Project Description

AN NAJM

 شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے
۲  کہ تمہارے رفیق (محمدﷺ) نہ رستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں
۳  اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں
۴  یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے
۵  ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا
۶  (یعنی جبرائیل) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے
۷  اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے میں تھے
۸  پھر قریب ہوئے اوراَور آگے بڑھے
۹  تو دو کمان کے فاصلے پر یا اس سے بھی کم
۱۰  پھر خدا نے اپنے بندے کی طرف جو بھیجا سو بھیجا
۱۱  جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ مانا
۱۲  کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو؟
۱۳  اور انہوں نے اس کو ایک بار بھی دیکھا ہے
۱۴  پرلی حد کی بیری کے پاس
۱۵  اسی کے پاس رہنے کی جنت ہے
۱۶  جب کہ اس بیری پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا
۱۷  ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی اور نہ (حد سے) آگے بڑھی
۱۸  انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں
۱۹  بھلا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کو دیکھا
۲۰  اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہوسکتے ہیں)
۲۱  (مشرکو!) کیا تمہارے لئے تو بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں
۲۲  یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے
۲۳  وہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں۔ خدا نے تو ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ یہ لوگ محض ظن (فاسد) اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے
۲۴  کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے
۲۵  آخرت اور دنیا تو الله ہی کے ہاتھ میں ہے
۲۶  اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ خدا جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے
۲۷  جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں
۲۸  حالانکہ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں۔ وہ صرف ظن پر چلتے ہیں۔ اور ظن یقین کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا
۲۹  تو جو ہماری یاد سے روگردانی اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو
۳۰  ان کے علم کی انتہا یہی ہے۔ تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا
۳۱  اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے (اور اس نے خلقت کو) اس لئے (پیدا کیا ہے) کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا (برا) بدلا دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے
۳۲  جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے۔ وہ تم کو خوب جانتا ہے۔ جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچّے تھے۔ تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ۔ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے
۳۳  بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے منہ پھیر لیا
۳۴  اور تھوڑا سا دیا (پھر) ہاتھ روک لیا
۳۵  کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے
۳۶  کیا جو باتیں موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں ان کی اس کو خبر نہیں پہنچی
۳۷  اور ابراہیمؑ کی جنہوں نے (حق طاعت ورسالت) پورا کیا
۳۸  یہ کہ کوئی شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا
۳۹  اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے
۴۰  اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی
۴۱  پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا
۴۲  اور یہ کہ تمہارے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے
۴۳  اور یہ کہ وہ ہنساتا اور رلاتا ہے
۴۴  اور یہ کہ وہی مارتا اور جلاتا ہے
۴۵  اور یہ کہ وہی نر اور مادہ دو قسم (کے حیوان) پیدا کرتا ہے
۴۶  (یعنی) نطفے سے جو (رحم میں) ڈالا جاتا ہے
۴۷  اور یہ کہ (قیامت کو) اسی پر دوبارہ اٹھانا لازم ہے
۴۸  اور یہ کہ وہی دولت مند بناتا اور مفلس کرتا ہے
۴۹  اور یہ کہ وہی شعریٰ کا مالک ہے
۵۰  اور یہ کہ اسی نے عاد اول کو ہلاک کر ڈالا
۵۱  اور ثمود کو بھی۔ غرض کسی کو باقی نہ چھوڑا
۵۲  اور ان سے پہلے قوم نوحؑ کو بھی۔ کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے
۵۳  اور اسی نے الٹی ہوئی بستیوں کو دے پٹکا
۵۴  پھر ان پر چھایا جو چھایا
۵۵  تو (اے انسان) تو اپنے پروردگار کی کون سی نعمت پر جھگڑے گا
۵۶  یہ (محمدﷺ) بھی اگلے ڈر سنانے والوں میں سے ایک ڈر سنانے والے ہیں
۵۷  آنے والی (یعنی قیامت) قریب آ پہنچی
۵۸  اس (دن کی تکلیفوں) کو خدا کے سوا کوئی دور نہیں کرسکے گا
۵۹  اے منکرین خدا) کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو؟
۶۰  اور ہنستے ہو اور روتے نہیں؟
۶۱  اور تم غفلت میں پڑ رہے ہو
۶۲  تو خدا کے آگے سجدہ کرو اور (اسی کی) عبادت کرو

