Project Description

AN NUR

شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  یہ (ایک) سورت ہے جس کو ہم نے نازل کیا اور اس (کے احکام) کو فرض کر دیا، اور اس میں واضح المطالب آیتیں نازل کیں تاکہ تم یاد رکھو
۲  بدکاری کرنے والی عورت اور بدکاری کرنے والا مرد (جب ان کی بدکاری ثابت ہوجائے تو) دونوں میں سے ہر ایک کو سو درے مارو۔ اور اگر تم خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو شرع خدا (کے حکم) میں تمہیں ان پر ہرگز ترس نہ آئے۔ اور چاہیئے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت بھی موجود ہو
۳  بدکار مرد تو بدکار یا مشرک عورت کے سوا نکاح نہیں کرتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (یعنی بدکار عورت سے نکاح کرنا) مومنوں پر حرام ہے
۴  اور جو لوگ پرہیزگار عورتوں کو بدکاری کا عیب لگائیں اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی درے مارو اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو۔ اور یہی بدکردار ہیں
۵  ہاں جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور (اپنی حالت) سنوار لیں تو خدا (بھی) بخشنے والا مہربان ہے
۶  اور جو لوگ اپنی عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور خود ان کے سوا ان کے گواہ نہ ہوں تو ہر ایک کی شہادت یہ ہے کہ پہلے تو چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بےشک وہ سچا ہے
۷  اور پانچویں بار یہ (کہے) کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر خدا کی لعنت
۸  اور عورت سے سزا کو یہ بات ٹال سکتی ہے کہ وہ پہلے چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بےشک یہ جھوٹا ہے
۹  اور پانچویں دفعہ یوں (کہے) کہ اگر یہ سچا ہو تو مجھ پر خدا کا غضب (نازل ہو)
۱۰  اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو بہت سی خرابیاں پیدا ہوجاتیں۔ مگر وہ صاحب کرم ہے اور یہ کہ خدا توبہ قبول کرنے والا حکیم ہے
۱۱  جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا۔ بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے۔ ان میں سے جس شخص نے گناہ کا جتنا حصہ لیا اس کے لئے اتنا ہی وبال ہے۔ اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا
۱۲  جب تم نے وہ بات سنی تھی تو مومن مردوں اور عورتوں نے کیوں اپنے دلوں میں نیک گمان نہ کیا۔ اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح طوفان ہے
۱۳  یہ (افتراء پرداز) اپنی بات (کی تصدیق) کے (لئے) چار گواہ کیوں نہ لائے۔ تو جب یہ گواہ نہیں لاسکے تو خدا کے نزدیک یہی جھوٹے ہیں
۱۴  اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات کا تم چرچا کرتے تھے اس کی وجہ سے تم پر بڑا (سخت) عذاب نازل ہوتا
۱۵  جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی
۱۶  اور جب تم نے اسے سنا تھا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں شایاں نہیں کہ ایسی بات زبان پر نہ لائیں۔ (پروردگار) تو پاک ہے یہ تو (بہت) بڑا بہتان ہے
۱۷  خدا تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر مومن ہو تو پھر کبھی ایسا کام نہ کرنا
۱۸  اور خدا تمہارے (سمجھانے کے لئے) اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔ اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے
۱۹  اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بےحیائی یعنی (تہمت بدکاری کی خبر) پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا۔ اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
۲۰  اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی (تو کیا کچھ نہ ہوتا مگر وہ کریم ہے) اور یہ کہ خدا نہایت مہربان اور رحیم ہے
۲۱  اے مومنو! شیطان کے قدموں پر نہ چلنا۔ اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو شیطان تو بےحیائی (کی باتیں) اور برے کام ہی بتائے گا۔ اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو ایک شخص بھی تم میں پاک نہ ہوسکتا۔ مگر خدا جس کو چاہتا ہے پاک کردیتا ہے۔ اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے
۲۲  اور جو لوگ تم میں صاحب فضل (اور صاحب) وسعت ہیں، وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور محتاجوں اور وطن چھوڑ جانے والوں کو کچھ خرچ پات نہیں دیں گے۔ ان کو چاہیئے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ خدا تم کو بخش دے؟ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے
۲۳  جو لوگ پرہیزگار اور برے کاموں سے بےخبر اور ایمان دار عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا وآخرت (دونوں) میں لعنت ہے۔ اور ان کو سخت عذاب ہوگا
۲۴  (یعنی قیامت کے روز) جس دن ان کی زبانیں ہاتھ اور پاؤں سب ان کے کاموں کی گواہی دیں گے
۲۵  اس دن خدا ان کو (ان کے اعمال کا) پورا پورا (اور) ٹھیک بدلہ دے گا اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا برحق (اور حق کو) ظاہر کرنے والا ہے
۲۶  ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے۔ اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے۔ اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے۔ یہ (پاک لوگ) ان (بدگویوں) کی باتوں سے بری ہیں (اور) ان کے لئے بخشش اور نیک روزی ہے
۲۷  مومنو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں کے) گھروں میں گھر والوں سے اجازت لئے اور ان کو سلام کئے بغیر داخل نہ ہوا کرو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے (اور ہم) یہ نصیحت اس لئے کرتے ہیں کہ شاید تم یاد رکھو
۲۸  اگر تم گھر میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو جب تک تم کو اجازت نہ دی جائے اس میں مت داخل ہو۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ (اس وقت) لوٹ جاؤ تو لوٹ جایا کرو۔ یہ تمہارے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے۔ اور جو کام تم کرتے ہو خدا سب جانتا ہے
۲۹  ہاں اگر تم کسی ایسے مکان میں جاؤ جس میں کوئی نہ بستا ہو اور اس میں تمہارا اسباب (رکھا) ہو، تم پر کچھ گناہ نہیں، اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے
۳۰  مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں خدا ان سے خبردار ہے
۳۱  اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں (کہ جھنکار کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔ اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ
۳۲  اور اپنی قوم کی بیوہ عورتوں کے نکاح کردیا کرو۔ اور اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے بھی جو نیک ہوں (نکاح کردیا کرو) اگر وہ مفلس ہوں گے تو خدا ان کو اپنے فضل سے خوش حال کردے گا۔ اور خدا (بہت) وسعت والا اور (سب کچھ) جاننے والا ہے
۳۳  اور جن کو بیاہ کا مقدور نہ ہو وہ پاک دامنی کو اختیار کئے رہیں یہاں تک کہ خدا ان کو اپنے فضل سے غنی کردے۔ اور جو غلام تم سے مکاتبت چاہیں اگر تم ان میں (صلاحیت اور) نیکی پاؤ تو ان سے مکاتبت کرلو۔ اور خدا نے جو مال تم کو بخشا ہے اس میں سے ان کو بھی دو۔ اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں تو (بےشرمی سے) دنیاوی زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرنا۔ اور جو ان کو مجبور کرے گا تو ان (بیچاریوں) کے مجبور کئے جانے کے بعد خدا بخشنے والا مہربان ہے
۳۴  اور ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں نازل کی ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان کی خبریں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت
۳۵  خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے۔ اور چراغ ایک قندیل میں ہے۔ اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف۔ (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (پڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ اور خدا نے (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے
۳۶  (وہ قندیل) ان گھروں میں (ہے) جن کے بارے میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلند کئے جائیں اور وہاں خدا کے نام کا ذکر کیا جائے (اور) ان میں صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہیں
۳۷  (یعنی ایسے) لوگ جن کو خدا کے ذکر اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے سے نہ سوداگری غافل کرتی ہے نہ خرید وفروخت۔ وہ اس دن سے جب دل (خوف اور گھبراہٹ کے سبب) الٹ جائیں گے اور آنکھیں (اوپر کو چڑھ جائیں گی) ڈرتے ہیں
۳۸  تاکہ خدا ان کو ان کے عملوں کا بہت اچھا بدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی عطا کرے۔ اور جس کو چاہتا ہے خدا بےشمار رزق دیتا ہے
۳۹  جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے میدان میں ریت کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آئے تو اسے کچھ بھی نہ پائے اور خدا ہی کو اپنے پاس دیکھے تو وہ اسے اس کا حساب پورا پورا چکا دے۔ اور خدا جلد حساب کرنے والا ہے
۴۰  یا (ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے دریائے عمیق میں اندھیرے جس پر لہر چڑھی چلی آتی ہو اور اس کے اوپر اور لہر (آرہی ہو) اور اس کے اوپر بادل ہو، غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں، ایک پر ایک (چھایا ہوا) جب اپنا ہاتھ نکالے تو کچھ نہ دیکھ سکے۔ اور جس کو خدا روشنی نہ دے اس کو (کہیں بھی) روشنی نہیں (مل سکتی)
