Project Description

QAF

 شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  قٓ۔ قرآن مجید کی قسم (کہ محمد پیغمبر خدا ہیں)
۲  لیکن ان لوگوں نے تعجب کیا کہ انہی میں سے ایک ہدایت کرنے والا ان کے پاس آیا تو کافر کہنے لگے کہ یہ بات تو (بڑی) عجیب ہے
۳  بھلا جب ہم مر گئے اور مٹی ہوگئے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندہ ہونا (عقل سے) بعید ہے
۴  ان کے جسموں کو زمین جتنا (کھا کھا کر) کم کرتی جاتی ہے ہمیں معلوم ہے۔ اور ہمارے پاس تحریری یادداشت بھی ہے
۵  بلکہ (عجیب بات یہ ہے کہ) جب ان کے پاس (دین) حق آ پہنچا تو انہوں نے اس کو جھوٹ سمجھا سو یہ ایک الجھی ہوئی بات میں (پڑ رہے) ہیں
۶  کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیونکر بنایا اور (کیونکر) سجایا اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں
۷  اور زمین کو (دیکھو اسے) ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ رکھ دیئے اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اُگائیں
۸  تاکہ رجوع لانے والے بندے ہدایت اور نصیحت حاصل کریں
۹  اور آسمان سے برکت والا پانی اُتارا اور اس سے باغ وبستان اُگائے اور کھیتی کا اناج
۱۰  اور لمبی لمبی کھجوریں جن کا گابھا تہہ بہ تہہ ہوتا ہے
۱۱  (یہ سب کچھ) بندوں کو روزی دینے کے لئے (کیا ہے) اور اس (پانی) سے ہم نے شہر مردہ (یعنی زمین افتادہ) کو زندہ کیا۔ (بس) اسی طرح (قیامت کے روز) نکل پڑنا ہے
۱۲  ان سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں
۱۳  اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی
۱۴  اور بن کے رہنے والے اور تُبّع کی قوم۔ (غرض) ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہمارا وعید (عذاب) بھی پورا ہو کر رہا
۱۵  کیا ہم پہلی بار پیدا کرکے تھک گئے ہیں؟ (نہیں) بلکہ یہ ازسرنو پیدا کرنے میں شک میں (پڑے ہوئے) ہیں
۱۶  اور ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں۔ اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں
۱۷  جب (وہ کوئی کام کرتا ہے تو) دو لکھنے والے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، لکھ لیتے ہیں
۱۸  کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے
۱۹  اور موت کی بےہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی۔ (اے انسان) یہی (وہ حالت) ہے جس سے تو بھاگتا تھا
۲۰  اور صور پھونکا جائے گا۔ یہی (عذاب کے) وعید کا دن ہے
۲۱  اور ہر شخص (ہمارے سامنے) آئے گا۔ ایک (فرشتہ) اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک (اس کے عملوں کی) گواہی دینے والا
۲۲  (یہ وہ دن ہے کہ) اس سے تو غافل ہو رہا تھا۔ اب ہم نے تجھ پر سے پردہ اُٹھا دیا۔ تو آج تیری نگاہ تیز ہے
۲۳  اور اس کا ہم نشین (فرشتہ) کہے گا کہ یہ (اعمال نامہ) میرے پاس حاضر ہے
۲۴  (حکم ہوگا کہ) ہر سرکش ناشکرے کو دوزخ میں ڈال دو
۲۵  جو مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھنے والا شبہے نکالنے والا تھا
۲۶  جس نے خدا کے ساتھ اور معبود مقرر کر رکھے تھے۔ تو اس کو سخت عذاب میں ڈال دو
۲۷  اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ آپ ہی رستے سے دور بھٹکا ہوا تھا
۲۸  (خدا) فرمائے گا کہ ہمارے حضور میں ردوکد نہ کرو۔ ہم تمہارے پاس پہلے ہی (عذاب کی) وعید بھیج چکے تھے
۲۹  ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے
۳۰  اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی؟ وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟
۳۱  اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی (کہ مطلق) دور نہ ہوگی
۳۲  یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (یعنی) ہر رجوع لانے والے حفاظت کرنے والے سے
۳۳  جو خدا سے بن دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع لانے والا دل لے کر آیا
۳۴  اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے
۳۵  وہاں وہ جو چاہیں گے ان کے لئے حاضر ہے اور ہمارے ہاں اور بھی (بہت کچھ) ہے
۳۶  اور ہم نے ان سے پہلے کئی اُمتیں ہلاک کر ڈالیں۔ وہ ان سے قوت میں کہیں بڑھ کر تھے وہ شہروں میں گشت کرنے لگے۔ کیا کہیں بھاگنے کی جگہ ہے؟
۳۷  جو شخص دل (آگاہ) رکھتا ہے یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے اس کے لئے اس میں نصیحت ہے
۳۸  اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے سب کو چھ دن میں بنا دیا۔ اور ہم کو ذرا تکان نہیں ہوئی
۳۹  تو جو کچھ یہ (کفار) بکتے ہیں اس پر صبر کرو اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو
۴۰  اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز کے بعد بھی اس (کے نام) کی تنزیہ کیا کرو
۴۱  اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا
۴۲  جس دن لوگ چیخ یقیناً سن لیں گے۔ وہی نکل پڑنے کا دن ہے
۴۳  ہم ہی تو زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے
۴۴  اس دن زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ جھٹ پٹ نکل کھڑے ہوں گے۔ یہ جمع کرنا ہمیں آسان ہے
