Project Description

AL ARAF

 شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  المص
۲  (اے محمدﷺ) یہ کتاب (جو) تم پر نازل ہوئی ہے۔ اس سے تمہیں تنگ دل نہیں ہونا چاہیئے، (یہ نازل) اس لیے (ہوئی ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں) کو ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے
۳  (لوگو) جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو (اور) تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو
۴  اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں جن پر ہمارا عذاب (یا تو رات کو) آتا تھا جبکہ وہ سوتے تھے یا (دن کو) جب وہ قیلولہ (یعنی دوپہر کو آرام) کرتے تھے
۵  تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ (ہائے) ہم (ہائے) ہم (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے
۶  تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کریں گے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے
۷  پھر اپنے علم سے ان کے حالات بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے
۸  اور اس روز (اعمال کا) تلنا برحق ہے تو جن لوگوں کے (عملوں کے) وزن بھاری ہوں گے وہ تو نجات پانے والے ہیں
۹  اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لیے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے
۱۰  اور ہم ہی نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے سامان معشیت پیدا کئے۔ (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو
۱۱  اور ہم ہی نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا آدم کے آگے سجدہ کرو تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا
۱۲  (خدا نے) فرمایا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا۔ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے
۱۳  فرمایا تو (بہشت سے) اتر جا تجھے شایاں نہیں کہ یہاں غرور کرے پس نکل جا۔ تو ذلیل ہے
۱۴  اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے
۱۵  فرمایا (اچھا) تجھ کو مہلت دی جاتی ہے
۱۶  (پھر) شیطان نے کہا مجھے تو تُو نے ملعون کیا ہی ہے میں بھی تیرے سیدھے رستے پر ان (کو گمراہ کرنے) کے لیے بیٹھوں گا
۱۷  پھر ان کے آگے سے اور پیچھے سے دائیں سے اور بائیں سے (غرض ہر طرف سے) آؤں گا (اور ان کی راہ ماروں گا) اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا
۱۸  (خدا نے) فرمایا، نکل جا۔ یہاں سے پاجی۔ مردود جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں (ان کو اور تجھ کو جہنم میں ڈال کر) تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا
۱۹  اور ہم نے آدم (سے کہا کہ) تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو (اور جو چاہو) نوش جان کرو مگر اس درخت کے پاس نہ جاؤ ورنہ گنہگار ہو جاؤ گے
۲۰  تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ ان کی ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو
۲۱  اور ان سے قسم کھا کر کہا میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں
۲۲  غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے
۲۳  دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے
۲۴  (خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے
۲۵  (یعنی) فرمایا کہ اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کو زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے
۲۶  اے نبی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصحیت پکڑ یں
۲۷  اے نبی آدم (دیکھنا کہیں) شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو (بہکا کر) بہشت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیئے تاکہ ان کے ستر ان کو کھول کر دکھا دے۔ وہ اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطانوں کو انہیں لوگوں کا رفیق کار بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے
۲۸  اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور خدا نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو خدا بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بھلا تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں
۲۹  کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہوگے
۳۰  ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں
۳۱  اے نبی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزّین کیا کرو اور کھاؤ اور پیؤ اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا
۳۲  پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن خاص ان ہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے
۳۳  کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے۔ اور اس کو بھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں
۳۴  اور ہر ایک فرقے کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ آ جاتا ہے تو نہ تو ایک گھڑی دیر کرسکتے ہیں نہ جلدی
۳۵  اے نبی آدم! (ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کرتے رہے ہیں کہ) جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں (تو ان پر ایمان لایا کرو) کہ جو شخص (ان پر ایمان لا کر خدا سے) ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
۳۶  اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی وہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے
۳۷  تو اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ ان کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا ہی رہے گا یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے تو کہیں گے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ (اب) کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے (معلوم نہیں) کہ وہ ہم سے (کہاں) غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ بےشک وہ کافر تھے
۳۸  تو خدا فرمائے گا کہ جنّوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان کے ساتھ تم بھی داخل جہنم ہو جاؤ۔ جب ایک جماعت (وہاں) جا داخل ہو گئی تو اپنی (مذہبی) بہن (یعنی اپنے جیسی دوسری جماعت) پر لعنت کرے گی۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہو جائیں گے تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ اے پروردگار! ان ہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔ خدا فرمائے گا کہ (تم) سب کو دگنا (عذاب دیا جائے گا) مگر تم نہیں جانتے
۳۹  اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ بھی فضیلت نہ ہوئی تو جو (عمل) تم کیا کرتے تھے اس کے بدلے میں عذاب کے مزے چکھو
۴۰  جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے۔ یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
۴۱  ایسے لوگوں کے لیے (نیچے) بچھونا بھی (آتش) جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی (اسی کا) اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
۴۲  اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ہم (عملوں کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں (کہ) اس میں ہمیشہ رہیں گے
۴۳  اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ ان کے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہم کو یہاں کا راستہ دکھایا اور اگر خدا ہم کو رستہ نہ دکھاتا تو ہم رستہ نہ پا سکتے۔ بےشک ہمارا پروردگار کے رسول حق بات لے کر آئے تھے اور (اس روز) منادی کر دی جائے گی کہ تم ان اعمال کے صلے میں جو دنیا میں کرتے تھے اس بہشت کے وارث بنا دیئے گئے ہو
۴۴  اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے پروردگار نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچا پالیا۔ بھلا جو وعدہ تمہارے پروردگار نے تم سے کیا تھا تم نے بھی اسے سچا پایا؟ وہ کہیں گے ہاں تو (اس وقت) ان میں ایک پکارنے والا پکارے گا کہ بےانصافوں پر خدا کی لعنت
۴۵  جو خدا کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے اور آخرت سے انکار کرتے تھے
۴۶  ان دونوں (یعنی بہشت اور دوزخ) کے درمیان (اعراف نام) ایک دیوار ہو گی اور اعراف پر کچھ آدمی ہوں گے جو سب کو ان کی صورتوں سے پہچان لیں گے۔ تو وہ اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ لوگ بھی بہشت میں داخل تو نہیں ہوں گے مگر امید رکھتے ہوں گے
۴۷  اور جب ان کی نگاہیں پلٹ کر اہل دوزخ کی طرف جائیں گی تو عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کیجیو
۴۸  اور اہل اعراف (کافر) لوگوں کو جنہیں ان کی صورتوں سے شناخت کرتے ہوں گے پکاریں گے اور کہیں گے (کہ آج) نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کچھ کام آئی اور نہ تمہارا تکبّر (ہی سودمند ہوا)
۴۹  (پھر مومنوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے) کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ خدا اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا (تو مومنو) تم بہشت میں داخل ہو جاؤ تمہیں کچھ خوف نہیں اور نہ تم کو کچھ رنج واندوہ ہوگا
۵۰  اور وہ دوزخی بہشتیوں سے (گڑگڑا کر) کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے (کچھ ہمیں بھی دو) وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے
۵۱  جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے
۵۲  اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو علم ودانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے (اور) وہ مومن لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
۵۳  کیا یہ لوگ اس کے وعدہٴ عذاب کے منتظر ہیں۔ جس دن وہ وعدہ آجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہوں گے وہ بول اٹھیں گے کہ بےشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا (آج) ہمارا کوئی سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں یا ہم (دنیا میں) پھر لوٹا دیئے جائیں کہ جو عمل (بد) ہم (پہلے) کرتے تھے (وہ نہ کریں بلکہ) ان کے سوا اور (نیک) عمل کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا
۵۴  کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج اور چاند ستاروں کو پیدا کیا سب اس کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی (اسی کا ہے) ۔ یہ خدا رب العالمین بڑی برکت والا ہے
۵۵  (لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
۵۶  اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خدا سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے
۵۷  اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت (یعنی مینھ) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری (بنا کر) بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینھ برساتے ہیں۔ پھر مینھ سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو (زمین سے) زندہ کرکے باہر نکال لیں گے۔ (یہ آیات اس لیے بیان کی جاتی ہیں) تاکہ تم نصیحت پکڑو
۵۸  جو زمین پاکیزہ (ہے) اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے (نفیس ہی) نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں جو کچھ ہے ناقص ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم آیتوں کو شکرگزار لوگوں کے لئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں
۵۹  ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (ان سے کہا) اے میری برادری کے لوگو خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا (بہت ہی) ڈر ہے
۶۰  تو جو ان کی قوم میں سردار تھے وہ کہنے لگے کہ ہم تمہیں صریح گمراہی میں (مبتلا) دیکھتے ہیں
۶۱  انہوں نے کہا اے قوم مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے بلکہ میں پروردگار عالم کا پیغمبر ہوں
۶۲  تمہیں اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں اور مجھ کو خدا کی طرف سے ایسی باتیں معلوم ہیں جن سے تم بےخبر ہو
۶۳  کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے
۶۴  مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو تو بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کر دیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ اندھے لوگ تھے
۶۵  اور (اسی طرح) قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیو خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟
۶۶  تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں
۶۷  انہوں نے کہا کہ بھائیو مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں
۶۸  میں تمہیں خدا کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانت دار خیرخواہ ہوں
۶۹  کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو تو کرو جب اس نے تم کو قوم نوح کے بعد سردار بنایا۔ اور تم کو پھیلاؤ زیادہ دیا۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو۔ تاکہ نجات حاصل کرو
۷۰  وہ کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا ہی کی عبادت کریں۔ اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں ان کو چھوڑ دیں؟ تو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ
۷۱  ہود نے کہا تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا (نازل ہونا) مقرر ہو چکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (اپنی طرف سے) رکھ لئے ہیں۔ جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ تو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
۷۲  پھر ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے ان کو نجات بخشی اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں
۷۳  اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ (تو) صالح نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معجزہ آ چکا ہے۔ (یعنی) یہی خدا کی اونٹنی تمہارے لیے معجزہ ہے۔ تو اسے (آزاد) چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا۔ ورنہ عذابِ الیم میں تمہیں پکڑ لے گا
۷۴  اور یاد تو کرو جب اس نے تم کو قوم عاد کے بعد سردار بنایا اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے (مٹی لے لے کر) محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو
۷۵  تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور رکھتے تھے غریب لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلا تم یقین کرتے ہو کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف بھیجے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز دے کر وہ بھیجے گئے ہیں ہم اس پر بلاشبہ ایمان رکھتے ہیں
۷۶  تو (سرداران) مغرور کہنے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم تو اس کو نہیں مانتے
۷۷  آخر انہوں نے اونٹی (کی کونچوں) کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح! جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر تم (خدا کے) پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ
۷۸  تو ان کو بھونچال نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
۷۹  پھر صالح ان سے (ناامید ہو کر) پھرے اور کہا کہ میری قوم! میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی مگر تم (ایسے ہو کہ) خیر خواہوں کو دوست ہی نہیں رکھتے
۸۰  اور اسی طرح جب ہم نے لوط کو (پیغمبر بنا کر بھیجا تو) اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا
۸۱  یعنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو
۸۲  تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا اور بولے تو یہ بولے کہ ان لوگوں (یعنی لوط اور اس کے گھر والوں) کو اپنے گاؤں سے نکال دو (کہ) یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں
۸۳  تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا مگر ان کی بی بی (نہ بچی) کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں تھی
۸۴  اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینھ برسایا۔ سو دیکھ لو کہ گنہگاروں کا کیسا انجام ہوا
۸۵  اور مَدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ (تو) انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے
۸۶  اور ہر رستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان نہیں لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر کر دیا اور دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا
۸۷  اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی ہے۔ اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی۔ تو صبر کیے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
۸۸  (تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے، وہ کہنے لگے کہ شعیب! (یا تو) ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ انہوں نے کہا خواہ ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہی ہوں (تو بھی؟)
۸۹  اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بےشک ہم نے خدا پر جھوٹ افتراء باندھا۔ اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو (ہم مجبور ہیں) ۔ ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ہمارا خدا ہی پر بھروسہ ہے۔ اے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
۹۰  اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے، کہنے لگے (بھائیو) اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بےشک تم خسارے میں پڑگئے
۹۱  تو ان کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
۹۲  (یہ لوگ) جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ایسے برباد ہوئے تھے کہ گویا وہ ان میں کبھی آباد ہی نہیں ہوئے تھے (غرض) جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے
۹۳  تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کی تھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج وغم کیوں کروں
۹۴  اور ہم نے کسی شہر میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے رہنے والوں کو (جو ایمان نہ لائے) دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں
۹۵  پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ (مال واولاد میں) زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اس طرح کا رنج وراحت ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑلیا اور وہ (اپنے حال میں) بےخبر تھے
۹۶  اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے۔ تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی۔ سو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا
۹۷  کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ (بےخبر) سو رہے ہوں
۹۸  اور کیا اہلِ شہر اس سے نڈر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ نازل ہو اور وہ کھیل رہے ہوں
۹۹  کیا یہ لوگ خدا کے داؤ کا ڈر نہیں رکھتے (سن لو کہ) خدا کے داؤ سے وہی لوگ نڈر ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہیں
۱۰۰  کیا ان لوگوں کو جو اہلِ زمین کے (مرجانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں، یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر لگادیں کہ کچھ سن ہی نہ سکیں
۱۰۱  یہ بستیاں ہیں جن کے کچھ حالات ہم تم کو سناتے ہیں۔ اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ جس چیز کو پہلے جھٹلا چکے ہوں اسے مان لیں اسی طرح خدا کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے
۱۰۲  اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں (عہد کا نباہ) نہیں دیکھا۔ اور ان میں اکثروں کو (دیکھا تو) بدکار ہی دیکھا
۱۰۳  پھر ان (پیغمبروں) کے بعد ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کے پاس بھیجا تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا۔ سو دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیا ہوا
۱۰۴  اور موسیٰ نے کہا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں
۱۰۵  مجھ پر واجب ہے کہ خدا کی طرف سے جو کچھ کہوں سچ ہی کہوں۔ میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے کی رخصت دے دیجیے
۱۰۶  فرعون نے کہا اگر تم نشانی لے کر آئے ہو تو اگر سچے ہو تو لاؤ (دکھاؤ)
۱۰۷  موسیٰ نے اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دی تو وہ اسی وقت صریح اژدھا (ہوگیا)
۱۰۸  اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کی نگاہوں میں سفید براق (تھا)
۱۰۹  تو قوم فرعون میں جو سردار تھے وہ کہنے لگے کہ یہ بڑا علامہ جادوگر ہے
۱۱۰  اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ بھلا تمہاری کیا صلاح ہے؟
۱۱۱  انہوں نے (فرعون سے) کہا کہ فی الحال موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے اور شہروں میں نقیب روانہ کر دیجیے
۱۱۲  کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں
۱۱۳  (چنانچہ ایسا ہی کیا گیا) اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں صلہ عطا کیا جائے
۱۱۴  (فرعون نے) کہا ہاں (ضرور) اور (اس کے علاوہ) تم مقربوں میں داخل کرلیے جاؤ گے
۱۱۵  (جب فریقین روزِ مقررہ پر جمع ہوئے تو) جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم (جادو کی چیز) ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں
۱۱۶  (موسیٰ نے) کہا تم ہی ڈالو۔ جب انہوں نے (جادو کی چیزیں) ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا (یعنی نظربندی کردی) اور (لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بنا بنا کر) انہیں ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا
۱۱۷  (اس وقت) ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ تم بھی اپنی لاٹھی ڈال دو۔ وہ فوراً (سانپ بن کر) جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو (ایک ایک کرکے) نگل جائے گی
۱۱۸  (پھر) تو حق ثابت ہوگیا اور جو کچھ فرعونی کرتے تھے، باطل ہوگیا
۱۱۹  اور وہ مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہوکر رہ گئے
۱۲۰  (یہ کیفیت دیکھ کر) جادوگر سجدے میں گر پڑے
۱۲۱  اور کہنے لگے کہ ہم جہان کے پروردگار پر ایمان لائے
۱۲۲  یعنی موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر
۱۲۳  فرعون نے کہا کہ پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے؟ بےشک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہلِ شہر کو یہاں سے نکال دو۔ سو عنقریب (اس کا نتیجہ) معلوم کرلو گے
۱۲۴  میں (پہلے تو) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا
۱۲۵  وہ بولے کہ ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
۱۲۶  اور اس کے سوا تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے کہ جب ہمارے پروردگار کی نشانیاں ہمارے پاس آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ اے پروردگار ہم پر صبرواستقامت کے دہانے کھول دے اور ہمیں (ماریو تو) مسلمان ہی ماریو
۱۲۷  اور قومِ فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیجیے گا کہ ملک میں خرابی کریں اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں۔ وہ بولے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے اور بےشک ہم ان پر غالب ہیں
۱۲۸  موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو۔ زمین تو خدا کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھلا تو ڈرنے والوں کا ہے
۱۲۹  وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو
۱۳۰  اور ہم نے فرعونیوں کو قحطوں اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں
۱۳۱  تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں۔ اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے۔ دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں مقرر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے
۱۳۲  اور کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس (خواہ) کوئی ہی نشانی لاؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو۔ مگر ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں
۱۳۳  تو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون کتنی کھلی ہوئی نشانیاں بھیجیں۔ مگر وہ تکبر ہی کرتے رہے اور وہ لوگ تھے ہی گنہگار
۱۳۴  اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے کہ موسیٰ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب کو ٹال دو گے تو ہم تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے
۱۳۵  پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے
۱۳۶  تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے
۱۳۷  اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو زمین (شام) کے مشرق ومغرب کا جس میں ہم نے برکت دی تھی وارث کردیا اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا وعدہٴ نیک پورا ہوا اور فرعون اور قوم فرعون جو (محل) بناتے اور (انگور کے باغ) جو چھتریوں پر چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا
۱۳۸  اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جا پہنچے جو اپنے بتوں (کی عبادت) کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ (بنی اسرائیل) کہنے لگے کہ موسیٰ جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں۔ ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دو۔ موسیٰ نے کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو
۱۳۹  یہ لوگ جس (شغل) میں (پھنسے ہوئے) ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں سب بیہودہ ہیں
۱۴۰  (اور یہ بھی) کہا کہ بھلا میں خدا کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے
۱۴۱  (اور ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی
۱۴۲  اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کی میعاد مقرر کی۔ اور اس دس (راتیں) اور ملا کر اسے پورا (چلّہ) کردیا تو اس کے پروردگار کی چالیس رات کی میعاد پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے (کوہِٰ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو (ان کی) اصلاح کرتے رہنا ٹھیک اور شریروں کے رستے نہ چلنا
۱۴۳  اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور) پر پہنچے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ پروردگار نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انوارِ ربانی) نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانے والے ہیں ان میں سب سے اول ہوں
۱۴۴  (خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ
۱۴۵  اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا
۱۴۶  جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر راستی کا رستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) رستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے رستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے
۱۴۷  اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا
۱۴۸  اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا
۱۴۹  اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے
۱۵۰  اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔ تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) جلد چاہا (یہ کہا) اور (شدت غضب سے تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجیے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایئے
۱۵۱  تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
۱۵۲  (خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
۱۵۳  اور جنہوں نے برے کام کیے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اس کے بعد (بخش دے گا کہ وہ) بخشنے والا مہربان ہے
۱۵۴  اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات) کی تختیاں اٹھالیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لیے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں۔ ہدایت اور رحمت تھی
۱۵۵  اور موسیٰ نے اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کرکے کوہ طور پر حاضر) ٹل کیے۔ جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا کہ اے پروردگار تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کر دیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کردے گا۔ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جس کو چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے
۱۵۶  اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰة دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں
۱۵۷  وہ جو (محمدﷺ) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں۔ اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی۔ اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی۔ وہی مراد پانے والے ہیں
۱۵۸  (اے محمدﷺ) کہہ دو کہ لوگو میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا (یعنی اس کا رسول) ہوں۔ (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ تو خدا پر اور اس کے رسول پیغمبر اُمی پر جو خدا پر اور اس کے تمام کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ
۱۵۹  اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں
۱۶۰  اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کرکے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنا دیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلویٰ اتارتے رہے۔ اور (ان سے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ۔ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان کیا اپنا ہی کیا
۱۶۱  اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطّتہٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے
۱۶۲  مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ ظلم کرتے تھے
۱۶۳  اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جب لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان کے ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے
۱۶۴  اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو الله ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں
۱۶۵  جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کہ نافرمانی کئے جاتے تھے
۱۶۶  غرض جن اعمال (بد) سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پراصرار اور ہمارے حکم سے) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ
۱۶۷  (اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو انہیں بری بری تکلیفیں دیتا رہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے
۱۶۸  اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کرکے ملک میں منتشر کر دیا۔ بعض ان میں سے نیکوکار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں، تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں
۱۶۹  پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال ومتاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دیئے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے۔ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے کیا تم سمجھتے نہیں
۱۷۰  اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں اور نماز کا التزام رکھتے ہیں (ان کو ہم اجر دیں گے کہ) ہم نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے
۱۷۱  اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا کہ) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو۔ اور جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ
۱۷۲  اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا تمہارا پروردگار نہیں ہوں۔ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) ۔ یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن (کہیں یوں نہ) کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی
۱۷۳  یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا۔ اور ہم تو ان کی اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے) ۔ تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے
۱۷۴  اور اسی طرح ہم (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ رجوع کریں
۱۷۵  اور ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں (اور ہفت پارچہٴ علم شرائع سے مزین کیا) تو اس نے ان کو اتار دیا پھر شیطان اس کے پیچھے لگا تو وہ گمراہوں میں ہوگیا
۱۷۶  اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے اس (کے درجے) کو بلند کر دیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا۔ تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر سختی کرو تو زبان نکالے رہے اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو ان سے یہ قصہ بیان کردو۔ تاکہ وہ فکر کریں
۱۷۷  جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان (کیا تو) اپنا ہی کیا
۱۷۸  جس کو خدا ہدایت دے وہی راہ یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
۱۷۹  اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ بالکل چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں
۱۸۰  اور خدا کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کی سزا پائیں گے
۱۸۱  اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا رستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں
۱۸۲  اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا
۱۸۳  اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے
۱۸۴  کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق محمد (ﷺ) کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ وہ تو ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں
۱۸۵  کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں جو چیزیں خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی اور اس بات پر (خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو۔ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے
۱۸۶  جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں
۱۸۷  (یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردےگا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے
۱۸۸  کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں
۱۸۹  وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے
۱۹۰  جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں۔ جو وہ شرک کرتے ہیں (خدا کا رتبہ) اس سے بلند ہے
۱۹۱  کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کیے جاتے ہیں
۱۹۲  اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں
۱۹۳  اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے ہو رہو
۱۹۴  (مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہیئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں
۱۹۵  بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلالو اور میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی ہو) کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو (پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں)
۱۹۶  میرا مددگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (برحق) نازل کی۔ اور نیک لوگوں کا وہی دوستدار ہے
۱۹۷  اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں
۱۹۸  اور اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بہ ظاہر) آنکھیں کھولے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے
۱۹۹  (اے محمدﷺ) عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو
۲۰۰  اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے
۲۰۱  جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں
۲۰۲  اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں پھر (اس میں کسی طرح کی) کوتاہی نہیں کرتے
۲۰۳  اور جب تم ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنالی۔ کہہ دو کہ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ قرآن تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش وبصیرت اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
۲۰۴  اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
۲۰۵  اور اپنے پروردگار کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح وشام یاد کرتے رہو اور (دیکھنا) غافل نہ ہونا
۲۰۶  جو لوگ تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے گردن کشی نہیں کرتے اور اس پاک ذات کو یاد کرتے اور اس کے آگے سجدے کرتے رہتے ہیں

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  المص
٢  كِتَابٌ أُنْزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِنْهُ لِتُنْذِرَ بِهِ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ
٣  اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ
٤  وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا فَجَاءَهَا بَأْسُنَا بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَائِلُونَ
٥  فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا إِلَّا أَنْ قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
٦  فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ
٧  فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ ۖ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ
٨  وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
٩  وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَظْلِمُونَ
١٠  وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ ۗ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ
١١  وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ
١٢  قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ ۖ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ
١٣  قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَنْ تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ
١٤  قَالَ أَنْظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
١٥  قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ
١٦  قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ
١٧  ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ
١٨  قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًا مَدْحُورًا ۖ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ أَجْمَعِينَ
١٩  وَيَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ
٢٠  فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَنْ تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ
٢١  وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ
٢٢  فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ ۖ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِينٌ
٢٣  قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
٢٤  قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ
٢٥  قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ
٢٦  يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
٢٧  يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْآتِهِمَا ۗ إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ
٢٨  وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا ۗ قُلْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ ۖ أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
٢٩  قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ ۖ وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ۚ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ
٣٠  فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ ۗ إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ
٣١  يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
٣٢  قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
٣٣  قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
٣٤  وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
٣٥  يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي ۙ فَمَنِ اتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
٣٦  وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
٣٧  فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ ۚ أُولَٰئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُمْ مِنَ الْكِتَابِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ قَالُوا أَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۖ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا وَشَهِدُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ
٣٨  قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ فِي النَّارِ ۖ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ حَتَّىٰ إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَٰكِنْ لَا تَعْلَمُونَ
٣٩  وَقَالَتْ أُولَاهُمْ لِأُخْرَاهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ
٤٠  إِنَّ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِينَ
٤١  لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
٤٢  وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
٤٣  وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ ۖ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ ۖ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ۖ وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
٤٤  وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
٤٥  الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُمْ بِالْآخِرَةِ كَافِرُونَ
٤٦  وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَى الْأَعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلًّا بِسِيمَاهُمْ ۚ وَنَادَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ۚ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ
٤٧  وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
٤٨  وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْأَعْرَافِ رِجَالًا يَعْرِفُونَهُمْ بِسِيمَاهُمْ قَالُوا مَا أَغْنَىٰ عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ
٤٩  أَهَٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ ۚ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ
٥٠  وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ ۚ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ
٥١  الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَهْوًا وَلَعِبًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ نَنْسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَٰذَا وَمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ
٥٢  وَلَقَدْ جِئْنَاهُمْ بِكِتَابٍ فَصَّلْنَاهُ عَلَىٰ عِلْمٍ هُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
٥٣  هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُ ۚ يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ يَقُولُ الَّذِينَ نَسُوهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ فَهَلْ لَنَا مِنْ شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوا لَنَا أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ ۚ قَدْ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ
٥٤  إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ ۗ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ
٥٥  ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
٥٦  وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا ۚ إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ
٥٧  وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَنْزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ فَأَخْرَجْنَا بِهِ مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ ۚ كَذَٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
٥٨  وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ ۖ وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا ۚ كَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَشْكُرُونَ
٥٩  لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
٦٠  قَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
٦١  قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلَالَةٌ وَلَٰكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ
٦٢  أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنْصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
٦٣  أَوَعَجِبْتُمْ أَنْ جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
٦٤  فَكَذَّبُوهُ فَأَنْجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا عَمِينَ
٦٥  وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ
٦٦  قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ
٦٧  قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَٰكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ
٦٨  أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ
٦٩  أَوَعَجِبْتُمْ أَنْ جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ ۚ وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً ۖ فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
٧٠  قَالُوا أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا ۖ فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
٧١  قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ ۖ أَتُجَادِلُونَنِي فِي أَسْمَاءٍ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا نَزَّلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ ۚ فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ
٧٢  فَأَنْجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۖ وَمَا كَانُوا مُؤْمِنِينَ
٧٣  وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ قَدْ جَاءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً ۖ فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ ۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
٧٤  وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّأَكُمْ فِي الْأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِنْ سُهُولِهَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُيُوتًا ۖ فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
٧٥  قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِنْ قَوْمِهِ لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِمَنْ آمَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَالِحًا مُرْسَلٌ مِنْ رَبِّهِ ۚ قَالُوا إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِهِ مُؤْمِنُونَ
٧٦  قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا بِالَّذِي آمَنْتُمْ بِهِ كَافِرُونَ
٧٧  فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوا يَا صَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ
٧٨  فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
٧٩  فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَٰكِنْ لَا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ
٨٠  وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ
٨١  إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ ۚ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ
٨٢  وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا أَخْرِجُوهُمْ مِنْ قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
٨٣  فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ
٨٤  وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَطَرًا ۖ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ
٨٥  وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ قَدْ جَاءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ فَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
٨٦  وَلَا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِهِ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًا ۚ وَاذْكُرُوا إِذْ كُنْتُمْ قَلِيلًا فَكَثَّرَكُمْ ۖ وَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
٨٧  وَإِنْ كَانَ طَائِفَةٌ مِنْكُمْ آمَنُوا بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ وَطَائِفَةٌ لَمْ يُؤْمِنُوا فَاصْبِرُوا حَتَّىٰ يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ
٨٨  قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِنْ قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ
٨٩  قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُمْ بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَعُودَ فِيهَا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ
٩٠  وَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَخَاسِرُونَ
٩١  فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
٩٢  الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَأَنْ لَمْ يَغْنَوْا فِيهَا ۚ الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ
٩٣  فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۖ فَكَيْفَ آسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍ كَافِرِينَ
٩٤  وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ
٩٥  ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوْا وَقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
٩٦  وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
٩٧  أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ
٩٨  أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
٩٩  أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ
١٠٠  أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِ أَهْلِهَا أَنْ لَوْ نَشَاءُ أَصَبْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ
١٠١  تِلْكَ الْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَائِهَا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِنْ قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ
١٠٢  وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ ۖ وَإِنْ وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ
١٠٣  ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَظَلَمُوا بِهَا ۖ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
١٠٤  وَقَالَ مُوسَىٰ يَا فِرْعَوْنُ إِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ
١٠٥  حَقِيقٌ عَلَىٰ أَنْ لَا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ ۚ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ فَأَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيلَ
١٠٦  قَالَ إِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِآيَةٍ فَأْتِ بِهَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
١٠٧  فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ
١٠٨  وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِينَ
١٠٩  قَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ عَلِيمٌ
١١٠  يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَكُمْ مِنْ أَرْضِكُمْ ۖ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ
١١١  قَالُوا أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَأَرْسِلْ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ
١١٢  يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَاحِرٍ عَلِيمٍ
١١٣  وَجَاءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوا إِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِينَ
١١٤  قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
١١٥  قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ
١١٦  قَالَ أَلْقُوا ۖ فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ
١١٧  وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
١١٨  فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
١١٩  فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوا صَاغِرِينَ
١٢٠  وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ
١٢١  قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ
١٢٢  رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ
١٢٣  قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنْتُمْ بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَمَكْرٌ مَكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
١٢٤  لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ
١٢٥  قَالُوا إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنْقَلِبُونَ
١٢٦  وَمَا تَنْقِمُ مِنَّا إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِآيَاتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاءَتْنَا ۚ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ
١٢٧  وَقَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُ لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ ۚ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَاهِرُونَ
١٢٨  قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا ۖ إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
١٢٩  قَالُوا أُوذِينَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَنَا وَمِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
١٣٠  وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِينَ وَنَقْصٍ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
١٣١  فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَٰذِهِ ۖ وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَنْ مَعَهُ ۗ أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
١٣٢  وَقَالُوا مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
١٣٣  فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آيَاتٍ مُفَصَّلَاتٍ فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِينَ
١٣٤  وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوا يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ ۖ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ
١٣٥  فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ إِلَىٰ أَجَلٍ هُمْ بَالِغُوهُ إِذَا هُمْ يَنْكُثُونَ
١٣٦  فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ
١٣٧  وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ
١٣٨  وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلَىٰ قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَىٰ أَصْنَامٍ لَهُمْ ۚ قَالُوا يَا مُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ ۚ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ
١٣٩  إِنَّ هَٰؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
١٤٠  قَالَ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِيكُمْ إِلَٰهًا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ
١٤١  وَإِذْ أَنْجَيْنَاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ ۖ يُقَتِّلُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ ۚ وَفِي ذَٰلِكُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ
١٤٢  وَوَاعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَاثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ
١٤٣  وَلَمَّا جَاءَ مُوسَىٰ لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَنْ تَرَانِي وَلَٰكِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي ۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا ۚ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ
١٤٤  قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ
١٤٥  وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِكُلِّ شَيْءٍ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ
١٤٦  سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَإِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا وَإِنْ يَرَوْا سَبِيلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا وَإِنْ يَرَوْا سَبِيلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ
١٤٧  وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الْآخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
١٤٨  وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِنْ بَعْدِهِ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَهُ خُوَارٌ ۚ أَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ۘ اتَّخَذُوهُ وَكَانُوا ظَالِمِينَ
١٤٩  وَلَمَّا سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ وَرَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا قَالُوا لَئِنْ لَمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
١٥٠  وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِنْ بَعْدِي ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى الْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُوا يَقْتُلُونَنِي فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْدَاءَ وَلَا تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
١٥١  قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ ۖ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
١٥٢  إِنَّ الَّذِينَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ
١٥٣  وَالَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِهَا وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ
١٥٤  وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُوسَى الْغَضَبُ أَخَذَ الْأَلْوَاحَ ۖ وَفِي نُسْخَتِهَا هُدًى وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ
١٥٥  وَاخْتَارَ مُوسَىٰ قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا لِمِيقَاتِنَا ۖ فَلَمَّا أَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِيَّايَ ۖ أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا ۖ إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاءُ وَتَهْدِي مَنْ تَشَاءُ ۖ أَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۖ وَأَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ
١٥٦  وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ ۚ قَالَ عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ ۖ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ
١٥٧  الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
١٥٨  قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
١٥٩  وَمِنْ قَوْمِ مُوسَىٰ أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ
١٦٠  وَقَطَّعْنَاهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًا ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ إِذِ اسْتَسْقَاهُ قَوْمُهُ أَنِ اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْحَجَرَ ۖ فَانْبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَشْرَبَهُمْ ۚ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَامَ وَأَنْزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
١٦١  وَإِذْ قِيلَ لَهُمُ اسْكُنُوا هَٰذِهِ الْقَرْيَةَ وَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا حِطَّةٌ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَغْفِرْ لَكُمْ خَطِيئَاتِكُمْ ۚ سَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ
١٦٢  فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَظْلِمُونَ
١٦٣  وَاسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ ۙ لَا تَأْتِيهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
١٦٤  وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ قَالُوا مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
١٦٥  فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
١٦٦  فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَا نُهُوا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ
١٦٧  وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ يَسُومُهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ ۗ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ ۖ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ
١٦٨  وَقَطَّعْنَاهُمْ فِي الْأَرْضِ أُمَمًا ۖ مِنْهُمُ الصَّالِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذَٰلِكَ ۖ وَبَلَوْنَاهُمْ بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
١٦٩  فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَابَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا الْأَدْنَىٰ وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِنْ يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِثْلُهُ يَأْخُذُوهُ ۚ أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِيثَاقُ الْكِتَابِ أَنْ لَا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ وَدَرَسُوا مَا فِيهِ ۗ وَالدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
١٧٠  وَالَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِالْكِتَابِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ
١٧١  وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ وَظَنُّوا أَنَّهُ وَاقِعٌ بِهِمْ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
١٧٢  وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ ۛ شَهِدْنَا ۛ أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَٰذَا غَافِلِينَ
١٧٣  أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ ۖ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ
١٧٤  وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
١٧٥  وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ
١٧٦  وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ ۚ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
١٧٧  سَاءَ مَثَلًا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَأَنْفُسَهُمْ كَانُوا يَظْلِمُونَ
١٧٨  مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِي ۖ وَمَنْ يُضْلِلْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
١٧٩  وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ
١٨٠  وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
١٨١  وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ
١٨٢  وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ
١٨٣  وَأُمْلِي لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ
١٨٤  أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا ۗ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِنْ جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ
١٨٥  أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ وَأَنْ عَسَىٰ أَنْ يَكُونَ قَدِ اقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ
١٨٦  مَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ ۚ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ
١٨٧  يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً ۗ يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
١٨٨  قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ۚ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
١٨٩  هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا ۖ فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ ۖ فَلَمَّا أَثْقَلَتْ دَعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ
١٩٠  فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا ۚ فَتَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
١٩١  أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
١٩٢  وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا وَلَا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ
١٩٣  وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ ۚ سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنْتُمْ صَامِتُونَ
١٩٤  إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَادْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
١٩٥  أَلَهُمْ أَرْجُلٌ يَمْشُونَ بِهَا ۖ أَمْ لَهُمْ أَيْدٍ يَبْطِشُونَ بِهَا ۖ أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌ يُبْصِرُونَ بِهَا ۖ أَمْ لَهُمْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا ۗ قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنْظِرُونِ
١٩٦  إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ
١٩٧  وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ
١٩٨  وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا ۖ وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
١٩٩  خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ
٢٠٠  وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ ۚ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
٢٠١  إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ
٢٠٢  وَإِخْوَانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ
٢٠٣  وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِمْ بِآيَةٍ قَالُوا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا ۚ قُلْ إِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ مِنْ رَبِّي ۚ هَٰذَا بَصَائِرُ مِنْ رَبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
٢٠٤  وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
٢٠٥  وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ
٢٠٦  إِنَّ الَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ يَسْجُدُونَ ۩

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  Alif, Lam, Meem, Sad.
