Project Description

AL ANBIYA

 شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  لوگوں کا حساب (اعمال کا وقت) نزدیک آپہنچا ہے اور وہ غفلت میں (پڑے اس سے) منہ پھیر رہے ہیں
۲  ان کے پاس کوئی نئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں
۳  ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالم لوگ (آپس میں) چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں کہ یہ (شخص کچھ بھی) نہیں مگر تمہارے جیسا آدمی ہے۔ تو تم آنکھوں دیکھتے جادو (کی لپیٹ) میں کیوں آتے ہو
۴  (پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں (کہی جاتی) ہے میرا پروردگار اسے جانتا ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
۵  بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں۔ (نہیں) بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ (یہ شعر ہے جو اس) شاعر (کا نتیجہٴ طبع) ہے۔ تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے
۶  ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لاتی تھیں۔ تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے
۷  اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بنا کر) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو
۸  اور ہم نے ان کے لئے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے
۹  پھر ہم نے ان کے بارے میں (اپنا) وعدہ سچا کردیا تو ان کو اور جس کو چاہا نجات دی اور حد سے نکل جانے والوں کو ہلاک کردیا
۱۰  ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے
۱۱  اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ستمگار تھیں ہلاک کر مارا اور ان کے بعد اور لوگ پیدا کردیئے
۱۲  جب انہوں نے ہمارے (مقدمہ) عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے
۱۳  مت بھاگو اور جن (نعمتوں) میں تم عیش وآسائش کرتے تھے ان کی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے (اس بارے میں) دریافت کیا جائے
۱۴  کہنے لگے ہائے شامت بےشک ہم ظالم تھے
۱۵  تو وہ ہمیشہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو (کھیتی کی طرح) کاٹ کر (اور آگ کی طرح) بجھا کر ڈھیر کردیا
۱۶  اور ہم نے آسمان اور زمین کو جو اور (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے اس کو لہوولعب کے لئے پیدا نہیں کیا
۱۷  اگر ہم چاہتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن وفرزند) بنائیں تو اگر ہم کو کرنا ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنالیتے
۱۸  بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت نابود ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری ہی خرابی ہے
۱۹  اور جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہیں سب اسی کے (مملوک اور اُسی کا مال) ہیں۔ اور جو (فرشتے) اُس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ کنیاتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں
۲۰  رات دن (اُس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں
۲۱  بھلا لوگوں نے جو زمین کی چیزوں سے (بعض کو) معبود بنا لیا ہے (تو کیا) وہ ان کو (مرنے کے بعد) اُٹھا کھڑا کریں گے؟
۲۲  اگر آسمان اور زمین میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین وآسمان درہم برہم ہوجاتے۔ جو باتیں یہ لوگ بتاتے ہیں خدائے مالک عرش ان سے پاک ہے
۲۳  وہ جو کام کرتا ہے اس کی پرستش نہیں ہوگی اور (جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اس کی) ان سے پرستش ہوگی
۲۴  کیا لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود بنالئے ہیں۔ کہہ دو کہ (اس بات پر) اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہیں۔ ان کی کتابیں بھی ہیں۔ بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان اکثر حق بات کو نہیں جانتے اور اس لئے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں
۲۵  اور جو پیغمبر ہم نےتم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو
۲۶  اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے۔ وہ پاک ہے (اس کے نہ بیٹا ہے نہ بیٹی) بلکہ (جن کو یہ لوگ اس کے بیٹے بیٹیاں سمجھتے ہیں) وہ اس کے عزت والے بندے ہیں
۲۷  اس کے آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے۔ اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں
۲۸  جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اس کے پاس کسی کی) سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں
۲۹  اور جو شخص ان میں سے یہ کہے کہ خدا کے سوا میں معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
۳۰  کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟
۳۱  اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ لوگوں (کے بوجھ) سے ہلنے (اور جھکنے) نہ لگے اور اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں
۳۲  اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔ اس پر بھی وہ ہماری نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں
۳۳  اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو بنایا۔ (یہ) سب (یعنی سورج اور چاند اور ستارے) آسمان میں (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں
۳۴  اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کو بقائے دوام نہیں بخشا۔ بھلا اگر تم مرجاؤ تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے
۳۵  ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ اور ہم تو لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں۔ اور تم ہماری طرف ہی لوٹ کر آؤ گے
۳۶  اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے استہزاء کرتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے حالانکہ وہ خود رحمٰن کے نام سے منکر ہیں
۳۷  انسان (کچھ ایسا جلد باز ہے کہ گویا) جلد بازی ہی سے بنایا گیا ہے۔ میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تو تم جلدی نہ کرو
۳۸  اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعید (ہے وہ) کب (آئے گا)؟
۳۹  اے کاش کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے مونہوں پر سے (دوزخ کی) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں پر سے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا
۴۰  بلکہ قیامت ان پر ناگہاں آ واقع ہوگی۔ اور ان کے ہوش کھو دے گی۔ پھر نہ تو وہ اس کو ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی
۴۱  اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ استہزاء ہوتا رہا ہے تو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو اسی (عذاب) نے جس کی ہنسی اُڑاتے تھے آگھیرا
۴۲  کہو کہ رات اور دن میں خدا سے تمہاری کون حفاظت کرسکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے ہوئے ہیں
۴۳  کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو (مصائب سے) بچاسکیں۔ وہ آپ اپنی مدد تو کر ہی نہیں سکتے اور نہ ہم سے پناہ ہی دیئے جائیں گے
۴۴  بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں؟
۴۵  کہہ دو کہ میں تم کو حکم خدا کے مطابق نصیحت کرتا ہوں۔ اور بہروں کوجب نصیحت کی جائے تو وہ پکار کر سنتے ہی نہیں
۴۶  اور اگر ان کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کم بختی ہم بےشک ستمگار تھے
۴۷  اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔ اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لاحاضر کریں گے۔ اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں
۴۸  اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو (ہدایت اور گمراہی میں) فرق کر دینے والی اور (سرتاپا) روشنی اور نصیحت (کی کتاب) عطا کی (یعنی) پرہیز گاروں کے لئے
۴۹  جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں
۵۰  یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو؟
۵۱  اور ہم نے ابراہیمؑ کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی اور ہم ان کے حال سے واقف تھے
۵۲  جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا یہ کیا مورتیں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (وقائم) ہو؟
۵۳  وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے
۵۴  (ابراہیم نے) کہا کہ تم بھی (گمراہ ہو) اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے رہے
۵۵  وہ بولے کیا تم ہمارے پاس (واقعی) حق لائے ہو یا (ہم سے) کھیل (کی باتیں) کرتے ہو؟
۵۶  (ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ تمہارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور میں اس (بات) کا گواہ (اور اسی کا قائل) ہوں
۵۷  اور خدا کی قسم جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے بتوں سے ایک چال چلوں گا
۵۸  پھر ان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا مگر ایک بڑے (بت) کو (نہ توڑا) تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں
۵۹  کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا؟ وہ تو کوئی ظالم ہے
۶۰  لوگوں نے کہا کہ ہم نے ایک جوان کو ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اس کو ابراہیم کہتے ہیں
۶۱  وہ بولے کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ گواہ رہیں
۶۲  (جب ابراہیم آئے تو) بت پرستوں نے کہا کہ ابراہیم بھلا یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کیا ہے؟
۶۳  (ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ یہ ان کے اس بڑے (بت) نے کیا (ہوگا) ۔ اگر یہ بولتے ہیں تو ان سے پوچھ لو
۶۴  انہوں نے اپنے دل غور کیا تو آپس میں کہنے لگے بےشک تم ہی بےانصاف ہو
۶۵  پھر (شرمندہ ہو کر) سر نیچا کرلیا (اس پر بھی ابراہیم سے کہنے لگے کہ) تم جانتے ہو یہ بولتے نہیں
۶۶  (ابراہیم نے) کہا پھر تم خدا کو چھوڑ کر کیوں ایسی چیزوں کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں کچھ فائدہ دے سکیں اور نقصان پہنچا سکیں؟
۶۷  تف ہے تم پر اور جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو ان پر بھی کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
۶۸  (تب وہ) کہنے لگے کہ اگر تمہیں (اس سے اپنے معبود کا انتقام لینا اور) کچھ کرنا ہے تو اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو
۶۹  ہم نے حکم دیا اے آگ سرد ہوجا اور ابراہیم پر (موجب) سلامتی (بن جا)
۷۰  اور ان لوگوں نے برا تو ان کا چاہا تھا مگر ہم نے ان ہی کو نقصان میں ڈال دیا
۷۱  اور ابراہیم اور لوط کو اس سرزمین کی طرف بچا نکالا جس میں ہم نے اہل عالم کے لئے برکت رکھی تھی
۷۲  اور ہم نے ابراہیم کو اسحق عطا کئے۔ اور مستزاد برآں یعقوب۔ اور سب کو نیک بخت کیا
۷۳  اور ان کو پیشوا بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کو نیک کام کرنے اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے کا حکم بھیجا۔ اور وہ ہماری عبادت کیا کرتے تھے
۷۴  اور لوط (کا قصہ یاد کرو) جب ان کو ہم نے حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا اور اس بستی سے جہاں کے لوگ گندے کام کیا کرتے تھے۔ بچا نکالا۔ بےشک وہ برے اور بدکردار لوگ تھے
۷۵  اور انہیں اپنی رحمت کے (محل میں) داخل کیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ نیک بختوں میں تھے
۷۶  اور نوح (کا قصہ بھی یاد کرو) جب (اس سے) پیشتر انہوں نے ہم کو پکارا تو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بڑی گھبراہٹ سے نجات دی
۷۷  اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے ان پر نصرت بخشی۔ وہ بےشک برے لوگ تھے سو ہم نے ان سب کو غرق کردیا
۷۸  اور داؤد اور سلیمان (کا حال بھی سن لو کہ) جب وہ ایک کھیتی کا مقدمہ فیصلہ کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو چر گئی (اور اسے روند گئی) تھیں اور ہم ان کے فیصلے کے وقت موجود تھے
۷۹  تو ہم نے فیصلہ (کرنے کا طریق) سلیمان کو سمجھا دیا۔ اور ہم نے دونوں کو حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا تھا۔ اور ہم نے پہاڑوں کو داؤد کا مسخر کردیا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور جانوروں کو بھی (مسخر کردیا تھا اور ہم ہی ایسا) کرنے والے تھے
۸۰  اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک (طرح) کا لباس بنانا بھی سکھا دیا تاکہ تم کو لڑائی (کے ضرر) سے بچائے۔ پس تم کو شکرگزار ہونا چاہیئے
۸۱  اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں
۸۲  اور دیوؤں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطے مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے
۸۳  اور ایوب کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
۸۴  تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے بھی عطا فرمائے اور اپنی مہربانی کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے (یہ) نصیحت ہے
۸۵  اور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل (کو بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے
۸۶  اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا۔ بلاشبہ وہ نیکوکار تھے
۸۷  اور ذوالنون (کو یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے (اور) بےشک میں قصوروار ہوں
۸۸  تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی۔ اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں
۸۹  اور زکریا (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے
۹۰  تو ہم نے ان کی پکار سن لی۔ اور ان کو یحییٰ بخشے اور ان کی بیوی کو اُن کے (حسن معاشرت کے) قابل بنادیا۔ یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے
۹۱  اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفّت کو محفوظ رکھا۔ تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کے بیٹے کو اہل عالم کے لئے نشانی بنا دیا
۹۲  یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو
۹۳  اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہوگئے۔ (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں
۹۴  جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی۔ اور ہم اس کے لئے (ثواب اعمال) لکھ رہے ہیں
۹۵  اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ (وہ دنیا کی طرف رجوع کریں) وہ رجوع نہیں کریں گے
۹۶  یہاں تک کہ یاجوج ماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں
۹۷  اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے تو ناگاہ کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ (اپنے حق میں) ظالم تھے
۹۸  (کافرو اس روز) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہوں گے۔ اور تم سب اس میں داخل ہو کر رہو گے
۹۹  اگر یہ لوگ (درحقیقت) معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے۔ سب اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے
۱۰۰  وہاں ان کو چلاّنا ہوگا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے
۱۰۱  جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے۔ وہ اس سے دور رکھے جائیں گے
۱۰۲  (یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے۔ اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی) ہر طرح کے عیش اور لطف میں ہمیشہ رہیں گے
۱۰۳  ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔ اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے کہ) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے
۱۰۴  جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں۔ جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا کیا اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے۔ (یہ) وعدہ (جس کا پورا کرنا لازم) ہے۔ ہم (ایسا) ضرور کرنے والے ہیں
۱۰۵  اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکوکار بندے ملک کے وارث ہوں گے
۱۰۶  عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے
۱۰۷  اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام جہان کے لئے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے
۱۰۸  کہہ دو کہ مجھ پر (خدا کی طرف سے) یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا معبود خدائے واحد ہے۔ تو تم کو چاہیئے کہ فرمانبردار بن جاؤ
۱۰۹  اگر یہ لوگ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ میں نے تم کو سب کو یکساں (احکام الہیٰ سے) آگاہ کردیا ہے۔ اور مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ (عن) قریب (آنے والی) ہے یا (اس کا وقت) دور ہے
۱۱۰  اور جو بات پکار کی جائے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اس سے بھی واقف ہے
۱۱۱  اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک مدت تک (تم اس سے) فائدہ (اٹھاتے رہو)
۱۱۲  پیغمبر نے کہا کہ اے میرے پروردگار حق کے ساتھ فیصلہ کردے۔ اور ہمارا پروردگار بڑا مہربان ہے اسی سے ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو مدد مانگی جاتی ہے

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ
٢  مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ
٣  لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ ۗ وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا هَلْ هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ۖ أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ
٤  قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
٥  بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ
٦  مَا آمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ
٧  وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ ۖ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
٨  وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ
٩  ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ فَأَنْجَيْنَاهُمْ وَمَنْ نَشَاءُ وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِينَ
١٠  لَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
١١  وَكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنْشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ
١٢  فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ
١٣  لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ
١٤  قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
١٥  فَمَا زَالَتْ تِلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّىٰ جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ
١٦  وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ
١٧  لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لَاتَّخَذْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا إِنْ كُنَّا فَاعِلِينَ
١٨  بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۚ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ
١٩  وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَنْ عِنْدَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ
٢٠  يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ
٢١  أَمِ اتَّخَذُوا آلِهَةً مِنَ الْأَرْضِ هُمْ يُنْشِرُونَ
٢٢  لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ
٢٣  لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ
٢٤  أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً ۖ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ ۖ هَٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي ۗ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ الْحَقَّ ۖ فَهُمْ مُعْرِضُونَ
٢٥  وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
٢٦  وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ
٢٧  لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ
٢٨  يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ وَهُمْ مِنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ
٢٩  وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَٰهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
٣٠  أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ
٣١  وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِهِمْ وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ
٣٢  وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَحْفُوظًا ۖ وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ
٣٣  وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ
٣٤  وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۖ أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ
٣٥  كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ۖ وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
٣٦  وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَٰذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ وَهُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ هُمْ كَافِرُونَ
٣٧  خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ۚ سَأُرِيكُمْ آيَاتِي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ
٣٨  وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
٣٩  لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَنْ وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُورِهِمْ وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ
٤٠  بَلْ تَأْتِيهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ
٤١  وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
٤٢  قُلْ مَنْ يَكْلَؤُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَٰنِ ۗ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُعْرِضُونَ
٤٣  أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا ۚ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ وَلَا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ
٤٤  بَلْ مَتَّعْنَا هَٰؤُلَاءِ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ طَالَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ ۗ أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا ۚ أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ
٤٥  قُلْ إِنَّمَا أُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْيِ ۚ وَلَا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَاءَ إِذَا مَا يُنْذَرُونَ
٤٦  وَلَئِنْ مَسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
٤٧  وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ
٤٨  وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ وَهَارُونَ الْفُرْقَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرًا لِلْمُتَّقِينَ
٤٩  الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ وَهُمْ مِنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُونَ
٥٠  وَهَٰذَا ذِكْرٌ مُبَارَكٌ أَنْزَلْنَاهُ ۚ أَفَأَنْتُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ
٥١  وَلَقَدْ آتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ
٥٢  إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ
٥٣  قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ
٥٤  قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
٥٥  قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنْتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ
٥٦  قَالَ بَلْ رَبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ وَأَنَا عَلَىٰ ذَٰلِكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ
٥٧  وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ
٥٨  فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ
٥٩  قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ
٦٠  قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ
٦١  قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَىٰ أَعْيُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُونَ
٦٢  قَالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ
٦٣  قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ
٦٤  فَرَجَعُوا إِلَىٰ أَنْفُسِهِمْ فَقَالُوا إِنَّكُمْ أَنْتُمُ الظَّالِمُونَ
٦٥  ثُمَّ نُكِسُوا عَلَىٰ رُءُوسِهِمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَٰؤُلَاءِ يَنْطِقُونَ
٦٦  قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ
٦٧  أُفٍّ لَكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
٦٨  قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ
٦٩  قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ
٧٠  وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ
٧١  وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ
٧٢  وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً ۖ وَكُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِينَ
٧٣  وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ ۖ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ
٧٤  وَلُوطًا آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ تَعْمَلُ الْخَبَائِثَ ۗ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَاسِقِينَ
٧٥  وَأَدْخَلْنَاهُ فِي رَحْمَتِنَا ۖ إِنَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ
٧٦  وَنُوحًا إِذْ نَادَىٰ مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ
٧٧  وَنَصَرْنَاهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ
٧٨  وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ
٧٩  فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ۚ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُودَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ ۚ وَكُنَّا فَاعِلِينَ
٨٠  وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِنْ بَأْسِكُمْ ۖ فَهَلْ أَنْتُمْ شَاكِرُونَ
٨١  وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۚ وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَالِمِينَ
٨٢  وَمِنَ الشَّيَاطِينِ مَنْ يَغُوصُونَ لَهُ وَيَعْمَلُونَ عَمَلًا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ وَكُنَّا لَهُمْ حَافِظِينَ
٨٣  وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
٨٤  فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِنْ ضُرٍّ ۖ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ
٨٥  وَإِسْمَاعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ ۖ كُلٌّ مِنَ الصَّابِرِينَ
٨٦  وَأَدْخَلْنَاهُمْ فِي رَحْمَتِنَا ۖ إِنَّهُمْ مِنَ الصَّالِحِينَ
٨٧  وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
٨٨  فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ
٨٩  وَزَكَرِيَّا إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ
٩٠  فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا ۖ وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ
٩١  وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِنْ رُوحِنَا وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ
٩٢  إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ
٩٣  وَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ ۖ كُلٌّ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ
٩٤  فَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِ وَإِنَّا لَهُ كَاتِبُونَ
٩٥  وَحَرَامٌ عَلَىٰ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ
٩٦  حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ
٩٧  وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ أَبْصَارُ الَّذِينَ كَفَرُوا يَا وَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِي غَفْلَةٍ مِنْ هَٰذَا بَلْ كُنَّا ظَالِمِينَ
٩٨  إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
٩٩  لَوْ كَانَ هَٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا ۖ وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ
١٠٠  لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ
١٠١  إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ
١٠٢  لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا ۖ وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ
١٠٣  لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ هَٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ
١٠٤  يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ۚ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ
١٠٥  وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ
١٠٦  إِنَّ فِي هَٰذَا لَبَلَاغًا لِقَوْمٍ عَابِدِينَ
١٠٧  وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ
١٠٨  قُلْ إِنَّمَا يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ
١٠٩  فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ آذَنْتُكُمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ ۖ وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَمْ بَعِيدٌ مَا تُوعَدُونَ
١١٠  إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُونَ
١١١  وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ
١١٢  قَالَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ ۗ وَرَبُّنَا الرَّحْمَٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  [The time of] their account has approached for the people, while they are in heedlessness turning away.
2  No mention comes to them anew from their Lord except that they listen to it while they are at play
3  With their hearts distracted. And those who do wrong conceal their private conversation, [saying], “Is this [Prophet] except a human being like you? So would you approach magic while you are aware [of it]?”
4  The Prophet said, “My Lord knows whatever is said throughout the heaven and earth, and He is the Hearing, the Knowing.”
5  But they say, “[The revelation is but] a mixture of false dreams; rather, he has invented it; rather, he is a poet. So let him bring us a sign just as the previous [messengers] were sent [with miracles].”
6  Not a [single] city which We destroyed believed before them, so will they believe?
7  And We sent not before you, [O Muhammad], except men to whom We revealed [the message], so ask the people of the message if you do not know.
