Project Description

AZ ZUKHRUF

 شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  حٰم
۲  کتاب روشن کی قسم
۳  کہ ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے تاکہ تم سمجھو
۴  اور یہ بڑی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہمارے پاس (لکھی ہوئی اور) بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے
۵  بھلا اس لئے کہ تم حد سے نکلے ہوئے لوگ ہو ہم تم کو نصیحت کرنے سے باز رہیں گے
۶  اور ہم نے پہلے لوگوں میں بھی بہت سے پیغمبر بھیجے تھے
۷  اور کوئی پیغمبر ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کرتے تھے
۸  تو جو ان میں سخت زور والے تھے ان کو ہم نے ہلاک کردیا اور اگلے لوگوں کی حالت گزر گئی
۹  اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ ان کو غالب اور علم والے (خدا) نے پیدا کیا ہے
۱۰  جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔ اور اس میں تمہارے لئے رستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو
۱۱  اور جس نے ایک اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا۔ پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کیا۔ اسی طرح تم زمین سے نکالے جاؤ گے
۱۲  اور جس نے تمام قسم کے حیوانات پیدا کئے اور تمہارے لئے کشتیاں اور چارپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو
۱۳  تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو اور جب اس پر بیٹھ جاؤ پھر اپنے پروردگار کے احسان کو یاد کرو اور کہو کہ وہ (ذات) پاک ہے جس نے اس کو ہمارے زیر فرمان کر دیا اور ہم میں طاقت نہ تھی کہ اس کو بس میں کرلیتے
۱۴  اور ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
۱۵  اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کے لئے اولاد مقرر کی۔ بےشک انسان صریح ناشکرا ہے
۱۶  کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دیئے
۱۷  حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے جو انہوں نے خدا کے لئے بیان کی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا اور وہ غم سے بھر جاتا ہے
۱۸  کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کرسکے (خدا کی) بیٹی ہوسکتی ہے؟
۱۹  اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی خدا کے بندے ہیں (خدا کی) بیٹیاں مقرر کیا۔ کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے عنقریب ان کی شہادت لکھ لی جائے گی اور ان سے بازپرس کی جائے گی
۲۰  اور کہتے ہیں اگر خدا چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے۔ ان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں
۲۱  یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس سے سند پکڑتے ہیں
۲۲  بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک رستے پر پایا ہے اور ہم انہی کے قدم بقدم چل رہے ہیں
۲۳  اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا اور ہم قدم بقدم ان ہی کے پیچھے چلتے ہیں
۲۴  پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا (دین) لاؤں کہ جس رستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا وہ اس سے کہیں سیدھا رستہ دکھاتا ہے کہنے لگے کہ جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے
۲۵  تو ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا
۲۶  اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان سے بیزار ہوں
۲۷  ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھے سیدھا رستہ دکھائے گا
۲۸  اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ (خدا کی طرف) رجوع کریں
۲۹  بات یہ ہے کہ میں ان کفار کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتا رہا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آ پہنچا
۳۰  اور جب ان کے پاس حق (یعنی قرآن) آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے
۳۱  اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں (یعنی مکّے اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟
۳۲  کیا یہ لوگ تمہارے پروردگار کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمہارے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے
۳۳  اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں گے تو جو لوگ خدا سے انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ چڑھتے ہیں
۳۴  اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ہیں
۳۵  اور (خوب) تجمل وآرائش (کردیتے) اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے۔ اور آخرت تمہارے پروردگار کے ہاں پرہیزگاروں کے لئے ہے
۳۶  اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرکے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے
۳۷  اور یہ (شیطان) ان کو رستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھے رستے پر ہیں
۳۸  یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا کہ اے کاش مجھ میں اور تجھ میں مشرق ومغرب کا فاصلہ ہوتا تو برا ساتھی ہے
۳۹  اور جب تم ظلم کرتے رہے تو آج تمہیں یہ بات فائدہ نہیں دے سکتی کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو
۴۰  کیا تم بہرے کو سنا سکتے ہو یا اندھے کو رستہ دکھا سکتے ہو اور جو صریح گمراہی میں ہو (اسے راہ پر لاسکتے ہو)
۴۱  اگر ہم تم کو (وفات دے کر) اٹھا لیں تو ان لوگوں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے
۴۲  یا (تمہاری زندگی ہی میں) تمہیں وہ (عذاب) دکھا دیں گے جن کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ہم ان پر قابو رکھتے ہیں
۴۳  پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اس کو مضبوط پکڑے رہو۔ بےشک تم سیدھے رستے پر ہو
۴۴  اور یہ (قرآن) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور (لوگو) تم سے عنقریب پرسش ہوگی
۴۵  اور (اے محمدﷺ) جو اپنے پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ہیں ان سے دریافت کرلو۔ کیا ہم نے (خدائے) رحمٰن کے سوا اور معبود بنائے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے
۴۶  اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا کہ میں پروردگار عالم کا بھیجا ہوا ہوں
۴۷  جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے ہنسی کرنے لگے
۴۸  اور جو نشانی ہم ان کو دکھاتے تھے وہ دوسری سے بڑی ہوتی تھی اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تاکہ باز آئیں
۴۹  اور کہنے لگے کہ اے جادوگر اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بےشک ہم ہدایت یاب ہو جائیں گے
۵۰  سو جب ہم نے ان سے عذاب کو دور کردیا تو وہ عہد شکنی کرنے لگے
۵۱  اور فرعون نے اپنی قوم سے پکار کر کہا کہ اے قوم کیا مصر کی حکومت میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اور یہ نہریں جو میرے (محلوں کے) نیچے بہہ رہی ہیں (میری نہیں ہیں) کیا تم دیکھتے نہیں
۵۲  بےشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا کہیں بہتر ہوں
۵۳  تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اُتارے گئے یا (یہ ہوتا کہ) فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتے
