Project Description

TA HA

 شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  طہٰ
۲  (اے محمدﷺ) ہم نے تم پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑ جاؤ
۳  بلکہ اس شخص کو نصیحت دینے کے لئے (نازل کیا ہے) جو خوف رکھتا ہے
۴  یہ اس (ذات برتر) کا اتارا ہوا ہے جس نے زمین اور اونچے اونچے آسمان بنائے
۵  (یعنی خدائے) رحمٰن جس نےعرش پر قرار پکڑا
۶  جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے بیچ میں ہے اور جو کچھ (زمین کی) مٹی کے نیچے ہے سب اسی کا ہے
۷  اور اگر تم پکار کر بات کہو تو وہ تو چھپے بھید اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے
۸  (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کے (سب) نام اچھے ہیں
۹  اور کیا تمہیں موسیٰ (کے حال) کی خبر ملی ہے
۱۰  جب انہوں نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم (یہاں) ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید اس میں سے میں تمہارے پاس انگاری لاؤں یا آگ (کے مقام) کا رستہ معلوم کرسکوں
۱۱  جب وہاں پہنچے تو آواز آئی کہ موسیٰ
۱۲  میں تو تمہارا پروردگار ہوں تو اپنی جوتیاں اتار دو۔ تم (یہاں) پاک میدان (یعنی) طویٰ میں ہو
۱۳  اور میں نے تم کو انتخاب کرلیا ہے تو جو حکم دیا جائے اسے سنو
۱۴  بےشک میں ہی خدا ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز پڑھا کرو
۱۵  قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلا پائے
۱۶  تو جو شخص اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے چلتا ہے (کہیں) تم کو اس (کے یقین) سے روک نہ دے تو (اس صورت میں) تم ہلاک ہوجاؤ
۱۷  اور موسی یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے
۱۸  انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے۔ اس پر میں سہارا لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لئے اور بھی کئی فائدے ہیں
۱۹  فرمایا کہ موسیٰ اسے ڈال دو
۲۰  تو انہوں نے اس کو ڈال دیا اور وہ ناگہاں سانپ بن کر دوڑنے لگا
۲۱  خدا نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو اور ڈرنا مت۔ ہم اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے
۲۲  اور اپنا ہاتھ اپنی بغل سے لگالو وہ کسی عیب (وبیماری) کے بغیر سفید (چمکتا دمکتا) نکلے گا۔ (یہ) دوسری نشانی (ہے)
۲۳  تاکہ ہم تمہیں اپنے نشانات عظیم دکھائیں
۲۴  تم فرعون کے پاس جاؤ (کہ) وہ سرکش ہو رہا ہے
۲۵  کہا میرے پروردگار (اس کام کے لئے) میرا سینہ کھول دے
۲۶  اور میرا کام آسان کردے
۲۷  اور میری زبان کی گرہ کھول دے
۲۸  تاکہ وہ بات سمجھ لیں
۲۹  اور میرے گھر والوں میں سے (ایک کو) میرا وزیر (یعنی مددگار) مقرر فرما
۳۰  (یعنی) میرے بھائی ہارون کو
۳۱  اس سے میری قوت کو مضبوط فرما
۳۲  اور اسے میرے کام میں شریک کر
۳۳  تاکہ ہم تیری بہت سی تسبیح کریں
۳۴  اور تجھے کثرت سے یاد کریں
۳۵  تو ہم کو (ہر حال میں) دیکھ رہا ہے
۳۶  فرمایا موسیٰ تمہاری دعا قبول کی گئی
۳۷  اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی احسان کیا تھا
۳۸  جب ہم نے تمہاری والدہ کو الہام کیا تھا جو تمہیں بتایا جاتا ہے
۳۹  (وہ یہ تھا) کہ اسے (یعنی موسیٰ کو) صندوق میں رکھو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو تو دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا (اور) میرا اور اس کا دشمن اسے اٹھا لے گا۔ اور (موسیٰ) میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی ہے (اس لئے کہ تم پر مہربانی کی جائے) اور اس لئے کہ تم میرے سامنے پرورش پاؤ
۴۰  جب تمہاری بہن (فرعون کے ہاں) گئی اور کہنے لگی کہ میں تمہیں ایسا شخص بتاؤں جو اس کو پالے۔ تو (اس طریق سے) ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنج نہ کریں۔ اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تو ہم نے تم کو غم سے مخلصی دی اور ہم نے تمہاری (کئی بار) آزمائش کی۔ پھر تم کئی سال اہل مدین میں ٹھہرے رہے۔ پھر اے موسیٰ تم (قابلیت رسالت کے) اندازے پر آ پہنچے
۴۱  اور میں نے تم کو اپنے (کام کے) لئے بنایا ہے
۴۲  تو تم اور تمہارا بھائی دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا
۴۳  دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے
۴۴  اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے
۴۵  دونوں کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار ہمیں خوف ہے کہ ہم پر تعدی کرنے لگے یا زیادہ سرکش ہوجائے
۴۶  خدا نے فرمایا کہ ڈرو مت میں تمہارے ساتھ ہوں (اور) سنتا اور دیکھتا ہوں
۴۷  (اچھا) تو اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیجیئے۔ اور انہیں عذاب نہ کیجیئے۔ ہم آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں۔ اور جو ہدایت کی بات مانے اس کو سلامتی ہو
۴۸  ہماری طرف یہ وحی آئی ہے کہ جو جھٹلائے اور منہ پھیرے اس کے لئے عذاب (تیار) ہے
۴۹  (غرض موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس گئے) اس نے کہا کہ موسیٰ تمہارا پروردگار کون ہے؟
۵۰  کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل وصورت بخشی پھر راہ دکھائی
۵۱  کہا تو پہلی جماعتوں کا کیا حال؟
۵۲  کہا کہ ان کا علم میرے پروردگار کو ہے (جو) کتاب میں (لکھا ہوا ہے) ۔ میرا پروردگار نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے
۵۳  وہ (وہی تو ہے) جس نے تم لوگوں کے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے لئے رستے جاری کئے اور آسمان سے پانی برسایا۔ پھر اس سے انواع واقسام کی مختلف روئیدگیاں پیدا کیں
۵۴  کہ (خود بھی) کھاؤ اور اپنے چارپایوں کو بھی چراؤ۔ بےشک ان (باتوں) میں عقل والوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں
۵۵  اسی (زمین) سے ہم تم کو پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوسری دفعہ نکالیں گے
۵۶  اور ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھائیں مگر وہ تکذیب وانکار ہی کرتا رہا
۵۷  کہنے لگا کہ موسیٰ تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ اپنے جادو (کے زور) سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دو
۵۸  تو ہم بھی تمہارے مقابل ایسا ہی جادو لائیں گے تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو کہ نہ تو ہم اس کے خلاف کریں اور نہ تم (اور یہ مقابلہ) ایک ہموار میدان میں (ہوگا)
۵۹  موسیٰ نے کہا آپ کے لئے (مقابلے کا) دن نو روز (مقرر کیا جاتا ہے) اور یہ کہ لوگ اس دن چاشت کے وقت اکھٹے ہوجائیں
۶۰  تو فرعون لوٹ گیا اور اپنے سامان جمع کرکے پھر آیا
۶۱  موسیٰ نے ان (جادوگروں) سے کہا کہ ہائے تمہاری کمبختی۔ خدا پر جھوٹ افتراء نہ کرو کہ وہ تمہیں عذاب سے فنا کردے گا اور جس نے افتراء کیا وہ نامراد رہا
۶۲  تو وہ باہم اپنے معاملے میں جھگڑانے اور چپکے چپکے سرگوشی کرنے لگے
۶۳  کہنے لگے یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو (کے زور) سے تم کو تمہارے ملک سے نکل دیں اور تمہارے شائستہ مذہب کو نابود کردیں
۶۴  تو تم (جادو کا) سامان اکھٹا کرلو اور پھر قطار باندھ کر آؤ۔ آج جو غالب رہا وہی کامیاب ہوا
۶۵  بولے کہ موسیٰ یا تم (اپنی چیز) ڈالو یا ہم (اپنی چیزیں) پہلے ڈالتے ہیں
۶۶  موسیٰ نے کہا نہیں تم ہی ڈالو۔ (جب انہوں نے چیزیں ڈالیں) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور لاٹھیاں موسی کے خیال میں ایسی آنے لگیں کہ وہ (میدان) میں ادھر اُدھر دوڑ رہی ہیں
۶۷  (اُس وقت) موسیٰ نے اپنے دل میں خوف معلوم کیا
۶۸  ہم نے کہا خوف نہ کرو بلاشبہ تم ہی غالب ہو
۶۹  اور جو چیز (یعنی لاٹھی) تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے اسے ڈال دو کہ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے اس کو نگل جائے گی۔ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے (یہ تو) جادوگروں کے ہتھکنڈے ہیں اور جادوگر جہاں جائے فلاح نہیں پائے گا
۷۰  (القصہ یوں ہی ہوا) تو جادوگر سجدے میں گر پڑے (اور) کہنے لگے کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر ایمان لائے
۷۱  (فرعون) بولا کہ پیشتر اس کے میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔ بےشک وہ تمہارا بڑا (یعنی استاد) ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں (جانب) خلاف سے کٹوا دوں گا اور کھجور کے تنوں پر سولی چڑھوا دوں گا (اس وقت) تم کو معلوم ہوگا کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر تک رہنے والا ہے
۷۲  انہوں نے کہا جو دلائل ہمارے پاس آگئے ہیں ان پر اور جس نے ہم کو پیدا ہے اس پر ہم آپ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے تو آپ کو جو حکم دینا ہو دے دیجیئے۔ اور آپ (جو) حکم دے سکتے ہیں وہ صرف اسی دنیا کی زندگی میں (دے سکتے ہیں)
۷۳  ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف کرے اور (اسے بھی) جو آپ نے ہم سے زبردستی جادو کرایا۔ اور خدا بہتر اور باقی رہنے والا ہے
۷۴  جو شخص اپنے پروردگار کے پاس گنہگار ہو کر آئے گا تو اس کے لئے جہنم ہے۔ جس میں نہ مرے گا نہ جیئے گا
۷۵  اور جو اس کے روبرو ایماندار ہو کر آئے گا اور عمل بھی نیک کئے ہوں گے تو ایسے لوگوں کے لئے اونچے اونچے درجے ہیں
۷۶  (یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اور یہ اس شخص کا بدلہ ہے جو پاک ہوا
۷۷  اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ پھر ان کے لئے دریا میں (لاٹھی مار کر) خشک رستہ بنا دو پھر تم کو نہ تو (فرعون کے) آپکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ (غرق ہونے کا) ڈر
۷۸  پھر فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا تو دریا (کی موجوں) نے ان پر چڑھ کر انہیں ڈھانک لیا (یعنی ڈبو دیا)
۷۹  اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا اور سیدھے رستے پر نہ ڈالا
۸۰  اے آل یعقوب ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تورات دینے کے لئے تم سے کوہ طور کی داہنی طرف مقرر کی اور تم پر من اور سلویٰ نازل کیا
۸۱  (اور حکم دیا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو دی ہیں ان کو کھاؤ۔ اور اس میں حد سے نہ نکلنا۔ ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا۔ اور جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک ہوگیا
۸۲  اور جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور عمل نیک کرے پھر سیدھے رستے چلے اس کو میں بخش دینے والا ہوں
۸۳  اور اے موسیٰ تم نے اپنی قوم سے (آگے چلے آنے میں) کیوں جلدی کی
۸۴  کہا وہ میرے پیچھے (آ رہے) ہیں اور اے پروردگار میں نے تیری طرف (آنے کی) جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو
۸۵  فرمایا کہ ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے ان کو بہکا دیا ہے
۸۶  اور موسیٰ غصّے اور غم کی حالت میں اپنی قوم کے پاس واپس آئے (اور) کہنے لگے کہ اے قوم کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا (میری جدائی کی) مدت تمہیں دراز (معلوم) ہوئی یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے غضب نازل ہو۔ اور (اس لئے) تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا (اس کے) خلاف کیا
۸۷  وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اختیار سے تم سے وعدہ خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے اس کو (آگ میں) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا
۸۸  تو اس نے ان کے لئے ایک بچھڑا بنا دیا (یعنی اس کا) قالب جس کی آواز گائے کی سی تھی۔ تو لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے۔ مگر وہ بھول گئے ہیں
۸۹  کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ وہ ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا۔ اور نہ ان کے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتا ہے
۹۰  اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لوگو اس سے صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے۔ اور تمہارا پروردگار تو خدا ہے تو میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو
۹۱  وہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ ہمارے پاس واپس نہ آئیں ہم تو اس کی پوجا پر قائم رہیں گے
۹۲  (پھر موسیٰ نے ہارون سے) کہا کہ ہارون جب تم نے ان کو دیکھا تھا کہ گمراہ ہو رہے ہیں تو تم کو کس چیز نے روکا