8  And We did not make the prophets forms not eating food, nor were they immortal [on earth].
9  Then We fulfilled for them the promise, and We saved them and whom We willed and destroyed the transgressors.
10  We have certainly sent down to you a Book in which is your mention. Then will you not reason?
11  And how many a city which was unjust have We shattered and produced after it another people.
12  And when its inhabitants perceived Our punishment, at once they fled from it.
13  [Some angels said], “Do not flee but return to where you were given luxury and to your homes – perhaps you will be questioned.”
14  They said, “O woe to us! Indeed, we were wrongdoers.”
15  And that declaration of theirs did not cease until We made them [as] a harvest [mowed down], extinguished [like a fire].
16  And We did not create the heaven and earth and that between them in play.
17  Had We intended to take a diversion, We could have taken it from [what is] with Us – if [indeed] We were to do so.
18  Rather, We dash the truth upon falsehood, and it destroys it, and thereupon it departs. And for you is destruction from that which you describe.
19  To Him belongs whoever is in the heavens and the earth. And those near Him are not prevented by arrogance from His worship, nor do they tire.
20  They exalt [Him] night and day [and] do not slacken.
21  Or have men taken for themselves gods from the earth who resurrect [the dead]?
22  Had there been within the heavens and earth gods besides Allah, they both would have been ruined. So exalted is Allah, Lord of the Throne, above what they describe.
23  He is not questioned about what He does, but they will be questioned.
24  Or have they taken gods besides Him? Say, [O Muhammad], “Produce your proof. This [Qur’an] is the message for those with me and the message of those before me.” But most of them do not know the truth, so they are turning away.
25  And We sent not before you any messenger except that We revealed to him that, “There is no deity except Me, so worship Me.”
26  And they say, “The Most Merciful has taken a son.” Exalted is He! Rather, they are [but] honored servants.
27  They cannot precede Him in word, and they act by His command.
28  He knows what is [presently] before them and what will be after them, and they cannot intercede except on behalf of one whom He approves. And they, from fear of Him, are apprehensive.
29  And whoever of them should say, “Indeed, I am a god besides Him”- that one We would recompense with Hell. Thus do We recompense the wrongdoers.
30  Have those who disbelieved not considered that the heavens and the earth were a joined entity, and We separated them and made from water every living thing? Then will they not believe?
31  And We placed within the earth firmly set mountains, lest it should shift with them, and We made therein [mountain] passes [as] roads that they might be guided.
32  And We made the sky a protected ceiling, but they, from its signs, are turning away.
33  And it is He who created the night and the day and the sun and the moon; all [heavenly bodies] in an orbit are swimming.
34  And We did not grant to any man before you eternity [on earth]; so if you die – would they be eternal?
35  Every soul will taste death. And We test you with evil and with good as trial; and to Us you will be returned.
36  And when those who disbelieve see you, [O Muhammad], they take you not except in ridicule, [saying], “Is this the one who insults your gods?” And they are, at the mention of the Most Merciful, disbelievers.
37  Man was created of haste. I will show you My signs, so do not impatiently urge Me.
38  And they say, “When is this promise, if you should be truthful?”
39  If those who disbelieved but knew the time when they will not avert the Fire from their faces or from their backs and they will not be aided…
40  Rather, it will come to them unexpectedly and bewilder them, and they will not be able to repel it, nor will they be reprieved.
41  And already were messengers ridiculed before you, but those who mocked them were enveloped by what they used to ridicule.
42  Say, “Who can protect you at night or by day from the Most Merciful?” But they are, from the remembrance of their Lord, turning away.
43  Or do they have gods to defend them other than Us? They are unable [even] to help themselves, nor can they be protected from Us.
44  But, [on the contrary], We have provided good things for these [disbelievers] and their fathers until life was prolonged for them. Then do they not see that We set upon the land, reducing it from its borders? So it is they who will overcome?
45  Say, “I only warn you by revelation.” But the deaf do not hear the call when they are warned.
46  And if [as much as] a whiff of the punishment of your Lord should touch them, they would surely say, “O woe to us! Indeed, we have been wrongdoers.”
47  And We place the scales of justice for the Day of Resurrection, so no soul will be treated unjustly at all. And if there is [even] the weight of a mustard seed, We will bring it forth. And sufficient are We as accountant.
48  And We had already given Moses and Aaron the criterion and a light and a reminder for the righteous
49  Who fear their Lord unseen, while they are of the Hour apprehensive.
50  And this [Qur’an] is a blessed message which We have sent down. Then are you with it unacquainted?
51  And We had certainly given Abraham his sound judgement before, and We were of him well-Knowing
52  When he said to his father and his people, “What are these statues to which you are devoted?”
53  They said, “We found our fathers worshippers of them.”
54  He said, “You were certainly, you and your fathers, in manifest error.”
55  They said, “Have you come to us with truth, or are you of those who jest?”
56  He said, “[No], rather, your Lord is the Lord of the heavens and the earth who created them, and I, to that, am of those who testify.
57  And [I swear] by Allah, I will surely plan against your idols after you have turned and gone away.”
58  So he made them into fragments, except a large one among them, that they might return to it [and question].
59  They said, “Who has done this to our gods? Indeed, he is of the wrongdoers.”
60  They said, “We heard a young man mention them who is called Abraham.”
61  They said, “Then bring him before the eyes of the people that they may testify.”
62  They said, “Have you done this to our gods, O Abraham?”
63  He said, “Rather, this – the largest of them – did it, so ask them, if they should [be able to] speak.”
64  So they returned to [blaming] themselves and said [to each other], “Indeed, you are the wrongdoers.”
65  Then they reversed themselves, [saying], “You have already known that these do not speak!”
66  He said, “Then do you worship instead of Allah that which does not benefit you at all or harm you?
67  Uff to you and to what you worship instead of Allah. Then will you not use reason?”
68  They said, “Burn him and support your gods – if you are to act.”
69  Allah said, “O fire, be coolness and safety upon Abraham.”
70  And they intended for him harm, but We made them the greatest losers.
71  And We delivered him and Lot to the land which We had blessed for the worlds.
72  And We gave him Isaac and Jacob in addition, and all [of them] We made righteous.
73  And We made them leaders guiding by Our command. And We inspired to them the doing of good deeds, establishment of prayer, and giving of zakah; and they were worshippers of Us.
74  And to Lot We gave judgement and knowledge, and We saved him from the city that was committing wicked deeds. Indeed, they were a people of evil, defiantly disobedient.
75  And We admitted him into Our mercy. Indeed, he was of the righteous.
76  And [mention] Noah, when he called [to Allah] before [that time], so We responded to him and saved him and his family from the great flood.
77  And We saved him from the people who denied Our signs. Indeed, they were a people of evil, so We drowned them, all together.
78  And [mention] David and Solomon, when they judged concerning the field – when the sheep of a people overran it [at night], and We were witness to their judgement.
79  And We gave understanding of the case to Solomon, and to each [of them] We gave judgement and knowledge. And We subjected the mountains to exalt [Us], along with David and [also] the birds. And We were doing [that].
80  And We taught him the fashioning of coats of armor to protect you from your [enemy in] battle. So will you then be grateful?
81  And to Solomon [We subjected] the wind, blowing forcefully, proceeding by his command toward the land which We had blessed. And We are ever, of all things, Knowing.
82  And of the devils were those who dived for him and did work other than that. And We were of them a guardian.
83  And [mention] Job, when he called to his Lord, “Indeed, adversity has touched me, and you are the Most Merciful of the merciful.”