۵۴  غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی۔ اور انہوں نے اس کی بات مان لی۔ بےشک وہ نافرمان لوگ تھے
۵۵  جب انہوں نے ہم کو خفا کیا تو ہم نے ان سے انتقام لے کر اور ان سب کو ڈبو کر چھوڑا
۵۶  اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لئے عبرت بنا دیا
۵۷  اور جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ) کا حال بیان کیا گیا تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے چِلا اُٹھے
۵۸  اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا عیسیٰ؟ انہوں نے عیسیٰ کی جو مثال بیان کی ہے تو صرف جھگڑنے کو۔ حقیقت یہ ہے یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو
۵۹  وہ تو ہمارے ایسے بندے تھے جن پر ہم نے فضل کیا اور بنی اسرائیل کے لئے ان کو (اپنی قدرت کا) نمونہ بنا دیا
۶۰  اور اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتے بنا دیتے جو تمہاری جگہ زمین میں رہتے
۶۱  اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔ تو (کہہ دو کہ لوگو) اس میں شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو۔ یہی سیدھا رستہ ہے
۶۲  اور (کہیں) شیطان تم کو (اس سے) روک نہ دے۔ وہ تو تمہارا اعلاینہ دشمن ہے
۶۳  اور جب عیسیٰ نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ میں تمہارے پاس دانائی (کی کتاب) لے کر آیا ہوں۔ نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو تم کو سمجھا دوں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو
۶۴  کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے
۶۵  پھر کتنے فرقے ان میں سے پھٹ گئے۔ سو جو لوگ ظالم ہیں ان کی درد دینے والے دن کے عذاب سے خرابی ہے
۶۶  یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت ان پر ناگہاں آموجود ہو اور ان کو خبر تک نہ ہو
۶۷  (جو آپس میں) دوست (ہیں) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ مگر پرہیزگار (کہ باہم دوست ہی رہیں گے)
۶۸  میرے بندو آج تمہیں نہ کچھ خوف ہے اور نہ تم غمناک ہوگے
۶۹  جو لوگ ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور فرمانبردار ہوگئے
۷۰  (ان سے کہا جائے گا) کہ تم اور تمہاری بیویاں عزت (واحترام) کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاؤ
۷۱  ان پر سونے کی پرچوں اور پیالوں کا دور چلے گا۔ اور وہاں جو جی چاہے اور جو آنکھوں کو اچھا لگے (موجود ہوگا) اور (اے اہل جنت) تم اس میں ہمیشہ رہو گے
۷۲  اور یہ جنت جس کے تم مالک کر دیئے گئے ہو تمہارے اعمال کا صلہ ہے
۷۳  وہاں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں جن کو تم کھاؤ گے
۷۴  (اور کفار) گنہگار ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں رہیں گے
۷۵  جو ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں نامید ہو کر پڑے رہیں گے
۷۶  اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہی (اپنے آپ پر) ظلم کرتے تھے
۷۷  اور پکاریں گے کہ اے مالک تمہارا پروردگار ہمیں موت دے دے۔ وہ کہے گا کہ تم ہمیشہ (اسی حالت میں) رہو گے
۷۸  ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن تم اکثر حق سے ناخوش ہوتے رہے
۷۹  کیا انہوں نے کوئی بات ٹھہرا رکھی ہے تو ہم بھی کچھ ٹھہرانے والے ہیں
۸۰  کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو سنتے نہیں؟ ہاں ہاں (سب سنتے ہیں) اور ہمارے فرشتے ان کے پاس (ان کی سب باتیں) لکھ لیتے ہیں
۸۱  کہہ دو کہ اگر خدا کے اولاد ہو تو میں (سب سے) پہلے (اس کی) عبادت کرنے والا ہوں
۸۲  یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کا مالک (اور) عرش کا مالک اس سے پاک ہے
۸۳  تو ان کو بک بک کرنے اور کھیلنے دو۔ یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کو دیکھ لیں
۸۴  اور وہی (ایک) آسمانوں میں معبود ہے اور (وہی) زمین میں معبود ہے۔ اور وہ دانا (اور) علم والا ہے
۸۵  اور وہ بہت بابرکت ہے جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کی بادشاہت ہے۔ اور اسی کو قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے
۸۶  اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ سفارش کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں جو علم ویقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں (وہ سفارش کرسکتے ہیں)
۸۷  اور اگر تم ان سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ خدا نے۔ تو پھر یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟
۸۸  اور (بسااوقات) پیغمبر کہا کرتے ہیں کہ اے پروردگار یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے
۸۹  تو ان سے منہ پھیر لو اور سلام کہہ دو۔ ان کو عنقریب (انجام) معلوم ہوجائے گا

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  حم
٢  وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ
٣  إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
٤  وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ
٥  أَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا أَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُسْرِفِينَ
٦  وَكَمْ أَرْسَلْنَا مِنْ نَبِيٍّ فِي الْأَوَّلِينَ
٧  وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
٨  فَأَهْلَكْنَا أَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَمَضَىٰ مَثَلُ الْأَوَّلِينَ
٩  وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيزُ الْعَلِيمُ
١٠  الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا وَجَعَلَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
١١  وَالَّذِي نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَأَنْشَرْنَا بِهِ بَلْدَةً مَيْتًا ۚ كَذَٰلِكَ تُخْرَجُونَ
١٢  وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ
١٣  لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ
١٤  وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ
١٥  وَجَعَلُوا لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءًا ۚ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَكَفُورٌ مُبِينٌ
١٦  أَمِ اتَّخَذَ مِمَّا يَخْلُقُ بَنَاتٍ وَأَصْفَاكُمْ بِالْبَنِينَ
١٧  وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ
١٨  أَوَمَنْ يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ
١٩  وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَٰنِ إِنَاثًا ۚ أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ ۚ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ
٢٠  وَقَالُوا لَوْ شَاءَ الرَّحْمَٰنُ مَا عَبَدْنَاهُمْ ۗ مَا لَهُمْ بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ
٢١  أَمْ آتَيْنَاهُمْ كِتَابًا مِنْ قَبْلِهِ فَهُمْ بِهِ مُسْتَمْسِكُونَ
٢٢  بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِمْ مُهْتَدُونَ
٢٣  وَكَذَٰلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِمْ مُقْتَدُونَ
٢٤  قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكُمْ بِأَهْدَىٰ مِمَّا وَجَدْتُمْ عَلَيْهِ آبَاءَكُمْ ۖ قَالُوا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُمْ بِهِ كَافِرُونَ
