Project Description

AL ANAM

 شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱  ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور روشنی بنائی پھر بھی کافر (اور چیزوں کو) خدا کے برابر ٹھیراتے ہیں
۲  وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر (مرنے کا) ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک مدت اس کے ہاں اور مقرر ہے پھر بھی تم (اے کافرو خدا کے بارے میں) شک کرتے ہو
۳  اور آسمانوں اور زمین میں وہی (ایک) خدا ہے تمہاری پوشیدہ اور ظاہر سب باتیں جانتا ہے اور تم جو عمل کرتے ہو سب سے واقف ہے
۴  اور خدا کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان لوگوں کے پاس نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں
۵  جب ان کے پاس حق آیا تو اس کو بھی جھٹلا دیا سو ان کو ان چیزوں کا جن سے یہ استہزا کرتے ہیں عنقریب انجام معلوم ہو جائے گا
۶  کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کے پاؤں ملک میں ایسے جما دیئے تھے کہ تمہارے پاؤں بھی ایسے نہیں جمائے اور ان پر آسمان سے لگاتار مینہ برسایا اور نہریں بنا دیں جو ان کے (مکانوں کے) نیچے بہہ رہی تھیں پھر ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر دیا اور ان کے بعد اور امتیں پیدا کر دیں
۷  اور اگر ہم تم پر کاغذوں پر لکھی ہوئی کتاب نازل کرتے اور یہ اسے اپنے ہاتھوں سے بھی ٹٹول لیتے تو جو کافر ہیں وہ یہی کہہ دیتے کہ یہ تو (صاف اور) صریح جادو ہے
۸  اور کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا (جو ان کی تصدیق کرتا) اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو کام ہی فیصل ہو جاتا پھر انھیں (مطلق) مہلت نہ دی جاتی
۹  نیز اگر ہم کسی فرشتہ کو بھیجتے تو اسے مرد کی صورت میں بھیجتے اور جو شبہ (اب) کرتے ہیں اسی شبے میں پھر انہیں ڈال دیتے
۱۰  اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں سو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو تمسخر کی سزا نے آگھیرا
۱۱  کہو کہ (اے منکرین رسالت) ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا
۱۲  (ان سے) پوچھو کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے کس کا ہے کہہ دو خدا کا اس نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کر لیا ہے وہ تم سب کو قیامت کے دن جس میں کچھ بھی شک نہیں ضرور جمع کرے گا جن لوگوں نے اپنے تیئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے
۱۳  اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے اور وہ سنتا جانتا ہے
۱۴  کہو کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو مددگار بناؤں کہ (وہی تو) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی (سب کو) کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا (یہ بھی) کہہ دو کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں اور یہ کہ تم (اے پیغمبر!) مشرکوں میں نہ ہونا
۱۵  (یہ بھی) کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے
۱۶  جس شخص سے اس روز عذاب ٹال دیا گیا اس پر خدا نے (بڑی) مہربانی فرمائی اور یہ کھلی کامیابی ہے
۱۷  اور اگر خدا تم کو کوئی سختی پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت (وراحت) عطا کرے تو (کوئی اس کو روکنے والا نہیں) وہ ہر چیز پر قادر ہے
۱۸  اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ دانا اور خبردار ہے
۱۹  ان سے پوچھو کہ سب سے بڑھ کر (قرین انصاف) کس کی شہادت ہے کہہ دو کہ خدا ہی مجھ میں اور تم میں گواہ ہے اور یہ قرآن مجھ پر اس لیے اتارا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سے تم کو اور جس شخص تک وہ پہنچ سکے آگاہ کردوں کیا تم لوگ اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ اور بھی معبود ہیں (اے محمدﷺ!) کہہ دو کہ میں تو (ایسی) شہادت نہیں دیتا کہہ دو کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور جن کو تم لوگ شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں
۲۰  جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان (ہمارے پیغمبرﷺ) کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں جنہوں نے اپنے تئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے
۲۱  اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ افتراء کیا یا اس کی آیتوں کو جھٹلایا۔ کچھ شک نہیں کہ ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گے
۲۲  اور جس دن ہم سب لوگوں کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے پوچھیں گے کہ (آج) وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تمہیں دعویٰ تھا
۲۳  تو ان سے کچھ عذر نہ بن پڑے گا (اور) بجز اس کے (کچھ چارہ نہ ہوگا) کہ کہیں خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے
۲۴  دیکھو انہوں نے اپنے اوپر کیسا جھوٹ بولا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہا
۲۵  اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری (باتوں کی) طرف کان رکھتے ہیں۔ اور ہم نے ان کے دلوں پر تو پردے ڈال دیئے ہیں کہ ان کو سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے (کہ سن نہ سکیں) اور اگر یہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں۔ یہاں تک کہ جب تمہارے پاس تم سے بحث کرنے کو آتے ہیں تو جو کافر ہیں کہتے ہیں یہ (قرآن) اور کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں
۲۶  وہ اس سے (اوروں کو بھی) روکتے ہیں اور خود بھی پرے رہتے ہیں مگر (ان باتوں سے) اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور (اس سے) بےخبر ہیں
۲۷  کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ اے کاش ہم پھر (دنیا میں) لوٹا دیئے جائیں تاکہ اپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور مومن ہوجائیں
۲۸  ہاں یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے (آج) ان پر ظاہر ہوگیا ہے اور اگر یہ (دنیا میں) لوٹائے بھی جائیں تو جن (کاموں) سے ان کو منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگیں۔کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں
۲۹  اور کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کئے جائیں گے
۳۰  اور کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کےسامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ فرمائےگا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب (کے مزے) چکھو
۳۱  جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے
۳۲  اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور مشغولہ ہے۔ اور بہت اچھا گھر تو آخرت کا گھر ہے (یعنی) ان کے لئے جو (خدا سے) ڈرتے ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں
۳۳  ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں
۳۴  اور تم سے پہلے کبھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)
۳۵  اور اگر ان کی روگردانی تم پر شاق گزرتی ہے تو اگر طاقت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈ نکالو یا آسمان میں سیڑھی (تلاش کرو) پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔ اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا
۳۶  بات یہ ہے کہ (حق کو) قبول وہی کرتے ہیں جو سنتے بھی ہیں اور مردوں کو تو خدا (قیامت ہی کو) اٹھائے گا۔ پھر اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے
۳۷  اور کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگارکے پاس کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ خدا نشانی اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
۳۸  اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو پروں سے اڑنے والا جانور ہے ان کی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز (کے لکھنے) میں کوتاہی نہیں کی پھر سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائیں گے
۳۹  اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اس کے علاوہ) اندھیرے میں (پڑے ہوئے) جس کو خدا چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھے رستے پر چلا دے
۴۰  کہو (کافرو) بھلا دیکھو تو اگر تم پر خدا کا عذاب آجائےیا قیامت آموجود ہو تو کیا تم (ایسی حالت میں) خدا کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اگر سچے ہو (تو بتاؤ)
۴۱  بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو۔ وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انہیں بھول جاتے ہو
۴۲  اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ پھر (ان کی نافرمانیوں کے سبب) ہم انہیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں
۴۳  تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو وہ کام کرتے تھے شیطان ان کو (ان کی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا
۴۴  پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو ان کو کے گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑ لیا اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے
۴۵  غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)
۴۶  (ان کافروں سے) کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا تمہارے کان اور آنکھیں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگادے تو خداکے سوا کون سا معبود ہے جو تمہیں یہ نعمتیں پھر بخشے؟ دیکھو ہم کس کس طرح اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں۔ پھر بھی یہ لوگ ردگردانی کرتے ہیں
۴۷  کہو کہ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر خدا کا عذاب بےخبری میں یا خبر آنے کے بعد آئے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا؟
۴۸  اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجتے رہے ہیں تو خوشخبری سنانے اور ڈرانے کو پھر جو شخص ایمان لائے اور نیکوکار ہوجائے تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ اندوہناک ہوں گے
۴۹  اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی نافرمانیوں کے سبب انہیں عذاب ہوگا
۵۰  کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے۔ کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والے برابر ہوتے ہیں؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے
۵۱  اور جو لوگ جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا، ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کر دو تاکہ پرہیزگار بنیں
۵۲  اور جو لوگ صبح وشام اپنی پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے
۵۳  اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ (جو دولتمند ہیں وہ غریبوں کی نسبت) کہتے ہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم میں سے فضل کیا ہے (خدا نے فرمایا) بھلا خدا شکر کرنے والوں سے واقف نہیں؟
۵۴  اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو (ان سے) سلام علیکم کہا کرو خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے
۵۵  اور اس طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ تم لوگ ان پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گنہگاروں کا رستہ ظاہر ہوجائے
۵۶  (اے پیغمبر! کفار سے) کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کروں گا ایسا کروں تو گمراہ ہوجاؤں اور ہدایت یافتہ لوگوں میں نہ رہوں
۵۷  کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار کی دلیل روشن پر ہوں اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ جس چیز (یعنی عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو وہ میرے پاس نہیں ہے (ایسا) حکم الله ہی کے اختیار میں ہے وہ سچی بات بیان فرماتا ہے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
۵۸  کہہ دو کہ جس چیز کے لئے تم جلدی کر رہے ہو اگر وہ میرے اختیار میں ہوتی تو مجھ میں اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے
۵۹  اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اسے جنگلوں اور دریاؤں کی سب چیزوں کا علم ہے۔ اور کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے
۶۰  اور وہی تو ہے جو رات کو (سونے کی حالت میں) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ (یہی سلسلہ جاری رکھ کر زندگی کی) معین مدت پوری کردی جائے پھر تم (سب) کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو تم کرتے ہو (ایک ایک کرکے) بتائے گا
۶۱  اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے
۶۲  پھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے۔ سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ نہایت جلد حساب لینے والا ہے
۶۳  کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اسے عاجزی اور نیاز پنہانی سے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) اگر خدا ہم کو اس (تنگی) سے نجات بخشے تو ہم اس کے بہت شکر گزار ہوں
۶۴  کہو کہ خدا ہی تم کو اس (تنگی) سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے۔ پھر (تم) اس کے ساتھ شرک کرتے ہو
۶۵  کہہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں
۶۶  اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سراسر حق ہے۔ کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں
۶۷  ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا
۶۸  اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بیہودہ بکواس کر رہے ہوں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں۔ اور اگر (یہ بات) شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو
۶۹  اور پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب کی کچھ بھی جواب دہی نہیں ہاں نصیحت تاکہ وہ بھی پرہیزگار ہوں
۷۰  اور جن لوگوں نے اپنےدین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کےسوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب ہے اس لئے کہ کفر کرتے تھے
۷۱  کہو۔ کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکے نہ برا۔ اور جب ہم کو خدا نے سیدھا رستہ دکھا دیا تو (کیا) ہم الٹے پاؤں پھر جائیں؟ (پھر ہماری ایسی مثال ہو) جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو (اور وہ) حیران (ہو رہا ہو) اور اس کے کچھ رفیق ہوں جو اس کو رستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ۔ کہہ دو کہ رستہ تو وہی ہے جو خدا نے بتایا ہے۔ اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم خدائے رب العالمین کے فرمانبردار ہوں
۷۲  اور یہ (بھی) کہ نماز پڑھتے رہو اور اس سے ڈرتے رہو۔ اور وہی تو ہے جس کے پاس تم جمع کئے جاؤ گے
۷۳  اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہو جا تو (حشر برپا) ہوجائے گا ۔ اس کا ارشاد برحق ہے۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) اسی کی بادشاہت ہوگی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہی دانا اور خبردار ہے
۷۴  اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہو
۷۵  اور ہم اس طرح ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں
۷۶  (یعنی) جب رات نے ان کو (پردہٴ تاریکی سے) ڈھانپ لیا (تو آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانے والے پسند نہیں
۷۷  پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ نہیں دکھائے گا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں
۷۸  پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے لوگو! جن چیزوں کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں
۷۹  میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں
۸۰  اور ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارےمیں (کیا) بحث کرتے ہو اس نے تو مجھے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے۔ اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار چاہے۔ میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم خیال نہیں کرتے۔
۸۱  بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکرڈروں جب کہ تم اس سے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریق میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ)
۸۲  جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے امن (اور جمعیت خاطر) ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں
۸۳  اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے
۸۴  اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے۔ (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں
۸۵  اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی۔ یہ سب نیکوکار تھے
۸۶  اور اسمٰعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی۔ اور ان سب کو جہان کے لوگوں پر فضلیت بخشی تھی
۸۷  اور بعض بعض کو ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بھی۔ اور ان کو برگزیدہ بھی کیا تھا اور سیدھا رستہ بھی دکھایا تھا
۸۸  یہ خدا کی ہدایت ہے اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے چلائے۔ اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے
۸۹  یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم (شریعت) اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ (کفار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر (ایمان لانے کے لئے) ایسے لوگ مقرر کردیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنے والے نہیں
۹۰  یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی تھی تو تم انہیں کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لئےمحض نصیحت ہے
۹۱  اور ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہیئے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور کتاب وغیرہ) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو جو کتاب موسیٰ لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی اور جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے ان (کے کچھ حصے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب کو) خدا ہی نے (نازل کیا تھا) پھر ان کو چھوڑ دیا کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں
۹۲  اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اس لئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی پوری خبر رکھتے ہیں
۹۳  اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے۔ یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور جو یہ کہے کہ جس طرح کی کتاب خدا نے نازل کی ہے اس طرح کی میں بھی بنا لیتا ہوں۔ اور کاش تم ان ظالم (یعنی مشرک) لوگوں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں اور فرشتے (ان کی طرف عذاب کے لئے) ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں۔ آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اس لئے کہ تم خدا پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے
۹۴  اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال ومتاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہیں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے
۹۵  بے شک خدا ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر (ان سے درخت وغیرہ) اگاتا ہے وہی جاندار کو بے جان سے نکالتا ہے اور وہی بےجان کا جاندار سے نکالنے والا ہے۔ یہی تو خدا ہے۔ پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو
۹۶  وہی (رات کے اندھیرے سے) صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے اور اسی نے رات کو (موجب) آرام (ٹھہرایا) اور سورج اور چاند کو (ذرائع) شمار بنایا ہے۔ یہ خدا کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں جو غالب (اور) علم والا ہے
۹۷  اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے رستے معلوم کرو۔ عقل والوں کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں
۹۸  اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی سمجھنے والوں کے لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں
۹۹  اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینھ برساتا ہے۔ پھر ہم ہی (جو مینھ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں۔ پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں۔ اور ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں۔ اور نہیں بھی ملتے۔ یہ چیزیں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور (جب پکتی ہیں تو) ان کے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں
۱۰۰  اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا۔ حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بےسمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے اور (اس کی شان ان سے) بلند ہے
۱۰۱  (وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (ہے) ۔ اس کے اولاد کہاں سے ہو جب کہ اس کی بیوی ہی نہیں۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے
۱۰۲  یہی (اوصاف رکھنے والا) خدا تمہارا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی) ہر چیز کا پیداکرنے والا (ہے) تو اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کا نگراں ہے
۱۰۳  (وہ ایسا ہے کہ) نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے اور وہ بھید جاننے والا خبردار ہے
۱۰۴  (اے محمدﷺ! ان سے کہہ دو کہ) تمہارے (پاس) پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیلیں پہنچ چکی ہیں تو جس نے (ان کو آنکھ کھول کر) دیکھا اس نے اپنا بھلا کیا اور جو اندھا بنا رہا اس نے اپنے حق میں برا کیا۔ اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں
۱۰۵  اور ہم اسی طرح اپنی آیتیں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ کافر یہ نہ کہیں کہ تم (یہ باتیں اہل کتاب سے) سیکھے ہوئے ہو اور تاکہ سمجھنے والے لوگوں کے لئے تشریح کردیں
۱۰۶  اور جو حکم تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آتا ہے اسی کی پیروی کرو۔ اس (پروردگار) کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور مشرکوں سے کنارہ کرلو
۱۰۷  اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم کو ان پر نگہبان مقرر نہیں کیا۔ اور نہ تم ان کے داروغہ ہو
۱۰۸  اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (ان کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار ک طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے
۱۰۹  اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ اس پر ضروری ایمان لے آئیں۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو سب خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور (مومنو!) تمہیں کیا معلوم ہے (یہ تو ایسے بدبخت ہیں کہ ان کے پاس) نشانیاں آ بھی جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں
۱۱۰  اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے) اور ان کو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں
۱۱۱  اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود بھی کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے اِلّا ماشائالله بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں
۱۱۲  اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں اسے چھوڑ دو
۱۱۳  اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انہیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ہی کرنے لگیں
۱۱۴  (کہو) کیا میں خدا کے سوا اور منصف تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہاری طرف واضع المطالب کتاب بھیجی ہے اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا
۱۱۵  اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے
۱۱۶  اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں خدا کا رستہ بھلا دیں گے یہ محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں
۱۱۷  تمہارا پروردگار ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چل رہے ہیں
۱۱۸  تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھا لیا کرو
۱۱۹  اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے
۱۲۰  اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح کا) گناہ ترک کر دو جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کئے کی سزا پائیں گے
۱۲۱  اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے
۱۲۲  بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کر دی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی نہ سکے اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انہیں اچھے معلوم ہوتے ہیں
۱۲۳  اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کئے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہیں کو ہے اور (اس سے) بےخبر ہیں
۱۲۴  اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذابِ شدید ہوگا اس لیے کہ مکّاریاں کرتے تھے
۱۲۵  تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے
۱۲۶  اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں
۱۲۷  ان کے لیے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا دوستدار ہے