۴۱  کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی۔ اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے
۴۲  اور آسمان اور زمین کی بادشاہی خدا کے لئے ہے۔ اور خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
۴۳  کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی بادلوں کو چلاتا ہے، اور ان کو آپس میں ملا دیتا ہے، پھر ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل (کر برس) رہا ہے اور آسمان میں جو (اولوں کے) پہاڑ ہیں، ان سے اولے نازل کرتا ہے تو جس پر چاہتا ہے اس کو برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے۔ اور بادل میں جو بجلی ہوتی ہے اس کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرکے بینائی کو اُچکے لئے جاتی ہے
۴۴  اور خدا ہی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے۔ اہل بصارت کے لئے اس میں بڑی عبرت ہے
۴۵  اور خدا ہی نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔ تو اس میں بعضے ایسے ہیں کہ پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں۔ خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
۴۶  ہم ہی نے روشن آیتیں نازل کیں ہیں اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھے رستے کی طرف ہدایات کرتا ہے
۴۷  اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور رسول پر ایمان لائے اور (ان کا) حکم مان لیا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھر جاتا ہے اور یہ لوگ صاحب ایمان ہی نہیں ہیں
۴۸  اور جب ان کو خدا اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ (رسول خدا) ان کا قضیہ چکا دیں تو ان میں سے ایک فرقہ منہ پھیر لیتا ہے
۴۹  اگر (معاملہ) حق (ہو اور) ان کو (پہنچتا) ہو تو ان کی طرف مطیع ہو کر چلے آتے ہیں
۵۰  کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا (یہ) شک میں ہیں یا ان کو یہ خوف ہے کہ خدا اور اس کا رسول ان کے حق میں ظلم کریں گے (نہیں) بلکہ یہ خود ظالم ہیں
۵۱  مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا۔ اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
۵۲  اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اور اس سے ڈرے گا تو ایسے لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں
۵۳  اور (یہ) خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں۔ کہہ دو کہ قسمیں مت کھاؤ، پسندیدہ فرمانبرداری (درکار ہے) ۔ بےشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
۵۴  کہہ دو کہ خدا کی فرمانبرداری کرو اور رسول خدا کے حکم پر چلو۔ اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) جو ان کے ذمے ہے اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو تمہارے ذمے ہے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا رستہ پالو گے اور رسول کے ذمے تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے
۵۵  جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنادے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم وپائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں
۵۶  اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو اور پیغمبر خدا کے فرمان پر چلتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے
۵۷  اور ایسا خیال نہ کرنا کہ تم پر کافر لوگ غالب آجائیں گے (وہ جا ہی کہاں سکتے ہیں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے
۵۸  مومنو! تمہارے غلام لونڈیاں اور جو بچّے تم میں سے بلوغ کو نہیں پہنچے تین دفعہ یعنی (تین اوقات میں) تم سے اجازت لیا کریں۔ (ایک تو) نماز صبح سے پہلے اور (دوسرے گرمی کی دوپہر کو) جب تم کپڑے اتار دیتے ہو۔ اور تیسرے عشاء کی نماز کے بعد۔ (یہ) تین (وقت) تمہارے پردے (کے) ہیں ان کے (آگے) پیچھے (یعنی دوسرے وقتوں میں) نہ تم پر کچھ گناہ ہے اور نہ ان پر۔ کہ کام کاج کے لئے ایک دوسرے کے پاس آتے رہتے ہو۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں تم سے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا بڑا علم والا اور بڑا حکمت والا ہے
۵۹  اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیئے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے آدمی) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے
۶۰  اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی، اور وہ کپڑے اتار کر سر ننگا کرلیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں۔ اور اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ اور خدا سنتا اور جانتا ہے
۶۱  نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اس کا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا۔ اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو۔ (یہ) خدا کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
۶۲  مومن تو وہ ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر چلے نہیں جاتے۔ اے پیغمبر جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخششیں مانگا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
۶۳  مومنو پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ بےشک خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیئے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو
۶۴  دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ جس (طریق) پر تم ہو وہ اسے جانتا ہے۔ اور جس روز لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو جو لوگ عمل کرتے رہے وہ ان کو بتا دے گا۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  سُورَةٌ أَنْزَلْنَاهَا وَفَرَضْنَاهَا وَأَنْزَلْنَا فِيهَا آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
٢  الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
٣  الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ
٤  وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
٥  إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
٦  وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ
٧  وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ
٨  وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ
٩  وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ
١٠  وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ حَكِيمٌ
١١  إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ ۚ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ ۖ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ ۚ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ ۚ وَالَّذِي تَوَلَّىٰ كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ
١٢  لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَٰذَا إِفْكٌ مُبِينٌ
١٣  لَوْلَا جَاءُوا عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ۚ فَإِذْ لَمْ يَأْتُوا بِالشُّهَدَاءِ فَأُولَٰئِكَ عِنْدَ اللَّهِ هُمُ الْكَاذِبُونَ
١٤  وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِي مَا أَفَضْتُمْ فِيهِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
١٥  إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمٌ
١٦  وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَٰذَا سُبْحَانَكَ هَٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ
١٧  يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
١٨  وَيُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
١٩  إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
٢٠  وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ
٢١  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۚ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَىٰ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
٢٢  وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ
٢٣  إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
٢٤  يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
٢٥  يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ
٢٦  الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ ۖ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ ۚ أُولَٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ
٢٧  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
٢٨  فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّىٰ يُؤْذَنَ لَكُمْ ۖ وَإِنْ قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا ۖ هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ
٢٩  لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ مَسْكُونَةٍ فِيهَا مَتَاعٌ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ
٣٠  قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ
٣١  وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
٣٢  وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
٣٣  وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا ۖ وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ ۚ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَمَنْ يُكْرِهْهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ