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ
٢  مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ
٣  وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ
٤  إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ
٥  عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ
٦  ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ
٧  وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ
٨  ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ
٩  فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ
١٠  فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ
١١  مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ
١٢  أَفَتُمَارُونَهُ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ
١٣  وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ
١٤  عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَىٰ
١٥  عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ
١٦  إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ
١٧  مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ
١٨  لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ
١٩  أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ
٢٠  وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَىٰ
٢١  أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَىٰ
٢٢  تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ
٢٣  إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ ۚ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنْفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنْ رَبِّهِمُ الْهُدَىٰ
٢٤  أَمْ لِلْإِنْسَانِ مَا تَمَنَّىٰ
٢٥  فَلِلَّهِ الْآخِرَةُ وَالْأُولَىٰ
٢٦  وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ
٢٧  إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ لَيُسَمُّونَ الْمَلَائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثَىٰ
٢٨  وَمَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا
٢٩  فَأَعْرِضْ عَنْ مَنْ تَوَلَّىٰ عَنْ ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا
٣٠  ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِنَ الْعِلْمِ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَىٰ
٣١  وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى
٣٢  الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ ۚ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنْتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ ۖ فَلَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ
٣٣  أَفَرَأَيْتَ الَّذِي تَوَلَّىٰ
٣٤  وَأَعْطَىٰ قَلِيلًا وَأَكْدَىٰ
٣٥  أَعِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ
٣٦  أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ
٣٧  وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ
٣٨  أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ
٣٩  وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ
٤٠  وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ
٤١  ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ
٤٢  وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ
٤٣  وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ
٤٤  وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
٤٥  وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَىٰ
٤٦  مِنْ نُطْفَةٍ إِذَا تُمْنَىٰ
٤٧  وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الْأُخْرَىٰ
٤٨  وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَىٰ وَأَقْنَىٰ
٤٩  وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَىٰ
٥٠  وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَادًا الْأُولَىٰ
٥١  وَثَمُودَ فَمَا أَبْقَىٰ
٥٢  وَقَوْمَ نُوحٍ مِنْ قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَىٰ
٥٣  وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَىٰ
٥٤  فَغَشَّاهَا مَا غَشَّىٰ
٥٥  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰ
٥٦  هَٰذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ
٥٧  أَزِفَتِ الْآزِفَةُ
٥٨  لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ
٥٩  أَفَمِنْ هَٰذَا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ
٦٠  وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ
٦١  وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ
٦٢  فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا ۩

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  By the star when it descends,
2  Your companion [Muhammad] has not strayed, nor has he erred,
3  Nor does he speak from [his own] inclination.
4  It is not but a revelation revealed,
5  Taught to him by one intense in strength –
6  One of soundness. And he rose to [his] true form
7  While he was in the higher [part of the] horizon.
8  Then he approached and descended
9  And was at a distance of two bow lengths or nearer.
10  And he revealed to His Servant what he revealed.
11  The heart did not lie [about] what it saw.
12  So will you dispute with him over what he saw?
13  And he certainly saw him in another descent
14  At the Lote Tree of the Utmost Boundary –
15  Near it is the Garden of Refuge –
16  When there covered the Lote Tree that which covered [it].
17  The sight [of the Prophet] did not swerve, nor did it transgress [its limit].
18  He certainly saw of the greatest signs of his Lord.
19  So have you considered al-Lat and al-‘Uzza?
20  And Manat, the third – the other one?
21  Is the male for you and for Him the female?
22  That, then, is an unjust division.
23  They are not but [mere] names you have named them – you and your forefathers – for which Allah has sent down no authority. They follow not except assumption and what [their] souls desire, and there has already come to them from their Lord guidance.
24  Or is there for man whatever he wishes?
25  Rather, to Allah belongs the Hereafter and the first [life].
26  And how many angels there are in the heavens whose intercession will not avail at all except [only] after Allah has permitted [it] to whom He wills and approves.
27  Indeed, those who do not believe in the Hereafter name the angels female names,
28  And they have thereof no knowledge. They follow not except assumption, and indeed, assumption avails not against the truth at all.
29  So turn away from whoever turns his back on Our message and desires not except the worldly life.
30  That is their sum of knowledge. Indeed, your Lord is most knowing of who strays from His way, and He is most knowing of who is guided.
31  And to Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth – that He may recompense those who do evil with [the penalty of] what they have done and recompense those who do good with the best [reward] –
32  Those who avoid the major sins and immoralities, only [committing] slight ones. Indeed, your Lord is vast in forgiveness. He was most knowing of you when He produced you from the earth and when you were fetuses in the wombs of your mothers. So do not claim yourselves to be pure; He is most knowing of who fears Him.
33  Have you seen the one who turned away
34  And gave a little and [then] refrained?
35  Does he have knowledge of the unseen, so he sees?
36  Or has he not been informed of what was in the scriptures of Moses
37  And [of] Abraham, who fulfilled [his obligations] –
38  That no bearer of burdens will bear the burden of another
39  And that there is not for man except that [good] for which he strives
40  And that his effort is going to be seen –
41  Then he will be recompensed for it with the fullest recompense
42  And that to your Lord is the finality
43  And that it is He who makes [one] laugh and weep
44  And that it is He who causes death and gives life
45  And that He creates the two mates – the male and female –
46  From a sperm-drop when it is emitted
47  And that [incumbent] upon Him is the next creation
48  And that it is He who enriches and suffices
49  And that it is He who is the Lord of Sirius
50  And that He destroyed the first [people of] ‘Aad
51  And Thamud – and He did not spare [them] –
52  And the people of Noah before. Indeed, it was they who were [even] more unjust and oppressing.
53  And the overturned towns He hurled down
54  And covered them by that which He covered.
55  Then which of the favors of your Lord do you doubt?
56  This [Prophet] is a warner like the former warners.
57  The Approaching Day has approached.
58  Of it, [from those] besides Allah, there is no remover.
59  Then at this statement do you wonder?
60  And you laugh and do not weep
61  While you are proudly sporting?
62  So prostrate to Allah and worship [Him].