۱۲۸  اور جس دن وہ سب (جنّ وانس) کو جمع کرے گا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جنّات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے تو جو انسانوں میں ان کے دوستدار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے
۱۲۹  اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں
۱۳۰  اے جنّوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ان لوگوں کو دنیاکی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے
۱۳۱  (اے محمدﷺ!) یہ (جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں تو) اس لیے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے رہنے والوں کو (کچھ بھی) خبر نہ ہو
۱۳۲  اور سب لوگوں کے بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بے خبر نہیں
۱۳۳  اور تمہارا پروردگار بےپروا (اور) صاحب رحمت ہے اگر چاہے (تو اے بندوں) تمہیں نابود کر دے اور تمہارے بعد جن لوگوں کو چاہے تمہارا جانشین بنا دے جیسا تم کو بھی دوسرے لوگوں کی نسل سے پیدا کیا ہے
۱۳۴  کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ (وقوع میں) آنے والا ہے اور تم (خدا کو) مغلوب نہیں کر سکتے
۱۳۵  کہہ دو کہ لوگو تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کئے جاتا ہوں عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا کہ آخرت میں (بہشت) کس کا گھر ہوگا کچھ شک نہیں کہ مشرک نجات نہیں پانے کے
۱۳۶  اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا تو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جا سکتا اور جو حصہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جا سکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے
۱۳۷  اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچوں کو جان سے مار ڈالنا اچھا کر دکھایا ہے تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کر دیں اور اگر خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ
۱۳۸  اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چارپائے اور کھیتی منع ہے اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چارپائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹ پر چڑھنا منع کر دیا گیا ہے اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے سب خدا پر جھوٹ ہے وہ عنقریب ان کو ان کے جھوٹ کا بدلہ دے گا
۱۳۹  اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے اور اگر وہ بچہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکوسلوں کی سزا دے گا بےشک وہ حکمت والا خبردار ہے
۱۴۰  جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی سے بے سمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کر کے اس کی عطا فرمائی کی ہوئی روزی کو حرام ٹہرایا وہ گھاٹے میں پڑ گئے وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں
۱۴۱  اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا
۱۴۲  اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی (پس) خدا کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا صریح دشمن ہے
۱۴۳  (یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو) بھیڑوں میں سے اور دو (دو) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ
۱۴۴  اور دو (دو) اونٹوں میں سے اور دو (دو) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے تاکہ اِز راہ بے دانشی لوگوں کو گمراہ کرے کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
۱۴۵  کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
۱۴۶  اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گایوں اور بکریوں سے ان کی چربی حرام کر دی تھی سوا اس کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا اوجھڑی میں ہو یا ہڈی میں ملی ہو یہ سزا ہم نے ان کو ان کی شرارت کے سبب دی تھی اور ہم تو سچ کہنے والے ہیں
۱۴۷  اور اگر یوں لوگ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو تمہارا پروردگار صاحب رحمت وسیع ہے مگر اس کا عذاب گنہ گاروں لوگوں سے نہیں ٹلے گا
۱۴۸  جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے اسی طرح ان لوگوں نے تکذیب کی تھی جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ کر رہے کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے (اگر ہے) تو اسے ہمارے سامنے نکالو تم محض خیال کے پیچھے چلتے اور اٹکل کی تیر چلاتے ہو
۱۴۹  کہہ دو کہ خدا ہی کی حجت غالب ہے اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا
۱۵۰  کہو کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو بتائیں کہ خدا نے یہ چیزیں حرام کی ہیں پھر اگر وہ (آ کر) گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور نہ ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور (بتوں کو) اپنے پروردگار کے برابر ٹھہراتے ہیں
۱۵۱  کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ (سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بےحیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان (والے) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
۱۵۲  اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتہ دار ہی ہو اور خدا کے عہد کو پورا کرو ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم نصحیت کرو
۱۵۳  اور یہ کہ میرا سیدھا رستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور اور رستوں پر نہ چلنا کہ (ان پر چل کر) خدا کے رستے سے الگ ہو جاؤ گے ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو
۱۵۴  (ہاں) پھر (سن لو کہ) ہم نے موسیؑ کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان لوگوں پر جو نیکوکار ہیں نعمت پوری کر دیں اور (اس میں) ہر چیز کا بیان (ہے) اور ہدایت (ہے) اور رحمت ہے تاکہ (ان کی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے رُوبرو حاضر ہونے کا یقین کریں
۱۵۵  اور (اے کفر کرنے والوں) یہ کتاب بھی ہمیں نے اتاری ہے برکت والی تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے
۱۵۶  (اور اس لیے اتاری ہے) کہ (تم یوں نہ) کہو کہ ہم سے پہلے دو ہی گروہوں پر کتابیں اتری تھیں اور ہم ان کے پڑھنے سے (معذور اور) بےخبر تھے
۱۵۷  یا (یہ نہ) کہو کہ اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں کی نسبت کہیں سیدھے رستے پر ہوتے سو تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آ گئی ہے تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرے اور ان سے (لوگوں کو) پھیرے جو لوگ ہماری آیتوں سے پھیرتے ہیں اس پھیرنے کے سبب ہم ان کو برے عذاب کی سزا دیں گے
۱۵۸  یہ اس کے سوا اور کس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود تمہارا پروردگار آئے یا تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آئیں (مگر) جس روز تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا یا اپنے ایمان (کی حالت) میں نیک عمل نہیں کئے ہوں گے (تو گناہوں سے توبہ کرنا مفید نہ ہوگا اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں
۱۵۹  جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) رستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہو گئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا
۱۶۰  اور جو کوئی (خدا کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسے ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
۱۶۱  کہہ دو کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے (یعنی دین صحیح) مذہب ابراہیم کا جو ایک (خدا) ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
۱۶۲  (یہ بھی) کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خدائے رب العالمین ہی کے لیے ہے
۱۶۳  جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی بات کا حکم ملا ہے اور میں سب سے اول فرمانبردار ہوں
۱۶۴  کہو کیا میں خدا کے سوا اور پروردگار تلاش کروں اور وہی تو ہر چیز کا مالک ہے اور جو کوئی (برا) کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی کو ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کا جانا ہے تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا
۱۶۵  اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش ہے بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور بےشک وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

١  الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ۖ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ
٢  هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ طِينٍ ثُمَّ قَضَىٰ أَجَلًا ۖ وَأَجَلٌ مُسَمًّى عِنْدَهُ ۖ ثُمَّ أَنْتُمْ تَمْتَرُونَ
٣  وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ ۖ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ
٤  وَمَا تَأْتِيهِمْ مِنْ آيَةٍ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ
٥  فَقَدْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ ۖ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنْبَاءُ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
٦  أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَكُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاءَ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا وَجَعَلْنَا الْأَنْهَارَ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ وَأَنْشَأْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ
٧  وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَابًا فِي قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ
٨  وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ ۖ وَلَوْ أَنْزَلْنَا مَلَكًا لَقُضِيَ الْأَمْرُ ثُمَّ لَا يُنْظَرُونَ
٩  وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا لَجَعَلْنَاهُ رَجُلًا وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِمْ مَا يَلْبِسُونَ
١٠  وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
١١  قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
١٢  قُلْ لِمَنْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ قُلْ لِلَّهِ ۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
١٣  وَلَهُ مَا سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
١٤  قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ ۗ قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ ۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
١٥  قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
١٦  مَنْ يُصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ
١٧  وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِنْ يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
١٨  وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
١٩  قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً ۖ قُلِ اللَّهُ ۖ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۚ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّهِ آلِهَةً أُخْرَىٰ ۚ قُلْ لَا أَشْهَدُ ۚ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ
٢٠  الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمُ ۘ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
٢١  وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ ۗ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
٢٢  وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا أَيْنَ شُرَكَاؤُكُمُ الَّذِينَ كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ
٢٣  ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
٢٤  انْظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ ۚ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ
٢٥  وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ ۖ وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا ۚ وَإِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا ۚ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوكَ يُجَادِلُونَكَ يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ
٢٦  وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ ۖ وَإِنْ يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
٢٧  وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
٢٨  بَلْ بَدَا لَهُمْ مَا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
٢٩  وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ
٣٠  وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ قَالَ أَلَيْسَ هَٰذَا بِالْحَقِّ ۚ قَالُوا بَلَىٰ وَرَبِّنَا ۚ قَالَ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ
٣١  قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوا يَا حَسْرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَىٰ ظُهُورِهِمْ ۚ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ
٣٢  وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ ۖ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
٣٣  قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ ۖ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
٣٤  وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّىٰ أَتَاهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ۚ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَبَإِ الْمُرْسَلِينَ
٣٥  وَإِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُمْ بِآيَةٍ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَىٰ ۚ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْجَاهِلِينَ
٣٦  إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ ۘ وَالْمَوْتَىٰ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
٣٧  وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِنْ رَبِّهِ ۚ قُلْ إِنَّ اللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَنْ يُنَزِّلَ آيَةً وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
٣٨  وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ ۚ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ
٣٩  وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِي الظُّلُمَاتِ ۗ مَنْ يَشَإِ اللَّهُ يُضْلِلْهُ وَمَنْ يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
٤٠  قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
٤١  بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَاءَ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ
٤٢  وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَأَخَذْنَاهُمْ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ
٤٣  فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَٰكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
٤٤  فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّىٰ إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ
٤٥  فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا ۚ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
٤٦  قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ مَنْ إِلَٰهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُمْ بِهِ ۗ انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ
٤٧  قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ بَغْتَةً أَوْ جَهْرَةً هَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الظَّالِمُونَ
٤٨  وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ ۖ فَمَنْ آمَنَ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
٤٩  وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
٥٠  قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ
٥١  وَأَنْذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْ يُحْشَرُوا إِلَىٰ رَبِّهِمْ ۙ لَيْسَ لَهُمْ مِنْ دُونِهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
٥٢  وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ
٥٣  وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِيَقُولُوا أَهَٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِنَا ۗ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ
٥٤  وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ۖ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۖ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ
٥٥  وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ
٥٦  قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۚ قُلْ لَا أَتَّبِعُ أَهْوَاءَكُمْ ۙ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ
٥٧  قُلْ إِنِّي عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَكَذَّبْتُمْ بِهِ ۚ مَا عِنْدِي مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ ۚ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ يَقُصُّ الْحَقَّ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الْفَاصِلِينَ
٥٨  قُلْ لَوْ أَنَّ عِنْدِي مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِيَ الْأَمْرُ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۗ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ
٥٩  وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
٦٠  وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰ أَجَلٌ مُسَمًّى ۖ ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
٦١  وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ۖ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ
٦٢  ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ ۚ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ
٦٣  قُلْ مَنْ يُنَجِّيكُمْ مِنْ ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً لَئِنْ أَنْجَانَا مِنْ هَٰذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ
٦٤  قُلِ اللَّهُ يُنَجِّيكُمْ مِنْهَا وَمِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ أَنْتُمْ تُشْرِكُونَ
٦٥  قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَىٰ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ ۗ انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ
٦٦  وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ ۚ قُلْ لَسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ
٦٧  لِكُلِّ نَبَإٍ مُسْتَقَرٌّ ۚ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
٦٨  وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
٦٩  وَمَا عَلَى الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَلَٰكِنْ ذِكْرَىٰ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
٧٠  وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ وَذَكِّرْ بِهِ أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ وَإِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَا يُؤْخَذْ مِنْهَا ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِمَا كَسَبُوا ۖ لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ
٧١  قُلْ أَنَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۖ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ
٧٢  وَأَنْ أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَاتَّقُوهُ ۚ وَهُوَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
٧٣  وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۖ وَيَوْمَ يَقُولُ كُنْ فَيَكُونُ ۚ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۚ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ ۚ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
٧٤  وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
٧٥  وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ
٧٦  فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَىٰ كَوْكَبًا ۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ
٧٧  فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ
٧٨  فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَٰذَا رَبِّي هَٰذَا أَكْبَرُ ۖ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ
٧٩  إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
٨٠  وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ ۚ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِ ۚ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا ۗ وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۗ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ
٨١  وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُمْ بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا ۚ فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ ۖ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
٨٢  الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ
٨٣  وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
٨٤  وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ۚ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ ۖ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَارُونَ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
٨٥  وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّ مِنَ الصَّالِحِينَ
٨٦  وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا ۚ وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ
٨٧  وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ ۖ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
٨٨  ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
٨٩  أُولَٰئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ۚ فَإِنْ يَكْفُرْ بِهَا هَٰؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ
٩٠  أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْعَالَمِينَ
٩١  وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٍ مِنْ شَيْءٍ ۗ قُلْ مَنْ أَنْزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَىٰ نُورًا وَهُدًى لِلنَّاسِ ۖ تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا ۖ وَعُلِّمْتُمْ مَا لَمْ تَعْلَمُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ ۖ قُلِ اللَّهُ ۖ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ
٩٢  وَهَٰذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا ۚ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَهُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ
٩٣  وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَنْ قَالَ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ ۗ وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ ۖ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ
٩٤  وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُمْ مَا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ ۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاءُ ۚ لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَا كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ
٩٥  إِنَّ اللَّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَىٰ ۖ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ
٩٦  فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
٩٧  وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۗ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
٩٨  وَهُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ ۗ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ
٩٩  وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُتَرَاكِبًا وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَجَنَّاتٍ مِنْ أَعْنَابٍ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۗ انْظُرُوا إِلَىٰ ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكُمْ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
١٠٠  وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ ۖ وَخَرَقُوا لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَصِفُونَ
١٠١  بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ ۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
١٠٢  ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ
١٠٣  لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ
١٠٤  قَدْ جَاءَكُمْ بَصَائِرُ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا ۚ وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظٍ
١٠٥  وَكَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
١٠٦  اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ
١٠٧  وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكُوا ۗ وَمَا جَعَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ۖ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ
١٠٨  وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ كَذَٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ مَرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
١٠٩  وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۚ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِنْدَ اللَّهِ ۖ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ
١١٠  وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ
١١١  وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ
١١٢  وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ۚ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ
١١٣  وَلِتَصْغَىٰ إِلَيْهِ أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا مَا هُمْ مُقْتَرِفُونَ
١١٤  أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا ۚ وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِنْ رَبِّكَ بِالْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
١١٥  وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا ۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
١١٦  وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ
١١٧  إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَنْ يَضِلُّ عَنْ سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
١١٨  فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتُمْ بِآيَاتِهِ مُؤْمِنِينَ
١١٩  وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا لَيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ
١٢٠  وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا يَقْتَرِفُونَ
١٢١  وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ ۗ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ
١٢٢  أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
١٢٣  وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا فِيهَا ۖ وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنْفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
١٢٤  وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّهِ ۘ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ۗ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِنْدَ اللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ
١٢٥  فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ ۖ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ اللَّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ
١٢٦  وَهَٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًا ۗ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ
١٢٧  لَهُمْ دَارُ السَّلَامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۖ وَهُوَ وَلِيُّهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
١٢٨  وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِنَ الْإِنْسِ ۖ وَقَالَ أَوْلِيَاؤُهُمْ مِنَ الْإِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِي أَجَّلْتَ لَنَا ۚ قَالَ النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِيهَا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
١٢٩  وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
١٣٠  يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي وَيُنْذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا ۚ قَالُوا شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنْفُسِنَا ۖ وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَشَهِدُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ
١٣١  ذَٰلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَىٰ بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غَافِلُونَ
١٣٢  وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِمَّا عَمِلُوا ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ
١٣٣  وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ ۚ إِنْ يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِكُمْ مَا يَشَاءُ كَمَا أَنْشَأَكُمْ مِنْ ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ آخَرِينَ
١٣٤  إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَآتٍ ۖ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ
١٣٥  قُلْ يَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ ۗ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
١٣٦  وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَٰذَا لِشُرَكَائِنَا ۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَائِهِمْ ۗ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
١٣٧  وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَادِهِمْ شُرَكَاؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُوا عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ ۖ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ
١٣٨  وَقَالُوا هَٰذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لَا يَطْعَمُهَا إِلَّا مَنْ نَشَاءُ بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَامٌ لَا يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا افْتِرَاءً عَلَيْهِ ۚ سَيَجْزِيهِمْ بِمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ
١٣٩  وَقَالُوا مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ الْأَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰ أَزْوَاجِنَا ۖ وَإِنْ يَكُنْ مَيْتَةً فَهُمْ فِيهِ شُرَكَاءُ ۚ سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ ۚ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
١٤٠  قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللَّهِ ۚ قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ
١٤١  وَهُوَ الَّذِي أَنْشَأَ جَنَّاتٍ مَعْرُوشَاتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشَاتٍ وَالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۚ كُلُوا مِنْ ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ ۖ وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
١٤٢  وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا ۚ كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ
١٤٣  ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ ۖ مِنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ ۗ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنْثَيَيْنِ ۖ نَبِّئُونِي بِعِلْمٍ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
١٤٤  وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ ۗ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنْثَيَيْنِ ۖ أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ وَصَّاكُمُ اللَّهُ بِهَٰذَا ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا لِيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
١٤٥  قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
١٤٦  وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ ۖ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُمْ بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
١٤٧  فَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ رَبُّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ
١٤٨  سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَيْءٍ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتَّىٰ ذَاقُوا بَأْسَنَا ۗ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَا ۖ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ أَنْتُمْ إِلَّا تَخْرُصُونَ
١٤٩  قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۖ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
١٥٠  قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءَكُمُ الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ هَٰذَا ۖ فَإِنْ شَهِدُوا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ
١٥١  قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۖ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
١٥٢  وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ۖ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۖ وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
١٥٣  وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
١٥٤  ثُمَّ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ تَمَامًا عَلَى الَّذِي أَحْسَنَ وَتَفْصِيلًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَعَلَّهُمْ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ
١٥٥  وَهَٰذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
١٥٦  أَنْ تَقُولُوا إِنَّمَا أُنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا وَإِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ
١٥٧  أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَىٰ مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا ۗ سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِفُونَ
١٥٨  هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ ۗ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ۗ قُلِ انْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ
١٥٩  إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
١٦٠  مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
١٦١  قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
١٦٢  قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
١٦٣  لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ
١٦٤  قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ۚ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ مَرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
١٦٥  وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ ۗ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ

 In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

1  [All] praise is [due] to Allah, who created the heavens and the earth and made the darkness and the light. Then those who disbelieve equate [others] with their Lord.
2  It is He who created you from clay and then decreed a term and a specified time [known] to Him; then [still] you are in dispute.
3  And He is Allah, [the only deity] in the heavens and the earth. He knows your secret and what you make public, and He knows that which you earn.
4  And no sign comes to them from the signs of their Lord except that they turn away therefrom.
5  For they had denied the truth when it came to them, but there is going to reach them the news of what they used to ridicule.
6  Have they not seen how many generations We destroyed before them which We had established upon the earth as We have not established you? And We sent [rain from] the sky upon them in showers and made rivers flow beneath them; then We destroyed them for their sins and brought forth after them a generation of others.
7  And even if We had sent down to you, [O Muhammad], a written scripture on a page and they touched it with their hands, the disbelievers would say, “This is not but obvious magic.”
8  And they say, “Why was there not sent down to him an angel?” But if We had sent down an angel, the matter would have been decided; then they would not be reprieved.
9  And if We had made him an angel, We would have made him [appear as] a man, and We would have covered them with that in which they cover themselves.
10  And already were messengers ridiculed before you, but those who mocked them were enveloped by that which they used to ridicule.
11  Say, “Travel through the land; then observe how was the end of the deniers.”
12  Say, “To whom belongs whatever is in the heavens and earth?” Say, “To Allah.” He has decreed upon Himself mercy. He will surely assemble you for the Day of Resurrection, about which there is no doubt. Those who will lose themselves [that Day] do not believe.
13  And to Him belongs that which reposes by night and by day, and He is the Hearing, the Knowing.
14  Say, “Is it other than Allah I should take as a protector, Creator of the heavens and the earth, while it is He who feeds and is not fed?” Say, [O Muhammad], “Indeed, I have been commanded to be the first [among you] who submit [to Allah] and [was commanded], ‘Do not ever be of the polytheists.’ ”
15  Say, “Indeed I fear, if I should disobey my Lord, the punishment of a tremendous Day.”
16  He from whom it is averted that Day – [Allah] has granted him mercy. And that is the clear attainment.
17  And if Allah should touch you with adversity, there is no remover of it except Him. And if He touches you with good – then He is over all things competent.
18  And He is the subjugator over His servants. And He is the Wise, the Acquainted [with all].
19  Say, “What thing is greatest in testimony?” Say, “Allah is witness between me and you. And this Qur’an was revealed to me that I may warn you thereby and whomever it reaches. Do you [truly] testify that with Allah there are other deities?” Say, “I will not testify [with you].” Say, “Indeed, He is but one God, and indeed, I am free of what you associate [with Him].”
20  Those to whom We have given the Scripture recognize it as they recognize their [own] sons. Those who will lose themselves [in the Hereafter] do not believe.
21  And who is more unjust than one who invents about Allah a lie or denies His verses? Indeed, the wrongdoers will not succeed.
22  And [mention, O Muhammad], the Day We will gather them all together; then We will say to those who associated others with Allah, “Where are your ‘partners’ that you used to claim [with Him]?”
23  Then there will be no [excuse upon] examination except they will say, “By Allah, our Lord, we were not those who associated.”
24  See how they will lie about themselves. And lost from them will be what they used to invent.
25  And among them are those who listen to you, but We have placed over their hearts coverings, lest they understand it, and in their ears deafness. And if they should see every sign, they will not believe in it. Even when they come to you arguing with you, those who disbelieve say, “This is not but legends of the former peoples.”
26  And they prevent [others] from him and are [themselves] remote from him. And they do not destroy except themselves, but they perceive [it] not.
27  If you could but see when they are made to stand before the Fire and will say, “Oh, would that we could be returned [to life on earth] and not deny the signs of our Lord and be among the believers.”
28  But what they concealed before has [now] appeared to them. And even if they were returned, they would return to that which they were forbidden; and indeed, they are liars.
29  And they say, “There is none but our worldly life, and we will not be resurrected.”
30  If you could but see when they will be made to stand before their Lord. He will say, “Is this not the truth?” They will say, “Yes, by our Lord.” He will [then] say, “So taste the punishment because you used to disbelieve.”
31  Those will have lost who deny the meeting with Allah, until when the Hour [of resurrection] comes upon them unexpectedly, they will say, “Oh, [how great is] our regret over what we neglected concerning it,” while they bear their burdens on their backs. Unquestionably, evil is that which they bear.
32  And the worldly life is not but amusement and diversion; but the home of the Hereafter is best for those who fear Allah, so will you not reason?
33  We know that you, [O Muhammad], are saddened by what they say. And indeed, they do not call you untruthful, but it is the verses of Allah that the wrongdoers reject.
34  And certainly were messengers denied before you, but they were patient over [the effects of] denial, and they were harmed until Our victory came to them. And none can alter the words of Allah. And there has certainly come to you some information about the [previous] messengers.
35  And if their evasion is difficult for you, then if you are able to seek a tunnel into the earth or a stairway into the sky to bring them a sign, [then do so]. But if Allah had willed, He would have united them upon guidance. So never be of the ignorant.
36  Only those who hear will respond. But the dead – Allah will resurrect them; then to Him they will be returned.
37  And they say, “Why has a sign not been sent down to him from his Lord?” Say, “Indeed, Allah is Able to send down a sign, but most of them do not know.”
38  And there is no creature on [or within] the earth or bird that flies with its wings except [that they are] communities like you. We have not neglected in the Register a thing. Then unto their Lord they will be gathered.
39  But those who deny Our verses are deaf and dumb within darknesses. Whomever Allah wills – He leaves astray; and whomever He wills – He puts him on a straight path.
40  Say, “Have you considered: if there came to you the punishment of Allah or there came to you the Hour – is it other than Allah you would invoke, if you should be truthful?”
41  No, it is Him [alone] you would invoke, and He would remove that for which you invoked Him if He willed, and you would forget what you associate [with Him].
42  And We have already sent [messengers] to nations before you, [O Muhammad]; then We seized them with poverty and hardship that perhaps they might humble themselves [to Us].
43  Then why, when Our punishment came to them, did they not humble themselves? But their hearts became hardened, and Satan made attractive to them that which they were doing.
44  So when they forgot that by which they had been reminded, We opened to them the doors of every [good] thing until, when they rejoiced in that which they were given, We seized them suddenly, and they were [then] in despair.
45  So the people that committed wrong were eliminated. And praise to Allah, Lord of the worlds.
46  Say, “Have you considered: if Allah should take away your hearing and your sight and set a seal upon your hearts, which deity other than Allah could bring them [back] to you?” Look how we diversify the verses; then they [still] turn away.
47  Say, “Have you considered: if the punishment of Allah should come to you unexpectedly or manifestly, will any be destroyed but the wrongdoing people?”
48  And We send not the messengers except as bringers of good tidings and warners. So whoever believes and reforms – there will be no fear concerning them, nor will they grieve.
49  But those who deny Our verses – the punishment will touch them for their defiant disobedience.
50  Say, [O Muhammad], “I do not tell you that I have the depositories [containing the provision] of Allah or that I know the unseen, nor do I tell you that I am an angel. I only follow what is revealed to me.” Say, “Is the blind equivalent to the seeing? Then will you not give thought?”
51  And warn by the Qur’an those who fear that they will be gathered before their Lord – for them besides Him will be no protector and no intercessor – that they might become righteous.
52  And do not send away those who call upon their Lord morning and afternoon, seeking His countenance. Not upon you is anything of their account and not upon them is anything of your account. So were you to send them away, you would [then] be of the wrongdoers.
53  And thus We have tried some of them through others that the disbelievers might say, “Is it these whom Allah has favored among us?” Is not Allah most knowing of those who are grateful?
54  And when those come to you who believe in Our verses, say, “Peace be upon you. Your Lord has decreed upon Himself mercy: that any of you who does wrong out of ignorance and then repents after that and corrects himself – indeed, He is Forgiving and Merciful.”
55  And thus do We detail the verses, and [thus] the way of the criminals will become evident.
56  Say, “Indeed, I have been forbidden to worship those you invoke besides Allah.” Say, “I will not follow your desires, for I would then have gone astray, and I would not be of the [rightly] guided.”
57  Say, “Indeed, I am on clear evidence from my Lord, and you have denied it. I do not have that for which you are impatient. The decision is only for Allah. He relates the truth, and He is the best of deciders.”
58  Say, “If I had that for which you are impatient, the matter would have been decided between me and you, but Allah is most knowing of the wrongdoers.”
59  And with Him are the keys of the unseen; none knows them except Him. And He knows what is on the land and in the sea. Not a leaf falls but that He knows it. And no grain is there within the darknesses of the earth and no moist or dry [thing] but that it is [written] in a clear record.
60  And it is He who takes your souls by night and knows what you have committed by day. Then He revives you therein that a specified term may be fulfilled. Then to Him will be your return; then He will inform you about what you used to do.
61  And He is the subjugator over His servants, and He sends over you guardian-angels until, when death comes to one of you, Our messengers take him, and they do not fail [in their duties].
62  Then they His servants are returned to Allah, their true Lord. Unquestionably, His is the judgement, and He is the swiftest of accountants.
63  Say, “Who rescues you from the darknesses of the land and sea [when] you call upon Him imploring [aloud] and privately, ‘If He should save us from this [crisis], we will surely be among the thankful.’ ”
64  Say, “It is Allah who saves you from it and from every distress; then you [still] associate others with Him.”
65  Say, “He is the [one] Able to send upon you affliction from above you or from beneath your feet or to confuse you [so you become] sects and make you taste the violence of one another.” Look how We diversify the signs that they might understand.
66  But your people have denied it while it is the truth. Say, “I am not over you a manager.”
67  For every happening is a finality; and you are going to know.
68  And when you see those who engage in [offensive] discourse concerning Our verses, then turn away from them until they enter into another conversation. And if Satan should cause you to forget, then do not remain after the reminder with the wrongdoing people.
69  And those who fear Allah are not held accountable for the disbelievers at all, but [only for] a reminder – that perhaps they will fear Him.
