان کے پاس نہیں تھے اور نہ اس وقت ہی ان کے پاس تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے
۴۵  (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب فرشتوں نے (مریم سے کہا) کہ مریم خدا تم کو اپنی طرف سے ایک فیض کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح (اور مشہور) عیسیٰ ابن مریم ہوگا (اور) جو دنیا اور آخرت میں باآبرو اور (خدا کے) خاصوں میں سے ہوگا
۴۶  اور ماں کی گود میں اور بڑی عمر کا ہو کر (دونوں حالتوں میں) لوگوں سے (یکساں) گفتگو کرے گا اور نیکو کاروں میں ہوگا
۴۷  مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا کہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں فرمایا کہ خدا اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے
۴۸  اور وہ انہیں لکھنا (پڑھنا) اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائے گا
۴۹  اور (عیسیٰ) بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر (ہو کر جائیں گے اور کہیں گے) کہ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں وہ یہ کہ تمہارے سامنے مٹی کی مورت بشکل پرند بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے (سچ مچ) جانور ہو جاتا ہے اور اندھے اور ابرص کو تندرست کر دیتا ہوں اور خدا کے حکم سے مردے میں جان ڈال دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کر آتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو سب تم کو بتا دیتا ہوں اگر تم صاحب ایمان ہو تو ان باتوں میں تمہارے لیے (قدرت خدا کی) نشانی ہے
۵۰  اور مجھ سے پہلے جو تورات (نازل ہوئی) تھی اس کی تصدیق بھی کرتا ہوں اور (میں) اس لیے بھی (آیا ہوں) کہ بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو تمہارے لیے حلال کر دوں اور میں تو تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو
۵۱  کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا رستہ ہے
۵۲  جب عیسیٰؑ نے ان کی طرف سے نافرمانی اور (نیت قتل) دیکھی تو کہنے لگے کہ کوئی ہے جو خدا کا طرف دار اور میرا مددگار ہو حواری بولے کہ ہم خدا کے (طرفدار اور آپ کے) مددگار ہیں ہم خدا پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں
۵۳  اے پروردگار جو (کتاب) تو نے نازل فرمائی ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور (تیرے) پیغمبر کے متبع ہو چکے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ رکھ
۵۴  اور وہ (یعنی یہود قتل عیسیٰ کے بارے میں ایک) چال چلے اور خدا بھی (عیسیٰ کو بچانے کے لیے) چال چلا اور خدا خوب چال چلنے والا ہے
۵۵  اس وقت خدا نے فرمایا کہ عیسیٰ! میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کرکے تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تمہیں کافروں (کی صحبت) سے پاک کر دوں گا اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے ان کو کافروں پر قیامت تک فائق (وغالب) رکھوں گا پھر تم سب میرے پاس لوٹ کر آؤ گے تو جن باتوں میں تم اختلاف کرتے تھے اس دن تم میں ان کا فیصلہ کردوں گا
۵۶  یعنی جو کافر ہوئے ان کو دنیا اور آخرت (دونوں) میں سخت عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا
۵۷  اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خدا پورا پورا صلہ دے گا اور خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا
۵۸  (اے محمدﷺ) یہ ہم تم کو (خدا کی) آیتیں اور حکمت بھری نصیحتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں
۵۹  عیسیٰ کا حال خدا کے نزدیک آدم کا سا ہے کہ اس نے (پہلے) مٹی سے ان کا قالب بنایا پھر فرمایا کہ (انسان) ہو جا تو وہ (انسان) ہو گئے
۶۰  (یہ بات) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا
۶۱  پھر اگر یہ لوگ عیسیٰ کے بارے میں تم سے جھگڑا کریں اور تم کو حقیقت الحال تو معلوم ہو ہی چلی ہے تو ان سے کہنا کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلاؤ اور ہم خود بھی آئیں اور تم خود بھی آؤ پھر دونوں فریق (خدا سے) دعا والتجا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت بھیجیں
۶۲  یہ تمام بیانات صحیح ہیں اور خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک خدا غالب اور صاحبِ حکمت ہے
۶۳  تو اگر یہ لوگ پھر جائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے
۶۴  کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی) ہے اس کی طرف آؤ وہ یہ کہ خدا کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا کار ساز نہ سمجھے اگر یہ لوگ (اس بات کو) نہ مانیں تو (ان سے) کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم (خدا کے) فرماں بردار ہیں
۶۵  اے اہلِ کتاب تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد اتری ہیں (اور وہ پہلے ہو چکے ہیں) تو کیا تم عقل نہیں رکھتے
۶۶  دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جس کا تمہیں کچھ علم تھا بھی مگر ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کچھ بھی علم نہیں اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
۶۷  ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ سب سے بے تعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور اسی کے فرماں بردار تھے اور مشرکوں میں نہ تھے
۶۸  ابراہیم سے قرب رکھنے والے تو وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور پیغمبر (آخرالزمان) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور خدا مومنوں کا کارساز ہے
۶۹  (اے اہل اسلام) بعضے اہلِ کتاب اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ تم کو گمراہ کر دیں مگر یہ (تم کو کیا گمراہ کریں گے) اپنے آپ کو ہی گمراہ کر رہے ہیں اور نہیں جانتے
۷۰  اے اہلِ کتاب تم خدا کی آیتوں سے کیوں انکار کرتے ہو اور تم (تورات کو) مانتے تو ہو
۷۱  اے اہلِ کتاب تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ خلط ملط کیوں کرتے ہو اور حق کو کیوں چھپاتے ہو اور تم جانتے بھی ہو
۷۲  اور اہلِ کتاب ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ جو (کتاب) مومنوں پر نازل ہوئی ہے اس پر دن کے شروع میں تو ایمان لے آیا کرو اور اس کے آخر میں انکار کر دیا کرو تاکہ وہ (اسلام سے) برگشتہ ہو جائیں
۷۳  اور اپنے دین کے پیرو کے سوا کسی اور کے قائل نہ ہونا (اے پیغمبر) کہہ دو کہ ہدایت تو خدا ہی کی ہدایت ہے (وہ یہ بھی کہتے ہیں) یہ بھی (نہ ماننا) کہ جو چیز تم کو ملی ہے ویسی کسی اور کو ملے گی یا وہ تمہیں خدا کے روبرو قائل معقول کر سکیں گے یہ بھی کہہ دو کہ بزرگی خدا ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا کشائش والا (اور) علم والا ہے
۷۴  وہ اپنی رحمت سے جس کو چاہتا ہے خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
۷۵  اور اہلِ کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس (روپوں کا) ڈھیر امانت رکھ دو تو تم کو (فوراً) واپس دے دے اور کوئی اس طرح کا ہے کہ اگر اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھو تو جب تک اس کے سر پر ہر وقت کھڑے نہ رہو تمہیں دے ہی نہیں یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے بارے میں ہم سے مواخذہ نہیں ہوگا یہ خدا پر محض جھوٹ بولتے ہیں اور (اس بات کو) جانتے بھی ہیں
۷۶  ہاں جو شخص اپنے اقرار کو پورا کرے اور (خدا سے) ڈرے تو خدا ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
۷۷  جو لوگ خدا کے اقراروں اور اپنی قسموں (کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان) کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ان سے خدا نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا
۷۸  اور ان (اہلِ کتاب) میں بعضے ایسے ہیں کہ کتاب (تورات) کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں کتاب میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے اور کہتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے (نازل ہوا) ہے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا اور خدا پر جھوٹ بولتے ہیں اور (یہ بات) جانتے بھی ہیں
۷۹  کسی آدمی کو شایاں نہیں کہ خدا تو اسے کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے ہو جاؤ بلکہ (اس کو یہ کہنا سزاوار ہے کہ اے اہلِ کتاب) تم (علمائے) ربانی ہو جاؤ کیونکہ تم کتابِ (خدا) پڑھتے پڑھاتے رہتے ہو
۸۰  اور اس کو یہ بھی نہیں کہنا چاہیے کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا بنالو بھلا جب تم مسلمان ہو چکے تو کیا اسے زیبا ہے کہ تمہیں کافر ہونے کو کہے
۸۱  اور جب خدا نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمھیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور اس کی مدد کرنی ہوگی اور (عہد لینے کے بعد) پوچھا کہ بھلا تم نے اقرار کیا اور اس اقرار پر میرا ذمہ لیا (یعنی مجھے ضامن ٹہرایا) انہوں نے کہا (ہاں) ہم نے اقرار کیا (خدا نے) فرمایا کہ تم (اس عہد وپیمان کے) گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں
۸۲  تو جو اس کے بعد پھر جائیں وہ بد کردار ہیں
۸۳  کیا یہ (کافر) خدا کے دین کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں حالانکہ سب اہلِ آسمان و زمین خوشی یا زبردستی سے خدا کے فرماں بردار ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
۸۴  کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو کتاب ہم پر نازل ہوئی اور جو صحیفے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر اترے اور جو کتابیں موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انبیاء کو پروردگار کی طرف سے ملیں سب پر ایمان لائے ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرماں بردار ہیں
۸۵  اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا
۸۶  خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اور (پہلے) اس بات کی گواہی دے چکے کہ یہ پیغمبر برحق ہے اور ان کے پاس دلائل بھی آگئے اور خدا بے انصافوں کو ہدایت نہیں دیتا
۸۷  ان لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر خدا کی اور فرشتوں کی اور انسانوں کی سب کی لعنت ہو
۸۸  ہمیشہ اس لعنت میں (گرفتار) رہیں گے ان سے نہ تو عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت دے جائے گی
۸۹  ہاں جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اپنی حالت درست کر لی تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
۹۰  جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ایسوں کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور یہ لوگ گمراہ ہیں
۹۱  جو لوگ کافر ہوئے اور کفر ہی کی حالت میں مر گئے وہ اگر (نجات حاصل کرنی چاہیں اور) بدلے میں زمین بھر کر سونا دیں تو ہرگز قبول نہ کیا جائے گا ان لوگوں کو دکھ دینے والا عذاب ہو گا اور ان کی کوئی مدد نہیں کرے گا
۹۲  (مومنو!) جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمھیں عزیز ہیں (راہِ خدا میں) صرف نہ کرو گے کبھی نیکی حاصل نہ کر سکو گے اور جو چیز تم صرف کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
۹۳  بنی اسرائیل کے لیے (تورات کے نازل ہونے سے) پہلے کھانے کی تمام چیزیں حلال تھیں بجز ان کے جو یعقوب نے خود اپنے اوپر حرام کر لی تھیں کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو)
۹۴  جو اس کے بعد بھی خدا پر جھوٹے افترا کریں تو ایسے لوگ ہی بےانصاف ہیں
۹۵  کہہ دو کہ خدا نے سچ فرمایا دیا پس دین ابراہیم کی پیروی کرو جو سب سے بےتعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور مشرکوں سے نہ تھے
۹۶  پہلا گھر جو لوگوں (کے عبادت کرنے) کے لیے مقرر کیا گیا تھا وہی ہے جو مکے میں ہے بابرکت اور جہاں کے لیے موجبِ ہدایت
۹۷  اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جو شخص اس (مبارک) گھر میں داخل ہوا اس نے امن پا لیا اور لوگوں پر خدا کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو خدا بھی اہلِ عالم سے بے نیاز ہے
۹۸  کہو کہ اہلِ کتاب! تم خدا کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے
۹۹  کہو کہ اہلِ کتاب تم مومنوں کو خدا کے رستے سے کیوں روکتے ہو اور باوجود یہ کہ تم اس سے واقف ہو اس میں کجی نکالتے ہو اور خدا تمھارے کاموں سے بےخبر نہیں
۱۰۰  مومنو! اگر تم اہلِ کتاب کے کسی فریق کا کہا مان لو گے تو وہ تمھیں ایمان لانے کے بعد کافر بنا دیں گے
۱۰۱  اور تم کیونکر کفر کرو گے جبکہ تم کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تم میں اس کے پیغمبر موجود ہیں اور جس نے خدا (کی ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑ لیا وہ سیدھے رستے لگ گیا
۱۰۲  مومنو! خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا
۱۰۳  اور سب مل کر خدا کی (ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو خدا نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح خدا تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ
۱۰۴  اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں
۱۰۵  اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو متفرق ہو گئے اور احکام بین آنے کے بعد ایک دوسرےسے (خلاف و) اختلاف کرنے لگے یہ وہ لوگ ہیں جن کو قیامت کے دن بڑا عذاب ہوگا
۱۰۶  جس دن بہت سے منہ سفید ہوں گے اور بہت سے منہ سیاہ تو جن لوگوں کے منہ سیاہ ہوں گے (ان سے خدا فرمائے گا) کیا تم ایمان لا کر کافر ہوگئے تھے؟ سو (اب) اس کفر کے بدلے عذاب (کے مزے) چکھو
۱۰۷  اور جن لوگوں کے منہ سفید ہوں گے وہ خدا کی رحمت (کے باغوں) میں ہوں گے اور ان میں ہمیشہ رہیں گے
۱۰۸  یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو صحت کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں اور خدا اہلِ عالم پر ظلم نہیں کرنا چاہتا
۱۰۹  اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور سب کاموں کا رجوع (اور انجام) خدا ہی کی طرف ہے
۱۱۰  (مومنو) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہیں
۱۱۱  اور یہ تمہیں خفیف سی تکلیف کے سوا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو مدد بھی (کہیں سے) نہیں ملے گی
۱۱۲  یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت (کو دیکھو گے کہ) ان سے چمٹ رہی ہے بجز اس کے کہ یہ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ میں آ جائیں اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہیں اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے یہ اس لیے کہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتےتھے اور (اس کے) پیغمبروں کو ناحق قتل کر دیتے تھے یہ اس لیے کہ یہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے
۱۱۳  یہ بھی سب ایک جیسے نہیں ہیں ان اہلِ کتاب میں کچھ لوگ (حکمِ خدا پر) قائم بھی ہیں جو رات کے وقت خدا کی آیتیں پڑھتے اور (اس کے آگے) سجدہ کرتے ہیں
۱۱۴  (اور) خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور اچھے کام کرنےکو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتےاور نیکیوں پر لپکتے ہیں اور یہی لوگ نیکوکار ہیں
۱۱۵  اور یہ جس طرح کی نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور خدا پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے
۱۱۶  جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد خدا کے غضب کو ہرگز نہیں ٹال سکیں گے اور یہ لوگ اہلِ دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے
۱۱۷  یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کر دے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں
۱۱۸  مومنو! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازداں نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی اور (فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہوہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں
۱۱۹  دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو) غصے میں مر جاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے
۱۲۰  اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں کی برداشت اور (ان سے) کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمھیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ کیے ہوئے ہے
۱۲۱  اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تم صبح کو اپنے گھر روانہ ہو کر ایمان والوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر (موقع بہ موقع) متعین کرنے لگے اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
۱۲۲  اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے جی چھوڑ دینا چاہا مگر خدا ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
۱۲۳  اور خدا نے جنگِ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم بے سرو وسامان تھے پس خدا سے ڈرو (اور ان احسانوں کو یاد کرو) تاکہ شکر کرو
۱۲۴  جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہیں مدد دے
۱۲۵  ہاں اگر تم دل کو مضبوط رکھو اور (خدا سے) ڈرتے رہو اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعتہً حملہ کردیں تو پروردگار پانچ ہزار فرشتے جن پر نشان ہوں گے تمہاری مدد کو بھیجے گا
۱۲۶  اور اس مدد کو خدا نے تمھارے لیے (ذریعہٴ) بشارت بنایا یعنی اس لیے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے
۱۲۷  (یہ خدا نے) اس لیے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل ومغلوب کر دے کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں
۱۲۸  (اے پیغمبر) اس کام میں تمہارا کچھ اختیار نہیں (اب دو صورتیں ہیں) یا خدا انکے حال پر مہربانی کرے یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم لوگ ہیں
۱۲۹  اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب کرے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
۱۳۰  اےایمان والو! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور خدا سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو
۱۳۱  اور (دوزخ کی) آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے
۱۳۲  اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے
۱۳۳  اپنے پروردگار کی بخشش اور بہشت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو (خدا سے) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے
۱۳۴  جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتےہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے
۱۳۵  اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون سکتا ہے؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے
۱۳۶  ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور (اچھے) کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے
۱۳۷  تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر چکے ہیں تو تم زمین کی سیر کرکے دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا
۱۳۸  یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے
۱۳۹  اور (دیکھو) بے دل نہ ہونا اور نہ کسی طرح کا غم کرنا اگر تم مومن (صادق) ہو تو تم ہی غالب رہو گے
۱۴۰  اگر تمہیں زخم (شکست) لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا زخم لگ چکا ہے اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں اور اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو متمیز کر دے اور تم میں سے گواہ بنائے اور خدا بےانصافوں کو پسند نہیں کرتا
۱۴۱  اور یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو خالص (مومن) بنا دے اور کافروں کو نابود کر دے
۱۴۲  کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے
۱۴۳  اور تم موت (شہادت) کے آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے سو تم نے اس کو آنکھوں سے دیکھ لیا
۱۴۴  اور محمد (صلی الله علیہ وسلم) تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ؟ (یعنی مرتد ہو جاؤ؟) اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہ کر سکے گا اور خدا شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا
۱۴۵  اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مر جائے (اس نے موت کا) وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال کا) بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دے دیں گے اور جو آخرت میں طالبِ ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے اور ہم شکر گزاروں کو عنقریب (بہت اچھا) صلہ دیں گے
۱۴۶  اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل الله (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں تو جو مصبتیں ان پر راہِ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے
۱۴۷  اور (اس حالت میں) ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی ہے تو یہی کہ اے پروردگار ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ہیں معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر فتح عنایت فرما
۱۴۸  تو خدا نے ان کو دنیا میں بھی بدلہ دیا اور آخرت میں بھی بہت اچھا بدلہ (دے گا) اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے
۱۴۹  مومنو! اگر تم کافروں کا کہا مان لو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر کر (مرتد کر) دیں گے پھر تم بڑے خسارے میں پڑ جاؤ گے
۱۵۰  (یہ تمہارے مددگار نہیں ہیں) بلکہ خدا تمہارا مددگار ہے اور وہ سب سے بہتر مددگار ہے
۱۵۱  ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ ظالموں کا بہت بُرا ٹھکانا ہے
۱۵۲  اور خدا نے اپنا وعدہ سچا کر دیا (یعنی) اس وقت جبکہ تم کافروں کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جو تم چاہتے تھے خدا نے تم کو دکھا دیا اس کے بعد تم نے ہمت ہار دی اور حکم (پیغمبر) میں جھگڑا کرنے لگے اور اس کی نافرمانی کی بعض تو تم میں سے دنیا کے خواستگار تھے اور بعض آخرت کے طالب اس وقت خدا نے تم کو ان (کے مقابلے) سے پھیر (کر بھگا) دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا اور خدا مومنو پر بڑا فضل کرنے والا ہے
۱۵۳  (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب تم لوگ دور بھاگے جاتے تھے اور کسی کو پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول الله تم کو تمہارے پیچھے کھڑے بلا رہے تھے تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی یا جو مصیبت تم پر واقع ہوئی ہے اس سے تم اندوہ ناک نہ ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
۱۵۴  پھر خدا نے غم ورنج کے بعد تم پر تسلی نازل فرمائی (یعنی) نیند کہ تم میں سے ایک جماعت پر طاری ہو گئی اور کچھ لوگ جن کو جان کے لالے پڑ رہے تھے خدا کے بارے میں ناحق (ایام) کفر کے سے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے بھلا ہمارے اختیار کی کچھ بات ہے؟ تم کہہ دو کہ بےشک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں ہیں یہ لوگ (بہت سی باتیں) دلوں میں مخفی رکھتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کیے جاتے کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا لکھا تھا وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے اس سے غرض یہ تھی کہ خدا تمہارے سینوں کی باتوں کو آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو خالص اور صاف کر دے اور خدا دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے
۱۵۵  جو لوگ تم میں سے (اُحد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے گتھ گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے تو ان کے بعض افعال کے سبب شیطان نے ان کو پھسلا دیا مگر خدا نے ان کا قصور معاف کر دیا بےشک خدا بخشنے والا اور بردبار ہے
۱۵۶  مومنو! ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور ان کے (مسلمان) بھائی جب (خدا کی راہ میں) سفر کریں (اور مر جائیں) یا جہاد کو نکلیں (اور مارے جائیں) تو ان کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کر دے اور زندگی اور موت تو خدا ہی دیتا ہے اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
۱۵۷  اور اگر تم خدا کے رستے میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو جو (مال و متاع) لوگ جمع کرتے ہیں اس سے خدا کی بخشش اور رحمت کہیں بہتر ہے
۱۵۸  اور اگر تم مرجاؤ یا مارے جاؤ خدا کے حضور میں ضرور اکھٹے کئے جاؤ گے
۱۵۹  (اے محمدﷺ) خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے۔ اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ تو ان کو معاف کردو اور ان کے لئے (خدا سے) مغفرت مانگو۔ اور اپنے کاموں میں ان سے مشورت لیا کرو۔ اور جب (کسی کام کا) عزم مصمم کرلو تو خدا پر بھروسا رکھو۔ بےشک خدا بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے
۱۶۰  اور خدا تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے اور مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں
۱۶۱  اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں۔ اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لاحاضر کرنی ہوگی۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی
۱۶۲  بھلا جو شخص خدا کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح (مرتکب خیانت) ہوسکتا ہے جو خدا کی ناخوشی میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور وہ برا ٹھکانا ہے
۱۶۳  ان لوگوں کے خدا کے ہاں (مختلف اور متفاوت) درجے ہیں اور خدا ان کے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے
۱۶۴  خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے۔ جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے
۱۶۵  (بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (اُحد کے دن کافر کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دوچند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے توتم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
۱۶۶  اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مقابلے کے دن واقع ہوئی سو خدا کے حکم سے (واقع ہوئی) اور (اس سے) یہ مقصود تھا کہ خدا مومنوں کو اچھی طرح معلوم
۱۶۷  اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور (جب) ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے رستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو۔ تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں۔ اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا ان سے خوب واقف ہے
۱۶۸  یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ ہی رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا
۱۶۹  جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے
۱۷۰  جو کچھ خدا نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں۔ اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے اور (شہید ہوکر) ان میں شامل نہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں کہ (قیامت کے دن) ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
۱۷۱  اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں۔ اور اس سے کہ خدا مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا
۱۷۲  جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا اور رسول (کے حکم) کو قبول کیا جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے
۱۷۳  (جب) ان سے لوگوں نے آکر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لئے لشکر کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو۔ تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا۔ اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے
۱۷۴  پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا۔ اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
۱۷۵  یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا
۱۷۶  اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں ان (کی وجہ) سے غمگین نہ ہونا۔ یہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے خدا چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے اور ان کے لئے بڑا عذاب تیار ہے
۱۷۷  جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا
۱۷۸  اور کافر لوگ یہ نہ خیال کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دیئے جاتے ہیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے۔ (نہیں بلکہ) ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں۔ آخرکار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا
۱۷۹  (لوگو) جب تک خدا ناپاک کو پاک سے الگ نہ کردے گا مومنوں کو اس حال میں جس میں تم ہو ہرگز نہیں رہنے دے گا۔ اور الله تم کوغیب کی باتوں سے بھی مطلع نہیں کرے گاالبتہ خدا اپنے پیغمبروں میں سے جسے چاہتا ہے انتخاب کرلیتا ہے۔ تو تم خدا پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤاور اگر ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو تم کو اجر عظیم ملے گا
۱۸۰  جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں۔ (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لئے برا ہے وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہوخدا کو معلوم ہے
۱۸۱  خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے۔ اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے۔ اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتش) سوزاں کے مزے چکھتے رہو
۱۸۲  یہ ان کاموں کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھ آگے بھیجتے رہے ہیں اور خدا تو بندوں پر مطلق ظلم نہیں کرتا