۴۵  یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے اور تم ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو۔ پس جو ہمارے (عذاب کی) وعید سے ڈرے اس کو قرآن سے نصیحت کرتے رہو

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  ق ۚ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ
٢  بَلْ عَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ فَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا شَيْءٌ عَجِيبٌ
٣  أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا ۖ ذَٰلِكَ رَجْعٌ بَعِيدٌ
٤  قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ ۖ وَعِنْدَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ
٥  بَلْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ فَهُمْ فِي أَمْرٍ مَرِيجٍ
٦  أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ
٧  وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ
٨  تَبْصِرَةً وَذِكْرَىٰ لِكُلِّ عَبْدٍ مُنِيبٍ
٩  وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا فَأَنْبَتْنَا بِهِ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ
١٠  وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ
١١  رِزْقًا لِلْعِبَادِ ۖ وَأَحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَيْتًا ۚ كَذَٰلِكَ الْخُرُوجُ
١٢  كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّسِّ وَثَمُودُ
١٣  وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَانُ لُوطٍ
١٤  وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ ۚ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ
١٥  أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ ۚ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ
١٦  وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ
١٧  إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ
١٨  مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
١٩  وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ۖ ذَٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ
٢٠  وَنُفِخَ فِي الصُّورِ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْوَعِيدِ
٢١  وَجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ
٢٢  لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هَٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ
٢٣  وَقَالَ قَرِينُهُ هَٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيدٌ
٢٤  أَلْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍ
٢٥  مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُرِيبٍ
٢٦  الَّذِي جَعَلَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَأَلْقِيَاهُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيدِ
٢٧  قَالَ قَرِينُهُ رَبَّنَا مَا أَطْغَيْتُهُ وَلَٰكِنْ كَانَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ
٢٨  قَالَ لَا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ إِلَيْكُمْ بِالْوَعِيدِ
٢٩  مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ
٣٠  يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ
٣١  وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيدٍ
٣٢  هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ
٣٣  مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ
٣٤  ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ ۖ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْخُلُودِ
٣٥  لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ فِيهَا وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ
٣٦  وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْنٍ هُمْ أَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوا فِي الْبِلَادِ هَلْ مِنْ مَحِيصٍ
٣٧  إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ
٣٨  وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ
٣٩  فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ
٤٠  وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَارَ السُّجُودِ
٤١  وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَكَانٍ قَرِيبٍ
٤٢  يَوْمَ يَسْمَعُونَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْخُرُوجِ
٤٣  إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي وَنُمِيتُ وَإِلَيْنَا الْمَصِيرُ
٤٤  يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا ۚ ذَٰلِكَ حَشْرٌ عَلَيْنَا يَسِيرٌ
٤٥  نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ ۖ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ ۖ فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ يَخَافُ وَعِيدِ

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  Qaf. By the honored Qur’an…
2  But they wonder that there has come to them a warner from among themselves, and the disbelievers say, “This is an amazing thing.
