Project Description

YUNUS

شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  آلرا ۔ یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیتیں ہیں
۲  کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ صریح جادوگر ہے
۳  تمہارا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا وہی ہر ایک کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کیے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتا، یہی خدا تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے
۴  اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لیے پینے کو نہایت گرم پانی اور درد دینے والا عذاب ہوگا کیوں کہ (خدا سے) انکار کرتے تھے
۵  وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لیے وہ اپنی آیاتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے
۶  رات اور دن کے (ایک دوسرے کے پیچھے) آنے جانے میں اور جو چیزیں خدا نے آسمان اور زمین میں پیدا کی ہیں (سب میں) ڈرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں
۷  جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطئمن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں
۸  ان کا ٹھکانہ ان (اعمال) کے سبب جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے
۹  اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے (ایسے محلوں کی) راہ دکھائے گا (کہ) ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہہ رہی ہوں گی
۱۰  (جب وہ) ان میں (ان نعمتوں کو دیکھوں گے تو بےساختہ) کہیں گے سبحان الله۔ اور آپس میں ان کی دعا سلامٌ علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول یہ (ہوگا) کہ خدائے رب العالمین کی حمد (اور اس کا شکر) ہے
۱۱  اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں۔ تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں
۱۲  اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کر دیتے ہیں تو (بےلحاظ ہو جاتا ہے اور) اس طرح گزر جاتا ہے گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کرکے دکھائے گئے ہیں
۱۳  اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم کا راستہ اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں
۱۴  پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو
۱۵  اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اس کو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دو۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے
۱۶  (یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا) بھلا تم سمجھتے نہیں
۱۷  تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا پر جھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بےشک گنہگار فلاح نہیں پائیں گے
۱۸  اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے
۱۹  اور (سب) لوگ (پہلے) ایک ہی اُمت (یعنی ایک ہی ملت پر) تھے۔ پھر جدا جدا ہوگئے۔ اور اگر ایک بات جو تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہوچکی ہے نہ ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں فیصلہ کر دیا جاتا
۲۰  اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ غیب (کا علم) تو خدا کو ہے سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
۲۱  اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں
۲۲  وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں) سے سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کرکے اس سے دعا مانگنے لگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں
۲۳  لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں۔ لوگو! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اُٹھا لو۔ پھر تم کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے
۲۴  دنیا کی زندگی کی مثال مینھہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں
۲۵  اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے
۲۶  جن لوگوں نے نیکو کاری کی ان کے لیے بھلائی ہے اور (مزید برآں) اور بھی اور ان کے مونہوں پر نہ تو سیاہی چھائے گی اور نہ رسوائی۔ یہی جنتی ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
۲۷  اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا۔ اور ان کے مونہوں پر ذلت چھا جائے گی۔ اور کوئی ان کو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ ان کے مونہوں (کی سیاہی کا یہ عالم ہوگا کہ ان) پر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اُڑھا دیئے گئے ہیں۔ یہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے
۲۸  اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور ان کے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے
۲۹  ہمارے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے۔ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بےخبر تھے
۳۰  وہاں ہر شخص (اپنے اعمال کی) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا اور وہ اپنے سچے مالک کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا
۳۱  (ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا۔ تو کہو کہ پھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہیں؟
۳۲  یہی خدا تو تمہارا پروردگار برحق ہے۔ اور حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا؟ تو تم کہاں پھرے جاتے ہو
۳۳  اسی طرح خدا کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے
۳۴  (ان سے) پوچھو کہ بھلا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے کہ مخلوق کو ابتداً پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے؟ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اُکسے جارہے ہو
۳۵  پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا رستہ دکھائے۔ کہہ دو کہ خدا ہی حق کا رستہ دکھاتا ہے۔ بھلا جو حق کا رستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اُس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے رستہ نہ بتائے رستہ نہ پائے۔ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو؟
۳۶  اور ان میں سے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا۔ بےشک خدا تمہارے (سب) افعال سے واقف ہے
۳۷  اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لائے۔ ہاں (ہاں یہ خدا کا کلام ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں۔ ان کی تصدیق کرتا ہے اور ان ہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے اس میں کچھ شک نہیں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے
۳۸  کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو
۳۹  حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہیں پاسکے اس کو (نادانی سے) جھٹلا دیا اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی ہی نہیں۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی سو دیکھ لو ظالموں کا انجام کیسا ہوا
۴۰  اور ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ اور تمھارا پروردگار شریروں سے خوب واقف ہے
۴۱  اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو کہ مجھ کو میرے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) تم میرے عملوں کا جواب دہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں
۴۲  اور ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگرچہ کچھ بھی (سنتے) سمجھتے نہ ہوں
۴۳  اور بعض ایسے ہیں کہ تمھاری طرف دیکھتے ہیں۔ تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ کچھ بھی دیکھتے (بھالتے) نہ ہوں
۴۴  خدا تو لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں
۴۵  اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہیں تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑ گئے اور راہ یاب نہ ہوئے
۴۶  اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے (نازل) کریں یا (اس وقت جب) تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ یہ کر رہے ہیں خدا اس کو دیکھ رہا ہے
۴۷  اور ہر ایک اُمت کی طرف سے پیغمبر بھیجا گیا۔ جب ان کا پیغمبر آتا ہے تو اُن میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا
۴۸  اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعدہ (ہے وہ آئے گا) کب؟
۴۹  کہہ دو کہ میں اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ مگر جو خدا چاہے۔ ہر ایک امت کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں
۵۰  کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے
۵۱  کیا جب وہ آ واقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤ گے (اس وقت کہا جائے گا کہ) اور اب (ایمان لائے؟) اس کے لیے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے
۵۲  پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا کہ عذاب دائمی کا مزہ چکھو۔ (اب) تم انہیں (اعمال) کا بدلہ پاؤ گے جو (دنیا میں) کرتے رہے
۵۳  اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا یہ سچ ہے۔ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے اور تم (بھاگ کر خدا کو) عاجز نہیں کرسکو گے
۵۴  اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو (عذاب سے بچنے کے) بدلے میں (سب) دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو (پچھتائیں گے اور) ندامت کو چھپائیں گے۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور (کسی طرح کا) ان پر ظلم نہیں ہوگا
۵۵  سن رکھو جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور یہ بھی سن رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
۵۶  وہی جان بخشتا اور (وہی) موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے
۵۷  لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفا۔ اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے
۵۸  کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہیئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں
۵۹  کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمھارے لئے جو رزق نازل فرمایا تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھہرایا اور (بعض کو) حلال (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تم کو اس کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افتراء کرتے ہو
۶۰  اور جو لوگ خدا پر افتراء کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں؟ بےشک خدا لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
۶۱  اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی (اور) کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہیں اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے
۶۲  سن رکھو کہ جو خدا کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
۶۳  (یعنی) جو لوگ ایمان لائے اور پرہیزگار رہے
۶۴  ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ خدا کی باتیں بدلتی نہیں۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے
۶۵  اور (اے پیغمبر) ان لوگوں کی باتوں سے آزردہ نہ ہونا (کیونکہ) عزت سب خدا ہی کی ہے وہ (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے
۶۶  سن رکھو کہ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب خدا کے (بندے اور اس کے مملوک) ہیں۔ اور یہ جو خدا کے سوا (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو پکارتے ہیں۔ وہ (کسی اور چیز کے) پیچھے نہیں چلتے۔ صرف ظن کے پیچھے چلتے ہیں اور محض اٹکلیں دوڑا رہے ہیں
۶۷  وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور روز روشن بنایا (تاکہ اس میں کام کرو) جو لوگ (مادہٴ) سماعت رکھتے ہیں ان کے لیے ان میں نشانیاں ہیں
۶۸  (بعض لوگ) کہتے ہیں کہ خدا نے بیٹا بنا لیا ہے۔ اس کی ذات (اولاد سے) پاک ہے (اور) وہ بےنیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اسی کا ہے (اے افتراء پردازو) تمہارے پاس اس (قول باطل) کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جو جانتے نہیں
۶۹  کہہ دو جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے
۷۰  (ان کے لیے جو) فائدے ہیں دنیا میں (ہیں) پھر ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کو شدید عذاب (کے مزے) چکھائیں گے کیونکہ کفر (کی باتیں) کیا کرتے تھے
۷۱  اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنادو۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! اگر تم کو میرا تم میں رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی) سے پوشیدہ نہ رہے اور پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو
۷۲  اور اگر تم نے منہ پھیر لیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں
۷۳  لیکن ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچا لیا اور انہیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو غرق کر دیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیا انجام ہوا
۷۴  پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں
۷۵  پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے
۷۶  تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے
۷۷  موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے۔ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پانے کے
۷۸  وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیردو۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں کی ہی سرداری ہوجائے اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں
۷۹  اور فرعون نے حکم دیا کہ سب کامل فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ
۸۰  جب جادوگر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا تم کو جو ڈالنا ہے ڈالو
۸۱  جب انہوں نے (اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو) ڈالا تو موسیٰ نے کہا کہ جو چیزیں تم (بنا کر) لائے ہو جادو ہے خدا اس کو بھی نیست ونابود کردے گا۔ خدا شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتا
۸۲  اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کردے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں
۸۳  تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا۔ مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے۔ اور فرعون ملک میں متکبر ومتغلب اور (کبر وکفر) میں حد سے بڑھا ہوا تھا
۸۴  اور موسیٰ نے کہا کہ بھائیو! اگر تم خدا پر ایمان لائے ہو تو اگر (دل سے) فرمانبردار ہو تو اسی پر بھروسہ رکھو
۸۵  تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال
۸۶  اور اپنی رحمت سے قوم کفار سے نجات بخش
۸۷  اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لیے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھہراؤ اور نماز پڑھو۔ اور مومنوں کو خوشخبری سنادو
