Project Description

AL FURQAN

 شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  وہ (خدائے غزوجل) بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ اہل حال کو ہدایت کرے
۲  وہی کہ آسمان اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور جس نے (کسی کو) بیٹا نہیں بنایا اور جس کا بادشاہی میں کوئی شریک نہیں اور جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر اس کا ایک اندازہ ٹھہرایا
۳  اور (لوگوں نے) اس کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے گئے ہیں۔ اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اُٹھ کھڑے ہونا
۴  اور کافر کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) من گھڑت باتیں ہی جو اس (مدعی رسالت) نے بنالی ہیں۔ اور لوگوں نے اس میں اس کی مدد کی ہے۔ یہ لوگ (ایسا کہنے سے) ظلم اور جھوٹ پر (اُتر) آئے ہیں
۵  اور کہتے ہیں کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جس کو اس نے لکھ رکھا ہے اور وہ صبح وشام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں
۶  کہہ دو کہ اُس نے اُس کو اُتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے
۷  اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ کیوں نازل نہیں کیا گیا اس کے پاس کوئی فرشتہ اس کے ساتھ ہدایت کرنے کو رہتا
۸  یا اس کی طرف (آسمان سے) خزانہ اتارا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا کہ اس میں کھایا کرتا۔ اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو
۹  (اے پیغمبر) دیکھو تو یہ تمہارے بارے میں کس کس طرح کی باتیں کرتے ہیں سو گمراہ ہوگئے اور رستہ نہیں پاسکتے
۱۰  وہ (خدا) بہت بابرکت ہے جو اگر چاہے تو تمہارے لئے اس سے بہتر (چیزیں) بنا دے (یعنی) باغات جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں۔ نیز تمہارے لئے محل بنادے
۱۱  بلکہ یہ تو قیامت ہی کو جھٹلاتے ہیں اور ہم نے قیامت کے جھٹلانے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے
۱۲  جس وقت وہ ان کو دور سے دیکھے گی (تو غضبناک ہو رہی ہوگی اور یہ) اس کے جوش (غضب) اور چیخنے چلانے کو سنیں گے
۱۳  اور جب یہ دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں (زنجیروں میں) جکڑ کر ڈالے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے
۱۴  آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکارو
۱۵  پوچھو کہ یہ بہتر ہے یا بہشت جاودانی جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ ہے۔ یہ ان (کے عملوں) کا بدلہ اور رہنے کا ٹھکانہ ہوگا
۱۶  وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ وعدہ خدا کو (پورا کرنا) لازم ہے اور اس لائق ہے کہ مانگ لیا جائے
۱۷  اور جس دن (خدا) ان کو اور اُن کو جنہیں یہ خدا کے سوا پوجتے ہیں جمع کرے گا تو فرمائے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود گمراہ ہوگئے تھے
۱۸  وہ کہیں گے تو پاک ہے ہمیں یہ بات شایان نہ تھی کہ تیرے سوا اوروں کو دوست بناتے۔ لیکن تو نے ہی ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتنے کو نعمتیں دیں یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے۔ اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے
۱۹  تو (کافرو) انہوں نے تو تم کو تمہاری بات میں جھٹلا دیا۔ پس (اب) تم (عذاب کو) نہ پھیر سکتے ہو۔ نہ (کسی سے) مدد لے سکتے ہو۔ اور جو شخص تم میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو بڑے عذاب کا مزا چکھائیں گے
۲۰  اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرو گے۔ اور تمہارا پروردگار تو دیکھنے والا ہے
۲۱  اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے۔ کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہ نازل کئے گئے۔ یا ہم اپنی آنکھ سے اپنے پروردگار کو دیکھ لیں۔ یہ اپنے خیال میں بڑائی رکھتے ہیں اور (اسی بنا پر) بڑے سرکش ہو رہے ہی
۲۲  جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن گنہگاروں کے لئے خوشی کی بات نہیں ہوگی اور کہیں گے (خدا کرے تم) روک لئے (اور بند کردیئے) جاؤ
۲۳  اور جو انہوں نے عمل کئے ہوں گے ہم ان کی طرف متوجہ ہوں گے تو ان کو اُڑتی خاک کردیں گے
۲۴  اس دن اہل جنت کا ٹھکانا بھی بہتر ہوگا اور مقام استراحت بھی ہوگا
۲۵  اور جس دن آسمان ابر کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل کئے جائیں گے
۲۶  اس دن سچی بادشاہی خدا ہی کی ہوگی۔ اور وہ دن کافروں پر (سخت) مشکل ہوگا
۲۷  اور جس دن (ناعاقبت اندیش) ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا (اور کہے گا) کہ اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رشتہ اختیار کیا ہوتا
۲۸  ہائے شامت کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا
۲۹  اس نے مجھ کو (کتاب) نصیحت کے میرے پاس آنے کے بعد بہکا دیا۔ اور شیطان انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے
۳۰  اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا
۳۱  اور اسی طرح ہم نے گنہگاروں میں سے ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا۔ اور تمہارا پروردگار ہدایت دینے اور مدد کرنے کو کافی ہے
۳۲  اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں اُتارا گیا۔ اس طرح (آہستہ آہستہ) اس لئے اُتارا گیا کہ اس سے تمہارے دل کو قائم رکھیں۔ اور اسی واسطے ہم اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے رہے ہیں
۳۳  اور یہ لوگ تمہارے پاس جو (اعتراض کی) بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اس کا معقول اور خوب مشرح جواب بھیج دیتے ہیں
۳۴  جو لوگ اپنے مونہوں کے بل دوزخ کی طرف جمع کئے جائیں گے ان کا ٹھکانا بھی برا ہے اور وہ رستے سے بھی بہکے ہوئے ہیں
۳۵  اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے بھائی ہارون کو مددگار بنا کر ان کے ساتھ کیا
۳۶  اور کہا کہ دونوں ان لوگوں کے پاس جاؤ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی۔ (جب تکذیب پر اڑے رہے) تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا
۳۷  اور نوح کی قوم نے بھی جب پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں غرق کر ڈالا اور لوگوں کے لئے نشانی بنا دیا۔ اور ظالموں کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے
۳۸  اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں اور ان کے درمیان اور بہت سی جماعتوں کو بھی (ہلاک کر ڈالا)
۳۹  اور سب کے (سمجھانے کے لئے) ہم نے مثالیں بیان کیں اور (نہ ماننے پر) سب کا تہس نہس کردیا
۴۰  اور یہ کافر اس بستی پر بھی گزر چکے ہیں جس پر بری طرح کا مینہ برسایا گیا تھا۔ کیا وہ اس کو دیکھتے نہ ہوں گے۔ بلکہ ان کو (مرنے کے بعد) جی اُٹھنے کی امید ہی نہیں تھی۔
۴۱  اور یہ لوگ جب تم کو دیکھتے ہیں تو تمہاری ہنسی اُڑاتے ہیں۔ کہ کیا یہی شخص ہے جس کو خدا نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے
۴۲  اگر ہم نے اپنے معبودوں کے بارے میں ثابت قدم نہ رہتے تو یہ ضرور ہم کو بہکا دیتا۔ (اور ان سے پھیر دیتا) اور یہ عنقریب معلوم کرلیں گے جب عذاب دیکھیں گے کہ سیدھے رستے سے کون بھٹکا ہوا ہے
۴۳  کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے خواہش نفس کو معبود بنا رکھا ہے تو کیا تم اس پر نگہبان ہوسکتے ہو
۴۴  یا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں (نہیں) یہ تو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں
۴۵  بلکہ تم نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کو نہیں دیکھا کہ وہ سائے کو کس طرح دراز کر (کے پھیلا) دیتا ہے۔ اور اگر وہ چاہتا تو اس کو (بےحرکت) ٹھیرا رکھتا پھر سورج کو اس کا رہنما بنا دیتا ہے
۴۶  پھر اس کو ہم آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں
۴۷  اور وہی تو ہے جس نے رات کو تمہارے لئے پردہ اور نیند کو آرام بنایا اور دن کو اُٹھ کھڑے ہونے کا وقت ٹھہرایا
۴۸  اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت کے مینھہ کے آگے ہواؤں کو خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے۔ اور ہم آسمان سے پاک (اور نتھرا ہوا) پانی برساتے ہیں
۴۹  تاکہ اس سے شہر مردہ (یعنی زمین افتادہ) کو زندہ کردیں اور پھر اسے بہت سے چوپایوں اور آدمیوں کو جو ہم نے پیدا کئے ہیں پلاتے ہیں
۵۰  اور ہم نے اس (قرآن کی آیتوں) کو طرح طرح سے لوگوں میں بیان کیا تاکہ نصیحت پکڑیں مگر بہت سے لوگوں نے انکار کے سوا قبول نہ کیا
۵۱  اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ڈرانے والا بھیج دیتے
۵۲  تو تم کافروں کا کہا نہ مانو اور ان سے اس قرآن کے حکم کے مطابق بڑے شدومد سے لڑو
۵۳  اور وہی تو ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا دیا ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا اور دوسرے کا کھاری چھاتی جلانے والا۔ اور دونوں کے درمیان ایک آڑ اور مضبوط اوٹ بنادی
۵۴  اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا۔ پھر اس کو صاحب نسب اور صاحب قرابت دامادی بنایا۔ اور تمہارا پروردگار (ہر طرح کی) قدرت رکھتا ہے
۵۵  اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کی پرستش کر تے ہیں جو نہ ان کو فائدہ پہنچا سکے اور نہ ضرر۔ اور کافر اپنے پروردگار کی مخالفت میں بڑا زور مارتا ہے
۵۶  اور ہم نے (اے محمدﷺ) تم کو صرف خوشی اور عذاب کی خبر سنانے کو بھیجا ہے
۵۷  کہہ دو کہ میں تم سے اس (کام) کی اجرت نہیں مانگتا، ہاں جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف جانے کا رستہ اختیار کرے
۵۸  اور اس (خدائے) زندہ پر بھروسہ رکھو جو (کبھی) نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو۔ اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کو کافی ہے
۵۹  جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا وہ (جس کا نام) رحمٰن (یعنی بڑا مہربان ہے) تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کرلو
۶۰  اور جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمٰن کیا؟ کیا جس کے لئے تم ہم سے کہتے ہو ہم اس کے آگے سجدہ کریں اور اس سے بدکتے ہیں
۶۱  اور (خدا) بڑی برکت والا ہے جس نے آسمانوں میں برج بنائے اور ان میں (آفتاب کا نہایت روشن) چراغ اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا
۶۲  اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا۔ (یہ باتیں) اس شخص کے لئے جو غور کرنا چاہے یا شکرگزاری کا ارادہ کرے (سوچنے اور سمجھنے کی ہیں)
۶۳  اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) گفتگو کرتے ہیں تو سلام کہتے ہیں
۶۴  اور جو وہ اپنے پروردگار کے آگے سجدے کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتیں بسر کرتے ہیں
۶۵  اور جو دعا مانگتے رہتے ہیں کہ اے پروردگار دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھیو کہ اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے
۶۶  اور دوزخ ٹھیرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے
۶۷  اور وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بےجا اُڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ۔ نہ ضرورت سے زیادہ نہ کم
۶۸  اور وہ جو خدا کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جن جاندار کو مار ڈالنا خدا نے حرام کیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے مگر جائز طریق پر (یعنی شریعت کے مطابق) اور بدکاری نہیں کرتے۔ اور جو یہ کام کرے گا سخت گناہ میں مبتلا ہوگا
۶۹  قیامت کے دن اس کو دونا عذاب ہوگا اور ذلت وخواری سے ہمیشہ اس میں رہے گا
۷۰  مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کئے تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو خدا نیکیوں سے بدل دے گا۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے
۷۱  اور جو توبہ کرتا اور عمل نیک کرتا ہے تو بےشک وہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے
۷۲  اور وہ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب ان کو بیہودہ چیزوں کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہو تو بزرگانہ انداز سے گزرتے ہیں
۷۳  اور وہ کہ جب ان کو پروردگار کی باتیں سمجھائی جاتی ہیں تو اُن پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے (بلکہ غور سے سنتے ہیں)
۷۴  اور وہ جو (خدا سے) دعا مانگتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے (دل کا چین) اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا
۷۵  ان (صفات کے) لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیئے جائیں گے۔ اور وہاں فرشتے ان سے دعا وسلام کے ساتھ ملاقات کریں گے
۷۶  اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور وہ ٹھیرنے اور رہنے کی بہت ہی عمدہ جگہ ہے
۷۷  کہہ دو کہ اگر تم (خدا کو) نہیں پکارتے تو میرا پروردگار بھی تمہاری کچھ پروا نہیں کرتا۔ تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا (تمہارے لئے) لازم ہوگی

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا
٢  الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا
٣  وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيَاةً وَلَا نُشُورًا
٤  وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا إِفْكٌ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ آخَرُونَ ۖ فَقَدْ جَاءُوا ظُلْمًا وَزُورًا
٥  وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَىٰ عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
٦  قُلْ أَنْزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا
٧  وَقَالُوا مَالِ هَٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ۙ لَوْلَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا
٨  أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنْزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا ۚ وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَسْحُورًا
٩  انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا
١٠  تَبَارَكَ الَّذِي إِنْ شَاءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِنْ ذَٰلِكَ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَيَجْعَلْ لَكَ قُصُورًا
١١  بَلْ كَذَّبُوا بِالسَّاعَةِ ۖ وَأَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيرًا
١٢  إِذَا رَأَتْهُمْ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا
١٣  وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا
١٤  لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا
١٥  قُلْ أَذَٰلِكَ خَيْرٌ أَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ۚ كَانَتْ لَهُمْ جَزَاءً وَمَصِيرًا
١٦  لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَاءُونَ خَالِدِينَ ۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ وَعْدًا مَسْئُولًا
١٧  وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَقُولُ أَأَنْتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِي هَٰؤُلَاءِ أَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيلَ
١٨  قَالُوا سُبْحَانَكَ مَا كَانَ يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَتَّخِذَ مِنْ دُونِكَ مِنْ أَوْلِيَاءَ وَلَٰكِنْ مَتَّعْتَهُمْ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ نَسُوا الذِّكْرَ وَكَانُوا قَوْمًا بُورًا
١٩  فَقَدْ كَذَّبُوكُمْ بِمَا تَقُولُونَ فَمَا تَسْتَطِيعُونَ صَرْفًا وَلَا نَصْرًا ۚ وَمَنْ يَظْلِمْ مِنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِيرًا
٢٠  وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ ۗ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ ۗ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرًا
٢١  وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا ۗ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنْفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا
٢٢  يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ لَا بُشْرَىٰ يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا
٢٣  وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَنْثُورًا
٢٤  أَصْحَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مُسْتَقَرًّا وَأَحْسَنُ مَقِيلًا
٢٥  وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا
٢٦  الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَٰنِ ۚ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا
٢٧  وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
٢٨  يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
٢٩  لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي ۗ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنْسَانِ خَذُولًا
٣٠  وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا
٣١  وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا
٣٢  وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً ۚ كَذَٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ ۖ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا
٣٣  وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا
٣٤  الَّذِينَ يُحْشَرُونَ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ إِلَىٰ جَهَنَّمَ أُولَٰئِكَ شَرٌّ مَكَانًا وَأَضَلُّ سَبِيلًا
٣٥  وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَجَعَلْنَا مَعَهُ أَخَاهُ هَارُونَ وَزِيرًا
٣٦  فَقُلْنَا اذْهَبَا إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَدَمَّرْنَاهُمْ تَدْمِيرًا
٣٧  وَقَوْمَ نُوحٍ لَمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ أَغْرَقْنَاهُمْ وَجَعَلْنَاهُمْ لِلنَّاسِ آيَةً ۖ وَأَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ عَذَابًا أَلِيمًا
٣٨  وَعَادًا وَثَمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَٰلِكَ كَثِيرًا
٣٩  وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْأَمْثَالَ ۖ وَكُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيرًا
٤٠  وَلَقَدْ أَتَوْا عَلَى الْقَرْيَةِ الَّتِي أُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ ۚ أَفَلَمْ يَكُونُوا يَرَوْنَهَا ۚ بَلْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ نُشُورًا
٤١  وَإِذَا رَأَوْكَ إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ رَسُولًا
٤٢  إِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَنْ صَبَرْنَا عَلَيْهَا ۚ وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا
٤٣  أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنْتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا
٤٤  أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ ۚ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ ۖ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا
٤٥  أَلَمْ تَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ وَلَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنًا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيلًا
٤٦  ثُمَّ قَبَضْنَاهُ إِلَيْنَا قَبْضًا يَسِيرًا
٤٧  وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِبَاسًا وَالنَّوْمَ سُبَاتًا وَجَعَلَ النَّهَارَ نُشُورًا
٤٨  وَهُوَ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ ۚ وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا
٤٩  لِنُحْيِيَ بِهِ بَلْدَةً مَيْتًا وَنُسْقِيَهُ مِمَّا خَلَقْنَا أَنْعَامًا وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا
٥٠  وَلَقَدْ صَرَّفْنَاهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوا فَأَبَىٰ أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا
٥١  وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ نَذِيرًا
٥٢  فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا
٥٣  وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَحْجُورًا
٥٤  وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا ۗ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا
٥٥  وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُهُمْ وَلَا يَضُرُّهُمْ ۗ وَكَانَ الْكَافِرُ عَلَىٰ رَبِّهِ ظَهِيرًا
٥٦  وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا
٥٧  قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِلَّا مَنْ شَاءَ أَنْ يَتَّخِذَ إِلَىٰ رَبِّهِ سَبِيلًا
٥٨  وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِ ۚ وَكَفَىٰ بِهِ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا
٥٩  الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۚ الرَّحْمَٰنُ فَاسْأَلْ بِهِ خَبِيرًا
