Project Description

GHAFIR

شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  حٰم
۲  اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب ودانا کی طرف سے ہے
۳  جو گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے اور سخت عذاب دینے والا اور صاحب کرم ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف پھر کر جانا ہے
۴  خدا کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں۔ تو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے
۵  ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد اور اُمتوں نے بھی (پیغمبروں کی) تکذیب کی۔ اور ہر اُمت نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہی قصد کیا کہ اس کو پکڑ لیں اور بیہودہ (شہبات سے) جھگڑتے رہے کہ اس سے حق کو زائل کردیں تو میں نے ان کو پکڑ لیا (سو دیکھ لو) میرا عذاب کیسا ہوا
۶  اور اسی طرح کافروں کے بارے میں بھی تمہارے پروردگار کی بات پوری ہوچکی ہے کہ وہ اہل دوزخ ہیں
۷  جو لوگ عرش کو اٹھائے ہوئے اور جو اس کے گردا گرد (حلقہ باندھے ہوئے) ہیں (یعنی فرشتے) وہ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور مومنوں کے لئے بخشش مانگتے رہتے ہیں۔ کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو احاطہ کئے ہوئے ہے تو جن لوگوں نے توبہ کی اور تیرے رستے پر چلے ان کو بخش دے اور دوزخ کے عذاب سے بچالے
۸  اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کے بہشتوں میں داخل کر جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے
۹  اور ان کو عذابوں سے بچائے رکھ۔ اور جس کو تو اس روز عذابوں سے بچا لے گا تو بےشک اس پر مہربانی فرمائی اور یہی بڑی کامیابی ہے
۱۰  جن لوگوں نے کفر کیا ان سے پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ جب تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے اور مانتے نہیں تھے تو خدا اس سے کہیں زیادہ بیزار ہوتا تھا جس قدر تم اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہو
۱۱  وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو دفعہ بےجان کیا اور دو دفعہ جان بخشی۔ ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے؟
۱۲  یہ اس لئے کہ جب تنہا خدا کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کردیتے تھے۔ اور اگر اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جاتا تھا تو تسلیم کرلیتے تھے تو حکم تو خدا ہی کا ہے جو (سب سے) اوپر اور (سب سے) بڑا ہے
۱۳  وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تم پر آسمان سے رزق اُتارتا ہے۔ اور نصیحت تو وہی پکڑتا ہے جو (اس کی طرف) رجوع کرتا ہے
۱۴  تو خدا کی عبادت کو خالص کر کر اُسی کو پکارو اگرچہ کافر برا ہی مانیں
۱۵  مالک درجات عالی اور صاحب عرش ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ڈراوے
۱۶  جس روز وہ نکل پڑیں گے ان کی کوئی چیز خدا سے مخفی نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہت ہے؟ خدا کی جو اکیلا اور غالب ہے
۱۷  آج کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ آج (کسی کے حق میں) بےانصافی نہیں ہوگی۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے
۱۸  اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ جب کہ دل غم سے بھر کر گلوں تک آرہے ہوں گے۔ (اور) ظالموں کا کوئی دوست نہ ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات قبول کی جائے
۱۹  وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو (باتیں) سینوں میں پوشیدہ ہیں (ان کو بھی)
۲۰  اور خدا سچائی کے ساتھ حکم فرماتا ہے اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی حکم نہیں دے سکتے۔ بےشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے
۲۱  کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ وہ ان سے زور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے لحاظ سے کہیں بڑھ کر تھے تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ اور ان کو خدا (کے عذاب) سے کوئی بھی بچانے والا نہ تھا
۲۲  یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی دلیلیں لاتے تھے تو یہ کفر کرتے تھے سو خدا نے ان کو پکڑ لیا۔ بےشک وہ صاحب قوت (اور) سخت عذاب دینے والا ہے
۲۳  اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا
۲۴  (یعنی) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا
۲۵  غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو۔ اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں
۲۶  اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کردوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلالے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو نہ بدل دے یا ملک میں فساد (نہ) پیدا کردے
۲۷  موسیٰ نے کہا کہ میں ہر متکبر سے جو حساب کے دن (یعنی قیامت) پر ایمان نہیں لاتا۔ اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں
۲۸  اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا۔ اور اگر سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہے
۲۹  اے قوم آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو۔ (لیکن) اگر ہم پر خدا کا عذاب آگیا تو (اس کے دور کرنے کے لئے) ہماری مدد کون کرے گا۔ فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی بات سُجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے
۳۰  تو جو مومن تھا وہ کہنے لگا کہ اے قوم مجھے تمہاری نسبت خوف ہے کہ (مبادا) تم پر اور اُمتوں کی طرح کے دن کا عذاب آجائے
۳۱  یعنی) نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے پیچھے ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح (تمہارا حال نہ ہوجائے) اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا
۳۲  اور اے قوم مجھے تمہاری نسبت پکار کے دن (یعنی قیامت) کا خوف ہے
۳۳  جس دن تم پیٹھ پھیر کر (قیامت کے دن سے) بھاگو گے (اس دن) تم کو کوئی (عذاب) خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں
۳۴  اور پہلے یوسف بھی تمہارے پاس نشانیاں لے کر آئے تھے تو جو وہ لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک ہی میں رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تو تم کہنے لگے کہ خدا اس کے بعد کبھی کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح خدا اس شخص کو گمراہ کر دیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو
۳۵  جو لوگ بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی دلیل آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔ خدا کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ جھگڑا سخت ناپسند ہے۔ اسی طرح خدا ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے
۳۶  اور فرعون نے کہا کہ ہامان میرے لئے ایک محل بناؤ تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) رستوں پر پہنچ جاؤں
۳۷  (یعنی) آسمانوں کے رستوں پر، پھر موسیٰ کے خدا کو دیکھ لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔ اور اسی طرح فرعون کو اس کے اعمال بد اچھے معلوم ہوتے تھے اور وہ رستے سے روک دیا گیا تھا۔ اور فرعون کی تدبیر تو بےکار تھی
۳۸  اور وہ شخص جو مومن تھا اس نے کہا کہ بھائیو میرے پیچھے چلو میں تمہیں بھلائی کا رستہ دکھاؤ ں
۳۹  بھائیو یہ دنیا کی زندگی (چند روزہ) فائدہ اٹھانے کی چیز ہے۔ اور جو آخرت ہے وہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے
۴۰  جو برے کام کرے گا اس کو بدلہ بھی ویسا ہی ملے گا۔ اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے وہاں ان کو بےشمار رزق ملے گا
۴۱  اور اے قوم میرا کیا (حال) ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے (دوزخ کی) آگ کی طرف بلاتے ہو
۴۲  تم مجھے اس لئے بلاتے ہو کہ خدا کے ساتھ کفر کروں اور اس چیز کو اس کا شریک مقرر کروں جس کا مجھے کچھ بھی علم نہیں۔ اور میں تم کو (خدائے) غالب (اور) بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں
۴۳  سچ تو یہ ہے کہ جس چیز کی طرف تم مجھے بلاتے ہو اس کو دنیا اور آخرت میں بلانے (یعنی دعا قبول کرنے) کا مقدور نہیں اور ہم کو خدا کی طرف لوٹنا ہے اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں
۴۴  جو بات میں تم سے کہتا ہوں تم اسے آگے چل کر یاد کرو گے۔ اور میں اپنا کام خدا کے سپرد کرتا ہوں۔ بےشک خدا بندوں کو دیکھنے والا ہے
۴۵  غرض خدا نے موسیٰ کو ان لوگوں کی تدبیروں کی برائیوں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آگھیرا
۴۶  یعنی) آتش (جہنم) کہ صبح وشام اس کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔ اور جس روز قیامت برپا ہوگی (حکم ہوگا کہ) فرعون والوں کو نہایت سخت عذاب میں داخل کرو
۴۷  اور جب وہ دوزخ میں جھگڑیں گے تو ادنیٰ درجے کے لوگ بڑے آدمیوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے تو کیا تم دوزخ (کے عذاب) کا کچھ حصہ ہم سے دور کرسکتے ہو؟
۴۸  بڑے آدمی کہیں گے کہ تم (بھی اور) ہم (بھی) سب دوزخ میں (رہیں گے) خدا بندوں میں فیصلہ کرچکا ہے
۴۹  اور جو لوگ آگ میں (جل رہے) ہوں گے وہ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ ایک روز تو ہم سے عذاب ہلکا کردے
۵۰  وہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے۔ وہ کہیں گے کیوں نہیں تو وہ کہیں گے کہ تم ہی دعا کرو۔ اور کافروں کی دعا (اس روز) بےکار ہوگی
۵۱  ہم اپنے پیغمبروں کی اور جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے (یعنی قیامت کو بھی)