84  So We responded to him and removed what afflicted him of adversity. And We gave him [back] his family and the like thereof with them as mercy from Us and a reminder for the worshippers [of Allah].
85  And [mention] Ishmael and Idrees and Dhul-Kifl; all were of the patient.
86  And We admitted them into Our mercy. Indeed, they were of the righteous.
87  And [mention] the man of the fish, when he went off in anger and thought that We would not decree [anything] upon him. And he called out within the darknesses, “There is no deity except You; exalted are You. Indeed, I have been of the wrongdoers.”
88  So We responded to him and saved him from the distress. And thus do We save the believers.
89  And [mention] Zechariah, when he called to his Lord, “My Lord, do not leave me alone [with no heir], while you are the best of inheritors.”
90  So We responded to him, and We gave to him John, and amended for him his wife. Indeed, they used to hasten to good deeds and supplicate Us in hope and fear, and they were to Us humbly submissive.
91  And [mention] the one who guarded her chastity, so We blew into her [garment] through Our angel [Gabriel], and We made her and her son a sign for the worlds.
92  Indeed this, your religion, is one religion, and I am your Lord, so worship Me.
93  And [yet] they divided their affair among themselves, [but] all to Us will return.
94  So whoever does righteous deeds while he is a believer – no denial will there be for his effort, and indeed We, of it, are recorders.
95  And there is prohibition upon [the people of] a city which We have destroyed that they will [ever] return
96  Until when [the dam of] Gog and Magog has been opened and they, from every elevation, descend
97  And [when] the true promise has approached; then suddenly the eyes of those who disbelieved will be staring [in horror, while they say], “O woe to us; we had been unmindful of this; rather, we were wrongdoers.”
98  Indeed, you [disbelievers] and what you worship other than Allah are the firewood of Hell. You will be coming to [enter] it.
99  Had these [false deities] been [actual] gods, they would not have come to it, but all are eternal therein.
100  For them therein is heavy sighing, and they therein will not hear.
101  Indeed, those for whom the best [reward] has preceded from Us – they are from it far removed.
102  They will not hear its sound, while they are, in that which their souls desire, abiding eternally.
103  They will not be grieved by the greatest terror, and the angels will meet them, [saying], “This is your Day which you have been promised” –
104  The Day when We will fold the heaven like the folding of a [written] sheet for the records. As We began the first creation, We will repeat it. [That is] a promise binding upon Us. Indeed, We will do it.
105  And We have already written in the book [of Psalms] after the [previous] mention that the land [of Paradise] is inherited by My righteous servants.
106  Indeed, in this [Qur’an] is notification for a worshipping people.
107  And We have not sent you, [O Muhammad], except as a mercy to the worlds.
108  Say, “It is only revealed to me that your god is but one God; so will you be Muslims [in submission to Him]?”
109  But if they turn away, then say, “I have announced to [all of] you equally. And I know not whether near or far is that which you are promised.
110  Indeed, He knows what is declared of speech, and He knows what you conceal.
111  And I know not; perhaps it is a trial for you and enjoyment for a time.”
112  [The Prophet] has said, “My Lord, judge [between us] in truth. And our Lord is the Most Merciful, the one whose help is sought against that which you describe.”

 奉至仁至慈的真主之名

1  对众人的清算已经临近了,他们却在疏忽之中,不加以思维。
2  每逢有新的记念,从他们的主降临他们,他们倾听它,并加以嘲笑。
3  不义者秘密谈论说:这只是一个象你们一样的凡人,你们明知是魔术而顺从他吗?
4  他说:我的主知道在天上和地上所说的话,他确是全聪的,确是全知的。
5  但他们说:这是痴人说梦呢?还是他捏造谎言呢?还是他是一个诗人呢?教他象古代的众使者那样昭示我们一种迹象吧。
6  在他们之前,我所毁灭的城市,没有一个曾信迹象的。现在,他们会信迹象吗?
7  在你之前,我只派遣了曾奉启示的许多男人;如果你们不知道,就应当询问 精通记念者。
8  我没有把他们造成不吃饭的肉身,他们也不是长生不老的。
9  嗣后,我对他们实践诺约,故拯救他们和我所意欲者,而毁灭了过分者。
10  我确已降示你们一本经典,其中有你们的记念,难道你们不了解吗?
11  我曾毁灭了许多不义的乡村,随后,我曾创造了别的民众。
12  当他们感觉我的严刑的时候,他们忽然奔逃。
13  你们不要奔逃,你们回去享受你们的豪华生活,和你们的住宅,以便你们将来受审讯。
14  他们说:哀哉我们!我们原来确是不义的人。
15  那句话,将要常为他们的哀号,直到我使他们变成谷茬和死灰。
16  我未曾以游戏的态度创造天地万物;
17  假若我要消遣,我必定以我这里的东西做消遣,我不是爱消遣的。
18  我以真理投掷谬妄,而击破其脑袋,谬妄瞬时消亡。悲哉你们!由于你们对真主妄加描述。
19  凡在天地间的,都是他的;凡在他那里的,都虔诚地崇拜他,既不傲慢,又不疲倦。
20  他们昼夜赞他超绝,毫不松懈。
21  难道他们把大地上许多东西当神明,而那些神明能使死人复活吗?
22  除真主外,假若天地间还有许多神明,那末,天地必定破坏了。赞颂真主–宝座的主–是超乎他们的描述的。
23  他自己的行为,不受审讯,而他们都是要受审讯的。
24  难道他们除真主外还事奉许多神明吗?你说:你们拿证据来吧,这是对于我的同道者的记念,也是对于在我之前者的记念,但他们大半不知真理,背弃它。
25  在你之前,我所派遣的使者,都奉到我的启示: 除我之外绝无应受崇拜的。所以你们应当崇拜我。
26  他们说:至仁主以(天神)为女儿。赞颂真主,超绝万物。不然,他们是受优待的奴仆,
27  他们在他那里不敢先开口,他们只奉行他的命令;
28  他知道在他们前面和后面的;他们只替他所喜悦者说情。他们为敬畏他而恐 惧。
29  他们中谁说我是真主以外的神明,我就以火狱报酬谁,我将要这样报酬一切不义者。
30  不信道者难道不知道吗?天地原是闭塞的,而我开天辟地,我用水创造一切生物。难道他们不信吗?
31  我在大地上创造了群山,以免大地动荡而他们不安; 我在群山间创造许多宽阔的道路,以便他们能达到目的。
32  我把天造成安全的穹窿,而他们忽视其中的迹象。
33  他是创造昼夜和日月的,天体运行各循一条轨道。
34  在你之前的任何人,我没有为他注定长生,如果你死了,难道他们能够长生吗?