٦٠  وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اسْجُدُوا لِلرَّحْمَٰنِ قَالُوا وَمَا الرَّحْمَٰنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُورًا ۩
٦١  تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُنِيرًا
٦٢  وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا
٦٣  وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا
٦٤  وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا
٦٥  وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا
٦٦  إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا
٦٧  وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا
٦٨  وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۚ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا
٦٩  يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا
٧٠  إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا
٧١  وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مَتَابًا
٧٢  وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا
٧٣  وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا
٧٤  وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
٧٥  أُولَٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا
٧٦  خَالِدِينَ فِيهَا ۚ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا
٧٧  قُلْ مَا يَعْبَأُ بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ ۖ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  Blessed is He who sent down the Criterion upon His Servant that he may be to the worlds a warner –
2  He to whom belongs the dominion of the heavens and the earth and who has not taken a son and has not had a partner in dominion and has created each thing and determined it with [precise] determination.
3  But they have taken besides Him gods which create nothing, while they are created, and possess not for themselves any harm or benefit and possess not [power to cause] death or life or resurrection.
4  And those who disbelieve say, “This [Qur’an] is not except a falsehood he invented, and another people assisted him in it.” But they have committed an injustice and a lie.
5  And they say, “Legends of the former peoples which he has written down, and they are dictated to him morning and afternoon.”
6  Say, [O Muhammad], “It has been revealed by He who knows [every] secret within the heavens and the earth. Indeed, He is ever Forgiving and Merciful.”
7  And they say, “What is this messenger that eats food and walks in the markets? Why was there not sent down to him an angel so he would be with him a warner?
8  Or [why is not] a treasure presented to him [from heaven], or does he [not] have a garden from which he eats?” And the wrongdoers say, “You follow not but a man affected by magic.”
9  Look how they strike for you comparisons; but they have strayed, so they cannot [find] a way.
10  Blessed is He who, if He willed, could have made for you [something] better than that – gardens beneath which rivers flow – and could make for you palaces.
11  But they have denied the Hour, and We have prepared for those who deny the Hour a Blaze.
12  When the Hellfire sees them from a distant place, they will hear its fury and roaring.
13  And when they are thrown into a narrow place therein bound in chains, they will cry out thereupon for destruction.
14  [They will be told], “Do not cry this Day for one destruction but cry for much destruction.”
15  Say, “Is that better or the Garden of Eternity which is promised to the righteous? It will be for them a reward and destination.
16  For them therein is whatever they wish, [while] abiding eternally. It is ever upon your Lord a promise [worthy to be] requested.
17  And [mention] the Day He will gather them and that which they worship besides Allah and will say, “Did you mislead these, My servants, or did they [themselves] stray from the way?”
18  They will say, “Exalted are You! It was not for us to take besides You any allies. But You provided comforts for them and their fathers until they forgot the message and became a people ruined.”
19  So they will deny you, [disbelievers], in what you say, and you cannot avert [punishment] or [find] help. And whoever commits injustice among you – We will make him taste a great punishment.
20  And We did not send before you, [O Muhammad], any of the messengers except that they ate food and walked in the markets. And We have made some of you [people] as trial for others – will you have patience? And ever is your Lord, Seeing.
21  And those who do not expect the meeting with Us say, “Why were not angels sent down to us, or [why] do we [not] see our Lord?” They have certainly become arrogant within themselves and [become] insolent with great insolence.
22  The day they see the angels – no good tidings will there be that day for the criminals, and [the angels] will say, “Prevented and inaccessible.”
23  And We will regard what they have done of deeds and make them as dust dispersed.
24  The companions of Paradise, that Day, are [in] a better settlement and better resting place.
25  And [mention] the Day when the heaven will split open with [emerging] clouds, and the angels will be sent down in successive descent.
26  True sovereignty, that Day, is for the Most Merciful. And it will be upon the disbelievers a difficult Day.
27  And the Day the wrongdoer will bite on his hands [in regret] he will say, “Oh, I wish I had taken with the Messenger a way.
28  Oh, woe to me! I wish I had not taken that one as a friend.
29  He led me away from the remembrance after it had come to me. And ever is Satan, to man, a deserter.”
30  And the Messenger has said, “O my Lord, indeed my people have taken this Qur’an as [a thing] abandoned.”
31  And thus have We made for every prophet an enemy from among the criminals. But sufficient is your Lord as a guide and a helper.
32  And those who disbelieve say, “Why was the Qur’an not revealed to him all at once?” Thus [it is] that We may strengthen thereby your heart. And We have spaced it distinctly.