۱۸۳  جو لوگ کہتے ہی کہ خدا نے ہمیں حکم بھیجا ہے کہ جب تک کوئی پیغمبر ہمارے پاس ایسی نیاز لے کر نہ آئے جس کو آگ آکر کھا جائے تب تک ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمہارے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے اور وہ (معجزہ) بھی لائے جو تم کہتے ہو تو اگر سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟
۱۸۴  پھر اگر یہ لوگ تم کو سچا نہ سمجھیں تو تم سے پہلے بہت سے پیغمبر کھلی ہوئی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آچکے ہیں اور لوگوں نے ان کو بھی سچا نہیں سمجھا
۱۸۵  ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور تم کو قیامت کے دن تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا۔ تو جو شخص آتش جہنم سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے
۱۸۶  (اے اہل ایمان) تمہارے مال و جان میں تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اور تم اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سی ایذا کی باتیں سنو گے۔ اور تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہو گے تو یہ بڑی ہمت کے کام ہیں
۱۸۷  اور جب خدا نے ان لوگوں سے جن کو کتاب عنایت کی گئی تھی اقرار کرلیا کہ (جو کچھ اس میں لکھا ہے) اسے صاف صاف بیان کرتے رہنا۔ اور اس (کی کسی بات) کو نہ چھپانا تو انہں نے اس کو پس پشت پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کی۔ یہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں برا ہے
۱۸۸  جو لوگ اپنے (ناپسند) کاموں سے خوش ہوتے ہیں اور پسندیدہ کام) جو کرتے نہیں ان کے لئے چاہتے ہیں کہ ان ک تعریف کی جائے ان کی نسبت خیال نہ کرنا کہ وہ عذاب سے رستگار ہوجائیں گے۔ اور انہیں درد دینے والا عذاب ہوگا
۱۸۹  اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کو ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
۱۹۰  بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں
۱۹۱  جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) کہ اے پروردگار! تو نے اس (مخلوق) کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو
۱۹۲  اے پروردگار جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا اسے رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں
۱۹۳  اے پروردگارہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا کہ ایمان کے لیے پکار رہا تھا (یعنی) اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھا
۱۹۴  اے پروردگار تو نے جن جن چیزوں کے ہم سے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے وعدے کیے ہیں وہ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجو کچھ شک نہیں کہ تو خلاف وعدہ نہیں کرتا
۱۹۵  تو ان کے پرردگار نے ان کی دعا قبول کر لی (اور فرمایا) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کرتا تم ایک دوسرے کی جنس ہو تو جو لوگ میرے لیے وطن چھوڑ گئے اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور لڑے اور قتل کیے گئے میں ان کے گناہ دور کردوں گا اور ان کو بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں (یہ) خدا کے ہاں سے بدلہ ہے اور خدا کے ہاں اچھا بدلہ ہے
۱۹۶  (اے پیغمبر) کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکا نہ دے
۱۹۷  (یہ دنیا کا) تھوڑا سا فائدہ ہے پھر (آخرت میں) تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے
۱۹۸  لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لیے باغ ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ان میں ہمیشہ رہیں گے (یہ) خدا کے ہاں سے (ان کی) مہمانی ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ نیکو کاروں کے لیے بہت اچھا ہے
۱۹۹  اور بعض اہلِ کتاب ایسے بھی ہیں جو خدا پر اور اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور اس پر جو ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور خدا کے آگے عاجزی کرتے ہیں اور خدا کی آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہیں لیتے یہی لوگ ہیں جن کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں تیار ہے اور خدا جلد حساب لینے والا ہے
۲۰۰  اے اہل ایمان (کفار کے مقابلے میں) ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور مورچوں پر جمے رہو اور خدا سے ڈرو تاکہ مراد حاصل کرو

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  الم
٢  اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ
٣  نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنْزَلَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ
٤  مِنْ قَبْلُ هُدًى لِلنَّاسِ وَأَنْزَلَ الْفُرْقَانَ ۗ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ
٥  إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَىٰ عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ
٦  هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ ۚ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
٧  هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ ۗ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ
٨  رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
٩  رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ
١٠  إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ
١١  كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ ۗ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ
١٢  قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
١٣  قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ ۚ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشَاءُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ
١٤  زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۗ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ
١٥  قُلْ أَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِنْ ذَٰلِكُمْ ۚ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
١٦  الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
١٧  الصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالْقَانِتِينَ وَالْمُنْفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ
١٨  شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ ۚ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
١٩  إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ ۗ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَنْ يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
٢٠  فَإِنْ حَاجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ۗ وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ ۚ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا ۖ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
٢١  إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
٢٢  أُولَٰئِكَ الَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ
٢٣  أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَىٰ كِتَابِ اللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ
٢٤  ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ ۖ وَغَرَّهُمْ فِي دِينِهِمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ
٢٥  فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنَاهُمْ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
٢٦  قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
٢٧  تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ۖ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ ۖ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
٢٨  لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ ۗ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ
٢٩  قُلْ إِنْ تُخْفُوا مَا فِي صُدُورِكُمْ أَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ۗ وَيَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
٣٠  يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ ۗ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ
٣١  قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ
٣٢  قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ ۖ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ
٣٣  إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ
٣٤  ذُرِّيَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
٣٥  إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي ۖ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
٣٦  فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَىٰ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثَىٰ ۖ وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
٣٧  فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ۖ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا ۖ قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
٣٨  هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ ۖ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ
٣٩  فَنَادَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَىٰ مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ
٤٠  قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَقَدْ بَلَغَنِيَ الْكِبَرُ وَامْرَأَتِي عَاقِرٌ ۖ قَالَ كَذَٰلِكَ اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ
٤١  قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً ۖ قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًا ۗ وَاذْكُرْ رَبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ
٤٢  وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ
٤٣  يَا مَرْيَمُ اقْنُتِي لِرَبِّكِ وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ
٤٤  ذَٰلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ
٤٥  إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
٤٦  وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ
٤٧  قَالَتْ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ ۖ قَالَ كَذَٰلِكِ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
٤٨  وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ
٤٩  وَرَسُولًا إِلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُمْ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنْفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ ۖ وَأُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَأُحْيِي الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ اللَّهِ ۖ وَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
٥٠  وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلِأُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ ۚ وَجِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
٥١  إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۗ هَٰذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ
٥٢  فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ ۖ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ
٥٣  رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ
٥٤  وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ
٥٥  إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۖ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
٥٦  فَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ
٥٧  وَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
٥٨  ذَٰلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الْآيَاتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ
٥٩  إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
٦٠  الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
٦١  فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ
٦٢  إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ ۚ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
٦٣  فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ
٦٤  قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ۚ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ
٦٥  يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ إِلَّا مِنْ بَعْدِهِ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
٦٦  هَا أَنْتُمْ هَٰؤُلَاءِ حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
٦٧  مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَٰكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
٦٨  إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا ۗ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ
٦٩  وَدَّتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
٧٠  يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ
٧١  يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ
٧٢  وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمِنُوا بِالَّذِي أُنْزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا آخِرَهُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
٧٣  وَلَا تُؤْمِنُوا إِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِينَكُمْ قُلْ إِنَّ الْهُدَىٰ هُدَى اللَّهِ أَنْ يُؤْتَىٰ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَاجُّوكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ ۗ قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
٧٤  يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
٧٥  وَمِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لَا يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ إِلَّا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَائِمًا ۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
٧٦  بَلَىٰ مَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ وَاتَّقَىٰ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ
٧٧  إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَٰئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
٧٨  وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
٧٩  مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِي مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَٰكِنْ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُونَ
٨٠  وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلَائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْبَابًا ۗ أَيَأْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ
٨١  وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ ۚ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَىٰ ذَٰلِكُمْ إِصْرِي ۖ قَالُوا أَقْرَرْنَا ۚ قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ
٨٢  فَمَنْ تَوَلَّىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
٨٣  أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
٨٤  قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَالنَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
٨٥  وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
٨٦  كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
٨٧  أُولَٰئِكَ جَزَاؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
٨٨  خَالِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ
٨٩  إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
٩٠  إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الضَّالُّونَ
٩١  إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَىٰ بِهِ ۗ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ
٩٢  لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ
٩٣  كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَىٰ نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ ۗ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
٩٤  فَمَنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
٩٥  قُلْ صَدَقَ اللَّهُ ۗ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
٩٦  إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ
٩٧  فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ ۖ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ
٩٨  قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا تَعْمَلُونَ
٩٩  قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
١٠٠  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا فَرِيقًا مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ يَرُدُّوكُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ كَافِرِينَ
١٠١  وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنْتُمْ تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ ۗ وَمَنْ يَعْتَصِمْ بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
١٠٢  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ
١٠٣  وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
١٠٤  وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
١٠٥  وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَأُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
١٠٦  يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ
١٠٧  وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
١٠٨  تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۗ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِلْعَالَمِينَ
١٠٩  وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ
١١٠  كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ ۚ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ
١١١  لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى ۖ وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ
١١٢  ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ
١١٣  لَيْسُوا سَوَاءً ۗ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ
١١٤  يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَأُولَٰئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ
١١٥  وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُكْفَرُوهُ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ
١١٦  إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ۖ وَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
١١٧  مَثَلُ مَا يُنْفِقُونَ فِي هَٰذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَٰكِنْ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
١١٨  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ ۖ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ
١١٩  هَا أَنْتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَابِ كُلِّهِ وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ۚ قُلْ مُوتُوا بِغَيْظِكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
١٢٠  إِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بِهَا ۖ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ
١٢١  وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
١٢٢  إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا ۗ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
١٢٣  وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
١٢٤  إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَنْ يَكْفِيَكُمْ أَنْ يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلَاثَةِ آلَافٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُنْزَلِينَ
١٢٥  بَلَىٰ ۚ إِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُمْ مِنْ فَوْرِهِمْ هَٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلَافٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُسَوِّمِينَ
١٢٦  وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُمْ بِهِ ۗ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
١٢٧  لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنْقَلِبُوا خَائِبِينَ
١٢٨  لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ
١٢٩  وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ
١٣٠  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
١٣١  وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ
١٣٢  وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
١٣٣  وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ
١٣٤  الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
١٣٥  وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ
١٣٦  أُولَٰئِكَ جَزَاؤُهُمْ مَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ
١٣٧  قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
١٣٨  هَٰذَا بَيَانٌ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِلْمُتَّقِينَ
١٣٩  وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
١٤٠  إِنْ يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
١٤١  وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ
١٤٢  أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ
١٤٣  وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ
١٤٤  وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ
١٤٥  وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُؤَجَّلًا ۗ وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا ۚ وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ
١٤٦  وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ
١٤٧  وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
١٤٨  فَآتَاهُمُ اللَّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْآخِرَةِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
١٤٩  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِينَ
١٥٠  بَلِ اللَّهُ مَوْلَاكُمْ ۖ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ
١٥١  سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا ۖ وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ ۚ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّالِمِينَ
١٥٢  وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ ۚ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۖ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ ۗ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ
١٥٣  إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ ۗ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
١٥٤  ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَىٰ طَائِفَةً مِنْكُمْ ۖ وَطَائِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنْفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۖ يَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ ۗ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ ۗ يُخْفُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ مَا لَا يُبْدُونَ لَكَ ۖ يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَاهُنَا ۗ قُلْ لَوْ كُنْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمْ ۖ وَلِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
١٥٥  إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا ۖ وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ
١٥٦  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ إِذَا ضَرَبُوا فِي الْأَرْضِ أَوْ كَانُوا غُزًّى لَوْ كَانُوا عِنْدَنَا مَا مَاتُوا وَمَا قُتِلُوا لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذَٰلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ ۗ وَاللَّهُ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
١٥٧  وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ
١٥٨  وَلَئِنْ مُتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لَإِلَى اللَّهِ تُحْشَرُونَ
١٥٩  فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ
١٦٠  إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۖ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ ۗ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
١٦١  وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ ۚ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
١٦٢  أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللَّهِ كَمَنْ بَاءَ بِسَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
١٦٣  هُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ
١٦٤  لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
١٦٥  أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّىٰ هَٰذَا ۖ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
١٦٦  وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ
١٦٧  وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَاتَّبَعْنَاكُمْ ۗ هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْإِيمَانِ ۚ يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِمْ مَا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ۗ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ
١٦٨  الَّذِينَ قَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ وَقَعَدُوا لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا ۗ قُلْ فَادْرَءُوا عَنْ أَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
١٦٩  وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
١٧٠  فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
١٧١  يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ
١٧٢  الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ
١٧٣  الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
١٧٤  فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ
١٧٥  إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
١٧٦  وَلَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ ۚ إِنَّهُمْ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا ۗ يُرِيدُ اللَّهُ أَلَّا يَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
١٧٧  إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
١٧٨  وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ
١٧٩  مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۗ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ وَإِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ
١٨٠  وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ ۖ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ ۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
١٨١  لَقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا وَقَتْلَهُمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ
١٨٢  ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ
١٨٣  الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّىٰ يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ ۗ قُلْ قَدْ جَاءَكُمْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِي بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّذِي قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
١٨٤  فَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ جَاءُوا بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَابِ الْمُنِيرِ
١٨٥  كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ
١٨٦  لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
١٨٧  وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ
١٨٨  لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
١٨٩  وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
١٩٠  إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
١٩١  الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
١٩٢  رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ
١٩٣  رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا ۚ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ
١٩٤  رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ
١٩٥  فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَىٰ ۖ بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ ۖ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ
١٩٦  لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ
١٩٧  مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
١٩٨  لَٰكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا نُزُلًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ۗ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِلْأَبْرَارِ
١٩٩  وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۗ أُولَٰئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
٢٠٠  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  Alif, Lam, Meem.
