Project Description

AN NAHL

شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس کے لیے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے
۲  وہی فرشتوں کو پیغام دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ (لوگوں کو) بتادو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو
۳  اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا۔ اس کی ذات ان (کافروں) کے شرک سے اونچی ہے
۴  اسی نے انسان کو نطفے سے بنایا مگر وہ اس (خالق) کے بارے میں علانیہ جھگڑنے لگا
۵  اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لیے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو
۶  اور جب شام کو انہیں (جنگل سے) لاتے ہو اور جب صبح کو (جنگل) چرانے لے جاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان ہے
۷  اور (دور دراز) شہروں میں جہاں تم زحمتِ شاقّہ کے بغیر پہنچ نہیں سکتے وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار نہایت شفقت والا اور مہربان ہے
۸  اور اسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لیے) رونق وزینت (بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی) پیدا کرتا ہے جن کی تم کو خبر نہیں
۹  اور سیدھا رستہ تو خدا تک جا پہنچتا ہے۔ اور بعض رستے ٹیڑھے ہیں (وہ اس تک نہیں پہنچتے) اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھے رستے پر چلا دیتا
۱۰  وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو اور اس سے درخت بھی (شاداب ہوتے ہیں) جن میں تم اپنے چارپایوں کو چراتے ہو
۱۱  اسی پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور (اور بےشمار درخت) اُگاتا ہے۔ اور ہر طرح کے پھل (پیدا کرتا ہے) غور کرنے والوں کے لیے اس میں (قدرتِ خدا کی بڑی) نشانی ہے
۱۲  اور اسی نے تمہارے لیے رات اور دن اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا۔ اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں۔ سمجھنے والوں کے لیے اس میں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں
۱۳  اور جو طرح طرح کے رنگوں کی چیزیں اس نے زمین میں پیدا کیں (سب تمہارے زیر فرمان کردیں) نصیحت پکڑنے والوں کے لیے اس میں نشانی ہے
۱۴  اور وہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں۔ اور اس لیے بھی (دریا کو تمہارے اختیار میں کیا) کہ تم خدا کے فضل سے (معاش) تلاش کرو تاکہ اس کا شکر کرو
۱۵  اور اسی نے زمین پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے کہ تم کو لے کر کہیں جھک نہ جائے اور نہریں اور رستے بنا دیئے تاکہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک (آسانی سے) جاسکو
۱۶  اور (راستوں میں) نشانات بنا دیئے اور لوگ ستاروں سے بھی رستے معلوم کرتے ہیں
۱۷  تو جو (اتنی مخلوقات) پیدا کرے۔ کیا وہ ویسا ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرسکے تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے؟
۱۸  اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو گن نہ سکو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
۱۹  اور جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو سب سے خدا واقف ہے
۲۰  اور جن لوگوں کو یہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ کوئی چیز بھی تو نہیں بناسکتے بلکہ خود ان کو اور بناتے ہیں
۲۱  لاشیں ہیں بےجان۔ ان کو یہ بھی تو معلوم نہیں کہ اٹھائے کب جائیں گے
۲۲  تمہارا معبود تو اکیلا خدا ہے۔ تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں
۲۳  یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں خدا اس کو ضرور جانتا ہے۔ وہ سرکشوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا
۲۴  اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں
۲۵  (اے پیغمبر ان کو بکنے دو) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ سن رکھو کہ جو بوجھ اٹھا رہے ہیں برے ہیں
۲۶  ان سے پہلے لوگوں نے بھی (ایسی ہی) مکاریاں کی تھیں تو خدا (کا حکم) ان کی عمارت کے ستونوں پر آپہنچا اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی اور (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آ واقع ہوا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا
۲۷  پھر وہ ان کو قیامت کے دن بھی ذلیل کرے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم جھگڑا کرتے تھے۔ جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ آج کافروں کی رسوائی اور برائی ہے
۲۸  (ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں (اور یہ) اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہیں) تو مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ہاں جو کچھ تم کیا کرتے تھے خدا اسے خوب جانتا ہے
۲۹  سو دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ اب تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے
۳۰  اور (جب) پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ بہترین (کلام) ۔ جو لوگ نیکوکار ہیں ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے۔ اور آخرت کا گھر تو بہت ہی اچھا ہے۔ اور پرہیز گاروں کا گھر بہت خوب ہے
۳۱  (وہ) بہشت جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہاں جو چاہیں گے ان کے لیے میسر ہوگا۔ خدا پرہیزگاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتا ہے
۳۲  (ان کی کیفیت یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی جانیں نکالنے لگتے ہیں اور یہ (کفر وشرک سے) پاک ہوتے ہیں تو سلام علیکم کہتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں بہشت میں داخل ہوجاؤ
۳۳  کیا یہ (کافر) اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس (جان نکالنے) آئیں یا تمہارے پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچے۔ اسی طرح اُن لوگوں نے کیا تھا جو اُن سے پہلے تھے اور خدا نے اُن پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
۳۴  تو ان کو ان کے اعمال کے برے بدلے ملے اور جس چیز کے ساتھ وہ ٹھٹھے کیا کرتے تھے اس نے ان کو (ہر طرف سے) گھیر لیا
۳۵  اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم ہی اس کے سوا کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی (پوجتے) اور نہ اس کے (فرمان کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ (اے پیغمبر) اسی طرح ان سے اگلے لوگوں نے کیا تھا۔ تو پیغمبروں کے ذمے (خدا کے احکام کو) کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں
۳۶  اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا
۳۷  اگر تم ان (کفار) کی ہدایت کے لیے للچاؤ تو جس کو خدا گمراہ کردیتا ہے اس کو وہ ہدایت نہیں دیا کرتا اور ایسے لوگوں کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوتا
۳۸  اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے خدا اسے (قیامت کے دن قبر سے) نہیں اٹھائے گا۔ ہرگز نہیں۔ یہ (خدا کا) وعدہ سچا ہے اور اس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
۳۹  تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کردے اور اس لیے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے
۴۰  جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہماری بات یہی ہے کہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے
۴۱  اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد خدا کے لیے وطن چھوڑا ہم ان کو دنیا میں اچھا ٹھکانا دیں گے۔ اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے۔ کاش وہ (اسے) جانتے
۴۲  یعنی وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں
۴۳  اور ہم نے تم سے پہلے مردوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے اگر تم لوگ نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو
۴۴  (اور ان پیغمبروں کو) دلیلیں اور کتابیں دے کر (بھیجا تھا) اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (ارشادات) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو اور تاکہ وہ غور کریں
۴۵  کیا جو لوگ بری بری چالیں چلتے ہیں اس بات سے بےخوف ہیں کہ خدا ان کو زمین میں دھنسا دے یا (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آجائے جہاں سے ان کو خبر ہی نہ ہو
۴۶  یا ان کو چلتے پھرتے پکڑ لے وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے
۴۷  یا جب ان کو عذاب کا ڈر پیدا ہوگیا ہو تو ان کو پکڑلے۔ بےشک تمہارا پروردگار بہت شفقت کرنے والا اور مہربان ہے
۴۸  کیا ان لوگوں نے خدا کی مخلوقات میں سے ایسی چیزیں نہیں دیکھیں جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں (یعنی) خدا کے آگے عاجز ہو کر سجدے میں پڑے رہتے ہیں
۴۹  اور تمام جاندار جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب خدا کے آگے سجدہ کرتے ہیں اور فرشتے بھی اور وہ ذرا غرور نہیں کرتے
۵۰  اور اپنے پروردگار سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے ہیں اور جو ان کو ارشاد ہوتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں
۵۱  اور خدا نے فرمایا ہے کہ دو دو معبود نہ بناؤ۔ معبود وہی ایک ہے۔ تو مجھ ہی سے ڈرتے رہو
۵۲  اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے۔ تو تم خدا کے سوا اوروں سے کیوں ڈرتے ہو
۵۳  اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں۔ پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلاتے ہو
۵۴  پھر جب وہ تم سے تکلیف کو دور کردیتا ہے تو کچھ لوگ تم میں سے خدا کے ساتھ شریک کرنے لگتے ہیں
۵۵  تاکہ جو (نعمتیں) ہم نے ان کو عطا فرمائی ہیں ان کی ناشکری کریں تو (مشرکو) دنیا میں فائدے اٹھالو۔ عنقریب تم کو (اس کا انجام) معلوم ہوجائے گا
۵۶  اور ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے ایسی چیزوں کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کو جانتے ہی نہیں۔ (کافرو) خدا کی قسم کہ جو تم افتراء کرتے ہو اس کی تم سے ضرور پرسش ہوگی
۵۷  اور یہ لوگ خدا کے لیے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ (اور) وہ ان سے پاک ہے اور اپنے لیے (بیٹے) جو مرغوب ودلپسند ہیں
۵۸  حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی (کے پیدا ہونے) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ (غم کے سبب) کالا پڑ جاتا ہے اور (اس کے دل کو دیکھو تو) وہ اندوہناک ہوجاتا ہے
۵۹  اور اس خبر بد سے (جو وہ سنتا ہے) لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) کہ آیا ذلت برداشت کرکے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے
۶۰  جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان ہی کے لیے بری باتیں (شایان) ہیں۔ اور خدا کو صفت اعلیٰ (زیب دیتی ہے) اور وہ غالب حکمت والا ہے
۶۱  اور اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو ایک جاندار کو زمین پر نہ چھوڑے لیکن ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں
۶۲  اور یہ خدا کے لیے ایسی چیزیں تجویز کرتے ہیں جن کو خود ناپسند کرتے ہیں اور زبان سے جھوٹ بکے جاتے ہیں کہ ان کو (قیامت کے دن) بھلائی (یعنی نجات) ہوگی۔ کچھ شک نہیں کہ ان کے لیے (دوزخ کی) آگ (تیار) ہے اور یہ (دوزخ میں) سب سے آگے بھیجے جائیں گے
۶۳  خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلی امتوں کی طرف بھی پیغمبر بھیجے تو شیطان نے ان کے کردار (ناشائستہ) ان کو آراستہ کر دکھائے تو آج بھی وہی ان کا دوست ہے اور ان کے لیے عذاب الیم ہے
۶۴  اور ہم نے جو تم پر کتاب نازل کی ہے تو اس کے لیے جس امر میں ان لوگوں کو اختلاف ہے تم اس کا فیصلہ کردو۔ اور (یہ) مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
۶۵  اور خدا ہی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا۔ بےشک اس میں سننے والوں کے لیے نشانی ہے
۶۶  اور تمہارے لیے چارپایوں میں بھی (مقام) عبرت (وغور) ہے کہ ان کے پیٹوں میں جو گوبر اور لہو ہے اس سے ہم تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے
۶۷  اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی (تم پینے کی چیزیں تیار کرتے ہو کہ ان سے شراب بناتے ہو) اور عمدہ رزق (کھاتے ہو) جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں ان کے لیے ان (چیزوں) میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے
۶۸  اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے ہیں گھر بنا
۶۹  اور ہر قسم کے میوے کھا۔ اور اپنے پروردگار کے صاف رستوں پر چلی جا۔ اس کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں اس میں لوگوں (کے کئی امراض) کی شفا ہے۔ بےشک سوچنے والوں کے لیے اس میں بھی نشانی ہے
۷۰  اور خدا ہی نے تم کو پیدا کیا۔ پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور تم میں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت خراب عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور (بہت کچھ) جاننے کے بعد ہر چیز سے بےعلم ہوجاتے ہیں۔ بےشک خدا (سب کچھ) جاننے والا (اور) قدرت والا ہے
۷۱  اور خدا نے رزق (ودولت) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے تو جن لوگوں کو فضیلت دی ہے وہ اپنا رزق اپنے مملوکوں کو تو دے ڈالنے والے ہیں نہیں کہ سب اس میں برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ نعمت الہیٰ کے منکر ہیں
۷۲  اور خدا ہی نے تم میں سے تمہارے لیے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں۔ تو کیا بےاصل چیزوں پر اعتقاد رکھتے اور خدا کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں
۷۳  اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ کسی اور طرح کا مقدور رکھتے ہیں
۷۴  تو (لوگو) خدا کے بارے میں (غلط) مثالیں نہ بناؤ۔ (صحیح مثالوں کا طریقہ) خدا ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
۷۵  خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں؟ (ہرگز نہیں) الحمدلله لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے
۷۶  اور خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک اُن میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار وناتوان) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور اپنے مالک کو دوبھر ہو رہا ہے وہ جہاں اُسے بھیجتا ہے (خیر سے کبھی) بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا (گونگا بہرا) اور وہ شخص جو (سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں؟
۷۷  اور آسمانوں اور زمین کا علم خدا ہی کو ہے اور (خدا کے نزدیک) قیامت کا آنا یوں ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلد تر۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے
۷۸  اور خدا ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور اس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل (اور اُن کے علاوہ اور) اعضا بخشے تاکہ تم شکر کرو
۷۹  کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کی ہوا میں گھرے ہوئے (اُڑتے رہتے) ہیں۔ ان کو خدا ہی تھامے رکھتا ہے۔ ایمان والوں کے لیے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
۸۰  اور خدا ہی نے تمہارے لیے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا اور اُسی نے چوپایوں کی کھالوں سے تمہارے لیے ڈیرے بنائے۔ جن کو تم سبک دیکھ کر سفر اور حضر میں کام میں لاتے ہو اور اُن کی اون، پشم اور بالوں سے تم اسباب اور برتنے کی چیزیں (بناتے ہو جو) مدت تک (کام دیتی ہیں)
۸۱  اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لیے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کُرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں۔ اور (ایسے) کُرتے (بھی) جو تم کو اسلحہ جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو
۸۲  اور اگر یہ لوگ اعتراض کریں تو (اے پیغمبر) تمہارا کام فقط کھول کر سنا دینا ہے
۸۳  یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں۔ مگر (واقف ہو کر) اُن سے انکار کرتے ہیں اور یہ اکثر ناشکرے ہیں
۸۴  اور جس دن ہم ہر اُمت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ اُن کے عذر قبول کئے جائیں گے
۸۵  اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو اُن کے عذاب ہی میں تخفیف کی جائے گی اور نہ اُن کو مہلت ہی دی جائے گی
۸۶  اور جب مشرک (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پُکارا کرتے تھے۔ تو وہ (اُن کے کلام کو مسترد کردیں گے اور) اُن سے کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو
۸۷  اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور جو طوفان وہ باندھا کرتے تھے سب اُن سے جاتا رہے گا
۸۸  جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا ہم اُن کو عذاب پر عذاب دیں گے۔ اس لیے کہ شرارت کیا کرتے تھے
۸۹  اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر اُمت میں سے خود اُن پر گواہ کھڑے کریں گے۔ اور (اے پیغمبر) تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے
۹۰  خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور بےحیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو
۹۱  اور جب خدا سے عہد واثق کرو تو اس کو پورا کرو اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو اُن کو مت توڑو کہ تم خدا کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو جانتا ہے
۹۲  اور اُس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا۔ پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تمہیں اس سے آزماتا ہے۔ اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا
۹۳  اور اگر خدا چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی جماعت بنا دیتا۔ لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو (اُس دن) اُن کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا
۹۴  اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑ کھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو خدا کے رستے سے روکا تم کو عقوبت کا مزہ چکھنا پڑے۔ اور بڑا سخت عذاب ملے
۹۵  اور خدا سے جو تم نے عہد کیا ہے (اس کو مت بیچو اور) اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لو۔ (کیونکہ ایفائے عہد کا) جو صلہ خدا کے ہاں مقرر ہے وہ اگر سمجھو تو تمہارے لیے بہتر ہے
۹۶  جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور جو خدا کے پاس ہے وہ باقی ہے کہ (کبھی ختم نہیں ہوگا) اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم اُن کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے
۹۷  جو شخص نیک اعمال کرے گا مرد ہو یا عورت وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) اُن کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے
۹۸  اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو
۹۹  کہ جو مومن ہیں اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں اُن پر اس کا کچھ زور نہیں چلتا
۱۰۰  اس کا زور ان ہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو رفیق بناتے ہیں اور اس کے (وسوسے کے) سبب (خدا کے ساتھ) شریک مقرر کرتے ہیں
۱۰۱  اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم یونہی اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں
۱۰۲  کہہ دو کہ اس کو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لے کر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے
۱۰۳  اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کی طرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے
۱۰۴  یہ لوگ خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو خدا ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے
۱۰۵  جھوٹ افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں
۱۰۶  جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے۔ تو ایسوں پر الله کا غضب ہے۔ اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا
۱۰۷  یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا۔ اور اس لئے خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
۱۰۸  یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے۔ اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں
۱۰۹  کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے
۱۱۰  پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا۔ پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بےشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت کرنے والا ہے
۱۱۱  جس دن ہر متنفس اپنی طرف سے جھگڑا کرنے آئے گا۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور کسی کا نقصان نہیں کیا جائے گا
۱۱۲  اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا
۱۱۳  اور ان کے پاس ان ہی میں سے ایک پیغمبر آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے
۱۱۴  پس خدا نے جو تم کو حلال طیّب رزق دیا ہے اسے کھاؤ۔ اور الله کی نعمتوں کا شکر کرو۔ اگر اسی کی عبادت کرتے ہو
۱۱۵  اس نے تم پر مُردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
۱۱۶  اور یوں ہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھلا نہیں ہوگا
۱۱۷  (جھوٹ کا) فائدہ تو تھوڑا سا ہے مگر (اس کے بدلے) ان کو عذاب الیم بہت ہوگا
۱۱۸  اور چیزیں ہم تم سے پہلے بیان کرچکے ہیں وہ ہم نے یہودیوں پر حرام کردی تھیں۔ اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
۱۱۹  پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا۔ پھر اس کے بعد توبہ کی اور نیکوکار ہوگئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکوکار ہوجانے کے بعد بخشنے والا اور ان پر رحمت کرنے والا ہے
۱۲۰  بےشک ابراہیم (لوگوں کے) امام اور خدا کے فرمانبردار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
۱۲۱  اس کی نعمتوں کے شکرگزار تھے۔ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا اور (اپنی) سیدھی راہ پر چلایا تھا
۱۲۲  اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبی دی تھی۔ اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے
۱۲۳  پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی اختیار کرو جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
۱۲۴  ہفتے کا دن تو ان ہی لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا۔ اور تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے
۱۲۵  (اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے
۱۲۶  اور اگر تم ان کو تکلیف دینی چاہو تو اتنی ہی دو جتنی تکلیف تم کو ان سے پہنچی۔ اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہت اچھا ہے
۱۲۷  اور صبر ہی کرو اور تمہارا صبر بھی خدا ہی کی مدد سے ہے اور ان کے بارے میں غم نہ کرو اور جو یہ بداندیشی کرتے ہیں اس سے تنگدل نہ ہو
۱۲۸  کچھ شک نہیں کہ جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکوکار ہیں خدا ان کا مددگار ہے

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  أَتَىٰ أَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ
٢  يُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ بِالرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَىٰ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ أَنْ أَنْذِرُوا أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّقُونِ
٣  خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۚ تَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ
٤  خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ
٥  وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا ۗ لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ
٦  وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ
٧  وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَىٰ بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ ۚ إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ
٨  وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً ۚ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ
٩  وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَائِرٌ ۚ وَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
١٠  هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً ۖ لَكُمْ مِنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ
١١  يُنْبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُونَ وَالنَّخِيلَ وَالْأَعْنَابَ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
١٢  وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِأَمْرِهِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
١٣  وَمَا ذَرَأَ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ
١٤  وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
١٥  وَأَلْقَىٰ فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهَارًا وَسُبُلًا لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
١٦  وَعَلَامَاتٍ ۚ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ
١٧  أَفَمَنْ يَخْلُقُ كَمَنْ لَا يَخْلُقُ ۗ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
١٨  وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ
١٩  وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ
٢٠  وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
٢١  أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ
٢٢  إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۚ فَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ قُلُوبُهُمْ مُنْكِرَةٌ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ
٢٣  لَا جَرَمَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ
٢٤  وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ مَاذَا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ
٢٥  لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۙ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ
٢٦  قَدْ مَكَرَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَأَتَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ
٢٧  ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُخْزِيهِمْ وَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَائِيَ الَّذِينَ كُنْتُمْ تُشَاقُّونَ فِيهِمْ ۚ قَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ إِنَّ الْخِزْيَ الْيَوْمَ وَالسُّوءَ عَلَى الْكَافِرِينَ
٢٨  الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ ۖ فَأَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوءٍ ۚ بَلَىٰ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
٢٩  فَادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ
٣٠  وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا مَاذَا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۚ قَالُوا خَيْرًا ۗ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۚ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ ۚ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ
٣١  جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَاءُونَ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْزِي اللَّهُ الْمُتَّقِينَ
٣٢  الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ طَيِّبِينَ ۙ يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
٣٣  هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ أَمْرُ رَبِّكَ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَٰكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
٣٤  فَأَصَابَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا عَمِلُوا وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
٣٥  وَقَالَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ نَحْنُ وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
٣٦  وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ۖ فَمِنْهُمْ مَنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ ۚ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
٣٧  إِنْ تَحْرِصْ عَلَىٰ هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ يُضِلُّ ۖ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ
٣٨  وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ ۚ بَلَىٰ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
٣٩  لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ كَانُوا كَاذِبِينَ
٤٠  إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَنْ نَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
٤١  وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
٤٢  الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
٤٣  وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ ۚ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
٤٤  بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ ۗ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