۵۲  جس دن ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہ دے گی اور ان کے لئے لعنت اور برا گھر ہے
۵۳  اور ہم نے موسیٰ کو ہدایت (کی کتاب) دی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا
۵۴  عقل والوں کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے
۵۵  تو صبر کرو بےشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور صبح وشام اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو
۵۶  جو لوگ بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں ان کے دلوں میں اور کچھ نہیں (ارادہٴ) عظمت ہے اور وہ اس کو پہنچنے والے نہیں تو خدا کی پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے
۵۷  آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے کی نسبت بڑا (کام) ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
۵۸  اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں۔ اور نہ ایمان لانے والے نیکوکار اور نہ بدکار (برابر ہیں) (حقیقت یہ ہے کہ) تم بہت کم غور کرتے ہو
۵۹  قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں رکھتے
۶۰  اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری (دعا) قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے ازراہ تکبر کنیاتے ہیں۔ عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے
۶۱  خدا ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی کہ اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا (کہ اس میں کام کرو) بےشک خدا لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
۶۲  یہی خدا تمہارا پروردگار ہے جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو؟
۶۳  اسی طرح وہ لوگ بھٹک رہے تھے جو خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے
۶۴  خدا ہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے ٹھیرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی خوب بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے۔ پس خدائے پروردگار عالم بہت ہی بابرکت ہے
۶۵  وہ زندہ ہے (جسے موت نہیں) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو اس کی عبادت کو خالص کر کر اسی کو پکارو۔ ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام جہان کا پروردگار ہے
۶۶  (اے محمدﷺ ان سے) کہہ دو کہ مجھے اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو ان کی پرستش کروں (اور میں ان کی کیونکر پرستش کروں) جب کہ میرے پاس میرے پروردگار (کی طرف) سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ پروردگار عالم ہی کا تابع فرمان ہوں
۶۷  وہی تو ہے جس نے تم کو (پہلے) مٹی سے پیدا کیا۔ ہھر نطفہ بنا کر پھر لوتھڑا بنا کر پھر تم کو نکالتا ہے (کہ تم) بچّے (ہوتے ہو) پھر تم اپنی جوانی کو پہنچتے ہو۔ پھر بوڑھے ہوجاتے ہو۔ اور کوئی تم میں سے پہلے ہی مرجاتا ہے اور تم (موت کے) وقت مقرر تک پہنچ جاتے ہو اور تاکہ تم سمجھو
۶۸  وہی تو ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے۔ پھر جب وہ کوئی کام کرنا (اور کسی کو پیدا کرنا) چاہتا ہے تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ جاتا ہے
۶۹  کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔ یہ کہاں بھٹک رہے ہیں؟
۷۰  جن لوگوں نے کتاب (خدا) کو اور جو کچھ ہم نے پیغمبروں کو دے کر بھیجا اس کو جھٹلایا۔ وہ عنقریب معلوم کرلیں گے
۷۱  جب کہ ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی (اور) گھسیٹے جائیں گے
۷۲  (یعنی) کھولتے ہوئے پانی میں۔ پھر آگ میں جھونک دیئے جائیں گے
۷۳  پھر ان سے کہا جائے گا کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم (خدا کے) شریک بناتے تھے
۷۴  (یعنی غیر خدا) کہیں گے وہ تو ہم سے جاتے رہے بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو پکارتے ہی نہیں تھے۔ اسی طرح خدا کافروں کو گمراہ کرتا ہے
۷۵  یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم زمین میں حق کے بغیر (یعنی اس کے خلاف) خوش ہوا کرتے تھے اور اس کی (سزا ہے) کہ اترایا کرتے تھے
۷۶  (اب) جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہمیشہ اسی میں رہو گے۔ متکبروں کا کیا برا ٹھکانا ہے
۷۷  تو (اے پیغمبر) صبر کرو خدا کا وعدہ سچا ہے۔ اگر ہم تم کو کچھ اس میں سے دکھادیں جس کا ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں۔ (یعنی کافروں پر عذاب نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے
۷۸  اور ہم نے تم سے پہلے (بہت سے) پیغمبر بھیجے۔ ان میں کچھ تو ایسے ہیں جن کے حالات تم سے بیان کر دیئے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات بیان نہیں کئے۔ اور کسی پیغمبر کا مقدور نہ تھا کہ خدا کے حکم کے سوا کوئی نشانی لائے۔ پھر جب خدا کا حکم آپہنچا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور اہل باطل نقصان میں پڑ گئے
۷۹  خدا ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے چارپائے بنائے تاکہ ان میں سے بعض پر سوار ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو
۸۰  اور تمہارے لئے ان میں (اور بھی) فائدے ہیں اور اس لئے بھی کہ (کہیں جانے کی) تمہارے دلوں میں جو حاجت ہو ان پر (چڑھ کر وہاں) پہنچ جاؤ۔ اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو
۸۱  اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تو تم خدا کی کن کن نشانیوں کو نہ مانو گے
۸۲  کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ (حالانکہ) وہ ان سے کہیں زیادہ طاقتور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے اعتبار سے بہت بڑھ کر تھے۔ تو جو کچھ وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ کام نہ آیا
۸۳  اور جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو جو علم (اپنے خیال میں) ان کے پاس تھا اس پر اترانے لگے اور جس چیز سے تمسخر کیا کرتے تھے اس نے ان کو آ گھیرا
۸۴  پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس سے نامعتقد ہوئے
۸۵  لیکن جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان کے ایمان نے ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ (یہ) خدا کی عادت (ہے) جو اس کے بندوں (کے بارے) میں چلی آتی ہے۔ اور وہاں کافر گھاٹے میں پڑ گئے

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  حم
٢  تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
٣  غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ
٤  مَا يُجَادِلُ فِي آيَاتِ اللَّهِ إِلَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَا يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ
٥  كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَالْأَحْزَابُ مِنْ بَعْدِهِمْ ۖ وَهَمَّتْ كُلُّ أُمَّةٍ بِرَسُولِهِمْ لِيَأْخُذُوهُ ۖ وَجَادَلُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ فَأَخَذْتُهُمْ ۖ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ
٦  وَكَذَٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ أَصْحَابُ النَّارِ
٧  الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ
٨  رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
٩  وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ ۚ وَمَنْ تَقِ السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
١٠  إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللَّهِ أَكْبَرُ مِنْ مَقْتِكُمْ أَنْفُسَكُمْ إِذْ تُدْعَوْنَ إِلَى الْإِيمَانِ فَتَكْفُرُونَ
١١  قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلْ إِلَىٰ خُرُوجٍ مِنْ سَبِيلٍ
١٢  ذَٰلِكُمْ بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ ۖ وَإِنْ يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا ۚ فَالْحُكْمُ لِلَّهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ
١٣  هُوَ الَّذِي يُرِيكُمْ آيَاتِهِ وَيُنَزِّلُ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ رِزْقًا ۚ وَمَا يَتَذَكَّرُ إِلَّا مَنْ يُنِيبُ
١٤  فَادْعُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ
١٥  رَفِيعُ الدَّرَجَاتِ ذُو الْعَرْشِ يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَىٰ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ
١٦  يَوْمَ هُمْ بَارِزُونَ ۖ لَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ ۚ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۖ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ
١٧  الْيَوْمَ تُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ ۚ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
١٨  وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْآزِفَةِ إِذِ الْقُلُوبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كَاظِمِينَ ۚ مَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ حَمِيمٍ وَلَا شَفِيعٍ يُطَاعُ
١٩  يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ
٢٠  وَاللَّهُ يَقْضِي بِالْحَقِّ ۖ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَقْضُونَ بِشَيْءٍ ۗ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
٢١  أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ كَانُوا مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا هُمْ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَآثَارًا فِي الْأَرْضِ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَاقٍ
٢٢  ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانَتْ تَأْتِيهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَكَفَرُوا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّهُ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ
٢٣  وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ
٢٤  إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَقَارُونَ فَقَالُوا سَاحِرٌ كَذَّابٌ
٢٥  فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوا أَبْنَاءَ الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ وَاسْتَحْيُوا نِسَاءَهُمْ ۚ وَمَا كَيْدُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ
٢٦  وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسَىٰ وَلْيَدْعُ رَبَّهُ ۖ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ
٢٧  وَقَالَ مُوسَىٰ إِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ مِنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ
٢٨  وَقَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ وَإِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ ۖ وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ
٢٩  يَا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَاهِرِينَ فِي الْأَرْضِ فَمَنْ يَنْصُرُنَا مِنْ بَأْسِ اللَّهِ إِنْ جَاءَنَا ۚ قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِيكُمْ إِلَّا مَا أَرَىٰ وَمَا أَهْدِيكُمْ إِلَّا سَبِيلَ الرَّشَادِ
٣٠  وَقَالَ الَّذِي آمَنَ يَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِثْلَ يَوْمِ الْأَحْزَابِ
٣١  مِثْلَ دَأْبِ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَالَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ ۚ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِلْعِبَادِ
٣٢  وَيَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ
٣٣  يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِينَ مَا لَكُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ ۗ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ
٣٤  وَلَقَدْ جَاءَكُمْ يُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا زِلْتُمْ فِي شَكٍّ مِمَّا جَاءَكُمْ بِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُولًا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُرْتَابٌ
٣٥  الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ ۖ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ الَّذِينَ آمَنُوا ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ
٣٦  وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ
٣٧  أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا ۚ وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ ۚ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابٍ
٣٨  وَقَالَ الَّذِي آمَنَ يَا قَوْمِ اتَّبِعُونِ أَهْدِكُمْ سَبِيلَ الرَّشَادِ
٣٩  يَا قَوْمِ إِنَّمَا هَٰذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَإِنَّ الْآخِرَةَ هِيَ دَارُ الْقَرَارِ
٤٠  مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ
٤١  وَيَا قَوْمِ مَا لِي أَدْعُوكُمْ إِلَى النَّجَاةِ وَتَدْعُونَنِي إِلَى النَّارِ
٤٢  تَدْعُونَنِي لِأَكْفُرَ بِاللَّهِ وَأُشْرِكَ بِهِ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَأَنَا أَدْعُوكُمْ إِلَى الْعَزِيزِ الْغَفَّارِ
٤٣  لَا جَرَمَ أَنَّمَا تَدْعُونَنِي إِلَيْهِ لَيْسَ لَهُ دَعْوَةٌ فِي الدُّنْيَا وَلَا فِي الْآخِرَةِ وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحَابُ النَّارِ
٤٤  فَسَتَذْكُرُونَ مَا أَقُولُ لَكُمْ ۚ وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
٤٥  فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا ۖ وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ
٤٦  النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۖ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
٤٧  وَإِذْ يَتَحَاجُّونَ فِي النَّارِ فَيَقُولُ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنْتُمْ مُغْنُونَ عَنَّا نَصِيبًا مِنَ النَّارِ
٤٨  قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُلٌّ فِيهَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ
٤٩  وَقَالَ الَّذِينَ فِي النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوا رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِنَ الْعَذَابِ
٥٠  قَالُوا أَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ ۖ قَالُوا بَلَىٰ ۚ قَالُوا فَادْعُوا ۗ وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ
٥١  إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ
٥٢  يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
٥٣  وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْهُدَىٰ وَأَوْرَثْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ
٥٤  هُدًى وَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
٥٥  فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ
٥٦  إِنَّ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ ۙ إِنْ فِي صُدُورِهِمْ إِلَّا كِبْرٌ مَا هُمْ بِبَالِغِيهِ ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
٥٧  لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
٥٨  وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَلَا الْمُسِيءُ ۚ قَلِيلًا مَا تَتَذَكَّرُونَ
٥٩  إِنَّ السَّاعَةَ لَآتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ
٦٠  وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
٦١  اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ
٦٢  ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ
٦٣  كَذَٰلِكَ يُؤْفَكُ الَّذِينَ كَانُوا بِآيَاتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
٦٤  اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ ۖ فَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ
٦٥  هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ۗ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
٦٦  قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَمَّا جَاءَنِيَ الْبَيِّنَاتُ مِنْ رَبِّي وَأُمِرْتُ أَنْ أُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ
٦٧  هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُونُوا شُيُوخًا ۚ وَمِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفَّىٰ مِنْ قَبْلُ ۖ وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى وَلَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
٦٨  هُوَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ فَإِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
٦٩  أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ أَنَّىٰ يُصْرَفُونَ
٧٠  الَّذِينَ كَذَّبُوا بِالْكِتَابِ وَبِمَا أَرْسَلْنَا بِهِ رُسُلَنَا ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
٧١  إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ
٧٢  فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ
٧٣  ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُونَ
٧٤  مِنْ دُونِ اللَّهِ ۖ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا بَلْ لَمْ نَكُنْ نَدْعُو مِنْ قَبْلُ شَيْئًا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَافِرِينَ
٧٥  ذَٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُونَ
٧٦  ادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ
٧٧  فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۚ فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ
٧٨  وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ ۗ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَنْ يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ فَإِذَا جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ قُضِيَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُونَ
٧٩  اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَنْعَامَ لِتَرْكَبُوا مِنْهَا وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ
٨٠  وَلَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ وَلِتَبْلُغُوا عَلَيْهَا حَاجَةً فِي صُدُورِكُمْ وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ
٨١  وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ فَأَيَّ آيَاتِ اللَّهِ تُنْكِرُونَ
٨٢  أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً وَآثَارًا فِي الْأَرْضِ فَمَا أَغْنَىٰ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
٨٣  فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
٨٤  فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ
٨٥  فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا ۖ سُنَّتَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ ۖ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  Ha, Meem.