۹۳  (یعنی) اس بات سے کہ تم میرے پیچھے چلے آؤ۔ بھلا تم نے میرے حکم کے خلاف (کیوں) کیا؟
۹۴  کہنے لگے کہ بھائی میری ڈاڑھی اور سر (کے بالوں) کو نہ پکڑیئے۔ میں تو اس سے ڈرا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رکھا
۹۵  پھر (سامری سے) کہنے لگے کہ سامری تیرا کیا حال ہے؟
۹۶  اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے نقش پا سے (مٹی کی) ایک مٹھی بھر لی۔ پھر اس کو (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دیا اور مجھے میرے جی نے (اس کام کو) اچھا بتایا
۹۷  (موسیٰ نے) کہا جا تجھ کو دنیا کی زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ کہتا رہے کہ مجھ کو ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لئے ایک اور وعدہ ہے (یعنی عذاب کا) جو تجھ سے ٹل نہ سکے گا اور جس معبود (کی پوجا) پر تو (قائم و) معتکف تھا اس کو دیکھ۔ ہم اسے جلادیں گے پھر اس (کی راکھ) کو اُڑا کر دریا میں بکھیر دیں گے
۹۸  تمہارا معبود خدا ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے
۹۹  اس طرح پر ہم تم سے وہ حالات بیان کرتے ہیں جو گذر چکے ہیں۔ اور ہم نے تمہیں اپنے پاس سے نصیحت (کی کتاب) عطا فرمائی ہے
۱۰۰  جو شخص اس سے منہ پھیرے گا وہ قیامت کے دن (گناہ کا) بوجھ اُٹھائے گا
۱۰۱  (ایسے لوگ) ہمیشہ اس (عذاب) میں (مبتلا) رہیں گے اور یہ بوجھ قیامت کے روز ان کے لئے برا ہے
۱۰۲  جس روز صور پھونکا جائے گا اور ہم گنہگاروں کو اکھٹا کریں گے اور ان کی آنکھیں نیلی نیلی ہوں گی
۱۰۳  (تو) وہ آپس میں آہستہ آہستہ کہیں گے کہ تم (دنیا میں) صرف دس ہی دن رہے ہو
۱۰۴  جو باتیں یہ کریں گے ہم خوب جانتے ہیں۔ اس وقت ان میں سب سے اچھی راہ والا (یعنی عاقل وہوشمند) کہے گا کہ (نہیں بلکہ) صرف ایک ہی روز ٹھہرے ہو
۱۰۵  اور تم سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا ان کو اُڑا کر بکھیر دے گا
۱۰۶  اور زمین کو ہموار میدان کر چھوڑے گا
۱۰۷  جس میں نہ تم کجی (اور پستی) دیکھو گے نہ ٹیلا (اور بلندی)
۱۰۸  اس روز لوگ ایک پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے اور اس کی پیروی سے انحراف نہ کرسکیں گے اور خدا کے سامنے آوازیں پست ہوجائیں گی تو تم آواز خفی کے سوا کوئی آواز نہ سنو گے
۱۰۹  اس روز (کسی کی) سفارش کچھ فائدہ نہ دے گی مگر اس شخص کی جسے خدا اجازت دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے
۱۱۰  جو کچھ ان کے آگے ہے اور کچھ ان کے پیچھے ہے وہ اس کو جانتا ہے اور وہ (اپنے) علم سے خدا (کے علم) پر احاطہ نہیں کرسکتے
۱۱۱  اور اس زندہ و قائم کے رو برو منہ نیچے ہوجائیں گے۔ اور جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا وہ نامراد رہا
۱۱۲  اور جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کو نہ ظلم کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا
۱۱۳  اور ہم نے اس کو اسی طرح کا قرآن عربی نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح کے ڈراوے بیان کردیئے ہیں تاکہ لوگ پرہیزگار بنیں یا خدا ان کے لئے نصیحت پیدا کردے
۱۱۴  تو خدا جو سچا بادشاہ ہے عالی قدر ہے۔ اور قرآن کی وحی جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے قرآن کے (پڑھنے کے) لئے جلدی نہ کیا کرو اور دعا کرو کہ میرے پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے
۱۱۵  اور ہم نے پہلے آدم سے عہد لیا تھا مگر وہ (اسے) بھول گئے اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا
۱۱۶  اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو سب سجدے میں گر پڑے مگر ابلیس نے انکار کیا
۱۱۷  ہم نے فرمایا کہ آدم یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو یہ کہیں تم دونوں کو بہشت سے نکلوا نہ دے۔ پھر تم تکلیف میں پڑجاؤ
۱۱۸  یہاں تم کو یہ (آسائش) ہوگی کہ نہ بھوکے رہو نہ ننگے
۱۱۹  اور یہ کہ نہ پیاسے رہو اور نہ دھوپ کھاؤ
۱۲۰  تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ (اور) کہا کہ آدم بھلا میں تم کو (ایسا) درخت بتاؤں (جو) ہمیشہ کی زندگی کا (ثمرہ دے) اور (ایسی) بادشاہت کہ کبھی زائل نہ ہو
۱۲۱  تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں) پر بہشت کے پتّے چپکانے لگے۔ اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم خلاف کیا تو (وہ اپنے مطلوب سے) بےراہ ہو گئے
۱۲۲  پھر ان کے پروردگار نے ان کو نوازا تو ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی
۱۲۳  فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے نیچے اتر جاؤ۔ تم میں بعض بعض کے دشمن (ہوں گے) پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا
۱۲۴  اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کو ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے
۱۲۵  وہ کہے گا میرے پروردگار تو نے مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا میں تو دیکھتا بھالتا تھا
۱۲۶  خدا فرمائے گا کہ ایسا ہی (چاہیئے تھا) تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تونے ان کو بھلا دیا۔ اسی طرح آج ہم تجھ کو بھلا دیں گے
۱۲۷  اور جو شخص حد سے نکل جائے اور اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان نہ لائے ہم اس کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ اور آخرت کا عذاب بہت سخت اور بہت دیر رہنے والا ہے
۱۲۸  کیا یہ بات ان لوگوں کے لئے موجب ہدایت نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہنے کے مقامات میں یہ چلتے پھرتے ہیں۔ عقل والوں کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
۱۲۹  اور اگر ایک بات تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے صادر اور (جزائے اعمال کے لئے) ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو (نزول) عذاب لازم ہوجاتا
۱۳۰  پس جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس پر صبر کرو۔ اور سورج کے نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کیا کرو۔ اور رات کی ساعات (اولین) میں بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور دن کی اطراف (یعنی دوپہر کے قریب ظہر کے وقت بھی) تاکہ تم خوش ہوجاؤ
۱۳۱  اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے تاکہ ان کی آزمائش کریں ان پر نگاہ نہ کرنا۔ اور تمہاری پروردگار کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی بہت بہتر اور باقی رہنے والی ہے
۱۳۲  اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو۔ ہم تم سے روزی کے خواستگار نہیں۔ بلکہ تمہیں ہم روزی دیتے ہیں اور (نیک) انجام (اہل) تقویٰ کا ہے
۱۳۳  اور کہتے ہیں کہ یہ (پیغمبر) اپنے پروردگار کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے۔ کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کی نشانی نہیں آئی؟
۱۳۴  اور اگر ہم ان کو پیغمبر (کے بھیجنے) سے پیشتر کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو وہ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے تیرے کلام (واحکام) کی پیروی کرتے
۱۳۵  کہہ دو کہ سب (نتائج اعمال) کے منتظر ہیں سو تم بھی منتظر رہو۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ (دین کے) سیدھے رستے پر چلنے والے کون ہیں اور (جنت کی طرف) راہ پانے والے کون ہیں (ہم یا تم)

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  طه
٢  مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَىٰ
٣  إِلَّا تَذْكِرَةً لِمَنْ يَخْشَىٰ
٤  تَنْزِيلًا مِمَّنْ خَلَقَ الْأَرْضَ وَالسَّمَاوَاتِ الْعُلَى
٥  الرَّحْمَٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ
٦  لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرَىٰ
٧  وَإِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى
٨  اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ
٩  وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ
١٠  إِذْ رَأَىٰ نَارًا فَقَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي آنَسْتُ نَارًا لَعَلِّي آتِيكُمْ مِنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى
١١  فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ يَا مُوسَىٰ
١٢  إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى
١٣  وَأَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَىٰ
١٤  إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي
١٥  إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَىٰ
١٦  فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِهَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَتَرْدَىٰ
١٧  وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسَىٰ
١٨  قَالَ هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَىٰ غَنَمِي وَلِيَ فِيهَا مَآرِبُ أُخْرَىٰ
١٩  قَالَ أَلْقِهَا يَا مُوسَىٰ
٢٠  فَأَلْقَاهَا فَإِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسْعَىٰ
٢١  قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ ۖ سَنُعِيدُهَا سِيرَتَهَا الْأُولَىٰ
٢٢  وَاضْمُمْ يَدَكَ إِلَىٰ جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ آيَةً أُخْرَىٰ
٢٣  لِنُرِيَكَ مِنْ آيَاتِنَا الْكُبْرَى
٢٤  اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ
٢٥  قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي
٢٦  وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي
٢٧  وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي
٢٨  يَفْقَهُوا قَوْلِي
٢٩  وَاجْعَلْ لِي وَزِيرًا مِنْ أَهْلِي
٣٠  هَارُونَ أَخِي
٣١  اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي
٣٢  وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي
٣٣  كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيرًا
٣٤  وَنَذْكُرَكَ كَثِيرًا
٣٥  إِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِيرًا
٣٦  قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَىٰ
٣٧  وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّةً أُخْرَىٰ
٣٨  إِذْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّكَ مَا يُوحَىٰ
٣٩  أَنِ اقْذِفِيهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّ لِي وَعَدُوٌّ لَهُ ۚ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِنِّي وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِي
٤٠  إِذْ تَمْشِي أُخْتُكَ فَتَقُولُ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ مَنْ يَكْفُلُهُ ۖ فَرَجَعْنَاكَ إِلَىٰ أُمِّكَ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ ۚ وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَاكَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا ۚ فَلَبِثْتَ سِنِينَ فِي أَهْلِ مَدْيَنَ ثُمَّ جِئْتَ عَلَىٰ قَدَرٍ يَا مُوسَىٰ
٤١  وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِي
٤٢  اذْهَبْ أَنْتَ وَأَخُوكَ بِآيَاتِي وَلَا تَنِيَا فِي ذِكْرِي
٤٣  اذْهَبَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ
٤٤  فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ
٤٥  قَالَا رَبَّنَا إِنَّنَا نَخَافُ أَنْ يَفْرُطَ عَلَيْنَا أَوْ أَنْ يَطْغَىٰ
٤٦  قَالَ لَا تَخَافَا ۖ إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَىٰ
٤٧  فَأْتِيَاهُ فَقُولَا إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ ۖ قَدْ جِئْنَاكَ بِآيَةٍ مِنْ رَبِّكَ ۖ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ
٤٨  إِنَّا قَدْ أُوحِيَ إِلَيْنَا أَنَّ الْعَذَابَ عَلَىٰ مَنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ
٤٩  قَالَ فَمَنْ رَبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ
٥٠  قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ
٥١  قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُونِ الْأُولَىٰ
٥٢  قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي فِي كِتَابٍ ۖ لَا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنْسَى
٥٣  الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا وَسَلَكَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْ نَبَاتٍ شَتَّىٰ