٤٥  أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ
٤٦  أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِينَ
٤٧  أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَىٰ تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ
٤٨  أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ
٤٩  وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ دَابَّةٍ وَالْمَلَائِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ
٥٠  يَخَافُونَ رَبَّهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ۩
٥١  وَقَالَ اللَّهُ لَا تَتَّخِذُوا إِلَٰهَيْنِ اثْنَيْنِ ۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ
٥٢  وَلَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَهُ الدِّينُ وَاصِبًا ۚ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَتَّقُونَ
٥٣  وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْأَرُونَ
٥٤  ثُمَّ إِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْكُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ
٥٥  لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ ۚ فَتَمَتَّعُوا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
٥٦  وَيَجْعَلُونَ لِمَا لَا يَعْلَمُونَ نَصِيبًا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ ۗ تَاللَّهِ لَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُونَ
٥٧  وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَهُ ۙ وَلَهُمْ مَا يَشْتَهُونَ
٥٨  وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ
٥٩  يَتَوَارَىٰ مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ ۚ أَيُمْسِكُهُ عَلَىٰ هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ ۗ أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
٦٠  لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ ۖ وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
٦١  وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَابَّةٍ وَلَٰكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
٦٢  وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكْرَهُونَ وَتَصِفُ أَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ الْحُسْنَىٰ ۖ لَا جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَأَنَّهُمْ مُفْرَطُونَ
٦٣  تَاللَّهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
٦٤  وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ ۙ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
٦٥  وَاللَّهُ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ
٦٦  وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۖ نُسْقِيكُمْ مِمَّا فِي بُطُونِهِ مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِينَ
٦٧  وَمِنْ ثَمَرَاتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
٦٨  وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ
٦٩  ثُمَّ كُلِي مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ۚ يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
٧٠  وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّاكُمْ ۚ وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ قَدِيرٌ
٧١  وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ ۚ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ ۚ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
٧٢  وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ اللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ
٧٣  وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ
٧٤  فَلَا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الْأَمْثَالَ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
٧٥  ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَمَنْ رَزَقْنَاهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهْرًا ۖ هَلْ يَسْتَوُونَ ۚ الْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
٧٦  وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوْلَاهُ أَيْنَمَا يُوَجِّهْهُ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ ۖ هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
٧٧  وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
٧٨  وَاللَّهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
٧٩  أَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرَاتٍ فِي جَوِّ السَّمَاءِ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
٨٠  وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ سَكَنًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ جُلُودِ الْأَنْعَامِ بُيُوتًا تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَامَتِكُمْ ۙ وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَا أَثَاثًا وَمَتَاعًا إِلَىٰ حِينٍ
٨١  وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِمَّا خَلَقَ ظِلَالًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْجِبَالِ أَكْنَانًا وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِيلَ تَقِيكُمْ بَأْسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ
٨٢  فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
٨٣  يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنْكِرُونَهَا وَأَكْثَرُهُمُ الْكَافِرُونَ
٨٤  وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ
٨٥  وَإِذَا رَأَى الَّذِينَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ
٨٦  وَإِذَا رَأَى الَّذِينَ أَشْرَكُوا شُرَكَاءَهُمْ قَالُوا رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ شُرَكَاؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُو مِنْ دُونِكَ ۖ فَأَلْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَاذِبُونَ
٨٧  وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ ۖ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ
٨٨  الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ
٨٩  وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ۖ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَٰؤُلَاءِ ۚ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ
٩٠  إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
٩١  وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا ۚ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ
٩٢  وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنْكَاثًا تَتَّخِذُونَ أَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ أَنْ تَكُونَ أُمَّةٌ هِيَ أَرْبَىٰ مِنْ أُمَّةٍ ۚ إِنَّمَا يَبْلُوكُمُ اللَّهُ بِهِ ۚ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
٩٣  وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَٰكِنْ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۚ وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
٩٤  وَلَا تَتَّخِذُوا أَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوتِهَا وَتَذُوقُوا السُّوءَ بِمَا صَدَدْتُمْ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
٩٥  وَلَا تَشْتَرُوا بِعَهْدِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۚ إِنَّمَا عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
٩٦  مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ ۖ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ ۗ وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُوا أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
٩٧  مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
٩٨  فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
٩٩  إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
١٠٠  إِنَّمَا سُلْطَانُهُ عَلَى الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُ وَالَّذِينَ هُمْ بِهِ مُشْرِكُونَ
١٠١  وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ ۙ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مُفْتَرٍ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
١٠٢  قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ
١٠٣  وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ ۗ لِسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ
١٠٤  إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ لَا يَهْدِيهِمُ اللَّهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
١٠٥  إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَاذِبُونَ
١٠٦  مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَٰكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
١٠٧  ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
١٠٨  أُولَٰئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ
١٠٩  لَا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِي الْآخِرَةِ هُمُ الْخَاسِرُونَ
١١٠  ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَاهَدُوا وَصَبَرُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ
١١١  يَوْمَ تَأْتِي كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَفْسِهَا وَتُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
١١٢  وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ
١١٣  وَلَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِنْهُمْ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظَالِمُونَ
١١٤  فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَالًا طَيِّبًا وَاشْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ
١١٥  إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
١١٦  وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَٰذَا حَلَالٌ وَهَٰذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ
١١٧  مَتَاعٌ قَلِيلٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
١١٨  وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ ۖ وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَٰكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
١١٩  ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ
١٢٠  إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
١٢١  شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
١٢٢  وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
١٢٣  ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
١٢٤  إِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ ۚ وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
١٢٥  ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
١٢٦  وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ ۖ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ
١٢٧  وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّهِ ۚ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِمَّا يَمْكُرُونَ
١٢٨  إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  The command of Allah is coming, so be not impatient for it. Exalted is He and high above what they associate with Him.
2  He sends down the angels, with the inspiration of His command, upon whom He wills of His servants, [telling them], “Warn that there is no deity except Me; so fear Me.”
3  He created the heavens and earth in truth. High is He above what they associate with Him.
4  He created man from a sperm-drop; then at once, he is a clear adversary.
5  And the grazing livestock He has created for you; in them is warmth and [numerous] benefits, and from them you eat.
6  And for you in them is [the enjoyment of] beauty when you bring them in [for the evening] and when you send them out [to pasture].
7  And they carry your loads to a land you could not have reached except with difficulty to yourselves. Indeed, your Lord is Kind and Merciful.
8  And [He created] the horses, mules and donkeys for you to ride and [as] adornment. And He creates that which you do not know.
9  And upon Allah is the direction of the [right] way, and among the various paths are those deviating. And if He willed, He could have guided you all.
10  It is He who sends down rain from the sky; from it is drink and from it is foliage in which you pasture [animals].
11  He causes to grow for you thereby the crops, olives, palm trees, grapevines, and from all the fruits. Indeed in that is a sign for a people who give thought.
12  And He has subjected for you the night and day and the sun and moon, and the stars are subjected by His command. Indeed in that are signs for a people who reason.
13  And [He has subjected] whatever He multiplied for you on the earth of varying colors. Indeed in that is a sign for a people who remember.
14  And it is He who subjected the sea for you to eat from it tender meat and to extract from it ornaments which you wear. And you see the ships plowing through it, and [He subjected it] that you may seek of His bounty; and perhaps you will be grateful.
15  And He has cast into the earth firmly set mountains, lest it shift with you, and [made] rivers and roads, that you may be guided,
16  And landmarks. And by the stars they are [also] guided.
17  Then is He who creates like one who does not create? So will you not be reminded?
18  And if you should count the favors of Allah, you could not enumerate them. Indeed, Allah is Forgiving and Merciful.
19  And Allah knows what you conceal and what you declare.
20  And those they invoke other than Allah create nothing, and they [themselves] are created.
21  They are, [in fact], dead, not alive, and they do not perceive when they will be resurrected.
22  Your god is one God. But those who do not believe in the Hereafter – their hearts are disapproving, and they are arrogant.