2  Allah – there is no deity except Him, the Ever-Living, the Sustainer of existence.
3  He has sent down upon you, [O Muhammad], the Book in truth, confirming what was before it. And He revealed the Torah and the Gospel.
4  Before, as guidance for the people. And He revealed the Qur’an. Indeed, those who disbelieve in the verses of Allah will have a severe punishment, and Allah is exalted in Might, the Owner of Retribution.
5  Indeed, from Allah nothing is hidden in the earth nor in the heaven.
6  It is He who forms you in the wombs however He wills. There is no deity except Him, the Exalted in Might, the Wise.
7  It is He who has sent down to you, [O Muhammad], the Book; in it are verses [that are] precise – they are the foundation of the Book – and others unspecific. As for those in whose hearts is deviation [from truth], they will follow that of it which is unspecific, seeking discord and seeking an interpretation [suitable to them]. And no one knows its [true] interpretation except Allah. But those firm in knowledge say, “We believe in it. All [of it] is from our Lord.” And no one will be reminded except those of understanding.
8  [Who say], “Our Lord, let not our hearts deviate after You have guided us and grant us from Yourself mercy. Indeed, You are the Bestower.
9  Our Lord, surely You will gather the people for a Day about which there is no doubt. Indeed, Allah does not fail in His promise.”
10  Indeed, those who disbelieve – never will their wealth or their children avail them against Allah at all. And it is they who are fuel for the Fire.
11  [Theirs is] like the custom of the people of Pharaoh and those before them. They denied Our signs, so Allah seized them for their sins. And Allah is severe in penalty.
12  Say to those who disbelieve, “You will be overcome and gathered together to Hell, and wretched is the resting place.”
13  Already there has been for you a sign in the two armies which met – one fighting in the cause of Allah and another of disbelievers. They saw them [to be] twice their [own] number by [their] eyesight. But Allah supports with His victory whom He wills. Indeed in that is a lesson for those of vision.
14  Beautified for people is the love of that which they desire – of women and sons, heaped-up sums of gold and silver, fine branded horses, and cattle and tilled land. That is the enjoyment of worldly life, but Allah has with Him the best return.
15  Say, “Shall I inform you of [something] better than that? For those who fear Allah will be gardens in the presence of their Lord beneath which rivers flow, wherein they abide eternally, and purified spouses and approval from Allah. And Allah is Seeing of [His] servants –
16  Those who say, “Our Lord, indeed we have believed, so forgive us our sins and protect us from the punishment of the Fire,”
17  The patient, the true, the obedient, those who spend [in the way of Allah], and those who seek forgiveness before dawn.
18  Allah witnesses that there is no deity except Him, and [so do] the angels and those of knowledge – [that He is] maintaining [creation] in justice. There is no deity except Him, the Exalted in Might, the Wise.
19  Indeed, the religion in the sight of Allah is Islam. And those who were given the Scripture did not differ except after knowledge had come to them – out of jealous animosity between themselves. And whoever disbelieves in the verses of Allah, then indeed, Allah is swift in [taking] account.
20  So if they argue with you, say, “I have submitted myself to Allah [in Islam], and [so have] those who follow me.” And say to those who were given the Scripture and [to] the unlearned, “Have you submitted yourselves?” And if they submit [in Islam], they are rightly guided; but if they turn away – then upon you is only the [duty of] notification. And Allah is Seeing of [His] servants.
21  Those who disbelieve in the signs of Allah and kill the prophets without right and kill those who order justice from among the people – give them tidings of a painful punishment.
22  They are the ones whose deeds have become worthless in this world and the Hereafter, and for them there will be no helpers.
23  Do you not consider, [O Muhammad], those who were given a portion of the Scripture? They are invited to the Scripture of Allah that it should arbitrate between them; then a party of them turns away, and they are refusing.
24  That is because they say, “Never will the Fire touch us except for [a few] numbered days,” and [because] they were deluded in their religion by what they were inventing.
25  So how will it be when We assemble them for a Day about which there is no doubt? And each soul will be compensated [in full for] what it earned, and they will not be wronged.
26  Say, “O Allah, Owner of Sovereignty, You give sovereignty to whom You will and You take sovereignty away from whom You will. You honor whom You will and You humble whom You will. In Your hand is [all] good. Indeed, You are over all things competent.
27  You cause the night to enter the day, and You cause the day to enter the night; and You bring the living out of the dead, and You bring the dead out of the living. And You give provision to whom You will without account.”
28  Let not believers take disbelievers as allies rather than believers. And whoever [of you] does that has nothing with Allah, except when taking precaution against them in prudence. And Allah warns you of Himself, and to Allah is the [final] destination.
29  Say, “Whether you conceal what is in your breasts or reveal it, Allah knows it. And He knows that which is in the heavens and that which is on the earth. And Allah is over all things competent.
30  The Day every soul will find what it has done of good present [before it] and what it has done of evil, it will wish that between itself and that [evil] was a great distance. And Allah warns you of Himself, and Allah is Kind to [His] servants.”
31  Say, [O Muhammad], “If you should love Allah, then follow me, [so] Allah will love you and forgive you your sins. And Allah is Forgiving and Merciful.”
32  Say, “Obey Allah and the Messenger.” But if they turn away – then indeed, Allah does not like the disbelievers.
33  Indeed, Allah chose Adam and Noah and the family of Abraham and the family of ‘Imran over the worlds –
34  Descendants, some of them from others. And Allah is Hearing and Knowing.
35  [Mention, O Muhammad], when the wife of ‘Imran said, “My Lord, indeed I have pledged to You what is in my womb, consecrated [for Your service], so accept this from me. Indeed, You are the Hearing, the Knowing.”
36  But when she delivered her, she said, “My Lord, I have delivered a female.” And Allah was most knowing of what she delivered, “And the male is not like the female. And I have named her Mary, and I seek refuge for her in You and [for] her descendants from Satan, the expelled [from the mercy of Allah].”
37  So her Lord accepted her with good acceptance and caused her to grow in a good manner and put her in the care of Zechariah. Every time Zechariah entered upon her in the prayer chamber, he found with her provision. He said, “O Mary, from where is this [coming] to you?” She said, “It is from Allah. Indeed, Allah provides for whom He wills without account.”
38  At that, Zechariah called upon his Lord, saying, “My Lord, grant me from Yourself a good offspring. Indeed, You are the Hearer of supplication.”
39  So the angels called him while he was standing in prayer in the chamber, “Indeed, Allah gives you good tidings of John, confirming a word from Allah and [who will be] honorable, abstaining [from women], and a prophet from among the righteous.”
40  He said, “My Lord, how will I have a boy when I have reached old age and my wife is barren?” The angel said, “Such is Allah; He does what He wills.”
41  He said, “My Lord, make for me a sign.” He Said, “Your sign is that you will not [be able to] speak to the people for three days except by gesture. And remember your Lord much and exalt [Him with praise] in the evening and the morning.”
42  And [mention] when the angels said, “O Mary, indeed Allah has chosen you and purified you and chosen you above the women of the worlds.
43  O Mary, be devoutly obedient to your Lord and prostrate and bow with those who bow [in prayer].”
44  That is from the news of the unseen which We reveal to you, [O Muhammad]. And you were not with them when they cast their pens as to which of them should be responsible for Mary. Nor were you with them when they disputed.
45  [And mention] when the angels said, “O Mary, indeed Allah gives you good tidings of a word from Him, whose name will be the Messiah, Jesus, the son of Mary – distinguished in this world and the Hereafter and among those brought near [to Allah].
46  He will speak to the people in the cradle and in maturity and will be of the righteous.”
47  She said, “My Lord, how will I have a child when no man has touched me?” [The angel] said, “Such is Allah; He creates what He wills. When He decrees a matter, He only says to it, ‘Be,’ and it is.
48  And He will teach him writing and wisdom and the Torah and the Gospel
49  And [make him] a messenger to the Children of Israel, [who will say], ‘Indeed I have come to you with a sign from your Lord in that I design for you from clay [that which is] like the form of a bird, then I breathe into it and it becomes a bird by permission of Allah. And I cure the blind and the leper, and I give life to the dead – by permission of Allah. And I inform you of what you eat and what you store in your houses. Indeed in that is a sign for you, if you are believers.
50  And [I have come] confirming what was before me of the Torah and to make lawful for you some of what was forbidden to you. And I have come to you with a sign from your Lord, so fear Allah and obey me.
51  Indeed, Allah is my Lord and your Lord, so worship Him. That is the straight path.”
52  But when Jesus felt [persistence in] disbelief from them, he said, “Who are my supporters for [the cause of] Allah?” The disciples said, “We are supporters for Allah. We have believed in Allah and testify that we are Muslims [submitting to Him].
53  Our Lord, we have believed in what You revealed and have followed the messenger Jesus, so register us among the witnesses [to truth].”
54  And the disbelievers planned, but Allah planned. And Allah is the best of planners.
55  [Mention] when Allah said, “O Jesus, indeed I will take you and raise you to Myself and purify you from those who disbelieve and make those who follow you [in submission to Allah alone] superior to those who disbelieve until the Day of Resurrection. Then to Me is your return, and I will judge between you concerning that in which you used to differ.
56  And as for those who disbelieved, I will punish them with a severe punishment in this world and the Hereafter, and they will have no helpers.”
57  But as for those who believed and did righteous deeds, He will give them in full their rewards, and Allah does not like the wrongdoers.
58  This is what We recite to you, [O Muhammad], of [Our] verses and the precise [and wise] message.
59  Indeed, the example of Jesus to Allah is like that of Adam. He created Him from dust; then He said to him, “Be,” and he was.
60  The truth is from your Lord, so do not be among the doubters.
61  Then whoever argues with you about it after [this] knowledge has come to you – say, “Come, let us call our sons and your sons, our women and your women, ourselves and yourselves, then supplicate earnestly [together] and invoke the curse of Allah upon the liars [among us].”
62  Indeed, this is the true narration. And there is no deity except Allah. And indeed, Allah is the Exalted in Might, the Wise.
63  But if they turn away, then indeed – Allah is Knowing of the corrupters.
64  Say, “O People of the Scripture, come to a word that is equitable between us and you – that we will not worship except Allah and not associate anything with Him and not take one another as lords instead of Allah.” But if they turn away, then say, “Bear witness that we are Muslims [submitting to Him].”
65  O People of the Scripture, why do you argue about Abraham while the Torah and the Gospel were not revealed until after him? Then will you not reason?
66  Here you are – those who have argued about that of which you have [some] knowledge, but why do you argue about that of which you have no knowledge? And Allah knows, while you know not.
67  Abraham was neither a Jew nor a Christian, but he was one inclining toward truth, a Muslim [submitting to Allah]. And he was not of the polytheists.
68  Indeed, the most worthy of Abraham among the people are those who followed him [in submission to Allah] and this prophet, and those who believe [in his message]. And Allah is the ally of the believers.
69  A faction of the people of the Scripture wish they could mislead you. But they do not mislead except themselves, and they perceive [it] not.
70  O People of the Scripture, why do you disbelieve in the verses of Allah while you witness [to their truth]?
71  O People of the Scripture, why do you confuse the truth with falsehood and conceal the truth while you know [it]?
72  And a faction of the People of the Scripture say [to each other], “Believe in that which was revealed to the believers at the beginning of the day and reject it at its end that perhaps they will abandon their religion,
73  And do not trust except those who follow your religion.” Say, “Indeed, the [true] guidance is the guidance of Allah. [Do you fear] lest someone be given [knowledge] like you were given or that they would [thereby] argue with you before your Lord?” Say, “Indeed, [all] bounty is in the hand of Allah – He grants it to whom He wills. And Allah is all-Encompassing and Wise.”
74  He selects for His mercy whom He wills. And Allah is the possessor of great bounty.
75  And among the People of the Scripture is he who, if you entrust him with a great amount [of wealth], he will return it to you. And among them is he who, if you entrust him with a [single] silver coin, he will not return it to you unless you are constantly standing over him [demanding it]. That is because they say, “There is no blame upon us concerning the unlearned.” And they speak untruth about Allah while they know [it].
76  But yes, whoever fulfills his commitment and fears Allah – then indeed, Allah loves those who fear Him.
77  Indeed, those who exchange the covenant of Allah and their [own] oaths for a small price will have no share in the Hereafter, and Allah will not speak to them or look at them on the Day of Resurrection, nor will He purify them; and they will have a painful punishment.
78  And indeed, there is among them a party who alter the Scripture with their tongues so you may think it is from the Scripture, but it is not from the Scripture. And they say, “This is from Allah,” but it is not from Allah. And they speak untruth about Allah while they know.
79  It is not for a human [prophet] that Allah should give him the Scripture and authority and prophethood and then he would say to the people, “Be servants to me rather than Allah,” but [instead, he would say], “Be pious scholars of the Lord because of what you have taught of the Scripture and because of what you have studied.”
80  Nor could he order you to take the angels and prophets as lords. Would he order you to disbelief after you had been Muslims?
81  And [recall, O People of the Scripture], when Allah took the covenant of the prophets, [saying], “Whatever I give you of the Scripture and wisdom and then there comes to you a messenger confirming what is with you, you [must] believe in him and support him.” [Allah] said, “Have you acknowledged and taken upon that My commitment?” They said, “We have acknowledged it.” He said, “Then bear witness, and I am with you among the witnesses.”
82  And whoever turned away after that – they were the defiantly disobedient.
83  So is it other than the religion of Allah they desire, while to Him have submitted [all] those within the heavens and earth, willingly or by compulsion, and to Him they will be returned?
84  Say, “We have believed in Allah and in what was revealed to us and what was revealed to Abraham, Ishmael, Isaac, Jacob, and the Descendants, and in what was given to Moses and Jesus and to the prophets from their Lord. We make no distinction between any of them, and we are Muslims [submitting] to Him.”