٣٤  وَلَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ آيَاتٍ مُبَيِّنَاتٍ وَمَثَلًا مِنَ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ
٣٥  اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ۖ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ ۖ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۚ نُورٌ عَلَىٰ نُورٍ ۗ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
٣٦  فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ
٣٧  رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ۙ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ
٣٨  لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
٣٩  وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّهَ عِنْدَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ ۗ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ
٤٠  أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ ۚ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا ۗ وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ
٤١  أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ ۖ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ
٤٢  وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ
٤٣  أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَالٍ فِيهَا مِنْ بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشَاءُ ۖ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ
٤٤  يُقَلِّبُ اللَّهُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ
٤٥  وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ ۖ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ بَطْنِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ رِجْلَيْنِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ أَرْبَعٍ ۚ يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
٤٦  لَقَدْ أَنْزَلْنَا آيَاتٍ مُبَيِّنَاتٍ ۚ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
٤٧  وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٌ مِنْهُمْ مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَا أُولَٰئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ
٤٨  وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ
٤٩  وَإِنْ يَكُنْ لَهُمُ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ
٥٠  أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتَابُوا أَمْ يَخَافُونَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَسُولُهُ ۚ بَلْ أُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
٥١  إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
٥٢  وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ
٥٣  وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ أَمَرْتَهُمْ لَيَخْرُجُنَّ ۖ قُلْ لَا تُقْسِمُوا ۖ طَاعَةٌ مَعْرُوفَةٌ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
٥٤  قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ۖ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا ۚ وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
٥٥  وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
٥٦  وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
٥٧  لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ ۖ وَلَبِئْسَ الْمَصِيرُ
٥٨  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ۚ مِنْ قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُمْ مِنَ الظَّهِيرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ۚ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ ۚ طَوَّافُونَ عَلَيْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
٥٩  وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
٦٠  وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَنْ يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ ۖ وَأَنْ يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَهُنَّ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
٦١  لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا ۚ فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
٦٢  إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَىٰ أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّىٰ يَسْتَأْذِنُوهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ۚ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَنْ لِمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
٦٣  لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
٦٤  أَلَا إِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ قَدْ يَعْلَمُ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ وَيَوْمَ يُرْجَعُونَ إِلَيْهِ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  [This is] a surah which We have sent down and made [that within it] obligatory and revealed therein verses of clear evidence that you might remember.
2  The [unmarried] woman or [unmarried] man found guilty of sexual intercourse – lash each one of them with a hundred lashes, and do not be taken by pity for them in the religion of Allah, if you should believe in Allah and the Last Day. And let a group of the believers witness their punishment.
3  The fornicator does not marry except a [female] fornicator or polytheist, and none marries her except a fornicator or a polytheist, and that has been made unlawful to the believers.
4  And those who accuse chaste women and then do not produce four witnesses – lash them with eighty lashes and do not accept from them testimony ever after. And those are the defiantly disobedient,
5  Except for those who repent thereafter and reform, for indeed, Allah is Forgiving and Merciful.
6  And those who accuse their wives [of adultery] and have no witnesses except themselves – then the witness of one of them [shall be] four testimonies [swearing] by Allah that indeed, he is of the truthful.
7  And the fifth [oath will be] that the curse of Allah be upon him if he should be among the liars.
8  But it will prevent punishment from her if she gives four testimonies [swearing] by Allah that indeed, he is of the liars.
9  And the fifth [oath will be] that the wrath of Allah be upon her if he was of the truthful.
10  And if not for the favor of Allah upon you and His mercy… and because Allah is Accepting of repentance and Wise.
11  Indeed, those who came with falsehood are a group among you. Do not think it bad for you; rather it is good for you. For every person among them is what [punishment] he has earned from the sin, and he who took upon himself the greater portion thereof – for him is a great punishment.
12  Why, when you heard it, did not the believing men and believing women think good of one another and say, “This is an obvious falsehood”?
13  Why did they [who slandered] not produce for it four witnesses? And when they do not produce the witnesses, then it is they, in the sight of Allah, who are the liars.
14  And if it had not been for the favor of Allah upon you and His mercy in this world and the Hereafter, you would have been touched for that [lie] in which you were involved by a great punishment
15  When you received it with your tongues and said with your mouths that of which you had no knowledge and thought it was insignificant while it was, in the sight of Allah, tremendous.
16  And why, when you heard it, did you not say, “It is not for us to speak of this. Exalted are You, [O Allah]; this is a great slander”?
17  Allah warns you against returning to the likes of this [conduct], ever, if you should be believers.
18  And Allah makes clear to you the verses, and Allah is Knowing and Wise.
19  Indeed, those who like that immorality should be spread [or publicized] among those who have believed will have a painful punishment in this world and the Hereafter. And Allah knows and you do not know.
20  And if it had not been for the favor of Allah upon you and His mercy… and because Allah is Kind and Merciful.
21  O you who have believed, do not follow the footsteps of Satan. And whoever follows the footsteps of Satan – indeed, he enjoins immorality and wrongdoing. And if not for the favor of Allah upon you and His mercy, not one of you would have been pure, ever, but Allah purifies whom He wills, and Allah is Hearing and Knowing.