23  Assuredly, Allah knows what they conceal and what they declare. Indeed, He does not like the arrogant.
24  And when it is said to them, “What has your Lord sent down?” They say, “Legends of the former peoples,”
25  That they may bear their own burdens in full on the Day of Resurrection and some of the burdens of those whom they misguide without knowledge. Unquestionably, evil is that which they bear.
26  Those before them had already plotted, but Allah came at their building from the foundations, so the roof fell upon them from above them, and the punishment came to them from where they did not perceive.
27  Then on the Day of Resurrection He will disgrace them and say, “Where are My ‘partners’ for whom you used to oppose [the believers]?” Those who were given knowledge will say, “Indeed disgrace, this Day, and evil are upon the disbelievers” –
28  The ones whom the angels take in death [while] wronging themselves, and [who] then offer submission, [saying], “We were not doing any evil.” But, yes! Indeed, Allah is Knowing of what you used to do.
29  So enter the gates of Hell to abide eternally therein, and how wretched is the residence of the arrogant.
30  And it will be said to those who feared Allah, “What did your Lord send down?” They will say, “[That which is] good.” For those who do good in this world is good; and the home of the Hereafter is better. And how excellent is the home of the righteous –
31  Gardens of perpetual residence, which they will enter, beneath which rivers flow. They will have therein whatever they wish. Thus does Allah reward the righteous –
32  The ones whom the angels take in death, [being] good and pure; [the angels] will say, “Peace be upon you. Enter Paradise for what you used to do.”
33  Do the disbelievers await [anything] except that the angels should come to them or there comes the command of your Lord? Thus did those do before them. And Allah wronged them not, but they had been wronging themselves.
34  So they were struck by the evil consequences of what they did and were enveloped by what they used to ridicule.
35  And those who associate others with Allah say, “If Allah had willed, we would not have worshipped anything other than Him, neither we nor our fathers, nor would we have forbidden anything through other than Him.” Thus did those do before them. So is there upon the messengers except [the duty of] clear notification?
36  And We certainly sent into every nation a messenger, [saying], “Worship Allah and avoid Taghut.” And among them were those whom Allah guided, and among them were those upon whom error was [deservedly] decreed. So proceed through the earth and observe how was the end of the deniers.
37  [Even] if you should strive for their guidance, [O Muhammad], indeed, Allah does not guide those He sends astray, and they will have no helpers.
38  And they swear by Allah their strongest oaths [that] Allah will not resurrect one who dies. But yes – [it is] a true promise [binding] upon Him, but most of the people do not know.
39  [It is] so He will make clear to them [the truth of] that wherein they differ and so those who have disbelieved may know that they were liars.
40  Indeed, Our word to a thing when We intend it is but that We say to it, “Be,” and it is.
41  And those who emigrated for [the cause of] Allah after they had been wronged – We will surely settle them in this world in a good place; but the reward of the Hereafter is greater, if only they could know.
42  [They are] those who endured patiently and upon their Lord relied.
43  And We sent not before you except men to whom We revealed [Our message]. So ask the people of the message if you do not know.
44  [We sent them] with clear proofs and written ordinances. And We revealed to you the message that you may make clear to the people what was sent down to them and that they might give thought.
45  Then, do those who have planned evil deeds feel secure that Allah will not cause the earth to swallow them or that the punishment will not come upon them from where they do not perceive?
46  Or that He would not seize them during their [usual] activity, and they could not cause failure?
47  Or that He would not seize them gradually [in a state of dread]? But indeed, your Lord is Kind and Merciful.
48  Have they not considered what things Allah has created? Their shadows incline to the right and to the left, prostrating to Allah, while they are humble.
49  And to Allah prostrates whatever is in the heavens and whatever is on the earth of creatures, and the angels [as well], and they are not arrogant.
50  They fear their Lord above them, and they do what they are commanded.
51  And Allah has said, “Do not take for yourselves two deities. He is but one God, so fear only Me.”
52  And to Him belongs whatever is in the heavens and the earth, and to Him is [due] worship constantly. Then is it other than Allah that you fear?
53  And whatever you have of favor – it is from Allah. Then when adversity touches you, to Him you cry for help.
54  Then when He removes the adversity from you, at once a party of you associates others with their Lord
55  So they will deny what We have given them. Then enjoy yourselves, for you are going to know.
56  And they assign to what they do not know a portion of that which We have provided them. By Allah, you will surely be questioned about what you used to invent.
57  And they attribute to Allah daughters – exalted is He – and for them is what they desire.
58  And when one of them is informed of [the birth of] a female, his face becomes dark, and he suppresses grief.
59  He hides himself from the people because of the ill of which he has been informed. Should he keep it in humiliation or bury it in the ground? Unquestionably, evil is what they decide.
60  For those who do not believe in the Hereafter is the description of evil; and for Allah is the highest attribute. And He is Exalted in Might, the Wise.
61  And if Allah were to impose blame on the people for their wrongdoing, He would not have left upon the earth any creature, but He defers them for a specified term. And when their term has come, they will not remain behind an hour, nor will they precede [it].
62  And they attribute to Allah that which they dislike, and their tongues assert the lie that they will have the best [from Him]. Assuredly, they will have the Fire, and they will be [therein] neglected.
63  By Allah, We did certainly send [messengers] to nations before you, but Satan made their deeds attractive to them. And he is the disbelievers’ ally today [as well], and they will have a painful punishment.
64  And We have not revealed to you the Book, [O Muhammad], except for you to make clear to them that wherein they have differed and as guidance and mercy for a people who believe.
65  And Allah has sent down rain from the sky and given life thereby to the earth after its lifelessness. Indeed in that is a sign for a people who listen.
66  And indeed, for you in grazing livestock is a lesson. We give you drink from what is in their bellies – between excretion and blood – pure milk, palatable to drinkers.
67  And from the fruits of the palm trees and grapevines you take intoxicant and good provision. Indeed in that is a sign for a people who reason.
68  And your Lord inspired to the bee, “Take for yourself among the mountains, houses, and among the trees and [in] that which they construct.
69  Then eat from all the fruits and follow the ways of your Lord laid down [for you].” There emerges from their bellies a drink, varying in colors, in which there is healing for people. Indeed in that is a sign for a people who give thought.
70  And Allah created you; then He will take you in death. And among you is he who is reversed to the most decrepit [old] age so that he will not know, after [having had] knowledge, a thing. Indeed, Allah is Knowing and Competent.
71  And Allah has favored some of you over others in provision. But those who were favored would not hand over their provision to those whom their right hands possess so they would be equal to them therein. Then is it the favor of Allah they reject?
72  And Allah has made for you from yourselves mates and has made for you from your mates sons and grandchildren and has provided for you from the good things. Then in falsehood do they believe and in the favor of Allah they disbelieve?
73  And they worship besides Allah that which does not possess for them [the power of] provision from the heavens and the earth at all, and [in fact], they are unable.
74  So do not assert similarities to Allah. Indeed, Allah knows and you do not know.
75  Allah presents an example: a slave [who is] owned and unable to do a thing and he to whom We have provided from Us good provision, so he spends from it secretly and publicly. Can they be equal? Praise to Allah! But most of them do not know.
76  And Allah presents an example of two men, one of them dumb and unable to do a thing, while he is a burden to his guardian. Wherever he directs him, he brings no good. Is he equal to one who commands justice, while he is on a straight path?
77  And to Allah belongs the unseen [aspects] of the heavens and the earth. And the command for the Hour is not but as a glance of the eye or even nearer. Indeed, Allah is over all things competent.
78  And Allah has extracted you from the wombs of your mothers not knowing a thing, and He made for you hearing and vision and intellect that perhaps you would be grateful.
79  Do they not see the birds controlled in the atmosphere of the sky? None holds them up except Allah. Indeed in that are signs for a people who believe.
80  And Allah has made for you from your homes a place of rest and made for you from the hides of the animals tents which you find light on your day of travel and your day of encampment; and from their wool, fur and hair is furnishing and enjoyment for a time.
81  And Allah has made for you, from that which He has created, shadows and has made for you from the mountains, shelters and has made for you garments which protect you from the heat and garments which protect you from your [enemy in] battle. Thus does He complete His favor upon you that you might submit [to Him].
82  But if they turn away, [O Muhammad] – then only upon you is [responsibility for] clear notification.
83  They recognize the favor of Allah; then they deny it. And most of them are disbelievers.
84  And [mention] the Day when We will resurrect from every nation a witness. Then it will not be permitted to the disbelievers [to apologize or make excuses], nor will they be asked to appease [Allah].
85  And when those who wronged see the punishment, it will not be lightened for them, nor will they be reprieved.
86  And when those who associated others with Allah see their “partners,” they will say,” Our Lord, these are our partners [to You] whom we used to invoke besides You.” But they will throw at them the statement, “Indeed, you are liars.”
87  And they will impart to Allah that Day [their] submission, and lost from them is what they used to invent.
88  Those who disbelieved and averted [others] from the way of Allah – We will increase them in punishment over [their] punishment for what corruption they were causing.
89  And [mention] the Day when We will resurrect among every nation a witness over them from themselves. And We will bring you, [O Muhammad], as a witness over your nation. And We have sent down to you the Book as clarification for all things and as guidance and mercy and good tidings for the Muslims.
90  Indeed, Allah orders justice and good conduct and giving to relatives and forbids immorality and bad conduct and oppression. He admonishes you that perhaps you will be reminded.
91  And fulfill the covenant of Allah when you have taken it, [O believers], and do not break oaths after their confirmation while you have made Allah, over you, a witness. Indeed, Allah knows what you do.
92  And do not be like she who untwisted her spun thread after it was strong [by] taking your oaths as [means of] deceit between you because one community is more plentiful [in number or wealth] than another community. Allah only tries you thereby. And He will surely make clear to you on the Day of Resurrection that over which you used to differ.
93  And if Allah had willed, He could have made you [of] one religion, but He causes to stray whom He wills and guides whom He wills. And you will surely be questioned about what you used to do.
94  And do not take your oaths as [means of] deceit between you, lest a foot slip after it was [once] firm, and you would taste evil [in this world] for what [people] you diverted from the way of Allah, and you would have [in the Hereafter] a great punishment.
95  And do not exchange the covenant of Allah for a small price. Indeed, what is with Allah is best for you, if only you could know.