70  And leave those who take their religion as amusement and diversion and whom the worldly life has deluded. But remind with the Qur’an, lest a soul be given up to destruction for what it earned; it will have other than Allah no protector and no intercessor. And if it should offer every compensation, it would not be taken from it. Those are the ones who are given to destruction for what they have earned. For them will be a drink of scalding water and a painful punishment because they used to disbelieve.
71  Say, “Shall we invoke instead of Allah that which neither benefits us nor harms us and be turned back on our heels after Allah has guided us? [We would then be] like one whom the devils enticed [to wander] upon the earth confused, [while] he has companions inviting him to guidance, [calling], ‘Come to us.’ ” Say, “Indeed, the guidance of Allah is the [only] guidance; and we have been commanded to submit to the Lord of the worlds.
72  And to establish prayer and fear Him.” And it is He to whom you will be gathered.
73  And it is He who created the heavens and earth in truth. And the day He says, “Be,” and it is, His word is the truth. And His is the dominion [on] the Day the Horn is blown. [He is] Knower of the unseen and the witnessed; and He is the Wise, the Acquainted.
74  And [mention, O Muhammad], when Abraham said to his father Azar, “Do you take idols as deities? Indeed, I see you and your people to be in manifest error.”
75  And thus did We show Abraham the realm of the heavens and the earth that he would be among the certain [in faith] 76  So when the night covered him [with darkness], he saw a star. He said, “This is my lord.” But when it set, he said, “I like not those that disappear.”
77  And when he saw the moon rising, he said, “This is my lord.” But when it set, he said, “Unless my Lord guides me, I will surely be among the people gone astray.”
78  And when he saw the sun rising, he said, “This is my lord; this is greater.” But when it set, he said, “O my people, indeed I am free from what you associate with Allah.
79  Indeed, I have turned my face toward He who created the heavens and the earth, inclining toward truth, and I am not of those who associate others with Allah.”
80  And his people argued with him. He said, “Do you argue with me concerning Allah while He has guided me? And I fear not what you associate with Him [and will not be harmed] unless my Lord should will something. My Lord encompasses all things in knowledge; then will you not remember?
81  And how should I fear what you associate while you do not fear that you have associated with Allah that for which He has not sent down to you any authority? So which of the two parties has more right to security, if you should know?
82  They who believe and do not mix their belief with injustice – those will have security, and they are [rightly] guided.
83  And that was Our [conclusive] argument which We gave Abraham against his people. We raise by degrees whom We will. Indeed, your Lord is Wise and Knowing.
84  And We gave to Abraham, Isaac and Jacob – all [of them] We guided. And Noah, We guided before; and among his descendants, David and Solomon and Job and Joseph and Moses and Aaron. Thus do We reward the doers of good.
85  And Zechariah and John and Jesus and Elias – and all were of the righteous.
86  And Ishmael and Elisha and Jonah and Lot – and all [of them] We preferred over the worlds.
87  And [some] among their fathers and their descendants and their brothers – and We chose them and We guided them to a straight path.
88  That is the guidance of Allah by which He guides whomever He wills of His servants. But if they had associated others with Allah, then worthless for them would be whatever they were doing.
89  Those are the ones to whom We gave the Scripture and authority and prophethood. But if the disbelievers deny it, then We have entrusted it to a people who are not therein disbelievers.
90  Those are the ones whom Allah has guided, so from their guidance take an example. Say, “I ask of you for this message no payment. It is not but a reminder for the worlds.”
91  And they did not appraise Allah with true appraisal when they said, “Allah did not reveal to a human being anything.” Say, “Who revealed the Scripture that Moses brought as light and guidance to the people? You [Jews] make it into pages, disclosing [some of] it and concealing much. And you were taught that which you knew not – neither you nor your fathers.” Say, “Allah [revealed it].” Then leave them in their [empty] discourse, amusing themselves.
92  And this is a Book which We have sent down, blessed and confirming what was before it, that you may warn the Mother of Cities and those around it. Those who believe in the Hereafter believe in it, and they are maintaining their prayers.
93  And who is more unjust than one who invents a lie about Allah or says, “It has been inspired to me,” while nothing has been inspired to him, and one who says, “I will reveal [something] like what Allah revealed.” And if you could but see when the wrongdoers are in the overwhelming pangs of death while the angels extend their hands, [saying], “Discharge your souls! Today you will be awarded the punishment of [extreme] humiliation for what you used to say against Allah other than the truth and [that] you were, toward His verses, being arrogant.”
94  [It will be said to them], “And you have certainly come to Us alone as We created you the first time, and you have left whatever We bestowed upon you behind you. And We do not see with you your ‘intercessors’ which you claimed that they were among you associates [of Allah]. It has [all] been severed between you, and lost from you is what you used to claim.”
95  Indeed, Allah is the cleaver of grain and date seeds. He brings the living out of the dead and brings the dead out of the living. That is Allah; so how are you deluded?
96  [He is] the cleaver of daybreak and has made the night for rest and the sun and moon for calculation. That is the determination of the Exalted in Might, the Knowing.
97  And it is He who placed for you the stars that you may be guided by them through the darknesses of the land and sea. We have detailed the signs for a people who know.
98  And it is He who produced you from one soul and [gave you] a place of dwelling and of storage. We have detailed the signs for a people who understand.
99  And it is He who sends down rain from the sky, and We produce thereby the growth of all things. We produce from it greenery from which We produce grains arranged in layers. And from the palm trees – of its emerging fruit are clusters hanging low. And [We produce] gardens of grapevines and olives and pomegranates, similar yet varied. Look at [each of] its fruit when it yields and [at] its ripening. Indeed in that are signs for a people who believe.
100  But they have attributed to Allah partners – the jinn, while He has created them – and have fabricated for Him sons and daughters. Exalted is He and high above what they describe
101  [He is] Originator of the heavens and the earth. How could He have a son when He does not have a companion and He created all things? And He is, of all things, Knowing.
102  That is Allah, your Lord; there is no deity except Him, the Creator of all things, so worship Him. And He is Disposer of all things.
103  Vision perceives Him not, but He perceives [all] vision; and He is the Subtle, the Acquainted.
104  There has come to you enlightenment from your Lord. So whoever will see does so for [the benefit of] his soul, and whoever is blind [does harm] against it. And [say], “I am not a guardian over you.”
105  And thus do We diversify the verses so the disbelievers will say, “You have studied,” and so We may make the Qur’an clear for a people who know.
106  Follow, [O Muhammad], what has been revealed to you from your Lord – there is no deity except Him – and turn away from those who associate others with Allah.
107  But if Allah had willed, they would not have associated. And We have not appointed you over them as a guardian, nor are you a manager over them.
108  And do not insult those they invoke other than Allah, lest they insult Allah in enmity without knowledge. Thus We have made pleasing to every community their deeds. Then to their Lord is their return, and He will inform them about what they used to do.
109  And they swear by Allah their strongest oaths that if a sign came to them, they would surely believe in it. Say, “The signs are only with Allah.” And what will make you perceive that even if a sign came, they would not believe.
110  And We will turn away their hearts and their eyes just as they refused to believe in it the first time. And We will leave them in their transgression, wandering blindly.
111  And even if We had sent down to them the angels [with the message] and the dead spoke to them [of it] and We gathered together every [created] thing in front of them, they would not believe unless Allah should will. But most of them, [of that], are ignorant.
112  And thus We have made for every prophet an enemy – devils from mankind and jinn, inspiring to one another decorative speech in delusion. But if your Lord had willed, they would not have done it, so leave them and that which they invent.
113  And [it is] so the hearts of those who disbelieve in the Hereafter will incline toward it and that they will be satisfied with it and that they will commit that which they are committing.
114  [Say], “Then is it other than Allah I should seek as judge while it is He who has revealed to you the Book explained in detail?” And those to whom We [previously] gave the Scripture know that it is sent down from your Lord in truth, so never be among the doubters.
115  And the word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. None can alter His words, and He is the Hearing, the Knowing.
116  And if you obey most of those upon the earth, they will mislead you from the way of Allah. They follow not except assumption, and they are not but falsifying.
117  Indeed, your Lord is most knowing of who strays from His way, and He is most knowing of the [rightly] guided.
118  So eat of that [meat] upon which the name of Allah has been mentioned, if you are believers in His verses.
119  And why should you not eat of that upon which the name of Allah has been mentioned while He has explained in detail to you what He has forbidden you, excepting that to which you are compelled. And indeed do many lead [others] astray through their [own] inclinations without knowledge. Indeed, your Lord – He is most knowing of the transgressors.
120  And leave what is apparent of sin and what is concealed thereof. Indeed, those who earn [blame for] sin will be recompensed for that which they used to commit.
121  And do not eat of that upon which the name of Allah has not been mentioned, for indeed, it is grave disobedience. And indeed do the devils inspire their allies [among men] to dispute with you. And if you were to obey them, indeed, you would be associators [of others with Him].
122  And is one who was dead and We gave him life and made for him light by which to walk among the people like one who is in darkness, never to emerge therefrom? Thus it has been made pleasing to the disbelievers that which they were doing.
123  And thus We have placed within every city the greatest of its criminals to conspire therein. But they conspire not except against themselves, and they perceive [it] not.
124  And when a sign comes to them, they say, “Never will we believe until we are given like that which was given to the messengers of Allah.” Allah is most knowing of where He places His message. There will afflict those who committed crimes debasement before Allah and severe punishment for what they used to conspire.
125  So whoever Allah wants to guide – He expands his breast to [contain] Islam; and whoever He wants to misguide – He makes his breast tight and constricted as though he were climbing into the sky. Thus does Allah place defilement upon those who do not believe.
126  And this is the path of your Lord, [leading] straight. We have detailed the verses for a people who remember.
127  For them will be the Home of Peace with their Lord. And He will be their protecting friend because of what they used to do.
128  And [mention, O Muhammad], the Day when He will gather them together [and say], “O company of jinn, you have [misled] many of mankind.” And their allies among mankind will say, “Our Lord, some of us made use of others, and we have [now] reached our term, which you appointed for us.” He will say, “The Fire is your residence, wherein you will abide eternally, except for what Allah wills. Indeed, your Lord is Wise and Knowing.”
129  And thus will We make some of the wrongdoers allies of others for what they used to earn.
130  “O company of jinn and mankind, did there not come to you messengers from among you, relating to you My verses and warning you of the meeting of this Day of yours?” They will say, “We bear witness against ourselves”; and the worldly life had deluded them, and they will bear witness against themselves that they were disbelievers.
131  That is because your Lord would not destroy the cities for wrongdoing while their people were unaware.
132  And for all are degrees from what they have done. And your Lord is not unaware of what they do.
133  And your Lord is the Free of need, the possessor of mercy. If He wills, he can do away with you and give succession after you to whomever He wills, just as He produced you from the descendants of another people.
134  Indeed, what you are promised is coming, and you will not cause failure [to Allah].
135  Say, “O my people, work according to your position; [for] indeed, I am working. And you are going to know who will have succession in the home. Indeed, the wrongdoers will not succeed.
136  And the polytheists assign to Allah from that which He created of crops and livestock a share and say, “This is for Allah,” by their claim, “and this is for our partners [associated with Him].” But what is for their “partners” does not reach Allah, while what is for Allah – this reaches their “partners.” Evil is that which they rule.
137  And likewise, to many of the polytheists their partners have made [to seem] pleasing the killing of their children in order to bring about their destruction and to cover them with confusion in their religion. And if Allah had willed, they would not have done so. So leave them and that which they invent.
138  And they say, “These animals and crops are forbidden; no one may eat from them except whom we will,” by their claim. And there are those [camels] whose backs are forbidden [by them] and those upon which the name of Allah is not mentioned – [all of this] an invention of untruth about Him. He will punish them for what they were inventing.
139  And they say, “What is in the bellies of these animals is exclusively for our males and forbidden to our females. But if it is [born] dead, then all of them have shares therein.” He will punish them for their description. Indeed, He is Wise and Knowing.
140  Those will have lost who killed their children in foolishness without knowledge and prohibited what Allah had provided for them, inventing untruth about Allah. They have gone astray and were not [rightly] guided.
141  And He it is who causes gardens to grow, [both] trellised and untrellised, and palm trees and crops of different [kinds of] food and olives and pomegranates, similar and dissimilar. Eat of [each of] its fruit when it yields and give its due [zakah] on the day of its harvest. And be not excessive. Indeed, He does not like those who commit excess.
142  And of the grazing livestock are carriers [of burdens] and those [too] small. Eat of what Allah has provided for you and do not follow the footsteps of Satan. Indeed, he is to you a clear enemy.
143  [They are] eight mates – of the sheep, two and of the goats, two. Say, “Is it the two males He has forbidden or the two females or that which the wombs of the two females contain? Inform me with knowledge, if you should be truthful.”
144  And of the camels, two and of the cattle, two. Say, “Is it the two males He has forbidden or the two females or that which the wombs of the two females contain? Or were you witnesses when Allah charged you with this? Then who is more unjust than one who invents a lie about Allah to mislead the people by [something] other than knowledge? Indeed, Allah does not guide the wrongdoing people.”
145  Say, “I do not find within that which was revealed to me [anything] forbidden to one who would eat it unless it be a dead animal or blood spilled out or the flesh of swine – for indeed, it is impure – or it be [that slaughtered in] disobedience, dedicated to other than Allah. But whoever is forced [by necessity], neither desiring [it] nor transgressing [its limit], then indeed, your Lord is Forgiving and Merciful.”
146  And to those who are Jews We prohibited every animal of uncloven hoof; and of the cattle and the sheep We prohibited to them their fat, except what adheres to their backs or the entrails or what is joined with bone. [By] that We repaid them for their injustice. And indeed, We are truthful.
147  So if they deny you, [O Muhammad], say, “Your Lord is the possessor of vast mercy; but His punishment cannot be repelled from the people who are criminals.”
148  Those who associated with Allah will say, “If Allah had willed, we would not have associated [anything] and neither would our fathers, nor would we have prohibited anything.” Likewise did those before deny until they tasted Our punishment. Say, “Do you have any knowledge that you can produce for us? You follow not except assumption, and you are not but falsifying.”
149  Say, “With Allah is the far-reaching argument. If He had willed, He would have guided you all.”
150  Say, [O Muhammad], “Bring forward your witnesses who will testify that Allah has prohibited this.” And if they testify, do not testify with them. And do not follow the desires of those who deny Our verses and those who do not believe in the Hereafter, while they equate [others] with their Lord.
151  Say, “Come, I will recite what your Lord has prohibited to you. [He commands] that you not associate anything with Him, and to parents, good treatment, and do not kill your children out of poverty; We will provide for you and them. And do not approach immoralities – what is apparent of them and what is concealed. And do not kill the soul which Allah has forbidden [to be killed] except by [legal] right. This has He instructed you that you may use reason.”
152  And do not approach the orphan’s property except in a way that is best until he reaches maturity. And give full measure and weight in justice. We do not charge any soul except [with that within] its capacity. And when you testify, be just, even if [it concerns] a near relative. And the covenant of Allah fulfill. This has He instructed you that you may remember.
153  And, [moreover], this is My path, which is straight, so follow it; and do not follow [other] ways, for you will be separated from His way. This has He instructed you that you may become righteous.
154  Then We gave Moses the Scripture, making complete [Our favor] upon the one who did good and as a detailed explanation of all things and as guidance and mercy that perhaps in [the matter of] the meeting with their Lord they would believe.
155  And this [Qur’an] is a Book We have revealed [which is] blessed, so follow it and fear Allah that you may receive mercy.
156  [We revealed it] lest you say, “The Scripture was only sent down to two groups before us, but we were of their study unaware,”
157  Or lest you say, “If only the Scripture had been revealed to us, we would have been better guided than they.” So there has [now] come to you a clear evidence from your Lord and a guidance and mercy. Then who is more unjust than one who denies the verses of Allah and turns away from them? We will recompense those who turn away from Our verses with the worst of punishment for their having turned away.