۸۸  اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) سازو برگ اور مال وزر دے رکھا ہے۔ اے پروردگار ان کا مال یہ ہے کہ تیرے رستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ان کے مال کو برباد کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں
۸۹  خدا نے فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے رستے نہ چلنا
۹۰  اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں
۹۱  (جواب ملا کہ) اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا
۹۲  تو آج ہم تیرے بدن کو (دریا سے) نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کے لئے عبرت ہو۔ اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بےخبر ہیں
۹۳  اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کو عمدہ جگہ دی اور کھانے کو پاکیزہ چیزیں عطا کیں لیکن وہ باوجود علم ہونے کے اختلاف کرتے رہے۔ بےشک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا
۹۴  اگر تم کو اس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اُتری ہوئی) کتابیں پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا
۹۵  اور نہ ان لوگوں میں ہونا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں نہیں تو نقصان اٹھاؤ گے
۹۶  جن لوگوں کے بارے میں خدا کا حکم (عذاب) قرار پاچکا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے
۹۷  جب تک کہ عذاب الیم نہ دیکھ لیں خواہ ان کے پاس ہر (طرح کی) نشانی آجائے
۹۸  تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا ہاں یونس کی قوم۔ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیاوی سے) ان کو بہرہ مند رکھا
۹۹  اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجائیں
۱۰۰  حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں ہے کہ خدا کے حکم کے بغیر ایمان لائے۔ اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر وذلت کی) نجاست ڈالتا ہے
۱۰۱  (ان کفار سے) کہو دیکھو تو زمین اور آسمانوں میں کیا کچھ ہے۔ مگر جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ان کی نشانیاں اور ڈرواے کچھ کام نہیں آتے
۱۰۲  سو جیسے (برے) دن ان سے پہلے لوگوں پر گزر چکے ہیں اسی طرح کے (دنوں کے) یہ منتظر ہیں۔ کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
۱۰۳  اور ہم اپنے پیغمبروں کو اور مومنوں کو نجات دیتے رہے ہیں۔ اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ مسلمانوں کو نجات دیں
۱۰۴  (اے پیغمبر) کہہ دو کہ لوگو اگر تم کو میرے دین میں کسی طرح کا شک ہو تو (سن رکھو کہ) جن لوگوں کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔ بلکہ میں خدا کی عبادت کرتا ہوں جو تمھاری روحیں قبض کرلیتا ہے اور مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ ایمان لانے والوں میں ہوں
۱۰۵  اور یہ کہ (اے محمد سب سے) یکسو ہو کر دین (اسلام) کی پیروی کئے جاؤ۔ اور مشرکوں میں ہرگز نہ ہونا
۱۰۶  اور خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو نہ تمہارا کچھ بھلا کرسکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے۔ اگر ایسا کرو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے
۱۰۷  اور اگر خدا تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تم سے بھلائی کرنی چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے
۱۰۸  کہہ دو کہ لوگو تمہارے پروردگار کے ہاں سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلائی کرتا ہے۔ اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں
۱۰۹  اور (اے پیغمبر) تم کو جو حکم بھیجا جاتا ہے اس کی پیروی کئے جاؤ اور (تکلیفوں پر) صبر کرو یہاں تک کہ خدا فیصلہ کردے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  الر ۚ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ
٢  أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ
٣  إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۖ مَا مِنْ شَفِيعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
٤  إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا ۖ وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا ۚ إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ ۚ وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ
٥  هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ ۚ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
٦  إِنَّ فِي اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَّقُونَ
٧  إِنَّ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَنُّوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَ
٨  أُولَٰئِكَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
٩  إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُمْ بِإِيمَانِهِمْ ۖ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ
١٠  دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ ۚ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
١١  وَلَوْ يُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ ۖ فَنَذَرُ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ
١٢  وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَنْ لَمْ يَدْعُنَا إِلَىٰ ضُرٍّ مَسَّهُ ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
١٣  وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوا ۙ وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ وَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ
١٤  ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
١٥  وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ ۙ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَٰذَا أَوْ بَدِّلْهُ ۚ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِي ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۖ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
١٦  قُلْ لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرَاكُمْ بِهِ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
١٧  فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ
١٨  وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّهِ ۚ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ
١٩  وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً فَاخْتَلَفُوا ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
٢٠  وَيَقُولُونَ لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِنْ رَبِّهِ ۖ فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلَّهِ فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ
٢١  وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِنْ بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُمْ مَكْرٌ فِي آيَاتِنَا ۚ قُلِ اللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ
٢٢  هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا بِهَا جَاءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَئِنْ أَنْجَيْتَنَا مِنْ هَٰذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ
٢٣  فَلَمَّا أَنْجَاهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۗ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ ۖ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
٢٤  إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ حَتَّىٰ إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا أَتَاهَا أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَاهَا حَصِيدًا كَأَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
٢٥  وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَىٰ دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
٢٦  لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ ۖ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌ وَلَا ذِلَّةٌ ۚ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
٢٧  وَالَّذِينَ كَسَبُوا السَّيِّئَاتِ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۖ مَا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ ۖ كَأَنَّمَا أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعًا مِنَ اللَّيْلِ مُظْلِمًا ۚ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
٢٨  وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنْتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ ۖ وَقَالَ شُرَكَاؤُهُمْ مَا كُنْتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ
٢٩  فَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَافِلِينَ
٣٠  هُنَالِكَ تَبْلُو كُلُّ نَفْسٍ مَا أَسْلَفَتْ ۚ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ ۖ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ
٣١  قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ
٣٢  فَذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ ۖ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ
٣٣  كَذَٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِينَ فَسَقُوا أَنَّهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
٣٤  قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ مَنْ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۚ قُلِ اللَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ
٣٥  قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ مَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ ۚ قُلِ اللَّهُ يَهْدِي لِلْحَقِّ ۗ أَفَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمَّنْ لَا يَهِدِّي إِلَّا أَنْ يُهْدَىٰ ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ
٣٦  وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا ۚ إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ
٣٧  وَمَا كَانَ هَٰذَا الْقُرْآنُ أَنْ يُفْتَرَىٰ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَٰكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ
٣٨  أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
٣٩  بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۖ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَ
٤٠  وَمِنْهُمْ مَنْ يُؤْمِنُ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِهِ ۚ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِينَ
٤١  وَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنْتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ
٤٢  وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُوا لَا يَعْقِلُونَ
٤٣  وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْظُرُ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنْتَ تَهْدِي الْعُمْيَ وَلَوْ كَانُوا لَا يُبْصِرُونَ
٤٤  إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا وَلَٰكِنَّ النَّاسَ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
٤٥  وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَأَنْ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ ۚ قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّهِ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ
٤٦  وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ
٤٧  وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَسُولٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ رَسُولُهُمْ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
٤٨  وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
٤٩  قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي ضَرًّا وَلَا نَفْعًا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۗ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۚ إِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَلَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
٥٠  قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُهُ بَيَاتًا أَوْ نَهَارًا مَاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُونَ
٥١  أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ آمَنْتُمْ بِهِ ۚ آلْآنَ وَقَدْ كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ
٥٢  ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ
٥٣  وَيَسْتَنْبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ ۖ قُلْ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ ۖ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ
٥٤  وَلَوْ أَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِي الْأَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهِ ۗ وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ ۖ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ ۚ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
٥٥  أَلَا إِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ أَلَا إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
٥٦  هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
٥٧  يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ
٥٨  قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ
٥٩  قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ ۖ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ
٦٠  وَمَا ظَنُّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ
٦١  وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ ۚ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
٦٢  أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
٦٣  الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ
٦٤  لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۚ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
٦٥  وَلَا يَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ ۘ إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا ۚ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
٦٦  أَلَا إِنَّ لِلَّهِ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ ۗ وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ شُرَكَاءَ ۚ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ
٦٧  هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ
٦٨  قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۖ هُوَ الْغَنِيُّ ۖ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ إِنْ عِنْدَكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ بِهَٰذَا ۚ أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
٦٩  قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ
٧٠  مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ
٧١  وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ إِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقَامِي وَتَذْكِيرِي بِآيَاتِ اللَّهِ فَعَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَيَّ وَلَا تُنْظِرُونِ
٧٢  فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
٧٣  فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ وَجَعَلْنَاهُمْ خَلَائِفَ وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۖ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِينَ
٧٤  ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ نَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْمُعْتَدِينَ
٧٥  ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ مُوسَىٰ وَهَارُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِينَ
٧٦  فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا إِنَّ هَٰذَا لَسِحْرٌ مُبِينٌ
٧٧  قَالَ مُوسَىٰ أَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَكُمْ ۖ أَسِحْرٌ هَٰذَا وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُونَ
٧٨  قَالُوا أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاءُ فِي الْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ
٧٩  وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُونِي بِكُلِّ سَاحِرٍ عَلِيمٍ
٨٠  فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُوسَىٰ أَلْقُوا مَا أَنْتُمْ مُلْقُونَ
٨١  فَلَمَّا أَلْقَوْا قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُمْ بِهِ السِّحْرُ ۖ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ
٨٢  وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ
٨٣  فَمَا آمَنَ لِمُوسَىٰ إِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِنْ قَوْمِهِ عَلَىٰ خَوْفٍ مِنْ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِمْ أَنْ يَفْتِنَهُمْ ۚ وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الْمُسْرِفِينَ
٨٤  وَقَالَ مُوسَىٰ يَا قَوْمِ إِنْ كُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُسْلِمِينَ
٨٥  فَقَالُوا عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
٨٦  وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
٨٧  وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّآ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًا وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ
٨٨  وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَنْ سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
٨٩  قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
٩٠  وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا ۖ حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ
٩١  آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
٩٢  فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً ۚ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ عَنْ آيَاتِنَا لَغَافِلُونَ
٩٣  وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ فَمَا اخْتَلَفُوا حَتَّىٰ جَاءَهُمُ الْعِلْمُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
٩٤  فَإِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ مِمَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
٩٥  وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ فَتَكُونَ مِنَ الْخَاسِرِينَ
٩٦  إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ
٩٧  وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
٩٨  فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
٩٩  وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا ۚ أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ
١٠٠  وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ
١٠١  قُلِ انْظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَا يُؤْمِنُونَ
١٠٢  فَهَلْ يَنْتَظِرُونَ إِلَّا مِثْلَ أَيَّامِ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ قُلْ فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ
١٠٣  ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا ۚ كَذَٰلِكَ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِينَ
١٠٤  قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي شَكٍّ مِنْ دِينِي فَلَا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَٰكِنْ أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
١٠٥  وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
١٠٦  وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۖ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِينَ
١٠٧  وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ ۚ يُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
١٠٨  قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ فَمَنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۖ وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ
١٠٩  وَاتَّبِعْ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتَّىٰ يَحْكُمَ اللَّهُ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  Alif, Lam, Ra. These are the verses of the wise Book
2  Have the people been amazed that We revealed [revelation] to a man from among them, [saying], “Warn mankind and give good tidings to those who believe that they will have a [firm] precedence of honor with their Lord”? [But] the disbelievers say, “Indeed, this is an obvious magician.”
3  Indeed, your Lord is Allah, who created the heavens and the earth in six days and then established Himself above the Throne, arranging the matter [of His creation]. There is no intercessor except after His permission. That is Allah, your Lord, so worship Him. Then will you not remember?
4  To Him is your return all together. [It is] the promise of Allah [which is] truth. Indeed, He begins the [process of] creation and then repeats it that He may reward those who have believed and done righteous deeds, in justice. But those who disbelieved will have a drink of scalding water and a painful punishment for what they used to deny.
5  It is He who made the sun a shining light and the moon a derived light and determined for it phases – that you may know the number of years and account [of time]. Allah has not created this except in truth. He details the signs for a people who know
6  Indeed, in the alternation of the night and the day and [in] what Allah has created in the heavens and the earth are signs for a people who fear Allah
7  Indeed, those who do not expect the meeting with Us and are satisfied with the life of this world and feel secure therein and those who are heedless of Our signs
8  For those their refuge will be the Fire because of what they used to earn.
9  Indeed, those who have believed and done righteous deeds – their Lord will guide them because of their faith. Beneath them rivers will flow in the Gardens of Pleasure
10  Their call therein will be, “Exalted are You, O Allah,” and their greeting therein will be, “Peace.” And the last of their call will be, “Praise to Allah, Lord of the worlds!”
11  And if Allah was to hasten for the people the evil [they invoke] as He hastens for them the good, their term would have been ended for them. But We leave the ones who do not expect the meeting with Us, in their transgression, wandering blindly
12  And when affliction touches man, he calls upon Us, whether lying on his side or sitting or standing; but when We remove from him his affliction, he continues [in disobedience] as if he had never called upon Us to [remove] an affliction that touched him. Thus is made pleasing to the transgressors that which they have been doing
13  And We had already destroyed generations before you when they wronged, and their messengers had come to them with clear proofs, but they were not to believe. Thus do We recompense the criminal people
14  Then We made you successors in the land after them so that We may observe how you will do.
15  And when Our verses are recited to them as clear evidences, those who do not expect the meeting with Us say, “Bring us a Qur’an other than this or change it.” Say, [O Muhammad], “It is not for me to change it on my own accord. I only follow what is revealed to me. Indeed I fear, if I should disobey my Lord, the punishment of a tremendous Day.”
16  Say, “If Allah had willed, I would not have recited it to you, nor would He have made it known to you, for I had remained among you a lifetime before it. Then will you not reason?”
17  So who is more unjust than he who invents a lie about Allah or denies His signs? Indeed, the criminals will not succeed
18  And they worship other than Allah that which neither harms them nor benefits them, and they say, “These are our intercessors with Allah ” Say, “Do you inform Allah of something He does not know in the heavens or on the earth?” Exalted is He and high above what they associate with Him
19  And mankind was not but one community [united in religion], but [then] they differed. And if not for a word that preceded from your Lord, it would have been judged between them [immediately] concerning that over which they differ.
20  And they say, “Why is a sign not sent down to him from his Lord?” So say, “The unseen is only for Allah [to administer], so wait; indeed, I am with you among those who wait.”
21  And when We give the people a taste of mercy after adversity has touched them, at once they conspire against Our verses. Say, “Allah is swifter in strategy.” Indeed, Our messengers record that which you conspire
22  It is He who enables you to travel on land and sea until, when you are in ships and they sail with them by a good wind and they rejoice therein, there comes a storm wind and the waves come upon them from everywhere and they assume that they are surrounded, supplicating Allah, sincere to Him in religion, “If You should save us from this, we will surely be among the thankful.”
23  But when He saves them, at once they commit injustice upon the earth without right. O mankind, your injustice is only against yourselves, [being merely] the enjoyment of worldly life. Then to Us is your return, and We will inform you of what you used to do.
24  The example of [this] worldly life is but like rain which We have sent down from the sky that the plants of the earth absorb – [those] from which men and livestock eat – until, when the earth has taken on its adornment and is beautified and its people suppose that they have capability over it, there comes to it Our command by night or by day, and We make it as a harvest, as if it had not flourished yesterday. Thus do We explain in detail the signs for a people who give thought.
25  And Allah invites to the Home of Peace and guides whom He wills to a straight path
26  For them who have done good is the best [reward] and extra. No darkness will cover their faces, nor humiliation. Those are companions of Paradise; they will abide therein eternally
27  But they who have earned [blame for] evil doings – the recompense of an evil deed is its equivalent, and humiliation will cover them. They will have from Allah no protector. It will be as if their faces are covered with pieces of the night – so dark [are they]. Those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally.
28  And [mention, O Muhammad], the Day We will gather them all together – then We will say to those who associated others with Allah, “[Remain in] your place, you and your ‘partners.’ ” Then We will separate them, and their “partners” will say, “You did not used to worship us,
29  And sufficient is Allah as a witness between us and you that we were of your worship unaware.”
30  There, [on that Day], every soul will be put to trial for what it did previously, and they will be returned to Allah, their master, the Truth, and lost from them is whatever they used to invent.
31  Say, “Who provides for you from the heaven and the earth? Or who controls hearing and sight and who brings the living out of the dead and brings the dead out of the living and who arranges [every] matter?” They will say, “Allah,” so say, “Then will you not fear Him?”
32  For that is Allah, your Lord, the Truth. And what can be beyond truth except error? So how are you averted?
33  Thus the word of your Lord has come into effect upon those who defiantly disobeyed – that they will not believe.
34  Say, “Are there of your ‘partners’ any who begins creation and then repeats it?” Say, “Allah begins creation and then repeats it, so how are you deluded?”
35  Say, “Are there of your ‘partners’ any who guides to the truth?” Say, “Allah guides to the truth. So is He who guides to the truth more worthy to be followed or he who guides not unless he is guided? Then what is [wrong] with you – how do you judge?”
36  And most of them follow not except assumption. Indeed, assumption avails not against the truth at all. Indeed, Allah is Knowing of what they do.