22  And let not those of virtue among you and wealth swear not to give [aid] to their relatives and the needy and the emigrants for the cause of Allah, and let them pardon and overlook. Would you not like that Allah should forgive you? And Allah is Forgiving and Merciful.
23  Indeed, those who [falsely] accuse chaste, unaware and believing women are cursed in this world and the Hereafter; and they will have a great punishment
24  On a Day when their tongues, their hands and their feet will bear witness against them as to what they used to do.
25  That Day, Allah will pay them in full their deserved recompense, and they will know that it is Allah who is the perfect in justice.
26  Evil words are for evil men, and evil men are [subjected] to evil words. And good words are for good men, and good men are [an object] of good words. Those [good people] are declared innocent of what the slanderers say. For them is forgiveness and noble provision.
27  O you who have believed, do not enter houses other than your own houses until you ascertain welcome and greet their inhabitants. That is best for you; perhaps you will be reminded.
28  And if you do not find anyone therein, do not enter them until permission has been given you. And if it is said to you, “Go back,” then go back; it is purer for you. And Allah is Knowing of what you do.
29  There is no blame upon you for entering houses not inhabited in which there is convenience for you. And Allah knows what you reveal and what you conceal.
30  Tell the believing men to reduce [some] of their vision and guard their private parts. That is purer for them. Indeed, Allah is Acquainted with what they do.
31  And tell the believing women to reduce [some] of their vision and guard their private parts and not expose their adornment except that which [necessarily] appears thereof and to wrap [a portion of] their headcovers over their chests and not expose their adornment except to their husbands, their fathers, their husbands’ fathers, their sons, their husbands’ sons, their brothers, their brothers’ sons, their sisters’ sons, their women, that which their right hands possess, or those male attendants having no physical desire, or children who are not yet aware of the private aspects of women. And let them not stamp their feet to make known what they conceal of their adornment. And turn to Allah in repentance, all of you, O believers, that you might succeed.
32  And marry the unmarried among you and the righteous among your male slaves and female slaves. If they should be poor, Allah will enrich them from His bounty, and Allah is all-Encompassing and Knowing.
33  But let them who find not [the means for] marriage abstain [from sexual relations] until Allah enriches them from His bounty. And those who seek a contract [for eventual emancipation] from among whom your right hands possess – then make a contract with them if you know there is within them goodness and give them from the wealth of Allah which He has given you. And do not compel your slave girls to prostitution, if they desire chastity, to seek [thereby] the temporary interests of worldly life. And if someone should compel them, then indeed, Allah is [to them], after their compulsion, Forgiving and Merciful.
34  And We have certainly sent down to you distinct verses and examples from those who passed on before you and an admonition for those who fear Allah.
35  Allah is the Light of the heavens and the earth. The example of His light is like a niche within which is a lamp, the lamp is within glass, the glass as if it were a pearly [white] star lit from [the oil of] a blessed olive tree, neither of the east nor of the west, whose oil would almost glow even if untouched by fire. Light upon light. Allah guides to His light whom He wills. And Allah presents examples for the people, and Allah is Knowing of all things.
36  [Such niches are] in mosques which Allah has ordered to be raised and that His name be mentioned therein; exalting Him within them in the morning and the evenings
37  [Are] men whom neither commerce nor sale distracts from the remembrance of Allah and performance of prayer and giving of zakah. They fear a Day in which the hearts and eyes will [fearfully] turn about –
38  That Allah may reward them [according to] the best of what they did and increase them from His bounty. And Allah gives provision to whom He wills without account.
39  But those who disbelieved – their deeds are like a mirage in a lowland which a thirsty one thinks is water until, when he comes to it, he finds it is nothing but finds Allah before Him, and He will pay him in full his due; and Allah is swift in account.
40  Or [they are] like darknesses within an unfathomable sea which is covered by waves, upon which are waves, over which are clouds – darknesses, some of them upon others. When one puts out his hand [therein], he can hardly see it. And he to whom Allah has not granted light – for him there is no light.
41  Do you not see that Allah is exalted by whomever is within the heavens and the earth and [by] the birds with wings spread [in flight]? Each [of them] has known his [means of] prayer and exalting [Him], and Allah is Knowing of what they do.
42  And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth, and to Allah is the destination.
43  Do you not see that Allah drives clouds? Then He brings them together, then He makes them into a mass, and you see the rain emerge from within it. And He sends down from the sky, mountains [of clouds] within which is hail, and He strikes with it whom He wills and averts it from whom He wills. The flash of its lightening almost takes away the eyesight.
44  Allah alternates the night and the day. Indeed in that is a lesson for those who have vision.
45  Allah has created every [living] creature from water. And of them are those that move on their bellies, and of them are those that walk on two legs, and of them are those that walk on four. Allah creates what He wills. Indeed, Allah is over all things competent.
46  We have certainly sent down distinct verses. And Allah guides whom He wills to a straight path.
47  But the hypocrites say, “We have believed in Allah and in the Messenger, and we obey”; then a party of them turns away after that. And those are not believers.
48  And when they are called to [the words of] Allah and His Messenger to judge between them, at once a party of them turns aside [in refusal].
49  But if the right is theirs, they come to him in prompt obedience.
50  Is there disease in their hearts? Or have they doubted? Or do they fear that Allah will be unjust to them, or His Messenger? Rather, it is they who are the wrongdoers.
51  The only statement of the [true] believers when they are called to Allah and His Messenger to judge between them is that they say, “We hear and we obey.” And those are the successful.
52  And whoever obeys Allah and His Messenger and fears Allah and is conscious of Him – it is those who are the attainers.
53  And they swear by Allah their strongest oaths that if you ordered them, they would go forth [in Allah ‘s cause]. Say, “Do not swear. [Such] obedience is known. Indeed, Allah is Acquainted with that which you do.”
54  Say, “Obey Allah and obey the Messenger; but if you turn away – then upon him is only that [duty] with which he has been charged, and upon you is that with which you have been charged. And if you obey him, you will be [rightly] guided. And there is not upon the Messenger except the [responsibility for] clear notification.”
55  Allah has promised those who have believed among you and done righteous deeds that He will surely grant them succession [to authority] upon the earth just as He granted it to those before them and that He will surely establish for them [therein] their religion which He has preferred for them and that He will surely substitute for them, after their fear, security, [for] they worship Me, not associating anything with Me. But whoever disbelieves after that – then those are the defiantly disobedient.
56  And establish prayer and give zakah and obey the Messenger – that you may receive mercy.
57  Never think that the disbelievers are causing failure [to Allah] upon the earth. Their refuge will be the Fire – and how wretched the destination.