奉至仁至慈的真主之名

1  以没落时的星宿盟誓,
2  你们的朋友,既不迷误,又未迷信,
3  也未随私欲而言。
4  这只是他所受的启示,
5  教授他的,是那强健的、
6  有力的,故他达到全美。
7  他在东方的最高处,
8  然么他渐渐接近而降低,
9  他相距两张弓的长度,或更近一些。
10  他把他所应启示的启示他的仆人,
11  他的心没有否认他所见的。
12  难道你们要为他所见的而与他争论吗?
13  他确已见他二次下降,
14  在极境的酸枣树旁,
15  那里有归宿的乐园。
16  当酸枣树蒙上一层东西的时候,
17  眼未邪视,也未过分;
18  他确已看见他的主的一部分最大的迹象。
19  他们告诉我吧!拉特和欧萨,
20  以及排行第3,也是最次的默那,怎么是真主的女儿呢?
21  难道男孩归你们,女孩却归真主吗?
22  然而,这是不公平的分配。
23  这些偶像只是你们和你们的祖先所定的名称,真主并未加以证实,他们只是凭猜想和私欲。正道确已从他们的主降临他们。
24  难道人希望什么就有什么?
25  么世和今世,都是真主的。
26  天上的许多天神,他们的说情,毫无裨益,除非在真主许可他们为他所意欲和所喜悦者说情之么,
27  不信么世的人们,的确以女性的名称称呼天神们。
28  他们对于那种称呼,绝无任何知识,他们只凭猜想;而猜想对于真理,确是毫无裨益的。
29  你应当避开那违背我的教诲,且只欲享今世生活者;
30  那是他们的知识程度。你的主,确是全知背离正道者的,也是全知遵循正道者的。
31  天地万物,都是真主的。他创造万物,以便他依作恶者的行为而报酬他们,并以至善的品级报酬行善者。
32  远离大罪和丑事,但犯小罪者,你的主确是宽宥的。当他从大地创造你们的时候,当你们是在母腹中的胎儿的时候,他是全知你们的;所以你们不要自称清白,他是全知敬畏者的。
33  你告诉我吧!违背正道,
34  稍稍施舍就悭吝的人,
35  难道他知道幽玄,故认自己的行为为真理吗?
36  难道没有人告诉过他穆萨的经典,
37  和履行诫命的易卜拉欣的经典中所记载的事情吗?
38  一个负罪者,不负别人的罪。
39  各人只得享受自己的劳绩;
40  他的劳绩,将被看见,
41  然么他将受最完全的报酬。
42  你的主,是众生的归宿。
43  他能使人笑,能使人哭;
44  他能使人死,能使人生;
45  他曾创造配偶──男性的与女性的──
46  是以射出的精液;
47  他以再造为自己的责任;
48  他能使人富足,能使人满意;
49  他是天狼星的主。
50  他毁灭了古时的阿德人,
51  和赛莫德人,而未曾有所遗留;
52  以前,他毁灭了努哈的宗族。他们确是更不义的,确是更放荡的。
53  他使那被颠覆的城市覆亡,
54  故覆盖的东西曾覆盖了那城市。
55  你怀疑你的主的哪一件恩典呢?
56  这是古时的那些警告者之中的一个警告者。
57  临近的事件,已经临近了;
58  除真主外,没有能揭示它的。
59  难道你们为这训辞而诧异吗?
60  你们怎么嘲笑而不痛哭呢?
61  你们是疏忽的。
62  你们应当为真主而叩头,应当崇拜他。※(此处叩头!)