37  And it was not [possible] for this Qur’an to be produced by other than Allah, but [it is] a confirmation of what was before it and a detailed explanation of the [former] Scripture, about which there is no doubt, from the Lord of the worlds.
38  Or do they say [about the Prophet], “He invented it?” Say, “Then bring forth a surah like it and call upon [for assistance] whomever you can besides Allah, if you should be truthful.”
39  Rather, they have denied that which they encompass not in knowledge and whose interpretation has not yet come to them. Thus did those before them deny. Then observe how was the end of the wrongdoers.
40  And of them are those who believe in it, and of them are those who do not believe in it. And your Lord is most knowing of the corrupters
41  And if they deny you, [O Muhammad], then say, “For me are my deeds, and for you are your deeds. You are disassociated from what I do, and I am disassociated from what you do.”
42  And among them are those who listen to you. But can you cause the deaf to hear, although they will not use reason?
43  And among them are those who look at you. But can you guide the blind although they will not [attempt to] see?
44  Indeed, Allah does not wrong the people at all, but it is the people who are wronging themselves.
45  And on the Day when He will gather them, [it will be] as if they had not remained [in the world] but an hour of the day, [and] they will know each other. Those will have lost who denied the meeting with Allah and were not guided
46  And whether We show you some of what We promise them, [O Muhammad], or We take you in death, to Us is their return; then, [either way], Allah is a witness concerning what they are doing
47  And for every nation is a messenger. So when their messenger comes, it will be judged between them in justice, and they will not be wronged
48  And they say, “When is [the fulfillment of] this promise, if you should be truthful?”
49  Say, “I possess not for myself any harm or benefit except what Allah should will. For every nation is a [specified] term. When their time has come, then they will not remain behind an hour, nor will they precede [it].”
50  Say, “Have you considered: if His punishment should come to you by night or by day – for which [aspect] of it would the criminals be impatient?”
51  Then is it that when it has [actually] occurred you will believe in it? Now? And you were [once] for it impatient
52  Then it will be said to those who had wronged, “Taste the punishment of eternity; are you being recompensed except for what you used to earn?”
53  And they ask information of you, [O Muhammad], “Is it true?” Say, “Yes, by my Lord. Indeed, it is truth; and you will not cause failure [to Allah].”
54  And if each soul that wronged had everything on earth, it would offer it in ransom. And they will confide regret when they see the punishment; and they will be judged in justice, and they will not be wronged
55  Unquestionably, to Allah belongs whatever is in the heavens and the earth. Unquestionably, the promise of Allah is truth, but most of them do not know
56  He gives life and causes death, and to Him you will be returned
57  O mankind, there has to come to you instruction from your Lord and healing for what is in the breasts and guidance and mercy for the believers.
58  Say, “In the bounty of Allah and in His mercy – in that let them rejoice; it is better than what they accumulate.”
59  Say, “Have you seen what Allah has sent down to you of provision of which you have made [some] lawful and [some] unlawful?” Say, “Has Allah permitted you [to do so], or do you invent [something] about Allah?”
60  And what will be the supposition of those who invent falsehood about Allah on the Day of Resurrection? Indeed, Allah is full of bounty to the people, but most of them are not grateful.”
61  And, [O Muhammad], you are not [engaged] in any matter or recite any of the Qur’an and you [people] do not do any deed except that We are witness over you when you are involved in it. And not absent from your Lord is any [part] of an atom’s weight within the earth or within the heaven or [anything] smaller than that or greater but that it is in a clear register.
62  Unquestionably, [for] the allies of Allah there will be no fear concerning them, nor will they grieve
63  Those who believed and were fearing Allah
64  For them are good tidings in the worldly life and in the Hereafter. No change is there in the words of Allah. That is what is the great attainment.
65  And let not their speech grieve you. Indeed, honor [due to power] belongs to Allah entirely. He is the Hearing, the Knowing.
66  Unquestionably, to Allah belongs whoever is in the heavens and whoever is on the earth. And those who invoke other than Allah do not [actually] follow [His] “partners.” They follow not except assumption, and they are not but falsifying
67  It is He who made for you the night to rest therein and the day, giving sight. Indeed in that are signs for a people who listen.
68  They have said, “Allah has taken a son.” Exalted is He; He is the [one] Free of need. To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth. You have no authority for this [claim]. Do you say about Allah that which you do not know?
69  Say, “Indeed, those who invent falsehood about Allah will not succeed.”
70  [For them is brief] enjoyment in this world; then to Us is their return; then We will make them taste the severe punishment because they used to disbelieve
71  And recite to them the news of Noah, when he said to his people, “O my people, if my residence and my reminding of the signs of Allah has become burdensome upon you – then I have relied upon Allah. So resolve upon your plan and [call upon] your associates. Then let not your plan be obscure to you. Then carry it out upon me and do not give me respite.
72  And if you turn away [from my advice] then no payment have I asked of you. My reward is only from Allah, and I have been commanded to be of the Muslims.”
73  And they denied him, so We saved him and those with him in the ship and made them successors, and We drowned those who denied Our signs. Then see how was the end of those who were warned.
74  Then We sent after him messengers to their peoples, and they came to them with clear proofs. But they were not to believe in that which they had denied before. Thus We seal over the hearts of the transgressors
75  Then We sent after them Moses and Aaron to Pharaoh and his establishment with Our signs, but they behaved arrogantly and were a criminal people
76  So when there came to them the truth from Us, they said, “Indeed, this is obvious magic.”
77  Moses said, “Do you say [thus] about the truth when it has come to you? Is this magic? But magicians will not succeed.”
78  They said, “Have you come to us to turn us away from that upon which we found our fathers and so that you two may have grandeur in the land? And we are not believers in you.”
79  And Pharaoh said, “Bring to me every learned magician.”
80  So when the magicians came, Moses said to them, “Throw down whatever you will throw.”
81  And when they had thrown, Moses said, “What you have brought is [only] magic. Indeed, Allah will expose its worthlessness. Indeed, Allah does not amend the work of corrupters.
82  And Allah will establish the truth by His words, even if the criminals dislike it.”
83  But no one believed Moses, except [some] youths among his people, for fear of Pharaoh and his establishment that they would persecute them. And indeed, Pharaoh was haughty within the land, and indeed, he was of the transgressors
84  And Moses said, “O my people, if you have believed in Allah, then rely upon Him, if you should be Muslims.”
85  So they said, “Upon Allah do we rely. Our Lord, make us not [objects of] trial for the wrongdoing people
86  And save us by Your mercy from the disbelieving people.”
87  And We inspired to Moses and his brother, “Settle your people in Egypt in houses and make your houses [facing the] qiblah and establish prayer and give good tidings to the believers.”
88  And Moses said, “Our Lord, indeed You have given Pharaoh and his establishment splendor and wealth in the worldly life, our Lord, that they may lead [men] astray from Your way. Our Lord, obliterate their wealth and harden their hearts so that they will not believe until they see the painful punishment.”
89  [Allah] said, “Your supplication has been answered.” So remain on a right course and follow not the way of those who do not know.”
90  And We took the Children of Israel across the sea, and Pharaoh and his soldiers pursued them in tyranny and enmity until, when drowning overtook him, he said, “I believe that there is no deity except that in whom the Children of Israel believe, and I am of the Muslims.”
91  Now? And you had disobeyed [Him] before and were of the corrupters?
92  So today We will save you in body that you may be to those who succeed you a sign. And indeed, many among the people, of Our signs, are heedless
93  And We had certainty settled the Children of Israel in an agreeable settlement and provided them with good things. And they did not differ until [after] knowledge had come to them. Indeed, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning that over which they used to differ
94  So if you are in doubt, [O Muhammad], about that which We have revealed to you, then ask those who have been reading the Scripture before you. The truth has certainly come to you from your Lord, so never be among the doubters.
95  And never be of those who deny the signs of Allah and [thus] be among the losers.
96  Indeed, those upon whom the word of your Lord has come into effect will not believe,
97  Even if every sign should come to them, until they see the painful punishment.
98  Then has there not been a [single] city that believed so its faith benefited it except the people of Jonah? When they believed, We removed from them the punishment of disgrace in worldly life and gave them enjoyment for a time.
99  And had your Lord willed, those on earth would have believed – all of them entirely. Then, [O Muhammad], would you compel the people in order that they become believers?
100  And it is not for a soul to believe except by permission of Allah, and He will place defilement upon those who will not use reason.
101  Say, “Observe what is in the heavens and earth.” But of no avail will be signs or warners to a people who do not believe
102  So do they wait except for like [what occurred in] the days of those who passed on before them? Say, “Then wait; indeed, I am with you among those who wait.”
103  Then We will save our messengers and those who have believed. Thus, it is an obligation upon Us that We save the believers
104  Say, [O Muhammad], “O people, if you are in doubt as to my religion – then I do not worship those which you worship besides Allah; but I worship Allah, who causes your death. And I have been commanded to be of the believers
105  And [commanded], ‘Direct your face toward the religion, inclining to truth, and never be of those who associate others with Allah;
106  And do not invoke besides Allah that which neither benefits you nor harms you, for if you did, then indeed you would be of the wrongdoers.'”