35  凡有血气者,都要尝死的滋味。我以祸福考验你们,你们只被召归我。
36  当不信道者看见你的时候,他们只把你当作笑柄。(他们说:)就是这个人诽谤你们的神明吗?他们不信至仁主的记念。
37  人是生来急躁的,我将要昭示你们我的迹象,所以你们不必催促我。
38  他们说:这个警告将在何时实现呢?如果你们是诚实的人。
39  假若不信道者,知道在那个时候,他们不能对自己的面部和背部防御火焰,他们也不能获得援助
40  但复活时将突然来临,而使他们惊慌失措,他们不能抵抗它,也不蒙展缓。
41  在你之前,有许多使者,确已被人愚弄,而愚弄的刑罚已降临愚弄者了。
42  你说:谁在昼夜中保护你们,使你们得免于至仁主(的刑罚)呢?不然,他们背弃他们的主的记念。
43  除我之外,难道他们有许多神明保护他们吗?他们所崇拜的神明,不能自卫,他们对我(的刑罚)也不蒙庇护。
44  不然,我使这等人和他们的祖先得享受安乐,直到他们的寿命延长。难道他们不知道我来缩小他们的边境吗?难道他们是战胜者吗?
45  你说:我只借启示而警告你们。当聋子被警告的时候,他们听不见召唤。
46  如果你的主的刑罚,有一丝毫接触他们,他们必定说:悲哉我们!我们原来确是不义者。
47  在复活日,我将设置公道的天秤,任何人都不受一点儿冤枉; 他的行为虽微 如芥子,我也要报酬他;我足为清算者。
48  我确已赏赐穆萨和哈伦证据和光明,以及敬畏者的记念;
49  敬畏者在秘密中敬畏他们的主,他们是为复活时而恐惧的。
50  这是我所降示的吉祥的记念,难道你们否认它吗?
51  以前我确已把正直赏赐易卜拉欣,我原是深知他的。
52  当时,他对他的父亲和宗族说:你们所依恋的这些雕像是什么东西?
53  他们说:我们发现我们的祖先是崇拜他们的。
54  他说:你们和你们的祖先,确已陷于明显的迷误之中。
55  他们说:你是对我们说正经话呢?还是和我们开玩笑呢?
56  他说:不然,你们的主,是天地的主,是天地的创造者,我对于此事是一个证人。
57  –指真主发誓,你们转身离开之后,我必设法毁掉你们的偶像。
58  他把偶像打碎了,只留下一个最大的,以便他们转回来问他。
59  他们说:谁对我们的神灵做了这件事呢?他确是不义的人。
60  他们说:我们曾听见一个青年,名叫易卜拉欣的,诽谤他们。
61  他们说:你们把他拿到众人面前,以便他们作证。
62  他们说:易卜拉欣啊!你对我们的神灵做了这件事吗?
63  他说:不然,是这个最大的偶像做了这件事。如果他们会说话,你们就问问他们吧。
64  他们就互相批评。随后说:你们(崇拜偶像)确是不义的。
65  然后,他们倒行逆施,(他们说):你确已知道这些是不会说话的。
66  他说:你们舍真主而崇拜那些对你们毫无祸福的东西吗?
67  呸,你们不崇拜真主,却崇拜这些东西,难道你们不理解吗?
68  他们说:你们烧死他吧!你们援助你们的神灵吧!如果你们有所作为。
69  我说:火啊!你对易卜拉欣变成凉爽的和平的吧!
70  他们想谋害他,但我使他们变成最亏损的。
71  我拯救他和鲁特,而使他俩迁移到我为世人而降福的地方去。
72  我赏赐他易司哈格,又增赐他叶尔孤白,我使他们都变成善人。
73  我以他们为世人的师表,他们奉我的命令而引导众人。 我启示他们:应当力行善事,谨守拜功,完纳天课。他们是只崇拜我的。
74  我赏赐鲁特智慧和学识,我拯救他脱离有秽行的城市,那个城市的居民确是放荡的恶民。
75  我使他进入我的恩惠之中,他确是一个善人。
76  (你应当叙述)努哈,以前,他曾呼吁我,故我答应了他, 并且拯救他和他的信徒们脱离忧患。
77  我使他脱离否认我的迹象的民众,他们确是恶民,故我使他们统统淹死。
78  (你应当叙述)达五德和素莱曼,当百姓的羊群夜间出来吃庄稼的时候,他俩为庄稼而判决,对于他们的判决我是见证。
79  我使素莱曼知道怎样判决。每一个我都赏赐了智慧和学识。 我使群山和众鸟随从达五德一道赞颂我。我曾经做过那件事了。
80  我教他替你们制造铠甲,以保护你们,使你们得免于战争的创伤,这你们感谢吗?
81  我替素莱曼制服狂风,它奉他的命令而吹到我曾降福的地方, 我是深知万物的。
82  我又替他制服一部分恶魔,他们替他潜水,并且做其它工作, 我是监督他们的。
83  (你应当叙述)艾优卜, 当时他曾呼吁他的主(说):痼疾确已伤害我,你是最仁慈的。
84  我就答应他的请求,而解除他所患的痼疾,并以他的家属和同样的人赏赐他,这是由于从我发出的恩惠和对于崇拜我者的记念。
85  (你应当叙述)易司马仪,易德立斯,助勒基福勒都是坚忍的。
86  我使他们进入我的恩惠之中,他们确是善人。
87  (你应当叙述)左农,当时他曾愤愤不平地离去,他猜想我绝不约束他,他在重重黑暗中呼吁(说):除你之外,绝无应受崇拜者, 我赞颂你超绝万物,我确是不义的。
88  我就答应他,而拯救他脱离忧患;我这样拯救信道者脱离忧患。
89  (你应当叙述)宰凯里雅,当时他曾呼吁他的主(说):我的主啊!求你不要任随我孤独,你是最好的继承者。
90  我就答应他,而且赏赐他叶哈雅,并改正他的妻子。他们争先行善,他们为希望和恐惧而呼吁我,他们对于我是恭顺的。
91  (你应当叙述)那保持贞操的女子,我把我的精神吹入她的体内, 我曾以她的儿子为世人的一个迹象。
92  你们的这个民族,确是一个统一的民族,我是你们的主,故你们应当崇拜我。
93  他们分成了若干教派,各派都要归于我。
94  谁信道而且行善,谁的劳绩绝不遭否认,我确是记录他的善功的。
95  我所毁灭的市镇,想复返人世,那是不可能的。
96  直到雅朱者和马朱者被开释,而从各高地蹓向四方。
97  真实的应许将近了,不信道者突然瞪着眼睛(说):悲哉我们!我们对于今天曾是疏忽的。不然,我们是不义的。
98  你们和你们舍真主而崇拜的,确是火狱的燃料,你们将进入火狱。
99  假若这些是神灵,他们不进入火狱了,他们都永居其中。
100  他们在其中将经常叹息,他们在其中将一无所闻。
101  曾蒙我最优的待遇者,将远离火狱,
102  而不闻其最微的声音,他们将永居在自己所爱好的享乐中,
103  不使他们忧愁最大的恐怖。众天神将欢迎他们(说):这是你们曾受应许的日子。
104  在那日,我将天卷起犹如卷轴将书画卷起一样。起初我怎样创造万物, 我要怎样使万物还原。这是我自愿应许的,我必实行它。
105  我确已写在记念的《宰甫尔》中:大地必为我的善仆所继承。
106  对于崇拜主的民众,此经中确有充足的裨益。
107  我派遣你,只为怜悯全世界的人。
108  你说:我只奉到启示说:你们所当崇拜的,只是独一的主宰。你们归顺吗?