2  [This is] a Book revealed to you, [O Muhammad] – so let there not be in your breast distress therefrom – that you may warn thereby and as a reminder to the believers.
3  Follow, [O mankind], what has been revealed to you from your Lord and do not follow other than Him any allies. Little do you remember.
4  And how many cities have We destroyed, and Our punishment came to them at night or while they were sleeping at noon.
5  And their declaration when Our punishment came to them was only that they said, “Indeed, we were wrongdoers!”
6  Then We will surely question those to whom [a message] was sent, and We will surely question the messengers.
7  Then We will surely relate [their deeds] to them with knowledge, and We were not [at all] absent.
8  And the weighing [of deeds] that Day will be the truth. So those whose scales are heavy – it is they who will be the successful.
9  And those whose scales are light – they are the ones who will lose themselves for what injustice they were doing toward Our verses.
10  And We have certainly established you upon the earth and made for you therein ways of livelihood. Little are you grateful.
11  And We have certainly created you, [O Mankind], and given you [human] form. Then We said to the angels, “Prostrate to Adam”; so they prostrated, except for Iblees. He was not of those who prostrated.
12  [Allah] said, “What prevented you from prostrating when I commanded you?” [Satan] said, “I am better than him. You created me from fire and created him from clay.”
13  [Allah] said, “Descend from Paradise, for it is not for you to be arrogant therein. So get out; indeed, you are of the debased.
14  [Satan] said, “Reprieve me until the Day they are resurrected.”
15  [Allah] said, “Indeed, you are of those reprieved.”
16  [Satan] said, “Because You have put me in error, I will surely sit in wait for them on Your straight path.
17  Then I will come to them from before them and from behind them and on their right and on their left, and You will not find most of them grateful [to You].”
18  [Allah] said, “Get out of Paradise, reproached and expelled. Whoever follows you among them – I will surely fill Hell with you, all together.”
19  And “O Adam, dwell, you and your wife, in Paradise and eat from wherever you will but do not approach this tree, lest you be among the wrongdoers.”
20  But Satan whispered to them to make apparent to them that which was concealed from them of their private parts. He said, “Your Lord did not forbid you this tree except that you become angels or become of the immortal.”
21  And he swore [by Allah] to them, “Indeed, I am to you from among the sincere advisors.”
22  So he made them fall, through deception. And when they tasted of the tree, their private parts became apparent to them, and they began to fasten together over themselves from the leaves of Paradise. And their Lord called to them, “Did I not forbid you from that tree and tell you that Satan is to you a clear enemy?”
23  They said, “Our Lord, we have wronged ourselves, and if You do not forgive us and have mercy upon us, we will surely be among the losers.”
24  [Allah] said, “Descend, being to one another enemies. And for you on the earth is a place of settlement and enjoyment for a time.”
25  He said, “Therein you will live, and therein you will die, and from it you will be brought forth.”
26  O children of Adam, We have bestowed upon you clothing to conceal your private parts and as adornment. But the clothing of righteousness – that is best. That is from the signs of Allah that perhaps they will remember.
27  O children of Adam, let not Satan tempt you as he removed your parents from Paradise, stripping them of their clothing to show them their private parts. Indeed, he sees you, he and his tribe, from where you do not see them. Indeed, We have made the devils allies to those who do not believe.
28  And when they commit an immorality, they say, “We found our fathers doing it, and Allah has ordered us to do it.” Say, “Indeed, Allah does not order immorality. Do you say about Allah that which you do not know?”
29  Say, [O Muhammad], “My Lord has ordered justice and that you maintain yourselves [in worship of Him] at every place [or time] of prostration, and invoke Him, sincere to Him in religion.” Just as He originated you, you will return [to life] –
30  A group [of you] He guided, and a group deserved [to be in] error. Indeed, they had taken the devils as allies instead of Allah while they thought that they were guided.
31  O children of Adam, take your adornment at every masjid, and eat and drink, but be not excessive. Indeed, He likes not those who commit excess.
32  Say, “Who has forbidden the adornment of Allah which He has produced for His servants and the good [lawful] things of provision?” Say, “They are for those who believe during the worldly life [but] exclusively for them on the Day of Resurrection.” Thus do We detail the verses for a people who know.
33  Say, “My Lord has only forbidden immoralities – what is apparent of them and what is concealed – and sin, and oppression without right, and that you associate with Allah that for which He has not sent down authority, and that you say about Allah that which you do not know.”
34  And for every nation is a [specified] term. So when their time has come, they will not remain behind an hour, nor will they precede [it].
35  O children of Adam, if there come to you messengers from among you relating to you My verses, then whoever fears Allah and reforms – there will be no fear concerning them, nor will they grieve.
36  But the ones who deny Our verses and are arrogant toward them – those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally.
37  And who is more unjust than one who invents about Allah a lie or denies His verses? Those will attain their portion of the decree until when Our messengers come to them to take them in death, they will say, “Where are those you used to invoke besides Allah?” They will say, “They have departed from us,” and will bear witness against themselves that they were disbelievers.
38  [Allah] will say, “Enter among nations which had passed on before you of jinn and mankind into the Fire.” Every time a nation enters, it will curse its sister until, when they have all overtaken one another therein, the last of them will say about the first of them “Our Lord, these had misled us, so give them a double punishment of the Fire. He will say, “For each is double, but you do not know.”
39  And the first of them will say to the last of them, “Then you had not any favor over us, so taste the punishment for what you used to earn.”
40  Indeed, those who deny Our verses and are arrogant toward them – the gates of Heaven will not be opened for them, nor will they enter Paradise until a camel enters into the eye of a needle. And thus do We recompense the criminals.
41  They will have from Hell a bed and over them coverings [of fire]. And thus do We recompense the wrongdoers.
42  But those who believed and did righteous deeds – We charge no soul except [within] its capacity. Those are the companions of Paradise; they will abide therein eternally.
43  And We will have removed whatever is within their breasts of resentment, [while] flowing beneath them are rivers. And they will say, “Praise to Allah, who has guided us to this; and we would never have been guided if Allah had not guided us. Certainly the messengers of our Lord had come with the truth.” And they will be called, “This is Paradise, which you have been made to inherit for what you used to do.”
44  And the companions of Paradise will call out to the companions of the Fire, “We have already found what our Lord promised us to be true. Have you found what your Lord promised to be true?” They will say, “Yes.” Then an announcer will announce among them, “The curse of Allah shall be upon the wrongdoers.”
45  Who averted [people] from the way of Allah and sought to make it [seem] deviant while they were, concerning the Hereafter, disbelievers.
46  And between them will be a partition, and on [its] elevations are men who recognize all by their mark. And they call out to the companions of Paradise, “Peace be upon you.” They have not [yet] entered it, but they long intensely.
47  And when their eyes are turned toward the companions of the Fire, they say, “Our Lord, do not place us with the wrongdoing people.”
48  And the companions of the Elevations will call to men [within Hell] whom they recognize by their mark, saying, “Of no avail to you was your gathering and [the fact] that you were arrogant.”
49  [Allah will say], “Are these the ones whom you [inhabitants of Hell] swore that Allah would never offer them mercy? Enter Paradise, [O People of the Elevations]. No fear will there be concerning you, nor will you grieve.”
50  And the companions of the Fire will call to the companions of Paradise, “Pour upon us some water or from whatever Allah has provided you.” They will say, “Indeed, Allah has forbidden them both to the disbelievers.”
51  Who took their religion as distraction and amusement and whom the worldly life deluded.” So today We will forget them just as they forgot the meeting of this Day of theirs and for having rejected Our verses.
52  And We had certainly brought them a Book which We detailed by knowledge – as guidance and mercy to a people who believe.
53  Do they await except its result? The Day its result comes those who had ignored it before will say, “The messengers of our Lord had come with the truth, so are there [now] any intercessors to intercede for us or could we be sent back to do other than we used to do?” They will have lost themselves, and lost from them is what they used to invent.
54  Indeed, your Lord is Allah, who created the heavens and earth in six days and then established Himself above the Throne. He covers the night with the day, [another night] chasing it rapidly; and [He created] the sun, the moon, and the stars, subjected by His command. Unquestionably, His is the creation and the command; blessed is Allah, Lord of the worlds.
55  Call upon your Lord in humility and privately; indeed, He does not like transgressors.
56  And cause not corruption upon the earth after its reformation. And invoke Him in fear and aspiration. Indeed, the mercy of Allah is near to the doers of good.
57  And it is He who sends the winds as good tidings before His mercy until, when they have carried heavy rainclouds, We drive them to a dead land and We send down rain therein and bring forth thereby [some] of all the fruits. Thus will We bring forth the dead; perhaps you may be reminded.
58  And the good land – its vegetation emerges by permission of its Lord; but that which is bad – nothing emerges except sparsely, with difficulty. Thus do We diversify the signs for a people who are grateful.
59  We had certainly sent Noah to his people, and he said, “O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. Indeed, I fear for you the punishment of a tremendous Day.
60  Said the eminent among his people, “Indeed, we see you in clear error.”
61  [Noah] said, “O my people, there is not error in me, but I am a messenger from the Lord of the worlds.”
62  I convey to you the messages of my Lord and advise you; and I know from Allah what you do not know.
63  Then do you wonder that there has come to you a reminder from your Lord through a man from among you, that he may warn you and that you may fear Allah so you might receive mercy.”
64  But they denied him, so We saved him and those who were with him in the ship. And We drowned those who denied Our signs. Indeed, they were a blind people.
65  And to the ‘Aad [We sent] their brother Hud. He said, “O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. Then will you not fear Him?”
66  Said the eminent ones who disbelieved among his people, “Indeed, we see you in foolishness, and indeed, we think you are of the liars.”
67  [Hud] said, “O my people, there is not foolishness in me, but I am a messenger from the Lord of the worlds.”
68  I convey to you the messages of my Lord, and I am to you a trustworthy adviser.
69  Then do you wonder that there has come to you a reminder from your Lord through a man from among you, that he may warn you? And remember when He made you successors after the people of Noah and increased you in stature extensively. So remember the favors of Allah that you might succeed.
70  They said, “Have you come to us that we should worship Allah alone and leave what our fathers have worshipped? Then bring us what you promise us, if you should be of the truthful.”
71  [Hud] said, “Already have defilement and anger fallen upon you from your Lord. Do you dispute with me concerning [mere] names you have named them, you and your fathers, for which Allah has not sent down any authority? Then wait; indeed, I am with you among those who wait.”
72  So We saved him and those with him by mercy from Us. And We eliminated those who denied Our signs, and they were not [at all] believers.
73  And to the Thamud [We sent] their brother Salih. He said, “O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. There has come to you clear evidence from your Lord. This is the she-camel of Allah [sent] to you as a sign. So leave her to eat within Allah ‘s land and do not touch her with harm, lest there seize you a painful punishment.
74  And remember when He made you successors after the ‘Aad and settled you in the land, [and] you take for yourselves palaces from its plains and carve from the mountains, homes. Then remember the favors of Allah and do not commit abuse on the earth, spreading corruption.”
75  Said the eminent ones who were arrogant among his people to those who were oppressed – to those who believed among them, “Do you [actually] know that Salih is sent from his Lord?” They said, “Indeed we, in that with which he was sent, are believers.”
76  Said those who were arrogant, “Indeed we, in that which you have believed, are disbelievers.”
77  So they hamstrung the she-camel and were insolent toward the command of their Lord and said, “O Salih, bring us what you promise us, if you should be of the messengers.”
78  So the earthquake seized them, and they became within their home [corpses] fallen prone.
79  And he turned away from them and said, “O my people, I had certainly conveyed to you the message of my Lord and advised you, but you do not like advisors.”
80  And [We had sent] Lot when he said to his people, “Do you commit such immorality as no one has preceded you with from among the worlds?
81  Indeed, you approach men with desire, instead of women. Rather, you are a transgressing people.”
82  But the answer of his people was only that they said, “Evict them from your city! Indeed, they are men who keep themselves pure.”
83  So We saved him and his family, except for his wife; she was of those who remained [with the evildoers].
84  And We rained upon them a rain [of stones]. Then see how was the end of the criminals.
85  And to [the people of] Madyan [We sent] their brother Shu’ayb. He said, “O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. There has come to you clear evidence from your Lord. So fulfill the measure and weight and do not deprive people of their due and cause not corruption upon the earth after its reformation. That is better for you, if you should be believers.
86  And do not sit on every path, threatening and averting from the way of Allah those who believe in Him, seeking to make it [seem] deviant. And remember when you were few and He increased you. And see how was the end of the corrupters.
87  And if there should be a group among you who has believed in that with which I have been sent and a group that has not believed, then be patient until Allah judges between us. And He is the best of judges.”
88  Said the eminent ones who were arrogant among his people, “We will surely evict you, O Shu’ayb, and those who have believed with you from our city, or you must return to our religion.” He said, “Even if we were unwilling?”