33  And they do not come to you with an argument except that We bring you the truth and the best explanation.
34  The ones who are gathered on their faces to Hell – those are the worst in position and farthest astray in [their] way.
35  And We had certainly given Moses the Scripture and appointed with him his brother Aaron as an assistant.
36  And We said, “Go both of you to the people who have denied Our signs.” Then We destroyed them with [complete] destruction.
37  And the people of Noah – when they denied the messengers, We drowned them, and We made them for mankind a sign. And We have prepared for the wrongdoers a painful punishment.
38  And [We destroyed] ‘Aad and Thamud and the companions of the well and many generations between them.
39  And for each We presented examples [as warnings], and each We destroyed with [total] destruction.
40  And they have already come upon the town which was showered with a rain of evil. So have they not seen it? But they are not expecting resurrection.
41  And when they see you, [O Muhammad], they take you not except in ridicule, [saying], “Is this the one whom Allah has sent as a messenger?
42  He almost would have misled us from our gods had we not been steadfast in [worship of] them.” But they are going to know, when they see the punishment, who is farthest astray in [his] way.
43  Have you seen the one who takes as his god his own desire? Then would you be responsible for him?
44  Or do you think that most of them hear or reason? They are not except like livestock. Rather, they are [even] more astray in [their] way.
45  Have you not considered your Lord – how He extends the shadow, and if He willed, He could have made it stationary? Then We made the sun for it an indication.
46  Then We hold it in hand for a brief grasp.
47  And it is He who has made the night for you as clothing and sleep [a means for] rest and has made the day a resurrection.
48  And it is He who sends the winds as good tidings before His mercy, and We send down from the sky pure water
49  That We may bring to life thereby a dead land and give it as drink to those We created of numerous livestock and men.
50  And We have certainly distributed it among them that they might be reminded, but most of the people refuse except disbelief.
51  And if We had willed, We could have sent into every city a warner.
52  So do not obey the disbelievers, and strive against them with the Qur’an a great striving.
53  And it is He who has released [simultaneously] the two seas, one fresh and sweet and one salty and bitter, and He placed between them a barrier and prohibiting partition.
54  And it is He who has created from water a human being and made him [a relative by] lineage and marriage. And ever is your Lord competent [concerning creation].
55  But they worship rather than Allah that which does not benefit them or harm them, and the disbeliever is ever, against his Lord, an assistant [to Satan].
56  And We have not sent you, [O Muhammad], except as a bringer of good tidings and a warner.
57  Say, “I do not ask of you for it any payment – only that whoever wills might take to his Lord a way.”
58  And rely upon the Ever-Living who does not die, and exalt [Allah] with His praise. And sufficient is He to be, with the sins of His servants, Acquainted –
59  He who created the heavens and the earth and what is between them in six days and then established Himself above the Throne – the Most Merciful, so ask about Him one well informed.
60  And when it is said to them, “Prostrate to the Most Merciful,” they say, “And what is the Most Merciful? Should we prostrate to that which you order us?” And it increases them in aversion.
61  Blessed is He who has placed in the sky great stars and placed therein a [burning] lamp and luminous moon.
62  And it is He who has made the night and the day in succession for whoever desires to remember or desires gratitude.
63  And the servants of the Most Merciful are those who walk upon the earth easily, and when the ignorant address them [harshly], they say [words of] peace,
64  And those who spend [part of] the night to their Lord prostrating and standing [in prayer] 65  And those who say, “Our Lord, avert from us the punishment of Hell. Indeed, its punishment is ever adhering;
66  Indeed, it is evil as a settlement and residence.”
67  And [they are] those who, when they spend, do so not excessively or sparingly but are ever, between that, [justly] moderate
68  And those who do not invoke with Allah another deity or kill the soul which Allah has forbidden [to be killed], except by right, and do not commit unlawful sexual intercourse. And whoever should do that will meet a penalty.
69  Multiplied for him is the punishment on the Day of Resurrection, and he will abide therein humiliated –
70  Except for those who repent, believe and do righteous work. For them Allah will replace their evil deeds with good. And ever is Allah Forgiving and Merciful.
71  And he who repents and does righteousness does indeed turn to Allah with [accepted] repentance.
72  And [they are] those who do not testify to falsehood, and when they pass near ill speech, they pass by with dignity.
73  And those who, when reminded of the verses of their Lord, do not fall upon them deaf and blind.
74  And those who say, “Our Lord, grant us from among our wives and offspring comfort to our eyes and make us an example for the righteous.”
75  Those will be awarded the Chamber for what they patiently endured, and they will be received therein with greetings and [words of] peace.
76  Abiding eternally therein. Good is the settlement and residence.
77  Say, “What would my Lord care for you if not for your supplication?” For you [disbelievers] have denied, so your denial is going to be adherent.

奉至仁至慈的真主之名

1  圣洁哉真主!他降示准则给他的仆人,以便他做全世界的警告者。
2  天地的国土是他的;他没有收养儿子,在国土中没有伙伴。他创造万物,并加以精密的注定。
3  他们注定除真主外崇拜许多神灵,那些神灵不能创造任何物,他们自己却是被造的;他们不能主持自身的祸福,也不能主持(他人的)生死和复活。
4  不信道者说:这只是他所捏造的摇言,别的许多人曾帮助他。他们已做了不义的事,已说了不义的谬妄的话。
5  他们说:这是古人的神话,他使人抄录下来,朝夕对他诵读
6  你说:知道天地的奥秘者降示了它。他确是至赦的,确是至慈的。
7  他们说:这个使者怎么也吃饭,也往来于市场之间呢?为何真主不派一个天神降临他,而与他同为警告者,
8  或者把一个财宝赏赐他,或者他有一座果园,供他食用呢?不义者说:你们只顺从一个被蛊惑者。
9  你看他们怎样为你打了许多譬喻,而他们自己误入歧途,故不能获得一条正路。
10  圣洁哉真主!如果他意欲,他要赏赐你比那个更好的,即下临诸河的一些果园,他要赏赐他一些大厦。
11  不然,他们否认复活时,我已为否认复活时者预备烈火。
12  当他从远处看见他们的时候,他们听见爆裂声和太息声。
13  当他们被枷锁着投入烈火中一个狭隘地方的时候,他们在那里哀号求死。
14  今天你们不要哀求一死,你们当哀求多死。
15  你说:这是更好的呢?还是应许敬畏者永居其中的乐园更好呢?它是他们所有的报酬和归宿,
16  他们在乐园中得享受自己所意欲的(幸福)。他们将永居其中,这是可以向你的主要求实践的诺言。
17  在那日,他要把他们和他们舍真主而崇拜的(偶像)集合起来,然后说:究竟是你们使我的这些仆人迷误呢?还是他们自己叛离正路呢?