158  Do they [then] wait for anything except that the angels should come to them or your Lord should come or that there come some of the signs of your Lord? The Day that some of the signs of your Lord will come no soul will benefit from its faith as long as it had not believed before or had earned through its faith some good. Say, “Wait. Indeed, we [also] are waiting.”
159  Indeed, those who have divided their religion and become sects – you, [O Muhammad], are not [associated] with them in anything. Their affair is only [left] to Allah; then He will inform them about what they used to do.
160  Whoever comes [on the Day of Judgement] with a good deed will have ten times the like thereof [to his credit], and whoever comes with an evil deed will not be recompensed except the like thereof; and they will not be wronged.
161  Say, “Indeed, my Lord has guided me to a straight path – a correct religion – the way of Abraham, inclining toward truth. And he was not among those who associated others with Allah.”
162  Say, “Indeed, my prayer, my rites of sacrifice, my living and my dying are for Allah, Lord of the worlds.
163  No partner has He. And this I have been commanded, and I am the first [among you] of the Muslims.”
164  Say, “Is it other than Allah I should desire as a lord while He is the Lord of all things? And every soul earns not [blame] except against itself, and no bearer of burdens will bear the burden of another. Then to your Lord is your return, and He will inform you concerning that over which you used to differ.”
165  And it is He who has made you successors upon the earth and has raised some of you above others in degrees [of rank] that He may try you through what He has given you. Indeed, your Lord is swift in penalty; but indeed, He is Forgiving and Merciful.

 奉至仁至慈的真主之名

1  一切赞颂,全归真主!他创造天和地,造化重重黑暗和光明;不信道的人,却以物配主。
2  他用泥创造你们,然后判定一个期限,还有一个预定的期限;你们对于这点却是怀疑的。
3  在天上地下,唯有真主应受崇拜,他知道你们所隐讳的,和你们所表白的,也知道你们所做的善恶。
4  他们的主的迹象不降临他们则已;-次降临总是遭到他们的拒绝。
5  当真理已降临他们的时候,他们则加以否认。他们嘲笑的事物的消息,将降临他们。
6  难道他们不知道吗?在他们之前,我曾毁灭了许多世代,并且把没有赏赐你们的地位赏赐了他们,给他们以充足的雨水,使诸河流行在他们的下面。嗣后,我因他们的罪过而毁灭他们。在他们(灭亡)之后,我创造了别的世代。
7  假若我把一部写在纸上的经典降示你,而他们用手抚摩它,那末,不信道的人必定说:这只是明显的魔术。
8  他们说:为什么没有一个天神降临他呢?假若我降下一个天神,那末,他们的毁灭,必成定案,而他们不蒙宽待了。
9  假若我降下一个天神,我必使他变成一个人样,我必使他们陷于自己所作的蒙蔽之中。
10  在你之前,有许多使者,确已被人嘲笑,但嘲笑者所嘲笑的(刑罚),已降临他们了。
11  你说:你们当在大地上旅行,然后观察否认使者的结局是怎样的。
12  你说:天地万物是谁的?你说:是真主的。他曾以慈悯为自己的责任。他必在无疑的复活日集合你们。亏折自身的人,是不信道的。
13  凡居住在昼夜里的事物,都为真主所有。他是全聪的,是全知的。
14  你说:难道我舍真主而以他物为保佑者喝?他是天地的创造者,他能供养,而不受供养。你说:我已奉命做首先归顺的人,而绝不做以物配主的人。
15  你说:如果我违抗我的主,我的确畏惧重大日的刑罚。
16  在那日,谁得避免刑罚,谁确已蒙主的慈恩了。那是明显的成功。
17  如果真主使你遭受灾难,那末,除他外绝无能解除的。如果他使你享受福利,(那末,任何人不能干涉他),因为他对于万事是全能的。
18  他是宰制众仆的。他是至睿的,是彻知的。
19  你说:什么事物是最大的见证?你说:真主是我与你们之间的见证。这部《古兰经》,被启示给我,以便我用它来警告你们,和它所达到的各民族。难道你们务必要作证还有别的许多主宰与真主同等吗?你说:我不这样作证。你说:真主是独一的主宰。你们用来配主的(那些偶像),我与他们确是无关系的。
20  蒙我赏赐经典的人,认识他,犹如认识自己的儿女一样。亏折自身的人,是不信他的。
21  假借真主的名义而造谣,或否认其迹象的人,有谁比他还不义呢?不义的人,必定不会成功。
22  在那日,我把他们全体集合起来,然后,我对以物配主的人说:以前你们所妄称为我的伙伴的,如今在哪里呢?
23  然后,他们唯一的托辞是:指真主–我们的主发誓,我们没有以物配主。
24  你看看他们怎样抵赖。他们以前伪造的(伙伴)已回避他们了。
25  他们中有倾听你的,我在他们的心上加蒙蔽,以免他们了解《古兰经》。又在他们的耳中造重听。他们即使看见-切迹象,他们也不会确信。等到他们来和你辩论的时候,不信道的人说:这只是古人的神话。
26  他们禁止别人信仰他,而自己也远离他;他们只是在毁灭自己,却不自觉。
27  当他们奉命站在火狱边上的时候,假若你看到他们的情状。于是,他们说:啊!但愿我们得复返人世,我们不再否认我们的主的迹象,而我们要做信士了。
28  不然,他们以前所隐讳的,已经为他们而暴露出来。即使他们得复返人世,他们仍必再犯他们以前所被禁戒的事。他们确是说谎的人。
29  他们说:只有我们今世的生活,我们绝不复活。
30  当他们奉命站在他们的主那里的时候,假若你看见他们的情状。真主将说:难道这不是真实的吗?他们将说:不然,以我们的主发誓!他将说:你们尝试刑罚吧,因为你们从前不信它。
31  否认与真主相会的人,确已亏折了。等到复活时刻忽然降临的时候,他们才说:呜呼痛哉!我们在尘世时疏忽了。他们的背上,担负著自己的罪恶。他们所担负的,真恶劣!
32  今世的生活,只是嬉戏和娱乐;后世,对于敬畏的人,是更优美的。难道你们不了解吗?
33  我确已知道:他们所说的话必使你悲伤。他们不是否认你,那些不义的人,是在否认真主的迹象。
34  在你之前,有许多使者,确已被人否认,但他们忍受他人的否认和迫害,直到我的援助降临他们。真主的约言,不是任何人所能变更的。众使者的消息,有一部分确已降临你了。
35  如果他们的拒绝使你难堪,那末,如果你能找著一条入地的隧道,或一架登天的梯子,从而昭示他们一种迹象,(你就这样做吧。)假若真主意欲,他必将他们集合在正道上,故你绝不要做无知的人。
36  只有会听话的人,响应你的号召。至于那些死人,真主将来要使他们复活,然后,把他们集合在他那里。
37  他们说:为什么没有一种迹象从他的主降临他呢?你说:真主确是能降示一种迹象的。但他们大半不知道。
38  在大地上行走的兽类和用两翼飞翔的鸟类,都跟你们一样,各有种族的–我在天经里没有遗漏任何事物;一切鸟兽,都要被集合在他们的主那里。
39  否认我的迹象的人,是又聋又哑的,是在重重黑暗中的。真主欲使谁误入迷途,就使谁误入迷途;欲使谁遵循正路,就使谁遵循正路。
40  你说:如果你们是诚实的人,那末,你们告诉我吧:如果真主的刑罚或复活 的时刻降临你们,那末,你们要舍真主而祈祷他物吗?
41  不然,你们只祈祷真主;如果他意欲,他就解除你们祈求他解除的灾难,你们将忘却你们所用来配他的(一切偶像)。
42  在你之前,我确已派遣(许多使者)去教化各民族,(他们否认使者的使命),故我以穷困和患难惩治他们,以便他们谦逊。
43  当我的惩罚降临的时候,他们为什么不谦逊呢?但他们的心坚硬,恶魔以他们的行为迷惑他们。
44  当他们忘却自己所受的劝告的时候,我为他们开辟一切福利之门,直到他们因自己所受的赏赐而狂喜的时候,我忽然惩治他们,而他们立刻变成沮丧的。
45  不义的民众,已被根绝了。-切赞颂,全归真主–全世界的主!
46  你说:你们告诉我吧,如果真主使你们失去听觉和视觉,而且封闭你们的心,那末,除真主外,还有哪个主宰能使你们复原呢?你看我是怎样阐述一切迹象的,然而,他们置之不顾。
47  你说:你们告诉我吧,如果真主的刑罚忽然或显然降临你们,那末,除不义的民众外,还有谁会被毁灭呢?
48  我只派遣众使者作报喜者和警告者。谁信道而且行善,谁在将来没有恐惧,也不忧愁。
49  否认我的迹象的人,将为犯罪而遭受刑罚。
50  你说:我不对你们说:我有真主的一切宝藏。我也不对你们说:我能知幽玄。我也不对你们说:我是一个天神。我只是遵从我所受的启示。你说:无眼的人与有眼的人是不是相等的?难道你们不该想想吗?
51  有些人,害怕将来被集合在他们的主那里,既无人保护,也无人说情,你当用此经主警告他们,以便他们敬畏。
52  早晚祈祷主,欲蒙其喜悦的人,你不要驱逐他们。你对于他们的被清算,毫无责任;他们对于你的被清算,也毫无责任。你何必驱逐他们,以至你变成不 义的人。
53  我这样使他们互相考验,以便他们说:难道这等人就是我们中特受真主恩宠的人吗?难道真主不是最了解感谢者的吗?
54  确信我的迹象的人来见你的时候,你说:祝你们平安。你们的主,曾以慈悯为自己的责任。你们中谁无知地作恶,然后悔过自新,真主必定赦宥谁,因为他确是至赦的,确是至慈的。
55  我这样解释一切迹象,以便(真理昭著),而罪人的道路变成明白的。
56  你说:我确已奉到禁令,不得崇拜你们舍真主而祈祷的。你说:我不顺从你们的私欲;否则,我必迷误,而绝不是遵循正道的人。
57  你说:我确是依据从我的主降示的明证的,而你们却否认它。我不能主持你们要求早日实现的刑罚。一切判决,只归真主;他依理而判决,他是最公正的判决者。
58  你说:假若我能主持你们要求早日实现的刑罚,那末,我与你们之间的事情,必定被判决了。真主是最了解不义者的。
59  真主那里,有幽玄的宝藏,只有他认识那些宝藏。他认识陆上和海中的一切;零落的叶子,没有一片是他不认识的,地面下重重黑暗中的谷粒,地面上一切翠绿的,和枯槁的草木,没有一样不详载在天经中。
60  他使你们在夜间死亡,他知道你们在白昼的行为。然后,他使你们在白昼复活,以便你们活到已定的寿限。然后,你们只归于他,他要将你们的行为告诉你们。
61  他是宰制众仆的,他派遣许多天神来保护你们。待死亡降临你们中的任何人的时候,我的众天使,将使他死亡,他们毫不疏忽。
62  然后,世人要被送归真主–他们的主。真的,判决只归他,他是清算最神速的。
63  你说:你们谦逊地和秘密地祈祷说:’如果他拯救我们脱离这些苦难,我们必定感谢他。’谁能拯救你们脱离陆地和海洋的各种苦难呢?
64  你说:真主拯救你们脱离这些苦难,和-切忧患。然后,你们又以物配他。
65  你说:他能使刑罚从你们的头上和脚下袭击你们,或使你们各宗派相混杂,从而使你们这宗派尝试那宗派的战争。你看,我怎样阐述许多迹象,以便他们了解。
66  这部经是真理,而你的宗族否认它。你说:我不是监护你们的。
67  -一种预言,都有它实现的时间,你们不久会知道的。
68  当你看见他们谈论我的迹象的时候,你当避开他们,直到他们谈论别的事。如果恶魔使你忘记,那末,在记起之后,你不要再与不义的人同座。
69  敬畏的人,对于不义者的受清算,毫无关系,但须劝戒(他们),他们或许敬畏。
70  把自己的宗教当作嬉戏和娱乐,而且为今世生活所欺骗的人,你可以任他们自便。你应当以《古兰经》劝戒世人,以免任何人因自己的罪行而遭毁灭;他除真主外没有保护者,也没有说情者,他无论怎样赎罪,总无效果。这等人,将为自己的罪行而遭毁灭。他们将为不信道而享受沸腾的饮料,和受痛苦的刑罚。
71  你说:难道我们舍真主而祈祷那对于我们既无福又无祸的东西吗?在真主引导我们之后,我们背叛正道,犹如在迷惑的情状下被恶魔引诱到无人烟的地方的人一样吗?他有些朋友,叫他来遵循正道,说:你到我们这里来吧!(他不听从,以致毁灭。)你说:真主的引导,才是正导。我们奉命归顺全世界的主。
72  又奉命说:你们当谨守拜功,当敬畏真主。他就是将来要集合你们的。
73  他就是本真理而创造天地的。在那日,他说’有’,世界就有了。他的话就是真理。吹号角之日,国权只是他的。他知道幽明,他是至睿的,是彻知的。
74  当时,易卜拉欣对他的父亲阿宰尔说:你把偶像当作主宰吗?据我看来,你和你的宗族,的确在明显的迷误中。
75  我这样使易卜拉欣看见天地的国权,以便他成为坚信的人。
76  当黑夜笼罩著他的时候,他看见一颗星宿,就说:这是我的主。当那颗星宿没落的时候,他说:我不爱没落的。
77  当他看见月亮升起的时候,他说:这是我的主。当月亮没落的时候,他说:如果我的主没有引导我,那末,我必定会成为迷误者。
78  当地看见太阳升起的时候,他说:这是我的主;这是更大的。当太阳没落的时候,他说:我的宗族啊!我对于你们所用来配主的事物,是无关系的。
79  我确已崇正地专向天地的创造者,我不是以物配主的人。
80  他的宗族和他争论,他说:真主确已引导我,而你们和我争论真主吗?我对于你们用来配主的(偶像),毫无畏惧,除非我的主要我畏惧。我的主的知觉能容万物。难道你们不觉悟吗!
81  你们把真主和他所未证实的(偶像)去配他,还无所畏惧,我怎么会畏惧你们所用来配主的(偶像)呢!如果你们有知识,那末,我们这两伙人,究竟是那一伙更应当不畏惧呢?