58  O you who have believed, let those whom your right hands possess and those who have not [yet] reached puberty among you ask permission of you [before entering] at three times: before the dawn prayer and when you put aside your clothing [for rest] at noon and after the night prayer. [These are] three times of privacy for you. There is no blame upon you nor upon them beyond these [periods], for they continually circulate among you – some of you, among others. Thus does Allah make clear to you the verses; and Allah is Knowing and Wise.
59  And when the children among you reach puberty, let them ask permission [at all times] as those before them have done. Thus does Allah make clear to you His verses; and Allah is Knowing and Wise.
60  And women of post-menstrual age who have no desire for marriage – there is no blame upon them for putting aside their outer garments [but] not displaying adornment. But to modestly refrain [from that] is better for them. And Allah is Hearing and Knowing.
61  There is not upon the blind [any] constraint nor upon the lame constraint nor upon the ill constraint nor upon yourselves when you eat from your [own] houses or the houses of your fathers or the houses of your mothers or the houses of your brothers or the houses of your sisters or the houses of your father’s brothers or the houses of your father’s sisters or the houses of your mother’s brothers or the houses of your mother’s sisters or [from houses] whose keys you possess or [from the house] of your friend. There is no blame upon you whether you eat together or separately. But when you enter houses, give greetings of peace upon each other – a greeting from Allah, blessed and good. Thus does Allah make clear to you the verses [of ordinance] that you may understand.
62  The believers are only those who believe in Allah and His Messenger and, when they are [meeting] with him for a matter of common interest, do not depart until they have asked his permission. Indeed, those who ask your permission, [O Muhammad] – those are the ones who believe in Allah and His Messenger. So when they ask your permission for something of their affairs, then give permission to whom you will among them and ask forgiveness for them of Allah. Indeed, Allah is Forgiving and Merciful.
63  Do not make [your] calling of the Messenger among yourselves as the call of one of you to another. Already Allah knows those of you who slip away, concealed by others. So let those beware who dissent from the Prophet’s order, lest fitnah strike them or a painful punishment.
64  Unquestionably, to Allah belongs whatever is in the heavens and earth. Already He knows that upon which you [stand] and [knows] the Day when they will be returned to Him and He will inform them of what they have done. And Allah is Knowing of all things.

奉至仁至慈的真主之名

1  (这是)一章经,我降示它,并以它为定制,且在其中降示许多明显的迹象,以便你们记忆。
2  淫妇和奸夫,你们应当各打一百鞭。 你们不要为怜悯他俩而减免真主的刑罚,如果你们确信真主和末日。叫一伙信士,监视他俩的受刑。
3  奸夫只得娶淫妇,或娶多神教徒;淫妇只得嫁奸夫,或嫁多神教徒,信道者不得娶她。
4  凡告发贞节的妇女,而不能举出四个男子为见证者, 你们应当把每个人打八十鞭,并且永远不可接受他们的见证。这等人是罪人。
5  以后悔过自新者除外,因为真主确是至赦的,确是至慈的。
6  凡告发自己的妻子,除本人外别无见证,他的证据是指真主发誓四次,证明他确是说实话的,
7  第五次是说:他甘受真主的诅咒,如果他说谎言。
8  她要避免刑罚,必须指真主发誓四次,证明他确是说谎言的,
9  第五次是说:她甘受天谴,如果他是说实话的。
10  假若无真主所赐你们的恩惠和仁慈,如果真主不是至赦的,不是至睿的,……
11  造谣者确是你们中的一伙人。你们不要以为这件事对于你们是有害的, 其实是有益的。他们中的每个人,各应当受他所谋求的罪恶;他们中的罪魁,应受重大的刑罚。
12  当你们听见谣言的时候,信士和信女对自己的教胞, 为何不作善意的猜想,并且说:这是明显的谣言呢?
13  他们为何不举出四个见证来证明这件事呢?他们没有举出四个见证,所以在真主看来他们是说谎的。
14  若无真主在今世和后世所赐你们的恩惠和仁慈, 你们必因诽谤而遭受重大的刑罚。