89  We would have invented against Allah a lie if we returned to your religion after Allah had saved us from it. And it is not for us to return to it except that Allah, our Lord, should will. Our Lord has encompassed all things in knowledge. Upon Allah we have relied. Our Lord, decide between us and our people in truth, and You are the best of those who give decision.”
90  Said the eminent ones who disbelieved among his people, “If you should follow Shu’ayb, indeed, you would then be losers.”
91  So the earthquake seized them, and they became within their home [corpses] fallen prone.
92  Those who denied Shu’ayb – it was as though they had never resided there. Those who denied Shu’ayb – it was they who were the losers.
93  And he turned away from them and said, “O my people, I had certainly conveyed to you the messages of my Lord and advised you, so how could I grieve for a disbelieving people?”
94  And We sent to no city a prophet [who was denied] except that We seized its people with poverty and hardship that they might humble themselves [to Allah].
95  Then We exchanged in place of the bad [condition], good, until they increased [and prospered] and said, “Our fathers [also] were touched with hardship and ease.” So We seized them suddenly while they did not perceive.
96  And if only the people of the cities had believed and feared Allah, We would have opened upon them blessings from the heaven and the earth; but they denied [the messengers], so We seized them for what they were earning.”
97  Then, did the people of the cities feel secure from Our punishment coming to them at night while they were asleep?
98  Or did the people of the cities feel secure from Our punishment coming to them in the morning while they were at play?
99  Then did they feel secure from the plan of Allah? But no one feels secure from the plan of Allah except the losing people.
100  Has it not become clear to those who inherited the earth after its [previous] people that if We willed, We could afflict them for their sins? But We seal over their hearts so they do not hear.
101  Those cities – We relate to you, [O Muhammad], some of their news. And certainly did their messengers come to them with clear proofs, but they were not to believe in that which they had denied before. Thus does Allah seal over the hearts of the disbelievers.
102  And We did not find for most of them any covenant; but indeed, We found most of them defiantly disobedient.
103  Then We sent after them Moses with Our signs to Pharaoh and his establishment, but they were unjust toward them. So see how was the end of the corrupters.
104  And Moses said, “O Pharaoh, I am a messenger from the Lord of the worlds
105  [Who is] obligated not to say about Allah except the truth. I have come to you with clear evidence from your Lord, so send with me the Children of Israel.”
106  [Pharaoh] said, “If you have come with a sign, then bring it forth, if you should be of the truthful.”
107  So Moses threw his staff, and suddenly it was a serpent, manifest.
108  And he drew out his hand; thereupon it was white [with radiance] for the observers.
109  Said the eminent among the people of Pharaoh, “Indeed, this is a learned magician
110  Who wants to expel you from your land [through magic], so what do you instruct?”
111  They said, “Postpone [the matter of] him and his brother and send among the cities gatherers
112  Who will bring you every learned magician.”
113  And the magicians came to Pharaoh. They said, “Indeed for us is a reward if we are the predominant.”
114  He said, “Yes, and, [moreover], you will be among those made near [to me].”
115  They said, “O Moses, either you throw [your staff], or we will be the ones to throw [first].”
116  He said, “Throw,” and when they threw, they bewitched the eyes of the people and struck terror into them, and they presented a great [feat of] magic.
117  And We inspired to Moses, “Throw your staff,” and at once it devoured what they were falsifying.
118  So the truth was established, and abolished was what they were doing.
119  And Pharaoh and his people were overcome right there and became debased.
120  And the magicians fell down in prostration [to Allah].
121  They said, “We have believed in the Lord of the worlds,
122  The Lord of Moses and Aaron.”
123  Said Pharaoh, “You believed in him before I gave you permission. Indeed, this is a conspiracy which you conspired in the city to expel therefrom its people. But you are going to know.
124  I will surely cut off your hands and your feet on opposite sides; then I will surely crucify you all.”
125  They said, “Indeed, to our Lord we will return.
126  And you do not resent us except because we believed in the signs of our Lord when they came to us. Our Lord, pour upon us patience and let us die as Muslims [in submission to You].”
127  And the eminent among the people of Pharaoh said,” Will you leave Moses and his people to cause corruption in the land and abandon you and your gods?” [Pharaoh] said, “We will kill their sons and keep their women alive; and indeed, we are subjugators over them.”
128  Said Moses to his people, “Seek help through Allah and be patient. Indeed, the earth belongs to Allah. He causes to inherit it whom He wills of His servants. And the [best] outcome is for the righteous.”
129  They said, “We have been harmed before you came to us and after you have come to us.” He said, “Perhaps your Lord will destroy your enemy and grant you succession in the land and see how you will do.”
130  And We certainly seized the people of Pharaoh with years of famine and a deficiency in fruits that perhaps they would be reminded.
131  But when good came to them, they said, “This is ours [by right].” And if a bad [condition] struck them, they saw an evil omen in Moses and those with him. Unquestionably, their fortune is with Allah, but most of them do not know.
132  And they said, “No matter what sign you bring us with which to bewitch us, we will not be believers in you.”
133  So We sent upon them the flood and locusts and lice and frogs and blood as distinct signs, but they were arrogant and were a criminal people.
134  And when the punishment descended upon them, they said, “O Moses, invoke for us your Lord by what He has promised you. If you [can] remove the punishment from us, we will surely believe you, and we will send with you the Children of Israel.”
135  But when We removed the punishment from them until a term which they were to reach, then at once they broke their word.
136  So We took retribution from them, and We drowned them in the sea because they denied Our signs and were heedless of them.
137  And We caused the people who had been oppressed to inherit the eastern regions of the land and the western ones, which We had blessed. And the good word of your Lord was fulfilled for the Children of Israel because of what they had patiently endured. And We destroyed [all] that Pharaoh and his people were producing and what they had been building.
138  And We took the Children of Israel across the sea; then they came upon a people intent in devotion to [some] idols of theirs. They said, “O Moses, make for us a god just as they have gods.” He said, “Indeed, you are a people behaving ignorantly.
139  Indeed, those [worshippers] – destroyed is that in which they are [engaged], and worthless is whatever they were doing.”
140  He said, “Is it other than Allah I should desire for you as a god while He has preferred you over the worlds?”
141  And [recall, O Children of Israel], when We saved you from the people of Pharaoh, [who were] afflicting you with the worst torment – killing your sons and keeping your women alive. And in that was a great trial from your Lord.
142  And We made an appointment with Moses for thirty nights and perfected them by [the addition of] ten; so the term of his Lord was completed as forty nights. And Moses said to his brother Aaron, “Take my place among my people, do right [by them], and do not follow the way of the corrupters.”
143  And when Moses arrived at Our appointed time and his Lord spoke to him, he said, “My Lord, show me [Yourself] that I may look at You.” [Allah] said, “You will not see Me, but look at the mountain; if it should remain in place, then you will see Me.” But when his Lord appeared to the mountain, He rendered it level, and Moses fell unconscious. And when he awoke, he said, “Exalted are You! I have repented to You, and I am the first of the believers.”
144  [Allah] said, “O Moses, I have chosen you over the people with My messages and My words [to you]. So take what I have given you and be among the grateful.”
145  And We wrote for him on the tablets [something] of all things – instruction and explanation for all things, [saying], “Take them with determination and order your people to take the best of it. I will show you the home of the defiantly disobedient.”
146  I will turn away from My signs those who are arrogant upon the earth without right; and if they should see every sign, they will not believe in it. And if they see the way of consciousness, they will not adopt it as a way; but if they see the way of error, they will adopt it as a way. That is because they have denied Our signs and they were heedless of them.
147  Those who denied Our signs and the meeting of the Hereafter – their deeds have become worthless. Are they recompensed except for what they used to do?
148  And the people of Moses made, after [his departure], from their ornaments a calf – an image having a lowing sound. Did they not see that it could neither speak to them nor guide them to a way? They took it [for worship], and they were wrongdoers.
149  And when regret overcame them and they saw that they had gone astray, they said, “If our Lord does not have mercy upon us and forgive us, we will surely be among the losers.”
150  And when Moses returned to his people, angry and grieved, he said, “How wretched is that by which you have replaced me after [my departure]. Were you impatient over the matter of your Lord?” And he threw down the tablets and seized his brother by [the hair of] his head, pulling him toward him. [Aaron] said, “O son of my mother, indeed the people oppressed me and were about to kill me, so let not the enemies rejoice over me and do not place me among the wrongdoing people.”
151  [Moses] said, “My Lord, forgive me and my brother and admit us into Your mercy, for You are the most merciful of the merciful.”
152  Indeed, those who took the calf [for worship] will obtain anger from their Lord and humiliation in the life of this world, and thus do We recompense the inventors [of falsehood].
153  But those who committed misdeeds and then repented after them and believed – indeed your Lord, thereafter, is Forgiving and Merciful.
154  And when the anger subsided in Moses, he took up the tablets; and in their inscription was guidance and mercy for those who are fearful of their Lord.
155  And Moses chose from his people seventy men for Our appointment. And when the earthquake seized them, he said, “My Lord, if You had willed, You could have destroyed them before and me [as well]. Would You destroy us for what the foolish among us have done? This is not but Your trial by which You send astray whom You will and guide whom You will. You are our Protector, so forgive us and have mercy upon us; and You are the best of forgivers.
156  And decree for us in this world [that which is] good and [also] in the Hereafter; indeed, we have turned back to You.” [Allah] said, “My punishment – I afflict with it whom I will, but My mercy encompasses all things.” So I will decree it [especially] for those who fear Me and give zakah and those who believe in Our verses –
157  Those who follow the Messenger, the unlettered prophet, whom they find written in what they have of the Torah and the Gospel, who enjoins upon them what is right and forbids them what is wrong and makes lawful for them the good things and prohibits for them the evil and relieves them of their burden and the shackles which were upon them. So they who have believed in him, honored him, supported him and followed the light which was sent down with him – it is those who will be the successful.
158  Say, [O Muhammad], “O mankind, indeed I am the Messenger of Allah to you all, [from Him] to whom belongs the dominion of the heavens and the earth. There is no deity except Him; He gives life and causes death.” So believe in Allah and His Messenger, the unlettered prophet, who believes in Allah and His words, and follow him that you may be guided.
159  And among the people of Moses is a community which guides by truth and by it establishes justice.
160  And We divided them into twelve descendant tribes [as distinct] nations. And We inspired to Moses when his people implored him for water, “Strike with your staff the stone,” and there gushed forth from it twelve springs. Every people knew its watering place. And We shaded them with clouds and sent down upon them manna and quails, [saying], “Eat from the good things with which We have provided you.” And they wronged Us not, but they were [only] wronging themselves.
161  And [mention, O Muhammad], when it was said to them, “Dwell in this city and eat from it wherever you will and say, ‘Relieve us of our burdens,’ and enter the gate bowing humbly; We will [then] forgive you your sins. We will increase the doers of good [in goodness and reward].”
162  But those who wronged among them changed [the words] to a statement other than that which had been said to them. So We sent upon them a punishment from the sky for the wrong that they were doing.
163  And ask them about the town that was by the sea – when they transgressed in [the matter of] the sabbath – when their fish came to them openly on their sabbath day, and the day they had no sabbath they did not come to them. Thus did We give them trial because they were defiantly disobedient.
164  And when a community among them said, “Why do you advise [or warn] a people whom Allah is [about] to destroy or to punish with a severe punishment?” they [the advisors] said, “To be absolved before your Lord and perhaps they may fear Him.”
165  And when they forgot that by which they had been reminded, We saved those who had forbidden evil and seized those who wronged, with a wretched punishment, because they were defiantly disobeying.
166  So when they were insolent about that which they had been forbidden, We said to them, “Be apes, despised.”
167  And [mention] when your Lord declared that He would surely [continue to] send upon them until the Day of Resurrection those who would afflict them with the worst torment. Indeed, your Lord is swift in penalty; but indeed, He is Forgiving and Merciful.
168  And We divided them throughout the earth into nations. Of them some were righteous, and of them some were otherwise. And We tested them with good [times] and bad that perhaps they would return [to obedience].
169  And there followed them successors who inherited the Scripture [while] taking the commodities of this lower life and saying, “It will be forgiven for us.” And if an offer like it comes to them, they will [again] take it. Was not the covenant of the Scripture taken from them that they would not say about Allah except the truth, and they studied what was in it? And the home of the Hereafter is better for those who fear Allah, so will you not use reason?
170  But those who hold fast to the Book and establish prayer – indeed, We will not allow to be lost the reward of the reformers.
171  And [mention] when We raised the mountain above them as if it was a dark cloud and they were certain that it would fall upon them, [and Allah said], “Take what We have given you with determination and remember what is in it that you might fear Allah.”
172  And [mention] when your Lord took from the children of Adam – from their loins – their descendants and made them testify of themselves, [saying to them], “Am I not your Lord?” They said, “Yes, we have testified.” [This] – lest you should say on the day of Resurrection, “Indeed, we were of this unaware.”
173  Or [lest] you say, “It was only that our fathers associated [others in worship] with Allah before, and we were but descendants after them. Then would You destroy us for what the falsifiers have done?”
174  And thus do We [explain in] detail the verses, and perhaps they will return.
175  And recite to them, [O Muhammad], the news of him to whom we gave [knowledge of] Our signs, but he detached himself from them; so Satan pursued him, and he became of the deviators.
176  And if We had willed, we could have elevated him thereby, but he adhered [instead] to the earth and followed his own desire. So his example is like that of the dog: if you chase him, he pants, or if you leave him, he [still] pants. That is the example of the people who denied Our signs. So relate the stories that perhaps they will give thought.
177  How evil an example [is that of] the people who denied Our signs and used to wrong themselves.
178  Whoever Allah guides – he is the [rightly] guided; and whoever He sends astray – it is those who are the losers.
179  And We have certainly created for Hell many of the jinn and mankind. They have hearts with which they do not understand, they have eyes with which they do not see, and they have ears with which they do not hear. Those are like livestock; rather, they are more astray. It is they who are the heedless.
180  And to Allah belong the best names, so invoke Him by them. And leave [the company of] those who practice deviation concerning His names. They will be recompensed for what they have been doing.
181  And among those We created is a community which guides by truth and thereby establishes justice.
182  But those who deny Our signs – We will progressively lead them [to destruction] from where they do not know.
183  And I will give them time. Indeed, my plan is firm.
184  Then do they not give thought? There is in their companion [Muhammad] no madness. He is not but a clear warner.
185  Do they not look into the realm of the heavens and the earth and everything that Allah has created and [think] that perhaps their appointed time has come near? So in what statement hereafter will they believe?
186  Whoever Allah sends astray – there is no guide for him. And He leaves them in their transgression, wandering blindly.
187  They ask you, [O Muhammad], about the Hour: when is its arrival? Say, “Its knowledge is only with my Lord. None will reveal its time except Him. It lays heavily upon the heavens and the earth. It will not come upon you except unexpectedly.” They ask you as if you are familiar with it. Say, “Its knowledge is only with Allah, but most of the people do not know.”
188  Say, “I hold not for myself [the power of] benefit or harm, except what Allah has willed. And if I knew the unseen, I could have acquired much wealth, and no harm would have touched me. I am not except a warner and a bringer of good tidings to a people who believe.”
189  It is He who created you from one soul and created from it its mate that he might dwell in security with her. And when he covers her, she carries a light burden and continues therein. And when it becomes heavy, they both invoke Allah, their Lord, “If You should give us a good [child], we will surely be among the grateful.”
190  But when He gives them a good [child], they ascribe partners to Him concerning that which He has given them. Exalted is Allah above what they associate with Him.
191  Do they associate with Him those who create nothing and they are [themselves] created?
192  And the false deities are unable to [give] them help, nor can they help themselves.
193  And if you [believers] invite them to guidance, they will not follow you. It is all the same for you whether you invite them or you are silent.
194  Indeed, those you [polytheists] call upon besides Allah are servants like you. So call upon them and let them respond to you, if you should be truthful.
195  Do they have feet by which they walk? Or do they have hands by which they strike? Or do they have eyes by which they see? Or do they have ears by which they hear? Say, [O Muhammad], “Call your ‘partners’ and then conspire against me and give me no respite.
196  Indeed, my protector is Allah, who has sent down the Book; and He is an ally to the righteous.
197  And those you call upon besides Him are unable to help you, nor can they help themselves.”
198  And if you invite them to guidance, they do not hear; and you see them looking at you while they do not see.
199  Take what is given freely, enjoin what is good, and turn away from the ignorant.
200  And if an evil suggestion comes to you from Satan, then seek refuge in Allah. Indeed, He is Hearing and Knowing.
201  Indeed, those who fear Allah – when an impulse touches them from Satan, they remember [Him] and at once they have insight.
202  But their brothers – the devils increase them in error; then they do not stop short.
203  And when you, [O Muhammad], do not bring them a sign, they say, “Why have you not contrived it?” Say, “I only follow what is revealed to me from my Lord. This [Qur’an] is enlightenment from your Lord and guidance and mercy for a people who believe.”
204  So when the Qur’an is recited, then listen to it and pay attention that you may receive mercy.
205  And remember your Lord within yourself in humility and in fear without being apparent in speech – in the mornings and the evenings. And do not be among the heedless.
206  Indeed, those who are near your Lord are not prevented by arrogance from His worship, and they exalt Him, and to Him they prostrate.