٥٤  كُلُوا وَارْعَوْا أَنْعَامَكُمْ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِأُولِي النُّهَىٰ
٥٥  مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ
٥٦  وَلَقَدْ أَرَيْنَاهُ آيَاتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَأَبَىٰ
٥٧  قَالَ أَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ أَرْضِنَا بِسِحْرِكَ يَا مُوسَىٰ
٥٨  فَلَنَأْتِيَنَّكَ بِسِحْرٍ مِثْلِهِ فَاجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدًا لَا نُخْلِفُهُ نَحْنُ وَلَا أَنْتَ مَكَانًا سُوًى
٥٩  قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّينَةِ وَأَنْ يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى
٦٠  فَتَوَلَّىٰ فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهُ ثُمَّ أَتَىٰ
٦١  قَالَ لَهُمْ مُوسَىٰ وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ ۖ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَىٰ
٦٢  فَتَنَازَعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ وَأَسَرُّوا النَّجْوَىٰ
٦٣  قَالُوا إِنْ هَٰذَانِ لَسَاحِرَانِ يُرِيدَانِ أَنْ يُخْرِجَاكُمْ مِنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَيَذْهَبَا بِطَرِيقَتِكُمُ الْمُثْلَىٰ
٦٤  فَأَجْمِعُوا كَيْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا ۚ وَقَدْ أَفْلَحَ الْيَوْمَ مَنِ اسْتَعْلَىٰ
٦٥  قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ
٦٦  قَالَ بَلْ أَلْقُوا ۖ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ
٦٧  فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُوسَىٰ
٦٨  قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلَىٰ
٦٩  وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا ۖ إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ ۖ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ
٧٠  فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ هَارُونَ وَمُوسَىٰ
٧١  قَالَ آمَنْتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ ۖ فَلَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ أَيُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا وَأَبْقَىٰ
٧٢  قَالُوا لَنْ نُؤْثِرَكَ عَلَىٰ مَا جَاءَنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالَّذِي فَطَرَنَا ۖ فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ ۖ إِنَّمَا تَقْضِي هَٰذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا
٧٣  إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ ۗ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ
٧٤  إِنَّهُ مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ
٧٥  وَمَنْ يَأْتِهِ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَأُولَٰئِكَ لَهُمُ الدَّرَجَاتُ الْعُلَىٰ
٧٦  جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ مَنْ تَزَكَّىٰ
٧٧  وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ
٧٨  فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُودِهِ فَغَشِيَهُمْ مِنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ
٧٩  وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُ وَمَا هَدَىٰ
٨٠  يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ قَدْ أَنْجَيْنَاكُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَوَاعَدْنَاكُمْ جَانِبَ الطُّورِ الْأَيْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ
٨١  كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِي ۖ وَمَنْ يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِي فَقَدْ هَوَىٰ
٨٢  وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَىٰ
٨٣  وَمَا أَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ يَا مُوسَىٰ
٨٤  قَالَ هُمْ أُولَاءِ عَلَىٰ أَثَرِي وَعَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضَىٰ
٨٥  قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْ بَعْدِكَ وَأَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ
٨٦  فَرَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ أَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا ۚ أَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ أَمْ أَرَدْتُمْ أَنْ يَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّكُمْ فَأَخْلَفْتُمْ مَوْعِدِي
٨٧  قَالُوا مَا أَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلَٰكِنَّا حُمِّلْنَا أَوْزَارًا مِنْ زِينَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنَاهَا فَكَذَٰلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُّ
٨٨  فَأَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَهُ خُوَارٌ فَقَالُوا هَٰذَا إِلَٰهُكُمْ وَإِلَٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِيَ
٨٩  أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا وَلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا
٩٠  وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَارُونُ مِنْ قَبْلُ يَا قَوْمِ إِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهِ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَٰنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِي
٩١  قَالُوا لَنْ نَبْرَحَ عَلَيْهِ عَاكِفِينَ حَتَّىٰ يَرْجِعَ إِلَيْنَا مُوسَىٰ
٩٢  قَالَ يَا هَارُونُ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوا
٩٣  أَلَّا تَتَّبِعَنِ ۖ أَفَعَصَيْتَ أَمْرِي
٩٤  قَالَ يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي ۖ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي
٩٥  قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يَا سَامِرِيُّ
٩٦  قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا بِهِ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي
٩٧  قَالَ فَاذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِي الْحَيَاةِ أَنْ تَقُولَ لَا مِسَاسَ ۖ وَإِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَنْ تُخْلَفَهُ ۖ وَانْظُرْ إِلَىٰ إِلَٰهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا ۖ لَنُحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهُ فِي الْيَمِّ نَسْفًا
٩٨  إِنَّمَا إِلَٰهُكُمُ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا
٩٩  كَذَٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ ۚ وَقَدْ آتَيْنَاكَ مِنْ لَدُنَّا ذِكْرًا
١٠٠  مَنْ أَعْرَضَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَحْمِلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وِزْرًا
١٠١  خَالِدِينَ فِيهِ ۖ وَسَاءَ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِمْلًا
١٠٢  يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ ۚ وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ زُرْقًا
١٠٣  يَتَخَافَتُونَ بَيْنَهُمْ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا عَشْرًا
١٠٤  نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا
١٠٥  وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا
١٠٦  فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا
١٠٧  لَا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا
١٠٨  يَوْمَئِذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُ ۖ وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا
١٠٩  يَوْمَئِذٍ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَٰنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلًا
١١٠  يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا
١١١  وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ ۖ وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا
١١٢  وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخَافُ ظُلْمًا وَلَا هَضْمًا
١١٣  وَكَذَٰلِكَ أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا وَصَرَّفْنَا فِيهِ مِنَ الْوَعِيدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ أَوْ يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا
١١٤  فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۗ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَىٰ إِلَيْكَ وَحْيُهُ ۖ وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا
١١٥  وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَىٰ آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا
١١٦  وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ
١١٧  فَقُلْنَا يَا آدَمُ إِنَّ هَٰذَا عَدُوٌّ لَكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقَىٰ
١١٨  إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعْرَىٰ
١١٩  وَأَنَّكَ لَا تَظْمَأُ فِيهَا وَلَا تَضْحَىٰ
١٢٠  فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَا يَبْلَىٰ
١٢١  فَأَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ ۚ وَعَصَىٰ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَىٰ
١٢٢  ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَىٰ
١٢٣  قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًا ۖ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ
١٢٤  وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ
١٢٥  قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَىٰ وَقَدْ كُنْتُ بَصِيرًا
١٢٦  قَالَ كَذَٰلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا ۖ وَكَذَٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسَىٰ
١٢٧  وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِآيَاتِ رَبِّهِ ۚ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبْقَىٰ
١٢٨  أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسَاكِنِهِمْ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِأُولِي النُّهَىٰ
١٢٩  وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَأَجَلٌ مُسَمًّى
١٣٠  فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ۖ وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَىٰ
١٣١  وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ
١٣٢  وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۖ لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا ۖ نَحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ
١٣٣  وَقَالُوا لَوْلَا يَأْتِينَا بِآيَةٍ مِنْ رَبِّهِ ۚ أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ
١٣٤  وَلَوْ أَنَّا أَهْلَكْنَاهُمْ بِعَذَابٍ مِنْ قَبْلِهِ لَقَالُوا رَبَّنَا لَوْلَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَنَتَّبِعَ آيَاتِكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَذِلَّ وَنَخْزَىٰ
١٣٥  قُلْ كُلٌّ مُتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ أَصْحَابُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ وَمَنِ اهْتَدَىٰ

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  Ta, Ha.
2  We have not sent down to you the Qur’an that you be distressed
3  But only as a reminder for those who fear [Allah] –
4  A revelation from He who created the earth and highest heavens,
5  The Most Merciful [who is] above the Throne established.
6  To Him belongs what is in the heavens and what is on the earth and what is between them and what is under the soil.
7  And if you speak aloud – then indeed, He knows the secret and what is [even] more hidden.
8  Allah – there is no deity except Him. To Him belong the best names.
9  And has the story of Moses reached you? –
10  When he saw a fire and said to his family, “Stay here; indeed, I have perceived a fire; perhaps I can bring you a torch or find at the fire some guidance.”