2  The revelation of the Book is from Allah, the Exalted in Might, the Knowing.
3  The forgiver of sin, acceptor of repentance, severe in punishment, owner of abundance. There is no deity except Him; to Him is the destination.
4  No one disputes concerning the signs of Allah except those who disbelieve, so be not deceived by their [uninhibited] movement throughout the land.
5  The people of Noah denied before them and the [disbelieving] factions after them, and every nation intended [a plot] for their messenger to seize him, and they disputed by [using] falsehood to [attempt to] invalidate thereby the truth. So I seized them, and how [terrible] was My penalty.
6  And thus has the word of your Lord come into effect upon those who disbelieved that they are companions of the Fire.
7  Those [angels] who carry the Throne and those around it exalt [Allah] with praise of their Lord and believe in Him and ask forgiveness for those who have believed, [saying], “Our Lord, You have encompassed all things in mercy and knowledge, so forgive those who have repented and followed Your way and protect them from the punishment of Hellfire.
8  Our Lord, and admit them to gardens of perpetual residence which You have promised them and whoever was righteous among their fathers, their spouses and their offspring. Indeed, it is You who is the Exalted in Might, the Wise.
9  And protect them from the evil consequences [of their deeds]. And he whom You protect from evil consequences that Day – You will have given him mercy. And that is the great attainment.”
10  Indeed, those who disbelieve will be addressed, “The hatred of Allah for you was [even] greater than your hatred of yourselves [this Day in Hell] when you were invited to faith, but you refused.”
11  They will say, “Our Lord, You made us lifeless twice and gave us life twice, and we have confessed our sins. So is there to an exit any way?”
12  [They will be told], “That is because, when Allah was called upon alone, you disbelieved; but if others were associated with Him, you believed. So the judgement is with Allah, the Most High, the Grand.”
13  It is He who shows you His signs and sends down to you from the sky, provision. But none will remember except he who turns back [in repentance].
14  So invoke Allah, [being] sincere to Him in religion, although the disbelievers dislike it.
15  [He is] the Exalted above [all] degrees, Owner of the Throne; He places the inspiration of His command upon whom He wills of His servants to warn of the Day of Meeting.
16  The Day they come forth nothing concerning them will be concealed from Allah. To whom belongs [all] sovereignty this Day? To Allah, the One, the Prevailing.
17  This Day every soul will be recompensed for what it earned. No injustice today! Indeed, Allah is swift in account.
18  And warn them, [O Muhammad], of the Approaching Day, when hearts are at the throats, filled [with distress]. For the wrongdoers there will be no devoted friend and no intercessor [who is] obeyed.
19  He knows that which deceives the eyes and what the breasts conceal.
20  And Allah judges with truth, while those they invoke besides Him judge not with anything. Indeed, Allah – He is the Hearing, the Seeing.
21  Have they not traveled through the land and observed how was the end of those who were before them? They were greater than them in strength and in impression on the land, but Allah seized them for their sins. And they had not from Allah any protector.
22  That was because their messengers were coming to them with clear proofs, but they disbelieved, so Allah seized them. Indeed, He is Powerful and severe in punishment.
23  And We did certainly send Moses with Our signs and a clear authority
24  To Pharaoh, Haman and Qarun; but they said, “[He is] a magician and a liar.”
25  And when he brought them the truth from Us, they said, “Kill the sons of those who have believed with him and keep their women alive.” But the plan of the disbelievers is not except in error.
26  And Pharaoh said, “Let me kill Moses and let him call upon his Lord. Indeed, I fear that he will change your religion or that he will cause corruption in the land.”
27  But Moses said, “Indeed, I have sought refuge in my Lord and your Lord from every arrogant one who does not believe in the Day of Account.”
28  And a believing man from the family of Pharaoh who concealed his faith said, “Do you kill a man [merely] because he says, ‘My Lord is Allah’ while he has brought you clear proofs from your Lord? And if he should be lying, then upon him is [the consequence of] his lie; but if he should be truthful, there will strike you some of what he promises you. Indeed, Allah does not guide one who is a transgressor and a liar.
29  O my people, sovereignty is yours today, [your being] dominant in the land. But who would protect us from the punishment of Allah if it came to us?” Pharaoh said, “I do not show you except what I see, and I do not guide you except to the way of right conduct.”
30  And he who believed said, “O my people, indeed I fear for you [a fate] like the day of the companies –
31  Like the custom of the people of Noah and of ‘Aad and Thamud and those after them. And Allah wants no injustice for [His] servants.
32  And O my people, indeed I fear for you the Day of Calling –
33  The Day you will turn your backs fleeing; there is not for you from Allah any protector. And whoever Allah leaves astray – there is not for him any guide.
34  And Joseph had already come to you before with clear proofs, but you remained in doubt of that which he brought to you, until when he died, you said, ‘Never will Allah send a messenger after him.’ Thus does Allah leave astray he who is a transgressor and skeptic.”
35  Those who dispute concerning the signs of Allah without an authority having come to them – great is hatred [of them] in the sight of Allah and in the sight of those who have believed. Thus does Allah seal over every heart [belonging to] an arrogant tyrant.
36  And Pharaoh said, “O Haman, construct for me a tower that I might reach the ways –
37  The ways into the heavens – so that I may look at the deity of Moses; but indeed, I think he is a liar.” And thus was made attractive to Pharaoh the evil of his deed, and he was averted from the [right] way. And the plan of Pharaoh was not except in ruin.
38  And he who believed said, “O my people, follow me, I will guide you to the way of right conduct.
39  O my people, this worldly life is only [temporary] enjoyment, and indeed, the Hereafter – that is the home of [permanent] settlement.
40  Whoever does an evil deed will not be recompensed except by the like thereof; but whoever does righteousness, whether male or female, while he is a believer – those will enter Paradise, being given provision therein without account.
41  And O my people, how is it that I invite you to salvation while you invite me to the Fire?
42  You invite me to disbelieve in Allah and associate with Him that of which I have no knowledge, and I invite you to the Exalted in Might, the Perpetual Forgiver.
43  Assuredly, that to which you invite me has no [response to a] supplication in this world or in the Hereafter; and indeed, our return is to Allah, and indeed, the transgressors will be companions of the Fire.
44  And you will remember what I [now] say to you, and I entrust my affair to Allah. Indeed, Allah is Seeing of [His] servants.”
45  So Allah protected him from the evils they plotted, and the people of Pharaoh were enveloped by the worst of punishment –
46  The Fire, they are exposed to it morning and evening. And the Day the Hour appears [it will be said], “Make the people of Pharaoh enter the severest punishment.”