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  ¡Por la estrella, cuando declina!
2  Vuestro paisano no se extravía, ni se descarría.
3  No habla por propio impulso.
4  No es sino una revelación que se ha hecho.
5  Se la ha enseñado el muy poderoso,
6  fuerte, majestuoso,
7  mientras él estaba en lo más alto del horizonte.
8  Luego, se acercó y quedó suspendido en el aire,
9  estaba a dos medidas de arco o menos.
10  Reveló a Su siervo lo que reveló.
11  No ha mentido el corazón en lo que vio.
12  ¿Disputaréis, pues, con él sobre lo que ve?
13  Ya le había visto descender en otra ocasión,
14  junto al azufaifo del confín,
15  junto al cual se encuentra el jardín de la Morada,
16  cuando el azufaifo estaba cubierto por aquello.
17  No se desvió la mirada. Y no erró.
18  Vio, ciertamente, parte de los signos tan grandes de su Señor.
19  Y ¿qué os parecen al-Lat, al-Uzza
20  y la otra, Manat, la tercera?
21  ¿Para vosotros los varones y para Él las hembras?
22  Sería un reparto injusto.
23  No son sino nombres que habéis puesto, vosotros y vuestros padres, a los que Alá no ha conferido ninguna autoridad. No siguen sino conjeturas y la concupiscencia de sus almas, siendo así que ya les ha venido de su Señor la Dirección.
24  ¿Obtendrá el hombre lo que desea?
25  Pero la otra vida y esta vida pertenecen a Alá.
26  ¡Cuántos ángeles hay en los cielos, cuya intercesión no servirá de nada, a menos que antes dé Alá permiso a quien Él quiera, a quien Le plazca!
27  Quienes no creen en la otra vida ponen, sí, a los ángeles nombres femeninos.
28  No tienen ningún conocimiento de ello. No siguen más que conjeturas, y éstas, frente a la Verdad, no sirven de nada.
29  Apártate de quien vuelve la espalda a Nuestra Amonestación y no desea sino la vida de acá.
30  Ésa es toda la ciencia que pueden alcanzar. Alá conoce bien a quien se extravía de Su camino y conoce bien a quien sigue la buena dirección.
31  De Alá es lo que está en los cielos y en la tierra, para retribuir a los que obren mal por lo que hagan y retribuir a los que obren bien dándoles lo mejor.
32  Quienes evitan los pecados graves y las deshonestidades y sólo cometen pecados leves… Tu Señor es inmensamente indulgente. Os conocía bien cuando os creaba de la tierra y cuando erais un embrión en el seno de vuestra madre. ¡No os jactéis, pues, de puros! Él conoce bien a los que Le temen.
33  Y, ¿qué te parece el que vuelve la espalda?
34  Da poco, es mezquino.
35  ¿Tiene la ciencia de lo oculto, que le permita ver?
36  ¿No se le ha informado del contenido de las Hojas de Moisés
37  y de Abraham, que cumplió:
38  que nadie cargará con la carga ajena,
39  que el hombre sólo será sancionado con arreglo a su propio esfuerzo,
40  que se verá el resultado de su esfuerzo,
41  que será, luego, retribuido generosamente,
42  que el fin de todo es tu Señor,
43  que es Él Quien hace reír y hace llorar,
44  que es Él Quien da la muerte y da la vida,
45  que Él crea la pareja, varón y hembra,
46  de una gota cuando es eyaculada,
47  que a Él incumbe la otra creación,
48  que es Él Quien da riquezas y posesiones,
49  que es Él el Señor de Sirio,
50  que Él hizo perecer a los antiguos aditas
51  y a los tamudeos, sin dejar uno solo con vida,
52  y, antes, al pueblo de Noé, que fue tan impío y rebelde,
53  y aniquiló a la vuelta de arriba abajo.
54  cubriéndola como la cubrió?
55  ¿Cuál, pues, de los beneficios de tu Señor pondrás en duda?
56  Ésta es una advertencia al estilo de las advertencias antiguas.
57  Amenaza la Inminente.
58  Nadie, fuera de Alá, puede quitarla.
59  ¿Os asombráis, pues, de este discurso?
60  ¿Y reís, en lugar de llorar,
61  permaneciendo indiferentes?
62  ¡Prosternaos, pues, ante Alá y servidle!