奉至仁至慈的真主之名

1  艾列弗,俩目,米目,萨德。
2  这是降示你的经典–你的胸中切不可因此而有一点烦闷–以便你借此而警告,并以此做信士们的教训。
3  你们当遵循从你们的主降示的经典,你们不要舍真主而顺从许多保佑者。你们很少觉悟。
4  有许多城市曾被我毁灭了;我的刑罚,在他们过夜的时候,或在他们午睡的时候,降临他们。
5  当我的刑罚降临他们的时候,他们唯一的辩诉是说:我们原来确是不义的。
6  我必审问曾派使者去教化过的民众,我必审问曾被派去的使者。
7  我必据真知而告诉他们,我没有离开过他们。
8  在那日,称(功过薄)是真实的。善功的分量较重者才是成功的。
9  善功的分量较轻的人,将因生前不信我的迹象而亏折自身。
10  我确已使你们在大地上安居,并为你们在大地上设生活所需。你们很少感谢。
11  我确已创造你们,然后使你们成形,然后对众天神说:你们向阿丹叩头。他们就向他叩头,唯独易卜劣厮没有叩头。
12  主说:当我命令你叩头的时候,你为什么不叩头呢?他说:我比他优越,你用火造我,用泥造他。
13  主说:你从这里下去吧!你不该在这里自大。你出去吧!你确是卑贱的!
14  他说:求你宽待我,直到人类复活之日。
15  主说:你必定是被宽待的。
16  他说:由于你使我迷误,我必定在你的正路上伺候他们。
17  然后,我必定从他们的前后左右进攻他们。你不致于发现他们大半是感谢的。
18  主说:你被贬责地,被弃绝地从这里出去吧!他们中凡是顺从你的,我必以你和他们一起充满火狱。
19  阿丹啊!你和你的妻子同住乐园吧,你们可以随意吃园里的食物。但不要临近这棵树;否则,就要变成不义者。
20  . 但恶魔教唆他俩,以致为他俩显出他俩的被遮盖的阴部。他说:你俩的主禁你们俩吃这棵树的果实,只为不愿你俩变成天神,或永生不灭。
21  他对他俩盟誓说:我确是忠于你俩的。
22  他用欺骗的手段使他俩堕落。当他俩尝了那棵树的果实的时候,他俩的阴部便对自己现露出来了,他俩只好用园里的树叶遮盖自己的阴部。他俩的主喊叫他俩说:难道我没有禁止你俩吃那棵树的果实吗?难道我没有对你俩说过,恶 魔确是你俩的明敌吗?
23  他俩说:我们的主啊!我们已自欺了,如果你不赦宥我们,不慈悯我们,我们必定变成亏折者。
24  主说:你们互相仇视地下去吧。大地上有你们暂时的住处和享受。
25  主说:你们将在大地上生活,将在大地上死亡,将从地下被取出来。
26  阿丹的子孙啊!我确已为你们而创造遮盖阴部的衣服和修饰的衣服,敬畏的衣服尤为优美。这是属于真主的迹象,以便他们觉悟。
27  阿丹的子孙啊!绝不要让恶魔考验你们。犹如他把你们的始祖父母的衣服脱下,而揭示他俩自己的阴部,然后把他俩诱出乐园。他和他的部下,的确能看见你们;而你们却不能看见他们。我确已使恶魔成为不信道者的盟友。
28  当他们做了丑事的时候,他们说:我们发现我们的祖先是这样做的。真主也是命令我们这样做的。你说:真主不命令人做丑事。难道你们假借真主的名义而妄言你们自己所不知道的事情吗?
29  你说:我的主,命令人主持公道,在-次礼拜的时候,你们要专心致志地趋向他,要心悦诚服地祈祷他。你们要像他创造你们的时候那样返本还原。
30  一伙人,他曾加以引导;一伙人,是该迷误的(他曾加以弃绝)。他们确已舍真主而以恶魔为保佑者,还以为自己是遵循正道的。
31  阿丹的子孙啊!-逢礼拜,你们必须穿著服饰。你们应当吃,应当喝,但不要过分,真主确是不喜欢过分者的。
32  你说:真主为他的臣民而创造的服饰和佳美的食物,谁能禁止他们去享受呢?你说:那些物品为信道者在今世所共有,在复活日所独享的。我为有知识的民众这样解释一切迹象。
33  你说:我的主只禁止一切明显的和隐微的丑事,和罪恶,和无理的侵害,以及用真主所未证实的事物配真主,假借真主的名义而妄言自己所不知道的事 情。
34  -个民族都有一个期限,当他们的限期到来的时候,他们不能耽延一刻;当其未来的时候,他们也不能提前一刻。
35  阿丹的子孙啊!如果你们同族中的使者来对你们讲述我的迹象,那末,凡敬畏而且修身者,将来都没有恐惧,也不忧愁。
36  否认我的迹象而且加以藐视者,是火狱的居民,他们将永居其中。
37  假借真主的名义而造谣,或否认其迹象者,有谁比他们还不义呢?这等人将遭遇天经中为他们预定的命运,直到我的众使者来使他们死亡的时候,将对他们说:你们从前舍真主而祈祷的(偶像),现在哪里呢?他们将说:他们已回避我们了。他们将要承认自己原是不信道者。
38  真主将要说:你们同精灵和人类中以前逝去的各民族一起进入火狱吧。每当一个民族进火狱去,总要咒骂她的姐妹民族,直到他们统统到齐了。他们中后进的论及先进的说:我们的主啊!这等人曾使我们迷误,求你使他们受加倍的火刑。主说:-个人都受加倍的火刑,但你们不知道。
39  他们中最先的对最后的说:那末,你们对我们并无任何优越,故你们当因自己的行为而尝试刑罚!
40  否认我的迹象而加以藐视者,所有的天门必不为他们而开放,他们不得入乐园,直到缆绳能穿过针眼。我要这样报酬犯罪者。
41  他们在火狱里要垫火褥,要盖火被,我要这样报酬不义者。
42  信道而且行善者–我只按各人的能力而加以责成–他们是乐园的居民,他们将永居其中。
43  我将拔除他们心中的怨恨,他们将住在下临诸河的乐园,他们将说:一切赞颂,全归真主!他引导我们获此善报,假如真主没有引导我们,我们不致于遵循正道。我们的主的众使者,确已昭示了真理。或者将大声地对他们说:这就是你们因自己的行为而得继承的乐园。
44  乐园的居民将大声地对火狱的居民说:我们已发现我们的主所应许我们的是真实的了。你们是否也发现你们的主所应许你们的是真实的吗?他们说:是的。于是,一个喊叫者要在他们中间喊叫说:真主的弃绝归于不义者。
45  他们妨碍真主的大道,而且称它为邪道,并且不信后世。
46  他们中间将有一个屏障。在那个(屏障)的高处将有许多男人,他们借双方的仪表而认识双方的人,他们喊叫乐园的居民说:祝你们平安!他们羡慕乐园,但不得进去。
47  当他们的眼光转向火狱的居民的时候,他们说:我们的主啊!来你不要使我们与不义的民众同住。
48  在高处的人,借仪表而认识许多男人,他们将喊叫那些男人说:你们的囤积和骄傲,对于你们毫无裨益。
49  这些人就是你们盟誓说真主不加以慈悯的吗?(他们已奉到命令)说:你们进入乐园吧,你们没有恐惧,也不忧愁。
50  火狱的居民将要喊叫乐园的居民说:求你们把水或真主所供给你们的食品,倒下一点来给我们吧!他们回答说:真主确已禁止我们把这两样东西赠送不信道者。
51  曾以宗教为娱乐和嬉戏,而且为尘世所欺骗者,我今天忘记他们,因为他们曾忘记有今日之相遇,还因为他们否认我的迹象。
52  我曾昭示他们一部我据真知而加以解释的经典,作为对信道的民众的向导和慈恩。
53  他们只等待那部经典的效果,他的效果到来的日子,从前忘记这经典的人将会说:我们的主的众使者,确已昭示真理了!我们有几位说情的人来替我们说情,或准我们返回尘世去,舍罪恶而立善功吗?他们确已亏折了自身,他们所捏造的事已回避他们了。
54  你们的主确是真主,他在6日内创造了天地,然后,升上宝座,他使黑夜追求白昼,而遮蔽它;他把日月和星宿造成顺从他的命令的。真的,创造和命令只归他主持。多福哉真主–全世界的主!
55  你们要虔诚地. 秘密地祈祷你们的主,他确是不喜欢过分者的。
56  在改善地方之后,你们不要在地方上作恶,你们要怀著恐惧和希望的心情祈祷他。真主的慈恩确是临近行善者的。
57  他使风在他的慈恩之前作报喜者,直到它载了沉重的乌云,我就把云赶到一个已死的地方去,于是,从云中降下雨水,于是借雨水而造出各种果实–我这样使死的复活–以便你们觉悟。
58  肥沃的地方的植物,奉真主的命令而生长,瘠薄的地方的植物,出得很少,我这样为感激的民众阐述-切迹象。
59  我确已派遣努哈去教化他的宗族,他说:我的宗族啊!你们要崇拜真主,除他之外,绝无应受你们崇拜的。我的确担心你们遭受重大日的刑罚。
60  他的宗族中的众领袖说:我们的确认为你是在明显的迷误中的。
61  他说:我的宗族啊!我一点也不迷误,但我是全世界的主派遣的使者。
62  我把我的主的使命传达给你们,并且忠告你们,我从真主(的启示中)知道你们所不知道(的道理)。
63  从你们的主发出的教训,借你们族中一个人的口而降临你们,以便他警告你们,以便你们敬畏,以便你们蒙主的怜悯,难道你们对于这件事觉得惊讶吗?
64  但他们否认他,故我拯救他,和与他同船的人,并使那些否认我的迹象者统统淹死。他们确是盲目的民众。
65  (我确已派遣)阿德人的弟兄呼德去教化他们,他说:我的宗族啊!你们要崇拜真主,除他之外,绝无应受你们崇拜的。难道你们还不敬畏吗?
66  他的宗族中不信道的贵族们说:我们的确认为你是愚蠢的,我们确信你是说谎者。
67  他说:我的宗族啊!我一点也不愚蠢,但我是全世界的主派遣的使者。
68  我把我的主的使命传达给你们,我是你们的忠实的劝告者。
69  从你们的主发出的教训,借你们族中一个人的口降临你们,以便他警告你们,难道你们对于这件事觉得惊讶吗?你们要记忆那时,他在努哈的宗族灭亡之后,以你们为代治者,他使你们的体格更加魁梧,你们要铭记真主的恩典,以便你们成功。
70  他们说:你来教我们只崇拜真主,而抛弃我们祖先所崇拜的(偶像)吗?你把你所用来警告我们的(刑罚)拿来给我们看看吧,如果你是说实话的!
71  他说:刑罚和谴怒,必从你们的主来临你们。你们和你们的祖先所定的许多名称,真主并未加以证实,难道你们要为那些名称与我争论吗?你们等待著吧!我的确是与你们一起等待的。
72  我以我的慈恩拯救了他和他的同道,而灭绝了那些否认我的迹象,并且不信道的人。
73  (我确已派遣)赛莫德人的弟兄撒立哈去教化他们,他说:我的宗族啊!你们要崇拜真主,除他之外,绝无应受你们崇拜的。从你们的主发出的明证确已降临你们,这只真主的母驼可以作你们的迹象。故你们让它在真主的大地上随便吃草,不要伤害它,否则,痛苦的刑罚必袭击你们。
74  你们要记忆那时,他在阿德人之后,以你们为代治者,并且使你们居住在地方上,你们在乎原上建筑大厦,并将山岳凿成房屋。你们要铭记真主的种种恩典,不要在地方上作恶。
75  他的宗族中骄做的贵族们对本族中被欺压的人们,即信道的人们说:你们知道撒立哈是他的主派来的使者吗?他们说:我们是确信他的使命的。
76  那些骄做的人说:我们绝不信你们所确信的。
77  他们宰了那只母驼,违抗他们主的命令,他们并说:撒立哈啊!你把你用来警告我们的刑罚拿来给我们看看吧,如果你是使者的话!
78  于是,霹雳袭击了他们,一旦之间,他们都僵卧在各人的家里。
79  于是,他离开他们,并且说:我的宗族啊!我确已把我的主的使命传达给你们了,并忠告你们,但是你们不喜欢忠告者。
80  (我确已派遣)鲁特,当时他对他的宗族说:你们怎么做那种丑事呢?在你们之前,全世界的人没有一个做过这种事的。
81  你们一定要舍妇女而以男人满足性欲,你们确是过分的民众。
82  他的宗族唯一的答覆是说:你们把他们逐出城外,因为他们确是纯洁的民众!
83  我拯救了他和他的信徒,没有拯救他的女人,她是和其余的人同受刑罚的。
84  我曾降大雨去伤他们,你看看犯罪者的结局是怎样的。
85  (我确已派遣)麦德彦人的弟兄舒阿卜去教化他们说:我的宗族啊!你们要崇拜真主,除他之外,绝无应受你们崇拜的。从你们的主发出的明证,确已来临你们了,你们当使用充足的斗和秤,不要克扣别人所应得的货物。在改善地方之后,你们不要在地方上作恶,这对你们是更好的,如果你们是信道者。
86  你们不要伺候在-条道路上,恐吓别人和阻止确信真主的人入真主的大道,而且想暗示它是邪路。你们应该记得,你们原是少数的,随后他使你们的人口增多,你们看看作恶者的结局是怎样的。
87  如果你们当中有一伙人确信我的使命,有一伙人不信它,那末,你们要忍耐,直到真主为我们判决。他是最公正的判决者。
88  他的宗族中骄傲的贵族们说:舒阿卜啊!我们一定要把你和你的信徒们逐出城外,除非你们再信我们的宗教。他说:即使我们厌恶你们的宗教,也要我们再信奉它吗?
89  真主使我们脱离你们的宗教后,如果我们再去信它,那末,我们确已假借真主的名义而造谣了。除非真主–我们的主–意欲,我们不会再信你们的宗教。我们的主的知觉是包罗万物的,我们只信托真主。我们的主啊!求你在我们和我们的宗族之间依真理而判决吧,你是至善的判决者。
90  他的宗族中不信道的贵族们说:如果你们顺从舒阿卜,那末你们一定是亏折的人。
91  于是,地震袭击了他们,顷刻之间,他们都僵卧在各人的家里。
92  否认舒阿卜的人,好像没有在那个城市里居住过一样。否认舒阿卜的人,确是亏折的。
93  于是,他离开他们,并且说:我的宗族啊!我确已把我的主的使命传达给你们了,并向你们提出了忠告。我怎能哀悼不信道的民众呢!
94  我-派遣一个先知到一个城市去,(而他被人否认),我总要以穷困和患难惩治其居民,以便他们谦逊。
95  随后我转祸为福,直到他们富庶,并且说:我们的祖先确已遭过患难,享过康乐了。于是,当他们不知不觉时,我惩治他们。
96  假若各城市的居民,信道而且敬畏,我必为他们而开辟天地的福利,但他们否认先知,故我因他们所作的罪恶而惩治他们了。
97  各城市的居民难道不怕我的刑罚,当他们在夜间酣睡的时候降临他们吗?
98  各城市的居民难道不怕我的刑罚,在上午,当他们在游戏的时候降临他们吗?
99  难道他们不怕真主的计谋吗?只有亏折的民众才不怕真主的计谋。
100  继先民之后而为大地的主人公的人们,假若我意欲,我必因他们的罪恶而惩治他们;并且封闭他们的心,故他们不听劝谏。难道他们不明白这个道理吗?
101  这些城市,我已把它们的部分故事告诉了你。各民族的使者,确已用许多明证昭示本族的人;但他们不会相信自己以前所否认的。真主就这样封闭不信道者的心。
102  我没有发现他们大半是履行约言的,我却发现他们大半是犯罪的人。
103  后来,我派遣穆萨带著我的许多迹象,去见法老和他的众公卿,但他们不肯信那些迹象,你看看作恶者的结局是怎样的!
104  穆萨说:法老啊!我确是全世界的主所派遣的使者,
105  我只应该借真主的名义而宣言真理。我确已从你们的主那里给你们带来了一个明证,所以,你应该释放以色列的后裔,让他们同我一起离去。
106  . 他说:如果你已带来了一种迹象,你就把它拿出来吧,如果你是诚实的人。
107  他就抛下他的手杖,那条手杖忽然变成一条蟒。
108  他抽出他的手来,那只手在观众的眼前忽然显出白光。
109  法老的百姓中的众领袖说:这确是1个高明的术士,
110  法老的百姓中的众领袖说:这确是1个高明的术士,
111  他们说:请你宽容他和他哥哥,并派招募员往各城市去,
112  他们会把所有高明的术士都召到你御前来。
113  术士们来见法老,他们说:如果我们获胜,我们会得到报酬吗?
114  他说:是的,你们必定属于亲信之列。
115  他们说:穆萨啊!你先抛(你的手杖)呢,还是我们先抛(我们的)呢?