96  Whatever you have will end, but what Allah has is lasting. And We will surely give those who were patient their reward according to the best of what they used to do.
97  Whoever does righteousness, whether male or female, while he is a believer – We will surely cause him to live a good life, and We will surely give them their reward [in the Hereafter] according to the best of what they used to do.
98  So when you recite the Qur’an, [first] seek refuge in Allah from Satan, the expelled [from His mercy].
99  Indeed, there is for him no authority over those who have believed and rely upon their Lord.
100  His authority is only over those who take him as an ally and those who through him associate others with Allah.
101  And when We substitute a verse in place of a verse – and Allah is most knowing of what He sends down – they say, “You, [O Muhammad], are but an inventor [of lies].” But most of them do not know.
102  Say, [O Muhammad], “The Pure Spirit has brought it down from your Lord in truth to make firm those who believe and as guidance and good tidings to the Muslims.”
103  And We certainly know that they say, “It is only a human being who teaches the Prophet.” The tongue of the one they refer to is foreign, and this Qur’an is [in] a clear Arabic language.
104  Indeed, those who do not believe in the verses of Allah – Allah will not guide them, and for them is a painful punishment.
105  They only invent falsehood who do not believe in the verses of Allah, and it is those who are the liars.
106  Whoever disbelieves in Allah after his belief… except for one who is forced [to renounce his religion] while his heart is secure in faith. But those who [willingly] open their breasts to disbelief, upon them is wrath from Allah, and for them is a great punishment;
107  That is because they preferred the worldly life over the Hereafter and that Allah does not guide the disbelieving people.
108  Those are the ones over whose hearts and hearing and vision Allah has sealed, and it is those who are the heedless.
109  Assuredly, it is they, in the Hereafter, who will be the losers.
110  Then, indeed your Lord, to those who emigrated after they had been compelled [to renounce their religion] and thereafter fought [for the cause of Allah] and were patient – indeed, your Lord, after that, is Forgiving and Merciful
111  On the Day when every soul will come disputing for itself, and every soul will be fully compensated for what it did, and they will not be wronged.
112  And Allah presents an example: a city which was safe and secure, its provision coming to it in abundance from every location, but it denied the favors of Allah. So Allah made it taste the envelopment of hunger and fear for what they had been doing.
113  And there had certainly come to them a Messenger from among themselves, but they denied him; so punishment overtook them while they were wrongdoers.
114  Then eat of what Allah has provided for you [which is] lawful and good. And be grateful for the favor of Allah, if it is [indeed] Him that you worship.
115  He has only forbidden to you dead animals, blood, the flesh of swine, and that which has been dedicated to other than Allah. But whoever is forced [by necessity], neither desiring [it] nor transgressing [its limit] – then indeed, Allah is Forgiving and Merciful.
116  And do not say about what your tongues assert of untruth, “This is lawful and this is unlawful,” to invent falsehood about Allah. Indeed, those who invent falsehood about Allah will not succeed.
117  [It is but] a brief enjoyment, and they will have a painful punishment.
118  And to those who are Jews We have prohibited that which We related to you before. And We did not wrong them [thereby], but they were wronging themselves.
119  Then, indeed your Lord, to those who have done wrong out of ignorance and then repent after that and correct themselves – indeed, your Lord, thereafter, is Forgiving and Merciful.
120  Indeed, Abraham was a [comprehensive] leader, devoutly obedient to Allah, inclining toward truth, and he was not of those who associate others with Allah.
121  [He was] grateful for His favors. Allah chose him and guided him to a straight path.
122  And We gave him good in this world, and indeed, in the Hereafter he will be among the righteous.
123  Then We revealed to you, [O Muhammad], to follow the religion of Abraham, inclining toward truth; and he was not of those who associate with Allah.
124  The sabbath was only appointed for those who differed over it. And indeed, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning that over which they used to differ.
125  Invite to the way of your Lord with wisdom and good instruction, and argue with them in a way that is best. Indeed, your Lord is most knowing of who has strayed from His way, and He is most knowing of who is [rightly] guided.
126  And if you punish [an enemy, O believers], punish with an equivalent of that with which you were harmed. But if you are patient – it is better for those who are patient.
127  And be patient, [O Muhammad], and your patience is not but through Allah. And do not grieve over them and do not be in distress over what they conspire.
128  Indeed, Allah is with those who fear Him and those who are doers of good.

奉至仁至慈的真主之名

1  真主的命令必定来临,所以你们不必要求其早日实现,赞颂真主超绝万物,他超乎他们所用以配他的。
2  他使天神们奉他的命令,偕同精神,降临他所意欲的仆人,说:你们应当警告世人说:除我之外,绝无应受崇拜的,所以你们应当敬畏我。
3  他凭真理创造了天地,他超乎他们所用以配他的。
4  他用精液创造了人,而人却突然变成了(他的)明显的对手。
5  他创造了牲畜,你们可以其毛和皮御寒,可以其乳和肉充饥,还有许多益处。
6  你们把牲畜赶回家或放出去吃草的时候,牲畜对于你们都有光彩。
7  牲畜把你们的货物驮运到你们须经困难才能到达的地方去。你们的主确是至仁的,确是至慈的。
8  他创造马、骡、驴,以供你们骑乘,以作你们的装饰。他还创造你们所不知道的东西。
9  真主负责指示正道的责任。有些道路是偏邪的,假若他意欲,他必将你们全体引入正道。
10  他从云中降下雨水,你们可以用做饮料,你们赖以放牧的树木因之而生长。
11  他为你们而生产庄稼、油橄榄、椰枣、葡萄和各种果实。对于能思维的民众,此中确有一种迹象。
12  他为你们而制服了昼夜和日月,群星都是因他的意旨而被制服的;对于能理解的民众,此中确有许多迹象。
13  (他又为你们而制服)他所为你们创造于大地的各色物品,对于能记取教诲的民众,此中确有一种迹象。
14  他制服海洋,以便你们渔取其中的鲜肉,做你们的食品;或采取其中的珠宝,做你们的装饰。你看船舶在其中破浪而行,以便你们寻求他的恩惠,以便你们感谢。
15  他在大地上安置许多山岳,以免大地动荡,而你们不得安居。他开辟许多河流和道路,以便你们遵循正路。
16  他设立许多标志,他们借助那些标志和星宿而遵循正路。
17  难道造物主同不能创造的(偶像)是一样的吗?你们怎么不记取教诲呢?
18  如果你们要计算真主的恩惠,你们是无法统计的。真主确是至赦的,确是至慈的。
19  真主知道你们所隐讳的,和你们所表白的。
20  他们舍真主而祈祷的不能创造任何物,而他们是被创造的。
21  他们是死的,不是活的,他们不知道崇拜者们将在何时复活。
22  你们所应当崇拜的是唯一的受崇拜者。不信后世的人,他们的心是否认的,他们是自大的。
23  无疑的,真主知道他们所隐讳的,和他们所表白的,他确是不喜爱自大者的。
24  有人问他们:你们的主曾降示什么?他们说:古人的神话。
25  以便他们在复活日承担自己的全部责任,以及被他们无知地加以误导者的一部分责任。真的,他们所承担的真恶劣!
26  前人确已用计谋,但真主把他们的建筑物彻底加以摧毁,而他们的屋顶落在他们的身上。刑罚从他们料想不到的地方来临他们。
27  然后在复活日他要凌辱他们,并审问他们说:我那些伙伴–你们为了他们而与信士们相争论的–如今在哪里呢?有学识者将要说:凌辱和刑罚今日必归于不信道者。
28  他们在自亏的情况下,天神们使他们死亡。他们表示屈服,说:我们没有犯过什么罪恶。不然!真主确是全知你们的行为的。
29  他们被押进火狱而永居其中。自大者的住处真恶劣!
30  有人问敬畏者说:你们的主曾降示什么?他们说:他降示善言。行善者在今世将享受美满的生活,而后世的住宅确是更好的。敬爱者的住宅真优美。
31  常在的乐园将任随他们进去,那些乐园下临诸河,其中有他们所意欲的。真主这样报酬敬畏者。
32  他们在良好的情况下,天神们使他们死亡。天神对他们说:祝你们平安,你们可以因为自己的善功而进入乐园。
33  (不信道者)只能等待天神们来临他们,或等待你的主的命令降临。在他们之前的人就是这样做的。真主没有亏枉他们,但他们却亏枉了自己。
34  所以他们必遭受他们的行为的恶报,而他们一向嘲笑的(刑罚)将包围他们。
35  以物配主者说:假若真主意欲,则我们和我们的祖先不会舍他而崇拜任何物的,我们也不会擅自戒除任何物的。在他们之前的人,曾这样做过了。使者们只负明白的传达的责任。
36  我在每个民族中,确已派遣一个使者,说:你们当崇拜真主,当远离恶魔。但他们中有真主所引导的,有应当迷误的。故你们当在大地上旅行,应当观察否认(使者)的人们的结局是怎样的。
37  如果你们热望他们获得引导,那末,(你的热望是徒然的),真主不引导那误导人者,他们绝没有任何援助者。
38  他们指真主而发出最严重的誓言,说:真主不使死人复活。不然!这是他应当实践的诺言。但世人大半不知道。
39  (他将使他们复活),以便他为他们阐明他们所争论的是非,并且让不信道者知道自己原是说谎的。
40  当我要创造一件事物的时候,我只对它说声有,它就有了。
41  在被压迫之后,为真主而迁居者,我在今世誓必使他们获得一个优美的住处, 后世的报酬是更大的,假若他们知道。
42  他们是坚忍的,是信赖他们的主的。
43  在你之前,我只派遣了我所启示的一些男子。你们应当请教深明教诲者,如果你们不知道。
44  (我曾派遣他们)带著一些明证和经典,(去教化众人),我降示你教诲,以便你对众人阐明他们所受的启示,以便他们思维。
45  使用诡计以作恶者,难道不怕真主使他们随地面而陷落,或刑罚从他们料想不到的地方来临他们吗?