3  When we have died and have become dust, [we will return to life]? That is a distant return.”
4  We know what the earth diminishes of them, and with Us is a retaining record.
5  But they denied the truth when it came to them, so they are in a confused condition.
6  Have they not looked at the heaven above them – how We structured it and adorned it and [how] it has no rifts?
7  And the earth – We spread it out and cast therein firmly set mountains and made grow therein [something] of every beautiful kind,
8  Giving insight and a reminder for every servant who turns [to Allah].
9  And We have sent down blessed rain from the sky and made grow thereby gardens and grain from the harvest
10  And lofty palm trees having fruit arranged in layers –
11  As provision for the servants, and We have given life thereby to a dead land. Thus is the resurrection.
12  The people of Noah denied before them, and the companions of the well and Thamud
13  And ‘Aad and Pharaoh and the brothers of Lot
14  And the companions of the thicket and the people of Tubba’. All denied the messengers, so My threat was justly fulfilled.
15  Did We fail in the first creation? But they are in confusion over a new creation.
16  And We have already created man and know what his soul whispers to him, and We are closer to him than [his] jugular vein
17  When the two receivers receive, seated on the right and on the left.
18  Man does not utter any word except that with him is an observer prepared [to record].
19  And the intoxication of death will bring the truth; that is what you were trying to avoid.
20  And the Horn will be blown. That is the Day of [carrying out] the threat.
21  And every soul will come, with it a driver and a witness.
22  [It will be said], “You were certainly in unmindfulness of this, and We have removed from you your cover, so your sight, this Day, is sharp.”
23  And his companion, [the angel], will say, “This [record] is what is with me, prepared.”
24  [Allah will say], “Throw into Hell every obstinate disbeliever,
25  Preventer of good, aggressor, and doubter,
26  Who made [as equal] with Allah another deity; then throw him into the severe punishment.”
27  His [devil] companion will say, “Our Lord, I did not make him transgress, but he [himself] was in extreme error.”
28  [Allah] will say, “Do not dispute before Me, while I had already presented to you the warning.
29  The word will not be changed with Me, and never will I be unjust to the servants.”
30  On the Day We will say to Hell, “Have you been filled?” and it will say, “Are there some more,”
31  And Paradise will be brought near to the righteous, not far,
32  [It will be said], “This is what you were promised – for every returner [to Allah] and keeper [of His covenant] 33  Who feared the Most Merciful unseen and came with a heart returning [in repentance].
34  Enter it in peace. This is the Day of Eternity.”
35  They will have whatever they wish therein, and with Us is more.
36  And how many a generation before them did We destroy who were greater than them in [striking] power and had explored throughout the lands. Is there any place of escape?
37  Indeed in that is a reminder for whoever has a heart or who listens while he is present [in mind].
38  And We did certainly create the heavens and earth and what is between them in six days, and there touched Us no weariness.
39  So be patient, [O Muhammad], over what they say and exalt [Allah] with praise of your Lord before the rising of the sun and before its setting,
40  And [in part] of the night exalt Him and after prostration.
41  And listen on the Day when the Caller will call out from a place that is near –
42  The Day they will hear the blast [of the Horn] in truth. That is the Day of Emergence [from the graves].
43  Indeed, it is We who give life and cause death, and to Us is the destination
44  On the Day the earth breaks away from them [and they emerge] rapidly; that is a gathering easy for Us.
45  We are most knowing of what they say, and you are not over them a tyrant. But remind by the Qur’an whoever fears My threat.