85  And whoever desires other than Islam as religion – never will it be accepted from him, and he, in the Hereafter, will be among the losers.
86  How shall Allah guide a people who disbelieved after their belief and had witnessed that the Messenger is true and clear signs had come to them? And Allah does not guide the wrongdoing people.
87  Those – their recompense will be that upon them is the curse of Allah and the angels and the people, all together,
88  Abiding eternally therein. The punishment will not be lightened for them, nor will they be reprieved.
89  Except for those who repent after that and correct themselves. For indeed, Allah is Forgiving and Merciful.
90  Indeed, those who reject the message after their belief and then increase in disbelief – never will their [claimed] repentance be accepted, and they are the ones astray.
91  Indeed, those who disbelieve and die while they are disbelievers – never would the [whole] capacity of the earth in gold be accepted from one of them if he would [seek to] ransom himself with it. For those there will be a painful punishment, and they will have no helpers.
92  Never will you attain the good [reward] until you spend [in the way of Allah] from that which you love. And whatever you spend – indeed, Allah is Knowing of it.
93  All food was lawful to the Children of Israel except what Israel had made unlawful to himself before the Torah was revealed. Say, [O Muhammad], “So bring the Torah and recite it, if you should be truthful.”
94  And whoever invents about Allah untruth after that – then those are [truly] the wrongdoers.
95  Say, “Allah has told the truth. So follow the religion of Abraham, inclining toward truth; and he was not of the polytheists.”
96  Indeed, the first House [of worship] established for mankind was that at Makkah – blessed and a guidance for the worlds.
97  In it are clear signs [such as] the standing place of Abraham. And whoever enters it shall be safe. And [due] to Allah from the people is a pilgrimage to the House – for whoever is able to find thereto a way. But whoever disbelieves – then indeed, Allah is free from need of the worlds.
98  Say, “O People of the Scripture, why do you disbelieve in the verses of Allah while Allah is Witness over what you do?”
99  Say, “O People of the Scripture, why do you avert from the way of Allah those who believe, seeking to make it [seem] deviant, while you are witnesses [to the truth]? And Allah is not unaware of what you do.”
100  O you who have believed, if you obey a party of those who were given the Scripture, they would turn you back, after your belief, [to being] unbelievers.
101  And how could you disbelieve while to you are being recited the verses of Allah and among you is His Messenger? And whoever holds firmly to Allah has [indeed] been guided to a straight path.
102  O you who have believed, fear Allah as He should be feared and do not die except as Muslims [in submission to Him].
103  And hold firmly to the rope of Allah all together and do not become divided. And remember the favor of Allah upon you – when you were enemies and He brought your hearts together and you became, by His favor, brothers. And you were on the edge of a pit of the Fire, and He saved you from it. Thus does Allah make clear to you His verses that you may be guided.
104  And let there be [arising] from you a nation inviting to [all that is] good, enjoining what is right and forbidding what is wrong, and those will be the successful.
105  And do not be like the ones who became divided and differed after the clear proofs had come to them. And those will have a great punishment.
106  On the Day [some] faces will turn white and [some] faces will turn black. As for those whose faces turn black, [to them it will be said], “Did you disbelieve after your belief? Then taste the punishment for what you used to reject.”
107  But as for those whose faces will turn white, [they will be] within the mercy of Allah. They will abide therein eternally.
108  These are the verses of Allah. We recite them to you, [O Muhammad], in truth; and Allah wants no injustice to the worlds.
109  To Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And to Allah will [all] matters be returned.
110  You are the best nation produced [as an example] for mankind. You enjoin what is right and forbid what is wrong and believe in Allah. If only the People of the Scripture had believed, it would have been better for them. Among them are believers, but most of them are defiantly disobedient.
111  They will not harm you except for [some] annoyance. And if they fight you, they will show you their backs; then they will not be aided.
112  They have been put under humiliation [by Allah] wherever they are overtaken, except for a covenant from Allah and a rope from the Muslims. And they have drawn upon themselves anger from Allah and have been put under destitution. That is because they disbelieved in the verses of Allah and killed the prophets without right. That is because they disobeyed and [habitually] transgressed.
113  They are not [all] the same; among the People of the Scripture is a community standing [in obedience], reciting the verses of Allah during periods of the night and prostrating [in prayer].
114  They believe in Allah and the Last Day, and they enjoin what is right and forbid what is wrong and hasten to good deeds. And those are among the righteous.
115  And whatever good they do – never will it be removed from them. And Allah is Knowing of the righteous.
116  Indeed, those who disbelieve – never will their wealth or their children avail them against Allah at all, and those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally.
117  The example of what they spend in this worldly life is like that of a wind containing frost which strikes the harvest of a people who have wronged themselves and destroys it. And Allah has not wronged them, but they wrong themselves.
118  O you who have believed, do not take as intimates those other than yourselves, for they will not spare you [any] ruin. They wish you would have hardship. Hatred has already appeared from their mouths, and what their breasts conceal is greater. We have certainly made clear to you the signs, if you will use reason.
119  Here you are loving them but they are not loving you, while you believe in the Scripture – all of it. And when they meet you, they say, “We believe.” But when they are alone, they bite their fingertips at you in rage. Say, “Die in your rage. Indeed, Allah is Knowing of that within the breasts.”
120  If good touches you, it distresses them; but if harm strikes you, they rejoice at it. And if you are patient and fear Allah, their plot will not harm you at all. Indeed, Allah is encompassing of what they do.
121  And [remember] when you, [O Muhammad], left your family in the morning to post the believers at their stations for the battle [of Uhud] – and Allah is Hearing and Knowing –
122  When two parties among you were about to lose courage, but Allah was their ally; and upon Allah the believers should rely.
123  And already had Allah given you victory at [the battle of] Badr while you were few in number. Then fear Allah; perhaps you will be grateful.
124  [Remember] when you said to the believers, “Is it not sufficient for you that your Lord should reinforce you with three thousand angels sent down?
125  Yes, if you remain patient and conscious of Allah and the enemy come upon you [attacking] in rage, your Lord will reinforce you with five thousand angels having marks [of distinction] 126  And Allah made it not except as [a sign of] good tidings for you and to reassure your hearts thereby. And victory is not except from Allah, the Exalted in Might, the Wise –
127  That He might cut down a section of the disbelievers or suppress them so that they turn back disappointed.
128  Not for you, [O Muhammad, but for Allah], is the decision whether He should [cut them down] or forgive them or punish them, for indeed, they are wrongdoers.
129  And to Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. He forgives whom He wills and punishes whom He wills. And Allah is Forgiving and Merciful.
130  O you who have believed, do not consume usury, doubled and multiplied, but fear Allah that you may be successful.
131  And fear the Fire, which has been prepared for the disbelievers.
132  And obey Allah and the Messenger that you may obtain mercy.
133  And hasten to forgiveness from your Lord and a garden as wide as the heavens and earth, prepared for the righteous
134  Who spend [in the cause of Allah] during ease and hardship and who restrain anger and who pardon the people – and Allah loves the doers of good;
135  And those who, when they commit an immorality or wrong themselves [by transgression], remember Allah and seek forgiveness for their sins – and who can forgive sins except Allah? – and [who] do not persist in what they have done while they know.
136  Those – their reward is forgiveness from their Lord and gardens beneath which rivers flow [in Paradise], wherein they will abide eternally; and excellent is the reward of the [righteous] workers.
137  Similar situations [as yours] have passed on before you, so proceed throughout the earth and observe how was the end of those who denied.
138  This [Qur’an] is a clear statement to [all] the people and a guidance and instruction for those conscious of Allah.
139  So do not weaken and do not grieve, and you will be superior if you are [true] believers.
140  If a wound should touch you – there has already touched the [opposing] people a wound similar to it. And these days [of varying conditions] We alternate among the people so that Allah may make evident those who believe and [may] take to Himself from among you martyrs – and Allah does not like the wrongdoers –
141  And that Allah may purify the believers [through trials] and destroy the disbelievers.
142  Or do you think that you will enter Paradise while Allah has not yet made evident those of you who fight in His cause and made evident those who are steadfast?
143  And you had certainly wished for martyrdom before you encountered it, and you have [now] seen it [before you] while you were looking on.
144  Muhammad is not but a messenger. [Other] messengers have passed on before him. So if he was to die or be killed, would you turn back on your heels [to unbelief]? And he who turns back on his heels will never harm Allah at all; but Allah will reward the grateful.
145  And it is not [possible] for one to die except by permission of Allah at a decree determined. And whoever desires the reward of this world – We will give him thereof; and whoever desires the reward of the Hereafter – We will give him thereof. And we will reward the grateful.
146  And how many a prophet [fought and] with him fought many religious scholars. But they never lost assurance due to what afflicted them in the cause of Allah, nor did they weaken or submit. And Allah loves the steadfast.
147  And their words were not but that they said, “Our Lord, forgive us our sins and the excess [committed] in our affairs and plant firmly our feet and give us victory over the disbelieving people.”
148  So Allah gave them the reward of this world and the good reward of the Hereafter. And Allah loves the doers of good.
149  O you who have believed, if you obey those who disbelieve, they will turn you back on your heels, and you will [then] become losers.
150  But Allah is your protector, and He is the best of helpers.
151  We will cast terror into the hearts of those who disbelieve for what they have associated with Allah of which He had not sent down [any] authority. And their refuge will be the Fire, and wretched is the residence of the wrongdoers.
152  And Allah had certainly fulfilled His promise to you when you were killing the enemy by His permission until [the time] when you lost courage and fell to disputing about the order [given by the Prophet] and disobeyed after He had shown you that which you love. Among you are some who desire this world, and among you are some who desire the Hereafter. Then he turned you back from them [defeated] that He might test you. And He has already forgiven you, and Allah is the possessor of bounty for the believers.
153  [Remember] when you [fled and] climbed [the mountain] without looking aside at anyone while the Messenger was calling you from behind. So Allah repaid you with distress upon distress so you would not grieve for that which had escaped you [of victory and spoils of war] or [for] that which had befallen you [of injury and death]. And Allah is [fully] Acquainted with what you do.
154  Then after distress, He sent down upon you security [in the form of] drowsiness, overcoming a faction of you, while another faction worried about themselves, thinking of Allah other than the truth – the thought of ignorance, saying, “Is there anything for us [to have done] in this matter?” Say, “Indeed, the matter belongs completely to Allah.” They conceal within themselves what they will not reveal to you. They say, “If there was anything we could have done in the matter, some of us would not have been killed right here.” Say, “Even if you had been inside your houses, those decreed to be killed would have come out to their death beds.” [It was] so that Allah might test what is in your breasts and purify what is in your hearts. And Allah is Knowing of that within the breasts.
155  Indeed, those of you who turned back on the day the two armies met, it was Satan who caused them to slip because of some [blame] they had earned. But Allah has already forgiven them. Indeed, Allah is Forgiving and Forbearing.
156  O you who have believed, do not be like those who disbelieved and said about their brothers when they traveled through the land or went out to fight, “If they had been with us, they would not have died or have been killed,” so Allah makes that [misconception] a regret within their hearts. And it is Allah who gives life and causes death, and Allah is Seeing of what you do.
157  And if you are killed in the cause of Allah or die – then forgiveness from Allah and mercy are better than whatever they accumulate [in this world].
158  And whether you die or are killed, unto Allah you will be gathered.
159  So by mercy from Allah, [O Muhammad], you were lenient with them. And if you had been rude [in speech] and harsh in heart, they would have disbanded from about you. So pardon them and ask forgiveness for them and consult them in the matter. And when you have decided, then rely upon Allah. Indeed, Allah loves those who rely [upon Him].
160  If Allah should aid you, no one can overcome you; but if He should forsake you, who is there that can aid you after Him? And upon Allah let the believers rely.
161  It is not [attributable] to any prophet that he would act unfaithfully [in regard to war booty]. And whoever betrays, [taking unlawfully], will come with what he took on the Day of Resurrection. Then will every soul be [fully] compensated for what it earned, and they will not be wronged.
162  So is one who pursues the pleasure of Allah like one who brings upon himself the anger of Allah and whose refuge is Hell? And wretched is the destination.
163  They are [varying] degrees in the sight of Allah, and Allah is Seeing of whatever they do.
164  Certainly did Allah confer [great] favor upon the believers when He sent among them a Messenger from themselves, reciting to them His verses and purifying them and teaching them the Book and wisdom, although they had been before in manifest error.
165  Why [is it that] when a [single] disaster struck you [on the day of Uhud], although you had struck [the enemy in the battle of Badr] with one twice as great, you said, “From where is this?” Say, “It is from yourselves.” Indeed, Allah is over all things competent.
166  And what struck you on the day the two armies met was by permission of Allah that He might make evident the [true] believers.
167  And that He might make evident those who are hypocrites. For it was said to them, “Come, fight in the way of Allah or [at least] defend.” They said, “If we had known [there would be] fighting, we would have followed you.” They were nearer to disbelief that day than to faith, saying with their mouths what was not in their hearts. And Allah is most Knowing of what they conceal –
168  Those who said about their brothers while sitting [at home], “If they had obeyed us, they would not have been killed.” Say, “Then prevent death from yourselves, if you should be truthful.”
169  And never think of those who have been killed in the cause of Allah as dead. Rather, they are alive with their Lord, receiving provision,
170  Rejoicing in what Allah has bestowed upon them of His bounty, and they receive good tidings about those [to be martyred] after them who have not yet joined them – that there will be no fear concerning them, nor will they grieve.
171  They receive good tidings of favor from Allah and bounty and [of the fact] that Allah does not allow the reward of believers to be lost –
172  Those [believers] who responded to Allah and the Messenger after injury had struck them. For those who did good among them and feared Allah is a great reward –
173  Those to whom hypocrites said, “Indeed, the people have gathered against you, so fear them.” But it [merely] increased them in faith, and they said, “Sufficient for us is Allah, and [He is] the best Disposer of affairs.”
174  So they returned with favor from Allah and bounty, no harm having touched them. And they pursued the pleasure of Allah, and Allah is the possessor of great bounty.
175  That is only Satan who frightens [you] of his supporters. So fear them not, but fear Me, if you are [indeed] believers.
176  And do not be grieved, [O Muhammad], by those who hasten into disbelief. Indeed, they will never harm Allah at all. Allah intends that He should give them no share in the Hereafter, and for them is a great punishment.
177  Indeed, those who purchase disbelief [in exchange] for faith – never will they harm Allah at all, and for them is a painful punishment.
178  And let not those who disbelieve ever think that [because] We extend their time [of enjoyment] it is better for them. We only extend it for them so that they may increase in sin, and for them is a humiliating punishment.
179  Allah would not leave the believers in that [state] you are in [presently] until He separates the evil from the good. Nor would Allah reveal to you the unseen. But [instead], Allah chooses of His messengers whom He wills, so believe in Allah and His messengers. And if you believe and fear Him, then for you is a great reward.
180  And let not those who [greedily] withhold what Allah has given them of His bounty ever think that it is better for them. Rather, it is worse for them. Their necks will be encircled by what they withheld on the Day of Resurrection. And to Allah belongs the heritage of the heavens and the earth. And Allah, with what you do, is [fully] Acquainted.
181  Allah has certainly heard the statement of those [Jews] who said, “Indeed, Allah is poor, while we are rich.” We will record what they said and their killing of the prophets without right and will say, “Taste the punishment of the Burning Fire.
182  That is for what your hands have put forth and because Allah is not ever unjust to [His] servants.”
183  [They are] those who said, “Indeed, Allah has taken our promise not to believe any messenger until he brings us an offering which fire [from heaven] will consume.” Say, “There have already come to you messengers before me with clear proofs and [even] that of which you speak. So why did you kill them, if you should be truthful?”
184  Then if they deny you, [O Muhammad] – so were messengers denied before you, who brought clear proofs and written ordinances and the enlightening Scripture.
185  Every soul will taste death, and you will only be given your [full] compensation on the Day of Resurrection. So he who is drawn away from the Fire and admitted to Paradise has attained [his desire]. And what is the life of this world except the enjoyment of delusion.
186  You will surely be tested in your possessions and in yourselves. And you will surely hear from those who were given the Scripture before you and from those who associate others with Allah much abuse. But if you are patient and fear Allah – indeed, that is of the matters [worthy] of determination.
187  And [mention, O Muhammad], when Allah took a covenant from those who were given the Scripture, [saying], “You must make it clear to the people and not conceal it.” But they threw it away behind their backs and exchanged it for a small price. And wretched is that which they purchased.
188  And never think that those who rejoice in what they have perpetrated and like to be praised for what they did not do – never think them [to be] in safety from the punishment, and for them is a painful punishment.
189  And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth, and Allah is over all things competent.
190  Indeed, in the creation of the heavens and the earth and the alternation of the night and the day are signs for those of understanding.
191  Who remember Allah while standing or sitting or [lying] on their sides and give thought to the creation of the heavens and the earth, [saying], “Our Lord, You did not create this aimlessly; exalted are You [above such a thing]; then protect us from the punishment of the Fire.
192  Our Lord, indeed whoever You admit to the Fire – You have disgraced him, and for the wrongdoers there are no helpers.
193  Our Lord, indeed we have heard a caller calling to faith, [saying], ‘Believe in your Lord,’ and we have believed. Our Lord, so forgive us our sins and remove from us our misdeeds and cause us to die with the righteous.