107  And if Allah should touch you with adversity, there is no remover of it except Him; and if He intends for you good, then there is no repeller of His bounty. He causes it to reach whom He wills of His servants. And He is the Forgiving, the Merciful
108  Say, “O mankind, the truth has come to you from your Lord, so whoever is guided is only guided for [the benefit of] his soul, and whoever goes astray only goes astray [in violation] against it. And I am not over you a manager.”
109  And follow what is revealed to you, [O Muhammad], and be patient until Allah will judge. And He is the best of judges.

 奉至仁至慈的真主之名

1  艾列弗,俩目,拉仪。这些是包含智慧的经典的节文。
2  难道人们认为这是怪事吗?我曾启示他们中的一个男子:你要警告众人,你要向信士们报喜,告诉他们在他们的主那里,他们有崇高的品位。不信道者曾说:这确是明显的术士。
3  你们的主确是真主,他曾在6日内创造了天地,然后升上宝座,处理万事。没有一个说情者,不是先得到他的允许的。那是真主,你们的主,你们应当崇拜他。你们怎么还不觉悟呢?
4  你们都只归于他,真主的诺言是真实的。他确已创造了万物,而且必加以再造,以便他秉公地报酬信道而且行善者。不信道者,将因自己的不信道而饮沸水,并受痛苦的刑罚。
5  他曾以太阳为发光的、以月亮为光明的,并为月亮而定列宿,以便你们知道历算。真主只依真理而创造之。他为能了解的民众而解释一切迹象。
6  昼夜的轮流,以及真主在天地间所造的森罗万象,在克己的民众看来,此中确有许多迹象。
7  不希望与我相会,只愿永享今世生活,而且安然享受的人,以及忽视我的种种迹象的人,
8  他们将因自己的营谋而以火狱为归宿。
9  信道而且行善的人,他们的主将因他们的信仰而引导他们;他们将安居于下临诸河的幸福园中。
10  他们在乐园中的祈祷是:我们的主啊!我们赞美你。他们在乐园中祝辞是:平安。他们最后的祈祷是:一切赞颂,全归真主–全世界的主。
11  假若真主为世人速降灾害,犹如他们急于求福那样,他们的大限必已判定了。但我任随那些不希望与我相会的人徘徊于其残暴之中。
12  当人遭遇灾害的时候,便卧著、或坐著、或站著向我祈祷。等我解除他们的灾害后,他们就继续作恶,彷佛不曾祈求我解除他们的灾害一样。过分的人们是这样为他们的行为所迷惑的。
13  在你们之前曾有许多世代,他们族中的使者既昭示了他们许多明证,而他们仍行不义,不肯信道,我就毁灭了他们,我这样报应犯罪的民众。
14  在他们灭亡之后,我以你们成为大地上的代治者,以便我看你们怎样工作。
15  有人对他们宣读我的明显的迹象的时候,那些不希望会见我的人说:请你另拿一部《古兰经》来,或者请你修改这部《古兰经》。你说:我不至于擅自修改它。我只能遵从我所受的启示。如果我违抗我的主,我的确畏惧重大日的刑罚。
16  你说:假若真主意欲,我一定不向你们宣读这部经,真主也不使你们了解其意义。在降示这部经之前,我确已在你们中间度过了大半生了,难道你们不明理吗?
17  假借真主的名义而造谣,或否认其迹象的人,有谁比他还不义呢?犯罪的人一定不会成功。
18  除真主外,他们崇拜那对他们既无福又无祸的东西,他们说:这些(偶像)是在真主那里替我们说情的。你说:难道真主不知道天地间有此事,而要你们来告诉他吗!赞美真主,他超乎万物!他超乎他们在他之外所崇拜的东西!
19  人们原来是一个民族,嗣后,他们信仰分歧,假若没有一句话,从你主预先发出,那末他们所争论的是非,必定获得判决了。
20  他们说:为何没有一种迹象从他的主降临他呢?你说:幽玄只归真主,你们期待著吧!我确是和你们在一起期待著的!
21  在众人遭遇灾害之后,当我使他们尝试慈恩的时候,他们忽然图谋诽谤我的迹象。你说:真主的计谋是更迅速的。我的使者们确是记录你们的计谋的。
22  真主使你们在陆上和海上旅行。当你们坐在船中,乘顺风而航行,并因风而欣喜的时候,暴风向船袭来,波涛从各处滚来,船里的人猜想自己已被包围,他们虔诚地祈祷真主,如果你使我们脱离这次灾难,我们必定感谢你。
23  当他拯救了他们的时候,他们忽然在地方上无理地侵害(他人)。人们啊!你们的侵害只有害于自身,那是今世生活的享受,然后,你们只归于我,我要把你们的行为告诉你们。
24  今世的生活,就像是从云中降下雨水,地里的禾苗,即人和牲畜所吃的东西–就因之而繁茂起来。直到田地穿上盛装,打扮得很美丽,而农夫猜想自己可以获得丰收的时候,我的命令在黑夜或白昼降临那些田地,我使五谷只留下茬儿,彷佛新近没有种过庄稼一样。我为能思维的民众这样解释许多迹象。
25  真主召人到平安的住宅,并引导其所欲引导的人走上正路。
26  行善者将受善报,且有余庆,脸上没有黑灰和忧色,这些人是乐园的居民,将永居其中。
27  作恶者每作一恶,必受同样的恶报,而且脸上有忧色–没有任何人能帮助他们对抗真主–他们的脸上彷佛有黑夜的颜色。这些人是火狱的居民,将永居其中。
28  在那日,我要把他们全部集合起来,然后,对以物配主的人说:你们和你们的配主站住吧!于是,我使他们彼此分离,他们的配主要说:你们没有崇拜过我们,
29  真主足为我们和你们之间的见证,我们的确忽视你们的崇拜。
30  在那时,各人将考验自己在生前的行为,他们将被送到真主–他们真实的保护者那里去,而他们所捏造的已回避他们了。
31  你说:谁从天上和地上给你们提供给养?谁主持你们的听觉和视觉?谁使活物从死物中生出?谁使死物从活物中生出?谁管理事物?他们要说:真主。你说:难道你们不敬畏他吗?
32  那是真主,你们的真实的主宰。在真理之外,除了迷误还有什么呢?你们怎么颠倒是非呢?
33  你的主的判决对放肆的人们落实了。他们毕竟是不信道的。
34  你说:你们的配主,有能创造万物,而且加以再造的吗?你说:真主能创造万物,而且能加以再造。你们怎么混淆黑白呢?
35  你说:你们的配主有能导人于真理的吗?你说:真主能导人于真理。是能导人于真理的更宜于受人顺从呢?还是须受引导才能遵循正道的,更宜于受人顺从呢?你们怎么啦?你们怎么这样判断呢?
36  他们大半是只凭猜想,猜想对于真理是毫无裨益的。真主确是全知他们的行为的。
37  这部《古兰经》不是可以舍真主而伪造的,却是真主降示来证实以前的天经,并详述真主所制定的律例的。其中毫无疑义,乃是从全世界的主所降示的。
38  难道他们说他伪造经典吗?你说:你们就试拟作一章吧!如果你们是诚实的,你们就应当舍真主而吁请你们所能吁请的人。
39  不!他们否认他们所未通晓,而其解释尚未降临的经典。在他们之前的人,曾这样把他们族中的使者称为说谎者。你看看!不义者的结局,是怎样的!
40  他们中有信它的,有不信它的。你的主是知道作恶者的。
41  如果他们称你为说谎者,你就说:我有我的工作,你们有你们的工作,你们与我所做的事无干,我与你们所做的事无涉。
42  他们中有倾听你的,难道你能使聋子闻道吗?如果他们是不明理的。
43  他们中有注视你的,难道你能引导瞎子吗?即使他们没有洞察力。
44  真主的确毫不亏待人们,但人们却亏待自己。
45  在他集合他们的那日,他们彷佛只在白昼逗留过一会儿,他们互相认识,把与真主相会之说称为谎言的人,确已亏折了,他们不是遵循正道的。
46  如果我昭示你一点我所用以恫吓他们的那种刑罚,那末,我对他们确是全能的;设或我使你寿终,那末,他们只归于我,然后,真主是见证他们的行为的。
47  每个民族各有一个使者。当他们族中的使者来临的时候,他们要被秉公判决,不受冤枉。
48  他们说:这个警告什么时候实现呢?如果你们是诚实的人。
49  你说:我不能为我自己主持祸福,除非真主意欲,每个民族各有一个期限,当他们的期限来临的时候,他们不能耽延一会儿;(当其未来临的时候,)他们不能提前的一会儿。
50  你说:你们告诉我吧!如果他的刑罚,在黑夜或白昼来临你们,那末,犯罪的人们要求早日实现的是什么刑罚呢?
51  难道要他们的刑罚降临你们的时候,你们才归依他吗?你们确要求他的刑罚早日降临你们,现在,你们(却归依他)吗?