٢٥  فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ ۖ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
٢٦  وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ
٢٧  إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ
٢٨  وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
٢٩  بَلْ مَتَّعْتُ هَٰؤُلَاءِ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ جَاءَهُمُ الْحَقُّ وَرَسُولٌ مُبِينٌ
٣٠  وَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ وَإِنَّا بِهِ كَافِرُونَ
٣١  وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
٣٢  أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا ۗ وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ
٣٣  وَلَوْلَا أَنْ يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً لَجَعَلْنَا لِمَنْ يَكْفُرُ بِالرَّحْمَٰنِ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفًا مِنْ فِضَّةٍ وَمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُونَ
٣٤  وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْوَابًا وَسُرُرًا عَلَيْهَا يَتَّكِئُونَ
٣٥  وَزُخْرُفًا ۚ وَإِنْ كُلُّ ذَٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَالْآخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ
٣٦  وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ
٣٧  وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ
٣٨  حَتَّىٰ إِذَا جَاءَنَا قَالَ يَا لَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِينُ
٣٩  وَلَنْ يَنْفَعَكُمُ الْيَوْمَ إِذْ ظَلَمْتُمْ أَنَّكُمْ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ
٤٠  أَفَأَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ أَوْ تَهْدِي الْعُمْيَ وَمَنْ كَانَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
٤١  فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُمْ مُنْتَقِمُونَ
٤٢  أَوْ نُرِيَنَّكَ الَّذِي وَعَدْنَاهُمْ فَإِنَّا عَلَيْهِمْ مُقْتَدِرُونَ
٤٣  فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
٤٤  وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ
٤٥  وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ
٤٦  وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَقَالَ إِنِّي رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ
٤٧  فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِآيَاتِنَا إِذَا هُمْ مِنْهَا يَضْحَكُونَ
٤٨  وَمَا نُرِيهِمْ مِنْ آيَةٍ إِلَّا هِيَ أَكْبَرُ مِنْ أُخْتِهَا ۖ وَأَخَذْنَاهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
٤٩  وَقَالُوا يَا أَيُّهَ السَّاحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنَا لَمُهْتَدُونَ
٥٠  فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِذَا هُمْ يَنْكُثُونَ
٥١  وَنَادَىٰ فِرْعَوْنُ فِي قَوْمِهِ قَالَ يَا قَوْمِ أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ وَهَٰذِهِ الْأَنْهَارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي ۖ أَفَلَا تُبْصِرُونَ
٥٢  أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِنْ هَٰذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ
٥٣  فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ
٥٤  فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ
٥٥  فَلَمَّا آسَفُونَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ
٥٦  فَجَعَلْنَاهُمْ سَلَفًا وَمَثَلًا لِلْآخِرِينَ
٥٧  وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ
٥٨  وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ ۚ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ
٥٩  إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ
٦٠  وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ
٦١  وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ ۚ هَٰذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ
٦٢  وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ ۖ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ
٦٣  وَلَمَّا جَاءَ عِيسَىٰ بِالْبَيِّنَاتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَلِأُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
٦٤  إِنَّ اللَّهَ هُوَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۚ هَٰذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ
٦٥  فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِنْ بَيْنِهِمْ ۖ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ أَلِيمٍ
٦٦  هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
٦٧  الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ
٦٨  يَا عِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ
٦٩  الَّذِينَ آمَنُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا مُسْلِمِينَ
٧٠  ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُونَ
٧١  يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِصِحَافٍ مِنْ ذَهَبٍ وَأَكْوَابٍ ۖ وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ ۖ وَأَنْتُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
٧٢  وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
٧٣  لَكُمْ فِيهَا فَاكِهَةٌ كَثِيرَةٌ مِنْهَا تَأْكُلُونَ
٧٤  إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي عَذَابِ جَهَنَّمَ خَالِدُونَ
٧٥  لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ
٧٦  وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَٰكِنْ كَانُوا هُمُ الظَّالِمِينَ
٧٧  وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۖ قَالَ إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ
٧٨  لَقَدْ جِئْنَاكُمْ بِالْحَقِّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَارِهُونَ
٧٩  أَمْ أَبْرَمُوا أَمْرًا فَإِنَّا مُبْرِمُونَ
٨٠  أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ ۚ بَلَىٰ وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ
٨١  قُلْ إِنْ كَانَ لِلرَّحْمَٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ
٨٢  سُبْحَانَ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ
٨٣  فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا وَيَلْعَبُوا حَتَّىٰ يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي يُوعَدُونَ
٨٤  وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَٰهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَٰهٌ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ
٨٥  وَتَبَارَكَ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَعِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
٨٦  وَلَا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
٨٧  وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ
٨٨  وَقِيلِهِ يَا رَبِّ إِنَّ هَٰؤُلَاءِ قَوْمٌ لَا يُؤْمِنُونَ
٨٩  فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  Ha, Meem.