194  Our Lord, and grant us what You promised us through Your messengers and do not disgrace us on the Day of Resurrection. Indeed, You do not fail in [Your] promise.”
195  And their Lord responded to them, “Never will I allow to be lost the work of [any] worker among you, whether male or female; you are of one another. So those who emigrated or were evicted from their homes or were harmed in My cause or fought or were killed – I will surely remove from them their misdeeds, and I will surely admit them to gardens beneath which rivers flow as reward from Allah, and Allah has with Him the best reward.”
196  Be not deceived by the [uninhibited] movement of the disbelievers throughout the land.
197  [It is but] a small enjoyment; then their [final] refuge is Hell, and wretched is the resting place.
198  But those who feared their Lord will have gardens beneath which rivers flow, abiding eternally therein, as accommodation from Allah. And that which is with Allah is best for the righteous.
199  And indeed, among the People of the Scripture are those who believe in Allah and what was revealed to you and what was revealed to them, [being] humbly submissive to Allah. They do not exchange the verses of Allah for a small price. Those will have their reward with their Lord. Indeed, Allah is swift in account.
200  O you who have believed, persevere and endure and remain stationed and fear Allah that you may be successful.

 奉至仁至慈的真主之名
1  艾列弗,俩目,米目。
2  真主,除他外,绝无应受崇拜的;他是永生不灭的,是维护万物的。
3  他降示你这部包含真理的经典,以证实以前的一切天经;他曾降示《讨拉特》和《引支勒》
4  于此经之前,以作世人的向导;又降示证据。不信真主的迹象的人,必定要受严厉的刑罚。真主是万的,是惩恶的。
5  真主确是天地间任何物所不能瞒的。
6  你们在子宫里的时候,他随意地以形状赋于你们。除他外,绝无应受崇拜的;他确是万能的,确是至睿的。
7  他降示你这部经典,其中有许多明确的节文,是全经的基本;还有别的许多隐微的节文。心存邪念的人,遵从隐微的节文,企图淆惑人心,探求经义的究竟。只有真主和学问文精通的人才知道经义的究竟。他们说:我们已确信它,明确的和隐微的,都是从我们的主那里降示的。惟有理智的人,才会觉悟。
8  我们的主啊!在你引导我们之后,求你不要使我们的心背离正道,求你把你那里发出的恩惠,赏赐我们,你确是博施的。
9  我们的主啊!在无疑之日,你必定集合世人。真主确是不爽约的。
10  不信道者所有的财产和子嗣,对真主的刑罚,不能裨益他们一丝毫。这等人是火狱的燃料。
11  (他们的情状),犹如法老的百姓和他们以前的各民族的情状一样;他们否认真主的迹象,故真主因他们的罪恶而惩治他们。真主的刑罚是严厉的。
12  你对不信道者说:你们将被克服,将被集合于火狱。那卧褥真恶劣!
13  你们确已得到一种迹象,在交战的两军之中;一军是为主道而战的,一军是不信道的,眼见这一军有自己的两倍。真主以他自己的佑助扶助他所意欲的人。对于有眼光的人,此中确有一种鉴戒。
14  迷惑世人的,是令人爱好的事物,如妻子,儿女,金银,宝藏,骏马,牲畜,禾稼等。这些是今世生活的享受;而真主那里,却有优美的归宿。
15  你说:我告诉你们比这更佳美的,好吗?敬畏者得在他们的主那里,享受下临诸河的乐园,他们得永居其中,并获得纯洁的配偶,和真主的喜悦。真主是明察众仆的。
16  他们说:我们的主啊!我们确已信道了,求你赦宥我们的罪过,求你使我们得免于火狱的刑罚。
17  他们是坚忍的,是诚实的,是顺从的,是好施的,是在黎明时求饶的。
18  真主秉公作证:除他外,绝无应受崇拜的;众天神和一般学者,也这样作证:除他外,绝无应受崇拜的,他是万能的,是至睿的。
19  真主所喜悦的宗教,确是伊斯兰教。曾受天经的人,除在知识降临他们之后,由于互相嫉妒外,对于伊斯兰教也没有异议。谁不信真主的迹象,(真主不久就要惩治谁),因为真主确是清算神速的。
20  . 如果他们与你争论,你就说:我已全体归顺真主;顺从我的人,也归顺真主。你对曾受天经的人和不识字的人说:你们已经归顺了吗? 如果他们归顺,那末,他们已遵循正道。如果他们背弃,那末,你只负通知的责任。真主是明察众仆的。
21  对于不信真主的迹象,而且枉杀众先知,枉杀以正义命人者的人,你应当以痛苦的刑罚向他们报喜。
22  这等人的善功, 在今世和后世, 完全无效, 他们绝没有援助者。
23  难道你没有看见曾受一部分天经的人吗?别人召他们去依据真主的经典而判决争执时,他们中有一部分人不愿接受他的判决,他们是常常反对真理的。
24  这是因为他们说:火绝不接触我们,除非若干有数的日子。他们所捏造的,在他们的宗教方面,已欺骗了他们。
25  在毫无可疑的一日,我将集合他们,那时人人都得享受自己行为的完全的报酬,毫无亏枉。在那日,他们怎样呢?
26  你说:真主啊!国权的主啊!你要把国权赏赐谁,就赏赐谁;你要把国权从谁手中夺去,就从谁手中夺去;你要使谁尊贵,就使谁尊贵;你要使谁裨贱,就使谁裨贱;福利只由你掌握;你对于万事,确是全能的。
27  你使夜入昼,使昼入夜;你从无生物中取出生物,从生物中取出无生物;你无量地供给你所意欲的人。
28  信道的人,不可舍同教而以外教为盟友;谁犯此禁令,谁不得真主的保佑,除非你们对他们有所畏惧(而假意应酬)。真主使你们防备他自己,真主是最后的归宿。
29  你说:你们的心事,无论加以隐讳,或加以表白,真主都是知道的。他知道天地万物。真主对于万事是全能的。
30  在那日,人人都要发现自己所作善恶的记录陈列在自己面前。人人都要希望在自己和那日之间,有很远的距离。真主使你们防备他自己,真主是仁爱众仆的。
31  你说:如果你们喜爱真主,就当顺从我;(你们顺从我),真主就喜爱你们,就赦宥你们的罪过。真主是至赦的,是至慈的。
32  你说:你们当服从真主和使者。如果你们违背正道,那么,真主确是不喜爱不信道的人的。
33  真主确已拣选阿丹、努哈、易卜拉欣的后裔,和仪姆兰的后裔,而使他们超越世人。
34  那些后裔,是一贯的血通。真主是全聪的,是全知的。
35  当时仪姆兰的女人说:我的主啊!我誓愿以我腹里所怀的,奉献你,求你接受我的奉献。你确是全聪的,确是全知的。
36  当她生了一个女孩的时候,她说:我确已生了一个女孩。真主是知道她所生的孩子的。男孩不象女孩一样。我确已把她叫做麦尔彦,求你保佑她和她的后裔,免受被弃绝的恶魔的搔扰。
37  她的主接受了她,并使她健全的成长,且使宰凯里雅抚育她。宰凯里雅每次进内殿去看她,都发现她面前有给养,他说:麦尔彦啊!你怎么会有这个呢?她说:这是从我的主那里降下的。真主必定无量地供给他的意欲的人。
38  在那里,宰凯里雅就祈祷他的主说:我的主啊!求你从你那里赏赐我一个善良的子嗣。你确是听取祈祷的。
39  正当宰凯里雅站在内殿祈祷的时候,天神喊叫他说:真主以叶哈雅向你报喜,他要证实从真主发出的一句话,要长成尊贵的、克己的人,要变成一个善良的先知。
40  他说:我的主啊!我确已老迈了,我的妻子是不会生育的,我怎么会有儿子呢? 天神说:真主如此为所欲为。
41  宰凯里雅说:我的主啊!求你为我预定一种迹象。天神说:你的迹象是你三日不说话,只做手势。你当多多的记念你的主,你当朝夕赞他超绝。
42  当时,天神说:麦尔彦啊!真主确已拣选你,使你纯洁,使你超越全世界的妇女。
43  麦尔彦啊!你当顺服你的主,你当叩头,你当与鞠躬的人一同鞠躬。
44  这是关于幽玄的消息,我把它启示你;当他们用拈阄法决定谁抚养麦尔彦的时候,你没有在场,他们争论的时候,你也没有在场。
45  当时,天神说:麦尔彦啊!真主的确把从他发出的一句话向你报喜。他的名子是麦尔彦之子麦西哈. 尔撒,在今世和后世都是有面子的,是真主所亲近的。
46  他在摇篮里在壮年时都要对人说话,他将来是一个善人。
47  她说:我的主啊!任何人都没有和我接触过,我怎么会有儿子呢? 天神说:真主要如此创造他的意欲的人。当他判决一件事情的时候,他只对那件事情说声有’,它就有了。
48  他要教他书法和智慧,《讨拉特》和《引支勒》,
49  他要使他去教化以色列的后裔。(尔撒说):我确已把你们的主所降示一种迹象,带来给你们了。我必定为你们用泥做一个象鸟样的东西,我吹口气在里面,它就奉真主的命令而飞动。我奉真主的命令,能医治天然盲、大麻疯,又能使死者复活,又能把你们所吃的和你们储藏在家里的食物告诉你们。对于你们,此中确有一种迹象,如果你们是信道的人。
50  (我奉命来)证实在我之前降示的《讨拉特》,并为你们解除一部分禁令。我已昭示你们从真主发出的一种迹象,故你们应当敬畏真主,应当服从我。
51  真主确是我的主,也是你们的主,故你们应当崇拜他。这是正路。
52  当尔撒确知众人不信道的时候,他说:谁为真主而协助我? 众门徒说:我们为真主而协助你,我们已确信真主,求你作证我们是归顺者。
53  我们的主啊!我们已确信你所降示的经典,我们已顺从使者,求你使我们加入作证者的行列。
54  他们用计谋,真主也用计谋,真主是最善于用计谋的。
55  当时,真主对尔撒说:我必定要使你寿终,要把你擢升到我那里,要为你涤清不信道者的诬蔑,要使信仰你的人,在不信仰你的人之上,直到复活日。然后你们只归于我,我要为你们判决你们所争论的是非。
56  至于不信道的人,我要在今世和后世,严厉地惩罚他们,他们绝没有任何援助者。
57  至于信道而且行善的人,真主要使他们享受完全的报酬。真主不喜爱不义的人。
58  这是我对你宣读的迹象,和睿智的教训。
59  在真主看来,尔撒确是象阿丹一样的。他用土创造阿丹,然后他对他说有,他就有了。
60  (这是)从你的主降示的真理,故你不要怀疑。
61  在知识降临你之后,凡与你争论此事的人,你都可以对他们说:你们来吧!让我们召集我们各自的孩子,我们的妇女和你们的妇女,我们的自身和你们的自身,然后让我们祈祷真主弃绝说谎的人。
62  这确是真实的故事。除真主外,绝无应受崇拜的。真主确是万能的,确是至睿的。
63  如果他们背弃正道,那么,真主对于作恶的人,确是全知的。
64  你说:信奉天经的人啊!你们来吧,让我们共同遵守一种双方认为公平的信条:我们大家只崇拜真主,不以任何物配他,除真主外,不以同类为主宰。如果他们背弃这种信条,那末,你们说:请你们作证我们是归顺的人。
65  信奉天经的人啊!你们为什么和我们辩论易卜拉欣(的宗教)呢?《讨拉特》和《引支勒》是在他弃世之后才降示的。难道你们不了解吗?
66  你们这等人,自己知道的事,固然可以辩论;怎么连自己所不知道的事,也要加以辩论呢?真主知道,你们确不知道。
67  易卜拉欣既不是犹太教徒,也不是基督教徒。他是一个崇信正教、归顺真主的人,他不是以物配主的人。
68  与易卜拉欣最亲密的,确是顺从他的人,和这个先知,和信道的人。真主是信士们的保佑者。
69  信奉天经的人中有一部分人,希望使你们迷误,其实,他们只能使自己迷误, 他们却不自觉。
70  信奉天经的人啊!你们明知真主的迹象是真的,你们为什么不信那些迹象呢?
71  信奉天经的人啊!你们为什么明知故犯地以假乱真,隐讳真理呢?
72  信奉天经的人中有一部分人说:你们可以在早晨表示确信信士们所受的启示,而在晚夕表示不信,(你们这样做),他们或许叛教。
73  你们只可以信任你们的教友。你说:引导确是真主的引导,难道因为别人获得象你们所获得的启示,或他们将在真主那里与你们辩论,(你们就这样用计)吗? 你说:恩惠确是由真主掌握,他把它赏赐他所意欲的人。真主是宽大的, 是全知的。
74  他为自已的慈恩而特选他所意欲的人。真主是有宏恩的。
75  信奉天经的人中有这样的人:如果你托付他一千两黄金,他会交给还你;他们中也有这样的人:如果你托付他一枚金币,他也许不交还你,除非你一再追究它。这是因为他们说:我们不为不识字的人而受处分。他们明知故犯地假借真主的名义而造遥。
76  不然,凡践约而且敬畏的人,(都是真主所喜爱的)。因为真主确是喜爱敬畏者的。
77  以真主的盟约和自已的盟誓换取些微代价的人,在后世不获恩典,复活日,真主不和他们说话,不睬他们,不涤清他们的罪恶,他们将受痛苦的刑罚。
78  他们中确有一部分人,篡改天经,以便你们把曾经篡改的当做天经,其实,那不是天经。他们说:这是从真主那里降示的。其实那不是从真主那里降示的,他们明知故犯地假借真主的名义而造遥。
79  一个人既蒙真主赏赐经典,智慧和预言,他不至对世人说:你们做我的奴仆,不要做真主的奴仆。但(他必说):你们当做崇拜造物主的人,因为你们教授天经,诵习天经。
80  他也不致教你们以众天神和众先知为主宰。你们既归顺之后,他怎能教你们不信道呢?
81  当时,真主与众先知缔约说:我已赏赐你们经典和智慧,以后有一个使者来证实你们所有的经典,你们必须确信他,必须辅助他。他说:你们承认吗?你们愿意为此事而与我缔约吗? 他们说:我们承认了。他说:那末,你们作证吧;我也和你们一同作证。
82  此后,凡背弃约言的,都是罪人。
83  难道他们要舍真主的宗教而寻求别的宗教吗?同时天地万物,不论自愿与否,都归顺他,他们将来只被召归于他。
84  你说:我们确信真主,确信我们所受的启示,与易卜拉欣,易司马仪,易司哈格,叶尔孤白和各支派所受的启示,与穆萨,尔萨和众先知所受赐于他们的主的经典,我们对于他们中的任何一人,都不加以歧视,我们只归顺他。
85  舍伊斯教寻求别的宗教的人,他所寻求的宗教,绝不被接受,他在后世,是亏折的。
86  既表示信道,又作证使者的真实,且眼见明证的降临,然后表示不信,这样的民众,真主怎么能引导他们呢?真主是不引导不义的民众的。
87  这等人的报应,是遭受真主的弃绝与天神和人类的共同的咒诅;
88  他们将永居火狱中,不蒙减刑,也不蒙缓刑。
89  惟后来悔过自新的人,(将蒙赦宥),因为真主确是至赦的,确是至慈的。
90  信道之后,又复不信,且变本加厉的人,他们的忏悔绝不被接受。这等人确是迷误的。
91  在世时没有信道,临死时仍不信道的人,即使以满地的黄金赎罪,也不被接受,这等人将受痛苦的刑罚,他们绝没有任何援助者。
92  你们绝不能获得全善,直到你们分舍自己所爱的事物。你们所施舍的,无论是什么,确是真主所知道的。
93  一切食物对于以色列的后裔,原是合法的。除非在降示《讨拉特》之前易司拉仪(的后裔)自己所戒除的食物。你说:你们拿《讨拉特》来当面诵读吧,如果你们是诚实的。
94  此后,凡是假借真主的名义而造谣的人,都是不义的。
95  你说:真主所说的是实话,故你们应当遵守崇奉正教的易卜拉欣的宗教,他不是以物配主的。
96  为世人而创设的最古的清真寺,确是在麦加的那所吉祥的天房、全世界的向导。
97  其中有许多明证,如易卜拉欣的立足地;凡入其中的人都得安宁。凡能旅行到天房的,人人都有为真主而朝觐天房的义务。不信道的人(无损于真主),因为真主确是无求于全世界的。
98  你说:信奉天经的人啊!真主是见证你们的行为的,你们为什么不信真主的迹象呢?