 奉至仁至慈的真主之名

1  戛弗。以尊严的《古兰经》盟誓,
2  难道他们因同族的警告者来临他们而惊讶吗?不信道的人们说:这是奇事!
3  难道我们既死之么,已变尘土,还要还原吗?那太不近情理了。
4  我确己知道大地对于他们的剥蚀,我这里有一本被保护的天经。
5  他们否认已降示他们的真理,所以他们陷于混乱的状态中。
6  难道他们没有仰观天体吗?我是怎样建造它,点缀它,使它没有缺陷的?
7  我曾展开大地,并将许多山岳投在上面,还使各种美丽的植物生长出来,
8  为的是启发和教诲每个归依的仆人。
9  我从云中降下吉祥的雨水,就借它而生长许多果树和五谷,
10  并生长扶疏的海枣树,它有累累的果实,
11  用作众仆的给养。我借雨水而使它已死的地方复活。死人的复活也是这样的。
12  在他们之前否认使者的人,在努哈的宗族、兰斯的居民、赛莫德人、
13  阿德人、法老、鲁特的同胞、
14  丛林的居民和图白的百姓,统统都否认过使者,故我所警告的刑罚,是必然降临的。
15  我曾因创造而疲倦吗?不然,他们对于再造,是在疑惑中的。
16  我确已创造人,我知道他心中的妄想;我比他的命脉还近于他。
17  当坐在右边和左边的两个记录的天神记录各人的言行的时候,
18  他每说一句话,他面前都有天神当场监察。
19  临死的昏迷,将昭示真理。这是你一向所逃避的。
20  号角将吹响,那是警告实现之日。
21  每个人都要到来,驱逐的天神和见证的天神,将与他同行。
22  你确忽视此事,现在我已揭开你的蒙蔽,所以你今日的眼光是锐利的。
23  他的伙伴将说:这在我面前是现成的。
24  你们俩所应当投入火狱的,是每个孤负者、顽固者、
25  悭吝者、过分者、怀疑者、
26  以别的神灵与真主同受崇拜者;你们俩将他投入严厉的刑罚吧!
27  他的伙伴将说:我的主啊!我没有使他放荡,但他自陷于不近情理的迷误中。
28  主将说:你们不要在我面前争论,我确已预先警告你们了。
29  我的判词,是不可变更的,我绝不是亏枉众仆的。
30  在那日,我将对火狱说:你已填满了吗?它将说:还有增加的吗?
31  乐园将被移到敬畏者的附近,离得不远。
32  这是你们所被应许的,这是赏赐每个归依的守礼者的。
33  秘密敬畏至仁主,且带归依的心而来者,
34  你们平安地进入乐园吧!这是永居开始之日。
35  他们在乐园里,将有他们意欲的;而且我在那里还有加赐。
36  在他们之前,我毁灭了许多比他们更强悍的世代!他们曾在各地旅行,难道有什么避死的地方吗?
37  对于有心灵者,或专心静听者,此中确有一种教训。
38  我在六日内确已创造了天地万物,我没有感觉一点疲倦。
39  故你应当忍受他们所说的谰言。在日出和日落之前,你应当赞颂你的主;
40  在夜间和叩头么,你应当赞颂他。
41  你应当倾听,在喊叫者从近处喊叫之日,
42  在他们听见包含真理的呐喊之日,那是从坟中出来之日。
43  我确是使人生、使人死的,我确是最么的归宿。
44  在大地破裂而他们迅速走出坟墓之日,那集合的事对于我是容易的。
45  我全知他们所说的谰言,你不能强制他们,故你应当以《古兰经》教诲畏惧我的警告的人们。

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  q. ¡Por el glorioso Corán!
2  Pero se asombran de que uno salido de ellos haya venido a advertirles. Y dicen los infieles: «¡Esto es algo asombroso!