47  And [mention] when they will argue within the Fire, and the weak will say to those who had been arrogant, “Indeed, we were [only] your followers, so will you relieve us of a share of the Fire?”
48  Those who had been arrogant will say, “Indeed, all [of us] are in it. Indeed, Allah has judged between the servants.”
49  And those in the Fire will say to the keepers of Hell, “Supplicate your Lord to lighten for us a day from the punishment.”
50  They will say, “Did there not come to you your messengers with clear proofs?” They will say, “Yes.” They will reply, “Then supplicate [yourselves], but the supplication of the disbelievers is not except in error.”
51  Indeed, We will support Our messengers and those who believe during the life of this world and on the Day when the witnesses will stand –
52  The Day their excuse will not benefit the wrongdoers, and they will have the curse, and they will have the worst home.
53  And We had certainly given Moses guidance, and We caused the Children of Israel to inherit the Scripture
54  As guidance and a reminder for those of understanding.
55  So be patient, [O Muhammad]. Indeed, the promise of Allah is truth. And ask forgiveness for your sin and exalt [Allah] with praise of your Lord in the evening and the morning.
56  Indeed, those who dispute concerning the signs of Allah without [any] authority having come to them – there is not within their breasts except pride, [the extent of] which they cannot reach. So seek refuge in Allah. Indeed, it is He who is the Hearing, the Seeing.
57  The creation of the heavens and earth is greater than the creation of mankind, but most of the people do not know.
58  And not equal are the blind and the seeing, nor are those who believe and do righteous deeds and the evildoer. Little do you remember.
59  Indeed, the Hour is coming – no doubt about it – but most of the people do not believe.
60  And your Lord says, “Call upon Me; I will respond to you.” Indeed, those who disdain My worship will enter Hell [rendered] contemptible.
61  It is Allah who made for you the night that you may rest therein and the day giving sight. Indeed, Allah is full of bounty to the people, but most of the people are not grateful.
62  That is Allah, your Lord, Creator of all things; there is no deity except Him, so how are you deluded?
63  Thus were those [before you] deluded who were rejecting the signs of Allah.
64  It is Allah who made for you the earth a place of settlement and the sky a ceiling and formed you and perfected your forms and provided you with good things. That is Allah, your Lord; then blessed is Allah, Lord of the worlds.
65  He is the Ever-Living; there is no deity except Him, so call upon Him, [being] sincere to Him in religion. [All] praise is [due] to Allah, Lord of the worlds.
66  Say, [O Muhammad], “Indeed, I have been forbidden to worship those you call upon besides Allah once the clear proofs have come to me from my Lord, and I have been commanded to submit to the Lord of the worlds.”
67  It is He who created you from dust, then from a sperm-drop, then from a clinging clot; then He brings you out as a child; then [He develops you] that you reach your [time of] maturity, then [further] that you become elders. And among you is he who is taken in death before [that], so that you reach a specified term; and perhaps you will use reason.
68  He it is who gives life and causes death; and when He decrees a matter, He but says to it, “Be,” and it is.
69  Do you not consider those who dispute concerning the signs of Allah – how are they averted?
70  Those who deny the Book and that with which We sent Our messengers – they are going to know,
71  When the shackles are around their necks and the chains; they will be dragged
72  In boiling water; then in the Fire they will be filled [with flame].
73  Then it will be said to them, “Where is that which you used to associate [with Him in worship] 74  Other than Allah?” They will say, “They have departed from us; rather, we did not used to invoke previously anything.” Thus does Allah put astray the disbelievers.
75  [The angels will say], “That was because you used to exult upon the earth without right and you used to behave insolently.
76  Enter the gates of Hell to abide eternally therein, and wretched is the residence of the arrogant.”
77  So be patient, [O Muhammad]; indeed, the promise of Allah is truth. And whether We show you some of what We have promised them or We take you in death, it is to Us they will be returned.
78  And We have already sent messengers before you. Among them are those [whose stories] We have related to you, and among them are those [whose stories] We have not related to you. And it was not for any messenger to bring a sign [or verse] except by permission of Allah. So when the command of Allah comes, it will be concluded in truth, and the falsifiers will thereupon lose [all].
79  It is Allah who made for you the grazing animals upon which you ride, and some of them you eat.
80  And for you therein are [other] benefits and that you may realize upon them a need which is in your breasts; and upon them and upon ships you are carried.
81  And He shows you His signs. So which of the signs of Allah do you deny?
82  Have they not traveled through the land and observed how was the end of those before them? They were more numerous than themselves and greater in strength and in impression on the land, but they were not availed by what they used to earn.
83  And when their messengers came to them with clear proofs, they [merely] rejoiced in what they had of knowledge, but they were enveloped by what they used to ridicule.
84  And when they saw Our punishment, they said,” We believe in Allah alone and disbelieve in that which we used to associate with Him.”
85  But never did their faith benefit them once they saw Our punishment. [It is] the established way of Allah which has preceded among His servants. And the disbelievers thereupon lost [all].

奉至仁至慈的真主之名

1  哈一,米目。
2  这部经典降自万能全知的的主–
3  赦宥罪过、准人忏悔、严厉惩罚、博施恩惠的主。除他外,绝无应受崇拜的;他确是最后的归宿。
4  只有不信道者,为真主的迹象而争论。你不要被他们在各城市的往来所迷惑。
5  在他们之前,努哈的宗族,和后来的各民族,都否认众使者,各民族都欲加害本族的使者;他们据谬妄而争论,欲借此驳倒真理,故我惩治了他们。我的刑罚是怎样的?
6  不信道者当这样受你的主的判决,他们是居住火狱的。
7  支持宝座的和环绕宝座的,都赞颂他们的主,都归信他,都为信道者求饶,他们说:我们的主啊!在恩惠方面和知觉方面,你是包罗万物的,求你赦宥悔过自新、而且遵循你的正道者。求你保护他们,免受火狱的刑罚。
8  我们的主啊!求你让他们和他们的行善的祖先、妻子和子孙,一同进入你所应许他们的永久的乐园。你确是万能的,确是到睿的。
9  求你使他们得免于刑罚。在那日,你使谁得免于刑罚,你已慈悯了谁,那确是伟大的成功。
10  不信道者,必定要被召唤说:真主痛恨你们,甚于你们痛恨自身,因为你们曾被召至正信,但你们不信。
11  他们要说:我们的主啊!你使我们死两次,你使我们生两次,故我们承认我们的罪过了。还能有一条出路吗?