109  如果他们背离正道,你就说:我公平地通知你们, 我不知道你们所被警告的(刑罚)是临近的呢?还是遥远的呢?
110  他的确知道公开的言语,也知道你们所隐讳的。
111  我不知道,这或许是对你们的考验和暂时的享受。
112  他说:我的主啊!求你秉公判决。我们的主是至仁的主,对于你们所用以描述他的言语他是被求助的。

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  Se acerca el momento en que los hombres deban rendir cuentas, pero ellos, despreocupados, se desvían.
2  Cuando reciben una nueva amonestación de su Señor, la escuchan sin tomarla en serio,
3  divertidos sus corazones. Los impíos cuchichean entre sí: «¿No es éste sino un mortal como vosotros? ¿Cederéis a la magia a sabiendas?»
4  Dice: «Mi Señor sabe lo que se dice en el cielo y en la tierra. Él es Quien todo lo oye, Quien todo lo sabe».
5  Ellos, en cambio, dicen: «¡Amasijo de sueños! ¡No! ¡Él lo ha inventado! ¡No! Es un poeta! ¡Que nos traiga un signo como los antiguos enviados!»
6  Antes de ellos, ninguna de las ciudades que destruimos creía. Y éstos ¿van a creer?
7  Antes de ti, no enviamos sino a hombres a los que hicimos revelaciones. Si no lo sabéis, ¡preguntad a la gente de la Amonestación!
8  No les dimos un cuerpo que no necesitara alimentarse. Y no eran inmortales.
9  Cumplimos la promesa que les hicimos y les salvamos, igual que a otros a quienes Nosotros quisimos salvar, mientras que hicimos perecer a los inmoderados.
10  Os hemos revelado una Escritura en que se os amonesta. ¿Es que no comprendéis?
11  ¡Cuántas ciudades impías hemos arruinado, suscitando después a otros pueblos!
12  Cuando sintieron Nuestro rigor, quisieron escapar de ellas rápidamente.
13  «¡No huyáis, volved a vuestra vida regalada, a vuestras mansiones! Quizá se os pidan cuentas».
14  Dijeron: «¡Ay de nosotros, que hemos obrado impíamente!»
15  Y no cesaron en sus lamentaciones hasta que les segamos sin vida.
16  No creamos el cielo, la tierra y lo que entre ellos hay para pasar el rato.
17  Si hubiéramos querido distraernos, lo habríamos conseguido por Nosotros mismos, de habérnoslo propuesto.
18  Antes, al contrario, lanzamos la Verdad contra lo falso, lo invalida… y éste se disipa. ¡Ay de vosotros, por lo que contáis…!
19  Suyos son quienes están en los cielos y en la tierra. Y quienes están junto a Él no se consideran demasiado altos para servirle, ni se cansan de ello.
20  Glorifican noche y día sin cesar.
21  ¿Han tomado de la tierra a dioses capaces de resucitar?
22  Si hubiera habido en ellos otros dioses distintos de Alá, se habrían corrompido. ¡Gloria a Alá, Señor del Trono, Que está por encima de lo que cuentan!
23  No tendrá Él que responder de lo que hace, pero ellos tendrán que responder.
24  Entonces, ¿han tomado a dioses en lugar de tomarle a Él? Di: «¡Aportad vuestra prueba!». Ésta es la Amonestación de mis contemporáneos y la Amonestación de mis antecesores. Pero la mayoría no conocen la Verdad y se desvían.
25  Antes de ti no mandamos a ningún enviado que no le reveláramos: «¡No hay más dios que Yo! ¡Servidme, pues!»
26  Y dicen: «El Compasivo ha adoptado hijos». ¡Gloria a É! Son, nada más, siervos honrados.
27  Dejan que sea Él el primero en hablar y obran siguiendo Sus órdenes.
28  Él conoce su pasado y su futuro. No intercederán sino por aquéllos de quienes Él esté satisfecho. Están imbuidos del miedo que Él les inspira.
29  A quien de ellos diga: «Soy un dios fuera de Él» le retribuiremos con la gehena. Así retribuimos a los impíos.
30  ¿Es que no han visto los infieles que los cielos y la tierra formaban un todo homogéneo y los separamos? ¿Y que sacamos del agua a todo ser viviente? ¿Y no creerán?
31  Hemos colocado en la tierra montañas firmes para que ella y sus habitantes no vacilen. Hemos puesto en ella anchos pasos a modo de caminos. Quizás, así, sean bien dirigidos.
32  Hemos hecho del cielo una techumbre protegida. Pero ellos se desvían de sus signos.
33  Él es Quien ha creado la noche y el día, el sol y la luna. Cada uno navega en una órbita.
34  No hemos hecho eterno a ningún mortal antes de ti. Muriendo tú, ¿iban otros a ser inmortales?
35  Cada uno gustará la muerte. Os probamos tentándoos con el mal y con el bien. Y a Nosotros seréis devueltos.
36  Cuanto te ven los infieles«no hacen sino tomarte a burla: «¿Es Éste quien habla mal de vuestros dioses?» Y no creen en la amonestación del Compasivo.
37  El hombre ha sido creado precipitado. Ya os haré ver Mis signos. ¡No Me deis prisa!
38  que decís?» Y dicen: «¿Cuándo se cumplirá esta amenaza, si es verdad lo
39  Si supieran los infieles, cuando no puedan apartar el fuego de sus rostros ni de sus espaldas, cuando no puedan ser auxiliados…
40  Pero ¡no! Les vendrá de repente y les dejará aturdidos. No podrán ni rechazarla ni retardarla.
41  Se burlaron de otros enviados que te precedieron, pero los que se burlaban se vieron cercados por aquello de que se burlaban.
42  Di: «¿Quién os protegerá, noche y día. contra el Compasivo?» Pero no hacen caso de la amonestación de su Señor.
43  ¿Tienen dioses que les defiendan en lugar de Nosotros? Éstos no pueden auxiliarse a sí mismos, ni encontrarán quien les ayude frente a Nosotros.
44  Les hemos permitido gozar de efímeros placeres, a ellos y a sus padres, hasta alcanzar una edad avanzada. ¿Es que no se dan cuenta de Nuestra intervención cuando reducimos la superficie de la tierra? ¡Serán ellos los vencedores?
45  Di: «Os advierto, en verdad, por la Revelación, pero los sordos no oyen el llamamiento cuando se les advierte».
46  Si les alcanza un soplo del castigo de tu Señor, dicen de seguro: «¡Ay de nosotros, que hemos obrado impíamente!»
47  Para el día de la Resurrección dispondremos balanzas que den el peso justo y nadie será tratado injustamente en nada. Aunque se trate de algo del peso de un grano de mostaza, lo tendremos en cuenta. ¡Bastamos Nosotros para ajustar cuentas!
48  Dimos a Moisés y a Aarón el Criterio, una claridad y una amonestación para los temerosos de Alá,
49  que tienen miedo de su Señor en secreto y se preocupan por la Hora.