116  他说:你们先抛吧!当他们抛下去时,(变出的大蛇)眩惑了众人的眼睛,而且使人们恐怖。他们施展了大魔术。
117  我启示穆萨说:你抛出你的手杖吧。于是,那条手杖立刻消灭了他们所幻化的(大蛇)。
118  于是,真理昭著,而他们所演的魔术变成无用的。
119  法老等当场败北,1变而为屈辱者。
120  术士们不由己地拜倒下去,
121  他们说:我们已信仰全世界的主,
122  即穆萨和哈伦的主。
123  法老说:没有获得我的许可,你们怎么就信仰了他呢?这一定是你们在城里预谋的,想借此把这城里的居民驱逐出去;不久你们就会知道了。
124  我一定要交互著砍掉你们的手脚,然后,我必定把你们统统钉死在十字架上。
125  他们说:我们确要返于我们的主。
126  你无非是责备我们信仰了我们的主所降示的迹象。我们的主啊!求你把坚忍倾注在我们心中,求你在我们顺服的情状下使我们死去。
127  法老的百姓中的众领袖说:难道你要任随穆萨和他的宗族在地方上作恶,并抛弃你和你的众神灵吗?他说:我们要屠杀他们的儿子,保全他们的妇女,我们确是统治他们的。
128  穆萨对他的宗族说:你们要求助于真主,要忍受虐待;大地确是真主的,他使他意欲的臣仆继承它;优美的结局只归敬畏者。
129  他们说:你到来之前,我们受虐待,你到来之后,我们仍然受虐待!他说:你们的主,或许会毁灭你们的仇敌,而以你们为这地方的代治者,看看你们是怎样工作的。
130  我确已用荒年和歉收去惩治法老的臣民,以便他们觉悟。
131  当幸福降临他们的时候,他们说:这是我们所应得的。当灾难降临他们的时候,他们则归咎于穆萨及其教徒们的不祥。真的,他们的厄运是在真主那里注定的,只是他们大半不知道罢了!
132  他们说:无论你拿什么迹象来迷惑我们,我们绝不信仰你。
133  故我使水灾、蝗虫、虱子、青蛙、血液等作为明证去磨难他们。但他们自大,他们是犯罪的民众。
134  当他们遭遇天灾的时候,他们说:穆萨啊!你的主与你有约在先,请你祈祷他,如果你能替我们消除天灾,那末,我们就一定信仰你,一定释放以色列的后裔,让他们同你去。
135  当我替他们暂时消除灾难的时候,他们忽然背约了。
136  于是,我惩治了他们,使他们沉沦在海里,因为他们否认我的迹象,并且忽视它。
137  我使被欺负的民众,继承了我曾降福其中的土地的4境。以色列的后裔,能忍受虐待,故你的主对他们的最佳诺言已完全实现了;我毁灭了法老和他的百姓所构造的,和他们所建筑的。
138  我曾使以色列后裔渡过海去。当他们经过一伙崇拜偶像的民众时,他们说:穆萨啊!请你为我们设置一个神灵,犹如他们有许多神灵一样。他说:你们确是无知的民众。
139  那些人所崇拜的神灵是要被毁灭的,他们所行的善功是无效的。
140  他说:真主曾使你们超越全世界,我怎能舍真主而替你们别求神灵呢?
141  当时,我使你们脱离法老的臣民,他们使你们遭受酷刑,屠杀你们的儿子,保全你们的女子。此中有从你们的主降下的大难。
142  我与穆萨约期三十夜。我又以十夜补足之,故他的主的约期共计四十夜。穆萨对他哥哥哈伦说:请你替我统率我的宗族。你要改善他们的事务,你不要遵循作恶者的道路。
143  当穆萨为了我的会期而来,而且他的主对他说了话的时候,他说:我的主啊!求你昭示我,以便我看见你。主说:你不能看见我,但你看那座山吧。如果它能在它的本位上坚定,那末,你就能看见我。当他的主对那座山微露光华的时候,他使那座山变成粉碎的。穆萨晕倒在地上。当他苏醒的时候,他说:我赞颂你超绝万物,我向你悔罪,我是首先信道的。
144  主说:穆萨啊!我确已借我的使命和面谕而将你选拔在众人之上了,你要接受我所赐你的恩惠,并当感谢我。
145  我曾为他在法版中制定各种教训和各种解释。你要坚持它,并命令你的宗族遵循其中最美的条例,我将昭示你们罪人们的国家。
146  我将使那些在地方上妄自尊大的人离弃我的迹象,即使他们看见一切迹象,他们也不信它;如果他们看见正道,他们不把它当作道路;如果他们看见邪道,他们把它当作道路。这是因为他们不信我的迹象,而且忽视它。
147  否认我的迹象和后世会见的人,他们的善功是无效的,他们只受自己行为的报酬。
148  穆萨的宗族在他(离开)之后,以他们的首饰铸成一头牛犊–一个有犊声的躯壳。难道他们不知道它不能和他们对话,不能指引他们道路吗?他们以它为神灵,他们是不义者。
149  当他们已经悔恨,而且知道自己确已迷误的时候,他们说:如果我们的主不慈悯我们,不饶恕我们,我们一定变成亏折的人了。
150  当穆萨愤怒而又悲伤地去见他的宗族的时候,他说:我不在的时候,你们替我做的事真恶劣!难道你们不能静候你们主的命令吗?他扔了法版,揪住他哥哥的头发,把他拉到身边。他说:胞弟啊!宗族们确已欺负我,他们几乎杀害了我,你不要使我的仇敌称快,不要把我当作不义者。
151  穆萨说:我的主啊!求你赦宥我和我哥哥,求你使我们进入你的慈恩之中,你是至仁至慈的。
152  奉牛犊为神灵的人们,将受他们主的谴怒,在今世必受凌辱。我这样报酬诬蔑真主的人。
153  作恶后能悔改,而且信道者,你的主在他们悔罪之后,对于他们确是至赦的,确是至慈的。
154  穆萨怒气平息后把法版拾了起来。对于敬畏者,法版里有引导和慈恩。
155  穆萨从他的宗族中拣选了7十个人来赴我的约会;当他们为地震所袭击的时候,他说:我的主啊!假若你意欲,那末,以前你早已毁灭他们和我。难道你要为我们中的愚人的行为而毁灭我们吗?这只是你的考验,你借此使你意欲者误入歧途,使你意欲者走上正道。你是我们的保护者,故求你饶恕我们,慈悯我们。你是最善的饶恕者。
156  求你在今世和后世为我们注定幸福,我们确已对你悔过了。主说:我的刑罚,是用去惩治我欲惩治的人的,我的慈恩是包罗万物的。我将注定以我的慈恩归于敬畏真主,完纳天课,而且信仰我的迹象者。
157  他们顺从使者–不识字的先知,他们在自己所有的《讨拉特》和《引支勒》中发现关于他的记载。他命令他们行善,禁止他们作恶,准许他们吃佳美的食物,禁戒他们吃污秽的食物,卸脱他们的重担,解除他们的桎梏,故凡信仰他,尊重他,援助他,而且遵循与他一起降临的光明的人,都是成功者。
158  你说:众人啊!我确是真主的使者,他派我来教化你们全体;天地的主权只是真主的,除他之外,绝无应受崇拜的。他能使死者生,能使生者死,故你们应当信仰真主和他的使者,那个使者是信仰真主及其言辞的,但不识字的先知–你们应当顺从他,以便你们遵循正道。
159  穆萨的宗族中,有一伙人,本著真理引导他人,因真理而主持公道。
160  我把他们分为十2支派,即部落。当穆萨的宗族向他求水的时候,我启示他说:你用你的手杖打那磐石吧。十二股泉水就从那磐石里涌出来,各部落都知道自己的饮水处。我以白云荫蔽他们,又降下甘露和鹌鹑给他们。(我对他们说):你们可以吃我所供给你们的佳美的食物。他们没有亏负我,但他们自亏了。
161  当时,(我)对他们说:你们可以居住在这个城市,而任意吃其中的食物,你们应当鞠躬而入城门,并且说:『释我重负』,我就饶恕你们的种种罪过,我要厚报善人。
162  但他们中不义者改变了他们所奉的嘱言,故我因他们的不义而降天灾于他们。
163  你向他们询问那个滨海城市的情况吧。当时他们在安息日违法乱纪。当时,每逢他们守安息日的时候,鱼儿就浮游到他们面前来;每逢他们不守安息日的时候,鱼儿就不到他们的面前来。由于他们不义的行为,我才这样考验他们。
164  当时,他们中有一伙人说:真主要加以毁灭,或加以严惩的民众,你们何必劝戒他们呢?他们说:因为求得你们主的原谅,而且希望他们能敬畏。
165  当他们不采纳忠告的时候,我拯救了戒人作恶者,而以严刑惩罚不义者,因为他们犯了罪。
166  当他们妄自尊大,不肯遵守戒律的时候,我对他们说:你们变成卑贱的猿猴吧!
167  当时,你的主宣布他一定派人来使他们继续遭受酷刑,直到复活日。你的主的惩罚确是神速的。他确是至赦的,确是至慈的。
168  我曾使他们散处4方,成为若干派别,他们中有善人,有次于善人的,我用种种祸福考验他们,以便他们觉悟。
169  在他们死亡之后,有不肖的后裔代替他们而继承了天经,那些后裔攫取今世浮利,还说:我们将蒙饶恕。如果有同样的浮利来到他们的身边,他们还将攫取。难道天经中没有明文教导他们只能以真理归于真主吗?难道他们没有诵习过那些明文吗?后世的安宅,对于敬要者是更优美的。难道你们不理解吗?
170  坚持天经. 谨守拜功者,我必不会使他们当中的行善者徒劳无酬。
171  当时我使那座山在他们的上面震动,好像伞盖一样,他们猜想那座山要落在他们的头上。我说:你们当坚持我赐予你们的经典,并当牢记其中的教训,以便你们敬畏。
172  当时,你的主从阿丹的子孙的背脊中取出他们的后裔,并使他们招认。主说:难道我不是你们的主吗?他们说:怎么不是呢?我们已作证了。(我所以要使他们招认),是因为不愿你们在复活日说,我们生前确实忽视了这件事。
173  或者说:只有我们的祖先从前曾以物配主,我们不过是他们的后裔;难道你要因荒诞者的行为而毁灭我们吗?
174  我这样解释许多迹象,以便他们悔悟。
175  你应当对他们宣读那个人的故事;我曾把我的许多迹象赏赐他,但他鄙弃那些迹象,故恶魔赶上他,而他变成了迷误者。
176  假若我意欲,我一定要借那些迹象而提升他,但他依恋尘世,顺从私欲,所以他像狗一样,你喝斥它,它就伸出舌头来,你不喝斥它,它也伸出舌头来,这是否认我的迹象者的譬喻。你要讲述这个人的故事,以便他们省悟。
177  否认我的迹象,而且自欺的民众,其譬喻真恶劣!
178  真主引导谁,谁是遵循正道的;真主使谁迷误,谁是亏折的。
179  我确已为火狱而创造了许多精灵和人类,他们有心却不用去思维,他们有眼却不用去观察,他们有耳却不用去听闻。这等人好像牲畜一样,甚至比牲畜还要迷误。这等人是疏忽的。
180  真主有许多极美的名号,故你们要用那些名号呼吁他。妄用真主的名号者, 你们可以置之不理,他们将受自己行为的报酬。
181  我所创造的人,其中有一个民族,他们本著真理引导他人,主持公道。
182  否认我的迹象者,我要使他们不知不觉地渐趋于毁灭。
183  我优容他们,我的计谋确是周密的。
184  难道他们没有思维吗?他们的同伴绝没有疯病,他只是一个坦率的警告者。
185  难道他们没有观察天地的主权和真主创造的万物吗?难道他们没有想到他们的寿限或许已临近了吗?此外,他们将信仰什么言辞呢?
186  真主要使谁迷误,谁没有向导,并任随他们彷徨于残暴之中。
187  他们问你复活在什么时候实现,你说:只有我的主知道,他将在什么时候实现。你说:只有我的主知道那个时候,只有他能在预定的时候显示它。它在天地间是重大的,它将突然降临你们。他们问你,好像你对于它是很熟悉的,你说:只有真主知道它在什么时候实现,但众人大半不知道(这个道理)。
188  你说:除真主所意欲的外,我不能掌握自己的祸福。假若我能知幽玄,我必多谋福利,不遭灾殃了。我只是一个警告者和对信道的民众的报喜者。
189  他从一个人创造你们,他使那个人的配偶与他同类,以便他依恋她。他和她交接后,她怀了一个轻飘飘的孕,她能照常度日,当她感觉身子重的时候,他俩祈祷真主–他俩的主–说:如果你赏赐我们一个健全的儿子,我们一定感谢你。
190  当他赏赐他俩一个健全的儿子的时候,他俩为了主的赏赐而替主树立许多伙伴。但真主超乎他们用来配他的。
191  难道他们以被创造而不能创造任何物的东西去配真主吗!
192  那些东西不能助人,也不能自助。
193  如果你们叫他们来遵循正道,他们不会顺从你们。无论你祈铸他们或保守缄默,这在你们是一样的。
194  你们舍真主而祈祷的,确是跟你们一样的奴仆。你们祈祷他们吧,请他们答应你们的祈求吧,如果你们是诚实的人。
195  他们有脚能行呢?还是有手能擒呢?还是有眼能见呢?还是有耳能听呢?你说:你们呼吁你们的配主,然后你们合力来谋害我,你们不用宽恕我。
196  我的保佑者确是真主,他降示经典,眷顾善人。
197  你们舍他而祈祷的偶像,不能助你们,也不能自助。
198  如果你们叫他们来遵循正道,他们不能听从你们;你以为他们看著你,其实 他们是视而不见的。
199  你要原谅,要劝导,要避开愚人。
200  如果恶魔怂恿你,你当求庇于真主。他确是全聪的,全知的。
201  敬畏者遭遇恶魔蛊惑的时候,能恍然大悟,立刻看见真理。
202  恶魔要任随他的兄弟迷误,然后他们不肯罢休。
203  当你未昭示种迹象的时候,他们说:你怎么不创造一种呢?你说:我只遵守我的主所启示我的经典,这是为信道的民众而从你们的主降示的明证和引导和慈恩。
204  当别人诵读《古兰经》的时候,你们当侧耳细听,严守缄默,以便你们蒙受真主的怜悯。
205  你当朝夕恭敬而恐惧地记念你的主,应当低声赞颂他,你不要疏忽。
206  在你的主那里的(众天神),不是不屑于崇拜他的,他们赞颂他超绝一切,他们只为他而叩头。 (此处叩头!)

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  ‘lms.
2  Ésta es una Escritura que se te ha revelado -¡no te apures por ella!-, para que adviertas por ella, y como amonestación para los creyentes.
3  ¡Seguid lo que vuestro Señor os ha revelado y no sigáis a otros amigos en lugar de seguirle a Él! ¡Qué poco os dejáis amonestar!
4  ¡Cuántas ciudades hemos destruido! Les alcanzó Nuestro rigor de noche o durante la siesta.
5  Cuando les alcanzó Nuestro rigor, no gritaron más que: «¡Fuimos impíos!».
6  Pediremos, ciertamente, responsabilidades a aquéllos a quienes mandamos enviados, como también a los enviados.
7  Les contaremos, ciertamente, con conocimiento. No estábamos ausentes.
8  La pesa ese día será la Verdad. Aquéllos cuyas obras pesen mucho serán los que prosperen,
9  mientras que aquéllos cuyas obras pesen poco perderán, porque obraron impíamente con Nuestros signos.
10  Os hemos dado poderío en la tierra y os hemos puesto en ella medios de subsistencia. ¡Qué poco agradecidos sois!
11  Y os creamos. Luego, os formamos. Luego dijimos a los ángeles: «¡Prosternaos ante Adán!» Se prosternaron, excepto Iblis. No fue de los que se prosternaron.
12  Dijo: «¿Qué es lo que te ha impedido prosternarte cuando Yo te lo he ordenado?» Dijo: «Es que soy mejor que él. A mí me creaste de fuego, mientras que a él le creaste de arcilla».
13  Dijo: «Desciende, pues, de aquí! ¡No vas a echártelas de soberbio en este lugar…! ¡Sal, pues, eres de los despreciables!»
14  Dijo: «¡Déjame esperar hasta el día de la Resurreción!»
15  Dijo: «¡Cuéntate entre aquellos a quienes es dado esperar!»
16  Dijo: «Como me has descarriado, he de acecharles en Tu vía recta.
17  He de atacarles por delante y por detrás, por la derecha y por la izquierda. Y verás que la mayoría no son agradecidos».
18  Dijo: «¡Sal de aquí, detestable, vil! ¡He de llenar la gehena de tus secuaces ¡De todos vosotros!»
19  «¡Adán! ¡Habita con tu esposa en el Jardín y comed de lo que queráis, pero no os acerquéis a este árbol! Si no, seréis de los impíos».
20  Pero el Demonio les insinuó el mal, mostrándoles su escondida desnudez, y dijo: «Vuestro Señor no os ha prohibido acercaros a este árbol sino por temor de que os convirtáis en ángeles u os hagáis inmortales».
21  Y les juró: «¡De veras, os aconsejo bien!»
22  Les hizo, pues, caer dolosamente. Y cuando hubieron gustado ambos del árbol, se les reveló su desnudez y comenzaron a cubrirse con hojas del Jardín. Su Señor les llamó: «¿No os había prohibido ese árbol y dicho que el Demonio era para vosotros un enemigo declarado?»