46  或在他们的旅途中惩治他们,而他们绝不能逃避。
47  或逐渐惩治他们,因为你们的主确是至爱的,确是至慈的。
48  难道他们没有观察真主所创造的万物吗?各物的阴影,偏向左边和右边,为真主而叩头,同时他们是卑贱的。
49  天地间的动物和天神们,都只为真主而叩头,他们不敢自大。
50  他们畏惧在他们上面的主宰,他们遵行自己所奉的命令。(此处叩头!)※
51  真主说:你们不要崇拜两个主宰,应受崇拜的,只是一个主宰。所以你们应当只畏惧我。
52  天地万物只是他的,顺从常常只归于他。难道你们舍真主而敬畏他物吗?
53  凡你们所享受的恩惠都是从真主降下的。然后,当你们遭难的时候,你们只向他祈祷。
54  然后,当他解除你们的患难的时候,你们中有一部分人,立刻以物配他们的主,
55  以致辜负他所赏赐他们的恩惠,你们享受吧。不久你们就要知道了。
56  我所供给他们的财产,他们以其中的一部分去供奉那些无知的(偶像)。指真主发誓,关于你们所捏造的(事物),你们必受审问。
57  他们以女儿归真主–赞颂真主,超绝万物–而以他们所愿望的归自己。
58  当他们中的一个人听说自己的妻子生女儿的时候,他的脸黯然失色,而且满腹牢骚。
59  他为这个噩耗而不与宗族会面,他多方考虑:究竟是忍辱保留她呢?还是把她活埋在土里呢?真的,他们的判断真恶劣。
60  不信后世者,有恶例;真主有典型。他确是全能的,确是至睿的。
61  如果真主为世人的不义而惩治他们,那末,他不留一个人在大地上,但他让他们延迟到一个定期,当他们的定期来临的时候,他们不得延迟一霎时,(当其未来临的时候),他们不能提前一霎时。
62  他们以自己所厌恶的归真主,他们妄言自己将受最佳的报酬。无疑的,他们将受火狱的报酬。他们是被遗弃的。
63  指真主发誓,在你之前,我确已派遣许多使者去教化各民族;但恶魔以他们的行为迷惑他们,所以今天他是他们的保护者,他们将受痛苦的刑罚。
64  我降示这部经典,只为使你对他们阐明他们所争论的(是非),并且以这部经典作为信道的民众的向导和恩惠。
65  真主从云中降下雨水,并借雨水使已死的大地复活;对善于听话的民众,此中确有一种迹象。
66  在牲畜中,对于你们,确有一种教训。我使你们得饮那从牲畜腹内的粪和血之间提出的又纯洁又可口的乳汁。
67  你们用椰枣和葡萄酿制醇酒和佳美的给养,对于能理解的民众,此中确有一种迹象。
68  你的主曾启示蜜蜂:你可以筑房在山上和树上,以及人们所建造的蜂房里。
69  然后,你从每种果实上吃一点,并驯服地遵循你的主的道路。将有一种颜色不同,而可以治病的饮料,从它的腹中吐出来;对于能思维的民众,此中确有一种迹象。
70  真主创造你们,然后使你们死亡。你们中有人复返于一生中最恶劣的阶段,以致他在有知识之后又变得一无所知。真主确是全知的,确是全能的。
71  在给养上,真主使你们中一部分人超越另一部分人,给养优厚者绝不愿把自己的给养让给自己的奴仆,从而他们在给养上与自己平等,难道他们否认真主的恩惠吗?
72  真主以你们的同类做你们的妻子,并为你们从妻子创造儿孙。真主还以佳美的食物供给你们。难道他们信仰虚妄,而辜负主恩吗?
73  他们舍真主而崇拜(偶像),那是不能为他们主持从天上降下的和从地上生出的一点给养,而且毫无能力的。
74  你们不要为真主打比喻。真主知道,而你们不知道。
75  真主打一个比喻:一个奴隶,不能自由处理任何事务,一个自由人,我赏赐他忧厚的给养,而他秘密地和公开地加以施舍;他们俩人是一样的吗?一切赞颂,全归真主!但他们大半不知道。
76  真主又打一个比喻:两个男人,一个是哑巴,什么事也不能做,却是他主人的累赘,无论主人打发他到那里去,都不能带一点福利回来;另一个走的是正路,他劝人主持公道。他们俩人是一样的吗?
77  天地的幽玄只是真主的。复活时刻的到来,只在转瞬间,或更为迅速。真主对于万事,确是全能的。
78  真主使你们从母腹出生,你们什么也不知道,他为你们创造耳目和心灵,以便你们感谢。
79  难道他们没有看见在空中被制服的群鸟吗?只有真主维持他们;对于信道的民众,此中确有许多迹象。
80  真主以你们的家为你们安居之所,以牲畜的皮革,为你们的房屋,你们在起程之日和住定之日,都感觉其轻便。他以绵羊毛、骆驼毛和山羊毛供你们织造家俱和暂时的享受。
81  真主以他所创造的东西做你们的遮阴,以群山做你们的隐匿处,以衣服供你们防暑(和御寒),以盔甲供你们防御创伤。他如此完成他对你们的恩惠,以便你们顺服。
82  如果他们违背正道,那末,你只负明白传达的责任。
83  他们认识真主的恩惠,但加以否认,他们大半是忘恩负义的。
84  在那日,我要在每个民族中推举一个见证,然后,不信道者不得为自己辩护,也不得向他们讨好。
85  当不义者看见刑罚的时候,他们不得减刑,也不得缓刑。
86  当以物配主者看见他们的配主的时候,他们将要说:我们的主啊!这些是我们的配主,我们曾舍你而祈祷他们。那些配主将回答他们说:你们确是说谎的。
87  在那日,他们将向真主表示屈服,而他们所捏造者将回避他们。
88  不信道而且阻碍主道者,我将因他们的破坏而增加他们所受的刑罚。
89  我要在每个民族中,推举他们族中的一个见证,来反证他们,在那日,我要推举你来反证这等人。我曾降示这部经典,阐明万事,并作归顺者的向导、恩惠和喜讯。
90  真主的确命人公平、行善、施济亲戚,并禁人淫乱、作恶事、霸道;他劝戒你们,以便你们记取教诲。
91  当你们缔结盟约的时候,你们应当履行。你们既以真主为你们的保证者,则缔结盟约之后就不要违背誓言。真主的确知道你们的行为。
92  你们不要像那个妇人,她把纺织得很结实的线又分拆成若干缕;你们以盟誓为互相欺诈的手段,因为这一族比那一族还要富庶。真主只以此事考验你们。复活日,他必为你们阐明你们所争论的是非。
93  假若真主意欲,他必使你们成为一个民族;但他使他所意欲者误入迷途,使他所意欲者遵循正路。你们势必要为你们的行为而受审问。
94  你们不要以盟誓为互相欺诈的手段;以免站稳之后再失足,而你们将因为阻碍真主的大道而尝试灾祸,你们还要受重大的刑罚。
95  你们不要以廉价出卖真主的盟约;在真主那里的,对于你们是更好的,如果你们知道。
96  你们所有的是要耗尽的,在真主那里的是无穷的。我誓必要以坚忍者所行的最大善功报酬他们。
97  凡行善的男女信士,我誓必要使他们过一种美满的生活,我誓必要以他们所行的最大善功报酬他们。
98  当你要诵读《古兰经》的时候,你应当求真主保护,以防受诅咒的恶魔的干扰。
99  对信道而且信赖真主者,他毫无权力。
100  他的权力只限于和他交朋友,而且以他配主者。
101  当我以一节经文掉换另一节经文的时候–真主知道自己所降示的–他们说:你只是一个捏造者。不然!他们大半是不知道的。
102  圣灵从你的主那里降示这部包含真理的经典,以便他使信道者坚定,并用作归信者的向导和喜讯。
103  我的确知道,他们说过:这只是一个凡人所传授的。他们所倾向的那个人的语言是化外人(的语言),而这(部经典的语言)是明白的阿拉伯语。
104  不信真主的迹象者,真主必定不引导他们,而他们将受痛苦的刑罚。
105  不信真主的迹象者,才是捏造了谎言的,这等人确是说谎的。
106  既信真主之后,又表示不信者–除非被迫宣称不信、内心却为信仰而坚定者–为不信而心情舒畅者将遭天谴,并受重大的刑罚。
107  这是因为他们宁爱今世生活而不爱后世,也因为真主不引导不信道的民众。
108  他们是真主将封闭其心灵和视听的人。这等人是轻率的。
109  无疑的,他们在后世正是亏折者。
110  然后,你的主对于被害之后迁居,然后奋斗,而且坚忍者,你的主在那之后确是至赦的,确是至慈的。
111  (你回忆)在那日,每个灵魂都来为自己辩护,而每个灵魂都得享受自己行为的完全的报酬。他们不受亏枉。
112  真主打一个比喻:一个市镇,原是安全的,安稳的,丰富的给养从各方运来,但镇上的居民辜负真主的恩惠,所以真主因他们的行为而使他们尝试极度的饥荒和恐怖。
113  他们族中的一个使者确已来临他们,但他们否认了他。在他们不义的情况下,刑罚袭击了他们。
114  你们可以吃真主赏赐你们的合法而佳美的食物,你们应当感谢真主的恩惠,如果你们只崇拜他。
115  他只禁止你们吃自死物、血液、猪肉,以及诵非真主之名而屠宰者。但为势所迫,非出自愿,且不过分者,那末,真主确是至赦的,确是至慈的。
116  你们对于自己所叙述的事,不要妄言:这是合法的,那是违法的。以致你们假借真主的名义而造谣。假借真主的名义而造谣者必不成功。
117  (他们只得)到一点享受,而他们将受痛苦的刑罚。
118  对犹太教徒,我曾禁戒我从前所告诉过你的那些食物,我没有亏枉他们,但他们亏枉了自己。
119  然后,你的主对于无知而作恶,以后又悔过自新的人,确是至赦的,确是至慈的。
120  易卜拉欣原来是一个表率,他服从真主,信奉正教,而且不是以物配主的。
121  他原是感谢主恩的,主挑选了他,并将他引上了正路。
122  在今世,我曾以幸福赏赐他,在后世,他必定居于善人之列。
123  然后,我启示你说:你应当遵守信奉正教的易卜拉欣的宗教,他不是以物配主的。
124  安息日是那些为之而争论的人所应当遵守的定制。复活日,你的主必判决他 们所争论的是非。
125  你应凭智慧和善言而劝人遵循主道,你应当以最优秀的态度与人辩论,你的主的确知道谁是背离他的正道的,他的确知道谁是遵循他的正道的。
126  如果你们要报复,就应当依照你们所受的伤害而报复。如果你们容忍,那对于容忍者是更好的。
127  你应当容忍–你的容忍只赖真主的佑助–你不要为他们而悲伤,不要为他们的计谋而烦恼。
128  真主确是同敬畏者和行善者在一起的。

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  ¡La orden de Alá viene! ¡No queráis adelantarla! ¡Gloria a Él! Está por encima de lo que Le asocian.