99  你说:信奉天经的人啊!你们既是见证,为什么你们要阻止信道的人入真主的大道,并想暗示它是邪道呢?真主决不忽视你们的行为。
100  信道的人们啊!如果你们顺从曾受天经的一部分人,那末,他们将使你们在信道之后变成不信道的人。
101  你们常常听见别人对你们宣读真主的迹象,使者又与你们相处,你们怎么不信道呢?谁信托真主,谁确已被引导于正路。
102  信道的人们啊!你们当真实地敬畏真主,你们除非成了顺主的人。
103  你们当全体坚持真主的绳索,不要自己分裂。你们当铭记真主所赐你们的恩典,当时,你们原是仇敌,而真主联合你们的心,你们借他的恩典才变成教胞;你们原是在一个火坑的边缘上的,是真主使你们脱离那个火坑。真主如此为你们阐明他的迹象,以便你们遵循正道。
104  你们中当有一部分人,导人于至善,并劝善戒恶;这等人,确是成功的。
105  你们不要象那样的人:在明证降临之后,自己分裂,常常争论;那等人,将受重大的刑罚。
106  . 在那日,有些脸将变成白皙的,有些脸将变成黧黑的。至于脸色变黑的人(天神将对他们说):你们既信道之后又不信道吗?你们为不信道而尝试刑罚吧。
107  至于脸色变白的人,将入于真主的慈恩内,而永居其中。
108  这是真主的迹象,其中包含真理,我对你宣读它,真主不欲亏枉众生。
109  天地万物都是真主的,万事只归真主。
110  你们是为世人而被产生的最优秀的民族,你们劝善戒恶,确信真主。假若信奉天经的人确信正道,那对于他们是更好的。他们中有一部分是信士,大部分是罪人。
111  除恶言外,他们绝不能伤害你们;如果你们和他们交战,他们将要败北,且不获援助。
112  他们无论在那里出现,都要陷于卑贱之中,除非借真主的和约与众人的和约不能安居,他们应受真主的谴怒,他们要陷于困苦之中。这是因为他们不信真主的迹象,而且枉杀众先知,这又是因为他们违抗主命,超越法度。
113  他们不是一律的。信奉天经的人中有一派正人,在夜间诵读真主的经典,且为真主而叩头。
114  他们确信真主和末日,他们劝善戒恶,争先行善;这等人是善人。
115  他们无论行什么善功,绝不至于徒劳无酬。真主是全知敬畏者的。
116  不信道的人,他们的财产和子嗣,对真主的刑罚,绝不能裨益他们一丝毫;这等人是火狱的居民,将永居其中。
117  他们在今世生活中所施舍的,譬如寒风吹向自欺的民众的禾稼上,就把它毁灭了。真主没有亏枉他们,但他们自欺。
118  信道的人们啊!你们不要以不同教的人为心腹,他们不遗余力谋害你们,他们希望你们遭难,他们的口中已吐露怨恨,他们的胸中所隐讳的,尤为恶毒。我确已为你们阐明许多迹象,如果你们是能了解的。
119  你们喜爱他们,他们却不喜爱你们,你们确信一切天经,而他们遇见你们就说:我们已信道了。他们私相聚会的时候,为怨恨你们而咬自己的指头。你说:你们为怨恨而死亡吧!真主确是全知心事的。
120  你们获得福利,他们就忧愁;你们遭遇祸患,他们就快乐。如果你们坚忍而且敬畏,那末,他们的计谋不能伤你们一丝毫。真主确是周知他们的行为的。
121  当时,你在早晨从家里出去,把信士们布置在阵地上。真主是全聪的,是全知的。
122  当时,你们中有两伙人要想示弱;但是真主是他们的保佑者。信士们只信托真主吧!
123  白德尔之役,你们是无势力的,而真主确已援助了你们。故你们应当敬畏真主,以便你们感谢。
124  当时,你对信士们说:你们的主降下天神三千来援助你们,还不够吗?
125  不然,如果你们坚忍,并且敬畏,而敌人立刻来攻你们,那末,你们的主,将使袭击的天神五千来援助你们。
126  真主只以这应许对你们报喜,以便你们的心境因此而安定。援助只是从万能的、至睿的真主那里降下的。
127  (他援助你们),以便对于不信道的人,或剪除一部分,或全部加以凌辱,以便他们失败而归。
128  他们确是不义的,真主或加以赦宥,或加以惩罚,你对于这件事,是无权过问的。
129  天地万物,都是真主的。他要恕饶谁,就恕饶谁;要惩罚谁,就惩罚谁。真主是至赦的,是至慈的。
130  信道的人们啊!你们不要吃重复加倍的利息,你们当敬畏真主,以便你们成功。
131  你们当防备那已为不信道的人而预备了的火狱。
132  你们当服从真主和使者,以便你们蒙主的怜恤。
133  你们当争先趋赴从你们的主发出的赦宥,和那与天地同宽的、已为敬畏者预备好的乐园。
134  敬畏的人,在康乐时施舍,在艰难时也施舍,且能抑怒、又能恕人。真主是喜爱行善者的。
135  敬畏者,当做了丑事或自欺的时候,记念真主,且为自己的罪恶而求饶–除真主外,谁能赦宥罪恶呢?–他们没有明知故犯地怙恶不悛。
136  这等人的报酬,是从他们的主发出的赦宥,和下临诸河的乐园,他们得永居其中。遵行者的报酬真优美!
137  有许多常道,已在你们之前逝去了;故你们当在大地上旅行,以观察否认真 理者的结局是怎样的。
138  这是对于世人的一种宣示,也是对于敬畏者的一种向导和教训。
139  你们不要灰心,不要忧愁,你们必占优势,如果你们是信道的人。
140  如果你们遭受创伤,那末,敌人确已遭受同样的创伤了。我使气运周流于世人之间,以便真主甄别信道的人,而以你们为见证–真主不喜爱不义的人。
141  以便真主锻炼信道的人,而毁灭不信道的人。
142  真主还没有甄别你们中奋斗的人和坚忍的人,难道你们就以为自己得入乐园 吗?
143  遭遇死亡之前,你们确已希望死亡;现在你们确已亲眼见到死亡了。
144  穆罕默德只是一个使者,在他之前,有许多使者,确已逝去了;如果他病故或阵亡,难道你们就要叛道吗?叛道的人,绝不能伤损真主一丝毫。真主将报酬感谢的人。
145  不得真主的许可,任何人都不会死亡;真主已注定各人的寿限了。谁想获得今世的报酬,我给谁今世的报酬;谁想获得后世的报酬,我给谁后世的报酬。我将报酬感谢的人。
146  有许多先知,曾有些明哲和他们一同作战,那些明哲没有为在主道上所遭遇的艰难而灰心,懈怠,屈服。真主是喜爱坚忍者的。
147  他们没有别的话,只说:我们的主啊!求你赦宥我们的罪恶,和我们的过失,求你坚定我们的步伐,求你援助我们以对抗不信道的民众。
148  故真主将今世的报酬和后世优美的报酬赏赐他们,真主是喜爱行善者的。
149  信道的人们啊!如果你们顺从不信道的人,他们将使你们背叛,以致你们变成亏折的人。
150  不然,真主是你们的保佑者,是最优的援助者。
151  我要把恐怖投在不信道者的心中,因为他们把真主和真主所未证实的(偶像)去配他,他们的归宿是火狱。不义者的归宿真恶劣。
152  你们奉真主的命令而歼灭敌军之初,真主确已对你们实践他的约言;直到了在他使你们看见你们所喜爱的战利品之后,你们竟示弱、内争、违抗(使者的)命令。你们中有贪恋今世的,有企图后世的。嗣后,他使你们离开敌人,以便他试验你们。他确已饶恕你们。真主对于信士是有恩惠的。
153  当时,你们败北远遁,不敢回顾任何人;–而使者在你们的后面喊叫你们,真主便以重重忧愁报答你们,以免你们为自己所丧失的战利品和所遭遇的惨败而惋惜。真主是彻知你们的行为的。
154  在忧患之后,他又降安宁给你们,使你们中一部分人瞌睡;另一部分人则为自身而焦虑,他们象蒙昧时代的人一样,对真主妄加猜测,他们说:我们有一点胜利的希望吗? 你说:一切事情,的确都是真主所主持的。他们的心里怀着不敢对你表示的恶意;他们说:假若我们有一点胜利的希望,我们的同胞不致阵亡在这里。你说:假若你们坐在家里,那么命中注定要阵亡的人,必定外出,走到他们阵亡的地方;(真主这样做),以便他试验你们的心事,锻炼你们心中的信仰。真主是全知心事的。
155  两军交战之日,你们中败北的人,只因他们犯过,故恶魔使他们失足;真主确已恕饶他们。真主确是至赦的,确是至容的。
156  信道的人们啊!你们不要象不信道的人一样;当他们的同胞出门病故,或阵亡前线的时候,他们说:假若他们同我们坐在家里,那么,他们不致病故或阵亡。(你们不要象他们那样说)以便真主以此为他们心里(所独有)的悔恨。真主能使死人复活,能使活人死亡。真主是明察他们的行为的。
157  如果你们为主道而阵亡,或病故,那么,从真主发出的赦宥和慈恩,必定比他们所聚集的(财产)还要宝贵些。
158  如果你们病故,或阵亡,那末,你们必定被集合到真主那里。
159  只因为从真主发出的慈恩,你温和地对待他们;假若你是粗暴的,是残酷的,那末,他们必定离你而分散;故你当恕饶他们,当为他们向主求饶,当与他们商议公事;你既决计行事,就当信托真主。真主的确喜爱信托他的人。
160  如果真主援助你们,那末,绝没有人能战胜你们。如果他弃绝你们,那末,在他(弃绝你们)之后,谁能援助你们呢?叫信士们只信托真主!
161  任何先知,都不致于侵蚀公物。谁侵蚀公物,在复活日,谁要把他所侵蚀的公物拿出来。然后,人人都得享受自己行为的完全的报酬,他们不受亏枉。
162  难道追求真主喜悦的人,象应受真主谴怒的人吗?他的归宿是火狱,那归宿真恶劣。
163  在真主看来他们分为许多等级。真主是明察他们的行为的。
164  真主确已施恩于信士们,因为他曾在他们中派遣了一个同族的使者,对他们宣读他的迹象,并且熏陶他们,教授他们天经和智慧,以前,他们确是在明显的迷误中的。
165  你们所遭受的损失,只有你们所加给敌人的损失的一半,你们怎么还说:这是从哪里来的呢? 你说:这是你们自作自受的。真主对于万事确是全能的。
166  两军交战之日,你们所遭受的损失,是依据真主的意旨的,他要认识确信的人,
167  也要认识伪信的人。有人对他们说:你们来吧,来为主道而作战,或来自卫吧!他们说:假若我们会打仗,我们必定追随你们。在那日,与其说他们是信道的人,不如说他们是不信道的人。他们口里所说的,并不是他们心里所想的。真主是知道他们所隐讳者的。
168  他们不肯参加战斗,却对自己的教胞说:假若他们顺从我们,他们不会阵亡。你说:你们为自身抵御死亡吧,如果你们是诚实的。
169  为主道而阵亡的人,你绝不要认为他们是死的,其实,他们是活着的,他们在真主那里享受给养。
170  他们又喜欢真主赏赐自己的恩惠,又喜欢留在人间,还没有赶上他们的那些教胞,将来没有恐惧,也不忧愁。
171  他们喜欢从真主发出的赏赐和恩惠,并且喜欢真主不使信士们徒劳无酬。
172  他们遭受创伤之后仍应真主和使者的召唤。他们中行善而且敬畏的人,得享受重大的报酬。
173  有人曾对他们说:那些人确已为进攻你们而集合队伍了,故你们应当畏惧他们。这句话却增加了他们的信念,他们说:真主是使我们满足的,他是优美的监护者!
174  他们带着从真主发出的赏赐和恩惠转回来,他们没有遭受任何损失,他们追求真主的喜悦。真主是有宏恩的。
175  那个恶魔,只图你们畏惧他的党羽,你们不要畏惧他们,你们当畏惧我,如 果你们是信道的人。
176  争先投入迷信的人,不要让他使你忧愁。他们绝不能损伤真主一丝毫。真主欲使他们在后世没有福分;他们将受重大的刑罚。
177  以正信换取迷信的人,必定不能损伤真主一丝毫,他们将受痛苦的刑罚。
178  不信道的人绝不要认为我优容他们,对于他们更为有利。我优容他们,只是要他们的罪恶加多。他们将受凌辱的刑罚。
179  真主不致于让信士们常在你们的现状之下,(但他试验你们),直到他甄别恶劣的与善良的。真主不致于使你们窥见幽玄,但真主拣选他所意欲的人做使者;故你们当确信真主和众使者。如果你们信道,而且敬畏,那末,你们将受重大的报酬。
180  吝惜真主所赐的恩惠的人,绝不要认为他们的吝惜,对于他们是有益的,其实,那对于他们是有害的;复活日,他们所吝惜的(财产),要像一个项圈一样,套在他们的颈项上。天地间的遗产,只是真主的。真主是彻知你们的行为的。
181  真主确已听见有些人说:真主确是贫穷的,我们确是富足的。我要记录他们所说的话,和他们枉杀众先知的行为。我要说:他们尝试烧灼的刑罚吧。
182  这是因为你们曾经犯罪,又因为真主绝不是亏枉众仆的。
183  他们曾说:真主确已命令我们不可确信任何使者,直到他昭示火所焚化的供物。你说:在我之前,有许多使者已昭示你们许多明证,并昭示你们所请求的;如果你们是诚实的,你们为什么要杀害他们呢?
184  如果他们否认你,那么,在你之前,他们确已否认过许多使者,那些使者,曾昭示他们许多明证、典籍,和灿烂的经典。
185  人人都要尝死的滋味。在复活日,你们才得享受你们的完全报酬。谁得远离火狱,而入乐园,谁已成功。今世的生活,只是虚幻的享受。
186  你们在财产方面和身体方面必定要受试验,你们必定要从曾受天经的人和以物配主的人的口里听到许多恶言,如果你们坚忍,而且敬畏,那末,这确是应该决心做的事情。
187  当时,真主与曾受天经的人缔约,说:你们必为世人阐明天经,你们不可隐讳它。但他们把它抛在背后,并以它换取些微的代价。他们所换取的真恶劣!
188  有些人对于自己做过的事,洋洋得意;对于自己未曾做过的事,爱受赞颂,你绝不要认为他们将脱离刑罚,其实,他们将受痛苦的刑罚。
189  天地的国权归真主所有。真主对于万事是全能的。
190  天地的创造,昼夜的轮流,在有理智的人看来,此中确有许多迹象。
191  他们站着,坐着,躺着记念真主,并思维天地的创造,(他们说):我们的主啊!你没有徒然地创造这个世界。我们赞颂你超绝万物,求你保护我们,免受火狱的刑罚。
192  我们的主啊!你使谁入火狱,你确已凌辱谁了。不义的人,绝没有援助者。
193  我们的主啊!我们确已听见了一个召唤的人,召人于正信,(他说):’你们当确信你们的主。’我们就确信了。我们的主啊!求你赦宥我们的罪恶,求你消除我们的过失,求你使我们与义人们死在一处。
194  我们的主啊!你曾借众使者的口而应许我们的恩惠,求你把它赏赐我们,求你在复活日不要凌辱我们。你确是不爽约的。
195  他们的主应答了他们:我绝不使你们中任何一个行善者徒劳无酬,无论他是男的,还是女的–男女是相生的–迁居异乡者、被人驱逐者、为主道而受害者、参加战斗者、被敌杀伤者,我必消除他们的过失,我必使他们进那下临诸河的乐园。这是从真主发出的报酬。真主那里,有优美的报酬。
196  不信道的人,往来四方,自由发展,你不要让这件事欺骗你。
197  那是些微的享受,将来他们的归宿是火狱。那卧褥真恶劣!
198  敬畏主的人,却得享受下临诸河的乐园,而永居其中。这是从真主那里发出的款待。在真主那里的恩典,对于义人是更有益的。
199  信奉天经的人中,的确有人信仰真主,信仰你们所受的启示,和他们所受的启示;同时,他们是敬事真主的,他们不以真主的迹象换取些微的代价,这等人,将在他们的主那里享受他们的报酬。真主确是清算神速的。
200  信道的人们啊!你们当坚忍,当奋斗,当戒备,当敬畏真主,以便你们成功。

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  `lm.
2  ¡Alá! No hay más dios que Él, el Viviente, el Subsistente.
3  Él te ha revelado la Escritura con la Verdad, en confirmación de los mensajes anteriores. Él ha revelado la Toro y el Evangelio
4  antes, como dirección para los hombres, y ha revelado el Criterio. Quienes no crean en los signos de Alá tendrán un castigo severo. Alá es poderoso, vengador.
5  No hay nada en la tierra ni en el cielo que se esconda de Alá.
6  Él es Quien os forma en el seno como quiere. No hay más dios que Él, el Poderoso, el Sabio.
7  Él es Quien te ha revelado la Escritura. Algunas de sus aleyas son unívocas y constituyen la Escritura Matriz; otras son equívocas. Los de corazón extraviado siguen las equívocas, por espíritu de discordia y por ganas de dar la interpretación de ello. Pero nadie sino Alá conoce la interpretación de ello. Los arraigados en la Ciencia dicen:«Creemos en ello. Todo procede de nuestro Señor». Pero no se dejan amonestar sino los dotados de intelecto.
8  ¡Señor! ¡No hagas que nuestros corazones se desvíen, después de habernos Tú dirigido! ¡Regálanos, de Ti, misericordia! Tú eres el Munífico.
9  ¡Señor! Tú eres quien va a reunir a los hombres para un día indubitable. Alá no falta a Su promesa.
10  A quienes no crean, ni su hacienda ni sus hijos les servirán de nada frente a Alá. Ésos servirán de combustible para el Fuego.
11  Como ocurrió con la gente de Faraón y con los que les precedieron: desmintieron Nuestros signos y Alá les castigó por sus pecados. Alá castiga severamente.
12  Di a quienes no creen: «Seréis vencidos y congregados hacia la gehena». ¡Qué mal lecho…!
13  Tuvisteis un signo en las dos tropas que se encontraron: la que combatía por Alá y la otra, infiel, que, a simple vista, creyó que aquélla le doblaba en número. Alá fortalece con Su auxilio a quien Él quiere. Sí, hay en ello motivo de reflexión para quienes tienen ojos.