11  And when he came to it, he was called, “O Moses,
12  Indeed, I am your Lord, so remove your sandals. Indeed, you are in the sacred valley of Tuwa.
13  And I have chosen you, so listen to what is revealed [to you].
14  Indeed, I am Allah. There is no deity except Me, so worship Me and establish prayer for My remembrance.
15  Indeed, the Hour is coming – I almost conceal it – so that every soul may be recompensed according to that for which it strives.
16  So do not let one avert you from it who does not believe in it and follows his desire, for you [then] would perish.
17  And what is that in your right hand, O Moses?”
18  He said, “It is my staff; I lean upon it, and I bring down leaves for my sheep and I have therein other uses.”
19  [Allah] said, “Throw it down, O Moses.”
20  So he threw it down, and thereupon it was a snake, moving swiftly.
21  [Allah] said, “Seize it and fear not; We will return it to its former condition.
22  And draw in your hand to your side; it will come out white without disease – another sign,
23  That We may show you [some] of Our greater signs.
24  Go to Pharaoh. Indeed, he has transgressed.”
25  [Moses] said, “My Lord, expand for me my breast [with assurance] 26  And ease for me my task
27  And untie the knot from my tongue
28  That they may understand my speech.
29  And appoint for me a minister from my family –
30  Aaron, my brother.
31  Increase through him my strength
32  And let him share my task
33  That we may exalt You much
34  And remember You much.
35  Indeed, You are of us ever Seeing.”
36  [Allah] said, “You have been granted your request, O Moses.
37  And We had already conferred favor upon you another time,
38  When We inspired to your mother what We inspired,
39  [Saying], ‘Cast him into the chest and cast it into the river, and the river will throw it onto the bank; there will take him an enemy to Me and an enemy to him.’ And I bestowed upon you love from Me that you would be brought up under My eye.
40  [And We favored you] when your sister went and said, ‘Shall I direct you to someone who will be responsible for him?’ So We restored you to your mother that she might be content and not grieve. And you killed someone, but We saved you from retaliation and tried you with a [severe] trial. And you remained [some] years among the people of Madyan. Then you came [here] at the decreed time, O Moses.
41  And I produced you for Myself.
42  Go, you and your brother, with My signs and do not slacken in My remembrance.
43  Go, both of you, to Pharaoh. Indeed, he has transgressed.
44  And speak to him with gentle speech that perhaps he may be reminded or fear [Allah].”
45  They said, “Our Lord, indeed we are afraid that he will hasten [punishment] against us or that he will transgress.”
46  [Allah] said, “Fear not. Indeed, I am with you both; I hear and I see.
47  So go to him and say, ‘Indeed, we are messengers of your Lord, so send with us the Children of Israel and do not torment them. We have come to you with a sign from your Lord. And peace will be upon he who follows the guidance.
48  Indeed, it has been revealed to us that the punishment will be upon whoever denies and turns away.’ ”
49  [Pharaoh] said, “So who is the Lord of you two, O Moses?”
50  He said, “Our Lord is He who gave each thing its form and then guided [it].”
51  [Pharaoh] said, “Then what is the case of the former generations?”
52  [Moses] said, “The knowledge thereof is with my Lord in a record. My Lord neither errs nor forgets.”
53  [It is He] who has made for you the earth as a bed [spread out] and inserted therein for you roadways and sent down from the sky, rain and produced thereby categories of various plants.
54  Eat [therefrom] and pasture your livestock. Indeed, in that are signs for those of intelligence.
55  From the earth We created you, and into it We will return you, and from it We will extract you another time.
56  And We certainly showed Pharaoh Our signs – all of them – but he denied and refused.
57  He said, “Have you come to us to drive us out of our land with your magic, O Moses?
58  Then we will surely bring you magic like it, so make between us and you an appointment, which we will not fail to keep and neither will you, in a place assigned.”
59  [Moses] said, “Your appointment is on the day of the festival when the people assemble at mid-morning.”
60  So Pharaoh went away, put together his plan, and then came [to Moses].
61  Moses said to the magicians summoned by Pharaoh, “Woe to you! Do not invent a lie against Allah or He will exterminate you with a punishment; and he has failed who invents [such falsehood].”
62  So they disputed over their affair among themselves and concealed their private conversation.
63  They said, “Indeed, these are two magicians who want to drive you out of your land with their magic and do away with your most exemplary way.
64  So resolve upon your plan and then come [forward] in line. And he has succeeded today who overcomes.”
65  They said, “O Moses, either you throw or we will be the first to throw.”
66  He said, “Rather, you throw.” And suddenly their ropes and staffs seemed to him from their magic that they were moving [like snakes].
67  And he sensed within himself apprehension, did Moses.
68  Allah said, “Fear not. Indeed, it is you who are superior.
69  And throw what is in your right hand; it will swallow up what they have crafted. What they have crafted is but the trick of a magician, and the magician will not succeed wherever he is.”
70  So the magicians fell down in prostration. They said, “We have believed in the Lord of Aaron and Moses.”
71  [Pharaoh] said, “You believed him before I gave you permission. Indeed, he is your leader who has taught you magic. So I will surely cut off your hands and your feet on opposite sides, and I will crucify you on the trunks of palm trees, and you will surely know which of us is more severe in [giving] punishment and more enduring.”
72  They said, “Never will we prefer you over what has come to us of clear proofs and [over] He who created us. So decree whatever you are to decree. You can only decree for this worldly life.
73  Indeed, we have believed in our Lord that He may forgive us our sins and what you compelled us [to do] of magic. And Allah is better and more enduring.”
74  Indeed, whoever comes to his Lord as a criminal – indeed, for him is Hell; he will neither die therein nor live.
75  But whoever comes to Him as a believer having done righteous deeds – for those will be the highest degrees [in position]:
76  Gardens of perpetual residence beneath which rivers flow, wherein they abide eternally. And that is the reward of one who purifies himself.
77  And We had inspired to Moses, “Travel by night with My servants and strike for them a dry path through the sea; you will not fear being overtaken [by Pharaoh] nor be afraid [of drowning].”
78  So Pharaoh pursued them with his soldiers, and there covered them from the sea that which covered them,
79  And Pharaoh led his people astray and did not guide [them].
80  O Children of Israel, We delivered you from your enemy, and We made an appointment with you at the right side of the mount, and We sent down to you manna and quails,
81  [Saying], “Eat from the good things with which We have provided you and do not transgress [or oppress others] therein, lest My anger should descend upon you. And he upon whom My anger descends has certainly fallen.”
82  But indeed, I am the Perpetual Forgiver of whoever repents and believes and does righteousness and then continues in guidance.
83  [Allah] said, “And what made you hasten from your people, O Moses?”
84  He said, “They are close upon my tracks, and I hastened to You, my Lord, that You be pleased.”
85  [Allah] said, “But indeed, We have tried your people after you [departed], and the Samiri has led them astray.”
86  So Moses returned to his people, angry and grieved. He said, “O my people, did your Lord not make you a good promise? Then, was the time [of its fulfillment] too long for you, or did you wish that wrath from your Lord descend upon you, so you broke your promise [of obedience] to me?”
87  They said, “We did not break our promise to you by our will, but we were made to carry burdens from the ornaments of the people [of Pharaoh], so we threw them [into the fire], and thus did the Samiri throw.”
88  And he extracted for them [the statue of] a calf which had a lowing sound, and they said, “This is your god and the god of Moses, but he forgot.”
89  Did they not see that it could not return to them any speech and that it did not possess for them any harm or benefit?
90  And Aaron had already told them before [the return of Moses], “O my people, you are only being tested by it, and indeed, your Lord is the Most Merciful, so follow me and obey my order.”
91  They said, “We will never cease being devoted to the calf until Moses returns to us.”
92  [Moses] said, “O Aaron, what prevented you, when you saw them going astray,
93  From following me? Then have you disobeyed my order?”
94  [Aaron] said, “O son of my mother, do not seize [me] by my beard or by my head. Indeed, I feared that you would say, ‘You caused division among the Children of Israel, and you did not observe [or await] my word.’ ”
95  [Moses] said, “And what is your case, O Samiri?”
96  He said, “I saw what they did not see, so I took a handful [of dust] from the track of the messenger and threw it, and thus did my soul entice me.”
97  [Moses] said, “Then go. And indeed, it is [decreed] for you in [this] life to say, ‘No contact.’ And indeed, you have an appointment [in the Hereafter] you will not fail to keep. And look at your ‘god’ to which you remained devoted. We will surely burn it and blow it into the sea with a blast.
98  Your god is only Allah, except for whom there is no deity. He has encompassed all things in knowledge.”
99  Thus, [O Muhammad], We relate to you from the news of what has preceded. And We have certainly given you from Us the Qur’an.
100  Whoever turns away from it – then indeed, he will bear on the Day of Resurrection a burden,
101  [Abiding] eternally therein, and evil it is for them on the Day of Resurrection as a load –
102  The Day the Horn will be blown. And We will gather the criminals, that Day, blue-eyed.
103  They will murmur among themselves, “You remained not but ten [days in the world].”
104  We are most knowing of what they say when the best of them in manner will say, “You remained not but one day.”
105  And they ask you about the mountains, so say, “My Lord will blow them away with a blast.
106  And He will leave the earth a level plain;
107  You will not see therein a depression or an elevation.”
108  That Day, everyone will follow [the call of] the Caller [with] no deviation therefrom, and [all] voices will be stilled before the Most Merciful, so you will not hear except a whisper [of footsteps].
109  That Day, no intercession will benefit except [that of] one to whom the Most Merciful has given permission and has accepted his word.
110  Allah knows what is [presently] before them and what will be after them, but they do not encompass it in knowledge.
111  And [all] faces will be humbled before the Ever-Living, the Sustainer of existence. And he will have failed who carries injustice.
112  But he who does of righteous deeds while he is a believer – he will neither fear injustice nor deprivation.
113  And thus We have sent it down as an Arabic Qur’an and have diversified therein the warnings that perhaps they will avoid [sin] or it would cause them remembrance.
114  So high [above all] is Allah, the Sovereign, the Truth. And, [O Muhammad], do not hasten with [recitation of] the Qur’an before its revelation is completed to you, and say, “My Lord, increase me in knowledge.”
115  And We had already taken a promise from Adam before, but he forgot; and We found not in him determination.
116  And [mention] when We said to the angels, “Prostrate to Adam,” and they prostrated, except Iblees; he refused.
117  So We said, “O Adam, indeed this is an enemy to you and to your wife. Then let him not remove you from Paradise so you would suffer.
118  Indeed, it is [promised] for you not to be hungry therein or be unclothed.
119  And indeed, you will not be thirsty therein or be hot from the sun.”
120  Then Satan whispered to him; he said, “O Adam, shall I direct you to the tree of eternity and possession that will not deteriorate?”
121  And Adam and his wife ate of it, and their private parts became apparent to them, and they began to fasten over themselves from the leaves of Paradise. And Adam disobeyed his Lord and erred.