52  然后,有人要对不义的人们说:你们尝试永久的刑罚吧!你们只因自己的谋求而受报酬。
53  他们问你:这是真实的吗?你说:是的,指我的主发誓,这确是真实的,你们绝不能逃避天谴。
54  假若每个不义的人,都拥有大地上的一切,他必用它做罚金。当他们看见刑罚的时候,他们必怀悔恨。他们要被秉公判决,不受冤枉。
55  真的,天地万物确是真主的。真的,真主的诺言,确是真实的;但他们大半不知道。
56  他能使死者生,能使生者死;你们只被召归于他。
57  人们啊!确已降临你们的,是从你们的主发出的教诲,是治心病的良药,是对信士们的引导和慈恩。
58  你说:这是由于真主的恩惠和慈恩,叫他们因此而高兴吧!这比他们所聚积的还要好。
59  你说:你们告诉我吧!真主为你们降下的给养,你们把它分为违法的与合法的,你们究竟是奉真主的命令呢?还是假借真主的名义而造谣呢?
60  假借真主的名义而造谣的人们在复活日将作何猜想呢?真主对人们,确是有恩惠的,但他们大半不感谢。
61  无论你处理什么事物,无论你诵读《古兰经》哪一章经文,无论你们做什么工作,当你们著手的时候,我总是见证你们的。天地间微尘重的事物,都不能逃避真主的鉴察,无论比微尘小还是比微尘大,都记载在一本明显的天经中。
62  真的,真主的朋友们,将来没有恐惧,也不忧愁。
63  他们就是信道而敬畏的人。
64  在今世和后世,他们都将得到佳音。真主的诺言是毫厘不爽的。那确是伟大的成功。
65  你不要让他们的胡言乱语而使你忧愁;一切权势归真主,他确是全聪的,全知的。
66  真的,天地间的一切,确是真主的,舍真主而祈祷许多配主的人,究竟凭什么呢?他们只凭臆测,他们尽说谎话。
67  他为你们创造了黑夜,以便你们在夜间安息;又创造白昼,以便你们在白天能看见东西。对于能听忠言的民众,此中确有许多迹象。
68  他们说:真主以人为子。光荣归于真主!他是无求的。天地万物都是他的。你们对此事并无明证,难道你们可以假借真主的名义而妄说出自己所不知道的事情吗?
69  你说:假借真主的名义而造谣的人是不会成功的。
70  这只是今世的享受,然后他们只归于我,然后我将因他们不信道而使他们尝试严厉的刑罚。
71  你当对他们宣读努哈的故事,当时他对他的宗族说:我的宗族啊!如果我居住在你们中间,以真主的迹象教训你们,这使你们感到难堪,那末,我只信托真主,你们应当和你们的配主在一起决定你们的事情,不要让你们的事情成为暖昧的。你们对我做出判决吧,不要宽限我。
72  如果你们违背我的教诲,那末,我未曾向你们索取任何报酬;我的报酬只归真主负担。我曾奉命做-个顺服的人。
73  但他们称他为说谎者,故我拯救了他和与他同船的人,并使他们为代治者,而淹死了否认我的迹象的人。你看看曾被警告者的结局是怎样的!
74  在他之后,我曾派遣许多使者,去教化他们自己的宗族。他们曾用许多明证昭示他们,但他们不会相信自己以前所否认的东西。我这样封闭过分者的心。
75  在他们之后,我曾派遣穆萨和哈伦带著我的许多迹象,去教化法老和他的显贵,但他们自大,他们是犯罪的民众。
76  当从我这儿发出的真理降临他们的时候,他们说:这确是明显的魔术。
77  穆萨说:难道你们这样评论已降临你们的真理吗?这难道是魔术吗?术士是不会成功的。
78  他们说:你到我们这里来,想使我们抛奔我们的祖先的宗教,而让你们俩称尊于国中吗?我们绝不会归信你们的。
79  法老说:你们把一切高明的术士都召来见我吧!
80  当术士们来到的时候,穆萨对他们说:你们要抛出什么就快抛出来吧!
81  当他们抛出来的时候,穆萨说:你们所表演的确是魔术,真主必使它无效,真主必定不相助破坏者的工作。
82  真主将以他的言语证实真理,即使犯罪的人不愿意。
83  归信穆萨的只有他本族的苗裔;他们害怕法老和他们本族头目们迫害他们。法老在地方上确是高傲的,确是过分的。
84  穆萨说:我的宗族啊!如果你们信仰真主,你们就应当只信赖他,如果你们是归顺的。
85  他们说:我们只信赖真主。我们的主啊!求你不要让不义的民众迫害我们。
86  求你以你的慈恩而使我们脱离不信道的民众。
87  我曾启示穆萨和他哥哥说:你们俩当为自己的宗族而在埃及建造些房屋,你们应当以自己的房屋为礼拜的地方,你们应当谨守拜功,你应当向信士们报喜。
88  穆萨说:我们的主啊!你把各种装饰品和今世生活的各种财产给予法老和他的贵族们–我们的主啊!–以致他们使民众背离你的大道。我们的主啊!求你毁掉他们的财产,求你封闭他们的心。但愿他们不信道,直到看见痛苦的刑罚。
89  主说:你们俩的祈祷确已被应承了,故你们俩应当继续传道,你们俩不要遵循无知者的道路。
90  我曾使以色列人渡海,于是法老和他的军队残暴地追赶他们,直到他将被淹死的时候,他才说:我确信,除以色列人所归信者外,绝无应受崇拜的;同时,我是一个顺服者。
91  现在(你才归信)吗?以前你确已违抗命令,而且是一个破坏的人。
92  但今日我拯救你的遗体,以便你做后来者的鉴戒。多数的人,对于我的鉴戒,确是忽视的。
93  我确已使以色列人居住在一个安定的地方,并以佳美的食物供给他们。他们的意见没有分歧,直到那种知识降临他们。复活日,你的主必将判决他们所争论的是非。
94  假若你怀疑我所降示你的经典,你就问问那些常常诵读在你之前所降示的天经的人们。从你的主发出的真理,确已降临你,故你切莫居于怀疑者的行列,
95  切莫居于否认真主的迹象者的行列,以致你入于亏折者之中。
96  被你的主的判词所判决的人,必定不信道;
97  即使每种迹象都降临他们,直到他们看见痛苦的刑罚。
98  为何没有一个城市的居民信仰正道,因而获得信道的裨益呢?但优努斯的宗族,当他们信道的时候,我曾为他们解除了今世生活中凌辱的刑罚,并使他们暂时享受。
99  如果你的主意欲,大地上所有的人,必定都信道了。难道你要强迫众人都做信士吗?
100  任何人都不会信道,除非奉真主的命令。他以刑罚加于不明理的人们。
101  你说:你们要观察天地之间的森罗万象。一切迹象和警告者,对于不信道的民众是毫无裨益的。
102  他们只等待在他们之前逝去者所遭的那种苦难日子。你说:你们等待吧!我确是与你们一起等待的。
103  嗣后,我拯救了我的使者们和信道的人们,我将这样负责拯救一般信士。
104  你说:人们啊!如果你们怀疑我的宗教,那末,我不崇拜你们舍真主而崇拜的,但我崇拜真主,他将使你们寿终。我奉命做一个信道者,
105  并(奉命说):你应当趋向正教,你切莫做一个以物配主的人,
106  切莫舍真主而祈祷那对于你既无福又无祸的东西。假若你那祥做,你就必定是一个不义的人。
107  如果真主降一点灾害于你,那末,除他之外,绝无能解除灾害的。如果他欲降福利于你,那末,任何人也不能阻拦他的恩惠。他把那恩惠降于他所意欲的仆人。他是至赦的,是至慈的。
108  你说:众人呀!从你们的主发出的真理,确已降临你们。谁遵循正道,谁自受其益;谁误入歧途,谁自受其害,我不是监护你们的。
109  你应当遵从你所受的启示,并应当坚忍,直到真主判决,他是最公正的判决者。

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  ‘lr. Éstas son las aleyas de la Escritura sabia.
2  ¿Se sorprenden los hombres de que hayamos revelado a uno de ellos: «Advierte a los hombres y anuncia a los creyentes la buena nueva de que, cuando se presenten a su Señor, tendrán una buena posición»? Los infieles dicen: «Éste es, sí, un mago manifiesto».
3  Vuestro Señor es Alá, Que ha creado los cielos y la tierra en seis días. Luego, se ha instalado en el trono para disponerlo todo. Nadie puede interceder sin Su permiso. ¡Ése es Alá, vuestro Señor! ¡Servidle, pues! ¿Es que no os dejaréis amonestar?
4  Todos volveréis a Él. ¡Promesa de Alá, verdad! Él inicia la creación y luego la repite, para remunerar con equidad a quienes han creído y obrado bien. En cuanto a quienes hayan sido infieles, se les dará a beber agua muy caliente y sufrirán un castigo doloroso por no haber creído.
5  Él es Quien ha hecho del sol claridad y de la luna luz, Quien ha determinado las fases de ésta para que sepáis el número de años y el cómputo. Alá no ha creado esto sino con un fin. Él explica los signos a gente que sabe.
6  En la sucesión de la noche y el día y en todo lo que Alá ha creado en los cielos y en la tierra hay, ciertamente, signos para gente que Le teme.
7  Quienes no cuentan con encontrarnos y prefieren la vida de acá, hallando en ella quietud, así como quienes se despreocupan de Nuestros signos,
8  tendrán el Fuego como morada por lo que han cometido.