14  El amor de lo apetecible aparece a los hombres engalanado: las mujeres, los hijos varones, el oro y la plata por quintales colmados, los caballos de raza, los rebaños los campos de cultivo… Eso es breve disfrute de la vida de acá. Pero Alá tiene junto a Sí un bello lugar de retorno.
15  Di: «¿Puedo informaros de algo mejor que eso?» Quienes teman a Alá encontrarán junto a su Señor jardines por cuyos bajos fluyen arroyos y en los que estarán eternamente, esposas purificadas y la satisfacción de Alá. Alá ve bien a Sus siervos,
16  que dicen: «¡Señor! ¡Nosotros creemos! ¡Perdónanos, pues, nuestros pecados y presérvanos del castigo del Fuego!»,
17  pacientes, sinceros, devotos, que practican la caridad y piden perdón al rayar el alba.
18  Alá atestigua, y con Él los ángeles y los hombres dotados de ciencia, que no hay más dios que Él, Que vela por la equidad. No hay más dios que Él, el Poderoso, el Sabio.
19  Ciertamente, la Religión, para Alá, es el islam. Aquéllos a quienes se dio la Escritura no se opusieron unos a otros, por rebeldía mutua, sino después de haber recibido la Ciencia. Quien no cree en los signos de Alá,… Alá es rápido en ajustar cuentas.
20  Si disputan contigo, di: «Yo me someto a Alá y lo mismo hacen quienes me siguen». Y di a quienes recibieron la Escritura y a quienes no la recibieron. «¿Os convertís al islam?», Si se convierten , están bien dirigidos; si vuelven la espalda, a ti sólo te incumbe la transmisión. Alá ve bien a Sus siervos.
21  Anuncia un castigo doloroso a quienes no creen en los signos de Alá, matan a los profetas sin justificación y matan a los hombres que ordenan la equidad.
22  Ésos son aquéllos cuyas obras son vanas en la vida de acá y en la otra y no tendrán quienes les auxilien.
23  ¿No has visto a quienes han recibido una porción de la Escritura ? Se les invita a que acepten la Escritura de Alá para que decida entre ellos, pero algunos vuelven la espalda y se van.
24  Es que han dicho: «El fuego no nos tocará más que por días contados». Sus propias mentiras les han engañado en su religión.
25  ¿Qué pasará cuando les reunamos para un día indubitable y cada uno reciba su merecido? Y no serán tratados injustamente.
26  Di: «¡Oh, Alá, Dueño del dominio! Tú das el dominio a quien quieres y se lo retiras a quien quieres, exaltas a quien quieres y humillas a quien quieres. En Tu mano está el bien. Eres omnipotente.
27  Tú haces que la noche entre en el día y que el día entre en la noche. Tú sacas al vivo del muerto y al muerto del vivo. Tú provees sin medida a quien quieres».
28  Que no tomen los creyentes como amigos a los infieles en lugar de tomar a los creyentes -quien obre así notendrá ninguna participación en Alá-, a menos quetengáis algo que temer de ellos. Al á os advierte quetengáis cuidado con Él. ¡Alá es el fin de todo!
29  Di: «Lo mismo si escondéis lo que tenéis en vuestros pechos que si lo manifestáis, Alá lo conoce». Y conoce lo que está en los cielos y en la tierra. Alá es omnipotente.
30  El día que cada uno se encuentre frente al bien y el mal que ha hecho, deseará tener bien lejos ese día. Alá advierte que tengáis cuidado con Él. Alá es manso con Sus siervos.
31  Di: «Si amáis a Alá ,¡seguidme! Alá os amará y os perdonará vuestros pecados. Alá es indulgente, misericordioso».
32  Di: «¡Obedeced a Alá y al Enviado!»Si vuelven la espalda,… Alá no ama a los infieles.
33  Alá ha escogido a Adán, a Noé, a la familia de Abraham y a la de Imran por encima de todos.
34  Como descendientes unos de otros. Alá todo lo oye. todo lo sabe.
35  Cuando la mujer de Imran dijo: «¡Señor! Te ofrezco en voto, a Tu exclusivo servicio, lo que hay en mi seno. ¡Acéptamelo! Tú eres Quien todo lo oye, Quien todo lo sabe».
36  Y cuando dio a luz a una hija, dijo:«¡Señor! Lo que he dado a luz es una hembra -bien sabía Alá lo que había dado a luz- y un varón no es igual que una hembra. Le he puesto por nombre María y la pongo bajo Tu protección contra el maldito Demonio, y también a su descendencia».
37  Su Señor la acogió favorablemente, la hizo crecer bien y la confió a Zacarías. Siempre que Zacarías entraba en el Templo para verla, encontraba sustento junto a ella. Decía:«María!, ¿de dónde te viene eso?» Decía ella:«De Alá. Alá provee sin medida a quien Él quiere».
38  Entonces, Zacarías invocó a su Señor diciendo: «¡Señor! ¡Regálame, de Ti, una descendencia buena! Tú escuchas a quien Te invoca».
39  Los ángeles le llamron cuando, de pie, oraba en el Templo: «Alá te anuncia la buena nueva de Juan, en confirmación de una Palabra que procede de Alá, y que será jefe, abstinente, profeta, de l os justos».
40  «¡Señor!» dijo, «¿cómo puedo tener un muchacho si soy ya viejo y mi mujer estéril?» Dijo:«Así será. Alá hace lo que Él quiere».
41  Dijo: «¡Señor! ¡Dame un signo!»Dijo. «Tu signo será que no podrás hablar a la gente durante tres días sino por señas. Recuerda mucho a tu Señor y glorifícale, al anochecer y al alba».
42  Y cuando los ángeles dijeron:«¡María! Alá te ha escogido y purificado. Te ha escogido entre todas las mujeres del universo.
43  ¡María! ¡Ten devoción a tu Señor, prostérnate e inclínate con los que se inclinan!»
44  Esto forma parte de las historias referentes a lo oculto, que Nosotros te revelamos. Tú no estabas con ellos cuando echaban suertes con sus cañas para ver quién de ellos iba a encargarse de María. Tú no estabas con ellos cuando disputaban.
45  Cuando los ángeles dijeron: «¡María! Alá te anuncia la buena nueva de una Palabra que procede de Él. Su nombre es el Ungido, Jesús, hijo de María, considerado en la vida de acá y en la otra y será de los allegados.
46  Hablará a la gente en la cuna y de adulto, y será de los justos».
47  Dijo ella:«¡Señor! ¿Cómo puedo tener un hijo, si no me ha tocado mortal?» Dijo: «Así será. Alá crea lo que Él quiere. Cuando decide algo, le dice tan sólo: “¡Sé!” y es.
48  Él le enseñara la Escritura, la Sabiduría, la Tora y elEvangelio».
49  Y como enviado a los Hijos de Israel: «Os he traído un signo que viene de vuestro Señor. Voy a crear para vosotros, de la arcilla, a modo de pájaros. Entonces, soplaré en ellos y, con permiso de Alá, se convertirán en pájaros. Con permiso de Alá, curaré al ciego de nacimiento y al leproso y resucitaré a los muertos. Os informaré de lo que coméis y de lo que almacenáis en vuestras casas. Ciertamente, tenéis en ello un signo, si es que sois creyentes.
50  Y en confirmación de la Toraanterior a mí y para declararos lícitas algunas de las cosas que se os han prohibido. Y os he traído un signo que viene de vuestro Señor. ¡Temed, pues, a Alá y obedecedme!
51  Alá es mi Señor y Señor vuestro. ¡Servidle, pues! Esto es una vía recta».
52  Pero, cuando Jesús percibió su incredulidad, dijo: «¿Quiénes son mis auxiliares en la vía que lleva a Alá?» Los apóstoles dijeron: «Nosotros somos los auxiliares de Alá. ¡Creemos en Alá! ¡Sé testigo de nuestra sumisión!
53  ¡Señor! Creemos en lo que has revelado y seguimos al enviado. Inscríbenos, pues, entre los que dan testimonio».
54  E intrigaron y Alá intrigó también. Pero Alá es el Mejor de los que intrigan.
55  Cuando Alá dijo: «¡Jesús! Voy a llamarte a Mí, voy a elevarte a Mí, voy a librarte de los que no creen y poner, hasta el día de la Resurrección, a los que te siguen por encima de los que no creen. Luego, volveréis a Mí y decidiré entre vosotros sobre aquello en que discrepabais.
56  A quienes no crean les castigaré severamente en la vida de acá y en la otra. Y no tendrán quienes les auxilien.
57  En cuanto a quienes crean y obren bien, Él les remunerará debidamente. Alá no ama a los impíos».
58  Esto te recitamos de las aleyas y de la sabia Amonestación.
59  Para Alá, Jesús es semejante a Adán, a quien creó de tierra y a quien dijo:«¡Sé!» y fue.
60  La Verdad viene de tu Señor. ¡No seas, pues, de los que dudan!
61  Si alguien disputa contigo a este propósito, después de haber sabido tú lo que has sabido, di:«¡Venid! Vamos a llamar a nuestros hijos varones y a vuestros hijos varones, a nuestras mujeres y a vuestra s mujeres, a nosotros mismos y a vosotros mismos. Execrémonos mutuamente e imprequemos la maldición de Alá sobre quienes mientan».
62  Ésta es la exposición auténtica. No hay ningún otro dios que Alá. Alá es el Poderoso, el Sabio.
63  Si vuelven la espalda… Alá conoce bien a los corruptores.
64  Di: «¡Gente de la Escritura !Convengamos en una fórmula aceptable a nosotros y a vosotros, según la cual no serviremos sino a Alá, no Le asociaremos nada y no tomaremos a nadie de entre nosotros como Señor fuera de Alá». Y, si vuelven la espalda, decid: «¡Sed testigos de nuestra sumisión!»
65  ¡Gente dela Escritura ! ¿Por qué disputáis de Abraham, siendo así que la Tora y el Evangelio no fueron revelados sino después de él? ¿Es que no razonáis?
66  ¡Mirad cómo sois! Disputabais de lo que conocíais. ¿Vais a disputar de lo que no conocéis? Alá sabe, mientras que vosotros no sabéis.
67  Abraham no fue judío ni cristiano, sino que fue hanif, sometido a Alá, no asociador.
68  Los más allegados a Abraham son los que le han seguido, así como este Profeta y los que han creído. Alá es el Amigo de los creyentes.
69  Un grupo de la gente de la Escritura desearía extraviaros; pero a nadie sino a sí mismos extravían y no se dan cuenta.
70  ¡Gente de la Escritura ! ¿Porqué no creéis en los signos de Alá, siendo, como sois, testigos de ellos?
71  ¡Gente de laEscritura ! ¿Por qué disfrazáis la Verdad de falsedad y ocultáis la Verdad conociéndola?
72  Otro grupo de la gente de la Escrituradice: «¡Creed al comenzar el día en lo que se ha revelado a los que creen y dejad de creer al terminar el día! Quizás, así, se conviertan.
73  Y no creáis sino a quienes siguen vuestra religión». Di: «La Dirección es la dirección de Alá. Que no se dé a otro lo que se os ha dado a vosotros, que no discutan con vosotros ante vuestro Señor». Di: «El favor está en la mano de Alá, Que lo dispensa a quien Él quiere». Alá es inmenso, omnisciente.
74  Particulariza con Su misericordia a quien Él quiere. Alá es el Dueño del favor inmenso.
75  Entre la gente de laEscritura hay quien, si le confías un quintal, te lo devuelve y hay quien, si le confías un dinar, no te lo devuelve sino es atosigándole. Y esto es así porque dicen: «No tenemos por qué ser escrupulosos con los gentiles». Mienten contra Alá a sabiendas.
76  ¡Pues sí! Si uno cumple su promesa y teme a Alá,… Alá ama quienes le temen.
77  Quienes malvenden la alianza con Alá y sus juramentos no tendrán parte en la otra vida. Alá no les dirigirá la palabra ni les mirará el día de la Resurrección, no les declarará puros y tendrán un castigo doloroso.
78  Algunos de ellos trabucan con sus lenguas la Escritura para que creáis que está en la Escritura lo que no está en la Escritura, diciendo que viene de Alá, siendo así que n o viene de Alá. Mienten contra Alá a sabiendas.
79  No está bien que un mortal a quien Alá da la Escritura, el jucio y el profetismo, vaya diciendo a la gente: «¡Sed siervos míos y no de Alá!» Antes bien: «¡Sed maestros, puesto que enseñáis la Escritura y la estudiáis!»
80  Alá no os ordena que toméis como señores a los ángeles y a los profetas. ¿Es que iba a ordenaros que fuerais infieles, después de haberos sometido a Él?
81  Y cuando Alá concertó un pacto con los profetas: «Cuando venga a vosotros un Enviado que confirme lo que de Mí hayáis recibido comoEscritura y como Sabiduría. habéis de creer en él y auxiliarle». Dijo: «¿Estáis dispuestos a aceptar mi alianza con esa condición?» Dijeron: «Estamos dispuestos». Dijo:«Entonces, ¡sed testigos! Yo también. con vosotros, soy testigo».
82  Quienes, después de esto, vuelvan la espalda serán los perversos.
83  ¿Desearían una religión diferente de la de Alá, cuando los que están en los cielos y en la tierra se someten a Él de grado o por fuerza? Y serán devueltos a Él.
84  Di «Creemos en Alá y en lo que se nos ha revelado, en lo que se ha revelado a Abraham, Ismael, Isaac, Jacob y las tribus, en lo que Moisés, Jesús y los profetas han recibido de su Señor. No hacemos distinción entre ninguno de ellos y nos sometemos a Él».
85  Si alguien desea una religión diferente del islam, no se le aceptará y en la otra vida será de los que pierdan.
86  ¿Cómo va Alá a dirigir a un pueblo que ha dejado de creer después de haber creído, de haber sido testigo de la veracidad del Enviado y de haber recibido las pruebas claras? Alá no dirige al pueblo impío.
87  Esos tales incurrirán, como retribución, en la maldición de Alá, de los ángeles y de los hombres, en la de todos ellos.
88  Eternos en ella, no se les mitigará el castigo, ni les será dado esperar.
89  Serán exceptuados quienes, después de eso, se arrepientan y se enmienden. Alá es indulgente, misericordioso.
90  A quienes dejen de creer, después de haber creído, y luego se obstinen en su incredulidad, no se les aceptará el arrepentimiento. Ésos son los extraviados.
91  Si uno que no cree muere siendo infiel, aunque ofrezca como precio de rescate la tierra llena de oro, no se le aceptará. Esos tales tendrán un castigo doloroso y no encontrarán quienes les auxilien.
92  No alcanzaréis la piedad auténtica mientras no gastéis algo de lo que amáis. Y Alá conoce bien cualquier cosa que gastáis.
93  Antes de que fuera revelada la Tora, todo alimento era lícito para los Hijos de Israel, salvo lo que Israel se había vedado a sí mismo. Di: «Si es verdad lo que decís., ¡traed la Tora y leedla!»,
94  Quienes, después de eso, inventen la mentira contra Alá, ésos son los impíos.
95  Di: «Alá ha dicho la verdad. Seguid, pues, la religión de Abraham, que fue hanif y no asociador».
96  La primera Casa erigida para los hombres es, ciertamente, la de Bakka, casa bendita y dirección para todos.
97  Hay en ella signos claros. Es el lugar de Abraham y quien entre en él estará seguro. Alá ha prescrito a los hombres la peregrinación a la Casa, si disponen de medios. Y quien no crea… Alá puede prescindir de las criaturas.
98  Di: «¡Gente de la Escritura !¿Por qué no creéis en los signos de Alá? Alá es testigo de lo que hacéis».
99  Di: «¡Gente de la Escritura !¿Por qué desviáis a quien cree del camino de Alá, deseando que sea tortuoso, siendo así que sois testigos? Alá está atento a lo que hacéis».
100  ¡Creyentes! Si obedecéis a algunos de los que han recibido la Escritura, harán que, luego de haber creído, no creáis.
101  ¿Cómo podéis dejar de creer si se os recitan las aleyas de Alá y Su Enviado se halla entre vosotros? Quien se aferre a Alá será dirigido a una vía recta.
102  ¡Creyentes! Temed a Alá con el temor que Le es debido y no muráis sino como musulmanes.
103  Aferraos al pacto de Alá, todos juntos, sin dividiros. Recordad la gracia que Alá os dispensó cuando erais enemigos: reconcilió vuestros corazones y, por Su gracia, os transformasteis en hermanos; estabais al borde de un abismo de fuego y os libró de él. Así os explica Alá Sus signos. Quizás, así, seáis bien dirigidos.
104  ¡Que constituyáis una comunidad que llame al bien, ordenando lo que está bien y prohibiendo lo que está mal! Quienes obren así serán los que prosperen.
105  ¡No seáis como quienes, después de haber recibido las pruebas claras, se dividieron y discreparon! Esos tales tendrán un castigo terrible
106  el día que unos rostros estén radiantes y otros hoscos. A aquéllos cuyos rostros estén hoscos: «¿Habéis dejado de creer luego de haber creído? Pues ¡gustad el castigo por no haber creído!»
107  En cuanto a aquéllos cuyos rostros estén radiantes, gozarán eternamente de la misericordia de Alá.
108  Éstas son las aleyas de Alá, que te recitamos conforme a la verdad. Alá no quiere la injusticia para las criaturas.