122  Then his Lord chose him and turned to him in forgiveness and guided [him].
123  [Allah] said, “Descend from Paradise – all, [your descendants] being enemies to one another. And if there should come to you guidance from Me – then whoever follows My guidance will neither go astray [in the world] nor suffer [in the Hereafter].
124  And whoever turns away from My remembrance – indeed, he will have a depressed life, and We will gather him on the Day of Resurrection blind.”
125  He will say, “My Lord, why have you raised me blind while I was [once] seeing?”
126  [Allah] will say, “Thus did Our signs come to you, and you forgot them; and thus will you this Day be forgotten.”
127  And thus do We recompense he who transgressed and did not believe in the signs of his Lord. And the punishment of the Hereafter is more severe and more enduring.
128  Then, has it not become clear to them how many generations We destroyed before them as they walk among their dwellings? Indeed in that are signs for those of intelligence.
129  And if not for a word that preceded from your Lord, punishment would have been an obligation [due immediately], and [if not for] a specified term [decreed].
130  So be patient over what they say and exalt [Allah] with praise of your Lord before the rising of the sun and before its setting; and during periods of the night [exalt Him] and at the ends of the day, that you may be satisfied.
131  And do not extend your eyes toward that by which We have given enjoyment to [some] categories of them, [its being but] the splendor of worldly life by which We test them. And the provision of your Lord is better and more enduring.
132  And enjoin prayer upon your family [and people] and be steadfast therein. We ask you not for provision; We provide for you, and the [best] outcome is for [those of] righteousness.
133  And they say, “Why does he not bring us a sign from his Lord?” Has there not come to them evidence of what was in the former scriptures?
134  And if We had destroyed them with a punishment before him, they would have said, “Our Lord, why did You not send to us a messenger so we could have followed Your verses before we were humiliated and disgraced?”
135  Say, “Each [of us] is waiting; so wait. For you will know who are the companions of the sound path and who is guided.” In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.
1  Ta, Ha.
2  We have not sent down to you the Qur’an that you be distressed
3  But only as a reminder for those who fear [Allah] –
4  A revelation from He who created the earth and highest heavens,
5  The Most Merciful [who is] above the Throne established.
6  To Him belongs what is in the heavens and what is on the earth and what is between them and what is under the soil.
7  And if you speak aloud – then indeed, He knows the secret and what is [even] more hidden.
8  Allah – there is no deity except Him. To Him belong the best names.
9  And has the story of Moses reached you? –
10  When he saw a fire and said to his family, “Stay here; indeed, I have perceived a fire; perhaps I can bring you a torch or find at the fire some guidance.”
11  And when he came to it, he was called, “O Moses,
12  Indeed, I am your Lord, so remove your sandals. Indeed, you are in the sacred valley of Tuwa.
13  And I have chosen you, so listen to what is revealed [to you].
14  Indeed, I am Allah. There is no deity except Me, so worship Me and establish prayer for My remembrance.
15  Indeed, the Hour is coming – I almost conceal it – so that every soul may be recompensed according to that for which it strives.
16  So do not let one avert you from it who does not believe in it and follows his desire, for you [then] would perish.
17  And what is that in your right hand, O Moses?”
18  He said, “It is my staff; I lean upon it, and I bring down leaves for my sheep and I have therein other uses.”
19  [Allah] said, “Throw it down, O Moses.”
20  So he threw it down, and thereupon it was a snake, moving swiftly.
21  [Allah] said, “Seize it and fear not; We will return it to its former condition.
22  And draw in your hand to your side; it will come out white without disease – another sign,
23  That We may show you [some] of Our greater signs.
24  Go to Pharaoh. Indeed, he has transgressed.”
25  [Moses] said, “My Lord, expand for me my breast [with assurance] 26  And ease for me my task
27  And untie the knot from my tongue
28  That they may understand my speech.
29  And appoint for me a minister from my family –
30  Aaron, my brother.
31  Increase through him my strength
32  And let him share my task
33  That we may exalt You much
34  And remember You much.
35  Indeed, You are of us ever Seeing.”
36  [Allah] said, “You have been granted your request, O Moses.
37  And We had already conferred favor upon you another time,
38  When We inspired to your mother what We inspired,
39  [Saying], ‘Cast him into the chest and cast it into the river, and the river will throw it onto the bank; there will take him an enemy to Me and an enemy to him.’ And I bestowed upon you love from Me that you would be brought up under My eye.
40  [And We favored you] when your sister went and said, ‘Shall I direct you to someone who will be responsible for him?’ So We restored you to your mother that she might be content and not grieve. And you killed someone, but We saved you from retaliation and tried you with a [severe] trial. And you remained [some] years among the people of Madyan. Then you came [here] at the decreed time, O Moses.
41  And I produced you for Myself.
42  Go, you and your brother, with My signs and do not slacken in My remembrance.
43  Go, both of you, to Pharaoh. Indeed, he has transgressed.
44  And speak to him with gentle speech that perhaps he may be reminded or fear [Allah].”
45  They said, “Our Lord, indeed we are afraid that he will hasten [punishment] against us or that he will transgress.”
46  [Allah] said, “Fear not. Indeed, I am with you both; I hear and I see.
47  So go to him and say, ‘Indeed, we are messengers of your Lord, so send with us the Children of Israel and do not torment them. We have come to you with a sign from your Lord. And peace will be upon he who follows the guidance.
48  Indeed, it has been revealed to us that the punishment will be upon whoever denies and turns away.’ ”
49  [Pharaoh] said, “So who is the Lord of you two, O Moses?”
50  He said, “Our Lord is He who gave each thing its form and then guided [it].”
51  [Pharaoh] said, “Then what is the case of the former generations?”
52  [Moses] said, “The knowledge thereof is with my Lord in a record. My Lord neither errs nor forgets.”
53  [It is He] who has made for you the earth as a bed [spread out] and inserted therein for you roadways and sent down from the sky, rain and produced thereby categories of various plants.
54  Eat [therefrom] and pasture your livestock. Indeed, in that are signs for those of intelligence.
55  From the earth We created you, and into it We will return you, and from it We will extract you another time.
56  And We certainly showed Pharaoh Our signs – all of them – but he denied and refused.
57  He said, “Have you come to us to drive us out of our land with your magic, O Moses?
58  Then we will surely bring you magic like it, so make between us and you an appointment, which we will not fail to keep and neither will you, in a place assigned.”
59  [Moses] said, “Your appointment is on the day of the festival when the people assemble at mid-morning.”
60  So Pharaoh went away, put together his plan, and then came [to Moses].
61  Moses said to the magicians summoned by Pharaoh, “Woe to you! Do not invent a lie against Allah or He will exterminate you with a punishment; and he has failed who invents [such falsehood].”
62  So they disputed over their affair among themselves and concealed their private conversation.
63  They said, “Indeed, these are two magicians who want to drive you out of your land with their magic and do away with your most exemplary way.
64  So resolve upon your plan and then come [forward] in line. And he has succeeded today who overcomes.”
65  They said, “O Moses, either you throw or we will be the first to throw.”
66  He said, “Rather, you throw.” And suddenly their ropes and staffs seemed to him from their magic that they were moving [like snakes].
67  And he sensed within himself apprehension, did Moses.
68  Allah said, “Fear not. Indeed, it is you who are superior.
69  And throw what is in your right hand; it will swallow up what they have crafted. What they have crafted is but the trick of a magician, and the magician will not succeed wherever he is.”
70  So the magicians fell down in prostration. They said, “We have believed in the Lord of Aaron and Moses.”
71  [Pharaoh] said, “You believed him before I gave you permission. Indeed, he is your leader who has taught you magic. So I will surely cut off your hands and your feet on opposite sides, and I will crucify you on the trunks of palm trees, and you will surely know which of us is more severe in [giving] punishment and more enduring.”
72  They said, “Never will we prefer you over what has come to us of clear proofs and [over] He who created us. So decree whatever you are to decree. You can only decree for this worldly life.
73  Indeed, we have believed in our Lord that He may forgive us our sins and what you compelled us [to do] of magic. And Allah is better and more enduring.”
74  Indeed, whoever comes to his Lord as a criminal – indeed, for him is Hell; he will neither die therein nor live.
75  But whoever comes to Him as a believer having done righteous deeds – for those will be the highest degrees [in position]:
76  Gardens of perpetual residence beneath which rivers flow, wherein they abide eternally. And that is the reward of one who purifies himself.
77  And We had inspired to Moses, “Travel by night with My servants and strike for them a dry path through the sea; you will not fear being overtaken [by Pharaoh] nor be afraid [of drowning].”
78  So Pharaoh pursued them with his soldiers, and there covered them from the sea that which covered them,
79  And Pharaoh led his people astray and did not guide [them].
80  O Children of Israel, We delivered you from your enemy, and We made an appointment with you at the right side of the mount, and We sent down to you manna and quails,
81  [Saying], “Eat from the good things with which We have provided you and do not transgress [or oppress others] therein, lest My anger should descend upon you. And he upon whom My anger descends has certainly fallen.”
82  But indeed, I am the Perpetual Forgiver of whoever repents and believes and does righteousness and then continues in guidance.
83  [Allah] said, “And what made you hasten from your people, O Moses?”
84  He said, “They are close upon my tracks, and I hastened to You, my Lord, that You be pleased.”
85  [Allah] said, “But indeed, We have tried your people after you [departed], and the Samiri has led them astray.”
86  So Moses returned to his people, angry and grieved. He said, “O my people, did your Lord not make you a good promise? Then, was the time [of its fulfillment] too long for you, or did you wish that wrath from your Lord descend upon you, so you broke your promise [of obedience] to me?”
87  They said, “We did not break our promise to you by our will, but we were made to carry burdens from the ornaments of the people [of Pharaoh], so we threw them [into the fire], and thus did the Samiri throw.”
88  And he extracted for them [the statue of] a calf which had a lowing sound, and they said, “This is your god and the god of Moses, but he forgot.”
89  Did they not see that it could not return to them any speech and that it did not possess for them any harm or benefit?
90  And Aaron had already told them before [the return of Moses], “O my people, you are only being tested by it, and indeed, your Lord is the Most Merciful, so follow me and obey my order.”
91  They said, “We will never cease being devoted to the calf until Moses returns to us.”
92  [Moses] said, “O Aaron, what prevented you, when you saw them going astray,
93  From following me? Then have you disobeyed my order?”
94  [Aaron] said, “O son of my mother, do not seize [me] by my beard or by my head. Indeed, I feared that you would say, ‘You caused division among the Children of Israel, and you did not observe [or await] my word.’ ”
95  [Moses] said, “And what is your case, O Samiri?”
96  He said, “I saw what they did not see, so I took a handful [of dust] from the track of the messenger and threw it, and thus did my soul entice me.”
97  [Moses] said, “Then go. And indeed, it is [decreed] for you in [this] life to say, ‘No contact.’ And indeed, you have an appointment [in the Hereafter] you will not fail to keep. And look at your ‘god’ to which you remained devoted. We will surely burn it and blow it into the sea with a blast.
98  Your god is only Allah, except for whom there is no deity. He has encompassed all things in knowledge.”
99  Thus, [O Muhammad], We relate to you from the news of what has preceded. And We have certainly given you from Us the Qur’an.