2  By the clear Book,
3  Indeed, We have made it an Arabic Qur’an that you might understand.
4  And indeed it is, in the Mother of the Book with Us, exalted and full of wisdom.
5  Then should We turn the message away, disregarding you, because you are a transgressing people?
6  And how many a prophet We sent among the former peoples,
7  But there would not come to them a prophet except that they used to ridicule him.
8  And We destroyed greater than them in [striking] power, and the example of the former peoples has preceded.
9  And if you should ask them, “Who has created the heavens and the earth?” they would surely say, “They were created by the Exalted in Might, the Knowing.”
10  [The one] who has made for you the earth a bed and made for you upon it roads that you might be guided
11  And who sends down rain from the sky in measured amounts, and We revive thereby a dead land – thus will you be brought forth –
12  And who created the species, all of them, and has made for you of ships and animals those which you mount.
13  That you may settle yourselves upon their backs and then remember the favor of your Lord when you have settled upon them and say. “Exalted is He who has subjected this to us, and we could not have [otherwise] subdued it.
14  And indeed we, to our Lord, will [surely] return.”
15  But they have attributed to Him from His servants a portion. Indeed, man is clearly ungrateful.
16  Or has He taken, out of what He has created, daughters and chosen you for [having] sons?
17  And when one of them is given good tidings of that which he attributes to the Most Merciful in comparison, his face becomes dark, and he suppresses grief.
18  So is one brought up in ornaments while being during conflict unevident [attributed to Allah]?
19  And they have made the angels, who are servants of the Most Merciful, females. Did they witness their creation? Their testimony will be recorded, and they will be questioned.
20  And they said, “If the Most Merciful had willed, we would not have worshipped them.” They have of that no knowledge. They are not but falsifying.
21  Or have We given them a book before the Qur’an to which they are adhering?
22  Rather, they say, “Indeed, we found our fathers upon a religion, and we are in their footsteps [rightly] guided.”
23  And similarly, We did not send before you any warner into a city except that its affluent said, “Indeed, we found our fathers upon a religion, and we are, in their footsteps, following.”
24  [Each warner] said, “Even if I brought you better guidance than that [religion] upon which you found your fathers?” They said, “Indeed we, in that with which you were sent, are disbelievers.”
25  So we took retribution from them; then see how was the end of the deniers.
26  And [mention, O Muhammad], when Abraham said to his father and his people, “Indeed, I am disassociated from that which you worship
27  Except for He who created me; and indeed, He will guide me.”
28  And he made it a word remaining among his descendants that they might return [to it].
29  However, I gave enjoyment to these [people of Makkah] and their fathers until there came to them the truth and a clear Messenger.
30  But when the truth came to them, they said, “This is magic, and indeed we are, concerning it, disbelievers.”
31  And they said, “Why was this Qur’an not sent down upon a great man from [one of] the two cities?”
32  Do they distribute the mercy of your Lord? It is We who have apportioned among them their livelihood in the life of this world and have raised some of them above others in degrees [of rank] that they may make use of one another for service. But the mercy of your Lord is better than whatever they accumulate.
33  And if it were not that the people would become one community [of disbelievers], We would have made for those who disbelieve in the Most Merciful – for their houses – ceilings and stairways of silver upon which to mount
34  And for their houses – doors and couches [of silver] upon which to recline
35  And gold ornament. But all that is not but the enjoyment of worldly life. And the Hereafter with your Lord is for the righteous.
36  And whoever is blinded from remembrance of the Most Merciful – We appoint for him a devil, and he is to him a companion.
37  And indeed, the devils avert them from the way [of guidance] while they think that they are [rightly] guided
38  Until, when he comes to Us [at Judgement], he says [to his companion], “Oh, I wish there was between me and you the distance between the east and west – how wretched a companion.”
39  And never will it benefit you that Day, when you have wronged, that you are [all] sharing in the punishment.
40  Then will you make the deaf hear, [O Muhammad], or guide the blind or he who is in clear error?
41  And whether [or not] We take you away [in death], indeed, We will take retribution upon them.
42  Or whether [or not] We show you that which We have promised them, indeed, We are Perfect in Ability.
43  So adhere to that which is revealed to you. Indeed, you are on a straight path.
44  And indeed, it is a remembrance for you and your people, and you [all] are going to be questioned.
45  And ask those We sent before you of Our messengers; have We made besides the Most Merciful deities to be worshipped?
46  And certainly did We send Moses with Our signs to Pharaoh and his establishment, and he said, “Indeed, I am the messenger of the Lord of the worlds.”
47  But when he brought them Our signs, at once they laughed at them.
48  And We showed them not a sign except that it was greater than its sister, and We seized them with affliction that perhaps they might return [to faith].
49  And they said [to Moses], “O magician, invoke for us your Lord by what He has promised you. Indeed, we will be guided.”