15  当时,你们道听而途说,无知而妄言,你们以为这是一件小事;在真主看来,确是一件大事。
16  当你们听见谎言的时候,你们为何不说:我们不该说这种话,赞颂真主, 超绝万物!这是重大的诬蔑。
17  真主劝告你们永远不要再说这样的话,如果你们是信士。
18  真主为你们阐明一切迹象。真主是全知,是至睿的。
19  凡爱在信士之间传播丑事的人,在今世和后世,必受痛苦的刑罚。真主知道,你们却不知道。
20  若无真主所赐你们的恩惠和仁慈,如果真主不是仁爱的,不是至慈的,(他早就惩罚你们了)。
21  信士们啊!你们不要追随恶魔的步伐。谁追随恶魔的步伐, 恶魔必命令谁干丑事和犯罪行。若非真主所赐你们的恩惠和仁慈, 主永远不使你们的任何人清白。但真主使他所意欲者清白。真主是全聪的,是全知的。
22  你们中有恩惠和财富者不可发誓(说):永不周济亲戚、贫民及为主道而迁居者。他们应当恕饶,应当原谅。难道你们不愿真主赦宥你们吗? 真主是至赦的,是至慈的。
23  凡告发贞节的而且天真烂漫的信女的人,在今世和后世,必遭诅咒,他们将受重大的刑罚。
24  在那日,他们的舌头和手足都要反证他们之所为。
25  在那日,真主要使他们享受他们所应得的完全的报应, 他们要知道真主才是真实的,才是显著的。
26  恶劣的妇女,专配恶劣的男人;恶劣的男人,专配恶劣的妇女;善良的妇女,专配善良的男人;善良的男人,专配善良的妇女;这等人与恶人所说的全不相干,他们将蒙赦宥,并享优厚的给养。
27  信道的人们啊!你们不要进他人的家去,直到你们请求许可, 并向主人祝安。这对于你们是更高尚的,(真主这样指导你们),以便你们能记取教诲。
28  如果你们发现别人家里没有人,你们就不要进去,直到你们获得许可。 如果有人对你们说:请转回去!你们就应当立即转回去,这对于你们是更纯洁的。真主是全知你们的行为的。
29  如果房屋内没有私家居住,而其中有你们自己的财物,你们无妨进去。 真主知道你们所表现的,和你们所隐藏的。
30  你对信士们说,叫他们降低视线,遮蔽下身,这对于他们是更纯洁的。真主确是彻知他们的行为的。
31  你对信女们说,叫她们降低视线,遮蔽下身,莫露出首饰, 除非自然露出的,叫她们用面纱遮住胸膛,末露出首饰,除非对她们的丈夫,或她们的父亲,或她们的丈夫的父亲,或她们的儿子,或她们的丈夫的儿子,或她们的兄弟,或她们弟兄的儿子,或她们姐妹的儿子,或她们的女仆,或她们的奴婢,或无性欲的男仆,或不懂妇女之事的儿童; 叫她们不要用力踏足,使人得知她们所隐藏的首饰。信士们啊!你们应全体向真主悔罪,以便你们成功。
32  你们中未婚的男女和你们的善良的奴婢,你们应当使他们互相配合。 如果他们是贫穷的,那末,真主要以他的恩惠,使他们富足。真主是富裕的,是全知。
33  不能娶妻者,叫他们极力保持贞操,直到真主以他的恩惠而使他们富足。你们的奴婢中要求订约赎身者,如果你们知道他们是忠实的,你们就应当与他们订约,并且把真主赐予你们的财产的一部分给他们。如果你们的婢女,要保守贞操, 你们就不要为了今世生活的浮利而强迫她们卖淫。如果有人强迫她们,那末,在被迫之后,真主确是至赦的,确是至慈的。
34  我确已把许多明白的迹象和在你们之前逝去者的先例, 以及对于敬畏者的教训,降示你们。
35  真主是天地的光明,他的光明象一座灯台,那座灯台上有一盏明灯,那盏明灯在一个玻璃罩里,那个玻璃罩仿佛一颗灿烂的明星, 用吉祥的橄榄油燃着那盏明灯;它不是东方的,也不是西方的,它的油, 即使没有点火也几乎发光–光上加光–真主引导他所意欲者走向他的光明。真主为众人设了许多比喻,真主是全知万事的。
36  有些寺院,真主允许建立之,并允许在其中颂扬他的真名。 在那里朝夕赞颂真主超绝万物的,
37  是若干男子。商业不能使他们疏忽而不记念真主、谨守拜功和完纳天课, 他们畏惧那心乱眼花的日子。
38  以便真主以他们的行为的善报赏赐他们,并以他的恩惠加赐他们。真主无量地供给他所意欲者。
39  不信道者的善功恰如沙漠里的蜃景,口渴者以为那里有水, 等到他来到有蜃景的地方时,没有发现什么,却发现真主在那里。 真主就把他的帐目完全交给他,真主是清算神速的。
40  或如重重黑暗,笼罩着汪洋大海,波涛澎湃,上有黑云,黑暗重重叠叠,观者伸出手来时,几乎不见五指。真主没有给谁光明,谁就绝无光明。
41  难道你不知道吗?凡是在天地间的人物和展翅的群鸟,都赞颂真主超绝的。 他的确知道各物的祈祷和赞颂,真主是全知他们的行为的。
42  天地的主权,只是真主的,真主是唯一的归宿。
43  难道你不知道吗?真主使云缓缓移动,而加以配合,然后把它堆积起来。你就看见雨从云间降下。他从天空中,从山岳般的云内,降下冰雹, 用来折磨他所意欲者,而免除他所意欲者。电光闪闪,几乎夺取目光。
44  真主使昼夜更迭,对于有视力者,此中确有一种鉴戒。
45  真主用水创造一切动物,其中有用腹部行走的,有用两足行走的, 有用四足行走的。真主创造他所意欲者,真主对于万事是全能的。
46  我确已降示许多明白的迹象,真主指导他所意欲者走向正路。
47  他们说:我们已信仰真主和使者,我们已顺从了。此后,他们中有一伙人违背正道;这等人绝不是信士。
48  当他们被召归于真主及其使者,以便他为他们而判决的时候,他们中的一伙人,忽然规避。
49  如果他们有理,他们就贴服地忙来见他。
50  他们心中有病呢?还是他们怀疑呢?还是他们恐怕真主及其使者对他们不公呢?不然!这等人正是不义的。
51  当信士被召归于真主及其使者以便他替他们判决的时候,他们只应当说:我们已听从了。这等人确是成功的。
52  凡顺从真主和使者而且敬畏真主者,确是成功的。
53  他们指真主而发出最热诚的誓言说:如果你命他们出征,他们必定出征。你说:你们不要发誓。合理的服从是更好的。真主确是彻知你们的行为的。
54  你说:你们应当服从真主,应当服从使者。如果你们违背命令,那末, 他只负他的责任,你们只负你们的责任。如果你们服从他,你们就遵循正道。使者只负明白的传达的责任。
55  真主应许你们中信道而且行善者(说):他必使他们代他治理大地, 正如他使在他们之前逝去者代他治理大地一样;他必为他们而巩固他所为他们嘉纳的宗教;他必以真主代替他们的恐怖。他们崇拜我而不以任何物配我。此后,凡不信道的,都是罪人。
56  你们应当谨守拜功,完纳天课,服从使者,以便你们蒙主的怜悯。
57  不信道者,你绝不要以为他们在大地上是能逃避天谴的,他们的归宿是火狱,那归宿真恶劣!
58  信士们啊!教你们的奴婢和你们中尚未成丁的儿童,三次向你们请示,晨礼之前,正午脱衣之时,宵礼之后,这是你们的三个不防备的时候。除此以外, 你们和他们无妨随便往来。真主这样为你们阐明一些迹象。真主是全知的,是至睿的。
59  当你们的孩子成丁的时候,教他们象在他们之前成丁者一样, 随时向你们请求接见。真主这样为你们阐明他的迹象。真主是全知的,是至睿的。
60  不希望结婚的老妇,脱去外衣,而不露出首饰,这对于她们是无罪过的。自己检点,对她们是更好的。真主是全聪的,是全知的。
61  与人同席,对于盲人是无罪过的,对于瘸子是无罪过的, 对于病人也是无罪过的。无论在你自己的家里,或在你们父亲的家里,或在你们母亲的家里,或在你们弟兄的家里,或在你们姐妹的家里,或在你们的叔伯的家里, 或在你们的姑母的家里,或在你们舅父的家里,或在你们姨母的家里,或在有你们管理钥匙者的家里,或在你们朋友的家里,你们饮食,对于你们是无罪的。你们聚餐或分食,对于你们都是无罪的。你们进家的时候,你们当对自己祝安–真主所制定的、吉祥而优美的祝词。真主这样为你们阐明一切迹象, 以便你们了解。
62  信士只是信仰真主及其使者的人。 当他们为任何要事而与使者集会的时候,他们不退席,直到他们向他请求允许。向你请示者,确是信仰真主及其使者的。当他们因私事而向你请示的时候,你可以允许你所意欲者, 你当为他们向真主求饶。真主确是至赦的,确是至慈的。
63  你们不要把使者对于你们的召唤当作你们相互间的召唤。真主确是认识你们中溜走者。违抗他的命令者,叫他们谨防祸患降临他们,或痛苦的刑罚降临他们!