100  Whoever turns away from it – then indeed, he will bear on the Day of Resurrection a burden,
101  [Abiding] eternally therein, and evil it is for them on the Day of Resurrection as a load –
102  The Day the Horn will be blown. And We will gather the criminals, that Day, blue-eyed.
103  They will murmur among themselves, “You remained not but ten [days in the world].”
104  We are most knowing of what they say when the best of them in manner will say, “You remained not but one day.”
105  And they ask you about the mountains, so say, “My Lord will blow them away with a blast.
106  And He will leave the earth a level plain;
107  You will not see therein a depression or an elevation.”
108  That Day, everyone will follow [the call of] the Caller [with] no deviation therefrom, and [all] voices will be stilled before the Most Merciful, so you will not hear except a whisper [of footsteps].
109  That Day, no intercession will benefit except [that of] one to whom the Most Merciful has given permission and has accepted his word.
110  Allah knows what is [presently] before them and what will be after them, but they do not encompass it in knowledge.
111  And [all] faces will be humbled before the Ever-Living, the Sustainer of existence. And he will have failed who carries injustice.
112  But he who does of righteous deeds while he is a believer – he will neither fear injustice nor deprivation.
113  And thus We have sent it down as an Arabic Qur’an and have diversified therein the warnings that perhaps they will avoid [sin] or it would cause them remembrance.
114  So high [above all] is Allah, the Sovereign, the Truth. And, [O Muhammad], do not hasten with [recitation of] the Qur’an before its revelation is completed to you, and say, “My Lord, increase me in knowledge.”
115  And We had already taken a promise from Adam before, but he forgot; and We found not in him determination.
116  And [mention] when We said to the angels, “Prostrate to Adam,” and they prostrated, except Iblees; he refused.
117  So We said, “O Adam, indeed this is an enemy to you and to your wife. Then let him not remove you from Paradise so you would suffer.
118  Indeed, it is [promised] for you not to be hungry therein or be unclothed.
119  And indeed, you will not be thirsty therein or be hot from the sun.”
120  Then Satan whispered to him; he said, “O Adam, shall I direct you to the tree of eternity and possession that will not deteriorate?”
121  And Adam and his wife ate of it, and their private parts became apparent to them, and they began to fasten over themselves from the leaves of Paradise. And Adam disobeyed his Lord and erred.
122  Then his Lord chose him and turned to him in forgiveness and guided [him].
123  [Allah] said, “Descend from Paradise – all, [your descendants] being enemies to one another. And if there should come to you guidance from Me – then whoever follows My guidance will neither go astray [in the world] nor suffer [in the Hereafter].
124  And whoever turns away from My remembrance – indeed, he will have a depressed life, and We will gather him on the Day of Resurrection blind.”
125  He will say, “My Lord, why have you raised me blind while I was [once] seeing?”
126  [Allah] will say, “Thus did Our signs come to you, and you forgot them; and thus will you this Day be forgotten.”
127  And thus do We recompense he who transgressed and did not believe in the signs of his Lord. And the punishment of the Hereafter is more severe and more enduring.
128  Then, has it not become clear to them how many generations We destroyed before them as they walk among their dwellings? Indeed in that are signs for those of intelligence.
129  And if not for a word that preceded from your Lord, punishment would have been an obligation [due immediately], and [if not for] a specified term [decreed].
130  So be patient over what they say and exalt [Allah] with praise of your Lord before the rising of the sun and before its setting; and during periods of the night [exalt Him] and at the ends of the day, that you may be satisfied.
131  And do not extend your eyes toward that by which We have given enjoyment to [some] categories of them, [its being but] the splendor of worldly life by which We test them. And the provision of your Lord is better and more enduring.
132  And enjoin prayer upon your family [and people] and be steadfast therein. We ask you not for provision; We provide for you, and the [best] outcome is for [those of] righteousness.
133  And they say, “Why does he not bring us a sign from his Lord?” Has there not come to them evidence of what was in the former scriptures?
134  And if We had destroyed them with a punishment before him, they would have said, “Our Lord, why did You not send to us a messenger so we could have followed Your verses before we were humiliated and disgraced?”
135  Say, “Each [of us] is waiting; so wait. For you will know who are the companions of the sound path and who is guided.”

 奉至仁至慈的真主之名

1  塔哈。
2  我降《古兰经》给你,不为使你辛苦,
3  却为教诲敬畏者,
4  是降自创造大地和苍穹者的。
5  至仁主已升上宝座了。
6  凡在天上地下的,在天地之间的,在地底下的,都是他的。
7  如果你高声说话,那末真主的确知道秘密的和更隐微的事情。
8  除真主外,绝无应受崇拜者,他有许多最美的名号。
9  你已听到穆萨的故事了吗?
10  当时,他看见一处火光,就对他的家属说:你们稍留一下,我确已看见一处火了,也许我拿一个火把来给你们,或许我在有火的那里发现向导。
11  他来到那个火的附近,就有声音喊叫说:穆萨啊!
12  我确是你的主,你脱掉你的鞋子吧,你确是在圣谷杜瓦’中。
13  我确已挑选你,你应当倾听启示:
14  我确是真主,除我外,绝无应受崇拜者。你应当崇拜我, 当为记念我而谨守拜功。
15  复活时,确是要来临的,我几乎要隐藏它,以便每个人都因自己的行为而受报酬。
16  不信复活时而顺从私欲者,不要让他阻止你信仰复活时,以致你灭亡。
17  穆萨啊!在你右手里的是什么?
18  他说:这是我的手杖,我拄着它,我用它把树叶击落下来给我的羊吃,我对于它还有别的许多需要。
19  主说:穆萨啊!你把它扔下。
20  他就把它扔下了,它忽然变成了一条蜿蜒的蛇。
21  主说:你捉住它,不要怕,我将使它还原。
22  你把手放在怀里,然后抽出来,手变成雪白的,但是没有什么疾病,那是另一种迹象。
23  我指示你我的最大迹象。
24  你去见法老,他确是暴虐无道的。
25  他说:我的主啊!求你使我的心情舒畅,
26  求你使我的事业顺利,
27  求你解除我的口吃,
28  以便他们了解我的话。
29  求你从我的家属中为我任命一个助手–
30  我的哥哥哈伦–
31  让他相助我,
32  使他与我同事,
33  以便我们多赞颂你,
34  多记念你。
35  你确是明察我们的。
36  主说:穆萨啊!你所请求的事,已赏赐你了。
37  在别的时候,我曾照顾你。
38  当时,我给你母亲以应有的启示,
39  说:你把他放在一个箱子里,然后把那个箱子放在河里, 河水要把它漂到岸边,而我的一个敌人–也是他的敌人–将收养他。 我把从我发出的慈爱赏赐你,以便你在我的监护之下受抚育。
40  当时,你的姐姐走去说:我指示你们一个养育他的人,好吗? 我就把你送还你母亲,以便她愉快而不忧愁。你曾杀了一个人,而我拯救你脱离忧患,我曾以许多折磨考验你。你曾在麦德彦人之间逗留了许多年。穆萨啊!然后, 你依前定而来到这里。
41  我为自己而挑选你。
42  你和你的哥哥,带着我的许多迹象去吧!你俩对于记念我绝不可怠慢。
43  你俩到法老那里去,他确是暴虐无道的。
44  你俩对他说话要温和,或许他会记取教诲,或者有所畏惧。
45  他俩说:我们的主啊!我们的确怕他粗暴地伤害我们,或更加暴虐无道。
46  主说:你俩不要怕,我的确同你俩在一起,我听着,而且看着。
47  你俩去他那里就说:’我俩确是你的主的使者,所以请你让以色列的后裔同我俩一道去,请你不要虐待他们。我们已经把你的主的一种迹象带来给你了;遵守正道者,得享和平。
48  我们确已奉到启示说:否认而且背弃者,将受刑罚。’
49  他说:穆萨啊!谁是你俩的主?
50  他说:我们的主,是天性赋予万物,而加以引导的。
51  他说:以往各世纪的情况是怎样的?
52  他说:关于他们的知识,在我的主那里记录在一本书中。我的主,既不错误,又不疏忽。
53  他为你们以大地为摇篮,他为你们在大地上开辟许多道路,他从云中降下雨水,而借雨水生产各种植物。
54  你们可以吃那些植物,可以放牧你们的牲畜。对于有理智者,此中确有许多迹象。
55  我从大地创造你们,我使你们复返于大地,我再一次使你们从大地复活。
56  我确已指示他我所有的一切迹象,而他加以否认,不肯信道。
57  他说:穆萨啊!你到我们这里来,想借你的魔术把我们逐出国境吗?
58  我们必定在你面前表演同样的魔术。你在一个互相商量的地方,在我们和你之间,订一个约期,我们和你大家都不爽约。
59  他说:你们的约期定在节日,当众人在早晨集合的时候。
60  法老就转回去,如集他的谋臣,然后他来了。
61  穆萨对他们说:你们真该死,你们不要诬蔑真主,以免他用刑罚毁灭你们;诬蔑真主者,确已失败了。
62  他们为这件事,议论纷纷,并且隐匿他们的议论;
63  他们说:这两个确是术士,想用魔术把你们逐出国境,并且废除你们的最完善的制度,
64  所以,你们应当决定你们的计策,然后结队而来,今天占上风的,必定成功。
65  他们说:穆萨啊!是你先抛你的家伙呢?还是我们先抛呢?
66  他说:还是你们先抛吧!他们的绳子和拐杖,在他看来,好象是因他们的魔术而蜿蜒的。
67  穆萨就心怀畏惧。
68  我说:你不要怕,你确是占优势的。
69  你抛下你右手里的拐杖,它就会吞没了他们所造作的。他们所造作的,只是术士的法术;术士们无论干什么总是不成功的。
70  于是,术士们拜倒下去,他们说:我们已归信哈伦和穆萨的主了。
71  法老说:在我允许你们之前,你们就信奉他们了吗?他必定是你们的头子,他把魔术传授你们,所以我誓必交互着砍掉你们的手和脚,我誓必把你们钉死在椰枣树干上,你们必定知道我们俩谁的刑罚更严厉,更长久。
72  他们说:我们绝不愿挑选你而抛弃已降临我们的明证和创造我们的主宰。你要怎么办就怎么办吧!你只能在今世生活中任意而为。
73  我们确已信仰我们的主,以便他赦免我们的过失,和在你的强迫下我们表演魔术的罪行。真主(的赏赐)是更好的,(他的刑罚)是更久的。
74  犯罪而来见主者,必入火狱,在火狱里,不死也不活。
75  信道行善而来见主者,得享最高的品级
76  –常住的乐园,下临诸河,而永居其中。那是纯洁者的报酬。
77  我确已启示穆萨说:你在夜间率领着我的仆人们去旅行, 你为他们在海上开辟一条旱道,你不要怕追兵出,也不要怕淹死。
78  法老统领他的军队,赶上他们,遂为海水所淹没。
79  法老把他的百姓领入歧途,他未将他们引入正路。
80  以色列的后裔啊!我曾拯救你们脱离你们的敌人,我曾在那山的右边与你们订约,我曾降甘露和鹌鹑给你们。
81  你们可以吃我所赏赐你们的佳美的食品,但不可过分, 以免应受我的谴责,谁应受我的谴责,谁必沦丧。
82  悔罪信道,并且力行善功,永循正道者,我对于他,确是至赦的。
83  穆萨啊!你为何仓促地离开你的宗族呢?