2  Hace descender a los ángeles con el Espíritu que procede de Su orden sobre quien Él quiere de Sus siervos: «¡Advertid que no hay otro dios que Yo! ¡Temedme, pues!»
3  Ha creado los cielos y la tierra con un fin. Está por encima de lo que Le asocian.
4  Ha creado al hombre de una gota y ¡ahí le tienes, porfiador declarado!
5  Y los rebaños los ha creado para vosotros. Hay en ellos abrigo y otras ventajas y os alimentáis de ellos.
6  Disfrutáis viéndolos cuando los volvéis por la tarde o cuando los sacáis a pastar por la mañana.
7  Llevan vuestras cargas a países que no alcanzaríais sino con mucha pena. Vuestro Señor es, en verdad, manso, misericordioso.
8  Y los caballos, los mulos, los asnos, para que os sirvan de montura y de ornato. Y crea otras cosas que no sabéis.
9  A Alá le incumbe indicar el Camino, del que algunos se desvían. Si hubiera querido, os habría dirigido a todos.
10  Él es Quien ha hecho bajar para vosotros agua del cielo. De ella bebéis y de ella viven las matas con que apacentáis.
11  Gracias a ella, hace crecer para vosotros los cereales, los olivos, las palmeras, las vides y toda clase de frutos. Ciertamente, hay en ello un signo para gente que reflexiona.
12  Y ha sujetado a vuestro servicio la noche y el día, el sol y la luna. Las estrellas están sujetas por Su orden. Ciertamente, hay en ello signos para gente que razona.
13  Las criaturas que Él ha puesto en la tierra para vosotros son de clases diversas. Ciertamente, hay en ello un signo para gente que se deja amonesta
14  Él es Quien ha sujetado el mar para que comáis de él carne fresca y obtengáis de él adornos que poneros. Y ves que las naves lo surcan. Para que busquéis Su favor. Quizás, así, seáis agradecidos.
15  Y ha fijado en la tierra las montañas para que ella y vosotros no vaciléis, ríos, caminos -quizás, así, seáis bien dirigidos-
16  y mojones. Y se guían por los astros.
17  ¿Acaso Quien crea es como quien no crea? ¿Es que no os dejaréis amonestar?
18  Si os pusierais a contar las gracias de Alá, no podríais enumerarlas. Alá es, en verdad, indulgente, misericordioso.
19  Alá sabe lo que ocultáis y lo que manifestáis.
20  Aquéllos que ellos invocan en lugar de invocar a Alá, no crean nada, sino que ellos son creados.
21  Están muertos, no vivos. Y no saben cuándo serán resucitados.
22  Vuestro Dios es un Dios Uno. Los corazones de quienes, altivos, no creen en la otra vida Le niegan.
23  ¡En verdad, Alá sabe lo que ocultan y lo que manifiestan! No ama a los altivos.
24  Si se les dice: «¿Qué ha revelado vuestro Señor?», dicen: «Patrañas de los antiguos».
25  ¡Que lleven su carga completa el día de la Resurrección y algo de la carga de los que, sin conocimiento, extraviaron! ¡Qué carga más detestable!
26  Sus antecesores intrigaron. Alá vino contra los cimientos de su edificio y el techo se desplomó sobre ellos. Les vino el castigo de donde no lo presentían.
27  Luego, el día de la Resurrección, Él les avergonzará y dirá: «¿Dónde están Mis asociados, sobre los que discutíais?» Quienes hayan recibido la Ciencia dirán: «Hoy la vergüenza y la desgracia caen sobre los infieles,
28  a quienes, injustos consigo mismos, los ángeles llaman». Ofrecerán someterse: «No hacíamos ningún mal». «¡Claro que sí! ¡Alá sabe bien lo que hacíais!
29  ¡Entrad por las puertas de la gehena, por toda la eternidad!» ¡Qué mala es la morada de los soberbios!
30  A los que temieron a Alá se les dirá: «¿Qué ha revelado vuestro Señor?» Dirán: «Un bien». Quienes obren bien tendrán en la vida de acá una bella recompensa, pero la Morada de la otra vida será mejor aún. ¡Qué agradable será la Morada de los que hayan temido a Alá!
31  Entrarán en los jardines del edén, por cuyos bajos fluyen arroyos. Tendrán en ellos lo que deseen. Así retribuye Alá a quienes Le temen,
32  a quienes, buenos, llaman los ángeles diciendo: «¡Paz sobre vosotros! ¡Entrad en el Jardín, como premio a vuestras obras!»
33  ¿Qué esperan sino que vengan los ángeles o que venga la orden de tu Señor? Así hicieron sus antecesores. No fue Alá quien fue injusto con ellos, sino que ellos lo fueron consigo mismos.
34  Les alcanzará la misma maldad de sus acciones y les cercará aquello de que se burlaban.
35  Dirán los asociadores: «Si Alá hubiera querido, ni nosotros ni nuestros padres habríamos servido nada en lugar de servirle a Él. No habríamos prohibido nada que Él no hubiera prohibido». Así hicieron sus antecesores. Y ¿qué otra cosa incumbe a los enviados, sino la transmisión clara?
36  Mandamos a cada comunidad un enviado: «Servid a Alá y evitad a los taguts». A algunos de ellos les dirigió Alá, mientras que otros merecieron extraviarse. ¡Id por la tierra y mirad cómo terminaron los desmentidores!
37  Si anhelas dirigirles,… Alá no dirige a quienes Él extravía y no tendrán quien les auxilie.
38  Han jurado solemnemente por Alá: «¡Alá no resucitará a quien haya muerto!» ¡Claro que sí! Es una promesa que Le obliga, verdad. Pero la mayoría de los hombres no saben.
39  Para mostrarles aquello en que discrepaban y para que sepan los infieles que han mentido.
40  Cuando queremos algo, Nos basta decirle: «¡Sé!», y es.
41  A quienes han emigrado por Alá, después de haber sido tratados injustamente, hemos de procurarles una buena situación en la vida de acá, pero la recompensa de la otra será mayor aún. Si supieran…
42  Que tienen paciencia y confían en Alá…
43  Antes de ti, no enviamos sino a hombres a los que hicimos revelaciones -si no lo sabéis, preguntad a la gente de la Amonestación-,
44  con las pruebas claras y con las Escrituras. A ti también te hemos revelado la Amonestación para que expliques a los hombres lo que se les ha revelado. Quizás,, así, reflexionen.
45  Quienes han tramado males ¿están, pues, a salvo de que Alá haga que la tierra los trague, o de que el castigo les venga de donde no lo presientan,
46  o de que les sorprenda en plena actividad sin que puedan escapar,
47  o de que les sorprenda atemorizados? Vuestro Señor es, ciertamente, manso, misericordioso.
48  ¿No han visto que la sombra de todo lo que Alá ha creado se mueve hacia la derecha y hacia la izquierda, en humilde prosternación ante Alá?
49  Lo que está en los cielos y en la tierra se prosterna ante Alá: todo animal y los ángeles. Y éstos sin altivez.
50  Temen a su Señor, que está por encima de ellos, y hacen lo que se les ordena.
51  Alá ha dicho: «¡No toméis a dos dioses! ¡Él es sólo un Dios Uno! ¡Temedme, pues, a Mí, y sólo a Mí»
52  Suyo es lo que está en los cielos y en la tierra. Se le debe un culto permanente. ¿Vais a temer a otro diferente de Alá?
53  No tenéis gracia que no proceda de Alá. Cuando sufrís una desgracia, acudís a Él.
54  Pero, luego, cuando aparta de vosotros la desgracia, he aquí que algunos de vosotros asocian a su Señor,
55  para terminar negando lo que les hemos dado. ¡Gozad, pues, brevemente! ¡Vais a ver…!
56  Atribuyen a lo que no conocen algunos de los bienes de que les hemos proveído. ¡Por Alá, que habréis de responder de lo que inventabais!
57  Atribuyen hijas a Alá -¡gloria a Él!- y a sí mismos se atribuyen lo que desean.
58  Cuando se le anuncia a uno de ellos una niña, se queda hosco y se angustia.
59  Esquiva a la gente por vergüenza de lo que se le ha anunciado, preguntándose si lo conservará, para deshonra suya, o lo esconderá bajo tierra… ¡Qué mal juzgan!
60  Quienes no creen en la otra vida representan el mal, mientras que Alá, representa el ideal supremo. Él es el Poderoso, el Sabio.
61  Si Alá tuviera en cuenta la impiedad humana, no dejaría ningún ser vivo sobre ella. Pero los retrasa por un plazo determinado y, cuando vence su plazo, no pueden retrasarlo ni adelantarlo una hora.
62  Atribuyen a Alá lo que detestan y sus lenguas inventan la mentira cuando pretenden que les espera lo mejor. ¡En verdad, tendrán el Fuego, e irán los primeros!
63  ¡Por Alá!, que antes de ti hemos mandado enviados a comunidades. Pero el Demonio engalanó las obras de éstas y hoy es él su amigo. Tendrán un castigo doloroso.
64  No te hemos revelado la Escritura sino para que les expliques en qué discrepaban y como dirección y misericordia para gente que cree.
65  Alá ha hecho bajar agua del cielo, vivificando con ella la tierra después de muerta. Ciertamente, hay en ello un signo para gente que oye.