82  确信真主,而未以不义混淆其信德的人,不畏惧刑罚,而且是遵循正道的。
83  这是我的证据,我把它赏赐易卜拉欣,以便他驳斥他的宗族,我将我所意欲的人提升若干级。你的主,确是至睿的,确是全知的。
84  我赏赐他易司哈格和叶尔孤白,-个人我都加以引导。以前,我曾引导努哈,还引导过他的后裔达5德、素莱曼、安优卜、优素福、穆萨、哈伦,我这样报酬行善的人。
85  (我曾引导)宰凯里雅、叶哈雅、尔撒和易勒雅斯,他们都是善人。
86  (我曾引导)易司马仪、艾勒叶赛、优努斯和鲁特,我曾使他们超越世人。
87  (我曾引导)他们的一部分祖先、后裔和弟兄,我曾拣选他们,并指示他们正路。
88  这是真主的正道,他以它引导他所欲引导的仆人。假若他们以物配主,那末,他们的善功必定变成无效的。
89  这等人,我曾把天经. 智慧和预言赏赐他们。如果这些人不信这些事物,那末,我就把这些事物委托一个对于它们不会不信的民众。
90  这等人,是真主引导的人,你应当效法他们走正道。你说:我不为这部经典而向你们索取报酬,这部经典是全世界的教训。
91  他们对于真主没有真正的认识,当时,他们说:真主没有把任何物降示给任何人。你说:谁降示了穆萨所传授的、可以做世人的光明和向导的天经呢?你们把那部天经抄录在一些散纸上,你们发表一部分,隐藏大部分。你们曾受过自己和祖先所未认识的教训。你说:是真主。然后,任随他们在妄言中游戏。
92  这是我所降示的吉祥的经典,足以证实以前的天经,以便你用它去警告首邑(麦加)及其四周的居民;确信后世的人,都确信它,而且谨守拜功。
93  假借真主的名义而造谣的,自称奉到启示,其实,没有奉到任何启示的人,或妄言要像真主那样降示天经的人,这等人谁比他们还不义呢?不义的人正在临死的苦痛中,众天神伸著手说:你们拿出你们的灵魂吧!今天你们要受辱刑的报酬,因为你们假借真主的名义而造谣,并藐视他的迹象。那时,假若你看见他们的情状,。
94  你们确已孤孤单单地来见我,犹如我初次创造你们的时候一样。你们把我所赏赐你们的,抛弃在背后,你们妄称为真主的伙伴的,我不见他们同你们一道来替你们说情;你们的关系,确已断绝;你们所妄言的事,确已回避你们了。
95  真主确是使谷粒和果核绽开的,他从无生物中造出生物,从生物中造出无生物。这是真主,你们怎么能悖谬呢?
96  他使天破晓,他以夜间供人安息,以日月供人计时。这是万能者全知者的布置。
97  他为你们创造诸星,以便你们在陆地和海洋的重重黑暗里借诸星而遵循正道。我为有知识的民众确已解释一切迹象了。
98  他从-个人创造你们,然后,你们有住宿的地方,有寄存的地方,我已为能了解的民众解释了一切迹象。
99  他从云中降下雨水,用雨水使一切植物发芽,长出翠绿的枝叶,结出累累的果实,从海枣树的花被中结出-串串枣球;用雨水浇灌许多葡萄园,浇灌相似的和不相似的橄榄和石榴,当果树结果的时候,你们看看那些果实和成熟的情形吧。对于信道的民众,此中确有许多迹象。
100  真主创造精灵,而他们以精灵为真主的伙伴,并且无知地替他捏造许多儿女。赞颂真主,超绝万物,他是超乎他们的叙述的!
101  他是天地的创造者,他没有配偶,怎么会有儿女呢?他曾创造万物,他是全知万的。
102  这是真主,你们的主,除他外,绝无应受崇拜的。他是万物的创造者,故你们当拜他。他是万物的监护者。
103  众目不能见他,他却能见众目。他是精明的,是彻知的。
104  从你们的主发出的许多明证,已降临你们;谁重视那些明证,谁自受其益;谁忽视那些明证,谁自受其害;我不是监护你们的。
105  我这样阐述一切迹象,以便他们说你曾研究过经典,以便我为有知识的民众阐明理。
106  . 你当遵守你的主所启示你的经典;除他外,绝无应受崇拜的;你当避开以物配主的人。
107  假若真主意欲,他们必不以物配主。我没有以你为他们的保护者,你也绝不是他们的监护者。
108  你们不要辱骂他们舍真主而祈祷的(偶像),以免他们因过分和无知而辱骂真主。我这样以-个民族的行为迷惑他们,然后,他们只归于他们的主,而他要把他们生前的行为告诉他们。
109  他们指真主而发出最严重的盟誓,如果有一种迹象降临他们,那末,他们必定确信它。你说:一切迹象,只在真主那里。你们怎么知道呢?当迹象降临的时候,他们或许不信它。
110  我要翻转他们的心和眼,使他们和初次未信一样,我将任随他们旁徨在过分之中。
111  即使我命众天神降临他们,即使死人能对他们说话,即使我把万物集合在他们的面前,除非真主意欲,否则,他们不会信道;但他们大半是无知的。
112  我这样以人类和精灵中的恶魔为-个先知的仇敌,他们为了欺骗而以花言巧语互相讽示–假若你的主意欲,那么,他们不做这件事,故你应当任他们伪造谎言–
113  让不信后世的人的心,倾向他们的花言巧语,而且喜悦它,以使他们干他们所犯的罪恶。
114  (你说):真主已降示你们详明的天经,难道我还要舍真主而别求判决者吗?蒙我赏赐经典的人,他们知道这是你的主降示的,包含真理的经典,故你绝不要犹豫。
115  你的主的言辞,诚实极了,公平极了。绝没有人能变更他的言辞。他确是全聪的,确是全知的。
116  如果你顺从大地上的大多数人,那末,他们会使你叛离主道。他们只凭猜测,他们尽说谎话。
117  你的主的确知道谁是叛离他的正道的,他的确知道谁是遵循他的正道的。
118  如果你们确信真主的迹象,那末,你们应当吃那诵真主之名而宰的。
119  除为势所迫外,你们所当戒除的,真主已为你们阐明了,你们怎么不吃那诵真主之名而宰的呢?有许多人,必因自己的私欲,而无知地使别人迷误。你的主确是知道过分者的。
120  你们应当抛弃明显的和隐微的罪恶。作恶的人,将因他们的犯罪而受报应。
121  你们不要吃那未诵真主之名而宰的,那确是犯罪。恶魔必定讽示他们的朋友,以便他们和你们争论;如果你们顺从他们,那末,你们必是以物配主的人。
122  一个人,原是死的,但我使他复活,并给他一道光明,带著在人间行走,难道他与那在重重黑暗中绝不走入光明的人是一样的吗?不信道的人,这样为他
123  我这样使-个城市都有一些罪魁,以便他们在那里用计谋;其实,他们的计谋,只害自己,但他们不自觉。
124  当一种迹象降临他们的时候,他们说:我们绝不信,直到我们得受众使者所受的(启示)。真主是知道要把自己的使命安置在什么地方的。犯罪者,将因自己的计谋,而遭受真主那里的屈辱,和痛苦的刑罚。
125  真主欲使谁遵循正道,就使谁的心胸为伊斯兰而敞开;真主欲使谁误入迷途,就使谁的心胸狭隘,(要他信道),难如登天。真主这样以刑罚加于不信道的人。
126  这是你的主的正路。我确已为觉悟的民众而解释一切迹象。
127  他们在主那里,将为自己的善行而享受安宅,真主是他们的保佑者。
128  我把他们完全集合之日,(或者将说):精灵的群众啊!你们确已诱惑许多人了。这些人中的党羽将说:我们的主啊!我们已互相利用,而达到你所为我们预定的期限了!他说:火狱是你们的归宿,你们将永居其中,除非真主意欲的时候。你的主确是至睿的,确是全知的。
129  我这样使不义的人因自己的行为而互相友善。
130  精灵和人类的群众啊!难道你们同族中的使者没有来对你们叙述我的迹象,并警告你们将有今日的会见吗?他们说:我们已招认了。尘世的生活欺骗了他们,他将招认自己原是不信道的。
131  这是因为你的主在城市的居民. 愦之际,不会因为他们的不义而毁灭城市。
132  行善的人和作恶的人都各有若干等第,(以报应)他们所行的(善恶),你的主并不忽视他们的行为。
133  你的主是自足的,是仁慈的。如果他意欲,他就使你们消逝,而以他所意欲的人继承你们,犹如从别的民族的后裔中使你们兴起一样。
134  用来警告你们的事,确是要发生的,你们绝不能逃避天谴。
135  你说:我的宗族啊!你们当尽力而工作,我必定也要工作。你们将知道谁获后世的善果。不义的人,必定不会成功。
136  他们把真主所创造的农产和牲畜,一份供献真主,(一份供献偶像),他们妄言:这是真主的,这是我们的配主的。供献他们的配主的,不能拨归真主;供献真主的,却可以拨归他们的配主。他们的决定真恶劣!
137  以物配主者的配主,这样诱惑他们中的许多人杀害自己的儿女,以便毁灭他们,并混乱他们的宗教。假若真主意欲,那末,他们就不做这件事,故你当任他们伪造谎言。
138  他们妄言:这些是禁牲和禁谷,只有我们所意欲的人才可以吃;这些牲畜,是不准人骑的;这些牲畜,是不诵真主之名而宰的。他们假借真主的名义而造谣,他要为他们造谣而报酬他们。
139  他们说:这些牲畜所怀的胎儿,是专归我们男人的,对于我们的妻子是禁物。如果那胎儿生下来是死的,他们就共同吃它。真主要为他们捏造谣言而报酬他们。他确是至睿的,确是全知的。
140  愚昧无知地杀害儿女,并且假借真主的名义把真主赏赐他们的给养当作禁物的人,确已亏折了,确已迷误了,他们没有遵循正道。
141  他创造了许多园圃,其中有蔓生的和直立的果木,与果实各别的海枣和百谷,与形同味异的橄榄和石榴。当结果的时候,你们可以采食其果实;在收获的日子,你们当施舍其中的一部分,但不要过分。真主的确不喜爱过分的人。
142  (他创造了)供载运的和供食用的牲畜。你们可以吃真主所赐你们的给养,你们不要追随恶魔的步伐,他确是你们明显的仇敌。
143  (他创造了)八只牲畜:两只绵羊. 两只山羊,你说:真主只以两只公的为禁物呢?还是只以两只母的为禁物呢?还是只以两只母的所孕育的为禁物呢?你们依真知灼见而告诉我吧,如果你们是诚实的人!
144  两只骆驼和两只黄牛。你说:真主只以两只公的为禁物呢?还是只以两只母的为禁物呢?还是只以两只母的所孕育的为禁物呢?难道真主以此嘱咐你们的时候,你们会作见证吗?假借真主的名义而造谣,以致无知地使人迷误的人,有谁比他还不义呢?真主必定不引导不义的民众。
145  你说:在我所受的启示里,我不能发现任何人所不得吃的食物;除非是自死物,或流出的血液,或猪肉–因为它们确是不洁的–或是诵非真主之名而宰的犯罪物。凡为势所迫,非出自愿,且不过分的人,(虽吃禁物,毫无罪过),因为你的主确是至赦的,确是至慈的。
146  我只禁戒犹太教徒吃-切有爪的禽兽,又禁戒他们吃牛羊的脂油,惟牛羊脊上或肠上或骨间的脂油除外。这是我因为他们的不义而加于他们的惩罚,我确是诚实的。
147  如果他们否认你,你就说:你们的主,是有广大的慈恩的;但无人能替犯罪的民众抵抗他的刑罚。
148  以物配主的人将说:假若真主意欲,那末,我们和我们的祖先,都不以物配主,我们也不以任何物为禁物。他们之前的人,曾这样否认(他们族中的使者),直到他们尝试了我的刑罚。你说:你们有真知灼见,可以拿出来给我们看看吗?你们只凭猜测,尽说谎话。
149  你说:真主才有确凿的证据,假若他意欲,那末,他必定将你们全体加以引导。
150  你说:曾见真主戒食此类禁物的见证,你们把他们召来吧!如果他们作证,那末,你不要与他们一同作证。那些既否认我的迹象,又不信后世,而且以物配主的人,你不要顺从他们的私欲。
151  你说:你们来吧,来听我宣读你们的主所禁戒你们的事项:你们不要以物配主,你们应当孝敬父母;你们不要因为贫穷而杀害自己的儿女,我供给你们和他们;你们不要临近明显的和隐微的丑事;你们不要违背真主的禁令而杀人,除非因为正义。他将这些事嘱咐你们,以便你们了解。
152  你们不要临近孤儿的财产,除非依照最优良的方式,直到他成年;你们当用充足的斗和公平的秤,我只依各人的能力而加以责成。当你们说话的时候,你们应当公平,即使你们所代证的是你们的亲戚;你们当履行真主的盟约。他将这些事嘱咐你们,以便你们觉悟。
153  这确是我的正路,故你们当遵循它;你们不要遵循邪路,以免那些邪路使你们离开真主的大道。他将这些事嘱咐你们,以便你们敬畏。
154  我把经典赏赐了穆萨,以完成我对行善者的恩惠,并解释一切律例,以作向导,并示慈恩,以便他们确信将来要与他们的主会见。
155  这是我所降示的. 吉祥的经典,故你们当遵守它,并当敬畏主,以便你们蒙主的怜悯。
156  (我降示天经),以免你们说:天经只被降示我们以前的两伙人,我们对于他们所诵习的经典,确是疏忽的。
157  或者说:假若天经被降示于我们,那末,我们必定比他们更能遵循正道。从你们的主发出的明证. 正道和慈恩,确已降临你们了。否认真主的迹象,而加以背弃的人,有谁比他还不义呢?背弃我的迹象的人,我耐因他们的背弃而以最严厉的刑罚报酬他们。
158  他们只有等待众天神的降临,只有等待你的主(的刑罚)来临,或你的主的一部分迹象的降临。你的主的一部分迹象降临之日,凡以前未曾信道,或虽信道而未行善的人,在那日,即使信道,也无益了。你说:你们等待吧!我们确是等待的。
159  分离自己的宗教而各成宗派的人,你与他们毫无关系;他们的事,只归真主。然后,他将把他们的行为告诉他们。
160  行一件善事的人,将得十倍的报酬;作一件恶事的人,只受同样的惩罚;他们都不受亏枉。
161  你说:我的主己指引我一条正路,即正教,崇正的易卜拉欣的宗教。他不是以物配主的人。
162  你说:我的礼拜,我的牺牲,我的生活,我的死亡,的确都是为真主–全世界的主。
163  他绝无伙伴,我只奉到这个命令,我是首先顺服的人。
164  你说:真主是万物的主,我能舍他而另求一个主吗?各人犯罪,自己负责。一个负罪的人,不负别人的罪。然后,你们将来要归于你们的主,而他将把你们所争论的是非告诉你们。
165  他以你们为大地的代治者,并使你们中的一部分人超越另一部分人若干级,以便他考验你们如何享受他赏赐你们的恩典。你的主确是刑罚神速的,他确是至赦的,确是至慈的。

 ¡En el nombre de Alá, el Compasivo, el Misericordioso!

1  ¡Alabado sea Alá, Que creó los cielos y la tierra e instituyó las tinieblas y la luz! Aun así, los que no creen equiparan a otros a su Señor.
2  Él es Quien os creó de arcilla y decretó a cada uno un plazo. Ha sido fijado un plazo junto a Él. Y aún dudáis…
3  Él es Alá en los cielos y en la tierra. Sabe lo que ocultáis y lo que manifestáis. Sabe lo que merecéis.
4  Siempre que viene a ellos uno de los signos de su Señor, se apartan de él.
5  Han desmentido la Verdad cuando ha venido a ellos, pero recibirán noticias de aquello de que se burlaban.
6  ¿Es que no ven a cuántas generaciones precedentes hemos hecho perecer? Les habíamos dado poderío en la tierra como no os hemos dado a vosotros. Les enviamos del cielo una lluvia abundante. Hicimos que fluyeran arroyos a sus pies. Con todo, les destruimos por sus pecados y suscitamos otras generaciones después de ellos.
7  Si hubiéramos hecho bajar sobre ti una Escritura escrita en pergamino y la hubieran palpado con sus manos, aun así, los que no creen habrían dicho: «Esto no es sino manifiesta magia».
8  Dicen: «¿Por qué no se ha hecho descender a un ángel sobre él?» Si hubiéramos hecho descender a un ángel, ya se habría decidido la cosa y no les habría sido dado esperar.
9  Si hubiéramos hecho de él un ángel, le habríamos dado apariencia humana y, con ello, habríamos contribuido a su confusión.
10  Se burlaron de enviados que te precedieron, pero los que se burlaban se vieron cercados por aquello de que se burlaban.