9  A quienes hayan creído y obrado bien, su Señor les dirigirá por medio de su fe. A sus pies fluirán arroyos en los jardines de la Delicia.
10  Su invocación allí será: «¡Gloria a Ti, Alá!» Su saludo allí será: «¡Paz!» y terminarán con esta invocación: «¡Alabado sea Alá, Señor del universo!»
11  Si Alá precipitara el mal sobre los hombres con la misma premura con que éstos buscan su bienestar, habría ya llegado su fin. Dejamos, pues, a quienes no cuentan con encontrarnos que yerren ciegos en su rebeldía.
12  Cuando el hombre sufre una desgracia, Nos invoca, lo mismo si está echado que si está sentado o de pie. Pero, en cuanto le libramos de su desgracia, continúa su camino como si no Nos hubiera invocado por la desgracia que sufría. Así es como son engalanadas las obras de los inmoderados.
13  Antes de vosotros habíamos ya hecho perecer a generaciones que habían sido impías. Sus enviados les trajeron las pruebas claras, pero no estaban para creer. Así retribuimos al pueblo pecador.
14  Luego, os constituimos sucesores en la tierra, después de ellos, para ver cómo os portabais.
15  Cuando se les recitan Nuestras aleyas como pruebas claras, quienes no cuentan con encontrarnos dicen: «¡Tráenos otro Corán o modifica éste!» Di: «No me toca a mí modificarlo por iniciativa propia. Lo único que hago es seguir lo que se me ha revelado. Temo, si desobedezco a mi Señor, el castigo de un día terrible».
16  Di: «Si Alá hubiera querido, yo no os lo habría recitado y Él no os lo habría dado a conocer. Antes de él, he permanecido una vida con vosotros. ¿Es que no razonáis?»
17  ¿Hay alguien que sea más impío que quien inventa una mentira contra Alá o desmiente Sus signos? Los pecadores no prosperarán.
18  En lugar de servir a Alá, sirven lo que no puede ni dañarles ni aprovecharles, y dicen: «¡Éstos son nuestros intercesores ante Alá!» Di: «¿Es que pretendéis informar a Alá de algo, en los cielos o en la tierra, que Él no sepa?» ¡Gloria a Él! ¡Está por encima de lo que Le asocian!
19  La Humanidad no constituía sino una sola comunidad. Luego, discreparon entre sí y, si no llega a ser por una palabra previa de tu Señor, ya se habría decidido entre ellos sobre aquello en que discrepaban.
20  Dicen: «¡Por qué no se le ha revelado un signo procedente de su Señor?» Di, pues: «Lo oculto pertenece sólo a Alá. ¡Esperad, pues! Yo también soy de los que esperan».
21  Apenas hacemos gustar a los hombres una misericordia, después de haber sufrido una desgracia, al punto intrigan contra Nuestros signos. Di: «¡Alá es más rápido en intrigar!» Nuestros enviados toman nota de vuestra intriga.
22  Él es Quien os hace viajar por tierra o por mar. Cuando, navegando con viento favorable, contentos con él, se levanta un viento tempestuoso, azotan las olas por todas partes y creen llegada la hora de la muerte, invocan a Alá rindiéndole culto sincero. «Si nos salvas de ésta, seremos, ciertamente, de los agradecidos».
23  Y apenas les salva, ya en tierra, al punto se insolentan injustamente. «¡Hombres! ¡Vuestra insolencia se volverá contra vosotros! Tendréis breve disfrute de la vida de acá. Luego, volveréis a Nosotros y ya os informaremos de lo que hacíais».
24  La vida de acá es como agua que hacemos bajar del cielo. Las plantas de la tierra se empapan de ella y alimentan a los hombres y a los rebaños, hasta que, cuando la tierra se ha adornado y engalanado, y creen los hombres que ya la dominan, llega a ella Nuestra orden, de noche o de día, y la dejamos cual rastrojo, como si, la víspera, no hubiera estado floreciente. Así explicamos los signos a gente que reflexiona.
25  Alá invita a la Morada de la Paz y dirige a quien Él quiere a una vía recta.
26  Para quienes obren bien, lo mejor y más. Ni el polvo ni la humillación cubrirán sus rostros. Ésos morarán en el Jardín eternamente.
27  A quienes obren mal, se les retribuirá con otro tanto. Les cubrirá la humillación -no tendrán quien les proteja de Alá-, como si jirones de tinieblas nocturnas cubrieran sus rostros. Ésos morarán en el Fuego eternamente.
28  El día que les congreguemos a todos, diremos a los asociadores: «¡Quedaos donde estáis, vosotros y vuestros asociados!» Les separaremos a unos de otros y sus asocidos dirán: «¡No era a nosotros a quienes servíais!
29  Alá basta como testigo entre nosotros y vosotros de que no hacíamos caso de vuestro servicio».
30  Allí, cada uno experimentará de nuevo lo que hizo en vida. Serán devueltos a Alá, su verdadero Dueño, y se esfumarán sus invenciones.
31  Di: «¿Quién os procura el sustento del cielo y de la tierra? ¿Quién dispone del oído y de la vista? ¿Quién saca al vivo del muerto y al muerto del vivo? ¿Quién lo dispone todo? Dirán: «¡Alá!» Di, pues: «¿Y no vais a temerle?»
32  Ése es Alá, vuestro verdadero Señor. Y ¿qué hay más allá de la Verdad, sino el extravío? ¡Cómo podéis, pues, ser tan desviados!
33  Así se ha cumplido la sentencia de tu Señor contra los perversos: no creerán.
34  Di: «¿Hay alguno de vuestros asociados que inicie la creación y luego la repita?» Di: «Alá inicia la creación y luego la repite. ¡Cómo podéis, pues, ser tan desviados!»
35  Di: «¿Hay algunos de vuestros asociados que dirija a la Verdad?» Di: «Alá dirige a la Verdad. ¿Quién tiene más derecho a ser seguido: quien dirige a la Verdad o quien no da con la buena dirección, a menos de ser dirigido? Pero ¿qué os pasa?, ¿qué manera de juzgar es ésa?»
36  Pero la mayoría no siguen sino conjeturas, y, ante la Verdad, las conjeturas no sirven de nada. Alá sabe bien lo que y hacen.
37  Este Corán no puede haberlo inventado nadie fuera de Alá. No sólo eso, sino que viene a confirmar los mensajes anteriores y a explicar detalladamente la Escritura , exenta de dudas, que procede del Señor del universo.
38  O dicen: «Él lo ha inventado». Di: «Si es verdad lo que decís, ¡traed una sura semejante y llamad a quien podáis, en lugar de llamar a Alá!»
39  Al contrario, han desmentido lo que no abarcan en su ciencia y aquello cuya interpretación aún no han recibido. Así desmintieron sus antecesores. ¡Y mira cómo terminaron los impíos!
40  De ellos hay quien cree en él y quien no, pero tu Señor conoce mejor que nadie a los corruptores.
41  Si te desmienten, di: «Yo respondo de mis actos y vosotros de los vuestros. Vosotros no sois responsables de lo que yo haga y yo no soy responsable de lo que vosotros hagáis».
42  De ellos hay quienes te escuchan. Pero ¿puedes tú hacer que los sordos oigan, aun cuando no comprendan…?
43  De ellos hay quien te mira. Pero ¿puedes tú dirigir a los ciegos, aun cuando no vean…?
44  Alá no es nada injusto con los hombres, sino que son los hombres los injustos consigo mismos.
45  Y el día que les congregue, será como si no hubieran permanecido más de una hora del día. Se reconocerán. Perderán quienes hayan desmentido el encuentro de Alá. No fueron bien dirigidos.
46  Lo mismo si te mostramos algo de aquello con que les amenazamos que si te llamamos, volverán a Nosotros. Luego, Alá será testigo de lo que hacían.
47  Cada comunidad tiene un enviado. Cuando venga su enviado, se decidirá entre ellos con equidad y no serán tratados injustamente.
48  Dicen: «¿Cuándo se cumplirá esta amenaza, si es verdad lo que decís…?»
49  Di: «Yo no tengo poder para dañarme ni para aprovecharme sino tanto cuanto Alá quiera. Cada comunidad tiene un plazo. Cuando vence su plazo, no pueden retrasarlo ni adelantarlo una hora».
50  Di: «¿Qué os parece? Si os sorprendiera Su castigo de noche o de día, ¿querrían los pecadores aún adelantarlo?
51  ¿Dejáis el creer en él para cuando ocurra? Creed ahora, cuando pedís adelantarlo».
52  Se dirá a los impíos: «¡Gustad el castigo enterno! ¿Se os retribuye por otra cosa que por lo que habéis merecido?»
53  Te pedirán información: «Entonces, eso ¿es verdad?» Di: «¡Sí, por mi Señor!, que es verdad y no podréis escapar».
54  Todo impío que poseyera cuanto hay en la tierra, lo ofrecería como rescate. Disimularán su pena cuando vean el castigo. Se decidirá entre ellos con equidad y no serán tratados injustamente.
55  ¿No es de Alá lo que está en los cielos y en la tierra? ¡Lo que Alá promete es verdad! Pero la mayoría no saben.