84  他说:他们将追踪而来。我的主啊!我忙到你这里来,以便你喜悦。
85  主说:在你(离别)以后,我确已考验你的宗族,撒米里已使他们迷误了。
86  穆萨悲愤地转回去看他的宗族,他说:我的宗族啊!难道你们的主,没有给你们一个美好的应许吗?你们觉得时间太长呢?还是你们想应受从你们的主发出的谴责,因而你们违背了对我的约言呢?
87  他们说:我们没有自愿地违背对你的约言, 但我们把(埃及人的)许多首饰携带出来,觉得很沉重,我们就抛下了那些首饰,撒米里也同样抛下了(他所携带的首饰)。
88  他就为他们铸出一头牛犊–一个有犊声的躯壳, 他们就说:这是你们的主,也是穆萨的主,但他忘记了。
89  那头牛犊不能回答他们的问话,也不能主持他们的祸福,难道他们不知道吗?
90  以前哈伦确已对他们说:我的宗族啊!你们只是为牛犊所迷惑,你们的主,确是至仁主。你们应当顺从我,当服从我的命令。
91  他们说:我们必继续崇拜牛犊,直至穆萨转回来。
92  穆萨说:哈伦啊!当你看见他们误入迷途的时候,是什么障碍,
93  你为何不跟随我?难道你要违背我的命令吗?
94  他说:我的胞弟啊!你不要揪住我的头发和胡子,我的确怕你说:’你使以色列分裂,而不注意我的话。’
95  穆萨说:撒米里啊!你怎么了?
96  他说:我曾见他们所未见的,我从使者的遗迹上握了一把土, 而我把它抛下去,我的私欲那样怂恿我。
97  他说:你去吧!你这辈子必定常说:不要接触我。你确有一个(受刑的)约期,你绝不能避免它,你看你虔诚住守的神灵吧!我们必定要焚化它, 然后必把它撒在海里。
98  你们所当崇拜的,只是真主,除他外,绝无应受崇拜的,他是周知万物的。
99  我这样对你叙述这些以往者的故事,我已赐给你从我发出的记念;
100  谁违背这个记念,谁在复活日必负重罪,
101  而永居其刑罚中。复活日那负担对他们真糟糕。
102  那是在吹号角之日,在那日我将集合蓝眼睛的罪犯;
103  他们低声相告说:你们只逗留了十天。
104  我知道他们说些什么。当时,他们中思想最正确的人说:你们只逗留了一天。
105  他们问你诸山的(结局),你说:我的主将粉碎诸山,
106  而使它们变成平原,
107  你将不能见什么坎坷,也不能见什么崎岖。
108  在那日,众人将顺从号召者,毫无违拗,一切声音将为至仁主而安静下来,除足音外,你听不见什么声音。
109  在那日,除至仁主所特许而且喜爱其言论者外,一切说情,都没有功效。
110  在他们前面的和在他们后面的,真主都知道,而他们却不知道。
111  罪人们将对永生自立的主宰表示谦恭,背负罪恶者,确已失望了。
112  信道而行善者,不怕亏枉和克扣。
113  我这样降示阿拉伯文的《古兰经》,我在其中申述警告,以便他们敬畏,或使他们记忆。
114  真主是超绝万物,宰制众生,体用真实的。 对你启示《古兰经》还没有完全的时候,你不要急忙诵读。你说:我的主啊!求你增加我的知识。
115  以前,我确已嘱咐阿丹,而他忘记我的嘱咐,我未发现他有任何决心。
116  当时我对众天神说:你们当向阿丹叩头。他们就叩头,但易卜劣厮除外。
117  我说:阿丹啊!这确是你的仇敌,也确是你的妻子的仇敌, 绝不要让他把你俩逐出乐园,以免你们辛苦。
118  你在乐园里必不饥饿,必不裸露,
119  必不口渴,必不感炎热。
120  嗣后,恶魔诱惑他说:阿丹啊!我指示你长生树,和不朽园好吗?
121  他俩就吃了那棵树的果实,他俩的阴部就对他俩显露了,他俩就以园里的树叶遮蔽身体。阿丹违背了他们的主,因而迷误了。
122  嗣后,他的主挑选了他,饶恕了他,引导了他。
123  他说:你俩都从乐园降下去!你们将互相仇视。如果正道从我降临你们,那末,谁遵循我的正道,谁不会迷误,也不会倒霉;
124  谁违背我的教诲,谁必过窘迫的生活,复活日我使他在盲目的情况下被集合。
125  他将说:我的主啊!我本来不是盲目的, 你为什么使我在盲目的情况下被集合呢?
126  主将说:事实是这样的,我的迹象降临你,而你遗弃它, 你今天也同样地被遗弃了。
127  凡行为过分而且不信主的迹象者,我都要给他同样的报酬。后世的刑罚,确是更严厉的,确是更常存的。
128  难道他们不知道吗?在他们之前,我曾毁灭了许多世代, 他们常和那些人的故乡往来,对于有理智者,此中确有许多迹象。
129  要不是有一句话从你的主预先发出,要不是有期限,你的主加以预定,那么,(毁灭对于他们)是必然的。
130  你应当忍受他们所说的(谰言),你应当在太阳出落之前赞颂你的主,你应当在夜间和白昼赞颂他,以便你喜悦。
131  你不要觊觎我所用以供给他们中各等人享受的,那是今世生活的浮华,我用来考验他们;你的主的给养,是更好的,是更久的。
132  你应当命令你的信徒们礼拜,你对于拜功,也应当有恒, 我不以给养责成你,我供给你。善果只归于敬畏者。
133  他们说:他怎么不从他的那里拿一种迹象来给我们呢?关于《古兰经》的阐明,难道没有降临他们吗?
134  假若在派遣他之前,我以刑罚毁灭他们,他们必定要说:我们的主啊!你怎么不派遣一个使者来引导我们,以便我们在蒙受卑贱和耻辱之前, 遵守你的迹象呢?
135  你说:我们双方都是等候的,你们等着吧,你们将来就知道谁是履坦途的,谁是循正道的。

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  th.
2  No te hemos revelado el Corán para que padezcas,
3  sino como Recuerdo para quien tiene miedo de Alá,
4  como revelación venida de Quien ha creado la tierra y los altos cielos.
5  El Compasivo se ha instalado en el Trono.
6  Suyo es lo que está en los cielos y en la tierra, entre ellos y bajo tierra.
7  No es preciso que te expreses en voz alta, pues Él conoce lo secreto y lo aún más recóndito.
8  ¡Alá! ¡No hay más dios que Él! Posee los nombres más bellos.
9  ¿Te has enterado de la historia de Moisés?
10  Cuando vio un fuego y dijo a su familia: «¡Quedaos aquí! Distingo un fuego. Quizá pueda yo traeros de él un tizón o encontrar la buena dirección con ayuda del fuego».
11  Cuando llegó al fuego, le llamaron: «¡Moisés!
12  Yo soy, ciertamente, tu Señor. Quítate las sandalias! Estás en el valle sagrado de Tuwa.
13  Y te he escogido Yo. Escucha, pues, lo que se va a revelar.
14  Yo soy, ciertamente, Alá. No hay más dios que Yo. ¡Sírveme, pues, y haz la azalá para recordarme!
15  La Hora llega -estoy por ocultarla- para que cada uno sea retribuido según su esfuerzo.
16  ¡Que no te desvíe de ella quien no cree en ella y sigue su pasión! Si no, ¡perecerás!
17  ¿Qué es eso que tienes en la diestra, Moisés?»
18  «Es mi vara», dijo. «Me apoyo en ella y con ella vareo los árboles para alimentar a mi rebaño. También la empleo para otros usos».
19  Dijo: «¡Tírala, Moisés!»
20  La tiró y he aquí que se convirtió en una serpiente que reptaba.
21  Dijo: «¡Cógela y no temas! Vamos a devolverle su condición primera.
22  ¡Y llévate la mano al costado! Saldrá, blanca, sana – otro signo-.
23  Para mostrarte parte de Nuestros tan grandes signos.
24  ¡Ve a Faraón! Se muestra reacio».
25  Dijo: «¡Señor! ¡Infúndeme ánimo!
26  ¡Facilítame la tarea!
27  ¡Desata un nudo de mi lengua!
28  Así entenderán lo que yo diga.
29  Dame a alguien de mi familia que me ayude:
30  a Aarón, mi hermano.
31  ¡Aumenta con él mi fuerza
32  y asóciale a mi tarea,
33  para que Te glorifiquemos mucho
34  y Te recordemos mucho!
35  Tú nos ves bien».
36  Dijo: «¡Moisés! Tu ruego ha sido escuchado.
37  Ya te agraciamos otra vez.
38  Cuando inspiramos a tu madre lo siguiente:
39  ‘Échalo a esta arqueta y échala al río. El río lo depositará en la orilla. Un enemigo mío y suyo lo recogerá’. He lanzado sobre ti un amor venido de Mí para que seas educado bajo Mi mirada.
40  Cuando tu hermana pasaba por allí y dijo: ‘¿Queréis que os indique a alguien que podría encargarse de él?’. Así te devolvimos a tu madre para que se alegrara y no estuviera triste. Mataste a un hombre, te salvamos de la tribulación y te sometimos a muchas pruebas. Viviste durante años con los madianitas y luego viniste acá, Moisés. cuando estaba determinado.
41  Te he escogido para Mí.
42  ¡Ve! acompañado de tu hermano, con Mis signos, y no descuidéis el recordarme!
43  ¡Id a Faraón! Se muestra rebelde.
44  ¡Hablad con él amablemente! Quizás, así, se deje amonestar o tenga miedo de Alá».
45  Dijeron: «¡Señor! Tememos que la tome con nosotros o que se muestre rebelde».
46  Dijo: «¡No temáis! Yo estoy con vosotros, oyendo y viendo.
47  Id, pues, a él y decid: ‘Somos los enviados de tu Señor. ¡Deja marchar con nosotros a los Hijos de Israel y no les atormentes! Te hemos traído un signo de tu Señor. ¡La paz sobre quien siga la Dirección !’
48  Se nos ha revelado que se infligirá el castigo a quien desmienta o se desvíe».
49  Dijo: «¿Y quién es vuestro Señor, Moisés?»
50  Dijo: «Nuestro Señor es Quien ha dado a todo su forma y, luego, dirigido».
51  Dijo: «¿Y qué ha sido de las genera ciones pasadas?»
52  Dijo: «Mi Señor lo sabe y está en una Escritura. Mi Señor no yerra, ni olvida.
53  Quien os ha puesto la tierra como cuna y os ha trazado en ella caminos y hecho bajar agua del cielo. Mediante ella, hemos sacado toda clase de plantas.