50  But when We removed from them the affliction, at once they broke their word.
51  And Pharaoh called out among his people; he said, “O my people, does not the kingdom of Egypt belong to me, and these rivers flowing beneath me; then do you not see?
52  Or am I [not] better than this one who is insignificant and hardly makes himself clear?
53  Then why have there not been placed upon him bracelets of gold or come with him the angels in conjunction?”
54  So he bluffed his people, and they obeyed him. Indeed, they were [themselves] a people defiantly disobedient [of Allah].
55  And when they angered Us, We took retribution from them and drowned them all.
56  And We made them a precedent and an example for the later peoples.
57  And when the son of Mary was presented as an example, immediately your people laughed aloud.
58  And they said, “Are your gods better, or is he?” They did not present the comparison except for [mere] argument. But, [in fact], they are a people prone to dispute.
59  Jesus was not but a servant upon whom We bestowed favor, and We made him an example for the Children of Israel.
60  And if We willed, We could have made [instead] of you angels succeeding [one another] on the earth.
61  And indeed, Jesus will be [a sign for] knowledge of the Hour, so be not in doubt of it, and follow Me. This is a straight path.
62  And never let Satan avert you. Indeed, he is to you a clear enemy.
63  And when Jesus brought clear proofs, he said, “I have come to you with wisdom and to make clear to you some of that over which you differ, so fear Allah and obey me.
64  Indeed, Allah is my Lord and your Lord, so worship Him. This is a straight path.”
65  But the denominations from among them differed [and separated], so woe to those who have wronged from the punishment of a painful Day.
66  Are they waiting except for the Hour to come upon them suddenly while they perceive not?
67  Close friends, that Day, will be enemies to each other, except for the righteous
68  [To whom Allah will say], “O My servants, no fear will there be concerning you this Day, nor will you grieve,
69  [You] who believed in Our verses and were Muslims.
70  Enter Paradise, you and your kinds, delighted.”
71  Circulated among them will be plates and vessels of gold. And therein is whatever the souls desire and [what] delights the eyes, and you will abide therein eternally.
72  And that is Paradise which you are made to inherit for what you used to do.
73  For you therein is much fruit from which you will eat.
74  Indeed, the criminals will be in the punishment of Hell, abiding eternally.
75  It will not be allowed to subside for them, and they, therein, are in despair.
76  And We did not wrong them, but it was they who were the wrongdoers.
77  And they will call, “O Malik, let your Lord put an end to us!” He will say, “Indeed, you will remain.”
78  We had certainly brought you the truth, but most of you, to the truth, were averse.
79  Or have they devised [some] affair? But indeed, We are devising [a plan].
80  Or do they think that We hear not their secrets and their private conversations? Yes, [We do], and Our messengers are with them recording.
81  Say, [O Muhammad], “If the Most Merciful had a son, then I would be the first of [his] worshippers.”
82  Exalted is the Lord of the heavens and the earth, Lord of the Throne, above what they describe.
83  So leave them to converse vainly and amuse themselves until they meet their Day which they are promised.
84  And it is Allah who is [the only] deity in the heaven, and on the earth [the only] deity. And He is the Wise, the Knowing.
85  And blessed is He to whom belongs the dominion of the heavens and the earth and whatever is between them and with whom is knowledge of the Hour and to whom you will be returned.
86  And those they invoke besides Him do not possess [power of] intercession; but only those who testify to the truth [can benefit], and they know.
87  And if you asked them who created them, they would surely say, “Allah.” So how are they deluded?
88  And [Allah acknowledges] his saying, “O my Lord, indeed these are a people who do not believe.”
89  So turn aside from them and say, “Peace.” But they are going to know.

 奉至仁至慈的真主之名

1  哈一,米目。
2  以明白的经典盟誓,
3  我确已以此为阿拉伯文的《古兰经》,以便你们了解。
4  在我那里的天经原本中,它确是高尚的,确是睿智的。
5  难道因为你们是过分的民众,我就使你们不得受教训吗?
6  我曾派遣许多先知去教化古代的民族,
7  每有先知来临他们的时候,他们都加以愚弄。
8  我曾毁灭了比你的宗族更强横者,先民的实例民逝去了。
9  如果你问他们:谁创造了天地?他们必定说:万能的、全知的主创造了天地。
10  他以大地为你们的安息之所,他为你们在大地上开辟许多道路,以便你们达到旅行的目的地。
11  他从云中降下有定量的雨水,借雨水而使已死的地方复活。你们将来要这样从坟墓中被取出。
12  他创造万类,而以船舶和牲畜供你们骑乘,
13  以便你们端坐在上面。然后,在端坐的时候,想着你们主的恩典,并且说:赞颂真主,超绝万物!他为我们制服此物,我们对于它本是无能的。
14  我们必定归于我们的主。
15  他们把他的一部分仆人,当作他的分子;人确是明显的孤恩者。
16  难道他从自己所创造的众生中自取女儿,而以男儿专归你们吗?
17  他们妄言至仁主有女儿,但他们中的一个人听说自己的妻子生女儿的时候,他的脸色变成暗淡的,而且他是拗怒的。
18  在首饰中长大,且不能雄辩者,难道他们以她归真主吗?