3  ¿Es que cuando muramos y seamos tierra…? Es volver de lejos…»
4  Ya sabemos qué es lo que de ellos consume la tierra. Tenemos una Escritura que conserva.
5  Pero han desmentido la Verdad cuando ha venido a ellos y se encuentran en un estado de confusión.
6  ¿No ven el cielo que tienen encima, cómo lo hemos edificado y engalanado y no se ha agrietado?
7  Hemos extendido la tierra, colocado en ella firmes montañas y hecho crecer en ella toda especie primorosa,
8  como ilustración y amonestación para todo siervo arrepentido.
9  Hemos hecho bajar del cielo agua bendita, mediante la cual hacemos que crezcan jardines y el grano de la cosecha,
10  esbeltas palmeras de apretados racimos,
11  para sustento de los siervos. Y, gracias a ella, devolvemos la vida a un país muerto. Así será la Resurrección.
12  Antes de ello, ya habían desmentido el pueblo de Noé, los habitantes de ar-Ras, los tamudeos,
13  los aditas, Faraón, los hermanos de Lot,
14  los habitantes de la Espesura y el pueblo de Tubba. Todos ellos desmintieron a los enviados. Y se cumplió Mi amenaza.
15  ¿Es que Nos cansó la primera creación? Pues ellos dudan de una nueva creación.
16  Sí, hemos creado al hombre. Sabemos lo que su mente le sugiere. Estamos más cerca de él que su misma vena yugular.
17  Cuando los dos encargados de recoger recojan, sentados el uno a la derecha y el otro a la izquierda,
18  no pronunciará ninguna palabra que no tenga siempre a su lado a un observador preparado.
19  La agonía del moribundo traerá la Verdad: «¡Ahí tienes lo que rehuías!»
20  Se tocará la trompeta. Ése es el día de la Amenaza.
21  Cada uno vendrá acompañado de un conductor y de un testigo.
22  «Estas cosas te traían sin cuidado. Te hemos quitado el velo y, hoy, tu vista es penetrante».
23  Su compañero dirá: «Esto es lo que tengo preparado».
24  «¡Arrojad a la gehena a todo infiel pertinaz, desviado,
25  adversario del bien, violador de la ley, escéptico,
26  que ponía, junto con Alá, a otro dios! ¡Arrojadlo al castigo severo!»
27  Su compañero dirá: «¡Señor! No soy yo quien le hizo rebelarse, sino que él estaba ya profundamente extraviado».
28  Dirá: «¡No discutáis ante Mí! Ya os amenacé por anticipado.
29  Mi sentencia es inmutable. Yo no soy injusto con Mis siervos».
30  El día que digamos a la gehena: «¿Estás ya llena?», ella dirá: «¿Aún hay más?»
31  Y el Jardín será acercado a quienes hayan temido a Alá, bien cerca:
32  «Esto es lo que se os había prometido, a todo hombre sinceramente arrepentido, observador,
33  que tiene miedo secreto al Compasivo y viene con corazón contrito.
34  ¡Entrad en él en paz! ¡Éste es el día de la Eternidad!»
35  Tendrán allí cuanto deseen y aún dispondremos de más.
36  ¡A cuántas generaciones hemos hecho antes perecer, más temibles que ellos y que recorrieron el país en busca de escape.
37  Hay en ello, sí, una amonestación para quien tiene entendimiento, para quien aguza el oído y es testigo.
38  Creamos los cielos, la tierra y lo que entre ellos está en seis días, sin sufrir cansancio.
39  ¡Ten paciencia, pues, con lo que dicen y celebra las alabanzas de tu Señor antes de la salida del sol y de su puesta!
40  ¡Glorifícale durante la noche y después de la azalá!
41  ¡Estate atento al día que el pregonero llame de cerca,
42  al día que se oiga, de verdad, el Grito! Ése será el día de la Resurrección.
43  Somos Nosotros Quienes damos la vida y damos la muerte. Somos Nosotros el fin de todo.
44  El día que la tierra se abra despidiéndolos, rápidos…, Ésa es una reunión fácil para Nosotros.
45  Sabemos bien lo que dicen… ¡No debes tú forzarles! ¡Amonesta, más bien, por el Corán a quien tema Mi amenaza!