109  De Alá es lo que está en los cielos y en la tierra. Todo será devuelto a Alá.
110  Sois la mejor comunidad humana que jamás se haya suscitado: ordenáis lo que está bien, prohibís lo que está mal y creéis en Alá. Si la gente de la Escritura creyera, les iría mejor. Hay entre ellos creyentes, pero la mayoría son perversos.
111  Os dañarán, pero poco. Y si os combaten, os volverán la espalda. Luego, no seles auxiliará.
112  Han sido humillados dondequiera que se ha dado con ellos, excepto los protegidos por un pacto con Alá o por un pacto con los hombres. Han incurrido en la ira de Alá y les ha señalado la miseria. Por no haber creído en los signos de Alá y por haber matado a los profetas sin justificación. Por haber desobedecido y violado la ley.
113  No todos son iguales. Entre la gente de la Escritura hay una comunidad honrada: durante la noche, recitan las aleyas de Alá y se prosternan,
114  creen en Alá y en el último Día, ordenan lo que está bien, prohiben lo que está mal y rivalizan en buenas obras. Esos tales son de los justos.
115  No se les desagradecerá el bien que hagan. Alá conoce bien a los que Le temen.
116  A quienes no crean, ni su hacienda ni sus hijos les servirán de nada frente a Alá. Esos tales morarán en el Fuego eternamente.
117  Lo que gastan en la vida de acá es semejante a un viento glacial que bate la cosecha de gente que se ha dañado a sí misma y la destruye. No es Alá quien ha sido injusto con ellos, sino que ellos lo han sido consigo mismos.
118  ¡Creyentes! No intiméis con nadie ajeno a vuestra comunidad. Si no, no dejarán de dañaros. Desearían vuestra ruina. El odio asomó a sus bocas, pero lo que ocultan sus pechos es peor. Os hemos explicado las aleyas. Si razonarais…
119  Vosotros, bien que les amáis, pero ellos no os aman. Vosotros creéis en toda la Escritura… Ellos, cuando os encuentran, dicen: «¡Creemos!» pero, cuando están a solas, se muerden las puntas d e los dedos, de rabia contra vosotros. Di:«¡Morid de rabia!» Alá sabe bien lo que encierran los pechos.
120  Si os sucede un bien. les duele; si os hiere un mal, se alegran. Pero, si tenéis paciencia y teméis a Alá, sus artimañas no os harán ningún daño. Alá abarca todo lo que hacen.
121  Y cuando dejaste por la mañana temprano a tu familia para asignar a los creyentes sus puestos de combate. Alá todo lo oye, todo lo sabe.
122  Cuando dos de vuestras tropas proyectaron abandonar, a pesar de ser Alá su Amigo. ¡Que los creyentes confíen en Alá!
123  Alá, ciertamente, os auxilió en Badr cuando erais humillados. ¡Temed a Alá! Quizás, así, seáis agradecidos.
124  Cuando decías a los creyentes: «¿No os basta que vuestro Señor os refuerce con tres mil ángeles enviados abajo?
125  ¡Pues sí! Si tenéis paciencia y teméis a Alá, si os acometen así de súbito, vuestro Señor os reforzará con cinco mil ángeles provistos de distintivos».
126  Alá no lo hizo sino como buena nueva para vosotros y para que, con ello, se tranquilizaran vuestros corazones -la victoria no viene sino de Alá, el Poderoso, el Sabio-,
127  para despedazar a los que no creían o derrotarlos y que regresaran, así, decepcionados.
128  No es asunto tuyo si Él se vuelve a ellos o les castiga. Han obrado impíamente.
129  De Alá es lo que está en los cielos y en la tierra. Perdona a quien Él quiere y castiga a quien Él quiere. Alá es indulgente, misericordioso.
130  ¡Creyentes! ¡No usureéis, doblando una y otra vez! ¡Y temed a Alá! Quizás, así, prosperéis.
131  ¡Y temed el fuego preparado para los infieles!
132  ¡Y obedeced a Alá y al Enviado!; Quizás, así, se os tenga piedad.
133  ¡Y apresuraos a obtener el perdón de vuestro Señor y un Jardín tan vasto como los cielos y la tierra, que ha sido preparado para los temerosos de Alá,
134  que dan limosna tanto en la prosperidad como en la adversidad, reprimen la ira, perdonan a los hombres -Alá ama a quienes hacen el bien-,
135  que, si cometen una indecencia o son injustos consigo mismos, recuerdan a Alá, piden perdón por sus pecados -¿y quién puede perdonarlos pecados sino Alá?- y no reinciden a sabiendas!
136  Su retribución será el perdón de su Señor y jardines por cuyos bajos fluyen arroyos, en los que estarán eternamente. ¡Qué grata es la recompensa de los que obran bien!
137  Antes de vosotros han ocurrido casos ejemplares. ¡Id por la tierra y mirad cómo terminaron los desmentidores!
138  Ésta es una explicación para los hombres, dirección, exhortación para los temerosos de Alá.
139  ¡No os desaniméis ni estéis tristes, ya que seréis vosotros quienes ganen! Si es que sois creyentes…
140  Si sufrís una herida, otros han sufrido una herida semejante. Nosotros hacemos alternar esos días entre los hombres para que reconozca Alá a quienes crean y tome testigos de entre vosotros -Alá no ama a los impíos-,
141  para que pruebe Alá a los creyentes y extermine a los infieles.
142  O ¿creéis que vais a entrar en el Jardín sin que Alá haya sabido quiénes de vosotros han combatido y quiénes han tenido paciencia?
143  Sí, deseabais la muerte antes de encontrarla. Ya la habéis visto, pues, con vuestros propios ojos.
144  Mahoma no es sino un enviado, antes del cual han pasado otros enviados. Si, pues, muriera o le mataran, ¿ibais a volveros atrás? Quien se vuelva atrás no causará ningún daño A Alá. Y Alá retribuirá a los agradecidos.
145  Nadie puede morir sino con permiso De Alá y según el plazo fijado. A quien quiera la recompensa dela vida de acá, le daremos de ella. Y a quien quiera la recompensa de la otra vida, le daremos de ella. Y retribuiremos a los agradecidos.
146  ¡Qué de profetas ha habido, junto a los cuales combatieron muchas miriadas, y no se descorazonaron por los reveses padecidos por Alá, no flaquearon, no cedieron! Alá ama a los tenaces.
147  No decían más que:«¡Señor! ¡Perdónanos nuestros pecados y los excesos que hemos cometido! ¡Afirma nuestros pasos! ¡Auxílianos contra el pueblo infiel!»
148  Alá les dio la recompensa de la vida de acá y la buena recompensa de la otra. Alá ama a quienes hacen el bien.
149  ¡Creyentes! Si obedecéis a quienes no creen, os harán retroceder y regresaréis habiendo perdido.
150  ¡No! Alá es vuestro Protector y el Mejor de los auxiliares.
151  Infundiremos el terror en los corazones de los que no crean, por haber asociado a Alá algo a lo que Él no ha conferido autoridad. Su morada será el Fuego. ¡Qué mala es la mansión de los impíos!
152  Alá ha cumplido la promesa que os hizo cuando, con Su permiso, les vencíais, hasta que, por fin, flaqueasteis, discutisteis sobre el particular y desobedecisteis, después de haberos Él dejado ver l a victoria que queríais. -De vosotros unos desean la vida de acá y otros desean la otra vida-. Luego, hizo que os retirarais de ellos para probaros. Ciertamente, os ha perdonado. Alá dispensa su favor a los creyentes.
153  Cuando subíais sin preocuparos de nadie, mientras que el Enviado os llamaba a retaguardia. Os atribulaba una y otra vez para que no estuvierais tristes por lo que se os había escapado ni por lo que os había ocurrido. Alá está bien informado de lo que hacéis.
154  Luego, pasada la tribulación, hizo descender sobre vosotros seguridad: un sueño que venció a algunos de vosotros. Otros, en cambio, preocupados tan sólo por su suerte y pensando de Alá equivocadamente, a la manera de los paganos, decían: «¿Tenemos nosotros algo que ver con esto?» Di: «Todo está en manos De Alá». Ocultan para sí lo que no te manifiestan. Dicen: «Si hubiera dependido de nosotros, no habríamos tenido muertos aquí» Di: «También. si os hubierais quedado en casa, la muerte habría sorprendido en sus lechos a aquéllos de quienes estaba ya escrita. Alá ha hecho esto para probar lo que hay en vuestros pechos y purificar lo que hay en vuestros corazones. Alá sabe bien lo que encierran los pechos».
155  Si algunos de los vuestros huyeron el día que se encontraron los dos ejércitos, fue porque el Demonio les hizo caer por alguna culpa que habían cometido. Pero Alá les ha perdonado ya. Alá es indulgente, benigno.
156  ¡Creyentes! ¡No seáis como quienes no creen y dicen de sus hermanos que están de viaje o de incursión: «Si se hubieran quedado con nosotros, no habrían muerto o no les habrían matado»! ¡Haga Alá que les pese esto en sus corazones! Alá da la vida y dala muerte. Alá ve bien lo que hacéis.
157  Y si sois muertos por Alá o morís de muerte natural, el perdón y misericordia de Alá son mejores que lo que ellos amasan.
158  Si morís de muerte natural o sois muertos, seréis, si, congregados hacia Alá.
159  Por una misericordia venida de Alá, has sido suave con ellos. Si hubieras sido áspero y duro de corazón, se habrían escapado de ti. ¡Perdónales, pues, y pide el perdón de Alá en su favor y consúltales sobre el asunto! Pero, cuando hayas tomado una decisión. confía en Alá. Alá ama a los que confían en Él.
160  Si Alá os auxilia, no habrá nadie que pueda venceros. Pero, si os abandona, ,¿quién podrá auxiliaros fuera de Él? ¡Que los creyentes confíen en Alá!
161  No es propio de un profeta el cometer fraude. Quien defraude llevará lo defraudado el día de la Resurrección. Luego, cada uno recibirá su merecido. Y no serán tratados injustamente.
162  ¿Es que quien busca agradar a Alá es como quien incurre en la ira de Alá y tiene por morada la gehena? ¡Qué mal fin…!
163  Estarán por categorías junto a Alá. Alá ve bien lo que hacen.
164  Alá ha agraciado a los creyentes al enviarles un Enviado salido de ellos, que les recita Sus aleyas, les purifica y les enseña la Escritura y la Sabiduría. Antes estaban evidentemente extraviados.
165  ¿Cómo, cuando os sobreviene una desgracia, después de haber infligido el doble de aquélla, decís aún:«¿De dónde viene esto?» Di: «De vosotros mismos». Aláes omnipotente.
166  Y lo que os pasó el día que se encontraron los dos ejércitos fue porque lo permitió Alá y para que supiera quiénes eran los creyentes
167  y quiénes los hipócritas. Se les dijo: «¡Vamos! ¡Combatid por Alá o rechazad al enemigo!» Dijeron: «Si supiéramos combatir, os seguiríamos». Aquel día estaban más cerca de la incredulidad que de la fe. Dicen con la boca lo que no tienen en el corazón. Pero Alá sabe bien lo que ocultan.
168  Son ellos quienes, mientras se quedaban en casa, decían de sus hermanos: «Si nos hubieran escuchado, no les habrían matado». Di: «¡Apartad, pues la muerte de vosotros, si es verdad lo que decís»
169  Y no penséis que quienes han caído por Alá hayan muerto. ¡Al contrario! Están vivos y sustentados junto a su Señor.
170  contentos por el favor que Alá les ha hecho y alegres por quienes aún no les han seguido, porque no tienen que temer y no estarán tristes,
171  alegres por una gracia y favor de Alá y porque Alá no deja de remunerar a los creyentes.
172  A quienes escucharon a Alá y al Enviado, luego de la herida recibida, a quienes, entre ellos, hicieron el bien y temieron a Alá, se les reserva una magnífica recompensa.
173  A aquéllos a quienes se dijo: «La gente se ha agrupado contra vosotros, ¡tenedles miedo!», esto les aumentó la fe y dijeron: «Alá nos basta! ¡Es un protector excelente!»
174  Y regresaron por una gracia y favor de Alá, sin sufrir mal. Buscaron la satisfacción de Alá. Y Alá es el Dueño del favor inmenso.
175  Así es el Demonio: hace tener miedo de sus amigos. Pero, si sois creyentes, no tengáis miedo de ellos, sino de Mí.
176  Que no te entristezca ver a quienes se precipitan en la incredulidad. No podrán causar ningún daño a Alá. Alá no quiere darles parte en la otra vida. Tendrán un castigo terrible.
177  Quienes compren la incredulidad con la fe no causarán ningún daño a Alá y tendrán un castigo doloroso.
178  Que no piensen los infieles que el que les concedamos una prórroga supone un bien para ellos. El concedérsela es para que aumente su pecado. Tendrán un castigo humillante.
179  No va Alá a dejar a los creyentes en la situación en que os halláis hasta que distinga al malo del bueno. Ni va Alá a enteraros de lo oculto. Pero Alá elige de entre Sus enviados a quien Él quiere. Creed, pues, en Alá y en Sus enviados. Si creéis y teméis a Alá, tendréis una magnífica recompensa.
180  Que no crean quienes se muestran avaros del favor recibido de Alá que eso es bueno para ellos. Al contrario, es malo. El día de la Resurrección llevarán a modo de collar el objeto de su avaricia. L a herencia de los cielos y de la tierra pertenece a Alá. Alá está bien informado de lo que hacéis.
181  Alá ha oído las palabras de quienes han dicho.«Alá es pobre y nosotros somo ricos». Tomaremos nota de lo que han dicho y de que han matado a los profetas sin justificación. Y les diremos: «¡Gustad el castigo del fuego de la gehena!
182  Esto es lo que vuestras obras han merecido, que Alá no es injusto con Sus siervos».
183  Esos mismos han dicho:«Alá ha concertado una alianza con nosotros: que no creamos en ningún enviado hasta tanto que nos traiga una oblación que el fuego consuma». Di: «Antes de mí, otros enviados os trajeron las pruebas claras y lo que habéis pedido. ¡Por qué, pues, les matasteis, si es verdad lo que decís?»
184  Y si te desmienten, también fueron desmentidos otros enviados antes de ti, que vinieron con las pruebas claras, las Escrituras y la Escritura luminosa.
185  Cada uno gustará la muerte, pero no recibiréis vuestra recompensa íntegra hasta el día dela Resurrección. Habrá triunfado quien sea preservado del Fuego e introducido en el Jardín. La vida de acá no es más que falaz disfrute.
186  Seréis, ciertamente, probados en vuestra hacienda y en vuestras personas. Y oiréis, ciertamente, muchas cosas malas de aquéllos que han recibido la Escritura antes de vosotros y de los asociadores ; pero, si sois pacientes y teméis a Alá, eso sí que es dar muestras de resolución.
187  Cuando Alá concertó un pacto con los que habían recibido la Escritura: «Tenéis que explicársela a los hombres, no se la ocultéis». Pero se la echaron a la espalda y la malvendieron. ¡Qué mal negocio…!
188  No creas, no, que quienes se alegran delo que han hecho y gustan de ser alabados por lo que han dejado de hacer, no creas, no, que vayan a librarse del castigo. Tendrán un castigo doloroso.
189  El dominio de los cielos y dela tierra pertenece a Alá. Alá es omnipotente.
190  En la creación de los cielos y de la tierra y en la sucesión de la noche y el día hay, ciertamente, signos para los dotados de intelecto.
191  que recuerdan a Alá de pie, sentados o echados, y que meditan en la creación de los cielos y de la tierra:«¡Señor! No has creado todo esto en vano ¡Gloria a Ti! ¡Presérvanos del castigo del Fuego!».
192  ¡Señor! Tú cubres de oprobio a quien introduces en el Fuego. Los impíos no tendrán quien les auxilie.
193  ¡Señor! ;Hemos oído a uno que llamaba a la fe: «¡Creed en Vuestro Señor!» y hemos creído. ¡Señor!¡ Perdónanos nuestros pecados! ¡Borra nuestras malas obras y recíbenos. cuando muramos, entre los justos!
194  ¡Y danos, Señor, lo que nos has prometido por Tus enviados y no nos cubras de oprobio el día de la Resurrección! Tú no faltas a Tu promesa.
195  Su Señor escuchó su plegaria: «No dejaré que se pierda obra de ninguno de vosotros, lo mismo si es varón que si es hembra, que habéis salido los unos de los otros. He de borrar las malas obras de quienes emigraron y fueron expulsados de sus hogares, de quienes padecieron por causa Mía, de quienes combatieron y fueron muertos, y he de introducirles en jardines por cuyos bajos fluyen arroyos: recompensa de Alá». Alá tiene junto a Sí la bella recompensa.
196  ¡Que no te desconcierte ver a los infieles yendo de acá para allá por el país!
197  ¡Mezquino disfrute! Luego, su morada será la gehena. ¡Qué mal lecho…!
198  En cambio, quienes teman a su Señor tendrán jardines por cuyos bajos fluyen arroyos, en los que estarán eternamente, como alojamiento que Alá les brinda. Y lo que hay junto a Alá es mejor para los justos.
199  Hay entre la gente de la Escrituraquienes creen en Alá y en la Revelación hecha a vosotros y a ellos. Humildes ante Alá, no han malvendido los signos de Alá. Esos tales tendrán su re compensa junto a su Señor. Alá es rápido en ajustar cuentas.
200  ¡Creyentes! ¡Tened paciencia, rivalizad en ella! ¡Sed firmes! ¡Temed a Alá! Quizás así, prosperéis.