18  他们说:我们赞颂你超绝万物,我们不该舍你而敬事任何神灵。但你曾使他们及其祖先享乐,直到他们遗忘了记念,他们原是灭亡的民众。
19  主说:他们确已否认你们所说的话,你们不能逃避刑罚,也不能自助。你们中谁是不义的,我要使谁尝试严峻的刑罚。
20  我在你之前所派遣的使者,没有一个是不吃饭的,没有一个是不来往于市场之间的。我使你们互相考验,看看你们能忍耐吗?你的主是明察的。
21  不希望与我相会者曾说:怎么不使众天神降临我们,或者得见我们的主呢?他们确已妄自尊大,确已大逆不道。
22  他们看见众天神的日子,犯罪者将没有好消息,众天神要对他们说:(乐园对于你们)是应为严禁的。
23  我将处理他们所行的善功,而使它变成飞扬的灰尘。
24  在那日,乐园的居民将在一个最优的居住之地,一个最美的休息之所。
25  在那日,诸天将与白云一道破裂,众天神将奉命庄严地降临。
26  在那日,真实的国土是属于至仁主的。那日,对不信道者是一个严酷的日子。
27  在那日,不义者一面咬手一面说:啊!但愿我曾与使者采取同一道路。
28  啊!哀哉!但愿我没有以某人为朋友。
29  记念既降临之后,他确已使我违背它。恶魔向来是遗弃人的。
30  使者曾说:我的主啊!我的宗族以这《古兰经》为弃物。
31  我这样使每个先知,都有一些罪人做他的仇敌,你的主足为引导者和援助者。
32  不信道者曾说:怎么不把全部《古兰经》一次降示他呢?我那样零零星星地降示它以便我凭它来坚定你的心,我逐渐降示它。
33  他们每向你提出一种非难,我就启示你真理和更美满的解释。
34  那些被匍匐着集合于火狱者地位更恶劣,是偏离正路更远的。
35  我确已把经典赏赐穆萨,并且任命他的哥哥哈伦做他的助手。
36  我说:你俩去教化那些否认我的迹象的民众。我终于毁灭了他们。
37  努哈的宗族否认使者的时候,我淹死了他们,并且以他们为世人的鉴戒。我已为不义者准备了痛苦的刑罚。
38  阿德人、赛莫德人、兰斯的居民以及在他们之间的若干世代,
39  我已为每一个世代的人阐明过许多譬喻,我毁灭了每一世代的人。
40  他们确已经历那遭恶雨的城市,难道他们没有看见它吗?不然,他们不希望复活。
41  当他们见你的时候,只把你当作笑柄, (他们说):这就是真主派来当使者的吗?
42  要不是我们坚持着要崇拜我们的神灵,那么,他几乎使我们偏离他们了。 他们看见刑罚的时候,将要知道谁是偏离正路的。
43  你告诉我吧,以私欲为其神灵者,你能做他的监护者吗?
44  难道你以为他们大半是能听从或者能了解的人吗?他们只象牲畜一样, 他们甚至是更迷误的。
45  难道你没有看见你的主怎样伸展阴影吗?假若他意欲,他必定使阴影成为静止的。我以太阳为其标志,
46  然后我逐渐地收回阴影。
47  主以黑夜为你们的衣服,以睡眠供你们安息,以白昼供你们苏醒。
48  主在降恩之前,使风先来报喜。我从云中降下清洁的雨水,
49  以便我借雨水而使已死的大地复活,并用雨水供我所创造的牲畜和人们做饮料。
50  我确已把雨水分配在他们之间,以便他们记忆。但他们大半只愿忘恩负义。
51  假若我意欲,我必在每座城市中派遣一个警告者。
52  所以你不要顺从不信道者,你应当借此《古兰经》而与他们努力奋斗。
53  他就是任两海之间自由交流的,这是很甜的淡水,那是很苦的咸水;他在两海之间设置屏障和堤防。
54  他就是用精水创造人,使人成为血族和姻亲的。你的主是全能的。
55  他们舍真主而崇拜那些对他们既无福又无祸的东西, 不信道者是协助他人以反抗自己的主的。
56  我只派遣你为报喜者和警告者。
57  你说:我对于完成这项使命,不向你们索取任何报酬, 但望有志者能由此大道而达到其主宰。
58  你应当信任永生不灭的主,你应当赞颂他超绝万物。他足以彻知他的罪过。
59  在六日内创造天地万物,然后升上宝座的,是至仁主。你应当以他(的德行)请教精明者。
60  如果有人对他们说:你们应当为至仁主而叩头。 他们就说:至仁主是什么?难道我们因奉你的命令而叩头吗?那使他们更加反感。(此处叩头!)※
61  圣洁哉真主!他把许多宫造在天上,又造明灯和灿烂的月亮。
62  他就是为欲觉悟或欲感谢者,而使昼夜更迭的。
63  至仁主的仆人是在大地上谦逊而行的;当愚人以恶言伤害他们的时候,他们说:祝你们平安。
64  他们为他们的主而通宵叩头;
65  他们常说:我们的主啊!求你为我们避开火狱的刑罚。 火狱的刑罚是令人非常痛苦的,
66  确是恶劣的住处和居所。
67  他们用钱的时候,既不挥霍,又不吝啬,谨守中道;
68  他们只祈祷真主,不祈祷别的神灵;他们不违背真主的禁令而杀人, 除非由于偿命;他们也不通奸。谁犯此类(罪恶),谁遭惩罚;
69  复活日要受加倍的刑罚,而受辱地永居其中。
70  惟悔过而且信道并行善功者,真主将勾销其罪行,而录取其善功。真主是至赦的,是至慈的。
71  悔过而且行善者,确已转向真主。
72  他们不做假见证,他们听到恶言的时候谦逊地走开。
73  有人以他们的主的迹象劝戒他们的时候,听讲并不装聋作瞎地打鼾。
74  他们说:我们的主啊!求你以我们的妻子儿女为我们的安慰,求你以我们为敬畏者的典范。
75  这等人能坚忍,因此将受高级的报酬,他们在乐园里,将听见祝寿和祝安。
76  他们将永居其中。乐园是优美的住处和居所。
77  你说:假若没有你们的祈祷,我的主并不关切你们,但你们既已否认真理,你们将要受无法解脱的刑罚。

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  ¡Bendito sea Quien ha revelado el Criterio a Su siervo a fin de que sea monitor para todo el mundo.