50  Esto es una amonestación bendita, que Nosotros hemos revelado ¿Y la negaréis?
51  Antes, dimos a Abraham, a quien conocíamos, la rectitud.
52  Cuando dijo a su padre y a su pueblo: «¿Qué son estas estatuas a cuyo culto estáis entregados?»
53  Dijeron: «Nuestros padres ya les rendían culto».
54  Dijo: «Pues vosotros y vuestros padres estáis evidentemente extraviados».
55  Dijeron: «¿Nos hablas en serio o bromeas?»
56  Dijo: «¡No! Vuestro Señor es el Señor de los cielos y de la tierra, que Él ha creado. Yo soy testigo de ello.
57  -¡Y por Alá!, que he de urdir algo contra vuestros ídolos cuando hayáis vuelto la espalda-».
58  Y los hizo pedazos, excepto a uno grande que les pertenecía. Quizás, así, volvieran a él.
59  Dijeron: «¿Quién ha hecho eso a nuestros dioses? Ese tal es, ciertamente, de los impíos».
60  «Hemos oído», dijeron, «a un mozo llamado Abraham que hablaba mal de ellos».
61  Dijeron: «¡Traedlo a vista de la gente! Quizás, así, sean testigos».
62  Dijeron: «¡Abraham! ¿Has hecho tú eso con nuestros dioses?»
63  «¡No!» dijo. «El mayor de ellos es quien lo ha hecho. ¡Preguntádselo, si es que son capaces de hablar!»
64  Se volvieron a sí mismos y dijeron: «Sois vosotros los impíos».
65  Pero, en seguida, mudaron completamente de opinión: «Tú sabes bien que éstos son incapaces de hablar».
66  Dijo: «¿Es que servís, en lugar de servir a Alá, lo que no puede aprovecharos nada, ni dañaros?
67  ¡Uf, vosotros y lo que servís en lugar de servir a Alá! ¿Es que no razonáis?»
68  Dijeron: «¡Quemadlo y auxiliad así a vuestros dioses, si es que os lo habéis propuesto…!»
69  Dijimos: «¡Fuego! ¡Sé frío para Abraham y no le dañes!»
70  Quisieron emplear artimañas contra él, pero hicimos que fueran ellos los que más perdieran.
71  Les salvamos, a él y a Lot, a la tierra que hemos bendecido para todo el mundo.
72  Y le regalamos, por añadidura, a Isaac y a Jacob. Y de todos hicimos justos.
73  Les hicimos jefes, que dirigieran siguiendo Nuestra orden. Les inspiramos que obraran bien, hicieran la azalá y dieran el azaque. Y Nos rindieron culto.
74  A Lot le dimos juicio y ciencia y le salvamos de la ciudad que se entregaba a la torpeza. Eran gente malvada, perversa.
75  Le introdujimos en Nuestra misericordia. Es de los justos.
76  Y a Noé. Cuando, antes, invocó y le escuchamos. Y les salvamos, a él y a los suyos, de la gran calamidad.
77  Y le auxiliamos contra el pueblo que había desmentido Nuestros signos. Eran gente mala y los anegamos a todos.
78  Y a David y Salomón. Cuando dictaron sentencia sobre el sembrado en que las ovejas de la gente se habían introducido de noche. Nosotros fuimos testigos de su sentencia.
79  Hicimos comprender a Salomón de qué se trataba. Dimos a cada uno juicio y ciencia. Sujetamos, junto con David, las montañas y las aves para que glorificaran. Nosotros hicimos eso.
80  Le enseñamos a elaborar cotas de malla para vosotros, para que os protegieran de vuestra propia violencia. ¿Ya lo agradecéis?
81  Y a Salomón el ventarrón, que sopla, a una orden suya, hacia la tierra que hemos bendecido. Lo sabemos todo…
82  De los demonios, había algunos que buceaban para él y hacían otros trabajos. Nosotros les vigilábamos.
83  Y a Job. Cuando invocó a su Señor: «¡He sufrido una desgracia, pero Tú eres la Suma Misericordia!»
84  Y le escuchamos, alejando de él la desgracia que tenía, dándole su familia y otro tanto, como misericordia venida de Nosotros y como amonestación para Nuestros siervos.
85  Y a Ismael, Idris y Dulkifl. Todos fueron de los pacientes.
86  Les introdujimos en Nuestra misericordia. Son de los justos.
87  Y al del pez. Cuando se fue airado y creyó que no podríamos hacer nada contra él. Y clamó en las tinieblas: «¡No hay más dios que Tú! ¡Gloria a Ti! He sido de los impíos».
88  Le escuchamos, pues, y le salvamos de la tribulación. Así es como salvamos a los creyentes.
89  Y a Zacarías. Cuando invocó a su Señor: «¡Señor! ¡No me dejes solo! ¡Pero Tú eres el Mejor de los herederos!»
90  Y le escuchamos y le regalamos Juan e hicimos que su esposa fuera capaz de concebir. Rivalizaban en buenas obras, Nos invocaban con amor y con temor y se conducían humildemente ante Nosotros.
91  Y a la que conservó su virginidad. Infundimos en ella de Nuestro Espíritu e hicimos de ella y de su hijo signo para todo el mundo.
92  «Ésta es vuestra comunidad, es una sola comunidad. Y Yo soy vuestro Señor. ¡Servidme, pues!»
93  Se dividieron en sectas, pero volverán todos a Nosotros.
94  El esfuerzo del creyente que obra bien no será ignorado. Nosotros tomamos nota.
95  Cuando destruimos una ciudad, les está prohibido a sus habitantes regresar a ella,
96  hasta que se suelte a Gog y Magog y se precipiten por toda colina abajo.
97  Se acerca la amenaza verdadera. Los infieles, desorbitados los ojos: «¡Ay de nosotros, que no sólo nos traía esto sin cuidado, sino que obrábamos impíamente!»
98  Vosotros y lo que servís en lugar de servir a Alá, seréis combustible para la gehena. ¡Bajaréis a ella!
99  Si ésos hubieran sido dioses, no habrían bajado a ella. Estarán todos en ella eternamente.
100  Gemirán en ella, pero no oirán en ella.
101  Aquéllos que ya hayan recibido de Nosotros lo mejor, serán mantenidos lejos de de ella.
102  No oirán el más leve ruido de ella y estarán eternamente en lo que tanto ansiaron.
103  No les entristecerá el gran terror y los ángeles saldrán a su encuentro: «¡Éste es vuestro día, que se os había prometido!»
104  Día en que plegaremos el cielo como se pliega un pergamino de escritos. Como creamos una vez primera, crearemos otra. ¡Es promesa que nos obliga y la cumpliremos!
105  Hemos escrito en los Salmos, después de la Amonestación, que la tierra la heredarán Mis siervos justos.
106  He aquí un comunicado para gente que rinde culto a Alá.
107  Nosotros no te hemos enviado sino como misericordia para todo el mundo.
108  Di: «Sólo se me ha revelado que vuestro Dios es un Dios Uno ¡,Os someteréis, pues, a Él?»
109  Si se desvían, di:«Os he informado a todos con equidad. Y no sé si aquello con que se os amenaza es inminente o remoto.
110  Él sabe tanto lo que decís abiertamente como lo que ocultáis»
111  No sé. Quizás eso constituya para vosotros tentación y disfrute por algún tiempo».
112  Dice: «¡Señor, decide según justicia! Nuestro Señor es el Compasivo, Aquél Cuya ayuda se implora contra lo que contáis».