56  Él da la vida y da la muerte. Y seréis devueltos a Él.
57  ¡Hombres! Habéis recibido una exhortación procedente de vuestro Señor, remedio para los males de vuestros corazones, dirección y misericordia para los creyentes.
58  Di: «¡Que se alegren del favor de Alá y de Su misericordia. Eso es mejor que lo que ellos amasan».
59  Di: «¿Habéis visto el sustento que Alá ha hecho bajar para vosotros? ¿Y habéis declarado esto lícito y aquello ilícito? ¿Es que Alá os lo ha permitido o lo habéis inventado contra Alá?»
60  El día de la Resurreción ¿qué pensarán los que inventaron la mentira contra Alá? Sí, Alá dispensa Su favor a los hombres, pero la mayoría no agradecen.
61  En cualquier situación en que te encuentres, cualquiera que sea el pasaje que recites del Corán, cualquier cosa que hagáis, Nosotros somos testigos de vosotros desde su principio. A tu Señor no se Le pasa desapercibido el peso de un átomo en la tierra ni en el cielo. No hay nada, menor o mayor que eso, que no esté en una Escritura clara.
62  Ciertamente, los amigos de Alá no tienen que temer y no estarán tristes.
63  Creyeron y temieron a Alá.
64  Recibirán la buena nueva en la vida de acá y en la otra. No cabe alteración en las palabras de Alá. ¡Ése es el éxito grandioso!
65  ¡Que no te entristezca lo que digan! El poder pertenece, en su totalidad, a Alá. Él es Quien todo lo oye, Quien todo lo sabe.
66  ¿No es, acaso, de Alá lo que está en los cielos y en la tierra? ¿Qué siguen, pues, quienes invocan a otros asociados, en lugar de invocar a Alá? No siguen sino conjeturas, no formulan sino hipótesis.
67  Él es Quien ha dispuesto para vosotros la noche para que descanséis en ella, y el día para que podáis ver claro. Ciertamente, hay en ello signos para gente que oye.
68  Dicen: «Alá ha adoptado un hijo». ¡Gloria a Él! Él es Quien Se basta a Sí mismo. Suyo es lo que está en los cielos y en la tierra. ¡No tenéis ninguna autoridad para hablar así! ¿Decís contra Alá lo que no sabéis?
69  Di: «Quienes inventen la mentira contra Alá no prosperarán».
70  Tendrán breve disfrute en la vida de acá y, luego, volverán a Nosotros. Luego, les haremos gustar el castigo severo por no haber creído.
71  Cuéntales la historia de Noé, cuando dijo a los suyos: «¡Pueblo! Si os molesta que esté entre vosotros y que os amoneste con los signos de Alá, yo confío en Alá. Aunaos, pues, con vuestros asociados y no os preocupéis más. ¡Decidid, luego, respecto a mí y no me hagáis esperar!»
72  Pero, si dais media… Yo no os he pedido un salario. Mi salario incumbe sólo a Alá. He recibido la orden de ser de los que se someten a Alá.
73  Le desmintieron, pero les salvamos a él y a quienes estaban con él en la nave, y les hicimos sucesores. Y anegamos a quienes desmintieron Nuestros signos. ¡Y mira cómo terminaron los que habían sido advertidos!
74  Después de él, mandamos a otros enviados a sus pueblos, que les trajeron las pruebas claras, pero no estaban para creer en lo que antes habían desmentido. Así es como sellamos los corazones de los que violan la ley.
75  Luego, después de ellos, enviamos a Moisés y a Aarón con Nuestros signos a Faraón y a sus dignatarios. Pero fueron altivos. Eran gente pecadora.
76  Cuando recibieron la Verdad, venida de Nosotros, dijeron: «¡Esto es, ciertamente, manifiesta magia!»
77  Moisés dijo: «¿Os atrevéis a tachar de magia la Verdad que habéis recibido?» Los magos no prosperarán.
78  Dijeron: «¿Has venido a nosotros con objeto de apartarnos de lo que nuestros padres seguían, para que la dominación de la tierra pase a vosotros dos? ¡No tenemos fe en vosotros!»
79  Faraón dijo: «¡Traedme acá a todo mago entendido!»
80  Y cuando llegaron los magos, Moisés les dijo: «¡Tirad lo que vayáis a tirar!»
81  Y cuando tiraron, dijo Moisés: «Lo que habéis traído es magia. Alá va a destruirlo. Alá no permite que prospere la obra de los corruptores.
82  Y Alá hace triunfar la Verdad con Sus palabras, a despecho de los pecadores».
83  Sólo una minoría de su pueblo creyó en Moisés, porque tenían miedo de que Faraón y sus dignatarios les pusieran a prueba. Ciertamente, Faraón se conducía altivamente en el país y era de los inmoderados.
84  Moisés dijo: «¡Pueblo! Si creéis en Alá, ¡confiad en Él! Si es que estáis sometidos a Él…»
85  Dijeron: «¡Confiamos en Alá! ¡Señor! ¡No hagas de nosotros instrumentos de tentación para el pueblo impío!
86  ¡Sálvanos por Tu misericordia del pueblo infiel!»
87  E inspiramos a Moisés y a su hermano: «¡Estableced casas para vuestro pueblo en Egipto y haced de vuestras casas lugares de culto! ¡Y haced la azalá!» ¡Y anuncia la buena nueva a los creyentes!
88  Moisés dijo: «¡Señor! Tú has dado a Faraón y a sus dignatarios lujo y bienes en la vida de acá para terminar, ¡Señor!. extraviando a otros de Tu camino. ¡Señor! ¡Borra sus bienes y endurece sus corazones a fin de que no crean hasta que vean el castigo doloroso!»
89  Dijo: «Vuestra plegaria ha sido escuchada. ¡Id los dos por la vía recta y no sigáis el camino de los que no saben!»
90  Hicimos que los Hijos de Israel atravesaran el mar. Faraón y sus tropas les persiguieron con espíritu de rebeldía y hostilidad hasta que, a punto de ahogarse, dijo: «¡Sí, creo que no hay más dios que Aquél en Quien los Hijos de Israel creen! Y soy de los que se someten a Él».
91  «¿Ahora? ¿Después de haber desobedecido y de haber sido de los corruptores?
92  Esto no obstante, hoy te salvaremos en cuanto al cuerpo a fin de que seas signo para los que te sucedan». Son muchos, en verdad, los hombres que no se preocupan de Nuestros signos…
93  Hemos instalado a los Hijos de Israel en un lugar bueno y les hemos proveído de cosas buenas. Y no discreparon sino después de haber recibido la Ciencia. Tu Señor decidirá entre ellos el día de la Resurrección sobre aquello en que discrepaban.
94  Si tienes alguna duda acerca de lo que te hemos revelado, pregunta a quienes, antes de ti, ya leían la Escritura. Te ha venido, de tu Señor, la Verdad. ¡No seas, pues, de los que dudan!
95  Y ¡guárdate de ser de los que desmienten los signos de Alá; si no, serás de los que pierden!
96  Aquéllos contra quienes se ha cumplido la sentencia de tu Señor no creerán,
97  aunque reciban todos los signos, hasta que vean el castigo doloroso.
98  ¿Por qué no ha habido ninguna ciudad que haya creído y a la que su fe haya aprovechado, fuera del pueblo de Jonás…? Cuando creyeron, les evitamos el castigo, vergonzoso en la vida de acá y les permitimos gozar aún por algún tiempo.
99  Si tu Señor hubiera querido, todos los habitantes de la tierra, absolutamente todos, habrían creído. Y ¿vas tú a forzar a los hombres a que sean creyentes,
100  siendo así que nadie está para creer si Alá no lo permite? Y Se irrita contra quienes no razonan.
101  Di: «¡Mirad lo que está en los cielos y en la tierra!» Pero ni los signos ni las advertencias sirven de nada a gente que no cree.
102  ¿Qué esperan, pues, sino días como los de quienes pasaron antes de ellos? Di: «¡Esperad! Yo también soy de los que esperan».
103  Luego, salvaremos a Nuestros enviados y a los que hayan creído. Salvar a los creyentes es deber Nuestro.
104  Di: «¡Hombres! Si dudáis de mi religión, yo no sirvo a quienes vosotros servís en lugar de servir a Alá, sino que sirvo a Alá, Que os llamará! ¡He recibido la orden de ser de los creyentes».
105  Y: «¡Profesa la Religión como hanif y no seas asociador!»
106  No invoques, en lugar de invocar a Alá, lo que no puede aprovecharte ni dañarte. Si lo hicieras, entonces, serías de los impíos.
107  Si Alá te aflige con una desgracia, nadie sino Él podrá librarte de ella. Si Él te desea un bien, nadie podrá oponerse a Su favor. Se lo concede a quien Él quiere de Sus siervos. Él es el Indulgente, el Misericordioso.
108  Di: «¡Hombres! Os ha venido, de vuestro Señor, la Verdad. Quien sigue la vía recta, la sigue, en realidad, en provecho propio. Y quien se extravía, se extravía, en realidad, en detrimento propio. Yo no soy vuestro protector».
109  ¡Sigue lo que se te ha revelado y ten paciencia hasta que Alá decida! ¡Él es el Mejor en decidir!