23  Dijeron: «¡Señor! Hemos sido injustos con nosostros mismos. Si no nos perdonas y Te apiadas de nosotros, seremos, ciertamente, de los que pierden».
24  Dijo: «¡Descended! Seréis enemigos unos de otros. La tierra será por algún tiempo vuestra morada y lugar de disfrute»
25  Dijo: «En ella viviréis, en ella moriréis y de ella se os sacará».
26  ¡Hijos de Adán! Hemos hecho bajar para vosotros una vestidura para cubrir vuestra desnudez y para ornato. Pero la vestidura del temor de Alá, ésa es mejor. Ése es uno de los signos de Alá. Quizás, así, se dejen amonestar.
27  ¡Hijos de Adán! Que el Demonio no os tiente, como cuando sacó a vuestros padres del Jardín, despojándoles de su vestidura para mostrarles su desnudez. Él y su hueste os ven desde donde vosotros no les veis. A los que no creen les hemos dado los demonios como amigos.
28  Cuando cometen una deshonestidad, dicen: «Encontramos a nuestros padres haciendo lo mismo y Alá nos lo ha ordenado». Di: «Ciertamente, Alá no ordena la deshonestidad. ¿Decís contra Alá lo que no sabéis?»
29  Di: «Mi Señor ordena la equidad. Dirigíos a Él siempre que oréis e invocadle rindiéndole culto sincero. Así como os ha creado, volveréis».
30  Ha dirigido a unos, pero otros han merecido extraviarse. Éstos han tomado como amigos a los demonios, en lugar de tomar a Alá, y creen ser bien dirigidos.
31  ¡Hijos de Adán! ¡Atended a vuestro atavío siempre que oréis! ¡Comed y bebed, pero no cometáis excesos, que Él no ama a los inmoderados!
32  Di: «,Quién ha prohibido los adornos que Alá ha producido para Sus siervos y las cosas buenas de que os ha proveído?» Di: «Esto es para los creyentes mientras vivan la vida de acá, pero, en particular, para el día de la Resurrección». Así es como explicamos con detalle las aleyas a gente que sabe.
33  Di: «Mi Señor prohíbe sólo las deshonestidades, tanto las públicas como las ocultas, el pecado, la opresión injusta, que asociéis a Alá algo a lo que Él no ha conferido autoridad y que digáis contra Alá lo que no sabéis».
34  Cada comunidad tiene un plazo. Y cuando vence su plazo, no pueden retrasarlo ni adelantarlo una hora.
35  ¡Hijos de Adán! Si vienen a vosotros enviados salidos de vosotros contándoos Mis signos, quienes temen a Alá y se enmiendan no tienen que temer y no estarán tristes.
36  Pero quienes hayan desmentido Nuestros signos y se hayan apartado altivamente de ellos, ésos morarán en el Fuego eternamente.
37  ¿Hay alguien que sea más impío que quien inventa una mentira contra Alá o niega Sus signos? Ésos tendrán la suerte a que han sido destinados. Cuando, al fin, Nuestros enviados vengan a ellos para llamarles, dirán: «¿Dónde está lo que invocabais en lugar de invocar a Alá?» Ellos dirán: «¡Nos han abandonado!» Entonces, atestiguarán contra sí mismos su incredulidad.
38  Dirá «¡Entrad en el Fuego a reuniros con las comunidades de genios y hombres que os han precedido!» Siempre que una comunidad entra, maldice a su hermana. Cuando, al fin, se encuentren allí todas, la última en llegar dirá de la primera: «¡Señor! Éstos son quienes nos extraviaron. Dóblales, pues, el castigo del Fuego». Dirá: «Todos reciben el doble. Pero vosotros no sabéis».
39  La primera de ellas dirá a la última: «No gozáis de ningún privilegio sobre nosotros. Gustad, pues, el castigo que habéis merecido».
40  A quienes hayan desmentido Nuestros signos y se hayan apartado altivamente de ellos, no se les abrirán las puertas del cielo ni entrarán en el Jardín hasta que entre un camello en el ojo de una aguja. Así retribuiremos a los pecadores.
41  Tendrán la gehena por lecho y, por encima, cobertores. Así retribuiremos a los impíos.
42  Quienes creyeron y obraron bien- a nadie pedimos sino según sus posibilidades-. ésos morarán en el Jardín eternamente.
43  Extirparemos el rencor que quede en sus pechos. Fluirán arroyos a sus pies. Dirán: «¡Alabado sea Alá, Que nos ha dirigido acá! No habríamos sido bien dirigidos si no nos hubiera dirigido Alá. Los enviados de nuestro Señor bien que trajeron la Verdad». Y se les llamará: «Éste es el Jardín. Lo habéis heredado en premio a vuestras obras».
44  Los moradores del Jardín llamarán a los moradores del Fuego: «Hemos encontrado que era verdad lo que nuestro Señor nos había prometido. Y vosotros, ¿ habéis encontrado si era verdad lo que vuestro Señor os había prometido?» «¡Si!», dirán. Entonces, un voceador pregonará entre ellos: «¡Que la maldición de Alá caiga sobre los impíos.
45  que desvían a otros del camino de Alá, deseando que sea tortuoso, y no creen en la otra vida!»
46  Hay entre los dos un velo. En los lugares elevados habrá hombres que reconocerán a todos por sus rasgos distintivos y que llamarán a los moradores del Jardín: «¡Paz sobre vosotros!» No entrarán en él, por mucho que lo deseen.
47  Cuando sus miradas se vuelvan hacia los moradores del Fuego, dirán: «¡Señor! ¡No nos pongas con el pueblo impío»
48  Y los moradores de los lugares elevados llamarán a hombres que reconozcan por sus rasgos distintivos. Dirán: «Lo que habéis acumulado y vuestra altivez no os han servido de nada.
49  ¿Son éstos aquéllos de quienes jurabais que Alá no iba a apiadarse de ellos?» «¡Entrad en el Jardín! No tenéis que temer y no estaréis tristes».
50  Los moradores del Fuego gritarán a los moradores del Jardín: «¡Derramad sobre nosotros algo de agua o algo de lo que Alá os ha proveído!» Dirán: «Alá ha prohibido ambas cosas a los infieles,
51  que tomaron su religión a distracción y juego, a quienes la vida de acá engañó». Hoy les olvidaremos, como ellos olvidaron que les llegaría este día y negaron Nuestros signos.
52  Les trajimos una Escritura, que explicamos detalladamente, con pleno conocimiento, como dirección y misericordia para gente que cree.
53  ¿Esperan otra cosa que su cumplimiento? El día que se cumpla, los que antes la olvidaron dirán: «Los enviados de nuestro Señor bien que trajeron la Verdad ¿Tenemos ahora intercesores que intercedan por nosotros o se nos podría devolver y obraríamos de modo diferente al que obramos?» Se han perdido a sí mismos y se han esfumado sus invenciones.
54  Vuestro Señor es Alá, Que ha creado los cielos y la tierra en seis días. Luego, se ha instalado en el Trono. Cubre el día con la noche, que le sigue rápidamente. Y el sol, la luna y las estrellas, sujetos por Su orden. ¿No son Suyas la creación y la orden? ¡Bendito sea Alá, Señor del universo!
55  ¡Invocad a vuestro Señor humilde y secretamente! Él no ama a quienes violan la ley.
56  ¡No corrompáis en la tierra después de reformada! ¡Invocadle con temor y anhelo! La misericordia de Alá está cerca de quienes hacen el bien.
57  Es Él quien envía los vientos como nuncios que preceden a Su misericordia. Cuando están cargados de nubes pesadas, las empujamos a un país muerto y hacemos que llueva en él y que salgan, gracias al agua, frutos de todas clases. Así haremos salir a los muertos. Quizás así, os dejéis amonestar.
58  La vegetación de un país bueno sale con la ayuda de su Señor, mientras que de un país malo sale pero escasa. Así explicamos los signos a gente que agradece.
59  Enviamos Noé a su pueblo. Dijo: «¡Pueblo! ¡Servid a Alá! No tenéis a ningún otro dios que a Él. Temo por vosotros el castigo de un día terrible».
60  Los dignatarios de su pueblo dijeron: «Sí, vemos que estás evidentemente extraviado».
61  Dijo: «¡Puebla! No estoy extraviado, antes bien he sido enviado por el Señor del universo.
62  Os comunico los mensajes de mi Señor y os aconsejo bien. Y sé por Alá lo que vosotros no sabéis.
63  ¿Os maravilláis de que os haya llegado una amonestación de vuestro Señor, por medio de un hombre salido de vosotros, para advertiros y para que temáis a Alá y, quizás, así, se os tenga piedad?»
64  Pero le desmintieron. Así, pues, les salvamos, a él y a quienes estaban con él en la nave, y anegamos a quienes habían desmentido Nuestros signos. Eran, en verdad, un pueblo ciego.
65  Y a los aditas su hermano Hud. Dijo: «¡Pueblo! ¡Servid a Alá! No tenéis a ningún otro dios que a Él. ¿No vais a temerle?»
66  Los dignatarios de su pueblo, que no creían, dijeron: «Vemos que estás tonto y, sí, creemos que eres de los que mienten».
67  Dijo: «¡Pueblo! No estoy tonto. Antes bien, he sido enviado por el Señor del universo.
68  Os comunico los mensajes de mi Señor y os aconsejo fielmente.
69  ¿Os maravilláis de que os haya llegado una amonestación de vuestro Señor por medio de un hombre salido de vosotros para advertiros? Y recordad cuando os hizo sucesores después del pueblo de Noé y os hizo corpulentos. ¡Recordad, pues, los beneficios de Alá! Quizás, así, prosperéis».
70  Dijeron: «¿Has venido a nosotros para que sirvamos a Alá Solo y renunciemos a aquéllos que nuestros padres servían? Tráenos, pues, aquello con que nos amenazas, si es verdad lo que dices».
71  Dijo: «¡Que la indignación y la ira de vuestro Señor caigan sobre vosotros! ¿Disputaréis conmigo sobre los nombres que habéis puesto, vosotros y vuestros padres? Alá no les ha conferido ninguna autoridad. ¡Y esperad! Yo también soy de los que esperan».
72  Así, pues, salvamos a él y a los que con él estaban por una misericordia venida de Nosotros. Y extirpamos a quienes habían desmentido Nuestros signos y no eran creyentes.
73  Y a los tamudeos su hermano Salih. Dijo: «¡Pueblo! ¡Servid a Alá! No tenéis a ningún otro dios que a Él. Os ha venido de vuestro Señor una prueba: es la camella de Alá, que será signo para vosotros, ¡Dejadla que pazca en la tierra de Alá y no le hagáis mal! Si no, os alcanzará un castigo doloroso.
74  Recordad cuando os hizo sucesores, después de los aditas y os estableció en la tierra. Edificasteis palacios en las llanuras y excavasteis casas en las montañas. Recordad los beneficios de Alá y no obréis mal en la tierra corrompiendo».
75  Los dignatarios de su pueblo, altivos, dijeron a los débiles que habían creído: «¿Sabéis si Salih ha sido enviado por su Señor?». Dijeron: «Creemos en el mensaje que se le ha confiado».
76  Los altivos dijeron: «Pues nosotros no creemos en lo que vosotros creéis».
77  Y desjarretaron la camella e infringieron la orden de su Señor, diciendo: «¡Salih! ¡Tráenos aquello con que nos amenazas, si de verdad eres de los enviados!»
78  Les sorprendió el Temblor y amanecieron muertos en sus casas.
79  Se alejó de ellos, diciendo: «Pueblo! Os he comunicado el mensaje de mi Señor y os he aconsejado bien, pero no amáis a los buenos consejeros».
80  Y a Lot. Cuando dijo a su pueblo: «¿Cometéis una deshonestidad que ninguna criatura ha cometido antes?
81  Ciertamente, por concupiscencia, os llegáis a los hombres en lugar de llegaros a las mujeres. ¡Sí, sois un pueblo inmoderado!»
82  Lo único que respondió su pueblo fue: «¡Expulsadles de la ciudad! ¡Son gente que se las da de puros!»
83  Y les salvamos, a él y a su familia, salvo a su mujer, que fue de los que se rezagaron.
84  E hicimos llover sobre ellos una lluvia: ¡Y mira cómo terminaron los pecadores!
85  Y a los madianitas su hermano Suayb. Dijo: «¡Pueblo! ¡Servid a Alá! No tenéis a ningún otro dios que a Él. Os ha venido, de vuestro Señor, una prueba. ¡Dad la medida y el peso justos, no defraudéis a los hombres en sus bienes! ¡No corrompáis en la tierra después de reformada! Eso es mejor para vosotros, si es que sois creyentes.
86  No acechéis en cada vía a quienes creen en Él, amenazándoles y desviándoles del camino de Alá, deseando que sea tortuoso. Y recordad, cuando erais pocos y Él os multiplicó. ¡Y mirad cómo terminaron los corruptores!
87  Y si algunos de vosotros creen en el mensaje que se me ha confiado y otros no, tened paciencia hasta que Alá decida entre nosotros. Él es el Mejor en decidir».
88  Los dignatarios del pueblo, altivos, dijeron: «Hemos de expulsarte de nuestra ciudad, Suayb, y a los que contigo han creído, a menos que volváis a nuestra religión». Suayb dijo: «¿Aun si no nos gusta?
89  Inventaríamos una mentira contra Alá si volviéramos a vuestra religión después de habernos salvado Alá de ella. No podemos volver a ella, a menos que Alá nuestro Señor lo quiera. Nuestro Señor lo abarca todo en Su ciencia. ¡Confiamos en Alá! ¡Señor, falla según Justicia entre nosotros y nuestro pueblo! Tú eres Quien mejor falla».
90  Los dignatarios de su pueblo, que no creían, dijeron: «Si seguís a Suayb, estáis perdidos…»
91  Les sorprendió el Temblor y amanecieron muertos en sus casas.
92  Fue como si los que habían desmentido a Suayb no hubieran habitado en ellas. Los que habían desmentido a Suayb fueron los que perdieron.
93  Se alejó de ellos, diciendo: «¡Pueblo! Os he comunicado los mensajes de mi Señor y os he aconsejado bien. ¿Cómo voy a sentirlo ahora por gente infiel?»
94  No enviamos a ningún profeta a ciudad que no infligiéramos a su población miseria y desgracia -quizás, así se humillaran-,
95  y que no cambiáramos, a continuación, el mal por el bien hasta que olvidaran lo ocurrido y dijeran: «La desgracia y la dicha alcanzaron también a nuestros padres». Entonces, nos apoderábamos de ellos por sorpresa sin que se apercibieran.
96  Si los habitantes de las ciudades hubieran creído y temido a Alá, habríamos derramado sobre ellos bendiciones del cielo y de la tierra, pero desmintieron y nos apoderamos de ellos por lo que habían cometido.
97  ¿Es que los habitantes de las ciudades están a salvo de que Nuestro rigor les alcance de noche, mientras duermen?
98  ¿O están a salvo los habitantes de las ciudades de que Nuestro rigor les alcance de día, mientras juegan?
99  ¿Es que están a salvo de la intriga de Alá? Nadie está a salvo de la intriga de Alá, sino los que pierden.
100  ¿No hemos indicado a los que han heredado la tierra después de sus anteriores ocupantes que, si Nosotros quisiéramos. les afligiríamos por sus pecados, sellando sus corazones de modo que no pudieran oír?
101  Ésas son las ciudades de las que te hemos contado algunas cosas. Vinieron a ellas sus enviados con las pruebas claras, pero no estaban para creer en lo que antes habían desmentido. Así sella Alá los corazones de los infieles.
102  No hemos encontrado en la mayoría de ellos fidelidad a una alianza, pero si hemos encontrado que la mayoría son unos perversos.
103  Luego, después de ellos, enviamos a Moisés con Nuestros signos a Faraón y a sus dignatarios, pero fueron injustos con ellos. ¡Y mira cómo terminaron los corruptores!
104  Moisés dijo: «Faraón! He sido enviado por el Señor del universo.
105  No debo decir nada contra Alá, sino la verdad. Os he traído una prueba clara de vuestro Señor. Deja marchar conmigo a los Hijos de Israel».
106  Dijo: «Si has traído un signo, muéstralo, si es verdad lo que dices».
107  Tiró su vara y se convirtió en auténtica serpiente.
108  Sacó su mano y he aquí que apareció blanca a los ojos de los presentes.
109  Los dignatarios del pueblo de Faraón dijeron: «Sí, éste es un mago entendido.
110  Quiere expulsaros de vuestra tierra ¿Qué ordenáis?»
111  Dijeron: «¡Dales largas, a él y a su hermano, y envía a las ciudades a agentes que convoquen,
112  que te traigan a todo mago entendido!»
113  Los magos vinieron a Faraón y dijeron: «Tiene que haber una recompensa para nosotros si vencemos».
114  Dijo: «Sí, y seréis, ciertamente, de mis allegados».
115  Dijeron: «¡Moisés! ,Tiras tú o tiramos nosotros?»
116  Dijo: «¡Tirad vosotros!» Y, cuando tiraron fascinaron los ojos de la gente y les aterrorizaron. Vinieron con un encantamiento poderoso.