64  真的,天地万物,确是真主的。他确已知道你们的实情。 当他们被召到主那里之日,他要把他们的行为告诉他们。真主是全知万事的。

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  He aquí una sura que hemos revelado e impuesto. En ella hemos revelado aleyas claras. Quizás, así, os dejéis amonestar.
2  Flagelad a la fornicadora y al fornicador con cien azotes cada uno. Por respeto a la ley de Alá, no uséis de mansedumbre con ellos, si es que créeis en Alá y en el último Día. Y que un grupo de creyentes sea testigo de su castigo.
3  El fornicador no podrá casarse más que con una fornicadora o con una asociadora. La fornicadora no podrá casarse más que con un fornicador o con un asociador. Eso les está prohibido a los creyentes.
4  A quienes difamen a las mujeres honestas sin poder presentar cuatro testigos, flageladles con ochenta azotes y nunca más aceptéis su testimonio. Ésos son los perversos.
5  Se exceptúan aquéllos que, después, se arrepientan y se enmienden. Alá es indulgente, misericordioso.
6  Quienes difamen a sus propias esposas sin poder presentar a más testigos que a sí mismos, deberán testificar jurando por Alá cuatro veces que dicen la verdad,
7  e imprecando una quinta la maldición de Alá sobre sí si mintieran.
8  Pero se verá libre del castigo la mujer que atestigüe jurando por Alá cuatro veces que él miente,
9  e imprecando una quinta la ira de Alá sobre sí si él dijera la verdad.
10  Si no llega a ser por el favor de Alá y Su misericordia para con vosotros y porque Alá es indulgente, sabio…
11  Los mentirosos forman un grupo entre vosotros. No creáis que se resolverá en mal para vosotros, antes, al contrario, en bien. Todo aquél que peque recibirá conforme a su pecado; pero el que se cargue con más culpa tendrá un castigo terrible.
12  Cuando los creyentes y las creyentes lo han oído, ¿por qué no han pensado bien en sus adentros y dicho: «¡Es una mentira manifiesta!»?
13  ¿Por qué no han presentado cuatro testigos? Como no han presentado testigos, para Alá que mienten.
14  Si no llega a ser por el favor de Alá y Su misericordia para con vosotros en la vida de acá y en la otra, habríais sufrido un castigo terrible por vuestras habladurías.
15  Cuando las habéis recibido en vuestras lenguas, y vuestras bocas han dicho algo de que no teníais ningún conocimiento, creyendo que era cosa de poca monta, siendo así que para Alá era grave.
16  Cuando lo habéis oído, ¿por qué no habéis dicho: «¡No tenemos que hablar de eso! ¡Gloria a Ti! ¡Es una calumnia enorme!»?
17  Alá os exhorta, si sois creyentes, a que nunca reincidáis.
18  Alá os aclara las aleyas. Alá es omnisciente, sabio.
19  Quienes deseen que se extienda la torpeza entre los creyentes, tendrán un castigo doloroso en la vida de acá y en la otra. Alá sabe, mientras que vosotros no sabéis.
20  Si no llega a ser por el favor de Alá y Su misericordia para con vosotros y porque Alá es manso, misericordioso…
21  ¡Creyentes! ¡No sigáis las pisadas del Demonio! A quien sigue las pisadas del Demonio, éste le ordena lo deshonesto y lo reprobable. Si no fuera por el favor de Alá y Su misericordia para con vosotros, ninguno de vosotros sería puro jamás. Pero Alá purifica a quien Él quiere. Alá todo lo oye, todo lo sabe.
22  Quienes de vosotros gocen del favor y de una vida acomodada, que no juren que no darán más a los parientes, a los pobres y a los que han emigrado por Alá. Que perdonen y se muestren indulgentes. ¿Es que no queréis que Alá os perdone? Alá es indulgente, misericordioso.
23  Malditos sean en la vida de acá y en la otra quienes difamen a las mujeres honestas, incautas pero creyentes. Tendrán un castigo terrible
24  el día que sus lenguas, manos y pies atestigüen contra ellos por las obras que cometieron.
25  Ese día, Alá les retribuirá en su justa medida y sabrán que Alá es la Verdad manifiesta.
26  Las mujeres malas para los hombres malos, los hombres malos para las mujeres malas. Las mujeres buenas para los hombres buenos, los hombres buenos para las mujeres buenas. Estos son inocentes de lo que se les acusa. Obtendrán perdón y generoso sustento.
27  ¡Creyentes! No entréis en casa ajena sin daros a conocer y saludar a sus moradores. Es mejor para vosotros. Quizás, así, os amonestar.
28  Si no encontráis en ella a nadie, no entréis sin que se os dé permiso. Si se os dice que os vayáis, ¡idos! Es más correcto. Alá sabe bien lo que hacéis.
29  No hacéis mal si entráis en casa deshabitada que contenga algo que os pertenece. Alá sabe lo que manifestáis y lo que ocultáis.
30  Di a los creyentes que bajen la vista con recato y que sean castos. Es más correcto. Alá está bien informado de lo que hacen.
31  Y di a las creyentes que bajen la vista con recato, que sean castas y no muestren más adorno que los que están a la vista, que cubran su escote con el velo y no exhiban sus adornos sino a sus esposos, a sus padres, a sus suegros, a sus propios hijos, a sus hijastros, a sus hermanos, a sus sobrinos carnales, a sus mujeres, a sus esclavas, a sus criados varones fríos, a los niños que no saben aún de las partes femeninas. Que no batan ellas con sus pies de modo que se descubran sus adornos ocultos. ¡Volvéos todos a Alá, creyentes! Quizás, así, prosperéis.
32  Casad a aquéllos de vosotros que no estén casados y a vuestros esclavos y esclavas honestos. Si son pobres, Alá les enriquecerá con Su favor. Alá es inmenso, omnisciente.
33  Que los que no puedan casarse observen la continencia hasta que Alá les enriquezca con Su favor. Extended la escritura a los esclavos que lo deseen si reconocéis en ellos bien, y dadles de la hacienda que Alá os ha concedido. Si vuestras esclavas prefieren vivir castamente, no les obliguéis a prostituirse para procuraros los bienes de la vida de acá. Si alguien les obliga, luego de haber sido obligadas Alá se mostrará indulgente, misericordioso.
34  Os hemos revelado aleyas aclaratorias, un ejemplo sacado de vuestros antecesores y una exhortación para los temerosos de Alá.