12  这是因为祈祷真主的时候,你们否认了他的独一;如果以物配他,你们就承认那是合理的,故判决只归真主–至尊至大的主。
13  他把他的迹象昭示你们,他为你们从云中降下给养;只有归依者能觉悟。
14  你们当祈祷真主,诚心顺服他,即使不信道者不愿意。
15  他是至尊的,是有宝座的,他依自己的决定发出的启示,授予他所意欲的仆人,以便他警告众人以相会之日–
16  他们将出现之日,他们的事,对真主毫无隐匿。今日国权是谁的?是独一至尊的真主的。
17  今日,人人都为自己所做的而受报酬。今日,毫无亏枉,真主确是稽核神速的。
18  你应当以临近之日警告他们,那时他们的心将升到咽喉,他满腹忧愁。不义者,将没有任何亲友,也没有奏效的说情者。
19  他知道偷眼和心事。
20  真主本真理而裁判。他们舍他而崇拜的,不奉任何物而裁判。真主确是全聪的,确是全知的。
21  难道他们没有在大地上旅行以观察前人的结局是怎样的吗?前人比他们势力更大、成绩更多;但真主因他们的罪过而惩治了他们,他们对真主没有任何保卫者。
22  那是因为我的众使者曾带着许多明证来临他们,但他们不归信,故真主惩罚了他们。他确是至刚的。他的刑罚确是严厉的,
23  我确已派遣穆萨带着我的迹象和明证,
24  去教化法老、哈曼和戈伦,但他们说:他是谬妄的术士。
25  他把从我这里发出的真理昭示他们的时候,他们说:你们当杀戮与他一同信道者的儿子,只留下他们的女儿。不信道者的计策,只在迷误中。
26  法老说:你们让我杀死穆萨!叫他祈祷他的主去吧!我的确怕他改变你们的宗教,或在国内作乱。
27  穆萨说:我确已求庇于我的主,亦即你们的主,免遭不信清算日的一切自大者的侵害。
28  法老族中一个秘密归信的信士说:一个人把从你们的主发出的明证昭示你们,并说’我的主是真主’,你们就要杀戮他吗?如果他是一个说谎者,那末,他自受谎言之害;如果他是一个诚实者,那末,他所用以恫吓你们的灾难,将有一部分来临你们,真主必定不引导过分的常说谎言者。
29  我的宗族啊!今日国权只归你们,你们在国中称雄。如果真主的刑罚来临,那末,谁助我们抵抗它呢?法老说:我只以我的主张指示你们,我只引导你们走上正道。
30  信道者说:我的宗族啊!我的确怕你们遭遇前人所遭遇的灾难,
31  如努哈的宗族、阿德人、赛莫德人、以及在他们之后的人所遭受的灾祸一样。真主是不欲亏枉众仆的。
32  我的宗族啊!我的确为你们担心互相呼叫之日;
33  在那日,你们将转身退后,而没有任何保护者能使你们不受真主的惩罚。真主使谁迷误,谁没有向导。
34  以前,优素福确已将许多明证昭示你们,但你们对他所昭示你们的明证,依然在疑惑中,直到他死去的时候,你们还说:在他之后,真主绝不会再派遣任何使者了。’真主这样使过分的怀疑者迷误。
35  没有真凭实据,而争论真主的迹象者,据真主和信士看来,是很讨厌的。真主这样封闭一切自大的高傲者的心。
36  法老说:哈曼啊!你为我建造一座高楼,或许我能找到若干线索–
37  天上的线索,因而能窥见穆萨的神灵;我确信他是一个说谎者。法老的恶行,这样迷惑了自己,妨碍了他走上正道。法老的计策,只归于毁灭。
38  那个归信者又说:我的宗族啊!你们顺从我,我就把你们引上正道。
39  我的宗族啊!今世的生活,只是一种享受,后世才是安宅。
40  作恶者只受同样的恶报;行善而且信道的男子和女子,将入乐园,受无量的供给。
41  我的宗族啊!怎么我召你们于得渡,而你们却召我于火狱呢?
42  你们教我不要信真主,而以我所不知的事物配他;我却要教你们崇拜万能的至赦的主。
43  其实,你们召我去崇拜的东西,在今世和后世,都不能应答任何祈祷。我们的归宿是真主,过分者必是火狱的居民。
44  你们将来会想起我对你们说的话。我把我的事情委托真主,真主确是明察众仆的。
45  真主保护他免遭他们所计谋的祸害,并以严刑降于法老的宗族;
46  他们朝夕受火刑。复活时来临之日,或者将说:你们让法老的宗族进去受最严厉的刑罚吧!
47  那时他们在火狱中互相争论,懦弱者对自大者说:我们确已做过你们的顺从者,你们能替我们解除一部分火刑吗?
48  自大者说:我们大家的确都在火狱中,真主确已替众仆判决了。
49  在火狱里的人对管理火狱的天神说:请你们祈祷你们的主,求他给我们减轻一日的刑罚。
50  他们说:难道你们族中的使者,没有昭示你们若干明证吗?他们说:不然!天神们说:你们祈祷吧!但不信道者的祈祷只在迷误中。
51  我必定援助我的众使者和众信士,在今世生活中,和在众见证起立之日–
52  不义者的托词无裨于他们之日,他们将遭弃绝,他们将受后世的刑罚。
53  我确已将正道赐予穆萨,我确已使以色列的后裔继承天经,
54  用作有心灵的向导和教诲。
55  故你当坚忍,真主的应许,确是真实的。你应当为你的过失而求饶,你应当朝夕赞颂你的主。
56  没有真凭实据而争论真主的迹象者,他们的胸中,的确只有一个念头,就是要想达到他们绝不能达到的伟大。故你当求庇于真主,他确是全聪的,确是全明的。
57  创造天地,是比再造人类更难的,但世人大半不知道。
58  无眼者与有眼者是不相等的;信道而且行善者与作恶者也是不相等的,但你们很少觉悟。
59  复活时必定来临,这是毫无疑义的;但众人大半不信。
60  你们的主说:你们要祈祷我,我就应答你们;不肯崇拜我的人,他们将卑贱地入火狱。
61  真主为你们创造黑夜,以便你们安息;创造白昼,以便你们观看;真主对于人类,确是有恩惠的,但人类大半不感谢。
62  那是真主,是你们的主,是万物的创造者,除他外,绝无应受崇拜的。你们怎么如此悖谬呢?
63  否认真主的迹象者,就是这样悖谬的。
64  真主为你们以地面为居处,以天空为房屋,他以形象赋予你们,而使你们的形象优美,他供给你们佳美的食品。那是真主,你们的主。多福哉真主!–全世界的主!
65  他确是永生的,除他外,绝无应受崇拜的,故你们当祈祷他,诚心顺服他。一切赞颂,全归真主–全世界的主!
66  你说:当许多明证从我的主来临我的时候,我确已奉到禁令,不准我崇拜你们舍真主而崇拜的;我确已奉到命令,叫我顺服全世界的主。
67  他创造了你们,先用泥土,继用精液,继用血块,然后使你们出生为婴儿,然后让你们成年,然后让你们变成老人–你们中有夭折的–然后,让你们活到一个定期,以便你们明理。
68  他能使人生,能使人死。当他判决一件事的时候,他只对那件事说有,它就有了。
69  你未见争论真主的迹象者怎样悖谬吗?
70  他们否认天经,否认我降示众使者的迹象,他们不久会知道(后果的)。
71  那时,铁圈和铁链,将在他们的颈上,
72  他们将被拖入沸水中,然后他们将在火中被烧灼。
73  然后将有天神对他们说:你们舍真主而崇拜的(偶像)在那里呢?
74  他们将说:他们已回避我们了。其实,以前我们并未祈祷任何物。真主这样使不信道者迷误。
75  那是因为你们在地方上不该欢喜而欢喜,也是因为你们太得意了。
76  你们入火狱门而永居其中吧!自大者的住处真恶劣!