2  Quien posee el dominio de los cielos y de la tierra, no ha adoptado un hijo ni tiene asociado en el dominio, lo ha creado todo y lo ha determinado por completo!
3  En lugar de tomarle a Él, han tomado a dioses que no crean nada, sino que ellos mismos son creados, que no disponen, ni siquiera para sí mismos, de lo que puede dañar o aprovechar, y no tienen poder sobre la muerte, ni sobre la vida, ni sobre la resurrección.
4  Dicen los infieles: «Esto no es sino una mentira, que él se ha inventado y en la que otra gente le ha ayudado». Obran impía y dolosamente.
5  Y dicen: «Patrañas de los antiguos que él se ha apuntado. Se las dictan mañana y tarde».
6  Di: «Lo ha revelado Quien conoce el secreto en los cielos y en la tierra. Es indulgente, misericordioso».
7  Y dicen: «¿Qué clase de Enviado es éste que se alimenta y pasea por los mercados? ¿Por qué no se le ha mandado de lo alto un ángel que sea, junto a él, monitor…?
8  ¿Por qué no se le ha dado un tesoro o por qué no tiene un jardín de cuyos frutos pueda comer…?» Los impíos dicen: «No seguís sino a un hombre hechizado».
9  ¡ Mira a qué te comparan! Se extravían y no pueden encontrar un camino.
10  ¡Bendito sea Quien, si quiere, puede darte algo mejor que eso: jardines por cuyos bajos fluyen arroyos, palacios!
11  Pero ¡no! Desmienten la Hora y hemos preparado fuego de la gehena para quienes desmienten la Hora.
12  Cuando les vea, lejos aún, oirán su furor y bramido.
13  Cuando, atados unos a otros, sean precipitados en un lugar estrecho de él, invocarán entonces la destrucción.
14  «¡No invoquéis hoy una sola destrucción sino muchas destrucciones!»
15  Di: «¿Vale más esto que el Jardín de inmortalidad que se ha prometido a los temerosos de Alá como retribución y fin último?»
16  Inmortales, tendrán cuanto deseen. Es una promesa que obliga a tu Señor.
17  El día que Él les congregue, a ellos y a los que servían en lugar de servir a Alá, dirá: «¿Sois vosotros los que habéis extraviado a estos Mis siervos o ellos solos se han extraviado del Camino?»
18  Dirán: «¡Gloria a Ti! No nos estaba bien que tomáramos a otros como amigos, en lugar de tomarte a Ti. Pero les permitiste gozar tanto, a ellos y a sus padres, que olvidaron la Amonestación y fueron gente perdida».
19  «Os desmienten lo que decís. No podréis escapar al castigo ni encontrar quien os auxilie. A quien de vosotros obre impíamente le haremos gustar un gran castigo».
20  Antes de ti no mandamos más que a enviados que se alimentaban y paseaban por los mercados. Hemos puesto a algunos de vosotros como prueba para los demás, a ver si tenéis paciencia. Tu Señor todo lo ve.
21  Los que no cuentan con encontrarnos, dicen: «¿Por qué no se nos han enviado de lo alto ángeles o por qué no vemos a nuestro Señor?» Fueron altivos en sus adentros y se insolentaron sobremanera.
22  El día que vean a los ángeles, no habrá, ese día, buenas nuevas para los pecadores. Dirán: «¡Límite infranqueable!»
23  Examinaremos sus obras y haremos de ellas polvo disperso en el aire.
24  Ese día los moradores del Jardín gozarán de la mejor morada y del más bello descansadero.
25  El día que se desgarre el nubarrón del cielo y sean enviados abajo los ángeles.
26  ese día, el dominio, el verdadero, será del Compasivo, y será un día difícil para los infieles.
27  el día que el impío se muerda las manos diciendo: «¡Ojalá hubiera seguido un mismo camino que el Enviado!
28  ¡Ay de mí! ¡Ojalá no hubiera tomado a fulano como amigo!
29  Me ha desviado de la Amonestación, después de haber venido a mí». El Demonio siempre deja colgado al hombre.
30  El Enviado dice: «¡Señor! ¡Mi pueblo ha cobrado aversión a este Corán !»
31  Así hemos asignado a cada profeta un enemigo de entre los pecadores. Pero tu Señor basta como guía y auxilio.
32  Los infieles dicen: «¿Por qué no se le ha revelado el Corán de una vez?» Para, así, confirmar con él tu corazón. Y lo hemos hecho recitar lenta y claramente.