35  Alá es la Luz de los cielos y de la tierra. Su Luz es comparable a una hornacina en la que hay un pabilo encendido. El pabilo está en un recipiente de vidrio, que es como si fuera una estrella fulgurante. Se enciende de un árbol bendito, un olivo, que no es del Oriente ni del Occidente, y cuyo aceite casi alumbra aun sin haber sido tocado por el fuego. ¡Luz sobre Luz! Alá dirige a Su Luz a quien Él quiere. Alá propone parábolas a los hombres. Alá es omnisciente.
36  En casas que Alá ha permitido erigir y que se mencione en ellas Su nombre. En ellas Le glorifican, mañana y tarde,
37  hombres a quienes ni los negocios ni el comercio les distraen del recuerdo de Alá, de hacer la azalá y de dar el azaque. Temen un día en que los corazones y las miradas sean puestos del revés.
38  Para que Alá les retribuya por sus mejores obras y les dé más de Su favor. Alá provee sin medida a quien Él quiere.
39  Las obras de los infieles son como espejismo en una llanura: el muy sediento cree que es agua, hasta que, llegado allá, no encuentra nada. Sí encontrará, en cambio, a Alá junto a sí y Él le saldará su cuenta. Alá es rápido en ajustar cuentas.
40  O como tinieblas en un mar profundo, cubierto de olas, unas sobre otras, con nubes por encima, tinieblas sobre tinieblas. Si se saca la mano, apenas se la distingue. No dispone de luz ninguna aquél a quien Alá se la niega.
41  ¿No ves que glorifican a Alá quienes están en los cielos y en la tierra, y las aves con las alas desplegadas? Cada uno sabe cómo orar y cómo glorificarle. Alá sabe bien lo que hacen.
42  El dominio de los cielos y de la tierra pertenece a Alá. ¡Es Alá el fin de todo!
43  ¿No ves que Alá empuja las nubes y las agrupa y, luego, forma nubarrones? Ves, entonces, que el chaparrón sale de ellos. Hace bajar del cielo montañas de granizo y hiere o no con él según que quiera o no quiera. El resplandor del relámpago que acompaña deja casi sin vista.
44  Alá hace que se sucedan la noche y el día. Sí, hay en ello motivo de reflexión para los que tienen ojos.
45  Alá ha creado a todos los animales de agua: de ellos unos se arrastran, otros caminan a dos patas, otros a cuatro. Alá crea lo que quiere. Alá es omnipotente.
46  Hemos revelado aleyas aclaratorias. Alá dirige a quien Él quiere a una vía recta.
47  Y dicen: «¡Creemos en Alá y en el Enviado y obedecemos!» Pero luego, después de eso, algunos de ellos vuelven la espalda. Esos tales no son creyentes.
48  Cuando se les llama ante Alá y su Enviado para que decida entre ellos, he aquí que algunos se van.
49  Cuando les asiste la razón, vienen a él sumisos.
50  ¡,Tienen, acaso, el corazón enfermo? ¿Dudan? ¡Temen, acaso, que Alá y Su Enviado sean injustos con ellos? Antes bien, ellos son los injustos.
51  Cuando se llama a los creyentes ante Alá y Su Enviado para que decida entre ellos, se contentan con decir: «¡Oímos y obedecemos!» Ésos son los que prosperarán.
52  Quienes obedecen a Alá y a Su Enviado, tienen miedo de Alá y Le temen, ésos son los que triunfarán.
53  Han jurado solemnemente por Alá que si tú se lo ordenaras, sí que saldrían a campaña. Di: «¡No juréis! Una obediencia como se debe. Alá está bien informado de lo que hacéis».
54  Di: «¡Obedeced a Alá y obedeced al Enviado!» Si volvéis la espalda… Él es responsable de lo que se le ha encargado y vosotros de lo que se os ha encargado. Si le obedecéis, seguís la buena dirección. Al Enviado no le incumbe más que la transmisión clara.
55  A quienes de vosotros crean y obren bien, Alá les ha prometido que ha de hacerles sucesores en la tierra, como ya había hecho con sus antecesores. Y que ha de consolidar la religión que le plugo profesaran. Y que ha de trocar su temor en seguridad. Me servirán sin asociarme nada. Quienes, después de esto, no crean, ésos son los perversos.
56  ¡Haced la azalá, dad el azaque y obedeced al Enviado! Quizás, así, se os tenga piedad.
57  No creas, no, que los infieles puedan escapar en la tierra. Su morada será el Fuego. ¡Qué mal fin…!
58  ¡Creyentes! Los esclavos y los impúberes, en tres ocasiones, deben pediros permiso: antes de levantaros, cuando os quitáis la ropa al mediodía y después de acostaros. Son para vosotros tres momentos íntimos. Fuera de ellos, no hacéis mal, ni ellos tampoco, si vais de unos a otros, de acá para allá. Así os aclara Alá las aleyas. Alá es omnisciente, sabio.
59  Cuando vuestros niños alcancen la pubertad, deberán pedir permiso, como hicieron quienes les precedieron. Así os aclara Alá Sus aleyas. Alá es omnisciente, sabio.
60  Las mujeres que han alcanzado la edad crítica y no cuentan ya con casarse, no hacen mal si se quitan la ropa, siempre que no exhiban sus adornos. Pero es mejor para ellas si se abstienen. Alá todo lo oye, todo lo sabe.
61  El ciego, el cojo, el enfermo, vosotros mismos, no tengáis escrúpulos en comer en vuestras casas o en casa de vuestros padres o de vuestras madres, en casa de vuestros hermanos o de vuestras hermanas, en casa de vuestros tíos paternos o de vuestras tías paternas, en casa de vuestros tíos maternos o de vuestras tías maternas, en casa cuyas llaves poseéis o en casa de un amigo. No tengáis escrúpulos en comer juntos o por separado. Y, cuando entréis en una casa, saludaos unos a otros empleando una fórmula venida de Alá, bendita buena, Así os aclara Alá las aleyas. Quizás, así, comprendáis.
62  Los creyentes son, en verdad, quienes creen en Alá y en su Enviado. Cuando están con éste por un asunto de interés común, no se retiran sin pedirle permiso. Quienes te piden ese permiso son los que de verdad creen en Alá y en Su Enviado. Si te piden permiso por algún asunto suyo, concédeselo a quien de ellos quieras y pide a Alá que les perdone. Alá es indulgente, misericordioso.
63  No equiparéis entre vosotros el llamamiento del Enviado a un llamamiento que podáis dirigiros unos a otros. Alá sabe quiénes de vosotros se escabullen a escondidas. ¡Que tengan cuidado los que se hurtan a Su orden, no sea que les aflija una prueba o que les aflija un castigo doloroso!
64  ¿No es de Alá lo que está en los cielos y en la tierra? Él conoce vuestra situación. Y el día que sean devueltos a Él, ya les informará de lo que hicieron. Alá es omnisciente.