77  你当坚忍,真主的应许确是真实的。如果我要昭示你一点我用以恫吓他们的刑罚,(那末,我对他们确是全能的);设或我使你去世,那末,他们只被召归于我。
78  在你之前,我确已派遣许多使者,他们中有我已告诉你的,有我未告诉你的。任何使者,不应昭示迹象,除非获得真主的许可。当真主的命令来临的时候,众生将依真理而被判决;那时,反对真理的人将遭亏折。
79  真主为你们创造了牲畜,以便你们骑乘,并食用它们的肉,
80  你们由它们获得许多利益,以便你们骑着它们,去寻求你们胸中的需要,你们用它们和船舶载运货物。
81  他昭示你们他的迹象。你们否认真主的什么迹象呢?
82  难道他们没有在大地上旅行,因而观察前人的结局是怎样的吗?前人比他们势力更大,成绩更多;但前人所获得的,对于自己并没有什么裨益。
83  当他们族中的众使者昭示他们许多明证的时候,他们因自己所有的学问而洋洋得意,他们所嘲笑的刑罚,遂降临他们。
84  当他们看见我的刑罚的时候,他们说:我们只信真主,不信我们所用以配他的。
85  当他们看见我的刑罚的时候,他们的正信,对他们毫无裨益。真主以此为众仆的已逝去的常道。那时,不信道者,遭受亏折。

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  hm.
2  La revelación de la Escritura procede de Alá, el Poderoso, el Omnisciente.
3  Que perdona el pecado, acepta el arrepentimiento, es severo en castigar y lleno de poder. No hay más dios que Él. ¡Él es el fin de todo!
4  No discuten sobre los signos de Alá sino los infieles. ¡Que sus idas y venidas por el país no te turben!
5  Antes de ellos, ya el pueblo de Noé había desmentido. Luego, también los coalicionistas. Los miembros de cada comunidad habían planeado apoderarse del enviado que se les había mandado. Y discutieron con argucias para, así, derribar la Verdad. Entonces, Yo me los llevé y ;¡cuál no fue Mi castigo!
6  Así se cumplió la sentencia de tu Señor contra los infieles: que serían los moradores del Fuego.
7  Los que llevan el Trono y los que están a su alrededor celebran las alabanzas de su Señor, creen en Él y Le piden que perdone a los creyentes: «¡Señor! Tú lo abarcas todo en Tu misericordia y en Tu ciencia. ¡Perdona, pues, a los que se arrepienten y siguen Tu camino! ¡Líbrales del castigo del fuego de la gehena!
8  ¡Señor! ¡Introdúceles en los jardines del edén que les prometiste, junto con aquéllos de sus padres, esposas y descendientes que fueron buenos! Tú eres el Poderoso, el Sabio.
9  ¡Líbrales de mal! Ese día, aquél a quien hayas librado de mal será objeto de Tu misericordia. ¡Ése es el éxito grandioso!»
10  A los que no hayan creído se les gritará: «El aborrecimiento que Alá os tiene es mayor que el aborrecimiento que os tenéis a vosotros mismos, por cuanto, invitados a creer, no creísteis».
11  Dirán: «¡Señor! Nos has hecho morir dos veces y vivir otras dos. Confesamos, pues, nuestros pecados. ¿Hay modo de salir?»
12  Esto os pasa porque, cuando se invocaba a Alá Solo, no creíais, mientras que, si se Le asociaban otros dioses, creíais. La decisión, pues, pertenece a Alá, el Altísimo, el Grande.
13  Él es Quien os muestra Sus signos, Quien os hace bajar del cielo sustento. Pero no se deja amonestar sino quien vuelve a Él arrepentido.
14  Invocad, pues, a Alá, rindiéndole culto sincero, a despecho de los infieles.
15  De elevada dignidad y Señor del Trono, echa el Espíritu que procede de Su orden sobre quien Él quiere de Sus siervos, para que prevenga contra el día del Encuentro.
16  Ese día surgirán, sin que nada de ellos pueda ocultarse a Alá. Ese día, ¿de quién será el dominio? ¡De Alá, el Uno, el Invicto!
17  Ese día cada uno será retribuido según sus méritos. ¡Nada de injusticias ese día! Alá es rápido en ajustar cuentas.
18  Prevénles contra el día de la Inminente, cuando, angustiados, se les haga un nudo en la garganta. No tendrán los impíos ningún amigo ferviente ni intercesor que sea escuchado.
19  Conoce la perfidia de los ojos y lo que ocultan los pechos.
20  Alá decide según justicia. En cambio, los otros que ellos invocan en lugar de invocarle a Él no pueden decidir nada. Alá es Quien todo lo oye, Quien todo lo ve.
21  Pues, ¡qué! ¿No han ido por la tierra y mirado cómo terminaron sus antecesores? Eran más poderosos y dejaron más huellas en la tierra. Entonces, Alá les sorprendió por sus pecados y no hubo quien pudiera protegerles contra Alá.
22  Es que cuando los enviados vinieron a ellos con las pruebas claras, no creyeron y Alá les sorprendió. Es fuerte y castiga severamente.
23  Enviamos Moisés con Nuestros signos y con una autoridad manifiesta
24  a Faraón, a Hamán y a Coré. Ellos dijeron: «Un mago mentiroso».
25  Cuando les trajo la verdad de Nosotros, dijeron: «¡Matad a los hijos varones de los que creen como él y dejad con vida a sus mujeres!» Pero la artimaña de los infieles fue inútil.
26  Faraón dijo: «¡Dejadme que mate a Moisés, y que invoque él a su Señor! Temo que cambie vuestra religión, o que haga aparecer la corrupción en el país».
27  Moisés dijo: «Me refugio en mi Señor y Señor vuestro contra todo soberbio que no cree en el día de la Cuenta».
28  Un hombre creyente de la familia de Faraón, que ocultaba su fe, dijo: «¿Vais a matar a un hombre por el mero hecho de decir ‘Mi Señor es Alá’ siendo así que os ha traído las pruebas claras de vuestro Señor? Si miente, su mentira recaerá sobre él. Pero, si dice verdad, os alcanzará algo de aquello con que os amenaza. Alá no dirige al inmoderado, al mentiroso.
29  ¡Pueblo! Habiendo vencido en la tierra, vuestro es el dominio hoy. Pero, cuando nos alcance el rigor de Alá, ¿quién nos librará de él?» Faraón dijo: «Yo no os hago ver sino lo que yo veo y no os dirijo sino por el camino recto».
30  El que creía dijo: «¡Pueblo! Temo por vosotros un día como el de los coalicionistas,
31  como ocurrió al pueblo de Noé, a los aditas, a los tamudeos y a los que vinieron después de ellos. Alá no quiere la injusticia para Sus siervos.
32  ¡Pueblo! Temo que viváis el día de la Llamada Mutua,
33  día en que volveréis la espalda y no tendréis a nadie que os proteja de Alá. Aquél a quien Alá extravía no tendrá quien le dirija.
34  Ya antes había venido José a vosotros con las pruebas claras y siempre dudasteis de lo que os trajo. Hasta que, cuando pereció dijisteis: ‘Alá no mandará a ningún enviado después de él’. Así extravía Alá al inmoderados al escéptico».
35  Quienes discuten sobre los signos de Alá sin haber recibido autoridad… Es muy aborrecible para Alá y para los creyentes. Así sella Alá el corazón de todo soberbio, de todo tirano.
36  Faraón dijo: «¡Hamán! ¡Constrúyeme una torre! Quizás, así, alcance las vías,
37  Las vías que conducen al cielo, y suba al Dios de Moisés. Sí, creo que éste miente». Así se engalanó a Faraón la maldad de su acto y fue apartado del Camino. Pero se malograron sus artimañas.