117  E inspiramos a Moisés: «¡Tira tu vara!» Y he aquí que ésta engulló sus mentiras.
118  Y se cumplió la Verdad y resultó inútil lo que habían hecho.
119  Fueron, así, vencidos y se retiraron humillados.
120  Los magos cayeron prosternados
121  Dijeron: «Creemos en el Señor del universo,
122  el Señor de Moisés y de Aarón».
123  Faraón dijo: «¡Habéis creído en él antes de que yo os autorizara! Ésta es, ciertamente, una intriga que habéis urdido en la ciudad para sacar de ella a su población, pero vais a ver…
124  He de haceros amputar las manos y los pies opuestos. Luego he de haceros crucificar a todos».
125  Dijeron: «Ciertamente, volveremos a nuestro Señor.
126  Te vengas de nosotros sólo porque hemos creído en los signos de nuestro Señor cuando han venido a nosotros. ¡Señor! Infunde en nosotros paciencia y haz que cuando muramos lo hagamos sometidos a Ti».
127  Los dignatarios del pueblo de Faraón dijeron: «¿Dejaréis que Moisés y su pueblo corrompan en el país y os abandonen, a ti a y a tus dioses?» Dijo: «Mataremos sin piedad a sus hijos varones y dejaremos con vida a sus mujeres. Les podemos».
128  Moisés dijo a su pueblo: «¡Implorad la ayuda de Alá y tened paciencia! La tierra es de Alá y se la da en herencia a quien Él quiere de Sus siervos. El fin es para los que temen a Alá».
129  Dijeron: «Hemos sufrido antes de que tú vinieras a nosotros y luego de haber venido». Dijo: «Puede que vuestro Señor destruya a vuestro enemigo y os haga sucederles en la tierra para ver cómo actuáis».
130  Infligimos al pueblo de Faraón años y escasez de frutos. Quizás así, se dejaran amonestar.
131  Cuando les sonreía la fortuna, decían: «¡Esto es nuestro!». Pero, cuando les sucedía un mal, lo achacaban al mal agüero de Moisés y de quienes con él estaban. ¿Es que su suerte no dependía sólo de Alá? Pero la mayoría no sabían.
132  Dijeron: «Sea cual sea el signo que nos traigas para hechizarnos con él, no te creeremos».
133  Enviamos contra ellos la inundación, las langostas, los piojos, las ranas y la sangre, signos inteligibles. Pero fueron altivos, eran gente pecadora.
134  Y, cuando cayó el castigo sobre ellos, dijeron: «¡Moisés! Ruega a tu Señor por nosotros en virtud de la alianza que ha concertado contigo. Si apartas el castigo de nosotros, creeremos, ciertamente, en ti y dejaremos que los Hijos de Israel partan contigo».
135  Pero, cuando retiramos el castigo hasta que se cumpliera el plazo que debían observar, he aquí que quebrantaron su promesa.
136  Nos vengamos de ellos anegándoles en el mar por haber desmentido Nuestros signos y por no haber hecho caso de ellos.
137  Y dimos en herencia al pueblo que había sido humillado las tierras orientales y las occidentales, que Nosotros hemos bendecido. Y se cumplió la bella promesa de tu Señor a los Hijos de Israel, por haber tenido paciencia. Y destruimos lo que Faraón y su pueblo habían hecho y lo que habían construido.
138  E hicimos que los Hijos de Israel atravesaran el mar y llegaron a una gente entregada al culto de sus ídolos. Dijeron: «¡Moisés! ¡Haznos un dios, como ellos tienen dioses!» «¡Sois un pueblo ignorante!», dijo.
139  «Aquello en que estas gentes están va a ser destruido y sus obras serán vanas».
140  Dijo: «¿Voy a buscaros un dios diferente de Alá, siendo así que Él os ha distinguido entre todos los pueblos?»
141  Y cuando os salvamos de las gentes de Faraón, que os sometían a duro castigo, matando sin piedad a vuestros hijos varones y dejando con vida a vuestras mujeres. Con esto os probó vuestro Señor duramente.
142  Y nos dimos cita con Moisés durante treinta días, que completamos con otros diez. Así, la duración con su Señor fue de cuarenta días. Moisés dijo a su hermano Aarón: «Haz mis veces en mi pueblo, obra bien y no imites a los corruptores».
143  Cuando Moisés acudió a Nuestro encuentro y su Señor le hubo hablado, dijo: «¡Señor! ¡Muéstrate a mí, que pueda mirarte!» Dijo: «¡No Me verás! ¡Mira, en cambio, la montaña! Si continúa firme en su sitio, entonces Me verás». Pero, cuando su Señor se manifestó a la montaña, la pulverizó y Moisés cayó al suelo fulminando. Cuando volvió en si dijo: «¡Gloria a Ti! Me arrepiento y soy el primero de los que creen».
144  Dijo: «¡Moisés! Con Mis mensajes y con haberte hablado, te he escogido entre todos los hombres. ¡Coge, pues, lo que te doy y sé de los agradecidos!»
145  Y le escribimos en las Tablas una exhortación sobre todo y una explicación detallada de todo. «Cógelas, pues, con fuerza y ordena a tu pueblo que coja lo mejor de ellas». Yo os haré ver la morada de los perversos.
146  Apartaré de Mis signos a quienes se ensoberbezcan sin razón en la tierra. Sea cual sea el signo que ven, no creen en él. Si ven el camino de la buena dirección, no lo toman como camino, pero si ven el camino del descarrío, sí que lo toman como camino. Y esto es así porque han desmentido Nuestros signos y no han hecho caso de ellos.
147  Vanas serán las obras de quienes desmintieron Nuestros signos y la existencia de la otra vida. ¿Podrán ser retribuidos por otra cosa que por lo que hicieron?
148  Y el pueblo de Moisés, ido éste, hizo un ternero de sus aderezos, un cuerpo que mugía. ¿Es que no vieron que no les hablaba ni les dirigía? Lo cogieron y obraron impíamente.
149  Y, cuando se arrepintieron y vieron que se habían extraviado, dijeron: «Si nuestro Señor no se apiada de nosotros y nos perdona, seremos, ciertamente, de los que pierden».
150  Y, cuando Moisés regresó a su pueblo, airado y dolido, dijo: «¡Qué mal os habéis portado, luego de irme y dejaros! ¿Es que queréis adelantar el juicio de vuestro Señor?» Y arrojó las Tablas y, cogiendo de la cabeza a su hermano, lo arrastró hacia sí. Dijo: «¡Hijo de mi madre! La gente me ha humillado y casi me mata. ¡No hagas, pues, que los enemigos se alegren de mi desgracia! ¡No me pongas con el pueblo impío!»
151  Dijo: «¡Señor! ¡Perdónanos a mí y a mi hermano, e introdúcenos en Tu misericordia! Tú eres la Suma Misericordia».
152  A quienes cogieron el ternero les alcanzará la ira de su Señor y la humillación en la vida de acá. Así retribuiremos a los que inventan.
153  Con quienes, habiendo obrado mal, luego se arrepientan y crean, tu Señor será, sí, indulgente, misericordioso.
154  Cuando se calmó la ira de Moisés cogió las Tablas. Su texto contiene dirección y misericordia para quienes temen a su Señor.
155  Moisés eligió de su pueblo a setenta hombres para asistir a Nuestro encuentro. Cuando les sorprendió el Temblor dijo: «¡Señor! Si hubieras querido, les habrías hecho perecer antes y a mí también. ¿Vas a hacernos perecer por lo que han hecho los tontos de nuestro pueblo? Esto no es más que una prueba Tuya, que Te sirve para extraviar o dirigir a quien quieres. ¡Tú eres nuestro Amigo! Perdónanos, pues, y apiádate de nosotros! Nadie perdona tan bien como Tú.
156  Destínanos bien en la vida de acá y en la otra. Nos hemos vuelto a Ti». Dijo: «Inflijo Mi castigo a quien quiero, pero Mi misericordia es omnímoda». Destinaré a ella a quienes teman a Alá y den el azaque y a quienes crean en Nuestros signos.
157  a quienes sigan al Enviado, el Profeta de los gentiles, a quien ven mencionado en sus textos: en la Tora y en el Evangelio, que les ordena lo que está bien y les prohíbe lo que está mal, les declara lícitas las cosas buenas e ilícitas las impuras, y les libera de sus cargas y de las cadenas que sobre ellos pesaban. Los que crean en él, le sostengan y auxilien, los que sigan la Luz enviada abajo con él, ésos prosperarán.
158  Di: «¡Hombres Yo soy el Enviado de Alá a todos vosotros, de Aquél a Quien pertenece el dominio de los cielos y de la tierra. No hay más dios que Él. Él da la vida y da la muerte. ¡Creed, pues, en Alá y en su Enviado, el Profeta de los gentiles, que cree en Alá y en Sus palabras! ¡Y seguidle! Quizás, así, seáis bien dirigidos».
159  En el pueblo de Moisés había una comunidad que se dirigía según la Verdad, y que, gracias a ella, observaba la justicia.
160  Los dividimos en doce tribus, como comunidades. Cuando el pueblo pidió agua a Moisés, inspiramos a éste «¡Golpea la roca con tu vara!». Y brotaron de ella doce manantiales. Todos sabían de cuál debían beber. Hicimos que se les nublara y les enviamos de lo alto el maná y las codornices: «¡Comed de las cosas buenas de que os hemos proveído.» Y no fueron injustos con Nosotros, sino que lo fueron consigo mismos.
161  Y cuando se les dijo: «Habitad en esta ciudad y comed cuanto queráis de lo que en ella haya. Decid ‘¡Perdón!’ ¡Entrad por la puerta prosternándoos! Os perdonaremos vuestros pecados y daremos más a los que hagan el bien».
162  Pero los impíos de ellos cambiaron por otras las palabras ¡que se les habían dicho y les enviamos un castigo del cielo por haber obrado impíamente.
163  Y pregúntales por aquella ciudad, a orillas del mar, cuyos habitantes violaban el sábado. Los sábados venían a ellos los peces a flor de agua y los otros días no venían a ellos. Les probamos así por haber obrado perversamente.
164  Y cuando unos dijeron: «¿Por qué exhortáis a un pueblo que Alá va a hacer perecer o a castigar severamente?» Dijeron: «Para que vuestro Señor nos disculpe. Quizás, así teman a Alá».
165  Y, cuando hubieron olvidado lo que se les había recordado, salvamos a quienes habían prohibido el mal e infligimos un mal castigo a los impíos, por haber obrado perversamente.
166  Y, cuando desatendieron las prohibiciones, les dijimos: «¡Convertíos en monos repugnantes!»
167  Y cuando tu Señor anunció que enviaría, ciertamente, contra ellos hasta el día de la Resurrección a gente que les impusiera un duro castigo. Ciertamente, tu Señor es rápido en castigar, pero también es indulgente, misericordioso.
168  Los dividimos en la tierra en comunidades. De ellos, había unos que eran justos y otros que no. Les probamos con bendiciones e infortunios. Quizás, así, se convirtieran.
169  Sus sucesores, habiendo heredado la Escritura, se apoderan de los bienes de este mundo, diciendo: «Ya se nos perdonará». Y si se les ofrecen otros bienes, semejantes a los primeros, se apoderan también de ellos. ¿No se concertó con ellos el pacto de la Escritura , según el cual no dirían nada contra Alá sino la verdad? Y eso que han estudiado cuanto en ella hay… Pero la Morada Postrera es mejor para quienes temen a Alá – ¿es que no razonáis?-,
170  para los que se aferran a la Escritura y hacen la azalá. No dejaremos de remunerar a quienes obren bien.
171  Y cuando sacudimos la montaña sobre ellos como si hubiera sido un pabellón y creyeron que se les venía encima: «¡Coged con fuerza lo que os hemos dado y recordad bien su contenido! Quizás, así, temáis a Alá».
172  Y cuando tu Señor sacó de los riñones de los hijos de Adán a su descendencia y les hizo atestiguar contra sí mismos: «¿No soy yo vuestro Señor?» Dijeron: «¡Claro que sí, damos fe!» No sea que dijerais el día de la Resurrección: «No habíamos reparado en ello».
173  O que dijerais: «Nuestros padres eran ya asociadores y nosostros no somos más que sus descendientes. ¿Vas a hacernos perecer por lo que los falsarios han hecho?»
174  Así explicamos las aleyas. Quizás así se conviertan.
175  Cuéntales lo que pasó con aquél a quien dimos Nuestros signos y se deshizo de ellos. El Demonio le persiguió y fue de los descarriados.
176  Si hubiéramos querido, le habríamos levantado con ellos. Pero se apegó a la tierra y siguió su pasión. Pasó con él como pasa con el perro: jadea lo mismo si le atacas que si le dejas en paz. Así es la gente que desmiente Nuestros signos. Cuéntales estas cosas. Quizás, así, reflexionen.
177  ¡Qué mal ejemplo da la gente que desmiente Nuestros signos y es injusta consigo misma!
178  Aquél a quien Alá dirige está en el buen camino. Aquéllos, en cambio, a quienes Él extravía, son los que pierden.
179  Hemos creado para la gehena a muchos de los genios y de los hombres. Tienen corazones con los que no comprenden, ojos con los que no ven, oídos con los que no oyen. Son como rebaños. No, aún más extraviados. Esos tales son los que no se preocupan.
180  Alá posee los nombres más bellos. Empléalos, pues, para invocarle y apártate de quienes los profanen, que serán retribuidos con arreglo a sus obras.
181  Entre nuestras criaturas hay una comunidad que se dirige según la Verdad y que, gracias a ella, observa la justicia.
182  A quienes desmientan Nuestos signos les conduciremos paso a paso, sin que sepan como.
183  Y les concedo una prórroga. Mi estratagema es segura.
184  ¿No reflexionan? Su paisano no es un poseso. Es sólo un monitor que habla claro.
185  ¿No han considerado el reino de los cielos y de la tierra y todo lo que Alá ha creado? ¿Y que tal vez se acerque su fin? ¿En qué anuncio, después de éste, van a creer?
186  Aquél a quien Alá extravía, no podrá encontrar quien le dirija. Él les dejará que yerren ciegos en su rebeldía.
187  Te preguntan por la Hora: «¿Cuándo llegará?» Di: «Sólo mi Señor tiene conocimiento de ella. Nadie sino Él la manifestará a su tiempo. Abruma en los cielos y en la tierra. No vendrá a vosotros sino de repente»,. Te preguntan a ti como si estuvieras bien enterado. Di: «Sólo Alá tiene conocimiento de ella». Pero la mayoría de los hombres no saben.
188  Di: «Yo no dispongo de nada que pueda aprovecharme o dañarme sino tanto cuanto Alá quiera. Si yo conociera lo oculto, abundaría en bienes y no me alcazaría el mal. Pero no soy sino un monitor, un nuncio de buenas nuevas para gente que cree».
189  Él es Quien os ha creado de una sola persona, de la que ha sacado a su cónyuge para que encuentre quietud en ella. Cuando yació con ella, ésta llevó una carga ligera, con la que iba de acá para allá; pero cuando se sintió pesada, invocaron ambos a Alá, su Señor. «Si nos das un hijo bueno, seremos, ciertamente, de los agradecidos.
190  Pero, cuando les dio uno bueno, pusieron a Alá asociados en lo que Él les había dado. ¡Y Alá está por encima de lo que Le asocian!
191  ¿Le asocian dioses que no crean nada -antes bien, ellos mismos han sido creados-
192  y que no pueden ni auxiliarles a ellos ni auxiliarse a sí mismos?
193  Si les llamáis a la Dirección, no os siguen. Les da lo mismo que les llaméis o no.
194  Aquéllos a quienes invocáis, en lugar de invocar a Alá, son siervos como vosotros. ¡Invocadles, pues, y que os escuchen, si es verdad lo que decís…!
195  ¿Tienen pies para andar, manos para asir, ojos para ver, oídos para oír? Di: «¡Invocad a vuestros asociados y urdid algo contra mí! ¡No me hagáis esperar!
196  Mi amigo es Alá, Que ha revelado la Escritura y Que elige a los justos como amigos.
197  Y los que vosotros invocáis, en lugar de invocarle a Él, no pueden auxiliaros a vosotros ni auxiliarse a sí mismos».
198  ¡Si les llamáis a la Dirección, no oyen. Les ves que te miran sin verte.
199  ¡Sé indulgente, prescribe el bien y apártate de los ignorantes!
200  Si el Demonio te incita al mal, busca refugio en Alá. Él todo lo oye, todo lo sabe.
201  Cuando los que temen a Alá sufren una aparición del Demonio, se dejan amonestar y ven claro.
202  A sus hermanos, en cambio, persisten en mantenerles descarriados.
203  Y si no les traes un signo, dicen: «¡Cómo! ¿Por qué no te has escogido uno?» Di: «Yo no hago más que seguir lo que mi Señor me revela». Ésas son pruebas visibles de vuestro Señor, dirección y misericordia para gente que cree.
204  Y, cuando se recite el Corán, ¡escuchadlo en silencio! Quizás así se os tenga piedad.
205  Invoca a tu Señor en tu interior, humilde y temerosamente, a media voz, mañana y tarde, y no seas de los despreocupados.
206  Los que están junto a tu Señor no tienen a menos servirle. Le glorifican y se prosternan ante Él.