19  众天神本是真主的奴仆,他们却以众天神为女性。他们曾见证真主创造众天神吗?他们的见证将被记录下来,他们也将被审问。
20  他们说:假若至仁主意欲,我们是不会崇拜他们的。他们对于此说,毫无认识;你们只是在说谎话。
21  难道以前我曾赐他们一本天经,而他们是坚持那本天经的。
22  不然,他们说:我们确已发现我们的祖先是信奉一种宗教的,我们确是遵循他们的遗迹而得正道的。
23  在你之前,每逢我这样派遣警告者到一个城市去,那里的豪华者总是说:我们确已发现我们的祖先是信奉一种宗教的,我们确是遵循他们的遗迹的。
24  他说:即使我显示你们一种比你们祖先的宗教更为崇正的宗教,你们还要遵从你们的祖先吗?他们说:我们确是不信你们所奉的使命。
25  故我惩罚了他们,你看看否认正道者的结局是怎样的!
26  当时,易卜拉欣对他的父亲和宗族说:我与你们所崇拜的,确是没有关系的,
27  惟创造我的主则不然,他必定要引导我。
28  他将这句话留赠他的后裔,以便他们悔悟。
29  不然,我使这些人和他们的祖先享受,直到真理降临,及宣道的使者诞生。
30  真理降临他们的时候,他们说:这是魔术,我们必定不信 它。
31  他们说:怎么不把这本《古兰经》降示两城中任何一城的要人呢?
32  难道他们能分配你的主的恩惠吗?我将他们在今世生活中的生计分配给他们,我使他们彼此相差若干级,以便他们层层节制。你的主的恩惠比他们所积蓄的更优美。
33  若不是为防世人变为一教,我必使不信至仁主的人们的房屋变成有银顶的,和银梯的,以便他们登临其上;
34  并将他们的房屋变成有银门和银床的,以便他们偃卧床上;
35  并将他们的房屋变成有金饰的。这些无非是今世生活的享 受;在你的主那里的后世,是专归敬畏者的。
36  谁要是无视至仁主的教诲,我就让一个恶魔附在谁的身上,成为他的朋友。
37  那些恶魔,妨碍他们遵循正道,而他们却以为自己是遵循正道的。
38  待无视者来到我那里的时候,他对他的朋友说:但愿我和你之间,有东西两方的距离,你这朋友真恶劣!
39  你们曾行不义,所以今日这种愿望对于你们绝无裨益。因为你们要同受刑罚。
40  难道你能使聋子听闻,或能引导瞎子和在明显的迷误中的人吗?
41  如果我使你弃世,那末,我将来必定要惩罚他们;
42  设或我要昭示你我所用以警告他们的刑罚,那末,我对他们确是全能的。
43  所以你应当坚持你所受的启示,你确是在正道上的。
44  《古兰经》确是你和你的宗族的荣誉,你们将来要被审问。
45  你问问在你之前所派遣的众使者,我曾否在至仁主之外指定许多神灵供人崇拜。
46  我确已派遣穆萨带着我的许多迹象,去教化法老和他的贵族们,他说:我确是全世界的主的使者。
47  当他把我的许多迹象昭示他们的时候,他们立刻嘲笑那些迹象。
48  我所昭示他们的迹象。一件比一件大。我曾以刑罚惩治他们,以便他们悔悟。
49  他们曾说:术士啊!请你为我们祈祷你的主,因为他曾与你订约的缘故,我们必定要遵循正道。
50  当我解除他们所遭的刑罚的时候,他们立刻爽约。
51  法老曾喊叫他的百姓说:我的百姓啊!密斯尔(埃及)的国权,和在我脚下奔流的江河,不都是我的吗?难道你们看不见?
52  难道我不是比这卑贱而且含糊的人更强吗?
53  怎么没有黄金的手镯,加在他的手上呢?或者是众天神同他接踵降临呢?
54  他曾鼓动他的百姓,他们就服从他;他们确是悖逆者。
55  当他们触犯我的时候,我惩治他们,故使他们统统淹死,
56  我以他们为后世的鉴戒。
57  当麦尔彦的儿子被举为例的时候,你的宗族立刻喧哗,
58  他们说:我们的众神灵更好呢?还是他更好呢?他们只是为强词夺理而举他为例,不然,他们是好辩的民众。
59  他只是一个仆人,我赐他恩典,并以他为以色列后裔的示范。
60  假若我意欲,我必舍你们而创造许多天神,在大地上继承你们。
61  他确是复活时的预兆,你切莫怀疑他,你应当顺从我,这是正路。
62  绝不要让恶魔妨碍你们,他确是你们的明敌。
63  当尔撒带着许多明证来临的时候,他说:我确已把智慧带来给你们,以便我为你们解释你们所争论的一部分律例。故你们应当敬畏真主,应当服从我。
64  真主确是我的主,也是你们的主,所以你们应当崇拜他,这是正路。
65  各教派的人,彼此纷争。哀哉不义的人们!将来要受痛苦日的刑罚。
66  他们只企望着复活时不知不觉地忽然来临他们。
67  在那日,一般朋友将互相仇视,惟敬畏者则不然。
68  我的众仆啊!今日你们没有恐惧,也没有忧愁。
69  他们曾归信我的迹象,他们原是顺服的。
70  你们和你们的妻子,愉快地进乐园去吧!
71  将有金盘和金杯,在他们之间挨次传递。乐园中有心所恋慕,眼所欣赏的乐趣,你们将永居其中。
72  这是你们因自己的善行而得继承的乐园。
73  你们在其中,将有许多水果,供你们取食。
74  罪人们将来必永居火狱的刑罚中,
75  那刑罚不稍减轻,他们将在其中沮丧。
76  我没有亏枉他们,但他们自欺。
77  他们将喊叫说:马立克啊!请你的主处决我们吧!他说:你们必定要留在刑罚中。
78  我确已把真理昭示你们,但你们大半是厌恶真理的。
79  他们已决定一件事了吗?我也必决定一件事。
80  他们以为我听不见他们的秘密和私议吗?不然,我的天使们就在他们的跟前,记录他们的言行。
81  你说:如果至仁主有儿女,那末,我是首先崇拜其儿女的。
82  赞颂天地的主,宝座的主,他是超乎他们的叙述的!