38  El que creía dijo: «¡Pueblo! ¡Seguidme! Os dirigiré por el camino recto.
39  ¡Pueblo! Esta vida de acá no es sino breve disfrute, mientras que la otra vida es la Morada de la Estabilidad.
40  Quien obre mal no será retribuido sino con una pena similar. En cambio, los creyentes, varones o hembras, que obren bien entrarán en el Jardín y serán proveídos en él sin medida.
41  ¡Pueblo! ¿Como es que yo os llamo a la salvación, mientras que vosotros me llamáis al Fuego?
42  Me llamáis a que sea infiel a Alá y a que Le asocie algo de lo que no tengo conocimiento, mientras que yo os llamo al Poderoso, al Indulgente.
43  ¡En verdad, aquello a lo que me llamáis no merece ser invocado, ni en la vida de acá ni en la otra! Sí, volveremos a Alá y los inmoderados serán los moradores del Fuego.
44  Entonces, os acordaréis de lo que os digo. En cuanto a mí, me pongo en manos de Alá. Alá ve bien a Sus siervos».
45  Alá le preservó de los males que habían tramado y sobre la gente de Faraón se abatió el mal castigo:
46  el Fuego, al que se verán expuestos mañana y tarde. El día que llegue la Hora: «¡Haced que la gente de Faraón reciba el castigo más severo!»
47  Cuando discutan, ya en el Fuego, los que fueron débiles dirán a los que fueron altivos: «Os hemos seguido. ¿Vais a librarnos de parte del Fuego?»
48  Los altivos dirán: «Estamos todos en él. Alá ha decidido entre Sus siervos».
49  Los que estén en el Fuego dirán a los guardianes de la gehena: «¡Rogad a vuestro Señor que nos abrevie un día del castigo!»
50  Dirán: «¡Cómo! ¿No vinieron a vosotros vuestros enviados con las pruebas claras?» Dirán: «¡Claro que sí!» Dirán: «Entonces, ¡invocad vosotros!» Pero la invocación de los infieles será inútil.
51  Sí, a Nuestros enviados y a los que crean les auxiliaremos en la vida de acá y el día que depongan los testigos,
52  el día que ya no sirvan de nada a los impíos sus excusas, sino que sean malditos y tengan la Morada Mala.
53  Dimos la Dirección a Moisés y dimos en herencia la Escritura a los Hijos de Israel,
54  como dirección y amonestación para los dotados de intelecto.
55  ¡Ten paciencia! ¡Lo que Alá promete es verdad! Pide perdón por tu pecado y celebra al anochecer y al alba las alabanzas de tu Señor.
56  Quienes discuten de los signos de Alá sin haber recibido autoridad, no piensan sino en grandezas, que no alcanzarán. ¡Busca, pues, refugio en Alá! Él es Quien todo lo oye, Quien todo lo ve.
57  Crear los cielos y la tierra es más Q grande aún que crear a los hombres. Pero la mayoría de los hombres no saben.
58  No son iguales el ciego y el vidente. Ni los que han creído y obrado bien y los que han obrado mal. ¡Qué poco os dejáis amonestar!
59  Sí, la Hora llega, no hay duda de ella, pero la mayoría de los hombres no creen.
60  Vuestro Señor ha dicho: «¡Invocadme y os escucharé! Los que, llevados de su altivez, no Me sirvan entrarán, humillados, en la gehena».
61  Alá es quien ha dispuesto para vosotros la noche para que descanséis en ella, y el día para que podáis ver claro. Sí, Alá dispensa Su favor a los hombres, pero la mayoría de los hombres no agradecen.
62  ése es Alá, vuestro Señor, creador de todo. ¡No hay más dios que É! ¡Cómo podéis, pues, ser tan desviados!
63  Del mismo modo fueron desviados quienes rechazaron los signos de Alá.
64  Alá es Quien os ha estabilizado la tierra y hecho del cielo un edificio, os ha formado armoniosamente y os ha proveído de cosas buenas. ése es Alá, vuestro Señor. ¡Bendito sea, pues, Alá, Señor del universo!
65  Él es el Vivo. No hay más dios que É. ¡Invocadle rindiéndole culto sincero! ¡Alabado sea Alá, Señor del universo!
66  Di: «Cuando he recibido de mi Señor las pruebas claras, se me ha prohibido que sirva a aquéllos que invocáis en lugar de invocar a Alá. He recibido la orden de someterme al Señor del universo».
67  Él es Quien os ha creado de tierra; luego, de una gota; luego, de un coágulo de sangre. Luego, os hace salir como criaturas para alcanzar, más tarde, la madurez, luego la vejez -aunque algunos de vosotros mueren prematuramente- y llegar a un término fijo. Quizás, así, razonéis.
68  Él es Quien da la vida y da la muerte. Y cuando decide algo, le dice tan sólo: «¡Sé!» y es.
69  ¿No has visto a quienes discuten de los signos de Alá? ¡Cómo pueden ser tan desviados!
70  Que han desmentido la Escritura y el mensaje confiado a Nuestros enviados. ¡Van a ver…,
71  cuando, argolla al cuello y encadenados, sean arrastrados
72  al agua muy caliente y, luego, sean atizados en el Fuego!
73  Luego, se les dirá: «¿Dónde está lo que asociabais
74  en lugar de Alá?» Dirán: «¡Nos han abandonado! Mejor dicho, antes no invocábamos nada». Así extravía Alá a los infieles.
75  «Eso es por haberos regocijado en la tierra sin razón y por haberos conducido insolentemente.
76  ¡Entrad por las puertas de la gehena, para estar en ella eternamente! ¡Qué mala es la morada de los soberbios!»
77  ¡Ten, pues, paciencia! ¡Lo que Alá promete es verdad! Lo mismo si te hacemos ver algo de aquello con que les amenazamos, que si te llamamos, serán devueltos a Nosotros.
78  Ya mandamos a otros enviados antes de ti. De algunos de ellos ya te hemos contado, de otros no. Ningún enviado pudo traer signo alguno, sino con permiso de Alá. Cuando llegue la orden de Alá, se decidirá según justicia y, entonces, los falsarios estarán perdidos.
79  Alá es Quien ha puesto para vosotros los rebaños, para que montéis en unos y de otros os alimentéis,
80  -tenéis en ellos provecho-, y para que, por ellos, consigáis vuestros propósitos. Ellos y las naves os sirven de medios de transporte.
81  Él os hace ver Sus signos. ¿Cuál, pues, de los signos de Alá negaréis?
82  ¿No han ido por la tierra y mirado cómo terminaron sus antecesores? Fueron más numerosos que ellos, más poderosos, dejaron más huellas en la tierra, pero sus posesiones no les sirvieron de nada.
83  Cuando sus enviados vinieron a ellos con las pruebas claras, se alegraron de la ciencia que poseían, pero se vieron cercados por aquello de que se burlaban.
84  Y, cuando vieron Nuestro rigor, dijeron: «¡Creemos en Alá Solo y renegamos de lo que Le asociábamos!»
85  Pero, entonces, su fe no les sirvió de nada, después de haber visto Nuestro rigor. Tal es la práctica de Alá, que ya se había aplicado a Sus siervos. Y entonces salieron perdiendo los infieles.