11  Di: «¡Id por la tierra y mirad cómo terminaron los desmentidores!».
12  Di: «¿A quién pertenece lo que está en los cielos y en la tierra?» Di: «¡A Alá!», Él mismo Se ha prescrito la misericordia. Él os reunirá, ciertamente, para el día indubitable de la Resurrección. Quienes se hayan perdido, no creerán.
13  A Él pertenece lo que sucede de noche y de día. Él es Quien todo lo oye, todo lo sabe.
14  Di: «¿Tomaré como amigo a otro distinto de Alá, creador de los cielos y de la tierra, Que alimenta sin ser alimentado?» Di: «He recibido la orden de ser el primero en someterse a Alá y no ser de los asociadores».
15  Di: «Temo, si desobedezco a mi Señor, el castigo de un día terrible».
16  Él se habrá apiadado de aquél a quien ese día se le haya alejado. Ése es el éxito manifiesto.
17  Si Alá te aflige con una desgracia, nadie más que Él podrá retirarla. Si te favorece con un bien… Él es omnipotente.
18  Él es Quien domina a Sus siervos. Él es el Sabio, el Bien Informado.
19  Di: «¿Cuál es el testimonio de más peso?» Di: «Alá es testigo entre yo y vosotros. Este Corán me ha sido revelado para que, por él. os advierta a vosotros y a aquéllos a quienes alcance. ¿Atestiguaríais, de verdad, que hay otros dioses junto con Alá?» Di: «No, no lo haría». Di: «Él es sólo un Dios Uno y soy inocente de lo que vosotros Le asociáis».
20  Aquéllos a quienes hemos dado la Escritura la conocen como conocen a sus propios hijos varones. Quienes se hayan perdido, no creerán.
21  ¿Hay alguien que sea más impío que quien inventa una mentira contra Alá o desmiente Sus signos? Los impíos no prosperarán.
22  El día que les congreguemos a todos, diremos a los que hayan asociado: «¿Dónde están vuestros pretendidos asociados?»
23  En su confusión, no sabrán decir más que: «¡Por Alá, Señor nuestro, que no éramos asociadores!»
24  ¡Mira cómo mienten contra sí mismos y cómo se han esfumado sus invenciones!
25  Hay entre ellos quienes te escuchan, pero hemos velado sus corazones y endurecido sus oídos para que no lo entiendan. Aunque vieran toda clase de signos, no creerían en ellos. Hasta el punto de que, cuando vienen a disputar contigo, dicen los que no creen: «Éstas no son sino patrañas de los antiguos».
26  Se lo impiden a otros y ellos mismos se mantienen a distancia. Pero sólo se arruinan a sí mismos, sin darse cuenta.
27  Si pudieras ver cuando, puestos de pie ante el Fuego, digan: «¡Ojalá se nos devolviera! No desmentiríamos los signos de nuestro Señor, sino que seríamos de los creyentes».
28  Pero ¡no! Se les mostrará claramente lo que antes ocultaban. Si se les devolviera, volverían a lo que se les prohibió. ¡Mienten, ciertamente!
29  Dicen: «No hay más vida que la de acá y no seremos resucitados».
30  Si pudieras ver cuando, puestos de pie ante su Señor… Dirá: «¿No es esto la Verdad?» Dirán: «¡Claro qué sí, por nuestro Señor!» Dirá: «¡Gustad, pues, el castigo por no haber creído!»
31  Perderán quienes hayan desmentido el encuentro de Alá. Cuando, al fin, de repente, les venga la Hora, dirán: «¡Ay de nosotros, que nos descuidamos!» Y llevarán su carga a la espalda. ¿No es carga mala la que llevan?
32  La vida de acá no es sino juego y distracción. Sí, la Morada Postrera es mejor para quienes temen a Alá. ¿Es que no razonáis…?
33  Ya sabemos que lo que dicen te entristece. No es a ti a quien desmienten, sino que, más bien, lo que los impíos rechazan son los signos de Alá.
34  También fueron desmentidos antes de ti otros enviados, pero sufrieron con paciencia ese mentís y vejación hasta que les llegó Nuestro auxilio. No hay quien pueda cambiar las palabras de Alá. Tú mismo has oído algo acerca de los enviados.
35  Y si te resulta duro que se alejen, auque pudieras encontrar un agujero en la tierra o una escala en el cielo para traerles un signo,… Alá, si hubiera querido, les habría congregado a todos para dirigirles. ¡No seas, pues, de los ignorantes!
36  Sólo escuchan quienes oyen. En cuanto a los muertos, Alá les resucitará y serán devueltos a Él.
37  Dicen: «¿Por qué no se le ha revelado un signo que procede de su Señor?» Di: «Alá es capaz de revelar un signo». Pero la mayoría no saben.
38  No hay animal en la tierra, ni ave que vuele con sus alas, que no constituyan comunidades como vosotros. No hemos descuidado nada en la Escritura. Luego, serán congregados hacia su Señor.
39  Quienes desmienten Nuestros signos son sordos, mudos, vagan entre tinieblas. Alá extravía a quien Él quiere, y a quien Él quiere le pone en una vía recta.
40  Di: «¿Qué crees que iba a ser de vosotros si os viniera el castigo de Alá u os viniera la Hora? ¿Invocaríais a otros diferentes de Alá? Sinceramente…»
41  ¡No!, antes bien, le invocaríais a Él y quitaría, si Él quisiera, el objeto de vuestra invocación. Y olvidaríais lo que ahora Le asociáis.
42  Antes de ti, hemos mandado enviados a comunidades y hemos causado a éstas miseria y desgracia. Quizás, así, se humillaran.
43  Si se hubieran humillado cuando Nuestro rigor les alcanzó… Pero sus corazones se endurecieron y el Demonio engalanó lo que hacían.
44  Y cuando hubieron olvidado lo que se les había recordado, les abrimos las puertas de todo. Cuando hubieron disfrutado de lo que se les había concedido, Nos apoderamos de ellos de repente y fueron presa de la desesperación.
45  Así fue extirpado el pueblo que obró impíamente. ¡Alabado sea Alá, Señor del universo!
46  Di: «¿Qué os parece? Si Alá os privara del oído y de la vista y sellara vuestros corazones, qué dios otro que Alá podría devolvéroslos?» ¡Mira cómo exponemos las aleyas! Aun así, ellos se apartan.
47  Di: «¿Qué crees que iba a ser de vosotros si os sorprendiera el castigo de Alá repentina o visiblemente? ¿Quién iba a ser destruido sino el pueblo impío?»
48  No mandamos a los enviados sino como nuncios de buenas nuevas y para advertir. Quienes crean y se enmienden, no tienen que temer y no estarán tristes.
49  A quienes desmientan Nuestros signos les alcanzará el castigo por haber sido perversos.
50  Di: «Yo no pretendo poseer los tesoros de Alá, ni conozco lo oculto, ni pretendo ser un ángel. No hago sino seguir lo que se me ha revelado». Di: «¿Son iguales el ciego y el vidente? ¿Es que no reflexionáis?»
51  Advierte por su medio a quienes teman ser congregados hacia su Señor que no tendrán, fuera de Él, amigo ni intercesor. Quizás. así, teman a Alá.
52  No rechaces a quienes invocan a su Señor mañana y tarde por deseo de agradarle. No tienes tú que pedirles cuentas de nada, ni ellos a ti. Y, si les rechazas, serás de los impíos.
53  Así hemos probado a unos por otros para que digan: «¿Es a éstos a quienes Alá ha agraciado de entre nosotros?» ¿No conoce Alá mejor que nadie a los agradecidos?
54  Cuando vengan a ti los que creen en Nuestros signos, di: «¡Paz sobre vosotros!» Vuestro Señor Se ha prescrito la misericordia, de modo que si uno de vosotros obra mal por ignorancia, pero luego se arrepiente y enmienda… Él es indulgente, misericordioso.
55  Así es como exponemos los signos, para que aparezca claro el camino de los pecadores.
56  Di: «Se me ha prohibido servir a aquéllos que invocáis en lugar de invocar a Alá». Di: «No seguiré vuestras pasiones; si no, me extraviaría y no sería de los bien dirigidos».
57  Di: «Me baso en una prueba clara venida de mi Señor y vosotros lo desmentís. Yo no tengo lo que pedís con tanto apremio. La decisión pertenece sólo a Alá: Él cuenta la verdad y Él es el Mejor en fallar».
58  Di: «Si yo tuviera lo que pedís con tanto apremio, ya se habría decidido la cosa entre yo y vosotros». Alá conoce mejor que nadie a los impíos.
59  Él posee las llaves de lo oculto, sólo Él las conoce. Él sabe lo que hay en la tierra y en el mar. No cae ni una hoja sin que Él lo sepa, no hay grano en las tinieblas de la tierra, no hay nada verde, nada seco, que no esté en una Escritura clara.
60  Él es quien os llama de noche y sabe lo que habéis hecho durante el día. Luego, os despierta en él. Esto es así para que se cumpla un plazo fijo. Luego, volveréis a Él y os informará de lo que hacíais.
61  Él es Quien domina a Sus siervos. Envía sobre vosotros a custodios. Cuando, al fin, viene la muerte a uno de vosotros, Nuestros enviados le llaman, no se descuidan.
62  Luego, son devueltos a Alá, su verdadero Dueño. ¿No es a Él a quien toca decidir? Él es el más rápido en ajustar cuentas.
63  Di: «¿Quién os librará de las tinieblas de la tierra y del mar?» Le invocáis humildemente y en secreto: «Si nos libra de ésta, seremos, ciertamente, de los agradecidos».
64  Di: «Alá os libra de ésta y de todo apuro, pero vosotros de nuevo Le asociáis».
65  Di: «Él es el Capaz de enviaros un castigo de arriba o de abajo, o de desconcertaros con partidos diferentes y haceros gustar vuestra mutua violencia». ¡Mira cómo exponemos las aleyas! Quizás, así comprendan mejor.
66  Pero tu pueblo lo ha desmentido, que es la Verdad. Di: «Yo no soy vuestro protector.
67  Todo anuncio tiene su tiempo oportuno y pronto lo sabréis».
68  Cuando veas a los que parlotean de Nuestros signos, déjales hasta que cambien de conversación. Y, si el Demonio hace que te olvides, entonces, después de la amonestación, no sigas con los impíos.
69  Quienes temen a Alá no deben pedirles cuentas de nada, sino tan sólo amonestarles. Quizás, así, teman a Alá.
70  ¡Deja a quienes toman su religión a juego y distracción y a quienes ha engañado la vida de acá! ¡Amonéstales por su medio, no sea que alguien se pierda por razón de sus obras! No tendrá, fuera de Alá, amigo ni intercesor y, aunque ofrezca toda clase de compensaciones, no se le aceptarán. Ésos son los que se han perdido por razón de sus obras. Se les dará a beber agua muy caliente y tendrán un castigo doloroso por no haber creído.
71  Di: «¿Invocaremos, en lugar de invocar a Alá, lo que no puede aprovecharnos ni dañarnos? ¿Volveremos sobre nuestros pasos después de habernos dirigido Alá?» Como aquél a quien los demonios han seducido y va desorientado por la tierra… Sus compañeros le llaman, invitándole a la Dirección: «¡Ven a nosotros!» Di: «La dirección de Alá es la Dirección. Hemos recibido la orden de someternos al Señor del universo.
72  ¡Haced la azalá! ¡Temedle! Es Él hacia Quien seréis congregados».
73  Es Él Quien ha creado con un fin los cielos y la tierra. El día que dice: «¡Sé!», es. Su palabra es la Verdad. Suyo será el dominio el día que se toque la trompeta. El Conocedor de lo oculto y de lo patente. Él es el Sabio, el Bien Informado.
74  Y cuando Abraham dijo a su padre Azar: «¿Tomas a los ídolos como dioses? Sí, veo que tú y tu pueblo estáis evidentemente extraviados».
75  Y así mostramos a Abraham el reino de los cielos y de la tierra, para que fuera de los convencidos.
76  Cuando cerró la noche sobre él, vio una estrella y dijo: «¡Éste es mi Señor!». Pero, cuando se puso, dijo: «No amo a los que se ponen».
77  Cuando vio la luna que salía, dijo: «Éste es mi Señor». Pero, cuando se puso, dijo: «Si no me dirige mi Señor, voy a ser, ciertamente, de los extraviados».
78  Cuando vio el sol que salía, dijo: «Éste es mi Señor! ¡Éste es mayor!». Pero, cuando se puso, dijo: «¡Pueblo! Soy inocente de lo que Le asociáis.
79  Vuelvo mi rostro, como hanif, hacia Quien ha creado los cielos y la tierra. Y no soy asociador».
80  Su pueblo disputó con él. Dijo: «¿Disputáis conmigo sobre Alá, a pesar de haberme Él dirigido? No temo lo que Le asociáis, a menos que mi Señor quiera algo. Mi Señor lo abarca todo en Su ciencia. ¿Es que no os dejaréis amonestar?
81  ¿Cómo voy a temer lo que Le habéis asociado si vosotros no teméis asociar a Alá algo para lo que Él no os ha conferido autoridad? ¿Cuál, pues, de las dos partes tiene más derecho a seguridad? Si es que lo sabéis…».
82  Quienes creen y no revisten su fe de impiedad, ésos son los que están en seguridad, los que están dirigidos.
83  Ése es el argumento Nuestro que dimos a Abraham contra su pueblo. Ascendemos la categoría de quien queremos. Tu Señor es sabio, omnisciente.
84  Le regalamos a Isaac y a Jacob. Dirigimos a los dos. A Noé ya le habíamos dirigido antes y, de sus descendientes, a David, a Salomón, a Job, a José, a Moisés y a Aarón. Así retribuimos a quienes hacen el bien.
85  Y a Zacarías, a Juan, a Jesús y a Elías, todos ellos de los justos.
86  Y a Ismael, a Eliseo, a Jonás y a Lot. A cada uno de ellos le distinguimos entre todos los hombres,
87  así como a algunos de sus antepasados, descendientes y hermanos. Les elegimos y dirigimos a una vía recta.
88  Ésta es la dirección de Alá, por la que dirige a quien Él quiere de Sus siervos. Si hubieran sido asociadores, todas sus obras habrían sido vanas.
89  Fue a éstos a quienes dimos la Escritura, el juicio y el profetismo. Y, si éstos no creen en ello, lo hemos confiado a otro pueblo, que sí que cree.
90  A éstos ha dirigido Alá. ¡Sigue, pues, su Dirección! Di: «No os pido salario a cambio. No es más que una Amonestación dirigida a todo el mundo».
91  No han valorado a Alá debidamente cuando han dicho: «Alá no ha revelado nada a un mortal». Di: «Y ¿quién ha revelado la Eiscrituro que Moisés trajo, luz y dirección para los hombres? la ponéis en pergaminos, que enseñáis, pero ocultáis una gran parte. Se os enseñó lo que no sabíais, ni vosotros ni vuestros padres». Di: «¡Fue Alá!». Y déjales que pasen el rato en su parloteo.
92  Es ésta una Escritura bendita que hemos revelado, que confirma la revelación anterior, para que adviertas a la metrópoli y a los que viven en sus alrededores. Quienes creen en la otra vida, creen también en ella y observan su azalá.
93  ¿Hay alguien que sea más impío que quien inventa una mentira contra Alá, o quien dice: «He recibido una revelación», siendo así que no se le ha revelado nada, o quien dice: «Yo puedo revelar otro tanto de lo que Alá ha revelado»? Si pudieras ver cuando estén los impíos en su agonía y los ángeles extiendan las manos: «¡Entregad vuestras almas! Hoy se os va a retribuir con un castigo degradante, por haber dicho falsedades contra Alá y por haberos desviado altivamente de Sus signos».