66  Y en los rebaños tenéis motivo de reflexión. Os damos a beber del contenido de sus vientres, entre heces y sangre: una leche pura, grata a los bebedores.
67  De los frutos de las palmeras y de la vides obtenéis una bebida embriagadora y un bello sustento. Ciertamente, hay en ello un signo para gente que razona.
68  Tu Señor ha inspirado a las abejas: «Estableced habitación en las montañas, en los árboles y en las construcciones humanas.
69  Comed de todos los frutos y caminad dócilmente por los caminos de vuestro Señor». De su abdomen sale un líquido de diferentes clases, que contiene un remedio para los hombres. Ciertamente, hay en ello un signo para gente que reflexiona.
70  Alá os ha creado y luego os llamará. A algunos de vosotros se les deja que alcancen una edad decrépita, para que, después de haber sabido, terminen no sabiendo nada. Alá es omnisciente, poderoso.
71  Alá os ha favorecido a unos con más sustento que a otros; pero aquéllos que han sido favorecidos no ceden tanto de su sustento a sus esclavos que lleguen a igualarse con ellos. ¿Y rehusarán la gracia de Alá?
72  Alá os ha dado esposas nacidas de vosotros. Y, de vuestras esposas, hijos varones y nietos. Os ha proveído también de cosas buenas. ¿Creen, pues, en lo falso y no creerán en la gracia de Alá?
73  En lugar de servir a Alá, sirven a lo que no puede procurarles sustento de los cielos ni de la tierra, lo que no posee ningún poder.
74  ¡No pongáis a Alá como objeto de vuestras comparaciones! Alá sabe, mientras que vosotros no sabéis.
75  Alá propone un símil: un esclavo, propiedad de otro, incapaz de nada, y un hombre a quien Nosotros hemos proveído de bello sustento, del que da limosna, en í secreto o en público. ¿Son, acaso, iguales? ¡Alabado sea Alá! Pero la mayoría no saben.
76  Alá propone un símil: dos hombres, uno de ellos mudo, incapaz de nada y carga para su dueño; le mande adonde le mande, no trae ningún bien. ¡Son iguales este hombre y el que prescribe la justicia y está en una vía recta?
77  A Alá pertenece lo oculto de los cielos y de la tierra. La orden que anuncie la Hora no será sino como un abrir y cerrar de ojos, o más breve. Alá es omnipotente.
78  Alá os ha sacado del seno de vuestras madres, privados de todo saber. Él os ha dado el oído, la vista y el intelecto. Quizás, así, seáis agradecidos.
79  ¿No han visto las aves sujetas en el aire del cielo? Sólo Alá las sostiene. Ciertamente, hay en ello signos para gente que cree.
80  Alá os ha hecho de vuestras viviendas un lugar habitable. De la piel de los rebaños os ha hecho tiendas, que encontráis ligeras al trasladaros o al acampar. De su lana, de su pelo y de su crin, artículos domésticos para disfrute por algún tiempo.
81  De lo que ha creado, Alá os ha procurado sombra, refugios en las montañas, indumentos que os resguardan del calor e indumentos que os protegen de los golpes. Así completa Su gracia en vosotros. Quizás, así, os sometáis a Alá.
82  Si vuelven la espalda… A ti te incumbe sólo la transmisión clara.
83  Conocen la gracia de Alá, pero la niegan. La mayoría son unos desagradecidos.
84  Y el día que hagamos surgir de cada comunidad a un testigo, no se permitirá a los que no hayan creído, ni se les agraciará.
85  Y cuando los impíos vean el castigo, éste no se les mitigará, ni les será dado esperar.
86  Y cuando los asociadores vean a los que ellos asociaron a Alá, dirán: «¡Señor!! ¡Éstos son los que Te habíamos asociado, a quienes invocábamos en lugar de invocarte a Tí!» Y esos asociados les rebatirán: «¡Mentís, ciertamente!»
87  Y, entonces, ofreceran a Alá someterse. Pero sus invenciones se esfumarán.
88  A los que no creyeron y desviaron a otros del camino de Alá, les infligiremos castigo sobre castigo por haber corrompido.
89  El día que hagamos surgir de cada comunidad a un testigo de cargo, te traeremos a ti como testigo contra éstos. Te hemos revelado la Escritura como aclaración de todo, como dirección y misericordia, como buena nueva para los que se someten.
90  Alá prescribe la justicia, la beneficencia y la liberalidad con los parientes. Prohíbe la deshonestidad, lo reprobable y la opresión. Os exhorta. Quizás, así, os dejéis amonestar.
91  Cuando concertéis una alianza con Alá, sed fieles a ella. No violéis los juramentos después de haberlos ratificado. Habéis puesto a Alá como garante contra vosotros. Alá sabe lo que hacéis.
92  No hagáis como aquélla que deshacía de nuevo el hilo que había hilado fuertemente. Utilizáis vuestros juramentos para engañaros so pretexto de que una comunidad es más fuerte que otra. Alá no hace más que probaros con ello. El día de la Resurreción ha de mostraros aquello en que discrepabais.
93  Alá, si hubiera querido, habría hecho de vosotros una sola comunidad. Pero extravía a quien Él quiere y dirige a quien Él quiere. Tendréis que responder de lo que hacíais.
94  No utilicéis vuestros juramentos para engañaros; si no, el pie os fallará después de haberlo tenido firme. Gustaréis la desgracia por haber desviado a otros del camino de Alá y tendréis un castigo terrible.
95  No malvendáis la alianza con Alá. Lo que Alá tiene es mejor para vosotros. Si supierais…
96  Lo que vosotros tenéis se agota. En cambio, lo que Alá tiene perdura. A los que tengan paciencia les retribuiremos, sí, con arreglo a sus mejores obras.
97  Al creyente, varón o hembra, que obre bien, le haremos, ciertamente, que viva una vida buena y le retribuiremos, sí, con arreglo a sus mejores obras.
98  Cuando recites el Corán, busca refugio en Alá del maldito Demonio.
99  Él no puede nada contra los que creen y confían en su Señor.
100  Sólo tiene poder contra los que traban amistad con él y asocian a Él otros dioses.
101  Cuando sustituimos una aleya por otra -Alá sabe bien lo que revela- dicen: «¡Eres sólo un falsario!» Pero la mayoría no saben.
102  Di: «El Espiritu Santo lo ha revelado, de tu Señor, con la Verdad, para confirmar a los que creen y como dirección y buena nueva para los que se someten a Alá».
103  Bien sabemos que dicen: «A este hombre le enseña sólo un simple mortal». Pero aquél en quien piensan habla una lengua no árabe, mientras que ésta es una lengua árabe clara.
104  Alá no dirigirá a quienes no crean en los signos de Alá y tendrán un castigo doloroso.
105  Sólo inventan la mentira quienes no creen en los signos de Alá. Ésos son los que mienten.
106  Quien no crea en Alá luego de haber creído -no quien sufra coacción mientras su corazón permanece tranquilo en la fe, sino quien abra su pecho a la incredulidad-, ese tal incurrirá en la ira de Alá y tendrá un castigo terrible.
107  Y eso por haber preferido la vida de acá a la otra. Alá no dirige al pueblo infiel.
108  Ésos son aquéllos cuyo corazón, oído y vista Alá ha sellado. Ésos los que no se preocupan…
109  ¡En verdad, serán los que pierdan en la otra vida!
110  Tu Señor, para quienes hayan emigrado, después de haber sufrido pruebas y de haber, luego, combatido y tenido paciencia, tu Señor será, ciertamente, después de eso, indulgente, misericordioso,
111  el día que venga cada uno intentando justificarse, cada uno reciba conforme a sus obras y nadie sea tratado injustamente.
112  Alá propone como parábola una ciudad, segura y tranquila, que recibía abundante sustento de todas partes. Y no agradeció las gracias de Alá. Alá, en castigo por su conducta, le dio a gustar la vestidura del hambre y del temor.
113  Ha venido a ellos un Enviado salido de ellos, pero le han desmentido y el castigo les ha sorprendido en su impiedad.
114  ¡Comed de lo lícito y bueno de que Alá os ha proveído! ¡Y agradeced la gracia de Alá, si es a Él solo a Quien servís!
115  Os ha prohibido sólo la carne mortecina, la sangre, la carne de cerdo y la de todo animal sobre el que se haya invocado un nombre diferente del de Alá. Pero, si alguien se ve compelido por la necesidad -no por deseo ni por afán de contravenir… Alá es indulgente, misericordioso.
116  No digáis, entre lo que vuestras lenguas profieren, mentiras como «Esto es lícito y esto es ilícito», inventando así la mentira contra Alá. Quienes inventen la mentira contra Alá no prosperarán.
117  ¡Mezquino disfrute! ¡Tendrán un castigo doloroso!
118  A los judíos les prohibimos lo que ya te contamos. No hemos sido Nosotros quienes han sido injustos con ellos, sino que ellos lo han sido consigo mismos.
119  Sin embargo, con los que, habiendo cometido el mal por ignorancia, luego se arrepientan y enmienden, tu Señor será, ciertamente, después de eso, indulgente, misericordioso.
120  Abraham fue una comunidad, devoto de Alá, hanif y no asociador,
121  agradecido a Sus gracias. Él le eligió y le dirigió a una vía recta.
122  En la vida de acá le dimos una buena situación y en la otra es de los justos.
123  Luego, te hemos revelado: «Sigue la religión de Abraham, que fue hanif y no asociador».
124  El sábado se impuso solamente a los que sobre él discrepaban. Tu Señor, ciertamente, decidirá entre ellos el día de la Resurrección sobre aquello en que discrepaban.
125  Llama al camino de tu Señor con sabiduría y buena exhortación. Discute con ellos de la manera más conveniente. Tu Señor conoce mejor que nadie a quien se extravía de Su camino y conoce mejor que nadie a quien está bien dirigido.
126  Si castigáis, castigad de la misma manera que se os ha castigado. Pero, si tenéis paciencia, es mejor para vosotros.
127  ¡Ten paciencia! No podrás tener paciencia sino con la ayuda de Alá. Y no estés triste por ellos, ni te angusties por sus intrigas.
128  Alá está con quienes Le temen y quienes hacen el bien.