83  你让他们妄谈吧!让他们嬉戏吧!直到他们看到他们被警告的日子。
84  他在天上是应受崇拜的,在地上也是应受崇拜的;他确是至睿的,确是全知的。
85  多福哉,有天地的国权和天地间的万物者!复活时的知识只有他知道,你们只被召归于他。
86  他们舍他而祈祷的,没有替人说情的权柄;惟依真理而作证,且深知其证辞的人们,则不然。
87  如果你问他们,谁创造他们,他们必定说:真主。他们是如何悖谬呢?
88  他说:我的主啊!这些人确是不信道的民众。
89  你应当原谅他们,你应当说:祝你们平安!他们不久就知道了。

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  hm.
2  ¡Por la Escritura clara!
3  Hemos hecho de ella un Corán árabe. Quizás, así, razonéis.
4  Está en la Escritura Matriz que Nosotros tenemos, sublime, sabio.
5  ¿Es que, porque seáis gente inmoderada, vamos a privaros de la Amonestación?
6  ¡Cuántos profetas hemos enviado a los antiguos…!
7  No vino a ellos profeta que no se burlaran de él.
8  Por eso, hemos hecho perecer a otros más temibles que ellos. Ya ha precedido el ejemplo de los antiguos…
9  Si les preguntas: «¿Quién ha creado los cielos y la tierra?», seguro que dicen: «¡Los ha creado el Poderoso, el Omnisciente!»
10  Quien os ha puesto la tierra como cuna y os ha puesto en ella caminos. Quizás, así, seáis bien dirigidos.
11  Quien ha hecho bajar agua del cielo con mesura para resucitar un país muerto. Del mismo modo se os sacará.
12  Quien ha creado todas las parejas y os ha dado las naves y los rebaños en que montáis,
13  para que os instaléis en ellos y, luego, cuando lo hayáis hecho, recordéis la gracia de vuestro Señor y digáis: «¡Gloria a Quien ha sujetado esto a nuestro servicio! ¡Nosotros no lo hubiéramos logrado!»
14  ¡Sí, volveremos a nuestro Señor!
15  Han equiparado a algunos de Sus siervos con Él. Sí. el hombre es manifiestamente desagradecido.
16  ¿Iba Alá a tomar hijas de entre Sus criaturas, y a vosotros concederos hijos?
17  Cuando se anuncia a uno de ellos lo que él asimila al Compasivo, se queda hosco y se angustia.
18  «¡Cómo! Un ser que crece entre perifollos, incapaz de discutir claramente…»
19  Han considerado a los ángeles que son siervos del Compasivo, de sexo femenino. ¿Es que han sido testigos de la creación de éstos? Se hará constar su testimonio y tendrán que responder del mismo.
20  Dicen: «Si el Compasivo hubiera querido, no les habríamos servido». No tienen ningún conocimiento de eso, no hacen sino conjeturar.
21  ¿Es que les trajimos otra Escritura a la que atenerse antes de ésta?
22  ¡Nada de eso! Dicen: «Encontramos a nuestros padres en una religión y, siguiendo sus huellas, estamos bien dirigidos».
23  Y así, no enviamos ningún monitor antes de ti a una ciudad que no dijeran los ricos: «Encontramos a nuestros padres en una religión e imitamos su ejemplo».
24  Dijo: «¿Y si os trajera una dirección más recta que la que vuestros padres seguían?» Dijeron: «¡No creemos en vuestro mensaje!»
25  Nos vengamos de ellos. ¡Y mira cómo terminaron los desmentidores!
26  Y cuando Abraham dijo a su padre y a su gente: «Soy inocente de lo que servís.
27  Yo no sirvo sino a Quien me ha creado. Él me dirigirá».
28  E hizo que esta palabra perdurara en su posteridad. Quizás, así, se convirtieran.
29  No sólo eso, sino que les permití gozar, a ellos y a sus padres, hasta que viniera a ellos la Verdad y un Enviado que hablara claro.
30  Pero, cuando la Verdad vino a ellos, dijeron: «¡Esto es magia y no creemos en ello!»
31  Y dijeron: «¿Por qué no se ha revelado este Corán a un notable de una de las dos ciudades…»
32  ¿Son ellos los encargados de dispensar la misericordia de tu Señor? Nosotros les dispensamos las subsistencias en la vida de acá y elevamos la categoría de unos sobre otros para que éstos sirvieran a aquéllos. Pero la misericordia de tu Señor es mejor que lo que ellos amasan.
33  Si no hubiera sido por evitar que los hombres formaran una sola comunidad, habríamos puesto en las casas de los que no creen en el Compasivo terrazas de plata y gradas de acceso,
34  puertas y lechos en que reclinarse.
35  y lujo. Pero todo esto no es sino breve disfrute de la vida de acá en tanto que la otra vida, junto a tu Señor, será para los que Le temen.
36  A quien se cierre a la Amonestación del Compasivo, le asignamos un demonio que será para él compañero.
37  Les apartan, sí, del Camino, mientras creen ser bien dirigidos.
38  Hasta que, al comparecer ante Nosotros, diga: «¡Ojalá nos hubiera separado, a mí y a ti, la misma distancia que separa al Oriente del Occidente!» ¡Qué mal compañero…!