94  «Habéis venido uno a uno a Nosotros, como os creamos por vez primera, y habéis dejado a vuestras espaldas lo que os habíamos otorgado. No vemos que os acompañen vuestros intercesores, que pretendíais eran vuestros asociados. Se han roto ya los lazos que con ellos os unían, se han esfumado vuestras pretensiones».
95  Alá hace que germinen el grano y el hueso del dátil, saca al vivo del muerto y al muerto del vivo. ¡Ése es Alá! ¡Cómo podéis, pues, ser tan desviados!
96  Quien hace que el alba apunte, Quien hizo de la noche descanso y del sol y de la luna cómputo. Esto es lo que ha decretado el Poderoso, el Omnisciente.
97  Y Él es Quien ha hecho, para vosotros, las estrellas, con objeto de que podáis dirigiros por ellas entre las tinieblas de la tierra y del mar. Hemos expuesto así los signos a gente que sabe.
98  Y Él es Quien os ha creado de una sola persona. Receptáculo y depósito. Hemos expuesto así los signos a gente que entiende.
99  Y Él es Quien ha hecho bajar agua del cielo. Mediante ella hemos sacado toda clase de plantas y follaje, del que sacamos granos arracimados. Y de las vainas de la palmera, racimos de dátiles al alcance. Y huertos plantados de vides, y los olivos y los granados, parecidos y diferentes. Cuando fructifican, ¡mirad el fruto que dan y cómo madura! Ciertamente, hay en ello signos para gente que cree.
100  Han hecho de los genios asociados de Alá, siendo así que Él es Quien los ha creado. Y Le han atribuido, sin conocimiento, hijos e hijas. ¡Gloria a Él! ¡Está por encima de lo que Le atribuyen!
101  Creador de los cielos y de la tierra. ¿Cómo iba a tener un hijo si no tiene compañera, si lo ha creado todo y lo sabe todo?
102  Ése es Alá, vuestro Señor. No hay más dios que Él. Creador de todo. ¡Servidle, pues! Él vela por todo.
103  La vista no Le alcanza, pero Él sí que alcanza la vista. Es el Sutil, el Bien Informado.
104  «Habéis recibido intuiciones de vuestro Señor. Quien ve claro, ve en beneficio propio. Quien está ciego, lo está en detrimento propio. Yo no soy vuestro custodio.»
105  Así exponemos las aleyas para que digan: «Tú has estudiado» y para explicarlo Nosotros a gente que sabe.
106  Sigue lo que se te ha revelado, procedente de tu Señor. No hay más dios que Él. Y apártate de los asociadores.
107  Si Alá hubiera querido, no habrían sido asociadores. No te hemos nombrado custodio de ellos, ni eres su protector.
108  No insultéis a los que ellos invocan en lugar de invocar a Alá, no sea que, por hostilidad, insulten a Alá sin conocimiento. Así, hemos engalanado las obras de cada comunidad. Luego, volverán a su Señor y ya les informará Él de lo que hacían.
109  Han jurado solemnemente por Alá que si les viene un signo creerán, ciertamente, en él. Di: «Sólo Alá dispone de los signos». Y ¿qué es lo que os hace prever que, si ocurre, vayan a creer?
110  Desviaremos sus corazones y sus ojos, como cuando no creyeron por primera vez, y les dejaremos que yerren ciegos en su rebeldía.
111  Aunque hubiéramos hecho que los ángeles descendieran a ellos, aunque les hubieran hablado los muertos, aunque hubiéramos juntado ante ellos todas las cosas, no habrían creído, a menos que Alá hubiera querido. Pero la mayoría son ignorantes.
112  Así hemos asignado a cada profeta un enemigo: hombres endemoniados o genios endemoniados, que se inspiran mutuamente pomposas palabras para engañarse. Si tu Señor hubiera querido, no lo habrían hecho. ¡Déjales con sus invenciones!
113  ¡Que los corazones de los que no creen en la otra vida se vean atraídos a ello! ¡Que les plazca! ¡Que lleven su merecido!
114  «¿Buscaré, pues, a otro diferente de Alá como juez, siendo Él Quien os ha revelado la Escritura explicada detalladamente?» Aquéllos a quienes Nosotros hemos dado la Escritura saben bien que ha sido revelada por tu Señor con la Verdad. ¡No seáis, pues, de los que dudan!
115  La Palabra de tu Señor se ha cumplido en verdad y en justicia. Nadie puede cambiar Sus palabras. Él es Quien todo lo oye, todo lo sabe.
116  Si obedecieras a la mayoría de los que están en la tierra, te extraviarían del camino de Alá. No siguen sino conjeturas, no formulan sino hipótesis.
117  Ciertamente, tu Señor conoce mejor que nadie quién se extravía de Su camino y quiénes son los bien dirigidos.
118  Comed, pues, de aquello sobre lo que se ha mencionado el nombre de Alá si creéis en Sus signos.
119  ¿Qué razón tenéis para no comer de aquello sobre lo que se ha mencionado el nombre de Alá, habiéndoos Él detallado lo ilícito -salvo en caso de extrema necesidad-? Muchos sin conocimiento extravían a otros con sus pasiones. Tu Señor conoce mejor que nadie a quienes violan la ley.
120  Evitad el pecado, público o privado. Los que cometan pecado serán retribuidos conforme a su merecido.
121  No comáis de aquello sobre lo que no hayáis mencionado el nombre de Alá, pues seria una perversidad. Sí, los demonios inspiran a sus amigos que discutan con vosotros. Si les obedecéis, sois asociadores.
122  El que estaba muerto y que luego hemos resucitado dándole una luz con la cual anda entre la gente, ¿es igual que el que está entre tinieblas sin poder salir? De este modo han sido engalanadas las obras de los infieles…
123  Así, hemos puesto en cada ciudad a los más pecadores de ella para que intriguen. Pero, al intrigar, no lo hacen sino contra sí mismos, sin darse cuenta.
124  Cuando les viene un signo dicen: «No creeremos hasta que se nos dé tanto cuanto se ha dado a los enviados de Alá». Pero Alá sabe bien a quién confiar Su mensaje. La humillación ante Alá y un castigo severo alcanzarán a los pecadores por haber intrigado.
125  Alá abre al islam el pecho de aquél a quien Él quiere dirigir. Y estrecha y oprime el pecho de aquél a quien Él quiere extraviar, como si se elevara en el aire. Así muestra Alá la indignación contra quienes no creen.
126  Ésta es la vía de tu Señor, recta. Hemos expuesto las aleyas a gente que se deja amonestar.
127  La Morada de la Paz junto a su Señor es para ellos -Él es su amigo-, como premio a sus obras.
128  El día que Él les congregue a todos: «¡Asamblea de genios! ¡Habéis abusado de los hombres!» y los hombres que fueron amigos de los genios dirán: «¡Señor! Unos hemos sacado provecho de otros y hemos llegado ya al término que Tú nos habías señalado». Dirá: «Tendréis el Fuego por morada, en el que estaréis eternamente, a menos que Alá disponga otra cosa». Tu Señor es sabio, omnisciente.
129  Así conferimos a algunos impíos autoridad sobre otros por lo que han cometido.
130  «¡Asamblea de genios y de hombres! ¿No vinieron a vosotros enviados, salidos de vosotros, para contaros Mis signos y preveniros contra el encuentro de este vuestro día?» Dirán: «Atestiguamos contra nosotros mismos». Pero la vida de acá les engañó y atestiguarán contra sí mismos su incredulidad.
131  Porque tu Señor no va a destruir injustamente ciudades sin haber antes apercibido a sus habitantes.
132  Para todos habrá categorías según sus obras. Tu Señor está atento a lo que hacen.
133  Tu Señor es Quien Se basta a Sí mismo, el Dueño de la misericordia. Si quisiera, os retiraría y os sustituiría por quien Él quisiera, igual que os ha suscitado a vosotros de la descendencia de otra gente.
134  ¡Ciertamente, aquello con que se os ha amenazado vendrá! Y no podréis escapar.
135  Di: «¡Pueblo! ¡Obrad según vuestra situación! Yo también obraré… Pronto sabréis para quién será la Morada Postrera. Los impíos no prosperarán».
136  Reservan a Alá una parte de la cosecha y de los rebaños que Él ha hecho crecer. Y dicen: «Esto es para Alá» -eso pretenden- «y esto para nuestros asociados». Pero lo que es para quienes ellos asocian no llega a Alá y lo que es para Alá llega a quienes ellos asocian. ¡Qué mal juzgan!
137  Así, los que ellos asocian han hecho creer a muchos asociadores que estaba bien que mataran a sus hijos. Esto era para perderles a ellos mismos y oscurecerles su religión. Si Alá hubiera querido, no lo habrían, hecho. Déjales, pues, con sus invenciones.
138  Y dicen: «He aquí unos rebaños y una cosecha que están consagrados. Nadie se alimentará de ellos sino en la medida que nosotros queramos». Eso pretenden. Hay bestias de dorso prohibido y bestias sobre las que no mencionan el nombre de Alá. Todo eso es una invención contra Él. Él les retribuirá por sus invenciones.
139  Y dicen: «Lo que hay en el vientre de estas bestias está reservado para nuestros, varones y vedado a nuestras esposas». Pero, si estuviera muerta, participarían de ella. Él les retribuirá por lo que cuentan. Él es sabio, omnisciente.
140  Saldrán perdiendo quienes, sin conocimiento, maten a sus hijos tontamente y que, inventando contra Alá, prohíban aquello de que Alá les ha proveído. Están extraviados, no están bien dirigidos.
141  Él es Quien ha creado huertos, unos con emparrados y otros sin ellos, las palmeras, los cereales de alimento vario, los olivos, los granados, parecidos y diferentes. ¡Comed de su fruto, si lo tienen, pero dad lo debido el día de la cosecha! ¡Y no cometáis excesos, que Alá no ama a los inmoderados!.
142  De las bestias, unas sirven de carga y otras con fines textiles. ¡Comed de lo que Alá os ha proveído y no sigáis los pasos del Demonio! Es para vosotros un enemigo declarado.
143  Cuatro parejas de reses: una de ganado ovino y otra de ganado caprino -di: «¿Ha prohido los dos machos, o las dos hembras, o lo que encierran los úteros de las dos hembras? ¡Informadme con conocimiento, si sois sinceros!»-,
144  una de ganado camélido y otra de ganado bovino -di: «¿Ha prohibido los dos machos o las dos hembras o lo que encierran los úteros de las dos hembras? ¿Fuisteis, acaso, testigos cuando Alá os ordenó esto? ¿Hay alguien más impío que aquél que inventa una mentira contra Alá para, sin conocimiento, extraviar a los hombres?»-. Ciertamente, Alá no dirige al pueblo impío.
145  Di: «En lo que se me ha revelado no encuentro nada que se prohíba comer, excepto carne mortecina, sangre derramada o carne de cerdo -que es una suciedad-, o aquello sobre lo que, por pervesidad, se haya invocado un nombre diferente del de Alá. Pero, si alguien se ve compelido por la necesidad -no por deseo ni por afán de contravenir-… Tu Señor es indulgente, misericordioso».
146  A los judíos les prohibimos toda bestia ungulada y la grasa de ganado bovino y de ganado menor, excepto la que tengan en los lomos o en las entrañas o la mezclada con los huesos. Así les retribuimos por su rebeldía. Decimos, sí, la verdad.
147  Si te desmienten, di: «Vuestro Señor es el Dueño de una inmensa misericordia, pero no se alejará Su rigor del pueblo pecador».
148  Los asociadores dirán: «Si Alá hubiera querido, no habríamos sido asociadores, ni tampoco nuestros padres, ni habríamos declarado nada ilícito». Así desmintieron sus antecesores, hasta que gustaron Nuestro rigor. Di: «¿Tenéis alguna ciencia que podáis mostrarnos?» No seguís sino conjeturas, no formuláis sino hipótesis.
149  Di: «Es Alá quien posee el argumento definitivo y, si hubiera querido, os habría dirigido a todos».
150  Di: «¡Traed a vuestros testigos y que atestiguen que Alá ha prohibido esto!» Si atestiguan, no atestiguéis con ellos. No sigas las pasiones de quienes han desmentido Nuestros signos, de quienes no creen en la otra vida y equiparan a otros a su Señor.
151  Di: «¡Venid, que os recitaré lo que vuestro Señor os ha prohibido: que Le asociéis nada! ¡Sed buenos con vuestros padres, no matéis a vuestros hijos por miedo de empobreceros -ya os proveeremos Nosotros, y a ellos,- alejaos de las deshonestidades, públicas o secretas, no matéis a nadie que Alá haya prohibido, sino con justo motivo ¡Esto os ha ordenado Él. Quizás, así, razonéis».
152  «¡No toquéis la hacienda del huérfano, sino de manera conveniente, hasta que alcance la madurez! ¡Dad con equidad la medida y el peso justos! No pedimos a nadie sino según sus posibilidades. Sed justos cuando declaréis, aun si se trata de un pariente! ¡Sed fieles a la alianza con Alá! Esto os ha ordenado Él. Quizás, así os dejéis amonestar».
153  Y: «Ésta es Mi vía, recta. Seguidla, pues, y no sigáis otros caminos, que os desviarían de Su camino. Esto os ha ordenado Él. Quizás, así temáis a Alá».
154  Dimos, además, la Escritura a Moisés como complemento, por el bien que había hecho, como explicación detallada de todo, como dirección y misericordia. Quizás, así, crean en el encuentro de su Señor.
155  Es ésta una Escritura bendita que hemos revelado. ¡Seguidla, pues, y temed a Alá! Quizás, así se os tenga piedad.
156  No sea que dijerais: «Sólo se ha revelado la Escritura a dos comunidades antes que a nosotros y no nos preocupábamos de lo que ellos estudiaban».
157  O que dijerais: «Si se nos hubiera revelado la Escritura, habríamos sido mejor dirigidos que ellos». Pues ya ha venido a vosotros de vuestro Señor una prueba clara, dirección y misericordia. Y ¿hay alguien más impío que quien desmiente los signos de Alá y se aparta de ellos? Retribuiremos con un mal castigo a quienes se aparten de nuestros mensajes, por haberse apartado.
158  ¿Qué esperan sino que vengan a ellos los ángeles, o que venga tu Señor, o que vengan algunos de los signos de tu Señor? El día que vengan algunos de los signos de tu Señor, no aprovechará su fe a nadie que antes no haya creído o que, en su fe, no haya hecho bien. Di: «¡Esperad! ¡Nosotros esperamos!»
159  En cuanto a los que han escindido su religión en sectas, es asunto que no te incumbe. Su suerte está sólo en manos de Alá. Luego, ya les informará Él de lo que hacían.
160  Quien presente una buena obra, recibirá diez veces más. Y quien presente una mala obra, será retribuido con sólo una pena semejante. No serán tratados injustamente.
161  Di: «A mí, mi Señor me ha dirigido a una vía recta, una fe verdadera, la religión de Abraham, que fue hanif y no asociador»
162  Di: «Mi azalá, mis prácticas de piedad, mi vida y mi muerte pertenecen a Alá, Señor del universo.
163  No tiene asociado. Se me ha ordenado esto y soy el primero en someterse a Él»
164  Di: «¿Buscaré a otro diferente de Alá como Señor. Él que es el Señor de todo?» Nadie comete mal sino en detrimento propio. Nadie cargará con la carga ajena. Luego, volveréis a vuestro Señor y ya os informará Él de aquello en que discrepabais.
165  Él es Quien os ha hecho sucesores en la tierra y Quien os ha distinguido en categoría a unos sobre otros, para probaros en lo que os ha dado. Tu Señor es rápido en castigar, pero también es indulgente, misericordioso.