33  No te proponen ninguna parábola que no te aportemos Nosotros el verdadero sentido y la mejor interpretación.
34  Aquéllos que sean congregados, boca abajo, hacia la gehena serán los que se encuentren en la situación peor y los más extraviados del Camino.
35  Dimos a Moisés la Escritura y pusimos a su hermano Aarón como ayudante suyo.
36  Y dijimos: «¡Id al pueblo que ha desmentido Nuestros signos!» Y los aniquilamos.
37  Y al pueblo de Noé. Cuando desmintió a los enviados, le anegamos e hicimos de él un signo para los hombres. Y hemos preparado un castigo doloroso para los impíos.
38  A los aditas, a los tamudeos, a los habitantes de ar-Rass y a muchas generaciones intermedias…
39  A todos les dimos ejemplos y a todos les exterminamos.
40  Han pasado por las ruinas de la ciudad sobre la que cayó una lluvia maléfica. Se diría que no la han visto, porque no esperan una resurrección.
41  Cuando te ven, no hacen sino tomarte a burla: «¿Es éste el que Alá ha mandado como enviado?
42  Si no llega a ser porque nos hemos mantenido fieles a nuestros dioses, nos habría casi desviado de ellos». Pero, cuando vean el castigo, sabrán quién se ha extraviado más del Camino.
43  ¿Qué te parece quien ha divinizado su pasión? ¿Vas a ser tú su protector?
44  ¿Crees que la mayoría oyen o entienden? No son sino como rebaños. No, más extraviados aún del Camino.
45  ¿No ves cómo hace tu Señor que se deslice la sombra? Si quisiera, podría hacerla fija. Además, hemos hecho del sol guía para ella.
46  Luego, la atraemos hacia Nosotros con facilidad.
47  Él es Quien ha hecho para vosotros de la noche vestidura, del sueño descanso, del día resurrección.
48  Él es Quien envía los vientos como nuncios que preceden a Su misericordia. Hacemos bajar del cielo agua pura,
49  para vivificar con ella un país muerto y dar de beber, entre lo que hemos creado, a la multitud de rebaños y seres humanos.
50  La hemos distribuido entre ellos para que se dejen amonestar, pero la mayoría de los hombres no quieren sino ser infieles.
51  Si hubiéramos querido, habríamos enviado a cada ciudad un monitor.
52  No obedezcas, pues, a los infieles y lucha esforzadamente contra ellos, por medio de él.
53  Él es Quien ha hecho que las dos grandes masas de agua fluyan: una, dulce, agradable; otra, salobre, amarga. Ha colocado entre ellas una barrera y límite infranqueable.
54  Él es quien ha creado del agua un ser humano, haciendo de él el parentesco por consanguinidad o por afinidad. Tu Señor es omnipotente.
55  Pero, en lugar de servir a Alá, sirven lo que no puede aprovecharles ni dañarles. El infiel es un auxiliar contra su Señor.
56  A ti no te hemos enviado sino como nuncio de buenas nuevas y como monitor.
57  Di: «No os pido a cambio ningún salario. Sólo que, quien quiera, ¡que emprenda camino hacia su Señor!»
58  Y ¡confía en el Viviente, Que no muere! ¡Celebra Sus alabanzas! El está suficientemente informado de los pecados de Sus siervos.
59  Él es Quien ha creado en seis días los cielos, la tierra y lo que entre ellos hay. Luego, se ha instalado en el Trono. El Compasivo. ¡Interroga a quien esté bien informado de Él!
60  Cuando se les dice: «¡Prosternaos ante el Compasivo!», dicen: «Y ¿qué es ‘el Compasivo’? ¿Vamos a prosternarnos sólo porque tú lo ordenes?» Y esto acrecienta su repulsa.
61  ¡Bendito sea Quien ha puesto constelaciones en el cielo y entre ellas un luminar y una luna luminosa!
62  Él es Quien ha dispuesto que se sucedan la noche y el día para quien quiera dejarse amonestar o quiera dar gracias.
63  Los siervos del Compasivo son los que van por la tierra humildemente y que, cuando los ignorantes les dirigen la palabra, dicen: «¡Paz!»
64  Pasan la noche ante su Señor, postrados o de pie.
65  Dicen: «¡Señor! ¡Aleja de nosotros el castigo de la gehena!» Su castigo es perpetuo.
66  Sí es mala como morada y residencia.
67  Cuando gastan, no lo hacen con prodigalidad ni con tacañería, -el término medio es lo justo-.
68  No invocan a otro dios junto con Alá, no matan a nadie que Alá haya prohibido, si no es con justo motivo, no fornican. Quien comete tal, incurre en castigo.
69  El día de la Resurrección se le doblará el castigo y lo sufrirá eternamente humillado.
70  No así quien se arrepienta, crea y haga buenas obras. A éstos Alá les cambiará sus malas obras en buenas. Alá es indulgente, misericordioso.
71  Quien se arrepienta y obre bien dará muestras de un arrepentimiento sincero.
72  No prestan falso testimonio y, cuando pasan y oyen vaniloquio, prosiguen la marcha dígnamente.
73  Cuando se les amonesta con los signos de su Señor, no caen al suelo ante ellos, sordos y ciegos.
74  Dicen: «¡Señor! ¡Haznos el regalo de que nuestras esposas y descendencia sean nuestra alegría, haz que seamos modelo para los temerosos de Alá!»
75  Éstos serán retribuidos con una cámara alta porque tuvieron paciencia. Se les acogerá allí con palabras de salutación y de paz.
76  Eternos allí… ¡Qué bello lugar como morada y como residencia!
77  Di: «Mi Señor no se cuidaría de vosotros si no Le invocarais. Pero habéis desmentido y es ineludible».