39  Hoy no os aprovechará compartir el castigo por haber sido impíos.
40  ¿Es que puedes tú hacer que un sordo oiga, o dirigir a un ciego y al que se encuentra evidentemente extraviado?
41  O te hacemos morir y, luego, Nos vengamos de ellos,
42  o te mostramos aquello con que les amenazamos. Pues les podemos con mucho.
43  ¡Aténte a lo que se te ha revelado! Estás en una vía recta.
44  Es, ciertamente, una amonestación para ti y para tu pueblo y tendréis que responder.
45  Pregunta a los enviados que mandamos antes de ti si hemos establecido dioses a quienes servir en lugar de servir al Compasivo.
46  Ya enviamos Moisés con Nuestros signos a Faraón y a sus dignatarios. Y dijo: «Yo soy el enviado del Señor del universo».
47  Pero cuando les presentó Nuestros signos, he aquí que se rieron de ellos,
48  a pesar de que cada signo que les mostrábamos superaba al precedente. Les sorprendimos con el castigo. Quizás, así, se convirtieran.
49  Dijeron: «¡Mago! ;Ruega a tu Señor por nosotros, en virtud de la alianza que ha concertado contigo! Nos dejaremos dirigir».
50  Pero, cuando retiramos de ellos el castigo, he aquí que quebrantaron su promesa.
51  Faraón dirigió una proclama a su pueblo, diciendo: «¡Pueblo! ¿No es mío el dominio de Egipto, con estos ríos que fluyen a mis pies? ¿Es que no veis?
52  ¿No soy yo mejor que éste, que es un vil y que apenas sabe expresarse?
53  ¿Por qué no se le han puesto brazaletes de oro…? ¿Por qué no ha venido acompañado de ángeles…?»
54  Extravió a su pueblo y éste le obedeció: era un pueblo perverso.
55  Cuando Nos hubieron irritados, Nos vengamos de ellos anegándolos a todos,
56  y sentamos con ellos un precedente, poniéndolos como ejemplo para la posteridad.
57  Y cuando el hijo de María es puesto como ejemplo, he aquí que tu pueblo se aparta de él.
58  Y dicen: ¿Son mejores nuestros dioses o él? Si te lo ponen, no es sino por afán de discutir. Son, en efecto, gente contenciosa.
59  El no es sino un siervo a quien hemos agraciado y a quien hemos puesto como ejemplo a los Hijos de Israel.
60  Si quisiéramos, haríamos de vosotros ángeles, que sucederían en la tierra.
61  Será un medio de conocer la Hora. ¡No dudéis, pues, de ella y seguidme! ¡Esto es una vía recta!
62  ¡Que el Demonio no os extravíe! Es para vosotros un enemigo declarado.
63  Cuando Jesús vino con las pruebas claras, dijo: «He venido a vosotros con la Sabiduría y para aclararos algo de aquello en que discrepáis. ¡Temed, pues, a Alá y obedecedme!
64  Alá es mi Señor y Señor vuestro. ¡Servidle, pues! ¡Esto es una vía recta!»
65  Pero los grupos discreparon unos de otros. ¡Ay de los impíos, por el castigo de un día doloroso…!
66  No les queda más que esperar la Hora, que les vendrá de repente, sin presentirla.
67  Ese día. los amigos serán enemigos unos de otros, excepto los temerosos de Alá.
68  «¡Siervos míos! ¡No tenéis que temer hoy! ¡Y no estaréis tristes!
69  Los que creísteis en Nuestros signos y os sometisteis a Alá,
70  ¡entrad en el Jardín junto con vuestras esposas, para ser regocijados!»
71  Se harán circular entre ellos platos de oro y copas, que contendrán todo lo que cada uno desee, deleite de los ojos. «Estaréis allí eternamente.
72  Éste es el Jardín que habéis heredado como premio a vuestras obras.
73  Tenéis en él fruta abundante, de la que comeréis».
74  Los pecadores, en cambio, tendrán la gehena como castigo, eternamente,
75  castigo que no se les remitirá, y serán presa de la desesperación.
76  No seremos Nosotros quienes hayan sido injustos con ellos, sino que ellos serán los que lo hayan sido.
77  Llamarán: «¡Malik! ¡Que tu Señor acabe con nosotros!» Él dirá: «¡Os quedaréis ahí!»
78  «Os trajimos la Verdad, pero la mayoría sentisteis aversión a la Verdad».
79  ¿Han tramado algo? Pues Nosotros también.
80  ¿O creen que no Nos enteramos de sus secretos y confidencias? ¡Claro que Nos enteramos! Y Nuestros enviados, junto a ellos, toman nota.
81  Di: «Si el Compasivo tuviera un hijo, yo sería el primero en servirle».
82  ¡Gloria al Señor de los cielos y de la tierra. Señor del Trono! ¡Está por encima de lo que Le atribuyen!
83  ¡Déjales que parloteen y jueguen hasta que les llegue el Día con que se les ha amenazado!
84  ¡El es Quien es dios en el cielo y dios en la tierra! Es el Sabio, el Omnisciente.
85  ¡Bendito sea Quien posee el dominio de los cielos, de la tierra y de lo que entre ellos está! Él tiene conocimiento de la Hora y a Él seréis devueltos.
86  Los que ellos invocan en lugar de invocarle a Él no pueden interceder, salvo, aquéllos que atestiguan la Verdad y saben.
87  Si les preguntas: «¿Quién os ha creado?», seguro que dicen: «¡Ala!» ¡Cómo pueden, pues, ser tan desviados!
88  y de su dicho: «¡Señor! Ésta es gente que no cree».
89  Aléjate, pues, de ellos y di: «¡Paz!» ¡Van a ver…!