54  ¡Comed y apacentad vuestros rebaños! Hay, en ello, ciertamente, signos para los dotados de entendimiento.
55  Os hemos creado de ella y a ella os devolveremos, para sacaros otra vez de ella».
56  Le mostramos todos Nuestros signos, pero él desmintió y rehusó creer.
57  Dijo: «¡Moisés! ¿Has venido a nosotros para sacarnos de nuestra tierra con tu magia?
58  Hemos de responderte con otra magia igual. ¡Fija entre nosotros y tú una cita, a la que ni nosotros ni tú faltemos, en un lugar a propósito!»
59  Dijo: «Vuestra cita será para el día de la Gran Fiesta. Que la gente sea convocada por la mañana».
60  Faraón se retiró, preparó sus artilugios y acudió.
61  Moisés les dijo: «¡Ay de vosotros! ¡No inventéis mentira contra Alá! Si no, os destruirá con un castigo. Quien invente, sufrirá una decepción».
62  Los magos discutieron entre sí sobre su asunto y mantuvieron secreta la discusión.
63  Dijeron: «En verdad, estos dos son unos magos que, con su magia, quieren sacaros de vuestra tierra y acabar con vuestra eminente doctrina.
64  Preparad vuestros artilugios y, luego, venid uno a uno. ¡Quien gane hoy será feliz!»
65  Dijeron: «¡Moisés! ¿Quién es el primero en tirar? ¿Tú o nosotros?»
66  Dijo: «¡No! ¡Tirad vosotros!» Y he aquí que le pareció que, por efecto de su magia, sus cuerdas y varas echaban a correr.
67  Y Moisés temió en sus adentros.
68  Dijimos: «¡No temas, que ganarás tú!
69  Tira lo que tienes en la diestra y devorará lo que ellos han hecho, que lo que ellos han hecho es sólo artimaña del mago. Y el mago no prosperará, venga de donde venga».
70  Los magos cayeron prosternados. Dijeron: «¡Creemos en el Señor de Aarón y de Moisés!»
71  Dijo: «Le habéis creído antes de que yo os autorizara a ello. Él es vuestro maestro, que os ha enseñado la magia. He de haceros amputar las manos y los pies opuestos y crucificar en troncos de palmera. Así sabréis, ciertamente, quién de nosotros es el que inflige un castigo más cruel y más duradero».
72  Dijeron: «No te preferiremos a ti a las pruebas claras que se nos han ofrecido ni a Quien nos ha creado. Decidas lo que decidas, tú sólo decides sobre la vida de acá.
73  Creemos en nuestro Señor, para que nos perdone nuestros pecados y la magia a que nos has obligado. Alá es mejor y más duradero».
74  Quien viene a su Señor como culpable tendrá la gehena y en ella no podrá morir ni vivir.
75  Quien, al contrario, venga a Él como creyente, después de haber obrado bien, tendrá la categoría más elevada:
76  los jardines del edén, por cuyos bajos fluyen arroyos, en los que estará eternamente. Ésa es la retribución de quien se mantiene puro.
77  Inspiramos a Moisés: «¡Sal de noche con Mis siervos y ábreles un camino seco en el mar! ¡No temas que os alcancen, no tengas miedo!»
78  Faraón les persiguió con sus tropas y las aguas del mar les cubrieron.
79  Faraón había extraviado a su pueblo, no le había dirigido bien.
80  ¡Hijos de Israel! Os hemos salvado de vuestros enemigos y nos hemos dado cita con vosotros en la ladera derecha del monte. Hemos hecho descender sobre vosotros el maná y las codornices:
81  «Comed de lo bueno de que os hemos proveído, pero sin excederos. Si no, me airaré con vosotros». Y aquél que incurre en Mi ira va a la ruina…
82  Yo soy, ciertamente, indulgente con quien se arrepiente, cree, obra bien y, luego, se deja dirigir bien.
83  «¡Moisés! ¿Por qué te has dado tanta prisa en alejarte de tu pueblo?»
84  Dijo: «Son ellos los que me persiguen. Y he corrido hacia Ti, Señor, para complacerte».
85  Dijo: «Hemos probado a tu pueblo después de irte, y el samaritano les ha extraviado».
86  Y Moisés regresó a su pueblo, airado, dolido. Dijo: «¡Pueblo! ¿No os había prometido vuestro Señor algo bello? ¿Es que la alianza os ha resultado demasiado larga o habéis querido que vuestro Señor se aíre con vosotros al faltar a lo que me habéis prometido?»
87  Dijeron: «No hemos faltado por propio impulso a lo que te habíamos prometido, sino que se nos obligó a cargar con las joyas del pueblo y las hemos arrojado. Y lo mismo hizo el samaritano».
88  Éste les sacó un ternero, un cuerpo que mugía, y dijeron: «Este es vuestro dios y el dios de Moisés. Pero ha olvidado».
89  ¿Es que no veían que no les daba ninguna contestación y no podía ni dañarles ni aprovecharles?
90  Ya antes les había dicho Aarón: «¡Pueblo! Sólo se os ha tentado con él. Vuestro Señor es el Compasivo. ¡Seguidme, pues, y obedeced mis órdenes!»
91  Dijeron: «No dejaremos de entregarnos a su culto hasta que Moisés haya regresado».
92  Dijo: «¡Aarón! Cuando has visto que se extraviaban, ¿qué es lo que te ha impedido
93  seguirme? ¿Has desobedecido mis órdenes?»
94  Dijo: «¡Hijo de mi madre! ¡No me cojas por la barba ni por la cabeza! Tenía miedo de que dijeras: Has escindido a los Hijos de Israel y no has observado mi palabra’».
95  Dijo: «¿Qué alegas tú, samaritano?»
96  Dijo: «He visto algo que ellos no han visto. He tomado un puñado del polvo pisado por el enviado y lo he arrojado. Así me lo ha sugerido la imaginación».
97  Dijo: «¡Vete de aquí! En esta vida irás gritando: ‘¡No me toquéis!’ Se te ha fijado una cita a la que no faltarás. ¡Y mira a tu dios, a cuyo culto tanto te has entregado! ¡Hemos de quemarlo y dispersar sus cenizas por el mar!
98  ¡Sólo Alá es vuestro dios, aparte del Cual no hay otro dios! Lo abarca todo en Su ciencia».
99  Así te contamos historias de antaño y te hemos dado una Amonestación de Nosotros.
100  Quien se desvíe de ella llevará una carga el día de la Resurrección,
101  eternamente. ¡Qué carga más pesada tendrán el día de la Resurrección!
102  El día que se toque la trompeta y reunamos a los pecadores, ese día, ojizarcos,
103  diciéndose unos a otros por lo bajo: «No habéis permanecido sino diez días».
104  Sabemos bien lo que dirán cuando el que más se distinga por su buena conducta diga: «No habéis permanecido sino un día».
105  Te preguntarán por las montañas. Di: «Señor las reducirá a polvo y aventará.
106  Las dejará cual llano nivelado,
107  en el que no se verán depresiones ni elevaciones».
108  Ese día, seguirán al Pregonero, que no se desviará. Bajarán las voces ante el Compasivo y no se oirá sino un susurro de pasos.
109  Ese día no aprovechará más intercesión que la de aquél que cuente con la autorización del Compasivo, de aquél cuyas palabras Él acepte.
110  Conoce su pasado y su futuro mientras que ellos no pueden abarcarlos en su ciencia.
111  Los rostros se humillarán ante el Viviente, el Subsistente. Quien se haya cargado de impiedad, sufrirá una decepción
112  Quien, en cambio, obra bien, siendo creyente, no tiene por qué temer injusticia ni opresión.
113  Así la hemos revelado como Corán árabe. Hemos expuesto en él amenazas. Quizás, así, Nos teman o les sirva de amonestación.
114  ¡Exaltado sea Alá, el Rey verdadero! ¡No te precipites en la Recitación antes de que te sea revelada por entero! Y di: «¡Señor! ¡Aumenta mi ciencia!»
115  Habíamos concertado antes una alianza con Adán, pero olvidó y no vimos en él resolución.
116  Y cuando dijimos a los ángeles: «¡Prosternaos ante Adán!» Se prosternaron, excepto Iblis, que se negó.
117  Dijimos: «¡Adán! Éste es un enemigo para ti y para tu esposa ¡Que no os expulse del Jardín; si no, serás desgraciado!
118  En él, no debes sufrir hambre ni desnudez,
119  ni sed, ni ardor del sol».
120  Pero el Demonio le insinuó el mal. Dijo: «¡Adán! ¿Te indico el árbol de la inmortalidad y de un dominio imperecedero?»
121  Comieron de él, se les reveló su desnudez y comenzaron a cubrirse con hojas del Jardín. Adán desobedeció a su Señor y se descarrió.
122  Luego, su Señor le escogió. le perdonó y le puso en la buena dirección.
123  Dijo: «¡Descended ambos de él! ¡Todos! ¡Seréis enemigos unos de otros. Si, pues, recibís de Mí una dirección, quien siga Mi dirección no se extraviará y no será desgraciado.
124  Pero quien no siga Mi Amonestación llevará una existencia miserable y le resucitaremos, ciego, el día de la Resurrección».
125  Dirá: «¡Señor! ¿Por qué me has resucitado ciego, siendo así que antes veía?»
126  Dirá: «Igual que tú recibiste Nuestros signos y los olvidaste, así hoy eres olvidado».
127  Así retribuiremos a quien haya cometido excesos y no haya creído en los signos de su Señor. Y el castigo de la otra vida será más cruel y más duradero.
128  ¿Es que no les dice nada que hayamos hecho perecer a tantas generaciones precedentes, cuyas viviendas huellan ellos ahora? Ciertamente, hay en ello signos para los dotados de entendimiento.
129  Si no llega a ser por una palabra previa de tu Señor y no hubiera sido prefijado el plazo, habría sido ineludible.
130  ¡Ten paciencia, pues, con lo que dicen y celebra las alabanzas de tu Señor antes de la salida del sol y antes de su puesta! ¡Glorifícale durante las horas de la noche y en las horas extremas del día! Quizás, así, quedes satisfecho.
131  Y no codicies los goces efímeros que hemos concedido a algunos de ellos, brillo de la vida de acá, con objeto de probarles con ellos. El sustento de tu Señor es mejor y más duradero.
132  ¡Prescribe a tu gente la azalá y persevera en ella! No te pedimos sustento. Somos Nosotros Quienes te sustentamos. El buen fin está destinado a los que temen a Alá.
133  Dicen: «¿Por qué no nos trae un signo de su Señor?» Pero ¿es que no han recibido prueba clara de lo que contienen las Hojas primeras?
134  Si les Hubiéramos hecho perecer antes con un castigo, habrían dicho: «¡Señor! ¿Por qué no nos has mandado un enviado? Habríamos seguido Tus signos antes de ser humillados y confundidos».
135  Di: «Todos esperan. ¡Esperad, pues! Ya veréis quién sigue la vía llana y quién sigue la buena dirección».